Home / خبریں / اردو شعر وادب کی تاریخ میں واٹساپ پر اپنی نوعیت کا پہلا منفرد صوتی مشاعرہ کا انعقاد

اردو شعر وادب کی تاریخ میں واٹساپ پر اپنی نوعیت کا پہلا منفرد صوتی مشاعرہ کا انعقاد

جدہ کی بزم اردو گلبن نے منعقد کیا عالمی مشاعرہ

10388655_10152909759362389_3676757093330843624_n 

مہتاب قدر۔ جدہ
جدہ .20/جولائی ۲۰۱۵ کی شام ۵ بجے سے رات ۱۲ بجے تک واٹساپ پر اردو گلبن واٹساپ گروپ کی جانب سےاپنی نوعیت کا پہلا صوتی مشاعرہ منعقد کیاگیا۔ اس مشاعرے کی خصوصیات میں یہ بات شامل ہے کہ اس میں ہندوستان پاکستان خلیجی ملکوں اور سعودی عربکے مختلف شہروں سے شعرا نےشرکت فرمائی ۔ واٹساپ گروپ پر موجود ۱۰۰ اراکین پر مشتمل شعرا ادبا اور باذوق سامعین اسمشاعرے سے حسب سہولت محظوظ ہوتے رہے۔
اس مشاعرے کی صدارت جدہ کے کہنہ مشق شاعر جناب اطہر عباسی نے فرمائی جبکہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے معروفسماجی شخصیت مدینہ منورہ سے جناب احمد الدین اویسی صاحب تشریف فرمارہے۔ مہتاب قدر صدر اردو گلبن نے اس تاریخی صوتیمشاعرے کی نظامت کی جو سات گھنٹوں تک مسلسل چلتا رہے صرف مغرف کی نماز کیلئے شوال کے روزہ داروں اور نماز کا وقفہدیا گیا۔باقاعدہ شرکت کرنے والے تقریبا ۲۵ شعرا میں ۲۲ نے اپنے کلام سے نوازا جبکہ ۳ شاعر کسی نہ کسی مجبوری نٹ ورک کی عدمموجودگی یا صوتی پیغام کی سہولت کے استعمال سے عدم واقفیت یا کسی اور وجہ سے اپنے کلام کو پیش نہ کر سکے ۔ بعض شعراجنکی توقع تھی وہ سفر میں ہونے کے سبب شریک نہ ہوسکے۔
استقبالیہ کلمات کے ساتھ ہی مہتاب قدر (راقم) نے اللہ جل جلالہ کی حمد وثنا ور رسول ﷺ پر درود و سلام کے بعد اپنی حمد کےدو شعر پیش کئے
دن کو دن رات کو میں رات لکھوں
تو جو چاہے وہی میں بات لکھوں
تیری قدرت کو غور سے دیکھوں
اور ذرّے کو کائینات لکھوں
حمد کے بعد نعت کیلئے جناب نجیب احمد نجیب سے استدعا کیگئی ۔حیدراباد سے نجیب احمد مشاعرے میں شریک تھے سو انہوں نےاپنی حمد اورنعت کے اشعار پیش کئے۔
محترم، محتشم، کی نعت لکهوں
وجہ تخلیق کایئنات لکهوں
تیرے ہر نازتوں باتوں میں ساری بات لکهوں
تیری توصیف اور صفات لکهوں
الطاف شہریار جدہ
اشعار مرے اس کی نظر تک نہیں پہنچے
اخبار میں چھپ کر بھی خبر تک نہیں پہنچے
جینے کے مسائل تھے کہ خوابوں سے گزر کر
بچے مرے پریوں کے نگر تک نہیں پہنچے
احمد رئیس نظامی اجین ہندوستان
شکم سے بھوک ہم باندھے ہوئے ہیں
وہ کہتے ہیں کہ بم باندھے ہوئے ہیں
ہمارے خوف سے وہ م متحد ہیں
انہیں اک ساتھ ہم باندھے ہوئے ہیں
اقبال بیلن (جدہ)
کلچر و وضع داری ہے کس عمدگی کے ساتھ
مسٹر کسی کے ساتھ ہیں میڈم کسی کےساتھ
گیارہ ہزار مہر کے جوڑے کے پانچ لاکھ
تکمیل آرزو بھی ہے کس سادگی کے ساتھ
اک پنت دو ہیں کاج تو بیلن کمال ہے
بیٹی بھی دے رہے ہیں مجھے نوکری کے ستھ
اشعر علیگ (لکھنو) ہندوستان
جس کو ملتا نہ ہو سراغ دل
کہہ دو روشن کرے چراغ دل
خون ِ امید سے ہے لالہ زار
اب نہ دیکھیں گے سبزباغ دل
بدرالدین کامل( جدہ )
عجب دل ہے کہ بیٹها جارہاہے
چلے جانا زرا سا رک رکا کے
اپنے نصیب سے رہی زخموں کی آبرو
احساں کسی نمک کا بھی سر پر نہیں رہا
نجیب احمد (نجیب حیدرآباد دکن)
کبهی نہ ہم نے گناہوں کا اعتراف کیا
ہمیں تو رحمت یزداں نے خود معاف کیا
پتہ چلا ہے مجهے تب ہی اپنی قامت کا
عناد و بفض جو آنکهوں سے اپنی صاف کیا
تجلیات کی زد میں تمام تر ہے وجود
یہ کس نے کعبہء ہستی میں اعتکاف کیا
رخسار ناظم آبادی (بحرین )
طفل نے کچھ بھی نہیں سوچا ملا کر لکھ دیا
زندگی اور موت کو بالکل برابر لکھ دیا
پہلے تو اک کاغذی کشتی بنائی ، اور پهر
پار جانے کے لئے اس پر مقّدر لکھ دیا
کل جہاں پر دل لکها تها وہ جگہ کمزور تهی
میں نے دل کاٹا وہاں سے اور پتهر لکھ دیا
ضمیر سیوانی (مدینہ منورہ)
اک حقیقت نے مات کیا کھائی
اک حقیقت سے روشناس ہوئے.
دل کو روکا نہ دل کا ساتھ دیا
آرزو کی ، نہ محو_یاس ہوئے.
ملک محی الدین قادری (ریاض سعودی عرب)
نظم : زندان میں عید
اپنوں سے بہت دور کوئی عید کے دن بھی
زندان کی دیوار سے بس ٹیک لگا کر
لمحہ کوئی آنکھوں میں گذشتہ سے سجا کر
کوشاں ہے لہو آنکھ سے بہنے نہیں پاے
دکھتا ہوا دل اور بھی دکھنے نہیں پاے
پندار وفا سرسے اترنے نہیں پاے
رشتوں کی مہک ، چشم تمنا، دل بے تاب
در آئی ہے روزن سے مہک عید کے دن کی
انصاف کی امید دل زندہ میں روشن
آزادی کا خورشید دل زندہ میں روشن
اس بار نہیں اگلے برس غرّۂ شوال
سوچا تھا یہی پچھلے برس غرّۂ شوال
کیا کیجئے رنجور کوئی عید کے دن بھی
اپنوں سے بہت دور کوئی عید کے دن بھی
مہتاب قدر (جدہ )
آج پھر یاد آگیا کوئی
آج کی رات بھی گئی سمجھو
مہک خلوص کی یار میں نہیں ہوگی
تو انسیت در و دیوار میں نہیں ہوگی
ہمیں خریدنا چاہو تو دیر مت کرنا
یہ جنس کل کسی بازار میں نہیں ہوگی
حسن عسکری طارق (مزاحیہ شاعر مدینہ منورہ)
اب کیا کریں کہ بیٹھے ہیں گھر میں اکیلے ہم
بیگم کی حرکتوں نے پریشان کر دیا
وہ عید ہی کی شام کو میکے چلی گئیں
شوال کے مہینے کو رمضان کر دیا
عادل رشید (دہلی)
نہیں تم کو ضرورت پھر بھی عادل تیرنا سیکھو
بہت پچھتاوگے جس دن بھی کوئی ڈوبتا ہوگا
ذکی انجم صدیقی (کراچی پاکستان)
زندگی تجھ کو ہلاکو کا بدل لکھوں گا
آج میں خون کی سرخی سے غزل لکھوں گا
ڈاکٹر رضوان مہذبی (طائف)
نہیں کچھ بھی پہلے سے مختلف مری کیفیت مرا حال ہے
مری خواہشیں ہیں عروج پر مری عمر روبہ زوال ہے
یہ وہ دین حق کہ آج تک گئی بیت چودہ صدی مگر
جو حرام تھا وہ حرام ہے جو حلال تھا وہ حلال ہے
ترا شہر یہ نہیں گاوں ہے کہیں دھوپ ہے کہیں چھاوں ہے
کہیں لہلہاتی ہیں کھیتیاں کہیں پوکھرا کہیں تال ہے
ناصر برنی (جدہ)
حالانکہ سازگار زمانہ تو ہے نہیں
امید کا چراغ بجھانا تو ہے نہیں
ہر چند جان لیوا ہیں بے التفاتیاں
تیری گلی کو چھوڑ کے جانا تو ہے نہیں
کچھ اور تیری میری کتابوں میں ہو تو ہو
انسانیت کا خون بہانا تو ہے نہیں
محشر آفریدی (ررکی ہندوستان)
تیرے خاموش تکلم کا سہارا ہو جاوں
تیرے الفاظ بدل دوں ترا لہجہ ہو جاوں
تو مرے لمس کی تاثیر سے واقف ھی نہیں
تجھ کو چھو لوں تو ترے جسم کا حصہ ہو جاوں
پتھر ندی پہ مار کے خوش ہو رہے تھے آپ
پانی کے زخم دیکھئے پانی نے بھر دئیے
افروز عالم (کویت )
کاوش ِ عشق کی تکمیل کہاں ہوتی ہے
گرچہ وہ شوق نہیں شوق نما ہے تو سہی
لوٹ آتے ہوئی لہروں سے گفتگو کرتے
کوئی امید کہ ساحل پہ کھڑا ہے تو سہی
نادر اسلوبی (اطہر اسلوبی صاحب نے اپنے والد نادر اسلوبی صاحب کی نیابت کی)
آگ کے کھیل پہ طوفان پہ روناآیا
مجھکو جلتےہوئے کھلیان پہ روناآیا
خود فریبی پہ وہ نازاں ہیں بہت ، اور مجھے
بھیک میں پائی ہوئی شان پہ رونا آیا
اپنی تہذیب کاخود آپ اڑاتاہےمذاق
مجھکو شیطان صفت انسان پہ روناآیا
تجھکو قتّال زمانہ سے ہے امید حیات
دلِ ناداں ترےارمان پہ رونا آیا
عرفان اعظمی (اعظم گڑھ)( ناصر برنی صاحب نے عرفان اعظمی صاحب کی نیابت کی اور انکی ایک خوبصورت نظم پیش کی)
اطہر نفیس عباسی ( جدہ ۔۔ صدر مشاعرہ)
صدر مشاعرہ کا صدارتی کلام بہت داد و تحیسن کے ساتھ سنا گیا۔
رحمت کا لبادہ ہے یہ انعا م بہت ہے
اطہر کے لئے جامہ احرام بہت ہے
اس وقت جب آنکھوں میں ہو دم اےمرے مولی
آجاے مرے لب پہ ترا نام بہت ہے
ضعیف باپ نے ڈھونڈا، کہاں اجالے ہوئے
جوان ہوگئے بچے جو گود پالے ہوئے
مرے خیال کے موتی پرو لئے اس نے
ہے میرے نام کی مالا گلے میں ڈالے ہوئے
مہمان خصوصی : احمد الدین اویسی صاحب نے اپنے خوبصورت انداز میں مشاعرے کی کاروائی کو سراہا اور شعرا و سامعین کے ذوق کی داد دی
آخر میں مہتاب قدر (راقم الحروف ) کے رسمی شکریہ پر یہ تاریخی مشاعرہ اختتام پذیر ہوا ، اس رپورٹ میں وہ داد و تحسین تبصرے مشورے، جو حاضرین محفل دے رہے تھے درج نہیں کئے گئے

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook