Home / خبریں / اردو کی خدمت کرنے والا ہر شخص آج کے دور میں گویا عبادت کررہا ہے: فاروق ارگلی

اردو کی خدمت کرنے والا ہر شخص آج کے دور میں گویا عبادت کررہا ہے: فاروق ارگلی

فاروق ارگلی سے حقانی القاسمی کا بے باک انٹرویو

farooq-argali

16649298_413121255694809_4424890596008977078_n
٭مصنف: حقانی القاسمی، نئی دہلی۔

نہ میں نے نام و نسب پوچھا ، نہ شجرہ جاننے کی کوشش کی اور نہ ہی سوانح۔ میں نے ان سے سیدھا سوال کیا کہ آپ نے کسی ادارے سے وابستگی کیوں نہیں اختیار کی؟
تو ان کاجواب تھا کہ: ہر ادارے کی اپنی ضرورتیں اور مصلحتیں ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ پابندیوں میں گھر کر کوئی تخلیقی، علمی، ادبی، تہذیبی کام کرنا خاصا دشوار طلب ہے۔ آزاد رہنے میں انسان کی روح اور ذہن آزاد ہوتا ہے۔ اس پر کوئی پابندی نہیں ہوتی۔ اس لیے کام میں لطف آتا ہے۔

مجھے پتہ تھا کہ ان کا تعلق مختلف اداروں سے رہا ہے۔ وہ فری لانسر رہے ہیں اور ہر ادارے سے ان کی آزادانہ وابستگی ہی رہی ہے۔ پھر بھی انھوں نے اس تعلق سے مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ میرا تعلق زیادہ تر تجارتی قسم کے اشاعتی اداروں سے رہا ہے اور آغاز ناول نگاری سے ہوا تھا اور اس دور میں چھوٹے سائز کے ناولوں کا بڑا چلن تھا اور یہ مارکٹ کی ضرورتوں کے مطابق لکھنے والو ںکے لیے بہت منفعت بخش ثابت ہوتے تھے۔

اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے میرا اگلا سوال یہ تھا کہ جب آپ نے ناول نگاری سے آغاز کیا تو آپ کا پہلا ناول کون سا تھا؟
تو انھوں نے اس کی تفصیل یوں بتائی کہ: اس زمانے میں میری عمر 16-15 سال کی تھی۔ میں نے پہلا ناول ’نئے داغ نئے پھول‘ کے نام سے لکھا تھا۔ اردو میں میں نے کبھی فرضی نام کا استعمال نہیں کیا۔ البتہ ہندی میں میں نے فرضی ناموں سے لکھا، اس میں سب سے اہم نام ’رتی موہن‘ ہے۔ وجہ یہ تھی کہ اس زمانے میں ناول کی بہت سیل تھی ہندی کے پبلشر اس کا اہتمام کرتے تھے کہ اس کے لیے ایک الگ نام ہونا چاہیے۔اردو بڑی سیکولر زبان ہے یہاں پریم چند، کرشن چندر وغیرہ کو بڑا احترام حاصل ہے لیکن ہندی میں مسلمانوں کی لکھی ہوئی کتاب قارئین نہیں پڑھتے، پبلشر ایسا کہتے تھے کہ کوئی ایسا نام رکھ لیجیے جو ہندو سماج پسند کرے ۔ ہندی میں سماجی، جاسوسی تقریباً 150 ناول لکھے۔ اردو میں کوئی پیسے نہیں دیتا تھا، ہندی والے معقول معاوضہ دیتے تھے۔ ہندی میں ایک ایسا ناول چھپا جس کے ٹائٹل پر لکھا تھا کہ پسند نہ آنے پر قیمت واپس۔ اس کا نام تھا ’پیاسا‘۔ میں دس پندرہ سال تک مسلسل ہندی میگزین فلمی دنیا میں کام کرتا رہا، ناول لکھتا رہا۔ میں اردو میں سوچتا تھا اور ہندی میں لکھتا تھا۔ بھاشا کے حوالے سے لوگ مجھے پنڈت جی کہنے لگے تھے۔

آپ نے ہندی اردو اور فلمی رسائل کے لیے لکھا مگر مقبولیت کس سے ملی؟
اس سوال پر ان کا جوا ب تھا: میرے لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ مقبولیت کس سے ملی؟ میں ’روبی‘ کا فاؤنڈر ایڈیٹر ہوں۔ ’شمع ‘ کے بعد یہ پہلا کلرفل میگزین تھا۔ اس سے پہلے اردو میں اس طرح کا رسالہ صرف ہندی اور انگریزی میں شائع ہوتا تھا۔ اس کے مالک تھے رحمن نیر۔

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کن کن اخبارات سے آپ وابستہ رہے؟
تو انھوں نے کہا کہ کئی اخبارات میں لکھتا تھا۔ میں بہت پاپولر تھا۔ کثیر الاشاعت اخبار ’پرتاپ‘ میں میرے ناول سیریلائز ہوتے تھے۔ پرتاپ میں لکھنے والوں کو معاوضہ نہیں ملتا تھا۔اخبار معاوضہ نہیں دیتے تھے۔ مگر مجھے معاوضہ ملا۔ میرے پڑھنے والے مجھے چیک اور ڈرافٹ بھیجتے تھے۔ میرے ناول مہارانی پدمنی ،جے پور کا خزانہ جب قسطوں میں چھپے تو ان ناولوںکے حوالے سے 21اور 51 روپے کے بہت سے چیک / منی آرڈر آئے۔ ’فلمی دنیا‘ میگزین کی اشاعت اس وقت ایک لاکھ 60 ہزار تھی۔ اس میں زیادہ تر ادارتی کام ہمیں کرتے تھے۔ 1967 میں رحمن نیر شمع میں کام کرتے تھے، انھوں نے ایک دن کہا کہ فلمی میگزین اردو میں نکالنا چاہتا ہوں۔ اس وقت سب سے بڑا رسالہ ’شمع‘ سیاہ و سفید شائع ہوتا تھا۔ ہم نے اُردو میں پہلی بار ’روبی‘ ملٹی کلر میں نکالا۔ ’روبی‘ نے ’شمع‘ کو چیلنج کیا اور وہ مقبولیت کے اعتبار سے بہت آگے بڑھ گیا۔

میں نے ان کے سیاسی مضامین بھی پڑھے تھے، اس تعلق سے پوچھنے پر ان کا جواب یہ تھا کہ:
ایک ویکلی اخبار نکلا تھا 1962 میں۔ ایک پنجابی بزرگ تھے بلونت سنگھ جی۔ ترکمان گیٹ میں دفتر تھا اور مجھے ایڈیٹر بنایا۔ اخبار کا نام تھا ہفت روزہ ’پیغامبر‘۔ بلونت سنگھ بہت پڑھے لکھے آدمی تھے۔ وہ مرنے کے بعد کی زندگی پر مضامین لکھتے تھے۔ ان کے مضامین اتنے پسند آئے کہ لندن کی ایک سوسائٹی نے انھیں بلا لیا اور وہ وہیں بس گئے۔ 1975 میں میں نے ایمرجنسی کے خلاف ہندی میں ایک جاسوسی ناول لکھا۔ اس سلسلے میں گرفتاری بھی عمل میں آئی اور میسا کے تحت مجھے جیل بھیج دیا گیا۔
دس پندرہ دن جیل میں رہے۔ جنتا حکومت نے دیش بھکتی کا سرٹیفکیٹ دیا۔ جیل سے باہر آتے ہی ایک کتاب ’ایمرجنسی‘ اور ’جگ جیون رام‘ لکھی۔ کیونکہ بابو جی نے 2 فروری 1977 کو کانگریس حکومت سے استعفیٰ دیا تھا۔ 5 فروری کو ان کی رہائش گاہ پر پہنچا کہ کتاب پیش کروں۔ کتاب ان کے بیٹے سریش رام کو دی، وہ اندر گئے۔ اسی وقت اندر بلا لیا گیا۔ کتاب والا کہاں ہے؟ تھوڑی سی گفتگو کے بعد کتاب کا ایک حصہ کتابچے کے طور پر دو لاکھ کاپیاں چھاپنے کا آرڈر مل گیا اور میری جیب نوٹوں سے بھری گئی تھی۔

دہلی کا تہذیبی ماحول آپ کو کیسا لگا؟
یہ سوال اس لیے کیا کہ ان کی پوری شخصیت دہلی کی تہذیب میں رچی بسی ہے اس پر ان کا کہنا تھا کہ میں جس وقت دہلی آیا 1956 میں۔ تو اس وقت پنجابیوں سے مسلمانوں کو بہت دہشت تھی۔ ہر گلی کوچے میں رفیوجی آباد تھے۔ وہ مکانات جو مسلمان چھوڑ گئے تھے ان پر وہ قابض ہوگئے تھے۔ کسٹوڈین سے الاٹ کرارکھے تھے۔ ایک خاص قسم کی وحشت طاری تھی۔ لیکن دہلی کی روایتی زندہ دلی اس نسل کے مسلمانوں میں باقی تھی، محبتیں اور انسانیت کے جذبے زندہ تھے۔ ایک مثال سن لیجیے۔ خربوزوں کے موسم میں کچھ بزرگ بازار میں خربوزے والوں کے گرد کھڑے ہوجاتے تھے۔وہ ایک ایک خربوزہ لے کراس کی قاشیں لوگوں کو چکھاتے، جس کا خربوزہ پھیکا ہوتا تھا وہ سارے خربوزے خرید کر غریبوں میں بانٹتا تھا۔ اُن دنوں اردو بازار جوان تھا۔ شام ہوتے ہی وہ اصحاب جن کا اردو میں بڑا نام تھا، اُردو بازار کے چائے خانوں میں جمع ہوجاتے، باہم تبادلۂ خیال کرتے اور ایک بڑا ادبی ماحول پیدا ہوجاتا تھا۔ بسمل سعیدی، نریش کمار شاد، ظفر پیامی، کرشن موہن، اظہار اثر، سلام مچھلی شہری، واقف مراد آبادی، ساغر نظامی، کامل نظامی، قیصر حیدری، خان غازی کابلی اور جانے کتنے ادیب اور شاعر۔ ہر شام کو ایک کہکشاں آباد ہوجاتی تھی۔

نوجوانوں کے تعلق سے ان بزرگوں کا کیا ردِّعمل ہوا کرتا تھا؟
یہ سوال اس لیے ضروری تھا کہ آج کے بزرگ اپنے چھوٹوں کو کہنی مارنے میں ماہر ہیں اس پر انھوں نے ان بزرگوں کے ردعمل کی بابت بتاتے ہوئے کہا کہ وہ تربیت کیا کرتے تھے۔ باقاعدہ نظر رکھتے تھے۔ عیب بتاتے تھے۔ حوصلہ شکنی نہیں کرتے تھے۔ حالانکہ آپس میں چشمک بھی خوب تھی۔ لیکن کوئی کسی کے خلاف سازش نہیں کرتا تھا۔ گروہ ضرور تھے لیکن اب وہ تہذیب باقی نہیں ہے۔ اب تو اچھی اردو سننے کو بھی نہیں ملتی۔ اس وقت کئی بزرگوں کو استاد کی حیثیت حاصل تھی، جو صرفی، نحوی یا تلفظ کی غلطی کرتا وہ اس کی اصلاح کرتے تھے۔ جگن ناتھ آزاد اور نریش کمار شاد کی کوئی شام ایسی نہ ہوتی تھی جو اردو بازار میں نہ گزرے۔ کوئی ایسی شخصیت ہندوستا ن پاکستان کی ایسی نہ تھی جو دہلی آئی ہو اور اردو بازار میں نہ آئے۔ حفیظ جالندھری، جوش ملیح آبادی، شورش کاشمیری جیسی عظیم شخصیات کو پاس سے دیکھنے کا موقع ملا۔ سب سے بڑی رونق گلزار دہلوی کی انجمن تعمیر اردو کی تھی۔ ہر اتوار کو باقاعدہ نشست ہوتی تھی۔ کسی کے افسانے پر بحث ہوتی۔ کسی کی غزل پر تبادلۂ خیال ہوتا تھا۔ نوجوانوں کی تربیت کے لیے انجمن کو باقاعدہ ادبی حیثیت حاصل تھی۔ اس زمانے میں دہلی میں ایک سیاسی شخصیت تھی ڈاکٹر عباس ملک کی۔ انھوں نے آزادی کے بعد پہلی بار اردو کے آئینی حقوق کے لیے آواز اٹھائی تھی۔ ان کی تنظیم کا نام تھا ’اردو محافظ دستہ‘ جس کے باضابطہ جلوس نکلتے تھے۔ 1947 کے بعد اردو کے چراغ جلتے رہے۔ عوامی طور پر اخبارات و رسائل اور نشر و اشاعت کا زور اتنا تھا کہ شاید اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ہوگا۔پنجاب سے جو ترکِ وطن کرکے اُردو برادری آئی تھی اس نے اردو کو ازسرنو روشن کردیا۔ پنجابیوں نے اشاعتی ادارے قائم کیے، رسائل اور اخبارات نکالے۔ وہ بہت کامیاب بھی رہے۔ پرتاپ، ملاپ، بندے ماترم، تیج اور جانے کتنے اخبار و جرائد۔ ملاپ میں فکر تونسوی نے طنزیہ کالم لکھنا شروع کیا ’پیاز کے چھلکے‘ جس وقت اخبار آتا تھا خریداروں میں چھین جھپٹ شروع ہوجاتی تھی۔اس وقت مسلمانوں کے صرف دو اخبار تھے ’الجمعیۃ‘ اور ’نئی دنیا‘۔ نئی دُنیا دوپہر کو نکلتا تھا تو لوگ اپنی دوکانوں کے باہر کھڑے ہوتے تھے کہ ’نئی دنیا‘ آتا ہوگا۔ بطور صحافی ناز انصاری، پروانہ ردولوی، مہدی نظمی جیسی تاریخ ساز شخصیات اس سے وابستہ تھیں۔ ’الجمعیۃ‘ کے ایڈیٹر مولانا عثمان فارقلیط تھے۔ ان کے شذرات پڑھنے کے لیے لوگ ’الجمعیۃ‘ کا انتظار کرتے تھے۔ ان دنوں بہت اچھے ماہنامے نکل رہے تھے۔ حافظ یوسف دہلوی کا ’شمع‘ بین الاقوامی حیثیت حاصل کرچکا تھا۔ اردو کی تاریخ میں اتنا کثیرالاشاعت ماہنامہ شاید ہی کوئی نکلا ہو۔ رام راکھا مل خوشتر گرامی کا’بیسویں صدی‘ لاہو رسے دہلی آنے کے بعد بہت مقبول ہوا۔ آج اردو فکشن کے جتنے بڑے نام دیکھنے کو مل رہے ہیں وہ زیادہ تر بیسویں صدی کی دین ہیں۔ کرشن چندر، بیدی، خواجہ احمد عباس، عصمت چغتائی، حامدی کاشمیری، ان کو گھر گھر تک بیسویں صدی نے ہی پہنچایا۔ بیسویں صدی نے ان افسانہ نگاروں کو شناخت عطا کی تھی۔ اس نسل کے کچھ نام اب بھی زندہ ہیں۔ گوپال متل نے ’تحریک‘ نکالا یہ ترقی پسند نظریے کے خلاف تھا۔ اسے امریکن لابی کا رسالہ کہا جاتا تھا۔ لیکن متل صاحب نے ادبی معیار کو قائم رکھا۔ اردو کو اس سے بہت فائدہ پہنچا۔ اس سے لکھنے والوں کی بڑی تعداد سامنے آئی۔ تحریک کے معاون ایڈیٹر مخمور سعیدی تحریک کی ہی دین ہیں۔

یہ سبھی کو پتہ ہے کہ وہ نہ کسی سرکاری عہدے پر فائز ہیں، نہ کوئی کاروبار ہے۔ وہ صحیح معنوں میں قلم کا مزدور ہیں۔ میں نے ان سے یہ پوچھ ہی لیا کہ آپ نے صرف قلم کو ذریعۂ معاش کیوں بنایا؟
تو انھوں نے بہت ہی انکساری کے ساتھ جواب دیا کہ قلم کے علاوہ کچھ تھا ہی نہیں۔ میری رسمی تعلیم بھی زیادہ نہیں تھی۔ 1949 میں میں ایک پرائمری اسکول میں پڑھتا تھا۔ وہاں دوسرے درجے سے ہی قواعد پڑھائی جاتی تھی۔ تاریخ، جغرافیہ اور ریاضی اردو میں پڑھائی جاتی تھی۔ میں تیسری کلاس میںتھا اور راتوں رات فیصلہ آیا کہ اب اردو نہیں پڑھائی جائے گی، ہماری پڑھائی ختم ہوگئی۔ کھیتی باڑی اور جانور چرانے میں لگ گئے، پڑھنے کا شوق دیوانگی کی حد تک تھا۔بھینس کی پیٹھ پر بیٹھ کر صادق سردھنوی کا ناول پڑھا کرتے تھے۔ آفتابِ عالم، معرکۂ کربلا، مشرق کی حور، یوسف بن تاشقین، عبدالحلیم شرر کا منصور موہنا۔ انہی دنوں ابن صفی نے لکھنا شروع کیا۔ پہلا ہی ناول پڑھا، پھر تو ابن صفی کے پرستار بن گئے۔ ہمارے پڑھنے کا شوق رشتے کی خالہ جو مولانا حسرت موہانی کے چھوٹے بھائی سیّد روح الحسن کو بیاہی تھیں، ان کی وجہ سے پروان چڑھا۔ مولانا حسرت موہانی کے انتقال کے بعد ان کی خاص کتابیں اور مخطوطات وغیرہ تو انجمن ترقی اُردو علی گڑھ چلی گئیں مگر سیکڑوں کتابیں ہمارے گاؤں موضع مسی، ضلع فتح پور آگئیں۔ روح الحسن صاحب دکن میں وکیل رہے تھے، ان کے پاس پہلے سے کتابوں کا بڑا ذخیرہ تھا۔ ان کے گھر کی سیواٹہل کے عوض کتابوں تک رسائی ہوگئی۔ وہاں اُردو کے رسالے بھی مل جاتے تھے۔ اس زمانے میں، میں نے طلسم ہوشربا، فسانۂ عجائب اور باغ و بہار سے لے کر تاریخ اسلام تک لالٹین کی روشنی میں پڑھا۔ اسی شوق نے دہلی لاپٹکا۔ والد پولیس میں رہے تھے مگر دیندار انسان تھے، دینیات کا اچھا مطالعہ تھا۔گاؤں میں گزر بسر مشکل ہوگئی تو دہلی آکر مسجد دوجانہ کے مؤذن اور امام بن گئے، ان کی وجہ سے ہمارا دہلی آنا جانا شروع ہوا۔ انھوں نے مجھے کھیتی کسانی میں لگا دیا تھا، ہمارے بزرگ کہتے تھے، ’’پڑھے لکھے کا ہوئی، ہر جوتے تو گلّہ ہوئی۔‘‘ جنگل میں کھیت کام کرتے کرتے بھی پڑھتے رہے۔ میرا کسی چیز میں کوئی استاد نہیں، میرا وجدان، میرا شعور ہی میرا استاد ہے۔ 1956 میں مستقل دہلی آگئے، یہاں ہم نے ’نوبھارت ٹائمز‘ اور ’پرتاپ‘ کا موازنہ کرکے ہندی سیکھ لی۔ چھوٹی موٹی نوکری اور زیادہ وقت لائبریریوں میں کٹتا۔ ہندی کے ساتھ ساتھ کام چلاؤ انگریزی بھی سیکھ لی۔ مسلسل پڑھتے رہنے نے لکھنے کی طرف راغب کیا۔پہلا ناول چھپنے کے لیے دیا تو پبلشر سے گزارش کی کہ ماترائیں ٹھیک کرالیجیے۔ ایک ایک شبد کرکے ہندی سیکھی ہے۔

وہ مختلف موضوعات پر لکھتے رہے ہیں۔ چاہے سیاسی ہو یا سماجی، ادبی ہو یا فلمی۔ آج کی نسل کو چونکہ اس سطح پر کوئی رہنمائی نہیں ملتی، انھیں کوئی یہ نہیں بتاتا کہ کسی موضوع پر کس طرح لکھا جانا چاہیے۔ اساتذہ تک رہنمائی کرتے۔ پہلے کچھ کتابیں آتی تھیں اب وہ بھی نہیں آتیں۔ اسی لیے میں نے ان سے یہ پوچھنا مناسب سمجھا کہ کسی بھی موضوع پر لکھنے کا کیا طریقۂ کار ہونا چاہیے؟
تو انھوں نے رہ نمائی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے ذہن میں موضوع ہونا چاہیے۔ کہانی کو کنسیو کرنا چاہیے۔ کہانی سوچیے، پھر جہاں سے چاہیں لکھنا شروع کردیں، لیکن اس کے لیے کرداروں کے پس منظر، سماجی کیفیت اور نفسیات کا درک، زبان پر گرفت اور الفاظ کا ذخیرہ لازمی ہے جو مطالعے کے بغیر ممکن نہیں۔ اپنا تجربہ یہ ہے کہ سوچیے اور لکھنا شروع کردیجیے، تحریر خودبخود انجام تک پہنچا دے گی۔

ادب میں بہت سی تحریکیں وجود میں آئیں اور اپنی مدت پوری کرکے ختم بھی ہوگئیں۔ اردو میں بھی جدیدیت اور مابعد جدیدیت جیسی تحریکوں کا بہت زور رہا ہے۔ کچھ لوگ ان دونوں تحریکوں کی مخالفت کرتے ہیں اور کچھ اردو زبان و ادب کے لیے ان دونوں تحریکوں کو مفید قرار دیتے ہیں۔ اس تناظر میں میں نے ان سے یہ سوال کیا کہ جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
تو ان کا سیدھا سا جواب یہ تھا کہ میں نظریاتی طور پر ادب کی ہر صنف کو احترام کی نظر سے دیکھتا ہوں کہ اس میں فنکار کا خونِ جگر شامل ہوتا ہے۔ ترقی پسند تحریک نے اُردو ادب کو لازوال تخلیقی کارناموں سے مالامال کیا ہے۔ جدیدیت اس کی ضد میں سامنے آئی لیکن جدید قسم کی تخلیقات بالخصوص ’شب خون‘ میں شائع ہونے والے تجریدی اور علامتی افسانوں نے بھی اُردو فکشن کو بہت کچھ دیا ہے۔خاص نہج سے بات کہنے کا سلیقہ سکھایا ہے شاعری اور فکشن دونوں میں۔۔ اس میں بہت اچھی علامتی کہانیاں لکھی گئیں جو ہمارے ادب کو Enrich کرتی ہیں۔ اس میں اشارت اور علامت کے ساتھ فکر و فلسفے کا پرتو نمایاں ہے۔ شمس الرحمن فاروقی اور نارنگ کی آپسی چشمک کی وجہ سے ادب کو گروہ بندی کی عینک سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ ادب تو وہ بھی ہے جو لوک ساہتیہ میں ہے۔ لوک ادب گاؤں کے دہقانوں ، چرواہوں اور بنجاروں کے ذہن اور سوچ کا اظہار ہے۔کبیر کی شاعری کو ادبِ عالیہ میںرکھنے سے کون روک سکا؟ ادب بس ادب ہوتا ہے، میں اس کو خانوں میں نہیں بانٹتا، ہاں میں اردو کے معاملے میں بہت حساس ہوں۔ اگرکوئی شخص اردو میں شعر کہتا ہے، اخباروں میں خبریں بناتا ہے، اسکولوں مدرسوں میں پڑھاتا ہے، ادب میں کسی نہ کسی طریقے سے اپنی تخلیقات کے حوالے سے خود کو شناخت کروانے کی کوشش کرتا ہے تو میرے لیے قابل احترام ہے۔ میں ذاتی طور پر دانشور نہیں ہوں، نقاد نہیں ہوں، سند یافتہ محقق نہیں ہوں ، میرے نظریے کے مطابق، جو شخص بھی اردو کی خدمت کررہا ہے وہ آج کے دور میں عبادت کررہا ہے۔

عصری جامعات کے بارے میں رفتہ رفتہ لوگوں کی رائیں بدل رہی ہیں۔ وہاں کے علمی اور تحقیقی کام سے عدم اطمینان کا اظہار اب ان دانش گاہوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی کرنے لگے ہیں۔ اس تناظر میں یہ سوال کرنا بہت ضروری تھا کہ اکیڈمک سطح کے کام سے کیا آپ مطمئن ہیں؟
تو ان کا جواب یہ تھا کہ اصل میں ایک چیز ہے جسے بشریت کہتے ہیں اور وہ آج مادّی ترقیات اور صارفیت کے زمانے میں ہر دو رسے زیادہ انسانی زندگی میں دخیل ہوگئی ہے۔ نفسا نفسی اور مسابقت کا زمانہ ہے۔ جب مفادات ٹکراتے ہیں تو اس کا اثر تو پڑتا ہی ہے۔ علم و ادب میں بھی انسانی خودغرضی کا غلبہ ہے۔ چاہے تدریس ہو، تنقید ہو یا تحقیق ہو۔ یونیورسٹیوں، علمی اداروں میں مفاد پرستی اور اخلاقی پستی دِکھائی دیتی ہے وہ بھی مسابقت آرائی کا نتیجہ ہے۔ دراصل اگر خلوص ختم ہوجائے، مادیت حد سے تجاوز کرجائے تو زوال ہی معاشرے کا مقدر بن جاتا ہے۔

عجیب بات ہے کہ ادب میں بہت سے لوگوں کو انعامات سے سرفراز کیا گیا مگر جس نے قلم اور قرطاس سے ہمیشہ رشتہ رکھا اور نئے نئے موضوعات پر مضامین لکھے۔ ادب کی ثروت میں اضافہ کیا ان کی طرف کسی ادبی ادارے کی نظر نہیں گئی۔ اس تعلق سے شاید یہ سوال زیادہ ضروری تھا کہ کیا آپ کی خدمات کا اعتراف کیا گیا ہے؟
تو انھوں نے نہایت بے نیازی کا ثبوت دیتے ہوئے جواب دیا کہ میں اپنے آپ کو بے حد خوش نصیب محسوس کرتا ہوں کہ وہ کام کرنے کا موقع ملا جو میں کرنا چاہتا تھا۔ جس زمانے میں دہلی آیا تھا ، مکان زمین جائیداد کوڑیوں کے مول تھی۔ میرے کئی دوست اور شناسا چھوٹے چھوٹے کاروبار کرکے آج کاروں اور بنگلوں کے مالک بن گئے۔ میں بھی کوشش کرتا تو بہت کچھ کرلیتا۔ لیکن میں نے وہ راستہ چنا ہی نہیں اور وہ کام کیا جس میں مزہ آیا۔ میں نے نہ آشا کی نہ نِراش ہوا۔ نہ ایوارڈ کی چاہت ہوئی نہ انعام کی تمنا کی۔ ویسے کچھ ایوارڈ و انعام بھی ملے مگر اس میں میری کسی جستجو یا کوشش کو دخل نہیں تھا۔

ایک زمانے میں عالمی اردو اردو کانفرنس کا بہت شہرہ تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس ادارے نے بہت سی ایسی کانفرنسیں کروائیں جس میں کثیر تعداد میں غیرملکی مندوبین نے شرکت کی اور وہ مشاہیر بھی آئے جنھیں دیکھنے اور سننے کے لیے خلقِ خدا کا ہجوم امڈ پڑا۔ اس کانفرنس کی کامیابی میں ان کا بہت اہم رول رہا ہے اس لیے جب ان سے یہ پوچھا کہ عالمی اردو کانفرنس سے آپ کی وابستگی کیسے ہوئی تو ان کا جواب یہ تھا:
ہوا یہ تھا کہ حیدرآباد کے علی صدیقی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ واجبی سے پڑھے لکھے تھے مگر اُردو سے محبت بہت تھی۔ انھوں نے ایک دن کہا کہ میں لندن ہوکر آیا ہوں، وہاں بہت لوگ اُردو جانتے ہیں۔ برطانیہ کی ایئرلائنز میں اُردو میں ہدایات دی جاتی ہیں۔ لندن میں اُردو کے اخبار بھی چھپتے ہیں۔ پچھلے دنوں تلگو کی ایک کانفرنس میں گیا تھا، وہاں لکھا ہوا تھا ’تلگو ورلڈ کانفرنس‘۔ تلگو تو دوچار ضلعوں میں ہی بولی جاتی ہے جبکہ ہماری اُردو دُنیا بھر میں بولی جاتی ہے۔ کیا ہندوستان میں اُردو کی عالمی کانفرنس نہیں ہوسکتی؟ میں نے کہا کیوں نہیں ہوسکتی، بس جنون شرط ہے۔ بولے: مجھے تم بھی تھوڑے سے پاگل دِکھائی دیتے ہو، آؤمل کر کرتے ہیں۔ اس کے بعد عالمی اُردو کانفرنس رجسٹرڈ کرائی گئی۔ وہ اندراجی کے بہت قریب تھے، حالانکہ کانگریس حکومت بھی اُردو کی ترقی کے لیے کچھ زیادہ سنجیدہ کبھی نہیں رہی، لیکن صدیقی صاحب نے اندراجی کو عالمی اُردو کانفرنس کے لیے راضی کرلیا، کانفرنس کے اغراض و مقاصد کا انگریزی ترجمہ کرایا گیا، مجھ سے کہا کہ اسے غلط سلط ٹائپ کروائیے گا، وہی غلط کاغذ لے کر وہ اندراجی کے پاس پہنچے۔ انھوں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ صدیقی صاحب نے بتایا کہ عالمی اُردو کانفرنس کے ایمس اینڈ آبجیکٹیوز ہیں، میڈم کی عادت یہ تھی کہ وہ قلم لے کر کاغذات پڑھتی تھیں۔ انھوں نے وہ پورا ڈرافٹ پڑھ لیا اور جگہ جگہ اپنے ہاتھ سے کرکشن کردی۔ یہ ذہانت تھی صدیقی صاحب کی کہ اندراجی عالمی اُردو کانفرنس سے باضابطہ وابستہ ہوگئیں۔ اس کے بعد تنظیم نے جو کچھ کیا اس سے سب واقف ہیں۔ فاؤنڈر سکریٹری کی حیثیت سے میں نے دن رات کام کیا۔ پہلی عالمی اُردو کانفرنس 1987 میں ہوئی۔ دُنیا کی کوئی اہم اُردو شخصیت ایسی نہیں بچی جسے ہم نے دلّی نہ بلایا ہو۔ وہ کانفرنس دہلی کی تاریخ ہے۔ ’جنگ‘ کے ایڈیٹر، ’نوائے وقت‘ کے ایڈیٹر، بی بی سی کے لوگ، سویڈن کے اُردو شاعر و ادیب، امریکہ اور عرب ملکوں کے علاوہ چین، جاپان تک کے لوگ یہاں آئے۔ مجھے یاد ہے ایک صاحب شکل سے چینی لگتے تھے لیکن بتایا کہ وہ جاپانی ہیں اور ٹوکیو یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔ ایک محترمہ روس سے آئیں وہ بھی اُردو اسکالر تھیں۔ دوسری عالمی اُردو کانفرنس 1988 میں ہوئی، جس میں بیرونِ ممالک سے 160 مہمان آئے، اُن میں دُنیا بھر کے شاعروں و ادیبوں کے علاوہ موسیقارِ اعظم نوشاد، دلیپ کمار، منوج کمار، سنیل دت، طلعت محمود، ریشماں، ناہید اختر، اقبال بانو، محمد علی اور زیبا جیسی فلمی ہستیاں شامل تھیں۔ ناچیز کو یہ شرف حاصل ہے کہ اُسے ان عہد ساز ہستیوں سے ملنے، گفتگو کرنے اور ان کی خدمت کرنے کا موقع ملا۔ کیفی اعظمی، مجروح سلطانپوری، خمار بارہ بنکوی، احمد فراز، مظفر وارثی، علی سردار جعفری، افتخار عارف جیسے عہد ساز اصحاب سے مسلسل دس سال تک رابطے رہے۔ آج تک نہ اتنی بڑی اُردو کانفرنس ہوئی، نہ ایسی انجمن بنی۔

بہت سے لوگ آج بھی حسینہ کانپوری کے دیوانے ہیں۔ جب بھی پاپولر لٹریچر کی بات آتی ہے تو یہ نام ذہن میں ضرور گونجتا ہے۔ کچھ لوگوں کو تو یہ پتہ ہے کہ کون معشوق ہے اس پردۂ زنگاری میں۔ مگر بہتوں کو علم نہیں ہے کہ حسینہ کانپوری ایک فرضی نام ہے اور اس کے پیچھے ایک مردانہ ذہن کام کررہا ہے۔ سو اس تعلق سے ان سے یہ سوال پوچھنا ہی تھا کہ حسینہ کانپوری کے نام سے بھی آپ نے لکھا؟
تو انھوں نے اپنے ماضی کو کریدتے ہوئے یہ جواب مرحمت فرمایا کہ میرے ایک دوست تھے اطہر حسین راہی، جو یونین پریس میں لیتھو کی پلیٹیں جمانے کا کام کرتے تھے۔ بہت کم پڑھے لکھے لیکن ذہین آدمی تھے۔ اُردو بازار کی ایک گلی میں ہمارے دوست ناظر سعید کی بیٹھک تھی جہاں میں، ناظر سعید اور ڈاکٹر محمد فیروز دہلوی بیٹھا کرتے تھے۔ فیروز اور ناظر کا بچپنے کا ساتھ تھا۔ محمد فیروز نے بڑی محنت اور مشقت کی زندگی گزارتے ہوئے ایم اے کیا، پی ایچ ڈی کی اور ذاکر حسین کالج میں لیکچرر بنے۔ ہم دونوں نے رسالوں کے دفتروں میں ایک ساتھ کام کیا ہے، ہماری گفتگو میں اکثر راہی صاحب بھی شامل ہوجاتے تھے۔ ایک دن انھوں نے مجھ سے کہا کہ یار ہماری بھی کچھ مدد کرو، ہم بھی پبلشر بننا چاہتے ہیں، پھر انھوں نے خود ہی اپنا آئیڈیا پیش کیا کہ عصمت چغتائی اور واجدہ تبسم کے انداز میں چھوٹے چھوٹے ناول لکھ دیا کرو تو میرا دل کہتا ہے کہ کما کھاؤں گا۔ لہٰذا میں نے تفننِ طبع کے طور پر اُسی انداز کی ایک کہانی لکھ دی۔ وہ تقریباً سو صفحات پر مشتمل تھی۔ بڑی ہاٹ اور ولگر۔ شرارتاً لکھا اور ناشر نے مشورہ دیا کہ کسی عورت کے نام سے چھاپو لہٰذا طے پایا کہ مصنفہ کا نام ’حسینہ کانپوری‘ رکھ دیا جائے اور یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ یہ خاتون زمرۂ نشاط سے تعلق رکھتی ہے اُس کا پتہ روٹی والی گلی، مول گنج، کانپور لکھا گیا۔ جب وہ ناول چھپا تو ہاٹ کیک کی طرح فروخت ہوا۔ میں نے اس طرح کے تقریباً 80 ناول لکھے جن سے راہی صاحب مرحوم اچھے خاصے کاروباری بن گئے۔ مرحوم معاوضہ بھی معقول دیتے تھے۔ بعد میں میں نے اُن ناولوں کے حقوق ہندی کے ایک پبلشر کو بیچ دیے۔ ملک میں یہ ناول بہت مقبول ہوئے جن کی اساس واجدہ تبسم کی کہانیاں تھیں۔ یہ سلسلہ شاید آگے بھی جاری رہتا لیکن راہی صاحب ایمرجنسی میں ڈر گئے، ہم نے بھی توبہ کرلی۔ یہ میرا ایامِ جاہلیت کا ادب تھا جس میں شرارت اور ضرورت دونوں شامل تھیں اور ایک ردّعمل بھی کہ نئے لکھنے والوں کے لیے بڑے اداروں اور بڑے جریدوں میں کوئی جگہ نہیں تھی۔ میرے پہلے ناول پر پچاس روپے ملے تھے۔ اس کے بعد یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا، میں نے بھی وہی لکھا جو بکتا تھا۔ 1961کا واقعہ ہے میرے پہلے بچے کی سالگرہ تھی، اہلیہ نے کہا کہ رشتہ داروں کی دعوت کرنی ہے، میں اپنے پبلشر لالہ رتن لال کے پاس پہنچا، انھوں نے کہا کہ اس وقت تو کوئی کام نہیں ہے البتہ جنگ نامہ حنیف منظوم لکھوانا ہے۔ کوئی شاعر ہو تو لکھوا دو۔ میں نے عرض کیا کہ خاکسار حاضر ہے۔ موصوف شاعر بھی تھے، بولے مثنوی لکھنا ہنسی کھیل نہیں ہے، ہمیں بھی ’سحرالبیان‘ اور ’گلزارِ نسیم‘ ازبر تھیں، جھٹ سے تک بندی جڑ دی:
اگر چاہتے ہو کہ آگے بڑھے
رتن اینڈ کو کی کتابیں پڑھو
کام مل گیا۔ فضول سی ایک طویل مثنوی لکھ ڈالی۔ نریش کمار شاد کو دِکھائی، تھوڑی اصلاح اور بہت شاباشی ملی۔ ڈھائی سو روپے ملے۔ بچے کا جنم دن دھوم سے منایا گیا۔ دعوت میں عارف مارہروی، انیس مرزا اور اظہار اثر شامل تھے۔

ادب سے تعلق رکھنے والوں کو پتہ ہے کہ پاپولر لٹریچر کے ضمن میں ان کا کام بڑا اہم ہے مگر آج ان کا نام نہیں آتا۔ اس لیے اس تعلق سے جب یہ سوال کیا گیا کہ پاپولر لٹریچر کو آپ نے فروغ دیا؟ تو خاکساری سے بھرا ان کا جواب کچھ یوں تھا:
مجھے پاپولر لٹریچر میں کوئی مقام ملنا بھی نہیں چاہیے کیونکہ جو کچھ بھی لکھا ہندی میں لکھا۔ یہ ہم اُردو والوں کی مجبوری تھی، عارف مارہروی جو ہندی میں راج ونش کے نام سے مشہور ہوئے۔ ایک ساتھی بڑا اچھا نام تھا جمیل انجم۔ ان کا نام ہندی میں ہوا منوج۔ اظہار اثر جیسے بڑے قلم کار کو آنند کے نام سے لکھنا پڑا۔ان لوگوں کا ذکر ہونا چاہیے۔ اس عہد کے بڑے پاپولر ادیبوں کی خدمات کا اعتراف کیا جانا چاہیے جیسے خان محبوب طرزی، نسیم انہونوی، وحشی محمودآبادی، گلشن نندہ، دت بھارتی، قیسی رامپوری، کرشن گوپال عابد، انیس مرزا وغیرہ۔

ان کے بارے میں علم ہے کہ وہ کثیرالجہات شخصیت ہیں۔ مختلف میدانوں میں انھوں نے کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔ افسانہ بھی ان کا میدان رہا ہے۔ پھر بھی ان سے یہ سوال پوچھا گیا کہ افسانے کیوں نہیں لکھے؟
تو انھوں نے بہت ہی خوب صورت جواب دیا کہ اگر میں افسانے لکھتا تو ظاہر ہے کہ کرشن چندر یا سلام بن رزاق تو نہیں بن سکتا تھا۔ تو سوچا کہ کیوں نہ جیتے جاگتے کرداروں پر لکھوں جو اس عہد ناپرساں میں کام کررہے ہیں۔ اُردو ادب کے چراغ جن سے روشن ہیں۔ اب تک 300 سے زائد رفتگاں و قائماں پر لکھ چکا ہوں، اب بھی لکھ رہا ہوں۔ ویسے کچھ افسانے بھی لکھے جو اُس وقت کے رسالوں میں چھپا کرتے تھے۔ ’بیسویں صدی‘ میں بھی چھپا۔ ہندی میں تو بہت چھپا، ’اپنی آگ اپنا دامن‘ کے نام سے اردو میں افسانوں کاایک مجموعہ بھی چھپا ہے۔یہ ایک خوبصورت سی پاکٹ بک تھی جس میں دس بارہ افسانے تھے۔ اس راہ میں آگے نہ بڑھنے کی وجہ یہ تھی کہ اکثر رسالے معاوضہ نہیں دیتے تھے۔ مفت میں میں نے بہت کم لکھا ہے۔ مولانا عبدالوحید صدیقی مرحوم اس ناچیز پر بیحد مہربان تھے۔1969 میں ’ہما‘ کا غالب نمبر نکلا تو اس میں ’لو بھئی سنو داستان غالب کی‘ لکھا۔ 1973 میں ’ہما‘ کے یادگار اُردو نمبر کی کور اسٹوری ’اُردو کی کہانی اُردو کی زبانی‘ لکھی جس پر پروفیسر آل احمد سرور نے لکھا کہ سارے کاغذ سادے چھوڑ دیے جاتے اور صرف ایک یہی مضمون رہتا تو بھی اُردو نمبر کامیاب رہتا۔ مشہور پبلشنگ کمپنی دیہاتی پستک بھنڈار کے مالک تھے لالہ ٹھنڈی مل، چاؤڑی میں بڑ شاہ بولہ پر دُکان ہے، لالہ جی سے اچھی یاد اللہ تھی۔ ایک دن کہنے لگے ارے یار اُردو شاعری کا ایک اچھا سا کلیکشن ہندی لپی میں بنوادو۔ میں نے کہا کہ پیسے کتنے دوگے۔ وہ بولے دس روپے فرما یعنی سولہ صفحات ، شرط تھی کہ غالب سے لے کر اب تک کے نمائندہ شعرا کی غزلیں اُس میں شامل ہوں۔ میں نے اُن کی دُکان میں دیکھ لیا تھا کہ وہاں ہند پاکٹ بکس کی ڈھیروں کتابیں رکھی ہوئی ہیں۔ پرکاش پنڈت نے ساری اُردو شاعری کا انتخاب ہندی میں چھاپ رکھا تھا۔ میں نے الماری سے کتابیں نکالیں اور اُن کے اوراق پھاڑپھاڑ کر 200 سے زیادہ شاعروں کی غزلوں کا مجموعہ اُن کے سامنے رکھ دیا، وہ کتاب عرصے تک ’اُردو کی رنگین شاعری‘ کے نام سے بکتی رہی۔

انھوں نے تو کئی اخبارات میں نئے سلسلوں کی شروعات کی۔ ’راشٹریہ سہارا‘ سے بھی کئی سلسلوں کا آغاز ہوا۔ اب وہ ’ہمارا سماج‘ میں بہار کی اہم ادبی شخصیات کے حوالے سے ہر ہفتے پورے ایک صفحے کا مضمون تحریر کرتے ہیں۔ جبکہ ان کا تعلق نہ بہار سے ہے اور نہ ہی عظیم آبادپٹنہ سے ان کا کسی طرح کا رشتہ ہے۔ ایسے میں اس سرزمین کی تخلیقی عظمتوں کی عبارتیں لکھنے کے پیچھے کی وجہ جاننا بہت ضروری تھا۔ اس لیے یہ سوال کیا گیا کہ آپ نے دبستانِ عظیم آباد پر کیوں لکھنا شروع کیا؟
تو انھوں نے جو جواب دیا اسے سن کر آپ حیرت زدہ ہوجائیں گے۔ انھوں نے بغیر کسی خوف و خطر کے یہ جواب دیا کہ آج کی تاریخ میں یہ اعلان ہوجائے کہ دہلی کی یونیورسٹیوں، کالجوں، اشاعتی اداروں اور اخباروں سے بہار والوں کو نکال دیا جائے تو پوری دلی میں تالے لگ جائیں گے۔ کمپیوٹر آپریٹر سے لے کر ایڈیٹر، لیکچرر سے پروفیسر تک سبھی وہیں کے ہیں۔ دبستانِ عظیم آباد کی علمی، ادبی اور تخلیقی تاریخ اُردو کا گرانقدر سرمایہ ہے، اسی لیے میں بہار کی ادبی شخصیات پر لکھنا اپنا ادبی فریضہ تصور کرتا ہوں۔

مجھے کچھ اور بھی باتیں کرنی تھیں، کچھ اور بھی سوالات تھے مگر تھکن طاری ہوگئی تھی اس لیے گفتگو موقوف کرنی پڑی اور ان کے پاس بھی شاید وقت کم تھا کہ وہ نہایت معروف آدمی ہیں۔ ان کا ہر لمحہ نہایت قیمتی ہے۔
ان سے بات کرتے ہوئے بہت اچھا لگا۔ ورنہ اکثر دانش وروں سے بات کرتے ہوئے مجھے وحشت ہوتی ہے کہ وہ مصنوعی دانش وری کے خول سے باہر ہی نہیں نکلتے اور اکثر ان کے اندر کا آہنکار بولنے لگتا ہے۔ وہ ایسی شخصیت ہیں جنھوں نے بہت سے ذرّوں کو آفتاب بنایا مگر اس آفتاب کی کسی نے قدر نہیں کی۔ المیہ یہ ہے کہ ابھی تک ان کا نہ کسی اخبار میں انٹرویو چھپا اور نہ کوئی باقاعدہ کتاب مرتب کی گئی جس میں ان کی سوانحی اور تخلیقی زندگی کے تمام نقوش محفوظ ہوں اور نہ ہی انھیں کسی قابل ذکر اعزاز سے سرفراز کیا گیا ہے۔ اس شخص کو اردو دنیا فاروق ارگلی کے نام سے جانتی ہے۔ ان کا تعلق فتح پور یوپی کے ’ارگل‘ سے ہے جہاں آج بھی صرف ایک ہی ڈاکخانہ ہے۔
فاروق ارگلی کا لوح و قلم سے نہایت مضبوط رشتہ ہے، مختلف اخبارات اور رسائل سے وابستہ رہے۔ تقریباً ڈیڑھ سو ناول لکھے۔ ہندی اردو دونوں زبانوںمیں کثرت سے لکھا۔ ہر موضوع پر لکھا۔ رحمن نیر کے رسالے ’روبی‘ کے مدیر کی حیثیت سے ان کی شناخت مستحکم ہوئی جس کا دلیپ کمار نمبر بیحد مقبول ہوا اور بقول ڈاکٹر فیروز دہلوی ’’فاروق نے دلیپ کمارکو شہنشاہ جذبات کے نام سے مخاطب کیا اور یہیں سے دلیپ کمار کے نام کے ساتھ شہنشاہ جذبات لکھا جانے لگا۔‘‘
’روبی‘ کے علاوہ پندرہ روزہ ’تیزگام‘ کے ایڈیٹر بھی رہے۔ یہ پندرہ روزہ اخبار انھوں نے سریش کمار کے تعاون سے نکالا تھا، جو بابو جگ جیون رام کے فرزند تھے۔ فاروق ارگلی عالمی اردو کانفرنس کے بانی علی صدیقی کے ادبی مشیر بھی رہے اور ان کے اردو مورچہ میں اپنی صحافت کے جوہر بھی دکھاتے رہے۔ فاروق ارگلی نے شاعری کی تو ’’عبارت سر دیوار اور لوح آب رواں‘‘ جیسے مجموعے منظر عام پر آئے اور مضامین لکھے تو ’فخر ادب، فخر وطن اور فخر خواتین‘ جیسے سلسلے شروع ہوئے۔ کتابیں مرتب کیں تو اتنی کہ ان کی فہرست بہت طویل ہو جائے گی۔ فاروق ارگلی کی تعلیم بس واجبی سی ہے مگر انھوں نے اپنے مطالعے سے علوم و فنون کے بیشتر ذخیرے کو اپنے وجود میں اس طرح جذب کر لیا ہے کہ بات کسی بھی موضوع پر ہو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ ان کا اختصاص ہو۔ مطالعے کی وسعت نے ان کے قلم کو تازگی اور توانائی عطا کی ہے، اس کا ثبوت ان کی تحریریں ہیں۔ اتنی توانائیاں ایک شخص میں بہت کم دیکھی گئی ہیں۔ ان کی مرتب کردہ کتابوں میں جہان خسرو بھی ہے جو اس اعتبار سے اہم ہے کہ اس میںوہ تمام تحریریں شامل ہو گئی ہیں جس سے امیر خسرو کی تفہیم میں کوئی تشنگی نہیں رہ جاتی۔ فاروق ارگلی نے ’جہان خسرو‘ کے ذریعے خسرویات میں اضافہ ہی نہیں کیا بلکہ ایک طرح سے منجمد اور ذہنی و فکری طور پر غیر متحرک دور میں امیر خسرو کی بازیافت کا ایک اہم فریضہ بھی انجام دیا ہے۔
فاروق ارگلی کی دوسری اہم کتاب ہے ’اردو ہے جن کا نام ‘ جو فخر ادب کے تحت روزنامہ راشٹریہ سہارا نئی دہلی میں شائع ہوتی رہی۔ یہ پہلا سلسلہ تھا جو زندہ اور معاصر ادبی شخصیات کے احوال و آثار پر محیط تھا۔
ہم عصر اردو ادب کے متنوع منظر نامے کی تفہیم میں یہ کتاب معاون ثابت ہو سکتی ہے کہ مربوط اور مبسوط طور پر کوئی ایسی کتاب نہیں لکھی گئی جس نے ہمارے عہد کے اساطین کے آثار کی تفہیم کا حق ادا کیا گیا ہو جن 74 اشخاص کے حوالے سے یہ کتاب تشکیل دی گئی ہے ان میں بیشتر اپنے احساس و اظہار کے باب میں انفرادیت کے حامل ہیں۔ معاصر تخلیقی و تنقیدی سیناریو کی تفہیم کے باب میں ایک روشن حوالے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ تذکراتی نوعیت کی کتاب ہوتی تو صرف ارباب تحقیق ہی کے کام آتی یا سوانحی لغت اور قاموس تیار کرنے والوں کے لیے مفید ہوتی مگر یہ تنقیدی نوعیت کا کام ہے اس میں تذکرے جیسی تنقید نہیں ہے بلکہ تخلیق کار کی روح اور ضمیر تک رسائی ہے۔ تخلیق کاروں کی داخلی حسیات اور باطنی کیفیات کے تلاطم کو محسوس کرنے کی کوشش ہے۔ تخلیقی مرکزیت کی جستجو نے کتاب کی معنویت کو منور کر دیا ہے۔ یہ اوروں سے الگ ہے کہ اس میں اپنا ذہن، اپنی لفظیات، اپنی فکر اور اپنی آنکھیں روشن ہیں۔ قاری کی بدلتی ترجیحات کے ماحول میں ادبی تاریخ نویسی کا یہ نیا سلسلہ ہے۔ کتاب میں شامل چراغوں سے ادب کی تیرگی میں شاید کچھ کمی واقع ہو کہ یہ چراغ بھی پرانے چراغوں کا تسلسل ہیں، ان کی روشنی سے بھی ادب کی تابناکی میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ تسلیم کیا جانا چاہیے کہ اگر اعتراف کی روایت ہی ختم ہو گئی تو ادب کے کارزیاں کا سلسلہ ہی رک جائے گا۔ ان کے علاوہ فاروق ارگلی نے بہت سی کتابیں مرتب کی ہیں۔ اختصار میں انھیں قید ہی نہیں کیا جاسکتا۔ سچ یہ ہے کہ:
سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لیے

سوانحی کوائف
نام : کنور محمد فاروق خاں والد : کنور عبدالہادی خاں
تاریخ پیدائش : 3جنوری 1940 مولد : موضع مسی، پوسٹ کھجوہا، ضلع فتح پور، یوپی
تعلیم : خانگی، ادیب ماہر
پتہ : 25گنیش پارک، رشید مارکیٹ، دہلی-110051
موبائل: 09212166170، ای میل: argali70@gmail.com
مطبوعات
l عبارت سرِ دیوار (شعری مجموعہ) l لوحِ آبِ رواں (شعری مجموعہ) l اُردو ہے جن کا نام (اوّل، دوم )
l دیوارِ قہقہہ l فخرِ وطن l اُردو ہندوستان
مرتبہ ادبی مطبوعات
l انتخاب کلیاتِ میرؔ l انتخاب کلیاتِ سوداؔ l انتخاب کلام نظیرؔ اکبر آبادی
l انتخاب کلیاتِ احمد ندیمؔ قاسمی l انتخاب کلیاتِ داغؔ l کلیاتِ ریاض خیرآبادی
l آرائش محفل (حیدر بخش حیدری) l آوازِ انقلاب l آئینہ ابوالکلام آزاد
l جہانِ خسروؔ l دس عظیم شاعر l دس لافانی شاعر
l دس مقبول شاعر l دس محبوب شاعر l دس نامور پاکستانی شاعر
l دس نامور پاکستانی شاعرات l دس نامور ہندوستانی شاعرات l دیوانِ دردؔ
l ریختی l سدا بہار مزاحیہ تحریریں l شاعرِ ہند فراق گورکھپوری
l کاروانِ افسانہ l کاروانِ غزل l کلام طنز و مزاح
l کلام قتیل شفائی l کلام مظفر وارثی l کلیات احمد فرازؔ
l کلامِ انیسؔ l کلامِ دبیرؔ l کلامِ حفیظ جالندھری
l کلیات منیرؔ نیازی l کلیاتِ امیرؔ قزلباش l کلیاتِ بیکل اُتساہی
l کلیاتِ مجازؔ l کلیاتِ مخدوم محی الدین l کلیاتِ معین احسن جذبی
l کلیاتِ مومنؔ l مجاہد اعظم: مولانا محمد علی جوہرؔ l داستانِ اٹھارہ سو ستاون
l داستانِ اُنیس سو سینتالیس l وارداتِ غالب l کلیاتِ بشیر بدرؔ
l کلیاتِ خمار بارہ بنکوی l کلیاتِ کلیم عاجزؔ l کلیاتِ جون ایلیا
l مدھوشالہ بچن (اُردو) l سرسیّد نمبر (جہانِ کتب) l خواجہ حسن نظامی نمبر (جہانِ کتب)
l خواجہ حسن ثانی نظامی: شخصیت و کارنامے (دو جلدوں میں) l آئینہ ابوالکلام آزاد

n
Haqqani Al-Qasmi
Mob.: 9891726444
Email.: haqqanialqasmi@gmail.com

نوٹ:۔ این سی پی یو ایل نئی دہلی کی جانب سے شائع ہونے والا اردو رسالہ ــ’’اردو دنیا ــ ‘‘ سے ماخوذ۔ادارہ ــ’’اردو دنیا ــ ‘‘ کا بے حد ممنون ہے۔

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook