Home / خبریں / اسمٰعیل میرٹھی کی غزل گوئی کا مطالعہ :(1844-1917)

اسمٰعیل میرٹھی کی غزل گوئی کا مطالعہ :(1844-1917)

٭صالحہ صدیقی
ریسرچ اسکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی۔

9780199063970

ادب اطفال کے لیے معروف اسمٰعیل میرٹھی کی شخصیت اردو ادب میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔اسمٰعیل میرٹھی نے صرف ادب اطفال کے لیے ہی نہیں لکھا بلکہ انھوں نے شاعری میں بھی دست آزمائی کی ۔وہ تخلیقی ذہنیت کے مالک ہمہ جہت تخلیق کارتھے۔اسمٰعیل میرٹھی نے اپنے انوکھے انداز ،تکنیک ،ہیئت اور موضوعات و تلازمات اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کی بنا پر اردو دنیا میں منفرد مقام پیدا کیا ۔اسمٰعیل میرٹھی کی تخلیق نگاری کی دنیا کا جائزہ لینے سے قبل آپ کی سوانح پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔کیونکہ کسی بھی مصنف یا تخلیق کا ر کو عام انسان سے تخلیق کار بننے میں اس کی ذاتی زندگی،عہد و ماحول ،اس کے معاشرے کے حالات و واقعات کے اثرات اہم رول ادا کرتے ہیں۔یہ جاننا دلچسپ بھی ہوتا ہیں کہ وہ کون سے وجوہات رہے ہونگے جس کے باعث ایک عام انسان سے تخلیق کار بننے تک کے مراحل کوئی مصنف طے کرتا ہیں۔
ان کا اصل نام مولوی محمد اسمعیل او رتخلص اسماعیل تھا،12 نومبر 1844 ء کو میرٹھ میں پیدا ہوئے ،ابتدائی تعلیم کتب درسیہ میں مکمل کی،1867 ء سے 1870 ء کے عرصے میں سہارن پور کے ضلع اسکول میں مدرس فارسی رہے ۔کچھ ہی عرصے بعد ترقی کر کے فارسی کے ہیڈ مولوی بھی مقرر ہوئے ۔پہلے سہارن پور میں پھر میرٹھ میں ایک عرصے تک اسی عہدے پر اسمٰعیل میرٹھی فائز رہ کر 1888 ء میں سنٹرل نارمل اسکول آگرہ تبدیل ہوگئے اور یہاں بارہ برس تک مدرس فارسی کے عہدے کو سنبھالتے رہے ۔اسمٰعیل میرٹھی 1899 ء میں ریٹائر ہوئے،جس کے بعد وہ اپنے وطن میرٹھ آگئے اور یہی رہ کر اپنی باقی کی زندگی تصنیف و تالیف مین وقف کر دی ۔اسمعیل میرٹھی کو ان کے ادبی کارناموں اور ان کی کاوشوں کے لیے ’’خان صاحب ‘‘ کا خطااب بھی دیا گا ۔ادب اطفال پر آپ کی متعدد درسی کتابون کے علاوہ ایک کلیات بھی آپ کی یادگار ہے۔غزل کے علاوہ آپ نے اخلاقی نظمیں ،قصے ،کہانی کے طور پر لکھی ہیں ،جس سے عمدہ اخلاقی نتائج بر آمد ہوتے ہیں ،اسمعیل میرٹھی نے یکم نومبر 1917 ء کو میرٹھ میں انتقال کر گئے ۔
اسمٰعیل میرٹھی زمینی سطح سے جڑے ایک حساس،دردمند دل طبیعت کے مالک انسان تھے ۔اسمٰعیل میرٹھی کی شاعری اپنے منفرد لب و لہجے کے سبب اپنا الگ مقام رکھتی ہیں ۔ان کی شاعری سوچتے ہُوئے ذہن کے مقصدِ ابلاغ سے آشنا کراتی ہیں،جس سے قدم قدم پر فِکر و نظر کی شمعیں فروزاں نظر آتی ہیں۔ وہ دروں بینی سے کام لیتے ہُوئے زِندگی کی حقیقتوں اور عصری مسائِل کو سمجھنے میںغور و فِکر سے کام لیتے تھے جس سے ان کی شاعری فِکر و آگہی کی ہدایتیں نقطۂ نگاہ کو جامعیت عطا کرتی ہیں،نازُک بیانی کو بھی سادہ طریقہ سے اپنی شاعری میں بیان کرتے ہے ۔اسمٰعیل میرٹھی نے بہترین الفاظوں کو بہترین ترتیب کے ساتھ اپنی شاعری کو ایک مالا میں اس طرح گوندھا ہے کہ قاری بنا رکے پڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔وہ زبان صاف ستھری اور سہل استعمال کرتے ہے۔خیال ،فکر ،اور پیغام بالکل عیاں ہوتے ہے ۔ جس سے انھوں نے شاعری کی دنیا میں اپنا الگ مقام پیدا کیا ۔ان کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں :
آغاز عشق عمر کا انجام ہو گیا
ناکامیوں کے غم میں مرا کام ہو گیا

تم روز و شب جو دست بدست عدو پھرے
میں پائمال گردش ایام ہو گیا

میر ا نشاں مٹا تو مٹا پر یہ رشک ہے
ورد زبان خلق ترا نام ہو گیا

دل چاک چاک نغمہ ٔ ناقوس نے کیا
سب پارہ پارہ جامۂ احرام ہو گیا

اسمٰعیل میرٹھی اپنی غزلوں میں کلاسیکی تلمیحوں ،اشاروں اور کنایوں کا بھی استعمال کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہے۔انھوں نے بدلتی زندگی کے بدلتے تقاضوں کو پیش نظر رکھ کر نئے موضوعات کو اپنی شاعری میں جگہ دی ان کی غزل کے اشعار بہت خوبصورت لیکن معنی خیز ہوتے ہے ، جس میں انسانی جذبات و احساسات کی آمیزش سے شعر کا حسن دوبالا ہو جاتا ہے اشعار ملاحظہ فرمائیں :

جو بھلے برے کی اٹکل نہ مرا شعار ہوتا
نہ جزائے خیر پاتا نہ گناہ گار ہوتا

مے بے خودی کا ساقی مجھے ایک جرعہ بس تھا
نہ کبھی نشہ اترتا نہ کبھی خمار ہوتا

میں کبھی کا مر بھی رہتا نہ غم فراق سہتا
اگر اپنی زندگی پر مجھے اختیار ہوتا

اسمٰعیل میرٹھی کا ایک خاص رنگ یہ بھی ہے کہ انھوں نے روایتی تراکیب کو بحال رکھتے ہوئے بھی جدت طرازی سے کام لیا ہے۔ اسمٰعیل میرٹھی کے یہاں زندگی سے لڑنے ،جد وجہد کرنے ،اور مصائب کا ڈٹ کر سامنا کرنے کی ایک ضد دکھائی دیتی ہے ۔ وہ کبھی بھی ہار نہیں مانتے ،انھیں یہ بھی یقین ہے کہ محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی ،وقت میں بہت طاقت پوشیدہ ہے ،آج نہیں تو کل سچی محنت ضرورنگ لاتی ہے۔بس ایمانداری سے اپناکام کرنے کی ضرورت ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے بیشتر اشعار عوام میں مقبول ہونے کی سند رکھتے ہیںان کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں۔

ذرا غم ذروں کے بھی خوار رہنا
کریں نا ز تو ناز بردار رہنا

فراخی و عسرت میں شادی و غم میں
بہر حال یاروں کے تم یار رہنا

سمجھ نردباں اپنی ناکامیوں کو
کہ ہے شرط ہمت طلب گار رہنا

کرو شکر ہے یہ عنایت خدا کی
بلاؤں میں اکثر گرفتار رہنا

اسمٰعیل میرٹھی کی غزلوں میںایک معنوی دنیا آباد ہیں ۔وہ اپنی غزلوں میں زمانے کا شعور و ادراک رکھتے ہیں ۔بدلتے وقت کے تقاضوں کی جھلک بھی ان کی غزلوں میں دکھائی دیتی ہیں ۔حالات ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے ،کبھی آپ کے ساتھ تو کبھی آپ کے خلاف ،بہادری تو یہ ہے کہ حالات کا سامنا کرنے کی انسان میں طاقت موجود ہو ۔یہی صورت حال انسانی رشتوں کے ساتھ بھی ہے جن کی فطرت میں بھی تبدیلیاں ہوتی ہے ،رشتوں کی الجھی ڈور ہمیں زندگی کے تانے بانے میں جہاں الجھاتی ہے وہی ان رشتوں میں ہونے والی جدو جہد ان سے سلجھنے کا ہنر بھی سکھاتی ہے،بس شرط یہ ہے کہ انسان ایسے حالات میں ٹوٹے نابلکہ اس کا سامنا کرے ، اور ہمیشہ نیک عمل کرتا رہے ،ہمیشہ سچائی کا ساتھ دے ،برائیوں سے خود کو دور رکھے ،کیونکہ نیک عمل کا انجام بھی نیک ہی ہوتا ہے ،انسان جو کچھ بوتا ہے وہی کاٹتا ہے ،اگر برے کام کرے گا تو انجام بھی برا ہی ہوتا ہے ،کبھی کبھی برا کرنے والے کو لگتا ہے اس نے جیت حاصل کرلی کسی کا نقصان کر کے وہ وقتی خوشی تو حاصل کر لیتا ہے لیکن ایک نہ ایک دن اس کی برائیوں کا برا نتیجہ اس کے سامنے ضرور آتا ہے ۔زند گی کے اسی تانے بانے کو اسمٰعیل میرٹھی نے بھی اپنی شاعری کی مالا میں پرویاہے ان کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں :

نتیجہ کیوں کر اچھا ہو نہ ہو جب تک عمل اچھا
نہیں بویا ہے تخم اچھا تو کب پاؤگے پھل اچھا

کرو مت آج کل حضرت برائی کو ابھی چھوڑو
نہیں جو کام اچھا وہ نہ آج اچھا نہ کل اچھا

برے کو تگ بھی کرنے اور توقع نیک نامی کی
دماغ اپنا سنواروں تم نہیں ہے یہ خلل اچھا

جو ہو جائے خطا کوئی کہ آخر آدمی ہو تم
تو جتنا جلد ممکن ہو کرو اس کا بدل اچھا

کرے جو پاؤں بد راہی تو سونا اس کا بہتر ہے
نہ ہو جس ہاتھ سے نیکی تو ایسا ہاتھ شل اچھا

اسمٰعیل میرٹھی نے اپنے احساسات و جزبات کو اپنی غزلوں میں بڑے دلکش پیرائے میں پیش کیا ۔انھوںنے اپنے کلام میں شعری
صنعتوں ،تشبیہات و استعارات کو انتہائی حسین اور دلکش انداز میں استعمال کر کے دلچسپ بنا دیا ۔ہر شاعر اپنے وقت کا نقیب ہوتا
ہے۔مشاہدات کو شعری سانچوںمیں ڈھال کروہ صفحہ قرطاس پر بکھیر دیتا ہے ۔ظفر گورکھپوری نے بھی اپنے عہد کے حالات و واقعات اور
تغیرات و تجربات کو شعری سانچے میں چھوٹی چھوٹی بحروں میں بھی بڑی خوبصورتی سے ڈھال دیتے ہے ،ان کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں :

یاد تیری یاد ہے نام خدا
ورنہ ہم کیا اور ہماری یاد کیا

صدر آر ا تو جہاں ہو صدر ہے
آگرہ کیا اور الہ آباد کیا

مبدائے فیاض کے شاگرد کو
حاجت آمووزش استاد کیا

اک کسوٹی ہے ترے کردار کی
مرتبہ کیا مال کیا اولاد کیا

بلا شبہ اسمٰعیل میرٹھی ایک ممتاز شاعرتھے ۔جن کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔اس مختصر مضمون میں ان کی غزلوںکے تمام فنی اسالیب پر گفتگو کرنا ممکن نہیں ،لہٰذا شعر و شاعری خصوصا ان کی غزلوں سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ان کا مجموعہ کلام درہ ٔ نایاب ہے جس کا مطالعہ انھیں ضرور کرنا چاہیئے جنھیں شعر و شاعری سے شغف ہے ۔اسمٰعیل میرٹھی کا کلام ہمارے ادبی سرمایے میں یقینا اہم اضافہ ہے ،آج اسمٰعیل میرٹھی بھلے ہی ہمارے درمیان موجود نہ ہو لیکن ان کی تحریروں سے اردو ادب کاحلقہ ہمیشہ مستفید ہوتا رہے گا ۔

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook