Home / خبریں / اردو کے شبد بہت کومل لگتے ہیں: سنگوک ہونگ

اردو کے شبد بہت کومل لگتے ہیں: سنگوک ہونگ

184789_104997936245513_7227443_n
٭حقانی القاسمی

محترمہ سنگوک ہونگ کا تعلق ہندی-اردو زبان ادب اور تاریخ کی تدریس سے ہے۔ انھیں ہندی-اردو کی تدریس میں وسیع تر تجربہ ہے۔ لسانیات ان کا خاص میدان ہے۔ SIPHUR (Summer Internsive Program for Hindi and Urdu) اور HUTEP (Hindi Urdu Tearcher Education Program) کی ڈائرکٹر بھی رہ چکی ہیں۔ غیر ملکی زبانوں کی تعلیم و تدریس کے مختلف اداروں سے ان کی وابستگی رہی ہے۔ انھوں نے دہلی یونیورسٹی سے ہندی ادب میں ایم اے اور Wisconsin University Madison سے جنوب ایشیائی مطالعات میں بھی ایم اے کیا ہے اور وِسکانسن یونیورسٹی سے ہی لینگویجز اینڈ کلچر آف ایشیا میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ ان کی تصنیفات میں Everyday Hindi، کوریا کی لوک کتھائیں، The Role of Heritage Students in Incorporating Culture into Language Teachingاہم ہیں۔ انھیں مختلف ایوارڈز سے بھی سرفراز کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی آف مینوسوٹا کے کالج آف لبرل آرٹ سے ان کی وابستگی ہے۔ ان سے درج ذیل پتے پر رابطہ کیا جاسکتا ہے:
Sungok Hong, Ph.D
Asian Languages & Literatures, College of Liberal Arts
220 Folwell Hall, 9 Pleasant Street S.E, Minneapolis, MN 55455
Email.: shong@umn.edu

قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم کے چیمبر میں جیسے ہی میں داخل ہوا ایک خاتون اردو میں محوِگفتگو تھیں۔ بغل کی نشست پر شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق صدر اور معروف نقاد پروفیسر قاضی عبیدالرحمن ہاشمی بھی ہمہ تن گوش تھے۔ وہ خاتون جس لہجے میں بات کررہی تھیں وہ کچھ اجنبی اور نامانوس سا لگ رہا تھا مگر سماعتوں میں رس گھول رہا تھا۔ میں بہت دیر تک ان کی گفتگو سے محظوظ ہوتا رہا۔ مجھے محسوس ہوا کہ وہ شعوری طور پر اردو اور ہندی الفاظ کے استعمال پر زور دے رہی تھیں۔ وہ ’ٹیچر‘ کے بجائے ’معلم‘ اور ’رائٹر‘ کی جگہ ’لیکھک‘ بول رہی تھیں۔ مجھے ان کا یہ اندازبہت پسند آیا کہ وہ اردو و ہندی میں کسی اور زبان کے تداخل سے اجتناب کررہی تھیں۔ محترمہ بہت دیر تک اردو کے مسائل، موضوعات اور ہندی-اردو کے رشتے، اردو-ہندی کے تخلیق کاروں کے حوالے سے گفتگو کرتی رہیں۔ان کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ ان کا دائرہ صرف اردو اور ہندی کی تدریس تک محدود نہیں ہے بلکہ اردو اور ہندی کے عصری، ادبی منظرنامے سے بھی تھوڑی بہت آگہی ہے۔ انھیں پریم چند، قرۃ العین حیدر، مہادیوی ورما، اگیے، نرالا، راجندر سنگھ بیدی، منٹو، کرشن چندر کے بارے میں بھی معلومات تھی۔
جب وہ گفتگو سے فارغ ہوئیں تو ان کے بارے میں مزید جاننے کا تجسس ہوا کہ یہ خاتون جو نامانوس اور اجنبی لہجے میں اردو بول رہی تھیں ان کا تعلق کہاں سے ہے؟ یہ چہرے مہرے سے ہندوستان یا پاکستان کی نہیں لگ رہی تھیں۔ پہلی نظر میں مجھے محسوس ہوا کہ ان کا تعلق یقینا چین سے ہوگا۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ نارتھ کوریا کی رہنے والی ہیں اور انھوں نے دہلی یونیورسٹی سے ہندی ایڈوانس کا کورس کیا ہے، ہندی میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی ہے اور لسانیات یعنی بھاشا وگیان میں پی ایچ ڈی بھی ہیں۔ انھوں نے اردو میں سرٹی فکیٹ کورس بھی کیا ہے اور اب یونیورسٹی آف مینو سوٹا کے ایشین لنگویجز اور لٹریچرز ڈپارٹمنٹ میں ہندی اور اردو پڑھاتی ہیں۔ مجھے تھوڑا سا تعجب ہوا کہ یہ خاتون جو بہت ہی اچھی طرح اردو اور ہندی میں کمیونیکیٹ کررہی تھیں۔ اردو نہ تو ان کی مادری زبان ہے اور نہ ہی ان کے کلچر سے اِس زبان کا کوئی گہرا رشتہ ہے۔ اردو ان کی اکتسابی اور ترسیلی زبان ہے۔ انھوں نے بڑی محنت سے یہ دونوں جنوبی ایشیائی زبانیں سیکھی ہیں اور اسی لیے ان دونوں زبانوں سے انھیں گہرا لگاؤ بھی ہے۔ انھیں انگریزی، چینی اور دیگر زبانوں پر عبور ہے۔ لیکن اردو اور ہندی جیسی زبانوں سے ان کا اب صرف تدریسی رشتہ نہیں ہے بلکہ عشق اور جنون کا رشتہ قائم ہوچکا ہے۔
محترمہ سنگوک ہونگ سے جب امین اللہ صاحب کی موجودگی میں انٹرویو کا سلسلہ شروع ہوا تو انھوں نے اردو و ہندی کے حوالے سے بہت سی ایسی باتیں کہیں جسے سن کر مجھے تھوڑی سی حیرت بھی ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ اردو سے مجھے بہت لگاؤ ہے۔ جبکہ ہندی سے میرا بنیادی تعلق ہے۔ دونوں زبانوں کے درمیان میں توازن رکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔ دونوں زبانوں میں امتیاز کے بجائے امتزاج کی ضرورت زیادہ ہے۔ اردو اور ہندی کے درمیان پرانے زمانے میں جو ڈائیورجینس Divergence تھا وہ اب رفتہ رفتہ الیکٹرانک میڈیا کی وجہ سے کنورجینسConvergence میں بدلتا جارہا ہے۔ یہ دونوں زبانوں کے تعلق سے خوش آئند بات ہے۔ ایک ہی لسانی خاندان سے تعلق رکھنے والی ہندی اور اردو دونوں زبانوں کی گرامر، صرف و نحواور ساخت میں جو مماثلت ہے اس کی وجہ سے مجھے یہ دونوں زبانیں ایک جیسی لگتی ہیں۔ ویسے بھی یہ زبان پہلے ہندوی اور ہندی کہلاتی تھی پھر ریختہ کہلانے لگی جس کا مطلب گری پڑی شکستہ چیزیں ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اردو رسم الخط بہت مشکل ہے۔ اس کے مقابلے میں ہندی رسم الخط زیادہ آسان ہے۔ انھوں نے دورانِ گفتگو یہ بھی کہا کہ امریکہ میں اردو کا مستقبل زیادہ بہتر نہیں ہے۔ وہاں اردو مررہی ہے۔ میں ان کی اس رائے سے اتفاق نہ کرسکا کیونکہ میرے سامنے امریکہ میں اردو کی صورتِ حال کا پورا منظرنامہ تھا۔ کئی مضامین میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ امریکہ میں اردو کی صورت حال بہتر ہے۔ تارکینِ وطن کے علاوہ وہاں کے مقامی افراد بھی اردو زبان و ادب سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور نائن اِلیون 9/11 کے بعد تو اردو اور مشرق وسطیٰ کی زبانوں کی ضرورت کا احساس وہاں کی حکومت اور ایجنسیوں کو بھی ہے۔ فیڈرل ایجنسیز میں مشرقِ وسطیٰ اور جنوب ایشیائی زبانوں کے جاننے والوں اور ترجمہ کرنے والوں کی ضرورت بڑھی ہے۔ اس تناظر میں مجھے یہ بات بڑی عجیب سی لگی کہ دہشت گردی سے جہاں انسانی جانوں کا زیاں ہورہا ہے وہیں زبانوں کو نئی زندگی مل رہی ہے۔ جان اور زبان کی موت و حیات کی یہ منطق میری فہم سے بالا تر ہے۔ جان سے زبان زیادہ قیمتی نہیں ہوسکتی۔ اس پر بنی نوع انسانی کا ایمان ہے۔ زبانیں مرتی رہی ہیں، مرتی رہیں گی مگر انسانی جاں کا زیاں؟ یہ کائناتِ انسانی کا بڑا مسئلہ ہے۔ زبان اور انسانی جان کے تحفظ کے حوالے سے ہمیں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
محترمہ سنگوک ہونگ نے میری کچھ باتوں سے اتفاق کیا کہ فیڈرل ایجنسیوں یعنی سی آئی اے اور ایف بی آئی میں اردو تو نہیں عربی والوں کی زیادہ ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ ان کا اصرار اس بات پر بھی تھا کہ صرف امریکہ نہیں ہندوستان میں بھی اردو مرتی جارہی ہے اسے زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہاں کے مسلمان بچے جو وہاں تعلیم حاصل کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہمارے اسکولوں میں اردو نہیں پڑھائی جاتی، اسی لیے ہم ہندی پڑھنے پر مجبور ہیں اور یہاں آکر اردو سیکھ رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی یونیورسٹی میں اردو کی تعلیم اور تدریس کے حوالے سے بھی بہت اچھی گفتگو کی۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے یہاں بنیادی سطح کی اردو اور ہندی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کا مقصدان طلبا کو مختلف قوموں کی تاریخ، طرزِ حیات اور تہذیبوں سے آشنا کرنا ہے، خاص طور پر ایشیائی زبانوں کی تعلیم و تدریس کا مقصد یہ ہے کہ وہ جنوبی ایشیا کے سماجی و ثقافتی پہلوؤں کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے اسکولو ں میں ہندی اور اردو پڑھنے والوں میں سے بیشترکا تعلق ہندوستان یا پاکستان سے ہے۔ پاکستانی بچے تو اردو پڑھتے ہیں لیکن ہندوستان کے مسلمان بچے ہندی ہی کو ترجیح دیتے ہیں اور امریکہ کے مقامی بچے بھی ہندی میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ان لوگوں میں ایک طرح کا لسانی تعصب بھی ہے جسے ہم ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ لوگ اردو کو مسلم تشخص سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔اس دوران انھوں نے ایک بات بہت ہی اچھی کہی کہ تدریس کے دوران مجھے تجربہ ہوا کہ زیادہ تر بچے تصنع زدہ، پرتکلف زبان کے بجائے سادہ اور آسان زبان استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ میں نے ہندی اور اردو کے بہت سے بچوں سے پوچھا کہ تمھیں پُستک اور کتاب میں کون سا لفظ بہتر لگتا ہے۔ تو زیادہ تر بچوں نے ’کتاب‘ کو ترجیح دی۔ اسی طرح ’دھنیہ واد‘ کے بجائے ’شکریہ‘ کہنا پسند کرتے ہیں۔ ’پرسنّ‘ کے بجائے ’خوشی‘ بولنا زیادہ اچھا لگتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہندی میں زیادہ تر لوگ اردو کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ عام لوگوں کی زبان اردو اور ہندی کی سرحدوں کو توڑتی ہے۔ سنسکرت زدہ شُدھ ہندی بولنا زیادہ تر لوگو ںکو پسند نہیں ہے۔ محترمہ نے یہ بھی بتایا کہ اردو کے شبد مجھے بہت کومل لگتے ہیں۔ اردو میں بڑی شیرینی اور مٹھاس ہے۔ اسی لیے میں اردو کے زیادہ الفاظ استعمال کرتی ہوں۔ اس میں ایک طرح کی داخلی موسیقیت کا احساس ہوتا ہے۔ انسانی طرزِ حیات کے آہنگ سے یہ زبان زیادہ قریب بھی لگتی ہے۔محترمہ نے یہ بھی بتایا کہ ان کی یونیورسٹی میں غیرملکی فارن لینگویج کے طور پر اردو اور ہندی سکھائی جاتی ہے اور یونیورسٹی ضابطے کے مطابق بچو ںکو دو سال کی ودیشی بھاشا سیکھنا پڑتی ہے اس میں بچوں کو حروفِ تہجی کے علاوہ روزمرہ کے الفاظ اور محاورے بھی سکھائے جاتے ہیں۔ Everyday Urdu, Everday Hindi جیسی کتابیں نصاب میں شامل ہیں اور ان کے لیے الگ سے ایک نصاب تیار کیا گیا ہے تاکہ ہندی اور اردو کی بنیادوں سے واقف ہوسکیں۔ ہمارے یہاں ابتدائی اردو -ہندی تدریس کا بھی انتظام ہے اور ایڈوانس اردو-ہندی کا کورس بھی ہے اور ہم Conversational ہندی-اردو بھی سکھاتے ہیں تاکہ بچے اردو اور ہندی میں اپنے جذبات، خیالات کا اظہار کرسکیں۔ اردو اور ہندی پڑھنے والے بچوں کا تعلق زیادہ تر سول انجینئرنگ ، اربن اسٹڈیز، گلوبل اسٹڈیز، سائیکولوجی اورپوسٹ سیکنڈری انرولمنٹس آپشنس (PSEO) سے ہے۔ اسی لیے انہی کی سطح اور ذوق کے مطابق اردو اور ہندی تدریس کا انتظام ہے۔ کچھ لوگ ہندی-اردو رسم الخط کو سیکھنا چاہتے ہیں اور کچھ لوگ صرف بولنے کی حد تک اس زبان سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ ہماری یونیورسٹی میں ان بچوں کی تعلیم اور تدریس کا اچھا انتظام ہے۔ محترمہ سنگوک ہونگ نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ میں پہلے اردو سیکھنے والوں کو پاکستان بھیجا جاتا تھا مگر اب اردو سیکھنے والے بچے لکھنؤ آتے ہیں اور ہندی کے لیے انھوں نے راجستھان کا انتخاب کیا ہے۔ جو بچے اردو یا ہندی میں کچھ اور آگے بڑھنا چاہتے ہیں انھیں ہندوستان بھیجا جاتا ہے تاکہ اس زبان سے متعلق جتنا کچھ مواد یا سرمایہ ہے اس سے وہ اچھی طرح واقف ہوسکیں۔ محترمہ سنگوک ہونگ کو صرف فکشن نہیں بلکہ شاعری سے بھی دلچسپی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ شاعروں میں غالب، سودا اور درد بہت پسند ہیں۔ فیض احمد فیض سے بھی گہرا شغف ہے۔
محترمہ سے گفتگو کرکے اندازہ ہوا کہ اردو کا دائرہ صرف برصغیر یا ایشیا تک محدود نہیں ہے بلکہ امریکہ اور یورپی ممالک میں بھی اردو کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ یہ ایسی زبان ہے جو نامانوس اور اجنبی علاقوں میں بھی اپنی جڑیں مضبوط کرلیتی ہے اور اتنی شیریں ہے کہ جو بھی اس زبان کے قریب آتا ہے وہ اس زبان کی زلفوں کا اسیر ہوجاتا ہے۔ امریکہ-برطانیہ میں کئی ایسے انگریز ہیں جنھیں انگریزی زبان و ادب پر مکمل عبور ہے لیکن وہ بھی اردو کو اپنی شناخت کا حوالہ یا پہچان کا عنوان بنانا چاہتے ہیں، یہ اردو کے لیے بہت اعزاز کی بات ہے۔
خوشی کی بات یہ بھی ہے کہ وہی ’ریختہ‘ جو گری پڑی اور شکستہ چیزوں کے معنی میں استعمال ہوتا تھا، اب عالمی سطح پر رفعت کا ایک نشان بن چکا ہے اور اردو زبان جسے پروفیسر گوپی چند نارنگ نے ’زبانوں کا تاج محل‘ کہا ہے اسے اب پوری دنیا رشک کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔
{…}

Haqqani Al-Qasmi C/o Mr. Abid Anwar
D-64, Flat No. 10, Abul Fazal Enclave
Jamia Nagar, New Delhi – 110025
Cell.: 9891726444
Email.: haqqanialqasmi@gmail.com

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook