Home / خبریں / ادب سماج کاعکس یا آئینہ ؟

ادب سماج کاعکس یا آئینہ ؟

IMG_20171209_231643 (1)
٭رفیع الدین

ریسرچ اسکالر
شعبۂ اردو،دہلی یونیورسٹی۔

ادب کا دائرہ بہت وسیع ہے اس کی حیثیت ایک انجمن کی طرح ہے جو مختلف اصناف سے مُزّیَن ہے اور ہر اصناف کی اپنی الگ الگ اہمیت اور شناخت ہے۔اس کے اپنے اصول و ضوابط ہیں جس کے دائرے میں رہ کر ادبا و شعراکسی فن پارہ کی تخلیق کرتے ہیں۔ادب ا نسانی زندگی کے مظاہراور اس کے جذبات کی بہترین مرقع کشی ہے ۔اس لیے اس کی ایک حیثیت سماجی دستاویز کی بھی ہے اور سماج کسی منفرد شخص ،خاندان یا قوم و تہذیب کا نام نہیں ہے بلکہ یہ سماج میںرہنے والے تمام خاندان اور مختلف تہذیب و طبقات سے تشکیل پاتا ہے جس میں کسی خاص گروہ یا فرقے کی سما جی زندگی نہیں بلکہ ملک یا دنیا کے تمام لوگوں کی سماجی زندگی کی عکاسی ہوتی ہے اس لیے ہر ادیب کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ سماج میں رہنے والے اُن تمام لوگوں کی سماجی زندگی اور اُن کے مسائل کو منصفانہ طریقے سے ادب میں پیش کرے ، بہترین ادب کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنے عہد کی مشکل اور پیچیدہ ز ندگی کی عکاسی کس حد تک کر سکا ہے ۔ادب کی مختلف اصنا ف کے ذریعے ہمارے ادبا اور شعرا نے سماج کی سچائیوں کو ادب میں پیش کیا ہے لیکن شاعری کی بہ نسبت نثری اصناف با ا لخصو ص دا ستان ،ناول اور افسانے میں یہ وصف زیادہ ہے کیوں کہ ان کے موضوعات کا تعلق براہ راست انسانی معاشرے سے ہے اور ساتھ ہی ان کے اندر سماجی حقائق کو زیادہ وضاحت اور تفصیل سے بیان کرنے کی گنجائش بھی ہوتی ہے ان کے کردار سماج کے کسی نہ کسی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ کردار معاشرے میں ہو نے والے سیاسی ،معاشی ،تہذیبی اور ثقافتی تصادم اور اس کے سبب ان میں ہونے والی کش مکش کی بہترین عکاسی کرتے ہیں ۔ادب میں انسان کی اجتماعی زندگی کی جن سچائیو ںکی عکاسی ہوتی ہے وہ تاریخ کے مقابلے میں زیادہ بہتر اور حقیقت کے قریب ہو تی ہے۔ ادب کے تعلق سے یہ کہا جاتا ہے کہ یہ سماج کا آئینہ ہے، لیکن حقیقت کچھ اس کے بر عکس ہے ،وہی ادب معیاری اور لازاول سمجھا جاتا ہے جو موجودہ معاشرے کا سچا عکس پیش کرتاے ۔ اس لیے یہ حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ ادب سماج کا آئینہ ہے کیوںکہ آئینہ بالکل سچا نہیںہو سکتا ہے ۔جبکہ اسکے برعکس ،عکس بالکل سچا ہوتا ہے۔ اگر سا ئنٹفک طور پر دیکھا جائے تو آئینے کی مختلف شکلیںہوتی ہیں جس میں دکھنے والی تصویریںبھی مختلف ہوتی ہیں ۔یہ ادیب پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ آئینے کی کس شکل کو اختیار کرتا ہے ۔ اگرآئینے کی شکل کو بغیر سوچے سمجھے اس میں اپناحقیقی عکس دیکھنے کی کوشش کریں گے تو ہم صحیح نتیجہ اخذنہیں کر سکتے ہیں۔ادیب کس آئینے کا انتخاب کرتا ہے ،یہ اس بات پر منحصر کہ اس کی ذمہ داری کیا ہے ؟اس کی تخلیق کا قاری کون ہے ؟ یہاں پر آئینے کی مختلف شکلوں سے مراد ادب میں رائج مختلف نظریات سے لیا جا سکتا ہے ۔چونکہ ادب اور سماج کا رشتہ چولی اوردامن کا ہے اور ادیب اسی سماج کا ایک لازمی عنصرہے وہ ایک انسان بھی ہے اور ادیب بھی۔انسان اور ایک ادیب کے فرائض و مقاصد یکساں اور مشترک ہیں ۔فرق صرف اتنا ہے کہ ادیب اپنے ماحول اور اپنے معاشرے کی ترجمانی کر تا ہے اور عام انسان اس سے متا ثر ہو تا ہے ۔معاشرے کے مسائل سے دونوں اثرانداز ہوتے ہیں لیکن ایک ادیب کی فکر اور سوچ ایک عام انسان سے زیادہ بلند اور اعلیٰ ہوتی ہے ۔اس لیے اس کا یہ فرض ہے کہ وہ سماج کی ترقی کے لیے اتنا تو ضرور کرے جو ہر ایک انسان کا فرض ہو تا ہے ۔ وہ اسی سماج میں رہتا ہے اور اس میں ہو نے والے تمام واقعات و حاد ثات کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا اور سمجھتا ہے اور انہیں سے اپنے لئے مواد بھی فراہم کرتا ہے جوکسی تخلیق کا سبب بنتی ہے ۔ وہ معاشرے کے سیاسی ، سماجی،نفسیاتی اور اقتصادی حالات سے اثر انداز ہوتا ہے جس کی بنیاد پر اپنا ایک نظریا قائم کرتا ہے ۔اور اپنی تمام تصنیفات کی جانچ پرکھ اپنے اسی نظرے کی بنیاد پر کرتا ہے اور ہر ادیب کسی نہ کسی نظریے کا پابند ضرور ہوتا ہے ۔ہر اچھے ادیب کے یہاں ایک نظریۂ زندگی کا احساس ضروری ہے ۔آل احمد سرور ادب میں نظرے کی اہمیت کی وضاحت کر تے ہوے لکھتے ہیں کہ :
’’ادب میں نظرے کی وہی اہمیت ہے جو زندگی میں نظر کی ہے ‘‘1
ادب میں مختلف نظریات ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں کبھی کبھی کوئی نظریہ با لکل فرسودہ ہو جاتا ہے لیکن نیم جان اور جاندار عقائد کے سبب ہی ادب کی محفل میں چہل پہل بنی رہتی ہے ۔ادب میں نظرے کی اہمیت سے کسی کو بھی انکار نہیں ہے، پھربھی اسے سب کچھ مان لینا مناسب نہیںہے۔ادب میں فنی تقاضوں کوکسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍادب میں وہی نظریہ زیادہ بہترین اور قابل قبول ثابت ہو گا جس میں نئے اور پرانے ،کلاسیکی و رومانی ،انفرادی و اجتماعی، سماجی،سیاسی،اقتصادی سبھی رجحانات کے ساتھ انصاف سے کام لیا گیا ہو۔آل احمد کا سرور کا خیال ہے کہ :
’’وہی نظریا زیادہ قابلِ قبول ہو گا جو زیادہ سے زیادہ ادبی کارناموں کے حسن اور ان کی تہذیبی اہمیت کا جائزہ لے سکے گا ۔جس میں ادب کے جما لیاتی ،اخلاقی اور فنی پہلوں کے ساتھ انصاف ہو گا،جو ادیب العالیہ کی عظمت جدید ادب کی افا دیت کا علحدہ علحدہ نہیں بلکہ ایک منظم و مربوط شعور پیدہ کر سکے گا ‘‘۔2؎
یہاں غورطلب بات یہ ہے کہ اگر ادیب اپنے نظریے کے ساتھ انصاف نہیں کر پا رہا تو وہ ادب میں سماج کی انسانی زندگی کی بہترین تصویر پیش کرنے سے قاصر رہ جائے گاصحیح تصویر کے لیے بہتر نظریہ اور نظریہ کے ساتھ انصاف ضروری چونکہ ادب کی حیثیت ایک ہتھیار کی بھی ہے جس کے ذریعے ہماری تہذیبی اورثقافتی قدروںکی حفاظت ہوتی ہے ۔وقت اور حالات کے ساتھ ہمارا ادبی مذاق بھی بڑی تیزی سے تبدیل ہوا ہے۔ اب یہ صرف دل بہلا نے کی شئے نہیں ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی اس کے کچھ اور بھی مقصد ہیں ۔یہ انسان کی ترقی کا ضامن بھی ہے۔ادب کا مقصد بہت وسیع ہوتا ہے ۔یہ صرف عاشق اور معشوق کے ہجر وصال اور لب و رخسار کا ذکر ہی نہیں ہے بلکہ زندگی کی مختلف پریشانیوں اور سیاسی و سماجی مسائل پر غور وفکر کر کے حل تلاش کرنے کا نام بھی ہے ۔ ادب کے بارے میں پریم چند کا خیال ہے کہ:
’’ادب اس تخلیق کو کہیں گے جس میں سچائی کا اظہار ہو جس کی زبان میں پختگی ہو ‘ کیفیت ‘ادا ‘حسن ہو اور جس میں دل و دماغ کو متاثر کرنے کی صلاحیت ہو اور ادب میں یہ صلاحیت پوری طرح اس صورت میں پیدا ہوتی ہے جب اس میں زندگی کی حقیقتیں اور تجربات سموئے گئے ہوں‘‘۔3 ؎
ادب اپنے عہد کا عکس ہوتا ہے۔ ہر انسان کی طرح ادیب بھی معا شرے کی تمام ضروریا ت اور اپنے چاروں طرف ہو نے والے واقعات و حادثات سے متاثر ہو تا ہے ۔وہ جس عہد میں اور جس تہذیب و تمدن میں پرورش پاتا ہے اور جن لو گوں کے ساتھ رہتاہے ،جن خیالات و روایات کا حامل ہو تا ہے و ہ یقیناً ہی اس کے احسا سات و جذبات کو متاثر کریں گے ۔جواحساسات وخیالات لوگوں کے دلوں کو دھڑکا تے ہیں انھیں کا اثر ادب پر بھی پڑتا ہے ادب میں تاثر اسی وقت پیدا ہو سکتا ہے جب وہ زندگی کے حقائق سے قریب ہو ،اورزندگی کا آئینہ بھی ہو، لیکن ادب کے لیے محض اتنا ہی کافی نہیں ہے کہ وہ محض آئینہ ہو ۔ صرف آئینہ ہونا لوگوں کی ترقی کی ضمانت نہیں ہے ۔ادب اچھا ئی ا ور برائی کا تجزیہ کرنے والا ناقدہی نہیں بلکہ وہ اصول و ضوابط کا فن کا ربھی ہے۔اس لیے یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ ادب سماج کا عکس ہے ۔ ایک معیاری ادب کے لیے یہ ضروری ہے کہ ادیب اپنی تخلیقات کے ذریعے اپنی فکر اور اپنے جذبات سے دوسروں کو بہت حد تک متاثر کر دے، اس کی عبارت زمان ومکان کے فرق سے جتنی بالا تر ہو گی اس کا ادب اتنا ہی دیرپا اور اچھا سمجھا جائے گا ۔ادیب کسی بھی حالت میں اپنے عہد اور ماحول کے بیان سے گریز نہیں کرسکتا ہے وہ اپنے ماحول کے تاثرات کو بیان کرتا ہے یعنی اپنے ماحول کے سماجی نفسیات کی عکاسی کرتا ہے۔ بہترین ادب کے لیے سماج کی نفسیات کا بہتر علم ہونا ضروری ہے۔
ادب کا ایک مقصد علم و ہنر کا خزانہ جمع کرنا بھی چوہے چونکہ علم کا انسان کی زندگی سے براہ راست تعلق ہے اس لیے علم کی بنیاد زندگی ہے ۔ادب اسی وقت بہتر ادب ہوگا جب ادیب سماج کی سچائیوں کو غیر جانب دارانہ طور پر اپنے ادب میں پیش کرے اور لفاظی سے گریز کرے۔دنیا کے تمام ممالک کا ادب وہاں کے معاشرے پر ہی منحصر ہوتا ہے ۔اگر یہ سچ ہے تو یہ کہنا بالکل غیر مناسب ہے کہ ادب سماج کا آئینہ ہے کیوں کہ آئینہ تو صرف ذریعہ ہے لیکن ادب کا مقصد تو زندگی ہے ،وہ عکس ہے وہ سچائی ہے جس کا عکس ہمیں آئینے میں دکھائی دیتا ہے ۔یہ عکس ہی سچ کو بیاں کرتا ہے ،جسے آئینے میں دیکھ کرمعاشرے کی حقیقی تصویر کو دیکھا جا سکتا ہے ۔قدیم معاشرے میں ادب پر مذہب ـکا اثر صاف طور پر دکھائی دیتا ہے کیوں کہ اس وقت معاشرے کی لگام مذہب کے ہاتھوں میں تھی اس کی روحانی اور اخلاقی تہذیب مذہبی احکا مات پر مبنی تھی اس لیے انسان جب کوئی کام کرتا تھا تو اس کے پیچھے ڈر یا لالچ ہوتی تھی ۔ڈر ،لالچ،ثواب اور گناہ یہ وہ ذریعے تھے جس کی وجہ سے انسان اچھا کا م کرنے کے لیے مجبور ہوتا تھا۔ لیکن موجودہ دور میں ادب نے ظاہری خوبصور تی کے ذریعے لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ آج کا ادب سیاست سے بیحد متاثر نظر آتا ہے کیوں کہ اب ادیب اپنے ادبی سفر کا تعین سیاسی رخ کو دیکھ کر کر رہے ہیں جو ایک صحت مند ادب کے لیے غیر مناسب ہے، ادبا کا مقصدصرف سیاست دانوں کی خوشنودی ہے جس سے ان کی ترقی کا راستہ ہموار ہو سکے اور انعام و اکرام سے سرفراز ہو سکیں وہ کسی بھی حالت میں اپنا نقصان کرناگوارہ نہیں کرتے ۔اس طرح کے ادیب سستے اور بازاری لٹریچر کو فروغ دیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور میں ادب اور سیا ست کا رشتہ بہت خراب ہو چکا ہے کسی زمانے میں پریم چند نے ادب اور سیاست کے رشتے کے تعلق سے یہ کہا تھا کہ ادب سیاست کے آگے چلنے والی مشعل ہے لیکن اب معاملہ اس کے برعکس ہے۔آج کے تخلیق کاروں نے ادب کو دماغ کی شے بنا لیا ہے جبکہ ادب دل کی شیٔ ہے، جس کی وجہ سے وہ ادب کے ساتھ انصاف نہیں کر پا رہے ہیں دل اور دماغ میں فرق یہ ہے کہ دل کبھی بھی حق کے بیان سے گریزنہیں کرتا جبکہ دماغ ہمیشہ میتھ میٹکل کلکو لیشن کرتا ہے۔اسکا تعلق نفع اور نقصان سے ہے ،یہ مصلحت پسند ہوتا ہے اور حالات کے مطابق خودکوڈھا ل لیتا ہے،اس لیے صحیح فیصلہ لینے سے قاصررہتاہے۔اس طرح کے ادیب نہ ہی ادب کے ساتھ اور نہ ہی سماج کے ساتھ انصاف کر سکتے ہیں ۔اس لئے آج کل اکثرو بیشترادبا و شعرا ادب میں سماج کا صحیح عکس پیش کر نے سے قاصر ہیں ۔ ہیں۔اچھے تخلیق کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ دماغ کی بہ نسبت دل سے زیادہ کا م لیں تاکہ وہ سماج کی تلخ حقیقتوںکو ادب میں بیان کر سکے اور ادب میں معاشرے کی سچی تصویر پیش کر سکے ۔اس سلسلے میں چند اشعار حظہ ہو ۔
عقل و دل اپنی اپنی کہیں جب خماؔ ر عقل کی سنیے د ل کا کہا کیجئے (خمار بارہ بنکوی)
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی (اقبالؔ )
بہتر ین ادب کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کی زبان فصیح و بلیغ اور خوبصورت ہو ۔اور جس میں دل و دماغ دونوں کو متاثرکرنے کی قوت ہو۔ ادب میں یہ خوبی اسی وقت پیدا ہو سکتی ہے جب مصنف کو زبان پر عبورحاصل ہو، ادب کے اصول و ضوابط سے واقفیت ہو اور ادب میں زندگی کی سچائیوں اور محسو سات کو برتا گیا ہو ۔اگر عکس ،آئینہ،اور سچائی کا موازنہ کیا جائے تو عکس آئینے کی بہ نسبت سچائی کے زیادہ قریب تر نظر آئے گا ۔
آئینہ سچا ہے یا جھوٹا یہ کہناذرا مشکل ہے لیکن عکس تو انسان کی خود کی سچی تصویرہے ۔میراخیال ہے کہ ادب کو سماج کا عکس کہنا زیادہ مناسب ہے لیکن کچھ ادب نوازادب کی ظاہری خوبصورتی کے بیان کے علاوہ اور کسی دوسرے پہلو کو بیان کرنا نہیں چاہتے ہیں ۔جو لوگ صرف اپنا ہی عکس دیکھنا چاہتے ہیں انھیں ادب کی تعریف تبدیل کر دینی چاہیے ایسے لوگوں کے مطابق ادب وہ آئینہ ہونا چاہیے جن میں انھیں صرف مخصوص لوگوں کا ہی عکس نظر آئے ۔ایسا مصنوعی ادب معاشرے کو کچھ وقت تک تو پسند آسکتا ہے ،لیکن حقیقت توآخر میں لوگوں تک پہنچ ہی جا تی ہے ۔اس سچے اور مصنوعی احساسات میں فرق واضح کرنے کا کام عکس ہی کرتا ہے۔جب غیر جانب دارانہ اور معتدل بیان لوگوں کے سا منے آتے ہیںتو سماج ایسے مصنوعی ا دب کو در کنار کر دیتا ہے۔ اس طرح کے ادیبوں کے با ر ے میں پریم چند کا خیال ہے کہ:
’’فاقہ اور عریانی میں حسن موجود ہو سکتا ہے اسے شاید وہ تسلیم نہیں کرتا ‘اس نے طے کر لیا ہے کہ رنگین ہونٹوں اور رخسارں ابروںمیں فی الوقعی حسن موجود ہے ۔الجھے ہوئے بالوں‘پپڑیاںپڑے ہونٹوں اور رخساروںمیں حسن کا گذر کہاں۔لیکن یہ اس کی تنگ نظری کا قصور ہے۔‘‘4؎
عکس سچے اور مصنوعی احساسات میں توازن کو برقرار رکھتا ہے اور یہ توازن ہی خوبصورت ادب کی تخلیق کرتا ہے ۔ ادب کی ایک حیثیت ڈاکٹرکی بھی ہے جو ہماری ذہنی ، اخلاقی اور نفسیاتی اوردیگر کمزوریوں کا علاج کرتا ہے ۔انسان ازل سے فرشتہ صفت ہوتا ہے،زمانے کی عیاری و مکاری اور حالات کے نشیب و فراز اس سے یہ صفت چھین لیتے ہیں ،ادب اسی فرشتہ صفت خوبی کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ادب پورے سماج کے لوگوں کو مرکز میں رکھ کرتخلیق کیا جاتا ہے سچائی کو اپنے میںانضمام کیے ہوئے ادب ہی زندگی کی بنیاد ہوتے ہیں ۔ انسان معاشرے میں رہتا ہے لوگوںسے دوستی ،دشمنی، نفرت و محبت اوراخوت و بھائی چارگی کا رشتہ بھی قائم کرتاہے ۔انھیںرشتوں کی بنیاد پر سماج میں اس کی شخصیت کی تشکیل ہوتی ہے ۔ادیب انسانوںکے انھیں امیج یعنی کہ عکس کو سماج میں دیکھتا ہے ،اس سے متاثر ہوتا ہے ا ور اپنی قوت متخیلہ کی بنیاد پر ایک تخلیق کی شکل میں ہمارے سامنے پیش کر دیتا ہے۔عکس میں ہی انسان خود کو پہچانتا ہے یہ کل کے دیکھے ہوئے عکس اور آج کے بنے ہوئے عکس کا موازنہ کرکے اپنی کھوئی ہوئی صفت کو پالینے کی کوشش کرتا ہے ۔ادب ماضی وحال اور حال ومستقبل میںرشتہ قائم کرتا ہے،اس لیے یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ ادب سماج کی موجودہ حا لات کا عکس ،ماضی کا آئینہ اور مستقبل کا بہترین رہبر ہے۔یہ دنیا کے تمام ممالک کی سرحدوں ،رنگ ونسل اور قوم و ملت کی بندشوںکو توڑ کرسارے انسانوں کو وحدانیت کا پیغام دیتا ہے۔ ادب سماج کو راہ دکھانے والے چراغ کی طرح کام کرتا ہے ۔ اس لیے ہر ادیب کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ وہ ماضی کے تمام عیوب اور کمزوریوںسے حال کو آگاہ کرے اور حال کی تصویر اس طرح کھینچے کہ اس میںمستقبل کے اشارات چھپے ہوئے ہوں ۔ اس طرح کے ادیب اور ان کی تخلیقات دونوں کی اہمیت ہمیشہ برقرار رہتی ہے۔حقیقی ادب کبھی پرانانہیںہوتا ہے ۔اس لئے آج بھی بہت سے ایسے ادبا اور شعرا ہیں جن کی تخلیقات میں اپنے عہد کی تہذیب وثقافت کا عکس پوشیدہ ہے۔ ادب میںشاعری ہو یا فکشن دونوںمیں اپنے عہد کی بولتی ہوئی تصویریں نظر آتی ہیں۔لیکن شاعری کی بہ نسبت فکشن میں وسعت بیان کی گنجائش زیادہ ہوتی ہے ۔کیوں کہ شاعری میں ردیف و قافیہ کی پابندیاںفن کارکو طوالت بیان سے روکتی ہیں۔اس کے باو جودبھی مثنوی میں اپنے عہدکی تہذہبی اور سماجی زندگی کی عکاسی کرنے کی غیر معمولی صلاحیت موجود ہے ۔ تقریباََتمام مثنوی نگاروں نے اپنی مثنویوںکے ذریعے زندگی کے مختلف پہلوئوں کو پیش کرنے کی کوشش کی ہیں اوراپنے عہد کی روح کو قید کیاہے ۔یہی وجہ ہے کہ مثنوی میںہمارثقافتی اور سماجی زندگی کے لا زوال مرقعے محفوظ ہیں۔ اس کی بہترین مثال مثنوی سحرالبیان ہے،جو اپنے اندر پوری کائنات کو سمیٹنے کا حوصلہ رکھتی ہے ۔ میر حسن نے سحرالبیان کے قصے کو بیان کرنے میںاودھ کی تہذیب کا پورہ نقشہ ہی پیش کر دیا ہے،اودھ کی شاہی شان وشوکت اولاد نہ ہونے پر یاس و نا امیدی اور دنیا سے دل برداشتگی،جوتشیوں،نجومیوں اور رمالوںکی گفتگووغیرہ۔ اسکے علاوہ بھی دیگر مثنویاں ہیں جیسے گلزار نسیم ،زہر عشق وغیرہ یہ سبھی مثنویاںاپنے عہد کی تہذیبی اور ثقافتی زندگی کی بہترین عکاس ہیں ۔ لیکن یہاں پر میرا مقصد مثنویوں کی تعداد کا شمار کر نا نہیں ہے ، بلکہ میری بحث ادب کے سماج کا عکس یا آئینہ کے ہونے سے ہے۔ داستانیں بھی مثنویوں کی بہ نسبت اپنے عہد کے ماحول اور طرز زندگی کی بہترین نمائندگی کرتی ہیںکیوں کہ داستانوں میں نہ تو قوافی کی پابندی ہے اور نہ ہی اس میں ناول اور افسانہ کی طرح فرد کی زندگی کے کسی ایک واقعہ کو بیان کیا جاتا ہے اس میں فردکی پیدائش سے لے کر وفات تک ، زندگی کے سبھی واقعات حتیٰ کہ سماج کے سارے رسومات و اعتقادات وغیرہ کو وضاحت اور تفصیل کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے اسی لیے داستانوں کے بارے میں یہ کہا جا تا ہے کہ کسی ایک داستان کے مطالعے سے اس عہد کی تہذیب و تمدن کی واضح تصویر بنائی جا سکتی ہے اردو ادب میں اس طرح کی داستانوں میں ــــــــ’’داستان امیر حمزہ‘‘ ،’’بوستان خیال‘‘ ’’باغ وبہار‘‘ ’’فسا نۂ عجائب‘‘ اور ’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘ وغیرہ کا نام لیا جا سکتا ہے ۔یہ سبھی داستانیں اپنے عہد کی بہترین تصویریں پیش کرتی ہیں۔’’داستان امیر حمزہ ‘‘ کے بارے میںمحققین کا یہ خیال ہے کہ اگر اس میں سے ساحری اور عیاری کو نکال دیا جائے تو جو باقی بچے گا وہ صرف لکھنوی تہذیب کا عکس ہی ہو گا۔ ’’باغ و بہار‘‘ بھی فورٹ ولیم کالج میں لکھی گئی ایک مشہور داستان ہے جسے میر امن دہلوی نے 1802لکھا ۔چونکہ میر امن دہلی کے رہنے والے تھے اس لیے انھو ںنے مغلیہ سلطنت کی شان و شوکت جاہ و جلال اور زوال کو بھی دیکھا اور اپنے انھیںتجربات و مشاہدات کو’’ باغ و بہار‘‘ میں سمو دیا ہے۔اس داستان میں میر امن دنیا کے کسی بھی ملک کا ذکرکرتے ہیں لیکن وہ دہلی کی تہذیب ،رسم و رواج ،رہن سہن،سیر تماشے،تقریبات،ضیافتیں،رسوم و عقائد اور آداب و مراسم کو نہیں بھول پاتے ہیں۔غرض کہ وہ شعوری یا لا شعوری طور پر دہلی کی جیتی جاگتی زندگی کا عکس پیش کر دیتے ہیں ۔’’باغ و بہار‘‘ کے جواب میں لکھی گئی اودھ کی مشہور داستان ’’فسانہ عجائب‘‘ہے جسے رجب علی بیگ سرورْ نے 1824 )۱۲۴۰ھ) میں اپنی جلا وطنی کے دوران کانپور میں لکھا جو پہلی مرتبہ 1843 میں سائع ہوئی۔ ’’فسانہء عجائب‘‘ میں سرور(1786-1869) نے لکھنؤ کی جیتی جاگتی تصویرکو بڑی خوب صورتی سے پیش کیا ہے ۔پورے قصے میں سرور کی لکھنؤ سے وابستگی صاف طور پر نظر آتی ہے، اگرچہ یہ قصہ کانپور کے دوران قیام لکھا گیا ۔پرو فیسر ابن کنول فسانۂ عجائب کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
ــ ’’فسانہء عجائب میں ابتدا سے آخرتک لکھنوی تہذیب کی جھلکیاںنظر آتی ہیں۔شاہی درباروںاور حرم سرائوںکی شان و شوکت اور ناز و نعم سے لیکر رسم و رواج تک سب کچھ اس قصے میں سما گیا ہے ۔لکھنؤکی جو تہذیب میر حسن کی مثنوی ’’سحر ا لبیان‘‘میں دکھائی دیتی ہیں اس کی واضح شکل فسانۂ عجائب میں موجود ہے ۔‘‘ 5؎‘‘
اگرچہ مثنویوں اور داستانوں میں بعض ایسے شہروں اورملکوں کا ذکر ہے جن کا تعلق ہندوستان سے نہیںہے باوجوداس کے ان میں ہندوستان کی تہذیبی اور معاشرتی زندگی کا عکس بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔ مافو ق ا لفطرت عناصر کا ذکر غیرضروری اور غیرفطری ضرور معلوم ہوتا ہے لیکن یہ داستان کا بنیادی وصف تصور کیا جاتا ہے ۔لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ فطرت ِانسانی کا ماہر ادیب شہزادوں کے حسن و عشق اور طلسماتی حکا ئتو ں میں بھی زندگی کی حقیقتوں کو بیان کر سکتا ہے ۔یہی سبب ہے کہ ان تمام باتوں کے باو جود بھی داستانیں اور مثنویاں اگر آج زندہ ہیں اور جدید افسانوی ادب پر چھائی ہوئی ہیں تو اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان میں ہماری گذشتہ تہذیبی اور معاشرتی زندگی کے روایتی عناصرکے عکس موجود ہیں ۔ یہ منظوم اور منثور داستانیں محض شہزادوں اور شہزادیوں کی داستان عشق ہی نہیں بلکہ انیسویںصدی کے ہندستان کے رہن سہن اور رسم و رواج اور طرز معاشرت کی جیتی جاگتی تصویریںبھی ہیں۔ ناول ،ڈراما اور افسانے اگر چہ داستانوں اور مثنویوں سے قدر مختلف اور مختصر ہوتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ یہ سماج کی حقیقی زندگی کو بیان کرنے اور اس کا عکس پیش کرنے سے مستثنیٰ ہیں۔ان میں بھی میںاپنے عہد کی بولتی ہوئی تصویریں صاف نظرآتی ہیں ۔ اردو ادب میں ایسے بہت سے ناول ،افسانے اور ڈرامے موجود ہیں جس میں معاشرے کی تلخ حقیقتوں کی بہترین تصویر کشی کی گئی ہے۔مثلاً مرزا ہادی رسوا ؔکا مشہور ناول ’’امراوجان ادا‘‘ہے جس میں رسوا ؔنے لکھنو کے زوال آمادہ معاشرے کا عکس اور اس عہد کے لکھنو ٔکی کھوکھلی تہذیب ،اخلاقی گراوٹ ،انسانی رشتوں کی بے حرمتی ،عورتوں کی نا قدری اور تضحیک و تمسخر کی جھلک کوبہترین انداز میں پیش کیا ہے ۔اس سلسلے میں پنڈت رتن ناتھ سرشارؔ(1846-1902) کے ناول بھی بہت اہم ہیں جس میںلکھنؤکی زوال آمادہ تہذیب کی جھلک صاف دیکھی جا سکتی ہے ان کے ناول اودھ کے جاگیردانہ نظام رہن سہن اور طرز زندگی کی بہترین عکاسی کرتے ہیں ان کامشہور ناول ’’فسانۂ آزاد((1880)ہے جو لکھنؤ کی زوال آمادہ تہذیب کا بہترین عکس پیش کرتا ہے اس سلسلے میں پریم چند کی خدمات بھی نا قابلِ فراموش ہے ۔جو اپنی حقیقت پسندی اور سماج میں دبے کچلے عوام کے مسائل کو پیش کرنے کے لیے مشہور ہیں۔انھوں نے اپنے ناولوںاور افسانوں کے کرداروںکے ذریعے سماج میںرائج فرسودہ رسم و رواج اور معاشرتی نظام کو بغیر کسی لاگ لپیٹ کے پیش کر دیا ہے یہی سبب ہے کہ ان کے آخری دور کے ناولوں اورافسانوںبا ا لخصوص گبن ،گئودان ،کفن میں سماج کی صحیح تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے۔ انھوں نے ’’کفن ‘‘اور’’گئودان‘‘ کے ذریعے ہر جنوں پسماندہ کسانوں کی حالت ،تعلیم کی کمی اور ان سے پیدا ہونے والے مسائل کی بڑ ی اچھی عکاسی کی ہے۔ انھیں اچھی طرح معلوم تھا کہ کسانوں کی بد حالی کے وجوہات صرف قدرتی مسائل ہی نہیں بلکہ اس میں بڑا ہاتھ زمین داورں ،مہاجنوں ،اور سرکاری افسروں کا بھی ہے ۔ اسکے علاوہ بھی دیگر ناول اور افسانے ہیںمثلاً’’۔نرملا‘‘،’’گوشہ عافیت‘‘،وغیرہ۔ پریم چند کی کڑی کے ایک اہم فکشن نگارکرشن چند ر ہیںاگر چہ دونوں کے یہاں موضو ع میں یکسانیت ہے ۔ دونوںکی کہانیوں اور ناولوں کا موضوع انسانی زندگی ہے جس کو انھوں نے مختلف زاویوںسے پیش کیا ہے لیکن کرشن چندر کا اسلوب پریم چند سے مختلف ہے یہ ایک رومانی فکشن نگار ہیںا س کے باوجود بھی وہ معاشرے کی سچائیو ں کو بڑی خوبصورتی سے اپنی کہانیوں میں بیا ن کر دیتے ہیں۔ان کا مشہور ناول’’ شکست ‘‘ہے۔ راجندر سنگھ بیدی بھی فکشن کی دنیا میں اپنا منفرد مقام رکھتے ہیں ۔وہ زندگی کی تلخ حقیقتوں کو پیش کر نے میں بڑے ماہر تھے ۔ انھوں نے اپنی کہانیوںمیںمتوسط اور نچلے طبقے کے لو گوں کی زندگی کی پریشانیوں اور مصیبتوںکی بہترین عکاسی کی ہے۔ راجندر سنگھ بیدی کے لا جواب افسانے ’’لاجونتی‘‘ ’’گرم کوٹ‘‘، ’’تلا دان‘‘’’اپنے دکھ مجھے دے دو‘‘ وغیرہ ۔منٹو کاشمار بھی اردو کے چند اہم افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے ۔انھوں نے اپنے افسا نوں میں زندگی کے خوبصورت واقعات اور حسن و عشق کے منا ظر کی جگہ زندگی کی ٹھوس اور کڑوی حقیقتوں کو پیش کیا ہے ان کی کہا نیوں میں ہمیں ایسے کردار دکھائی دیتے ہیں جو وقت کے تھپیڑوںکے شکار ہیں اور معاشرے کے اہم فرد ہونے کے باوجود بھی ان کو ذلیل اور حقیر نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے منٹو اپنی کہانیوں میں نہ صرف کرداروں کے ذریعے حقیقت نگاری کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ وہ ماحول بھی ایسا پیش کرتے ہیں کہ ان کے افسانوی کرداربھی جیتے جاگتے اور چلتے پھرتے انسان نظر آتے ہیں۔ افسانہ ’’ٹو بہ ٹیک سنگھ‘‘،’’نیا قانون‘‘ ،’’کھول دو‘‘،کالی شلوار‘‘، منٹوکے وہ افسانے ہیں جو اپنے عہد کے سیاسی،سماجی اور نفسیاتی ماحول کی بہترین عکاسی کرتے ہیں ۔مذکورہ افسانہ نگار اور ناول کے علاوہ بھی اردو میں بہت سے ایسے ناول نگار اور افسانہ نگار ہیں جن کی ناولوں اور کہانیوں میں سماج کی سچی تصویر دکھائی دیتی ہے ۔ ان تمام افسانوں اور ناولوں کی تفصیلات کا ذکر طوالت کے باعث نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
اگر شاعری کی بات کی جائے تو مثنوی کے علاوہ غزلیں اور نظمیں بھی اپنے عہدکی سیاسی ،سماجی اور نفسیاتی حالات کا بہترین عکس پیش کر تی ہیں لیکن غزلوں کی بہ نسبت نظمیں اس معنی میں زیادہ بہتر ہیں کیو کہ نظمیں اپنے موضوع کے تحت مسلسل ہو تی ہیں جبکہ غزلیں اس کے با لکل بر عکس ہو تی ہیں ۔ شعرا بھی سماج کے مطالبات اور اپنے گرد و پیش سے ہر انسان کی طرح متاثر ہو تے ہیں ۔وہ جس عہد میں اور جس تہذیب و تمدن میں پرورش پا تے ہیں ،جن لو گوں کے ساتھ رہتے ہیں اور جن روایات و خیالات کا حامل ہو تے ہیں وہ یقیناََ اس کے خیالات و جذبات کورنگ و روپ دیتے ہیںاسی لیے یہ کہا جا تا ہے کہ ادیب کی نفسیات اور اس کی روح کو سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ پہلے اس فضا کو سمجھا جا ئے جس میںاس نے پرورش پائی ہے۔ جب تک اس کے عہد کی سیاسی ،سماجی اور نفسیاتی حالات کو نہیں سمجھا جا ئے گاتب تک یہ سمجھنا مشکل ہے ادیب نے ایسا کیوں لکھا؟۔اس کے خلاف کیوں نہیں لکھا؟۔اس لیے کہ ادیب یا شاعراپنے جذبات کی ہی نہیں بلکہ اپنے فضا کی تر جمانی بھی کر تاہے ۔اس سلسلے میں میر تقی میرؔ اور غالبؔ کی شاعری بہت اہم ہے۔ میر ؔنے دہلی کی تباہی وبربادی کو اپنی آنکھوںسے دیکھا تھا جس کا خوبصورت عکس ان کی شاعری با لخصوص ان کی غزلوں میںنظرآتا ہے۔لیکن غزل کے اشعار کو پڑھنے سے پہلے تاریخ کی معلومات بھی ضرورہونی چاہئے کیوں کہ غزل رمز و ایماں کی شاعری ہے اس میں دو مصرعے میں ہی ساری باتیں کہہ دی جا تی ہیں ۔ بطور مثال چند اشعار کو پیش کیے جا ر ہے ہیں ۔ جو اپنے عہد کے سیاسی وسماجی،نظام اور نفسیاتی حالات کا بہترین عکس پیش کرتے ہیں ۔ دیدہ ٔ گریا ں ہمارا نہر ہے دل خرابہ جیسے دلی شہر ہے (میرؔ)
دنیا نے تجربات و حوا دث کی شکل میں جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لو ٹا رہا ہوں میں (ساحرؔ)
نقش فریادی ہے کس کی شوحیِ تحریر کا کا غذی ہے پیر ہن ہر پیکرِ تصویر کا (غا لبؔ)
معاشرے کی تہذیبی اور ثقافتی زندگی کے منفرد اورمشترک خد وخال کو دیکھنے اور سمجھنے میں ہمیں سب سے زیادہ سہولت اور مدد اس عہد کے فن پاروںسے ہی ملتی ہے ،اسی لیے دنیا کی تمام تاریخیں خواہ تہذیبی ہوں یا سماجی ادب کے ذریعے ہی تر تیب دی جاتی ،ہیں چاہے یہ ادب مذہبی ہو یا غیر مذہبی، اس کا تعلق عوام سے ہو یا خواص سے ۔ چوںکہ ادبا اور شعرا کی تمام تخلیقات کی بنیاد اس کے قوت متخیلہ پر منحصر ہو تی ہے اس لیے شعوری یا غیر شعوری طور پر سماج میں ہو نے والے ظلم اور اس کے خلاف ہونے والے اجتہاد،دوستی اور دشمنی کے مراسم اور دنیا کی عظمت اور رنگینی بھی اس کی تخلیقات میں سما جاتی ہے۔ ادب چوں کہ زندگی کی سچائیوںسے گریز نہیں کر سکتا ہے اس لیے وہ حقیقی زندگی جو ادیب کے اطراف میں پھیلی ہوئی ہوتی ہے شعوری یا غیر شعوری طور پر اس کی تخلیقات میںشامل ہو جاتی ہے کیوںکہ کوئی بھی قلم کاراپنے اطراف کی دنیا سے خود کو الگ نہیں کر سکتا ہے۔ تخلیق کار دنیا کے انہیںتجربات ومشاہدات کو لفظ کے قالب میں ڈھال کر تخلیق کی صورت میں ہمارے سامنے پیش کر دیتا ہے ۔ اس حوالے پروفیسر ابن کنول جمیل جالبی کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیںکہ :
’’ہماری تمام تخلیقات جو قوت متخیلہ سے تعلق رکھتی ہیں ایک ایسی دنیا کا عکس ہیںجس میں ہم زندگی بسر کرتے ہیںیہ اپنی دنیا سے ہمارے تعلق،ہماری محبت،ہماری نفرت اور جو کچھ اثرات ہم اس دنیا سے حاصل کرتے ہیں ،انکا نتیجہ ہیں۔یہ آب و رنگ ،یہ شکل و شباہت،یہ ہوا کے جھونکے،یہ زندگی کی خوشبوئیں،انسانی زندگی کی حیاتی خوبصورتی اور بد صورتی ،یہ انسان ،عورت و مرد کے یہ خواب و خیالات ،فکر وعمل،جن سے ہمارا بھی تعلق ہے،یہ ساری چیزیںادب اور فن کا مواد فراہم کرتی ہیں‘‘ 5؎
مندرجہ بالا اقوال میں ادب کو ایک ایسی دنیا کا عکس بتایا گیا ہے جس میں ہم زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہاں پر جملہ ایک ایسی دنیا کا عکس سے مراد ہے ،سماج یا معاشرے کا عکس ،کیوںکہ دنیا کے تمام انسانوں کی شخصیت کی تشکیل اسی سماج میں ہی ہو تی ہے ۔اور ہر شخص کی فطرت کے مطابق اس کی شخصیت کا عکس منفرد ہوتا ہے ۔ یہ عکس ہی اس کی حقیقی زندگی کا نچوڑ ہے ۔جس کو ہم ادب میں پڑھتے اور سمجھتے ہیں ۔درج بالا تحریرمیں جہاں بھی ادب کے لیے لفظ عکس یا تصو یر استعمال ہوئے ہیں ،وہ ادب کو سماج کا عکس ہونے کی تائید کرتے ہیں۔
اگر صحیح معنوں میں کہا جائے تو سماج آئینہ ہے اور ادب اس سماج میں دکھنے والا عکس کیوںکہ جس طرح آئینے میں ہر کسی کا منفرد عکس بنتا ہے ۔ اسی طرح سماج میں رہتے ہوئے انسان اپنی اچھی اور بری جبلتوں کی بنیاد پر اپنا ایک عکس یا امیج قائم کرتا ہے۔ اسی امیج سے متاثرہو کر تخلیق کارکسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے ۔کوئی بھی ادیب یا انسان سماج میں پیدا ہوتا ہے ،ادب میں نہیں۔سماج میں ہی وہ پلتا ، بڑھتا اورجوان اور بوڑھا بھی ہوتا ہے اور زندگی کی آخری سانس بھی اسی سماج میں لیتا ہے ۔یہ سماج کا ایک لازمی عنصر ہوتا ہے اس کے بغیر نہ سماج کا تصور ممکن ہے اور نہ ہی سماج کے بغیر انسان کی کوئی اہمیت ہے ۔ یعنی کی دونوںایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔پریم چند نے سوز وطن کے دیباچے میں ادب کو اپنے زمانے کی سچی تصویر بتایا ہے
لفظ تصویر سے مراد یہاںپر عکس یاپرچھائیںہی ہے ۔ادب میںہرادیب اور نقاد کا اپنا ایک منفردنظریہ ہوتا ہے ،وہ سماج میں ہونے والی تمام وار دات اور مسائل کو اپنے اپنے نظریے کی بنیاد پر ہی جانچتے اور پرکھتے ہیں تخلیق کار کوجب اپنے نظریہ کے مقابلے میں دوسرے تمام نظریات برے لگنے لگیں تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے نظرے کی انتہا پسندی ہے ایسی حالت میں وہ ادب میں سماج کا صحیح عکس پیش کرنے سے قاصر ہو جائیگا ۔سماج کا صحیح عکس پیش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ادیب یا نقاد کا رویہ معتدل ہو، ادب میںفنی اقدار کے ساتھ ساتھ سماج کے سیاسی،سماجی اقتصادی ا ور دیگر تمام مسائل کی عکاسی بھی ہو ۔ ایسے ادب کی عظمت ہمیشہ قائم رہتی ہے ۔ یہ مختلف نظریات ہی آئینے کی مختلف صورت کے مشابہ ہیں۔
حواشی:۔
1:۔ ادب اور نظریہ،آل احمد سرور،سر فراز پریس نادان محل ر وڈ لکھنو۔1945،ص:276
2:۔ادب اور نظریہ ،آل احمد سرور،سر فراز پریس نادان محل ر وڈ لکھنو۔1945 ص :283.284
3:۔پریم چند کا خطبہ صدارت
4:۔ایضاََ
5:۔داستان سے ناول تک (اردو کی نثری داستانیں)ڈاکٹر ابن کنول،اسٹار آفسیٹ پریس، دہلی ۔ 6،, 2001 ص135 :

Rafiuddin
Research scholar
Department of Urdu
University of Delhi
Email-rafiuddin0312@gmail.com
Mobile-9953714065

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook