Home / Uncategorized / اردو حسن یوسف ہے، اسے کنعان کے کنوئیں سے نکال کربازارِ مصر میں لایا جائے: ڈاکٹر سید تقی عابدی

اردو حسن یوسف ہے، اسے کنعان کے کنوئیں سے نکال کربازارِ مصر میں لایا جائے: ڈاکٹر سید تقی عابدی

جہاں جہاں اردو ہے وہاں ہندوستان موجود ہے: پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین
قومی اردو کونسل کی سہ روزہ عالمی کانفرنس کا آغاز

ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ کی نئی دہلی سے خصوصی رپورٹ

Dr M Raghib Deshmukh

نئی دہلی: 30 اکتوبر 2014 ، قومی اردو کونسل کی دوسری عالمی اردو کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر دنیا بھر سے آئے ہوئے مندوبین نے کونسل کے اس اقدام کی ستائش کرتے ہوئے اردو کے روشن اور تابناک مستقبل کی امید ظاہر کی۔ کانفرنس کا افتتاحی اجلاس صبح 10.30 بجے شروع ہوا۔ انڈیا ہبیٹیٹ سنٹر کا اسٹین ہال دنیا کے 10 ممالک سے آئے اردو کے چاہنے والوں سے بھرا ہوا تھا۔یہ سبھی لوگ اردو کی ترویج و ترقی کے خواہاں تھے اور کونسل کی ایک آواز پر یہاں جمع ہوئے تھے۔ ان سبھی کے ذہنوں میں اردو زبان و ادب کے فروغ کا جذبہ بھرا تھا جو انھیں یہاں کھینچ لایا تھا۔ اردو ایک ایسی تہذیبی وراثت ہے جو برسو ں سے ہندوستان کی مٹی میں رچی بسی ہے اور اب اس زبان کی خوشبو پوری دنیا میں پھیل چکی ہے اور اردو نے اپنی تہذیبی بنیادوں پر پوری دنیا کا سفر طے کیا ہے۔ قومی اردو کونسل پوری دنیامیں اردو کا سب سے بڑا ادارہ ہے اور حکومت ہند نے اسے ارد وکے فروغ کے لیے نوڈل ایجنسی کا درجہ دیاہے۔ قومی اردو کونسل نے اردو زبان و ادب کا عالمی سطح پر جائزہ لینے کے لیے گزشتہ سال کی کامیاب عالمی اردو کانفرنس کی ہی طرز پر اس سال بھی عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا ہے۔ اس سال کانفرنس کا موضوع ’اکیسویں صدی میں اردو کا سماجی و ثقافتی فروغ‘ رکھا گیا ہے۔ کانفرنس میں استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے کانفرنس کے ڈائریکٹر پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے کہا کہ ہم نے یہ عالمی کانفرنس یہ جاننے کے لیے منعقد کی ہے کہ اکیسویں صدی میں اردو کا سماجی و ثقافتی فروغ کس حد تک ہورہا ہے اور اردو زبان ملک اور بیرونِ ملک کے دور دراز علاقوں میں کس طرح ترقی کی منازل طے کررہی ہے۔ ہم اردو کو عالمی سطح پر وہ مقام دلانا چاہتے ہیں جس کی اردو حقدار ہے۔ اس اردو کانفرنس میں ہم اردو کے فروغ سے متعلق تمام تجاویز، سفارشات پر غور و خوض کریں گے۔ گزشتہ سال کی عالمی کانفرنس کی پیش کردہ تمام تجاویز کو ہم نے حکومت کی خدمت میں پیش کردیا تھا اور اس پر کام بھی ہورہا ہے اور موجودہ حکومت بھی ہماری کوششوں میں تعاون کررہی ہے۔ استقبالیہ کلمات کے بعد گزشتہ سال پڑھے گئے مقالات پر مشتمل کتاب کا اجرا کیا گیا۔
کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے معروف ادیب و ناقد پروفیسر شمیم حنفی نے اردو کا ہندوستانیت کے تناظر میں جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اردو میں خالص ہندوستانی عناصر کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے ہیں اور یہ زبان پوری دنیا کا سفر کرتی رہی ہے۔ اردو کا مزاج خالص ہندوستانی ہے۔
عالمی اردو کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کناڈا سے تشریف لائے نامو رادیب و شاعر و محقق اور ناقد ڈاکٹر سید تقی عابدی نے کہا کہ اردو آج پوری دنیا میں بکھری ہوئی ہے۔ آج ہمیں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کا شکرگزار ہونا چاہیے کہ جو کام دوسرے لوگو ں اور اداروں نے نہیں کیا وہ اس ادارے نے کیا ہے۔ ٹی ایس ایلیٹ نے کہا تھا کہ جس زبان میں ادب عالیہ کا خزانہ ہوگا وہ زبان زندہ رہے گی اور اردو میں ادب عالیہ بھرا ہوا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اردو حسن یوسف ہے، کب تک اسے کنعان کے کنویں میں بند رکھیں گے۔ اردو کو بازارِ مصر میں پیش ہونا چاہیے۔
اس موقعے پر ممبئی سے تشریف لائے معروف ناقد و محقق پروفیسر عبدالستار دلوی نے اردو کا تہذیبی و تاریخی جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اردو زبان کا فروغ بے حد ضروری ہے۔ اردو کو علاقائی زبانوں کے ساتھ بھی لین دین کا عمل جاری رکھنا چاہیے۔ حکومت ہند بھی اردو کی ترقی کے لیے جو حکمت عملی بنائی ہے وہ قابل تعریف ہے اور کونسل اس کام کو بہتر اندازمیں انجام دے رہی ہے۔ نامور ناقد و شاعر پروفیسر عتیق اللہ نے کہا کہ ہمیں اردو کے فروغ کی کوششوں سے قبل ہمیں اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں روزمرہ کے کام کاج میں زیادہ سے زیادہ اردو کا استعمال کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ اس اجلاس کی نظامت بے حد خوبصورت انداز میں ڈاکٹر شگفتہ یاسمین نے کی۔
چائے کے وقفے کے بعد دوسرا اجلاس ماہر اقبالیات پروفیسر عبدالحق کی صدارت میں ہوا۔ اس اجلاس کی نظامت پروفیسر ناشر نقوی نے کی۔ اجلاس کا پہلا مقالہ مصر سے تشریف لائے ڈاکٹر احمد محمد احمد عبدالرحمان نے پڑھا۔ انھوں نے اپنے مقالے میں ’ہندوستان میں اردو زبان کو درپیش چیلنجز‘ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو مشترکہ قومیت کی ترجمان ہے۔ ’عالمی تغیرات اور تحفظ اردو‘ کے موضوع پر مقالہ پڑھتے ہوئے روزنامہ انقلاب ، ممبئی کے مدیر شاہد لطیف نے کہا کہ عالمی سطح پر زبان میں ڈھیروں تبدیلیاں ہوگئی ہیں اور ہمیں ان تبدیلیوں کو قبول کرنا چاہیے۔ انھوں نے سیمینار کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ مجھے امید ہے کہ تین روزہ عالمی کانفرنس میں اردو کی ترویج و ترقی کی سمت میں مناسب لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔ کناڈا سے تشریف لائے نوجوان اردو اسکالر نعمان وحید نے اپنے مقالے ’اردو زبان اور نسل نو‘ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں نئی نسل کو اردو سکھانے پڑھانے کے لیے موجودہ ٹیکنالوجی سے مزین طریقے اپنانے ہوں گے۔ ہمیں اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ نئی نسل کیا چاہتی ہے۔ ان کا مطمح نظر کیا ہے۔ جرمنی سے آئے معروف شاعر سید اقبال حیدر نے اپنے مقالے ’اردو زبان کا فروغ ماضی وحال میں جرمنی اور دیگر ممالک‘ کے حوالے سے اظہار خیال کہ اور کہا کہ ہم اگر یہ فیصلہ کرلیں کہ زبان کو مرنے نہیں دیں گے تو اردو کی ترقی کی صورت خودبخود بنتی چلی جائے گی۔رسم الخط کو تبدیل کرنے کی کوشش زبان کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہوگی۔ ہم تارکین وطن اردو کا رونا تو روتے ہیں لیکن ہم اردو کی بقا کے لیے سنجیدگی سے کوشش نہیں کرتے ہیں۔ اجلاس کا صدارتی خطاب پروفیسر عبدالحق نے دیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں اردو کی سماجی و ثقافتی شناخت پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ اپنے مشاہدات کو اکیسویں صدی کے افق پر لاکر دیکھنے کی ضرور ت ہے۔
ظہرانے کے بعد دوسرا اجلاس شروع ہوا۔ اس سیشن کی صدارت قاضی عبیدالرحمن ہاشمی نے کی۔ اجلاس کا پہلا مقالہ معروف طنز و مزاح نگار نصرت ظہیر نے پڑھا۔ اپنے مقالے ’اکیسویں صدی میں اردو طنز و مزاح نگاری‘ میں انھوں نے اردو طنز و مزاح کے ارتقا کا جائزہ لیا۔ انھوں نے کہا کہ مزاح کو غیرسنجیدہ تصور کیا جاتا ہے اور اس سے زیادہ غیرسنجیدہ بات کوئی نہیں ہوسکتی۔ اس اجلاس میں جمشید پور سے شائع ہونے والے نئے ادبی رسالے ’راوی‘ کا ڈاکٹر تقی عابدی، خواجہ اکرام اور اطہرفاروقی کے ذریعے اجرا بھی کیا گیا۔ چنئی سے آئے علیم صبا نویدی کے مقالہ کا عنوان تھا ’اردو زبان حال اور مستقبل‘ اپنے مقالے میں انھوں نے اردو کی تاریخی اور لسانی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان کی شاندار روایت رہی ہے۔ قدوس جاوید نے ’اردو کا سماجی و ثقافتی ڈسکورس‘ کے موضوع پر اپنا مقالہ پڑھا۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان میں پہلی بار ارد وکے آئینے میں ہی جمہوریت کی تصویر دیکھی گئی۔ ان کے علاوہ شہاب عنایت ملک (جموں)، پروفیسر نعمان خان (دہلی)، ڈاکٹر مشتاق احمد(دربھنگہ) نے بھی اپنے مقالے پیش کیے۔ قاضی عبیدالرحمن ہاشمی نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کونسل نے اردو کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ یہ کانفرنس ایک نئی مثال قائم کرے گی۔ آخر میں پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے ورلڈ اردو فورم قائم کرنے کی تجویز پیش کی جس کا سبھی مندوبین نے استقبال کیا اور اس سے اتفاق رائے ظاہر کیا۔

10606192_862487103764388_3596372763962425693_n

1511179_1502221556709293_4144617900390623654_n

1796584_1502220956709353_5728988901774080201_n

DSC_0022

DSC_0039

10734146_1501738926757556_1034027574528879552_n

10462356_1501740450090737_2477342169982798724_n

DSC_0053

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook