Home / خبریں / ’’ اردو افسانہ عہد حاضر میں‘‘مرتب ’’ رابعہ الرَ بّاء‘‘ منظر عام پر

’’ اردو افسانہ عہد حاضر میں‘‘مرتب ’’ رابعہ الرَ بّاء‘‘ منظر عام پر

ادبی حلقوں میں خوشی کی لہر

٭ ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ کی رپورٹ

23134826_1386902708103654_1186870876_o

’’ اردو افسانہ انسا ئیکلو پیڈیا ،،کے عنو ان سے جو کام آٹھ سال قبل شروع ہو ا تھا ۔ وہ نام کی تبدیلی ’’ اردوافسانہ عہد حاضر میں‘‘کے عنو ان سے شائع ہو گیا ہے ۔ اس تاریخی کام کو شائع کرنے کا سہراملتان انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اینڈ ریسرچ ، ملتا ن ۔ پاکستان کے سر ہے ۔’’ اردوافسانہ عہد حاضر میں‘‘ کتاب دو جلدوں میں شائع ہو ئی ہے ۔ دونو ں جلدیں کل سترہ سو صفحات پہ مشتمل ہیں۔ ایک جلد آٹھ سو صفحا ت پر مشتمل ہے۔ دونوں جلدوں میں دو سو بیس سے زائد حیات افسانہ نگار شا مل ہیں۔
پہلی جلد میں ۱۱۲ خواتین و مرد افسانہ نگار شامل ہیں ۔ باقی دوسری جلد کا حصہ ہیں۔ پہلی جلد میں ہندوستانی افسانہ نگار وں میں آشا پربھات، افشاں ملک ، انجم قدوائی، تبسم فاطمہ،ترنم ریاض، تسنیم کوثر ، جیلانی بانو ، ذکیہ مشہدی ، رومی ملک، سلمی صنم، شائستہ فاخری ، صادقہ نواب سحر، عشرت ناہید ، غزال ضیغم، نگار عظیم، نسترن احسن فتیحی، پروفیسر ابن کنول ، اسرار گاندھی ،شامل ہیں ۔جبکہ دوسری جلد میں ہندوستان سے پرویز شہریار، جاوید نہال ہاشمی، حسین الحق، خورشید اکرام ، دیپک بدکی، سلام بن رزاق ، سید احمد قادری، سید محمد اشرف ، شموئل احمد ، صدیق عالم ، عابد سہیل،عبدالصمد، غضنفرعلی، کیول دھیر، قاضی عبدالستار، گلزار، مشتاق احمد نوری ، مشرف عالم ذوقی، نند کشور وکرم، نورالحسین، نورین علی حق، وید راہی، شبیر احمد شامل ہیں۔
’’اردو افسانہ عہد حاضر میں‘‘ میں کو شش کی گئی ہے کہ ہندوستان کے علاوہ اردو کی نئی آبا د بستیو ں کو بھی شامل کیا جائے۔ افسانہ کے ساتھ افسانہ نگار کا مختصر تعارف بمعہ تصویر بھی شامل ہے۔ یہ محققین کے لئے اہم نو عیت کا کام ہے۔ جس کو مرتب کرنے میں لگ بھگ آٹھ سال کا عرصہ لگا۔ امید ہے کہ یہ کام پو ری افسانہ دنیا کے باہمی ربط میں اضافے کا باعث ہو گا۔

22851327_1382866338507291_1759932584_o

’’ اردوافسانہ عہد حاضر میں‘‘ کے بارے میں ادیبوں کی رائے

٭حفیظ خان(تمغہ ٔ امتیاز)۔
اردو افسانہ اپنی تخلیق کی دوسری صدی کے دوسرے عشرے میں قدم رکھ چکا ہے۔اِس دوران بے شمار کہانی کاروں نے رہ ِ دشوار پر قدم جمانے کی کوشش کی مگر ناموری بہت کم ہی کسی کا مقدر رہی۔مقدر اِس لیے کہ شہرت کا حصول ہمیشہ سے ابلاغ کے وسائل کے ساتھ جُڑا رہا ہے مگر ابلاغ کے وسائل ہر کسی کا نصیب نہیں ہوتے سوائے معدود چند کے کہ جنہیں التفات واتفاقات نے زمیں سے اُٹھا کر فلک قامت بنا دیا۔جو معروف ہوئے اُن سے کہیں بڑے کہانی کار گمنامی کے اندھیروں سے ہی نہ نکل سکے اور بے نام و نشاں اپنی اپنی قبروں کی گہرائیوں میں اُترتے چلے گئے۔اُن کے ساتھ اُن کی کہانیاں بھی دفن ہوتی رہیں اور یوں اُردو کے افسانوی ادب کا بہت بڑا زخیرہ ، ادبی اثاثے اور ورثے میں منقلب ہوئے بغیر رائیگاں ٹھہرا۔ہر عہد کے رسائل وجرائد نے صرف انہیں اپنے اپنے صفحات میں جگہ دی کہ جو اُن کے مخصوص ادبی گروہ کی کاسہ لیسی پر آمادہ تھے۔مقامی اور قومی سطح کی تقریبات میں نمائندگی بھی انہی کے حصے میں آئی کہ جو اِن گروہوں کے سرپرستوں کے جوتے چمکانے پر مامور تھے۔یوں عمومی لحاظ سے ہر عہد کا وہی اُردو افسانہ محفوظ رہ سکا کہ جو کہانی کاری کی ہنر مندی سے زیادہ کہانی بنانے کی فنکاری سے وجود میں لایا گیا تھا۔غیر معروف کہانی کار چاہے ارفعیٰ درجے کی کہانیوں کو لے کر ایک ایک پبلشر کے پاس در در پھرے اُسے اور اُس کی کہانیوں کو بے وقعت قرار دے کر تذلیل کے کچرے پر پھینک دیاجاتا ہے اور یوں یہ کہانیاں کتابی صورت میں سامنے آنے سے پہلے ہی قاری سے محروم کر دی جاتی ہیں۔اِس پس منظر میں محترمہ رابعہ الرباء کی یہ کاوش اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک منفرد اہمیت کی حامل دکھائی دیتی ہے کہ جس کا عرصہ جہدنو برس پر محیط ہے۔انہوں نے اپنے شبانہ روزجنوں کے نتیجے میں عہدِ حاضر کے اُن تمام حیات افسانہ نگاروں کے نمائندہ افسانوں کو مجتمع کر لیا کہ جن کا ذریعہ اظہار اُردو تھاسوائے اُن کے کہ جنہوں نے کسی سبب معذرت کی یا حروف ِ تہجی کے اعتبار سے ترتیب میں آنا گوارا نہیں کیا۔یوں’’اُردو افسانہ عہد ِ حاضر میں‘‘ آپ کے مطالے کی میز کی زینت بن سکا۔

٭گلزار ۔
کچھ بڑے کام’’ عظیم ،،بھی ہو تے ہیں ۔۔۔۔۔صرف بڑے نہیں ۔۔۔۔’’اردوافسانہ عہد حاضر میں،،یہ بہت بڑا اور عظیم کا م ہے ۔

٭جیلا نی با نو ۔
ہندوستا ن اور پا کستا ن کے ادیبو ں نے ہمیشہ اپنے ادبی تعلقات کو استو ار رکھا ہے ،یہ کا م اس کی ایک مثا ل ہے ۔ یہ اچھی با ت ہے ۔

٭مشر ف عالم ذوقی۔
اردوافسانہ عہد حاضر میں(اردو افسانہ انسائکلو پیڈیا)دو سو سے زیا دہ افسانہ نگار ، ان کا مختصر تعارف اور تصاویر پر مشتمل اپنی نو عیت کی نہا یت منفر د اور علمی و تحقیقی دستا ویز ہے ۔ اس طر ح کے کا م اس وقت تک ممکن نہیں جب تک آپ کے پا س تنظیمی صلاحیت اور منصو بہ بند ی نا ہو ۔یہ کا م کو ئی ادارہ انجا م دیتا ہے تو سب سے پہلے با صلا حیت لو گو ں کی ایک کمیٹی بنا ئی جا تی ہے ۔ بر سوں گز ر جا نے کے بعد بھی خواب شر مندہ تعبیر نہیں ہو تا ۔ رابعہ الرَ بّا ء کی تعریف کر نی ہو گی کہ جس محنت اور جا نفشانی اور جذبے کے تحت، انہو ں نے یہ فریضہ انجا م دیا ، اس کو ادبی معجزہ ہی کہا جا سکتا ہے۔جہا ں تک مجھے خیال ہے کہ وہ پچھلے کئی بر سوں سے منصو بے کو عملی جا مہ پہنا نے کے لئے وہ بھو ک پیا س سب کچھ بھو ل گئی تھی ۔ میں ای میل اور فیس بک پر لگا تا ر ان کی پو سٹ دیکھتا رہا۔ ایک ایک تصویر اور ادیبو ں کا تعارف حاصل کر نے کے لئے ان کی انتھک سعی کو سلام کر نا ضروری ہے ۔ میں جا نتا ہو ں کہ بر صغیر کے زند ہ ادیبو ں سے تفصیلات جمع کرنے میں رابعہ کو کیسی کیسی دشواریا ں پیش آئی ہو نگی مگر اب ان کی محنت سامنے ہے ۔ ایک ایسے وقت میں ، جب ہما ری پرواز ڈیجٹل دنیا میں قدم رکھ چکی ہے ، زبا ن اور تہذیب پر حملے جا ری ہیں ، ادیبو ں کی شاخت اور تحفظ کا مسئلہ درپیش ہے ، رابعہ نے’’ اردوافسانہ عہد حاضر میں،،کی سوغات دے کر اردو افسانے کی روشن تاریخ کو محفوظ کر لیا ہے ۔ اس تا ریخی ، علمی و تحقیقی دستا ویز کے لئے ان کا جس قدر شکریہ ادا کیا جائے کم ہے ۔

٭سلمی اعوان ۔
اردو افسانہ ، افسانہ نگا ر او ر اس سب کو مرتب کر نا اردوادب کی تین دہا ئیو ں کی تا ریخ محفوظ کر نا ہے ۔ اس ضمن میں جو خوش آئند با ت سا منے آئی وہ زندہ افسانہ نگا روں کے کا م کو ترجیحی بنیادوں پر رکھا گیا ہے۔ مرحوم افسانہ نگارو ں پر کہیں نا کہیں کا م ہو تا رہا ہے ۔ بہر حا ل یہ ایک اچھا کا م ہے تین چا ر د ہا ئیو ں پر مشتمل پا کستا نی اور بیرونی معاشرتی ، سما جی ، ثقافتی اور سیا سی سطح پر جو تبدیلیاںوقوع پذیر ہوئیں اور جنہوں نے معاشرے کو کسی اور رنگ ڈھنگ سے متاثر کیا، اس پرافسانہ نگاروں اوران کے لکھے ہوئے کو محفوظ کرناقابل تحسین ہے۔

٭فرخ سہیل گوئیدی۔
رابعہ الر َ بّا ء نے پا کستا ن اور دنیا بھر کے اردو لکھنے والے اڑھائی سوکے قریب افسانہ نگا روں اور افسا نو ں کو ایک جگہ اکھٹا کر کے ، اردو ادب میں گرا ں قدر حصہ ڈالا ہے ۔ ایک کتا ب میں اتنی بڑی تعداد میں مختلف مو ضوعات پر افسانے ادب اور قارئین کے لئے بھی آسانی کا سبب تو بنیں گے ہی مگر اس کے ساتھ کسی بھی محقق کے لئے بھی ایک شاندار سہو لت ہو گی ۔ادب کسی بھی سما ج کی عکا سی ہو تا ہے، یو ں ہم ایک کتا ب میں سما ج کو جا ننے ، سمجھنے اور پڑھنے کا مو قع پانے جا رہے ہیں۔
22709924_1376090022518256_1687166803_n

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook