Home / Uncategorized / اردو غزل کے رجحان ساز شاعر ” قمر رضا شہزاد” سے معروف شاعرہ، کالمسٹ اور الشرق سنڈے میگزین ایڈیٹر” ناز بٹ کا مکالمہ

اردو غزل کے رجحان ساز شاعر ” قمر رضا شہزاد” سے معروف شاعرہ، کالمسٹ اور الشرق سنڈے میگزین ایڈیٹر” ناز بٹ کا مکالمہ

11024653_766690696748670_2647369670284663942_n
٭ناز بٹ،کرا چی
مدیر الشرق سنڈے وائس میگزین

1929264_10207107521259419_7267118938728193160_n

قمر رضا شہزاد صاحب ، عہد ِ حاضر میں جدید ادبی منظر نامے کی وہ توانا آواز ہیں جس سے اردو شاعری کی قدر و منزلت میں گرانقدر اضافہ ہوا ہے ناقدین انھیں ایک رجحان ساز شاعر قرار دیتے ہیں اور ان کا کلام انھیں عہد ساز شاعر ثابت کرتا ہے، قمر رضا شہزاد کو جدید غزل کا ایک مضبوط اور قابل ِ رشک حوالہ تسلیم کیا جاتا ہے ، وہ اپنے بلند و بانگ لہجے اور شدت ِ احساس کی وجہ سے اپنے ہم عصروں میں نمایاں ہیں ۔آپکی غزلیات کے تین مجموعے شائع ہوچکے ہیں جبکہ چوتھا مجموعہ زیر ِ ترتیب ہے ۔ان کے یہ شعری مجموعے ان کی فکر کی ندرت ، روشنی اور گہرے تاثر کی منہ بولتی تصویریں ھییں
قمر رضا شہزاد کے ساتھ ہونے والی گفتگو قارئین کی نذر :

ناز بٹ : سب سے پہلے تو اپنے ادبی اور سوانحی پس منظر سے آگاہ کیجئے

قمر رضا شہزاد : مرا تعلق ایک زمیندار سادات گھرانے سے ہے جو قیام پاکستان کے بعد انبالہ مشرقی پنجاب کے گاوں راجگڑھ سے ہجرت کرکے پہلے جھنگ اور پھر خانیوال کی تحصیل کبیروالہ میں آباد ہوا۔ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہوں ۔میٹرک تک تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول کبیروالہ میں کی۔۔ لاگریجوشن ذکریا یونیورسٹی ملتان اور ایم اے ارود اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کیا۔ کچھ عرصہ وکالت کی مگر بعد ازاں پی ایس سی کے ذریعے حکومت پنجاب میں آگیا ۔۔ آج کل بطور ڈپٹی ڈائریکٹر پنجاب لوکل گورنمنٹ
ڈیپارٹمنٹ میں اپنے فرائض انجام دے رہا ہوں
میری ابتدائی ادبی نشوونما کے حوالے سے میرا گھر اور شہر انتہائی اہم ہیں۔میرے والد بظاہر سخت گیر انسان تھے مگر ان کا دل محبتوں سے لبریز تھا انہیں لٹریچر سے بے پناہ دلچسپی تھی لہزا گھر میں شروع ہی سے پڑھنے لکھنے کا رحجان رہا والد صاحب کا ادبی کتب کاذخیرہ میرے لئے کشش کا باعث تھا اس زمانے میں طلسم ہوشربا سے لے کر راجہ گدھ تک اور میر سے ناصر کاظمی تک جو کچھ بھی میسر آیا اسے پڑھا اور پڑھ کر اپنے لہو میں اتار لیا۔ ہائی سکول میں شوکت حسین مرحوم جیسے ادبی ذوق رکھنے والے سائنس ٹیچر نے بیت بازی اور بزم ادب کے ذریعے میرے شوق کو مزید جلا بخشی۔ اور یہی وہ وقت تھا جب میں نے بے قاعدہ شعر کہنا شروع کئے یعنی بیت بازی کے مقابلوں میں فی البدیحہ شعر گھڑ کر سنا دیا کرتا تھا۔۔ بعد ازاں کالج میں آکر طرحی مشاعروں میں حصہ لینے لگا ۔ اور اپنی کہی ہوئی غزلوں اور نظموں پر بہت سے انعامات حاصل کئے۔ مگر اس وقت تک میں خود کو شاعر نہیں سمجھتا تھا۔شاید اس لئے بھی کہ مجھے شاعر سے زیادہ کہانی نویس بننا اچھا لگتا تھا اور میں نے اوائل میں بچوں کی بہت سی کہانیاں تحریر بھی کیں جو بچوں کے رسائل میں شائع بھی ہوئیں۔ مگر نثر لکھنے کے لئے جس مستقل مزاجی اور کہیں ٹک کر بیٹھنے کی صلاحیت ضروری ہوتی ہے وہ مجھ میں نہیں تھی

ناز بٹ : آپ کو باقاعدہ شاعر ہونے کا کب احساس ہوا ؟

قمر رضا شہزاد : باقاعدہ شاعر ہونے کا ادراک مجھے اپنی یونیورسٹی کے زمانے میں ہوا جب میں نے ہنگامی ضرورت کے تحت ہونے والی شاعری سے ہٹ کر باقاعدہ غزلیں کہنی شروع کیں اور مشاعروں میں جانا شروع کردیا۔
ادبی حلقوں کی طرف سے پذیرائی نے مجھے نہ صرف اعتماد بخشا بلکہ مرے وجود میں ایک ایسی توانائی بھی بھر دی کہ میں ہمہ وقت شعر کی دنیا میں رہنے لگا۔ انہیں دنوں مرے حلقہ احباب میں شعرا بھی شامل ہونے لگے۔ مرے ابتدائی ادبی دوستوں میں سے حسنین اصغر تبسم۔ طاہرنسیم ۔شاکر حسین شاکر ۔ رضی الدین رضی ۔اور عباس تابش کا شمار ان چند لوگوں میں کیا جا سکتا ہے۔۔جو میرے شب وروز کے دوست تھے۔۔ ۔
کبیروالہ میں ان دنوں بیدل حیدری وفا حجازی اور خادم رذمی ادبی وتخلیقی سطح پر سر گرم عمل تھے۔ ان کی معاصرانہ چپقلش نے وہاں کے ادبی ماحول کو متحرک کیا ہوا تھا۔ خاص طور پر بیدل حیدری اور ان کے تلامذہ کی وجہ سے ایک تسلسل کے ساتھ ادبی نشستیں ہوتی رہتی تھیں۔۔ غلام حسین ساجد فیصل عجمی اور سلیم کوثر کا تعلق بھی اسی خطے سے تھا۔۔ اگرچہ وہ مجھ سے پہلے حصول روزگار کے سلسلہ میں یہاں سے دوسرے شہروں میں جا چکے تھے۔ ایسی مضبوط شعری روایت والے خطے میں اپنی علیحدہ شناخت کے ساتھ نمودار ہونا کافی دشوار تھا۔ لہزا ان چراغوں کے ساتھ اپنا ایک الگ چراغ جلانے کے لئے مجھے جن سخت مراحل سے گزرنا پڑا وہ میں ہی جانتا ہوں۔

ناز بٹ : یہ بتائیے کہ آپ کے ہاں شاعری کا بنیادی محرک کیا ہے ؟

قمر رضا شہزاد : جہاں تک میری شاعری کے بنیادی محرک کی بات ہے تو وہ میرے دل کی آواز ہے وہ جن لمحوں میں جیسا دیکھتا ہے یا سوچتا ہے وہی میرے لفظوں میں ڈھل جاتا ہے۔ ۔ میں نے ہمیشہ اپنے دل کی بات مانی ہے۔ میں ہوا کا ر خ دیکھ کر نہیں چلتا ۔ مثلا جب میں نے شاعری کا آغاز کیا تو ضیاالحق کا مارشل لا اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی نا انصافی تھی ۔ لہزا میری ابتدائی شاعری اس کے خلاف تھی اور یہی وجہ ہے وہ بعض اوقات نعرہ بازی کی حد تک بھی چلی جاتی تھی۔ میں ساحر جالب اور فیض کو اپنا ہیرو سمجھتا تھا ۔ ترقی پسند نظریات میری سوچ پر حاوی تھے۔ یونیورسٹی کے زمانے میں باقاعدہ بائیں بازو کی سیاست کرتا تھا اور سٹوڈنٹس یونیںن کا عہدیدار بھی تھا لہزا اس زمانے میرے دل کو انہی نظریات سے تحریک ملتی تھی لہزا میری شاعری میں بھی یہی کچھ تھا۔

ناز بٹ : پھر آپ کے دل نے کیا کہا کہ آپ کی شاعری خاص طور پر آپ کی غزل اس جدید اردو غزل کے ہم پلہ آگئی جس کا موضوع ذات وکائنات کی حیرتوں کا انکشاف ہے ؟؟

قمر رضا شہزاد : جی ہاں نئی غزل نے کسی حد تک میرے غصے کی شدت کو کم کیا۔۔ اور میں براہ راست اظہار کی بجائے ذات وکائنات کے معاملات کو شعری زبان میں بیان کرنے لگا۔ اور ایک بات چھپا کر ایک بات بتانے لگا۔
میں سمجھتا ہوں یہی غزل کا بنیادی حسن ہے۔۔ موضوعات کے تنوع کے باوجود اس کی طاقت وہ ڈھکا چھپا اظہار ہے جو اسے پر کشش بناتا ہے۔ بدقسمتی سے یہی نقطہ شاعروں کی اکثریت کو سمجھ نہیں آتا۔۔ یا تو وہ اتنا کھل کر اظہار کرتے ہیں کہ غزل سٹیمنٹ بن جاتی ہے یا پھر وہ بھاری بھرکم الفاظ اور فارسی تراکیب سے اسے اتنا بوجھل کر دیتے ہیں۔ کہ وہ پڑھنے اور سننے والے کے سر سے گزر جاتی ہے

ناز بٹ : ذاتی تجربات ومشاہدات ایک تخلیق کار کی تخلیقات پر کہاں تک اثر انداز ہو سکتے ہیں؟

قمر رضا شہزاد : میرا خیال ہے ہم اسے تخلیق کار ہی نہیں کہہ سکتے جو اپنی زندگی کی سچائیاں اپنے حرفوں میں بیان نہ کر سکے۔ فن ہمیشہ زندگی اور زندگی کے ہر طرح کے معاملات سے جڑا ہوتا ہے۔۔ لہذا یہی سب کچھ اس آئینے میں منعکس ہوتا ہے ۔ البتہ تخلیق کار اور عام آدمی میں فرق یہی ہے کہ تخلیق کار کو وہ سب کچھ بھی دکھائی دے رہا ہوتا ہے جسے ظاہر کی آنکھ نہیں دیکھ رہی ہوتی ۔۔ لہذا اس کی فن پاروں میں یہ جو ماورایت ہوتی ہے۔ یہ وہی سچ ہے جسے دوسرے شاید سمجھ نہیں رہے ہوتے یا پھر کسی آنے والے زمانے میں سمجھتے ہیں۔ بڑا ادب اپنے ماضی حال اور مستقبل کے زمانوں پر محیط ہوتا ہے اور ایک بڑا تخلیق کار بیک وقت اپنے تینوں زمانوں میں سانس لے رہا ہوتا ہے۔ اور اس کی تخلیقات میں بھی یہی سب کچھ جھلکتا ہے
ہم کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب ہم نے
درد وغم کتنے کئے جمع تو دیوان کیا

ناز بٹ : شاعری آمد ہے ؟ عطا ہے َ؟ کیا ہے ؟ اور یہ بتائیے کہ شاعری میں زبان وبیان پر قدرت کے علاوہ اور کون سے تقاضے ضروری ہیں ؟؟
قمر رضا شہزاد : دیکھیں جہاں تک زبان وبیان پر قدرت کا معاملہ ہے تو اسے تو آپ کا مطالعے بہتر سے مزید بہتر بناتا ہے۔ یعنی یہ سب کچھ آپ کے سیکھنے اور شوق پر منحصر ہے ۔ یہ ایک مہارت sikll ہے۔ تخلیق فن میں اس کی اہمیت اپنی جگہ لیکن شعر کہنا ہر زبان وبیان پر قدرت رکھنے والے کے بس کی بات نہیں ۔۔ یہ تو ایک وہبی صلاحیت ہے جو کم کم کسی کو نصیب ہوتی ہے۔ اور جسے یہ صلاحیت عطا ہوتی ہے وہی شاعری کر سکتا ہے۔۔ البتہ یہ صلاحیت اسی وقت فن کو نکھار سکتی ہے ۔ جب کہ صاحب فن زبان وبیان پر دسترس ۔ مشاہدے اور مطالعے کےاہمیت اپنے عہد اور آنے والے عہد کے تقاضوں کو سمجھتا ہو

ناز بٹ : آپ کی شاعری کا مزاج جارحانہ ہے جبکہ آپ عام زندگی میں بہت ہنس مکھ اور نرم دل ہیں ؟؟

قمر رضا شہزاد : جی ہاں بظاہر تو یہ ایک عجیب بات لگتی ہے۔۔ میرے بہت سے احباب جو میری شاعری پڑھنے سے پہلے یا پڑھنے کے بعد پہلی مرتبہ مجھ سے ملتے ہیں بہت حیران ہوتے ہیں۔۔
میرا اپنا ایک شعر ہے
میری ہنسی کا شور بھی سب سے بلند ہے
شاید میں دکھ بھی سب سے زیادہ اٹھاوں گا
دراصل میری ہنسی کا شور دوستوں میں گونجتا ہے اور میرے دکھ میری شاعری میں گفتگو کرتے ہیں۔۔ اور یہ بھی سچ ہے اگر میرے دکھ میری شاعری کے ذریعے ترسیل نہ ہوتے تو میں کب کا خودکشی کر چکا ہوتا۔ آپ زرا سوچئے یہ جھوٹ ظلم اور نا انصافی پر مبنی معاشرہ جس میں ہم سانس لے رہیں کیا اس قابل ہے کہ اس سے مفاہمت کی جائے۔میں تو اپنے لفظوں کے ساتھ اس سے جنگ کر رہا ہوں ۔۔ کیونکہ یہی میرے اختیار میں تھا۔ ۔میں اپنا غصہ اور اپنی آگ انہیں کے ذریعے نکال رہا ہوں۔۔ مجھے بھی پھول بچے پرندے اچھے لگتے ہیں۔ میں بھی ان میں جینا چاہتا ہوں۔
لیکن کوئی انہیں سلامت بھی رہنے دے۔ آپ کیا سمجھتی ہیں جہاں اس قدر ظلم ہو کہ سات سال کی معصوم بچی کے ساتھ زیادتی کرکے اسے بہیمانہ انداز میں قتل کر دیا جائے۔ جہاں چند روپوں کے لئے کھانے پینے کی اشیا میں زہر کی ملاوٹ کرنا جائز ہو۔ جہاں فیصلے طاقتور کی مرضی سے ہوتے ہوں۔
وہاں آپ کے لفظوں میں جارحیت نہیں آئے گی تو اور کیاآئے گا
کوئی تو آگ مرے خون میں دہکتی ہے
میں پھول چھوڑ کے تلوار کی طرف آیا

ناز بٹ : کیا فکری اور نظریاتی طور پر ایک رستے کا انتخاب کرکے اور ایک منزل کا تعین کرکے شاعری یا ادب کو اپنانا چاہئے ؟؟

قمر رضا شہزاد : میرا خیال ہے شاعری کسی قسم کی پلاننگ کی مرہون منت نہیں ہے اور نہ ہی آپ اس کے لئے کوئی لگا بندھا راستہ متعین کرسکتے ہیں۔ فکری یا نظریاتی پیمانوں سے بھی ہم اس کی پیمائش نہیں کرسکتے ۔ یہ اپنا راستہ خود بناتی ہے۔ ہم اگر اس کے ساتھ کسی طرح کی بھی زبر دستی کرنے کی کوشش کریں گے تو اس کا حسن مجروح ہوجائے گا۔۔ یہ نظریات کو بھی اپنے اندر سموتی ہے۔ فکر کے در بھی وا کرتی ہے۔ مگر یہ سب کچھ انتہائی غیر محسوس طریقے سے ہوتا ہے۔ شعر کا پہلا کام تو وہ لطف سخن ہے جو اس کے سننے یا پڑھنے والے کو سرشار کرتا ہے۔ لہزا شاعری میں کتنا ہی بڑا نظریہ یا فکر ہو اگر وہ لطف سخن سے محروم ہے۔ تو میں کم ازکم اسے شاعری تسلیم نہیں کر سکتا۔۔

ناز بٹ : شعرائے کرام کی اپنے معاصرین کے ساتھ چشمک کی کیا وجوہات ہیں۔۔ یہ ہر لمحہ کیوں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں؟

قمر رضا شہزاد : شاعروں میں معاصرانہ چشمک کی بہت سی وجوہات ہیں مگر سب سے اہم وجہ اپنے آپ کو دوسرے تمام شاعروں سے بڑا سمجھنا ہے۔ یہیں سے فساد جنم لیتا ہے۔
پھر اس کے بعد مفادات کی جنگ ہے یعنی میڈیا تک رسائی ۔ ملکی اور غیر ملکی مشاعروں میں شرکت۔ شاعری کو کمائی کا ذریعہ سمجھنا اور جہاں پیسے کا لالچ پیدا ہوگا وہاں لڑائی بھی ہوگی ۔ بدقسمتی سے ہمارے بہت سے شعرا ادب سے روٹی روزی کمانے کے چکر میں رہتے ہیں اور اسی چکر میں وہ اپنا ایک الگ فرقہ بھی بناتے ہیں اور پھر شاعروں میں گاہے بگاہے ادبی فرقہ وارانہ فسادات ہوتے رہتے ہیں جب تک شعر وادب کو ایک نیک مشن کے طور پر نہیں لیا جائے گا یہ معاصرانہ چشمک جاری رہے گی

ناز بٹ : فروغ ادب کے لئے تنقید کہاں تک کارآمد ہوسکتی ہے آج کل کے تنقیدی رویوں پر کیا کہنا چاہیں گے؟

قمر رضا شہزاد : دیکھیں جی پہلے تو بذات خود ایک اچھا تخلیق کار تنقیدی مرحلے سے گزرتا ہے۔ یعنی وہ اپنے لکھی ہوئی تخلیقات کو بار بار جانچتا ہے اور پھر مطمئن ہونے کے بعد فائنل کرتا ہے۔ اور جب فن پارہ وجود میں آجاتا ہے تو ناقدین اسے اپنے اپنے انداز سے دیکھتے ہیں۔ اور بدقسمتی سے ہمارے اکثر ناقدین نے اپنی پسند وناپسند کا معیار قائم کر رکھا ہے۔ لہذا ان کی اپنی سوچ سے مطابقت رکھنے والا فن پارہ ہی قابل توجہ ٹھہرتا ہے۔
تنقید اسی صورت میں فروغ ادب کے لئے کارآمد ہوسکتی ہے جب وہ غیرجانبدارنہ تجزیہ کرنے پر قادر ہو۔
اور آج کل کے اکثر تنقیدی رویے سطحی ہیں۔ اور اس کی وجہ وہ نصابی ضرورتیں ہیں جنہیں یونوسٹیوں اور کالجز میں اردو کے پروفیسر صاحبان کو پورا کرنا پڑتا ہے۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر اتنے غیر معیاری مقالے لکھے جارہے ہیں کہ خدا کی پناہ۔

ناز بٹ : آج کل شعبہ ادب میں یہ جو متشاعر اور متشاعرات کا شور ہے آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں ؟

قمر رضا شہزاد : دیکھیں جی یہ کوئی آج کا مسئلہ نہیں ہے۔ہمیشہ سے ہی شاعری میں ا س طرح کی صورت حال رہی ہے۔ ماضی میں بہت سے استاد شاعر اپنا ایک پریشر گروپ یا جتھہ بنا کر رہتے تھے ۔اس کا مقصد اپنے حریف کو نیچا دکھانا اور خود کو بلند مقام پر فائز کرنا ہوتا تھا۔ لہزا یہ کام ایسے ہی لوگ کر سکتے تھے جنہیں شاعری کا شوق یا شہرت کا چسکا ہو لیکن شعر کہنے کی صلاحیت سے محروم ہوں۔ لہذا وہ اس طرح کے اساتزہ کے ہتھے چڑھ جاتے تھے۔ جو انہیں شعر کہہ کر دیتا تھا اور اس کے بدلے میں ایسے متشاعر ان کی مالی مدد ودیگر مکروہ عادات پوری کرتے تھے۔ اور اگر کہیں انہیں استاد شاعر کے لئے اس کے مخالفین سے لڑنا بھی پڑ جاتا تھا تو وہ اس سے گریز نہیں کرتے تھے۔۔ آج بھی صورت حال اس سے مختلف نہیں ہے۔ سوشل میڈیا کے آنے کے بعد تو بہت سے مرد وخواتین کے سر پر شاعر بننے کا خبط سوار ہوگیا۔۔ لہذا اس طرح کے بہت سے استاد شاعروں کی موجیں لگ گئیں ہیں۔ انہوں نے شاعری کی فیکٹریاں لگا لی ہیں ۔۔ دھڑا دھڑ
متشاعر اور متشاعرات تیار ہوکر مارکیٹ میں آرہے ہیں۔ خاص طور پر بیرون ملک مقیم شاعری اور شہرت کے شوقین بہت سے لوگ مہنگے داموں میں شاعری خرید کرتے ہیں ۔ اور یوں شاعری کی خرید وفروخت کایہ مکروہ دھندہ عروج پر ہے۔

ناز بٹ : آپ آج کل آپ اپنی خودنوشت بھی لکھ رہے ہیں ۔ یہ خیال کیسے آیا ؟

قمر رضا شہزاد : یہ سلسلہ تو اتفاقیہ شروع ہوگیا وگرنہ میرے ذہن کے تو کسی کونے کھدرے میں یہ خیال نہیں تھا۔ ایک روز میں نے گزرے ہوئے کچھ واقعات فیس بک پر تحریر کئے۔ جنہیں میرے چند احباب نے بہت پسند کیا ۔اور اسے جاری رکھنے کے لئے کہا۔ میں شاید ان کی باتوں کو سنجیدگی سے نہ لیتا مگر جب ڈاکٹر انوار احمد اور آصف فرخی نے اسے پسند کیا اور آصف فرخی نے دنیا زاد میں اسے شائع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تو یہ میرے لئے بہت بڑا ٹربیوٹ تھا۔۔ لہزا پھر میں نے سنجیدگی سے اسے لکھنا شروع کیا۔
یہ خود نوشت اس لئے بھی اہم ہوگی کہ اس میں 80 کی دہائی اور اس کے بعد ہونے والے اہم ادبی معاملات شاید پہلی مرتبہ ایک کتاب کی شکل میں شائع ہوں گے۔
یہ خودنوشت لکھتے ہوئے میں نے یہ طے کیا ہے کہ ایک تو اس میں جھوٹ کی ملاوٹ نہیں ہوگی ۔۔ اور دوسرے کسی کی تضحیک کا پہلو نہی ہوگا۔۔

ناز بٹ : آخر میں آپ سے ایک ذاتی سا سوال کہ آپ نے اس سارے سفر میں کیا کھویا کیا پایا ؟؟ اور کیا اپنی ذندگی سے مطمئن ہیں ؟؟

قمر رضا شہزاد : میں نے زندگی کو کسی کاروبار کی طرح نہیں گزارا اس لئے اپنے نفع اور نقصان کا کبھی حساب کتاب نہیں کیا۔ محبتیں کیں اور انہیں میں سرشار رہا۔ بہت سی محبتیں وصول کیں جن کے لئے شکر گزار رہا۔ جن لوگوں نے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ چند لمحوں کے لئے دکھی ضرور ہوا۔ لیکن انہیں اپنے دل پر نقش نہیں کیا۔ کچھ لوگوں کی دانستہ ونادانستہ دل آزاری بھی کی ہوگی ۔ جن کے لئے آج بھی شرمندہ ہوں۔ مجھے علم ہے میں کسی کو دکھ دے کر خود کو سکھی نہیں رکھ سکتا لہزا کوشش کرتا ہوں کسی کو دکھ نہ دوں۔۔ مجھے ہر انسان سے بلا تفریق رنگ ونسل ذات ومذہب محبت کرنا اچھا لگتا ہے۔
لہذا میں نے تو سب کچھ پایا ہی پایا ہے۔ کھویا شاید کچھ بھی نہیں۔
اطمینان اس حد تک تو ہے کہ میں نے اپنے تئیں اچھا کرنے کی کوشش کی اور اگر مطمئن نہیں ہوں تو وہ بھی یہ کہ میں مکمل طور پر اپنی اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکا
قارئین یہ تھی گفتگو قمر رضا شہزاد سے ، مکالمے کا یہ سلسلہ جاری رہے گا

بشکریہ الشرق سنڈے وائس میگزین،کراچی

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook