Home / خبریں / اقبالؔ مشاہیر اہلِ قلم کی نظر میں

اقبالؔ مشاہیر اہلِ قلم کی نظر میں

شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؔ کی یوم ولادت پر خصوصی پیش کش

1512481_594282883998935_738070222_n
٭ڈاکٹر محمدکلیم ضیاؔ
سابق صدر،شعبۂ اردو،
اسمٰعیل یوسف کالج،جوگیشوری (مشرق)،
ممبئی نمبر ۰۶۰ ۴۰۰

iqbal_day_1

اردو دنیا کا ایسا کون سا طالب ِعلم ہے جس نے اقبال ؔکا کسی نہ کسی سطح پر مطالعہ نہ کیا ہو؟ ہر زبان و ادب کے گلستاں میں کچھ ایسے تناور درخت ضرور ہوتے ہیں جن کی وجہ سے اُس گلستاں کی شناخت صدیوں اور قرنوںبرقرار رہتی ہے۔لیکن ان میں بھی اِکّا دُکّا اپنی خوب صورتی ،جاذبیت بے انتہا مضبوطی اور ہمیشہ ثمر آوری کی بناپر پوری کائنات کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔لہٰذا ایسے درخت کی کھوج،تحقیقی وجستجو اور اس سے فیضیاب ہونے کے لیے اس میدان کے ماہرین ایڑی چوٹی کا زور لگا کراس کے بال کی کھال اور پھرکھال سے بال نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ۔یہ بات دیگر ہے کہ اسی سے کسے کیا ملتا ہے اور کون محرومی کا شکار ہوتا ہے۔
علاّمہ اقبالؔ بھی اردو زبان و ادب کا ایک ایسا تناور،بلند وبالا جاذب النظر،ثمرآور اور سدا بہار درخت ہے جس سے رہتی دنیا تک عوام و خواص نہ صرف فیض حاصل کرتے رہیں گے بلکہ آپ کی پیروی کو باعث افتخار سمجھیں گے۔ دراصل اردو میں فنکاری کا پہلا ستون میرؔتقی میرؔ کو تسلیم کیا گیا ،یہ روحانی سلسلہ غالبؔ تک پہنچا اور یوں بھی کہا گیا ہے کہ میرؔاور غالبؔ کی روح اقبالؔ میں سرایت کرگئی ۔ سلسلہ دراز ہوا تو اقبالؔ کے بعد فیض احمد فیضؔ پرختمے کا نشان تادم حال نظر آرہا ہے۔مطالعہ تو یہ کہتا ہے کہ اگر پیغمبری کا سلسلہ جارہی رہتا تو اقبالؔ بھی دنیا کے کسی خطّے کے پیغمبر ہوتے ۔ان تمام باتوں سے اختلاف یقینًا ممکن ہے۔ مطالعہ تو یہ بھی کہتا ہے کہ اس وقت پاکستان میں علامہ کے مزارکو وہی حیثیت حاصل ہے ۔جو کسی پیر فقیر یا ولی اﷲ کے مزار کو حاصل ہوتی ہے یعنی مزار پر چادریں چڑھانا،دھاگے باندھنا،پھول چڑھانا،طواف کرنا اور منتیں مرادیں مانگنا وغیرہ وغیرہ یہ عقائد کا معاملہ ہے لہٰذا اس تعلق سے زیادہ کچھ کہنا لوگوںکی دلشکنی کا باعث بھی ہوسکتا ہے۔
مذکورہ بالا معاملات سے قطع نظرِ اقبال ؔکے فن اور ان کے متعلق اہلِ قلم کیا کہتے ہیں اس طرف توجہ دی جائے۔ اقبالؔ کا خاندانی پس نظر اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ وہ کشمیری پنڈت تھے۔لیکن ایک صاحبِ نظر اور صاحب بصیرت کی تبلیغ سے یہ خاندان مشّرف بہ اسلام ہوا۔اقبالؔ کے والد نور محمد صاحب ایک نیک، دیندار، صوفی مزاج اور درویش صفت انسان تھے ۔آپ کی والدہ انتہائی نیک ، عبادت گزار،دیندار اور زہدوتقویٰ سے مزّین خاتون تھیں۔ اس خداترس ماحول میں اقبالؔ کی پیدائش ۱۸۷۷؁ء میں سیالکوٹ میں ہوئی۔ایک نیک اور صالح ماں کی تربیت میں اقبالؔ نے پرورش پائی ۔چنانچہ اپنی ذہانت اور محنت و لگن اور صحیح رہبری ورہنمائی نے اقبال ؔکوسرمحمد اقبالؔ یا ڈاکٹروالدہ انتہائی نیک ، عبادت گزار،دیندار اور زہدوتقویٰ سے مزّین خاتون تھیں۔ اس خداترس ماحول میں اقبالؔ کی پیدائش ۱۸۷۷؁ء میں سیالکوٹ میں ہوئی۔ایک نیک اور صالح ماں کی تربیت میں اقبالؔ نے پرورش پائی ۔چنانچہ اپنی ذہانت اور محنت و لگن اور صحیح رہبری ورہنمائی نے اقبال ؔکوسرمحمد اقبالؔ یا ڈاکٹر علاّمہ اقبالؔ بنادیا۔ علاّمہ اقبالؔ کی رباعی جس میں حضرتِ شیعب علیہ السلام اور حضرتِ موسٰی کلیم اﷲ کے رشتے اور تعلیم وتربیت کی نشاندہی کی گئی ہے ،کا ذکر بے محل نہ ہوگا ۔علاّمہ فرماتے ہیں۔
دم عارف نسیم صبحِ دم ہے X اِسی سے ریشہ معنی میں نم ہے
اگر کو شعیب آئے میسّر X شبانی سے کلیمی دو قدم ہے
اقبالؔ کے علم کی وسعت مشرق تا مغرب ،شمال تا جنوب تھی ۔تمام جدید اور قدیم کا بیشتر حصّہ نظر سے گزر چکا تھا،عربی ، فارسی،اردو،انگریزی اور یہاں تک کہ فرانسیی ،سنسکرت زبانوں سے واقفیت نے آپ کے مطالعے اور فن میں چار چاند لگادیے تھے۔دنیا کے تقریبًا تمام ادیان کا کسی نہ کسی پہنچ پر مطالعہ اقبالؔ کے ذہن کو یقینًا جلا بخشتا رہا۔بعدازاں جب آپ نے دنیائے ادب میں قدم رکھا تو ابتدا اس حکم نامے سے کی کہ ؎ اٹھاکر پھینک دے باہر گلی سے X نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے
شاعری میں افکار ومعنی کے دریا بہادیے۔نظموں کو نیا رنگ اور نیا آہنگ دیا ۔غزلوں کو زلف وکاکل سے نکال کر کائنات کی آخری حدوں تک پہنچا دیا۔ الغرض اقبال نے اردو زبان وادب کے حوالے سے ایک ایسا کارنامہ انجام دیا جس کی مثال نہ تو ماضی میں دستیاب ہے اور نہ ہی مستقبل میں اس کے مکانات،اقبالؔ نے ایک بندے کو خداسے ڈرنے کے بجائے اس سے محبت کرنے کے سلیقے سکھائے اور خدا کو بذاتِ خود بندے کے سامنے بٹھا کر کہہ دیا کہ
؎ گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر X ہوش وخرد شکار کر قلب نظر شکار کر
؎ توہے محیطِ بیکراں میں ہوں ذراسی آب جو X یا مجھے ہم کنار کریا مجھے بے کنار کر
؎ باغِ بہشت سے مجھے حکمِ سفر دیا تھا کیوں X کارجہاں درازہے اب میرا انتظار کر
یا یوں بھی کہا ہے کہ
؎ نہیں منت کشِ تاب ِ شنیدن داستاں میری X خموشی گفتگوہے ،بے زبانی ہے زباں میری
؎ یہ دستورِ زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں X یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری
اسی سے ملتے جُلتے تیور فیضؔ کے یہاں بھی نظر آتے ہیں۔
؎ اک فرصتِ گناہ ملی وہ بھی چاردن X دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے
تادمِ حال اردو میں جن فنکاروںیعنی شعرا و ادُبا کی حیات اور ان کے فن پر کام ہوا ہے اُن میں مذکورہ بالا شعرا پر بہت لکھا جاچکا ہے۔ لیکن ایک انداز ے کے مطابق سب سے زیادہ لکھنے پڑھنے کا م بھی علاّمہ اقبالؔ کے حصّے ہی میں جاتا ہے جب کہ دوسرے نمبر پر غالبؔ کا شمارہوتا ہے اور بقیہ تمام ان دوحضرات کے بعد نظر آتے ہیں۔ اس وقت پوری اردو دنیا میں جو بھی اور جس بھی سطح پر کام جاری و ساری ہے اس میں ایک تہائی حصّہ علاّمہ اقبالؔ کے متعلق ہے۔اردو کے علاوہ انگریزی،فرانسیسی ،جرمنی،عربی، فارسی کے علاوہ ہندوستان کی تقریبًا تمام زبانوں میں علاّمہ اقبالؔ کی جو پذیرائی ہوئی ہے اور ہورہی ہے وہ اردو کے کسی اور ادیب یا شاعر کے مقدّر میں نہیں ہے۔’’ ارمغانِ ادب‘‘میں امتیاز احمد اور عطیہ رئیس رقم طراز ہیں۔
’’ اپنی تمام خوبیوں اور خوصیات کے ساتھ رفتہ رفتہ اقبال کاحیات بخش کلام اس قدر مقبولِ خاص وعام ہوا کہ دورِ حاضر میں کسی شاعر کو یہ فخر حاصل نہیں ہوسکا ۔صرف ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ ایران، افغانستان ونیزدیگر بلادِ اسلامیہ کے علاوہ انگلستان اور امریکہ میں بھی قدرکی نگاہوں سے دیکھا گیا ہے۔
یوں تو اقبالؔ کی شاعری کی بے شمار خوبیاں اور خوصیات ہیں۔ان میں سے ایک یہ ہے جس کی طرف انھوں نے خود اپنے اس شعر میں اشارہ کیا ہے۔
؎ خون دل وجگر سے ہے مری نواکی پرورش X ہے رگِ ساز میں رواں صاحب ساز کا لہو
اقبالؔ کے لہو کی گرمی اس کی حدت اور حرارت ان کے ہرشعر سے محسوس ہوتی ہے اسی لیے ان کی ہر بات براہِ راست دل پر اثر کرتی ہے۔‘‘
عشق و محبت کے جذبات و احساسات انسانی فطرت کا نہ صرفخاصّاہیں بلکہ اﷲ تبارک و تعالٰی نے ان جذبات و احساسات کو اس کے رگ و پے میں دوڑادیا ہے۔ مختلف فنکاروں نے اسے مختلف زاوئیوں سے نہ صرف برتا ہے بلکہ اس کی تشریح اور تعبیر بھی بیان کی ہے۔ عشق کے بھی مراحل و منازل معاشی ،معاشرتی اور مذہبی حالات کے تحت طے ہو پاتے ہیں۔ شاید اسی لیے کہا گیا ہے کہ ؎ کہتے ہیں جِسے عشق وہ سستا تو نہیں تھا X ہر شخص خریدار ہے معلوم نہیں کیوں (کلیم ضیاؔ)
لیکن اقبالؔ نے عشق کو جوآفاقیت عطا کی ہے اس سے یقینًا وہ حقائق سامنے آتے ہیں جو اقبالؔ سے پہلے مفقودیا محدود تھے۔ علاّمہ اقبالؔ نے عشق کو جو تاب و توانائی عطا کی ہے اس سے عقل بذاتِ خود محو تماشائے لبِ بام نظر آتی ہے۔ علاّمہ کے تصورِ عشق کے متعلق معروف اسکا لر ڈاکٹر محبوب راہی رقم طراز ہیں۔
’’ ایک تو عشق با عتبارِ موضوع بجائے خود اتاہ سمندر وں سی گہرائی ،گیرائی وسعت،عمق، بیکرانی،موج درموج طغیانی اور تہہ در تہہ معنویت تیز،آسمانوں سی بلندیوں اور پہاڑوں سی ٹھوس حقیقت کا حامل اس پر مستزاد اقبالؔ کا فلسفیانہ اندازِ فکر، حکیمانہ زاوئیہ نظر خطیبانہ اندازِ مخاطب،غنائیت سے بھرپور تمکنت لہو، منفردرنگ و آہنگ، باوقار طرزِ تکلّم ، جدّت،تخیّل،ندرتِ بیان اور فکر ونظر کی آفاقیت اس طرح عشق کے جذبۂ لافانی اور اقبالؔ کی فکرِ لاثانی دونوں کے خوش گوار امتزاج اور متوازن ومتناسب اشتراک سے جو تخلیق پارے عالمِ شہود میں آئے، اردو کے خزینۂ شعروادب میں بیش بہا اور لازوال اضافوں کا موجب قرار پائے‘‘
۱؎ اے دردِ عشق ہے گہر آب دار تو X نامحرموں میں دیکھ نہ ہواشکار تو
۲؎ رلاتی ہے مجھے راتوں کو خاموشی ستاروں کی X نرالا عشق ہے میرا،نرالے میرے نالے ہیں
۳؎ وہ پرانے چاک جن کو عقل سی سکتی نہیں X عشق سیتا ہے انھیں بے سوزن و تاررفو
۴؎ بے خطر کو د پڑا آتشِ نمرودمیں عشق X عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
۵؎ حدِّ ادراک سے باہر ہیں باتیں عشق ومستی کی X سمجھ میں اس قدر آیا کہ دل کی موت ہے دوری
۶؎ دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر X نئے زمانے نئی صبح و شام پیداکر
۷؎ بجھی عشق کی آگ اندھیرہے X مسلماںنہیں راکھ کا ڈھیر ہے
۸؎ جب عشق سیکھاتا ہے آداب ِ خود آگاہی X کُھلتے ہیں غلاموں پر اسرارِ شہنشاہی
پروفیسر ایس ،ایم عقیل (سید مدار عقیل) صدر شعبۂ اردو،کوئمپو یونی ورسٹی شموگہ (کرناٹک) علّامہ اقبالؔ کی شخصیت ،ان کے وــژن،ان کے فلسفے اور ان کے فنِ تخلیق کے متعلق فرماتے ہیں۔
’’اقبالؔ ایک ایسی شخصیت کا نام ہے جس کی نگاہِ دور بیں صرف دورِ حاضر ہی نہیں بلکہ آنے والی صدیوں کا احاطہ کرتی ہے۔ ان کی نظردلوں کی گہرائیوں اور دماغ کی وسعتوں پر محیط ہے۔شعر ہو یا فلسفہ ان کے قلم کی نوک پر شرمندۂ وجود ہے۔یہ وہ فن کار ہے جس نے سوچ کر ادب کی تخلیق نہیں کی ،بلکہ اس کا ادب قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔خاکِ وطن دہائیوں میں نہیں بلکہ صدیوں میں ایسے سپوت کو پیدا کرتی ہے ۔جس پر یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ
؎ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے X بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
واقعہ یہ ہے کہ ایسے انسان صرف کسی خاص مقصد و مدعا کے لیے پیدا کیے جاتے ہیں۔علّامہ اقبالؔ کو بھی دنیا میں اسی لیے بھیجا گیا تھا کہ وہ رہبری و رہنمائی کی قندیل سے اس ظلمت سے بھری ہو دنیا کو منوّر اور تاب ناک کرسکیں۔علّامہ کی بالغ النظری،وسعتِ قلبی،ذہنی بیکرانی اور فکری بلندی بذاتِ اظہرمن اشمس ہیں۔سر زمینِ وطن کی خوش بختی ہے کہ اس پر اقبالؔ جیسی عظیم المرتبت شخصیت نے نہ صرف جنم لیا بلکہ پوری دنیامیں اسے ایسی سر بلندی عطا کی کہ یہ رہتی دنیا تک یہ زمین ،آسماں بن کر رہے گی۔‘‘
علامہ اقبالؔ نے مبلّغِ دین کی حیثیت سے کئی مقامات پر نہ صرف تبلیغِ دین کے فرائض انجام دیے ہیں بلکہ اسلام کی
تبلیغ و اشاعت کے راستے بھی بتائے ہیں۔ وہ ایک خط میں فرماتے ہیں۔
’’ ایشیا کے قدیم مذاہب کی طرح اسلام بھی زمانۂ حال کی روشنی میں مطالعہ کیا جانے کا محتاج ہے۔پرانے مفسرین قرآن اور دیگر اسلامی مصنفین نے بڑی خدمت کی ہے۔ مگر ان کی تصانیف میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جو جدید دماغ کو اپیل نہ کریں گی ۔میری رائے میں بحیثیت مجموعی زمانۂ حال کے مسلمانوں کا امام ابن تیمیہ اور شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی کا مطالعہ کرنا چاہیے ۔ان کی کتب زیادہ تر عربی میں ہیں۔مگر شاہ صاحب موصوف کی حجۃ اﷲ البلاغہ کا اردو ترجمہ بھی ہوچکا ہے۔ حکما میں ابنِ رُشد اس قابل ہے کہ اسے دوبار ہ دیکھا جائے ۔اس کی ہذا القیاس ،غفرالی اور رومیِ علیہ الرحمۃ ،مفسرین میں معتزلی نقطۂ خیال سے زمخشری،اشعری نقطۂ خیال سے رازی اور زبان و محاورہ کے اعتبار سے بیضاوی ۔نئے تعلیم یافتہ مسلمان اگر عربی زبان میں اچھی دستگاہ پیدا کرلیں تو اسلام Re-interpretation میں بڑیمدددے سکیں گی ۔میں نے اپنی تصانیف میں ایک حد تک یہی کام کرنے کی کوشش کی ہے۔ انشاء اﷲ اس پر نثر میں بھی لکھوں گا‘‘
علامہ اقبالؔ کی زبانوں ،مسلمانوں، مذہبِ اسلام اور اس سے متعلق کس قدر دلچسپی تھی اس کا اظہار پر وفیسر محمد الطاف قریشی ۔ وائس چانسلر ملتان یونی ورسٹی ،فرماتے ہیں۔
’’ علامہ اقبالؔ کی دلچسپی صرف اُن زبانوں کے ذخیرۂ معلومات تک محدود نہ تھی جو وہ جانتے تھے بلکہ اس میں ہر زبان تک تھی ،جس میں مِلّتِ اسلامیہ کی عظمت کا کوئی بھی نشان ملتا تھا۔
کسی بھی مسلمان سائنس داں یا مورّخ یا فنِ تعمیر کے ماہر کی کسی ایسی فنی مہارت کا ذکر کیا گیا تھا جومسلمانوں کے سیاسی انحطاط یا زوال کی وجہ سے اب مسلمانوں کے علم میں نہیں تھی۔ اس سلسلے میں وہ مالی دشواریوں کے باوجود اپنی جیب سے بھی اخراجات ادا کرنے کے لیے کوشا ں رہتے تھے۔‘‘
اس مقالے کے ابتدائی حصے میں میں نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے کہ اگر اردو شعرو شاعری کی پہلی منزل میرتقی میرؔ ہیں تو دوسری غالبؔ اور تیسری اقبالؔ ۔یعنی غالبؔ روحانی طورپر اقبالؔ کے اشعار میں جابجا نظرآتے ہیں۔اپنی بات کی توسیع و شہادت کے طور پر ’’مخزن‘‘ کے مدیر جناب شیخ عبدالقادر کا ایک بیان پیش کرنا چاہتا ہوں جو انھوں نے بانگِ درا کے دیبایچے میں لکھا تھا۔وہ کہتے ہیں۔
’’ اگر میں تناسخ کا قائل ہوتا تو ضرور کہتا کہ مرزا اسد اﷲ خاں غالبؔ کو اردو اور فارسی کی شاعری سے جو عشق تھا اس سے ان کی روح کو عدم میں جاکر بھی چین نہ لینے دیا اور مجبور کیا کہ وہ پھر کسی جسدِ خاکی میں جلوہ افروز ہوکر شاعری کے چمن کی آبیاری کرے اور اس نیپنجاب کے ایک گوشے میں جسے سیالکوٹ کہتے ہیں دوبارہ جنم لیا اور محمد اقبال نام پایا۔‘‘
علاّمہ اقبالؔ نے کس قسم کا کلام عوام کے سامنے پیش کیا۔ کیسے کیسے جذبات و احساسات کا اظہار فرمایا۔اُس وقت کے عالمِ اسلام کے حالات نے علاّمہ کی راتوں کی نیند اور دن کا سکون چھین لیا تھا وہ بار بار ان باتوں کا ذکر نہ صرف اپنے اشعار میں کرتے تھے بلکہ بسا اوقات لوگوں کے سامنے برملا ان کا ذکر بھی کرتے تھے۔ ان کی ایک نظم ’’حضورِ رسالتِ مآبؐ میں‘‘ ہے۔علاّمہ نے اس نظم کو جب پہلی بار ایک جمِ غفیر کے روبرو پڑھا تو کیا ہوا۔آنکھوں دیکھا حال۔’’نیرنگ خیال‘‘ کے مدیر حکیم محمد یوسف حسن کی زبانی محمد طفیل،مدیر نقوش نے نقوش کے افسانہ نمبر ۱۹۶۸؁ء میں اس طرح بیان فرمائی ہے۔
’’یہ نظم شاہی مسجد لاہور میں ہزاروں لاکھوں کے مجمع میں علامہ نے بڑی ہی دل سوز قسم کے ترنم میں پڑھی۔علامہ نے اُس اور جس سوزسے نظم پڑھی تھی وہ سماں بھی دیکھنے اور سننے والا تھا۔نظم پڑھنے سے پہلے سر شفیع ،سرفضل حسین اور مولوی محبوب عالم ایسے اکابرین نے بڑی آتشِ تقریر یں کی تھیں ۔جن میں اٹلی کے خلاف مسلمانوں نے اپنے غیض و غضب کا اظہار کیا تھا۔اس کے بعد علامہ نے نظم سنانی شروع کی ۔مجمع پر ایک عجیب قسم کا سکوت طاری ہوگیا ۔فرش پر سوئی بھی گرتی تو آواز آتی ۔
علاّمہ نے جب پوری سرشاری کے ساتھ یہ شعر پڑھا۔
؎ مگر میں نذر کو اک آبگینہ لایا ہو X جو چیز اس میں ہے جنت میں بھی نہیں ملتی
تو لوگوںکا تجسس بڑھا۔ سوال پیدا ہوا۔بھلا وہ کیا چیز ہوگی جو جنت میں بھی نہیں ملتی۔اس کے بعد جب علامہ نے یہ شعر پڑھا۔
؎ جھلکتی ہے تری امّت کی آبرو اس میں X طرابلس کے شہیدوں کا ہے لہواس میں
تو مجمع بے قابو ہوگیا۔اﷲ اکبر کے فلک شگاف نعرے نالہ وشیون اور آہ وبکاہ کا ایک ایسا سماں کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ جوش اتنا تھا کہ لوگوں نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے۔فرش پرتڑپنے لگے۔آدم کی تڑپ کا سماں ضمیرِ کائنات میں اپنی آخری حدوں کو چھورہا تھا۔جو اُس چشمِ فلک نے شاذہی دیکھا ہوگا ۔‘‘
علاّمہ اقبالؔ کے فنِ شعرگوئی خواہ وہ فارسی ہو یا اردو،پران کے کوائف اور اعمال پر ان کے فکر اور فن پر،ان کی وسعتِ نظراور وسیع القبی پر،ان کے مذہبی خیالات اور جذبات پر غرض کہ اقبالیات کے ماہرین و ناقدین نے اقبال کی ہر سانس پر کچھ نہ کچھ لکھّا ضرور ہے۔ اسی طرح ان کے فنِ تحقیق اور تنقید پر بھی بڑے خو ب صورت انداز میں نقدوتبصرہ کیا گیاہے۔ لہٰذا یوں محسوس ہوتا ہے کہ زبان و ادب کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جو اقبال ؔسے متاثر نہ ہوا ہو۔ سید افتخار حسین شاہ اپنی تصنیف ’’اقبالؔ اور پیروی شبلیؔ‘‘ کے صفحہ نمبر۵۶ اور ۵۷ پر فرماتے ہیں۔
’’میرے خیال میں اقبالؔ فنِ تحقیق سے بھی واقف تھے اور تنقیدی اصولوں سے بھی بخوبی آگاہ تھے۔فنِ تحقیق سے آشنا ہونے اور اس فن کا تجربہ حاصل کرنے کے مواقع ان کومیکلوڈعربک ریڈر کی حیثیت سے ملے اور تنقیدی اصولوں سے واقفیت انھیں اپنے وسیع مطالعہ کی بدولت حاصل ہوئی ۔ان کی بعض تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ مشہور شاعر اورنقاد میتھیو آرنلڈMathew Arnold کے تنقیدی نظریات سے وہ باخبر تھے۔۷؍ اپریل ۱۹۱۷؁۔ء کو شائع ہونے والے مشہور انگریزی جریدےNew Eara میں لکھتے ہیں۔ ”Methew Arnold defines poetryas Criticism of life – the life is criticsm of Peotry is equally true.
یورپ میں قیام کے دوران مشہور محقق اور نقاد پروفیسر براؤن سے ملاقاتیں بھی یقینًا اس سلسلے میں مفید ثابت ہوئی ہوں گی‘‘
پروفیسر سید افتخار حسین شاہ۔ ۱۹۷۸؁۔ء میں ملتان یونی ورسٹی میں شعبئہ اردو کے صدرکی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔
علامہ اقبالؔ کو مشرق نے بھی پرکھا اور مغرب نے بھی جانچا ۔اقبال کی دروں بینی نے اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل کو تاڑلیا تھا وہ ہمیشہ وقت کی نبض پر انگلی رکھّے رہے اور پھر قوم و ملّت کو آگہی کی دولت سے سرشار کرتے رہے ۔برِصغیر ہندوپاک کے لوگ اقبال ؔسے وابستگی پر نہ صرف فخر محسوس کرتے ہیں بلکہ اس کا بار بار اظہار بھی کرتے ہیں۔علامہ اقبالؔ کی شاعری گلی کوچوں سے پارلیمنٹ کے ایوانوں تک سِکّئہ رائج الوقت کی طرح اپنا سکّہ جمائے ہوئے ہے۔ ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی اپنی ایک تصنیف ’’افکار و اقدار‘‘ میں موجود ایک مقالے بعنوان’’اقبال کا پیام ۔عصرِحاضر کے نام‘‘ میں کچھ اس طرح رقم طراز ہیں۔
’’ اقبال ایک عہد آفریں شاعر تھے اور شعر وادب اسی وقت عہد آفریں اور حیات آفریں ہوتا
ہے جب اس کے ہاتھوں میں زندگی کی نبضیں ہوں۔ اقبال ایک ایسے ہی شاعر تھے۔ جب ہم ان کا کلام پڑھتے ہیں تو فکر و نظر میں ایک انقلاب محسوس ہوتا ہے۔ وہ معانی کا ایک سمندر ہیں جس کے کناروں کا پتہ نہیں۔ان کے کلام پر جتنا غورکیجیے۔نئی نئی باتیں سوجھتی ہیں اور دلوں کی دنیا بدل جاتی ہے۔واقعہ یہ ہے کہ کلامِ اقبال سے مرمرکی مورتوں میں بھی زندگی کا سیلِ آتشیں دوڑنے لگتا ہے۔بحیثیت شاعر اورمفکّر اقبالؔ بیسویں صدی کے برِعظیم ہند میں اِسلامی نشاۃِ ثانیہ کے علمبردارتھے اور اس حیثیت سے اقبالؔ برِعظیم ہندوپاک کے مشترکہ میراث ہیں۔ یہ بات کوئی راز نہیں ہے کہ اقبالؔ برہمن زاد اور ہندوستانی نثراد تھے۔ہندوستان کا عالمِ اسلام اور عالمِ انسانیت دونوں ہی کو اقبالؔ کے پیام کی یہ پیش کش اردو کے لیے قابلِ فخر ہویانہ ہو،ہم ہندوستانی مسلمانوں کے لیے لائقِ افتخار اور طرۂ امیتاز ہے اور ہمیشہ رہے گا‘‘
شاہ صاحب پیام اقبال ؔکے متعلق آگے فرماتے ہیں۔
’’ اقبال ؔکا یہ پیامِ انسانیت حقیقتًا پیامِ اسلام ہے ۔شاعری اور فلسفے میں کوئی بھی نصب العین ہو، ہمیشہ عالمگیر اور آفاقی ہوگا۔لیکن جب اس کی عملی تعبیر و تحصیل زندگی میں کی جائے گی تو لامحالہ اس کا آغاز کسی مخصوص جماعت کے نظریے اور اصول وعقیدے سے کرنا ہوگا ۔ اقبالؔ کے نزدیک وہ مخصوص نظریہ اور عقیدہ صرف اسلام ہے۔اقبالؔ نے بڑی وضاحت سے اپنے اس ’’پیام‘‘ کو جویوں تو عام ہے لیکن خاص طور پر مغرب کو جو پیغام دیا ہے وہ مشہور المانوی شاعر گوئٹے کے ’’دیوانِ مغرب‘‘ کے جواب میں ’’پیام مشرق‘‘ ہے ، تہذیب مغرب ِاور عصر
حاضر کے لیے اقبال ؔکا یہ ایک ایسا گراں مایہ تحفہ ہے جس میں یقین کی روشنی بھی ہے اور محبت
کی گرمی بھی! ساتھ ہی ایک ایسے نظامِ حیات کی نشاندہی ہے جس میں دورِ جدید کے تمام مسئلوں کا حل ہے ۔اقبالؔ نے اس کتاب کے ذریعہ دانشِ حاضر پر ایک ضرب کاری لگائی ہے اور ساتھ ہی ایک تازہ نظامِ فکر کی تخلیق کی ہے۔‘‘
ایسا نہیں ہے کہ اقبال ؔکے کلام اوران کی فکر میں صرف محاسن تلاش کیے گئے ہیں ۔بلکہ اقبالؔ پر کیچڑ بھی اچھالی گئی ہے۔ بعض مقامات پر تو علامہؔ کو کفر کے فتوؤں سے بھی نوازا گیا ہے ۔ایک صاحب نے تو ’’غارت گرِ ملّت علامہ اقبالؔ‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب بھی نہ صرف لکھّی ہے بلکہ شائع بھی کی ہے ۔یہ موصوف انور شیخ صاحب ہیں جو لندن میں قیام پذیر ہیں یہ اور اس قبیل کے کئی افراد ایسے بھی ہیںجو نہ صرف اقبال کی نجی زندگی پر انگشت نمائی کرتے ہیں بلکہ ان کے فن میں کیڑے بھی ڈھونڈتے ہیں۔ پروفیسر اسلوب احمد انصاری (مسلم یونیورسٹی علیگڑھ) اپنی ایک تصنیف’’اقبال کی تیرہ نظمیں ۔ تنقیدی مطالع‘‘ میں اس طرف اشارہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں۔
’’اقبالؔ کی شاعری کے سلسلے میں اکثر یہ کہا گیا ہے کہ یہ تاثرات یا تجربات کے برعکس تصورات کی شاعری ہے۔یعنی اس کے پسِ پشت محسوس تجربے کی بجائے ایک منصنبط اور ہم آہنگ نظامِ فکر کے آثار پائے جاتے ہیں۔جس سے قوتِ نمو حاصل کرتی ہے۔اس محاکمے میں ایک حد تک صداقت ہے۔لیکن پوری صداقت نہیں۔اقبال ؔتنقیدکا مجموعی طور سے یہ نقص رہا ہے کہ اس میں زیادہ تر ان تصورّات کے تجزیے اور ان کی تعبیر و تفسیر ہی سے سروکار رکّھاگیا ہے لیکن شاعری میں عجرد خیال کی اہمیت زیادہ نہیں ہوتی۔ بلکہ خیال اور فکر کے حِسّی متبادلات نِسبتًا قابلِ قدر ہوتے ہیں۔بہ الفاظ دیگر یہ کہ خیالات یا مجردّات کو محسوس طریقے پرمحا کات اور علائم کے ذریعے کس طرح پیش کیا گیا ہے۔اقبالؔ کی بہترین نظمیں اور غزلیں فن کے ایسے نمونے ہیںجن کی تعمیر و تنظیم میں فکر کو بھی دخل ہے اور وہ اس فکر کی معروضی تجسیم بھی ہیں۔‘‘
اقبال ؔناقدین کی ایک طویل فہرست ہے اور تقریبًا ہر نقّاد نے اقبالؔ کوقینًا اپنے زاوئیے سے دیکھا اور پرکھاہے۔ اقبالؔ کے کلام کی شرحیں اور تعبیریں بذاتِ خود اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ ان کے کلام پر تادمِ حال جو کچھ بھی کہا گیا ہے یا لکّھا گیا ہے وہ آٹے میں نمک کے مصداق ہے ۔یہ کیوں کر ممکن ہوسکتا ہے کہ کسی فنکار کے کسی فن پارے کو کما حقہ، جوں کا توں پیش کردیا جائے ۔ جس وقت کوئی فن پارہ تخلیق پاتا ہے تو اس وقت فنکارکی جو ذہنی سطح ہوتی ہے وہ دوبارہ خود فنکار کو نصیب نہیں ہوتی، پھر اس پر ماحول ، وقت، تجربات،مشاہدات ،علم و مطالعہ غرض کہ وہ ہر طرح سے ایک ایسی سطح پر ہوتا ہے جہاں دوبارہ اس کی بھی پہنچ ممکن نہیں ہے ۔
اس کی مثال وقت سے دی جاسکتی ہے ۔مثلًا اگر کسی شخص کو صبح سات بج کربیس منٹ پر کوئی لوکل ٹرین پکڑنی ہو تو لازمی ہے کہ وہ ۲۰۔۷ سے پہلے پلیٹ فارم پر حاضر رہے اور اگر اتفاقًا اس کی وہ ٹرین چھوٹ جاتی ہے تو اسے وہ مطلوبہ ٹرین دوبارہ کسی قیمت پر نہیں
مل سکتی ۔دوسرے دن اگر وہ ٹرین پڑتا ہے تو دن اور تاریخ بدل جائیں گے ۔ہفتے بھر بعد پکڑتا ہے تو پورا ہفتہ اور پھر اسی طرح مہینہ ، سال،صدی وغیرہ، بالکل اسی طرح فنکار بذاتِ خود اس نقطہ پر زندگی میں دوبارہ کبھی نہیں پہنچ سکتا جس نقطے پر پہنچ کر اس نے فن پارے کو جنم دیا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ اس سے بلندی پر پہنچ جائے یا پستی میں چلا جائے۔ مجھ جاہل کی یہ بات آج تک سمجھ میں نہ آسکی کہ آخر کسی فن پارے کی تشریح یا تعبیر ہم کلّی طور پر کس طرح کرسکتے ہیں۔البتہ ہم کو ائف و حالات کے تحت کچھ حد تک اس کے مفاہیم ومعانی کو چھوسکتے ہیں۔ بقیہ اﷲ اﷲخیر سّلا ۔۔۔۔۔ یہی ضابطہ علامہ اقبالؔ کے کلام پر بھی منضبط ہوتا ہے۔
اقبالؔ کے کلام میں خودی کے فلسفے کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔گو کہ اس لفظ کو اصطلاحًا جب برتا گیا تو اس کے کچھ اور معنی تھے۔ بلکہ ایک محدود دائرہ میں بٹا ہوا معاملہ تھا۔لیکن اقبالؔ نے اس کو جو وسعت عطا کی ہے اس کے کناروں کا کہیں پتا نہیں چلتا ۔ ’’ہند کی مایہ ناز ہستیاں ودیگر مضامین ‘‘میں بی۔شیخ علی علامہ اقبالؔ کی بلندی‘‘ عنوان کے تحت رقم طراز ہیں۔
’’اقبال کے کلام میں خودی کا فلسفہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے ۔خودی میں خود شناسی ،خداشناسی اور جہاں شناسی تینوں آجاتے ہیں۔خودی کی پہچان اسی وقت ہوسکتی ہے جب کہ انسان قدرت کی دی ہوئی سبھی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کرتاہے اور انسانی فطرت جب ربّانی فطرت کا آئینہ بن جاتی ہے۔
؎ ہر چیز ہے محو خود نمائی X ہر ذرہ شہیدِ کبریائی
؎ بے ذوق نمودِ زندگی موت X تعمیر خودی میں ہے خدائی
گو کہ علامہ اقبالؔ خانقاہی و رہبانیت کے سخت خلاف ہیں۔تصوّ ف کے وہ اعلٰی وارفع مقاصد کے بھی حامی ہیں۔جہاں انسان ذاتِ الٰہی کے اوصاف کا حامل بنتے بنتے اس مقام پر پہنچتا ہے جہاں وہ خود اپنی تقدیر کا معمار بن جاتا ہے‘‘
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ علامہ اقبالؔ کے نام سے جو وابستہ ہوا اس کا نام بھی تاریخ میں محفوظ ہوگیا اور زمانہ اسے جاننے لگا۔ جس نے علاّؔمہ کو پڑھایا ،جس پر انھوں نے تنقید کی،جنھوں نے علاّؔمہ پر تنقیدکی ،جس کی انھوں نے تعریف کی، سب کی سب آج تاریخ میں محفوظ ہیں ۔ یہ واقعہ بن گیا کہ عبداﷲ شاہ بخاری پطرس ؔپر علاّؔمہ نے ایک تنقیدی نظم لکھی۔کسی نے پطرسؔ سے کہا کہ علاّؔمہ نے آپ پر تنقید کی ہے اور نظم لکھ ڈالی ۔پطرسؔ نے جواب دیا۔مجھ پر تو نظم لکّھی کیا تم پر علاّؔمہ نے ایک شعر بھی لکھا؟‘‘جسین احمد مدنی کے مسئلہ قومیت کے نظر یہ پر علاّؔمہ نے تنقید کی اور آج یہ واقعہ تاریخِ آزادی میں دستاویزی حیثیت رکھتا ہے۔ مفکرِ اسلام
مولانا سید ابولاعلٰی مودؔودیؒ جیسی زمانہ ساز شخصیت بھی جو اپنی زورِ صحافت و خطابت سے ساری دنیا میں پہچانی جاتی ہے، کی اولین تصنیف کے دیباچہ میں یہ بات لکھی گئی ہے کہ علاّمہ اقبالؔ نے اس کتاب ’’الجہادفی لاسلام‘‘ کے بارے میں کہاکہ اسے ہر لائبریری میں ہونا چاہیے ۔علاّمہ نے داغؔ دہلوی سے بذریعہ ڈاک اپنی غزلوں کی اصلاح چاہی تھی۔ داغؔ بھی علامہ کی شہرت پر اس بات پر فخر محسوس کرتے تھے ۔غرض علاّمہ اقبالؔ ایسا جوہر بے بہا تھے کہ جس کان سے ہیرا نکلا، جس مزدور نے اسے نکالا ،جس نے اسے تراشا، جس نے اسے جِلا بخشی ،جس دوکان میں رکھا گیا اور جس نے اسے حاصل کیا سب کے نام زمانہ میں مقبول ہوئے اور تاریخ میں محفوظ ہوگئے۔ جب تک اقبالؔ کا نام لیا جاتا رہے گا دنیا اُن سے وابستہ شخصیات کو بھی یاد رکھّے گی۔
علاّمہ اقبالؔ کی مقبولیت کی دلیل اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ آج تک ان کے فن اور ان کی شخصیت پر تقریبًا اردو کے ہر طالب ِ علم نے کچھ نہ کچھور کسی نہ کسی سطح پر ضرور اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اردوداں حضرات کے علاوہ دیگر زبانوں کے اہلِ علمِ حضرات بھی علاّمہ کی ذات اور فن پر بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔ مگر ہنوز یہ سارا کام سمندر میں قطرے کی حیثیت رکھتا ہے۔اور غالب گمانی ہے کہ رہتی دنیا تک اس موضوع پر لکھّاجاتا رہے گا۔

٭٭٭٭٭٭

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook