Home / خبریں / اساطیر، کتھا، کہانی اور سر قاضی عابد

اساطیر، کتھا، کہانی اور سر قاضی عابد


تحریر :رافیعہ سرفراز

سر قاضی عابد کی کتاب” اساطیر،کتھا،کہانی” پر جر أـت کرتے ہوئے چند حرف اپنی محدود کتاب فہمی کی صلاحیت کے ساتھ پیش ہیں ۔کتاب کے دیباچہ ،ماقبل جدیدیت سے مابعد جدیدیت ، کے عنوان سے ہے جس میں وہ اپنے پی ایچ ڈی کے لیے ،تنقید کی آزادی اور ذہنی کشادگی کی خاطر، اُردو افسانے میں اساطیری عناصر کا انتخاب کرتے ہیں۔دیباچے میں ترقی پسندوں کی رجعت پسندی کا تذکرہ بھی جہاں انھیں ترقی پسند ہوتے ہوئے انتظار حسین کے ذکر پہ ملامت کا سامنا پڑتا ہے ان واقعات سے وہ وہ ترقی پسندی کے نسبتاً جامع مفہوم کی طرف بڑھتے ہوئے کہتے ہیں۔ ترقی پسند کا مطلب زندگی سے بھرا ہونا ہے کشادہ ذہن اور کشادہ دل ہوتاہے۔
کتاب کا پہلا باب انڈالوجی)(ہندوستانیات )پہ ہے جو بنیادی طور پر استشراق کی ایک شاخ ہے ۔اس کی ابتدا مغربی اور مسلمان دانشوروں نے کی، قدیم تہذیبوں کے مطالعے سے نئے گوشے وا ہوئے اور ہر علاقے کے علوم کے لیے اصطلاحات وضع ہوئیں۔ انڈالوجی کا آغاز سیاحوں کے اسفار سے ہوا۔ جس کے محرکات میں دولت کی تلاش اور رومانی دنیا کے متعلق تجسس بھی تھا اس موضوع پر اب دنیا بھر میں کام ہو رہا ہے، اس موضوع پہ زیادہ تر رشید ملک اور ڈاکٹر اطہر عباس کے حوالوں سے اقتباس دیئے گئے ہیں ۔انڈالوجی کے ماہرین کی فہرست اور ان کے کاموں کا مختصر جائزہ بھی ان صفحات کا حصہ ہے، آریائیت اور ویدانیت انڈالوجی کے بنیادی ستون ہیں اور اِس پورے علم کی بنیاد انھی ویدوں پہ رکھی گئی ہے، اساطیر اور انڈالوجی کا تذکرہ ان اس باب میں ساتھ ساتھ چلتا ہےاس حوالے سے سر قاضی عابد لکھتے ہیں، اساطیر پر تحقیق کرنے والوں اور اس علم کے سنجیدہ کار گزاروں نے اس بارے مختلف نقطہءنظر اپنائے ہیں ۔کچھ کا خیال ہے یہ مذہب ہیں، فلسفہ ہیں، سائنس ہیں، تاریخ ہیں، ادب عالیہ ہیں، معاشرے کا اجتماعی شعور ہیں ۔
لیکن یہ سب اپنے اپنے انداز میں اساطیر کے غیر معمولی خزانے کو دیکھنے اور سمجھنے کا رویہ رکھتے ہیں ۔انڈالوجی کو اساطیر کے سنجیدہ مطالعے کے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا رشید ملک اساطیر کو انسانی سرشت میں بپیوست قرار دیتے ہیں ۔قاضی عابد کہتے ہیں آریائیت کے مسئلے کو سمجھنا برصغیر کے مزاج کی تفہیم کے لیے لازم ہے۔اِس باب میں آریائیت کے فسانے ہونے پہ بھی رشید ملک کے حوالے سے ایک اقتباس موجود ہے۔ اس بحث میں کئی سوال بھی اُٹھائے گئے ہیں، مثلاً احساسِ تفاخر، فضیلت و برتری کا تاریخ انسانی میں کردار، Deistتحریک کے اُٹھائے گئے سوالات، والٹئر کا یہ دعویٰ کہ تمام علم ہندوستانیوں سے لیا گیا ،یہ ایک نئے آدم اور نئے مخرج کی تلاش تھی۔
اس چپٹر کا یہ طویل اقتباس ہے جو اکثر مباحث کا احاطہ کر رہا ہے۔اس موضوع پہ چونکہ پہلا باقاعدہ کام رشید ملک کا ہے جس کے لیے فنون نے اپنے صفحات وقف کیئے اس لیے زیادہ حوالے بھی ان کے ہیں ۔ اس بحث کو سمیٹتے ہوئے سر قاضی عابد کہتے ہیں کہ یہ سلسلہ ایک ادبی مناقشے کی پیداوار ہے لیکن یہ اِس امر کی گواہی بھی دیتا ہے کہ ادبی چشمکیں کسی بڑے ادبی کام کا پیش خیمہ بھی بن جاتی ہیں ۔دوسرے باب میں ، اُردو کے پہلے افسانے کے ذکر میں یہ اہم موضوع زہرِ بحث لایا گیا ہے کہ افسانہ ایک درآمدی صنف ہے حالانکہ ہم اپنی سہل انگاری کے سبب ایسا سمجھ رہے ہیں ۔سر قاضی اِسے ادھوری صداقت قرار دیتے ہیں۔
پریم چند ،سجاد حیدر یلدرم، راشد الخیری کے افسانوں اوران پہ ڈاکٹر سلیم اختر اور شمس الرحمان فاروقی کی آرا کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے بحث مغربی اساطیر تہزیبی منطقے کی اسطورہ کی طرف موڑ دی گئی ہے یہ طویل مبحث اُردو افسانہ، اساطیر کا رشتہ اور تال میل لی چند صورتیں ،کے بعد غالب کے ایک شعر کے اساطیری پس منظر پر بحث سمٹتی بکھرتی کئی پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے آگے بڑھتی ہے۔سر قاضی عابد کہتے ہیں بشری علوم و نفسیات کے ماہرین اس پہ ایک ہی رائے رکھتے ہیں کہ داستانیں کسی ایک تہذیب کے پروردہ ہونے بجائے تمام تہذیبوں کا مشترکہ ذہنی ورثہ ہیں ۔
غالب کے شعر،
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہوگئیں
خاک میں کیا صورتیں ہونگیں کہ پنہاں ہوگئیں کی تشریح کے ضمن میں حالی، یوسف حسین خان، یوسف سلیم چشتی، مولانا حلام رسول مہر اور شمس الرحمان فاروقی کی آرا اِس شعر کی داستانی اہمیت کو اور پھیلا رہی ہے۔شمس الرحمان فاروقی کی یہ رائے کہ یہ شعر موت و زیست کے سائیکل کا اِستعارہ ہے زیادہ اہم ہے ۔ اساطیر کی تلاش و دریافت کا یہ سفر فراق کی رباعیات کی اساطیری جہات اور اُردو میں اساطیر شناسی کی روایت اور ڈاکٹر عرش صدیقی کے اساطیر سے شغف سے ہوتا ہوا ،کتھا، کہانی میں منٹو کے افسانوں کےبذکر تک جا پہنچتا ہے ۔منٹو اس سماج کا سرجن رہا ہے اس کا ہر افسانہ ہماری عبائیں نوچتا رہا ہے ۔مابعد جدیدیت اور سطر سطرناور حرف حرف میں بکھری داستانوں کا مطالعہ تو ممکن ہے لیکن تبصرہ شاید ایک اور کتاب کا متقاضی ہو جاتا یوں بہت سے صفحات کے مطالعہ پر اکتفا کرتی میں آگے بڑھتی رہی عورت بطور بیانیہ: مرد کی زبان سے، ایک اہم مبحث ہے یہ بحث انور نسیم کی کہانی،، دھرتی اور آکاش،، کے جائزے پہ اُٹھائٰی گئی ہے کہانی کا مرکزی کردار محمودہ ہے جو اس سماج کے تعصبات کا ہر لمحہ شکار رہتی ہے۔محمودہ کہانی عقلی و جذباتی سطح پر سفر کرتی آگے بڑھتی ہے۔اور اس کا مرکزی کردار محمودہ شوخ و چنچل جس نے یاسین کے گھر جنم لیا ڈسپنسر کی بیوی بنیشوہر کے نشے کی وجہ سے رُسوا ہوئی مردوں کے معاشرے میں مردوں کے ہاتھوں رسوا ہوئی اور رزقِ خاک بن گئی المیہ یہ کہ محمودہ کی کہانی بھی مردوں نے لکھی۔
بہرحال یہ مطالعہ نسائی رد تشکیل کی دعوت ضرور ہے۔ کتاب کے آخر میں ،پرندے کی فریاد ایک ردِ نوآبادیاتی ،پڑھت کے عنوان ایک اہم بحث ہے ۔پرندے کی فریاد کے عنوان سے یہ نظم بانگِ درا میں شامل ہے۔ اِس نظم کو عام طور پر بچوں کے لیے سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس نظم کا محور پرندہ ایک علامتی تشکیل ہے ۔اس نظم کے مطالعہ متن کو کھلا اور لا اطراف رکھ کر کیا جائے اور نظم کے متن میں موجود مکرِ شاعرانہ کو آگے پیچھے کہیں سے کھول کر قرءت کی جائے تو کئی جہات سامنے آتی ہیں،
گانا اِسے سمجھ کر خوش ہوں نہ سننے والے
دکھے ہوئے دلوں کی فریاد یہ صدا ہے
ان سطروں کو پہلے پڑھنے سے جہاں فن پارے کی نامیاتی تشکیل سمجھ آتی ہے وہیں یہ سطریں اس نظم کی ردِ تشکیل میں یا قرارِ معنی کے رد میں ہماری معاونت کرتی ہیں ۔
اسی طرح نظم کی اولیں سطور،
آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانہ
اس میں واحد متکلم کوئی ایک فرد ہے جو اس غلام معاشرے کا حصہ ہے ۔ماضی کو یاد کرتے ہوئے انسان رومانوی ہوتا ہے اور رومانویت بہرحال بغاوت کو جنم دیتی ہے۔لیکن اقبال کی زندگی میں بغاوت والا موڑ نہیں جس کا اظہار یہ شعر ہے ۔
آزاد مجھ کو کردے اوقید کرنے والے
میں بے زباں ہوں قیدی تو چھوڑ کر دعا لے
صفحہ 225،226ان سطروں میں جہاں اپنی بے نسی کا اِدراک ہے وہیں پر قید کرنے والے کی طاقت کا اندازہ بھی موجود ہے اور آزادی کے لیے کسی منظم جدو جہد کے نہ کرنے کا اِدراک بھی ہے۔
اقبال کی اس نظم کی کئی تہوں، پرتوں کو کھولتے ہوئے جب سر قاضی اس بحث کو سمیٹتے ہیں تو سب ذمہ داری قاری پر ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس نظم میں ملفوف تجربے کا بیان پڑھت پہ منحصر ہے ۔
اگر آپ بچے کی طرح سادہ انداز میں اسے پڑھتے ہیں تو یہ بڑی عمر کے آدمی کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی جو اب بچہ نہیں رہا اور اگر آپ اِس نظم کے مکرِ شاعرانہ کے پسِ پشت نو آبادیاتی تجربے کو چھو لیتے ہیں تو یہ نظم اپنے علامتی پیرائے میں اپنے مفہوم کی تہوں کو آپ پر کھولتی چلی جائے گی ۔۔
یہ کتاب ،اساطیر، کتھا، کہانی اور مابعد تناظر،
بیکن بک ہاوس نے شائع کی ہے
بہترین سرورق مناسب کاغذ و قیمت(380 روپیے) کے ساتھ ہر اچھے بک سٹور پر دستیاب ہے ۔
**************
تحریر:رافیعہ سرفراز
ایم اے( اردو )بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان۔

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook