Home / خبریں / اقبال اورمسلم جمہوریتوں کاسیاسی اتحاد

اقبال اورمسلم جمہوریتوں کاسیاسی اتحاد

شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؔ کی یوم ولادت پر خصوصی پیش کش

20799467_10155616832724399_7581555245326694455_n
٭پروفیسر ڈاکٹر شاہداقبال کامران
شعبۂ اقبال اسٹڈیز
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ، اسلام آباد، پاکستان۔

iqbal_day_1

ABSTRACT
Iqbal`s point of view towards Islam is not conventional, rather he believes that Islam has potentional to adopt it self as per demands and challenges of the ages to come. According to Iqbal Islam is neither Nationalism nor imperialism, he considers Islam as a league of nations. In this perspective Iqbal does not think necessary the revival of the institution of khilaphat. He had a unique concept of the political unity of Muslim republics. His suggestible vision is that every Muslim nation must sink into her own deeper self, in the first phase, and then they become strong and powerful, after that they can form a "living family of republics.”

مسلم ممالک کے سیاسی اتحاد کے بارے میں اقبال کے تصور کی نوعیت اورغایت کو صحیح تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔ اقبال کا رجحان اسلام کو ایک روایتی مذہب خیال کرنے کی طرف نہیں رہا۔وہ اسلام کو ایک ایسا تجربہ قرار دیتے ہیں جو عالم انسانیت کورنگ ٗ نسل و زبان اور علاقے جیسی مادی قیود سے آزاد کرکے یکجا کرنے کی خاطر کیا گیا۔ان کے نزدیک
’’ اگر عالم بشریت کا مقصد اقوام انسانی کا امن ٗ سلامتی اور ان کی موجودہ اجتماعی ہستیوں کو بدل کر ایک واحد اجتماعی نظام قرار دیا جائے تو سوائے نظام اسلامی کے کوئی اور اجتماعی نظام ذہن میں نہیں آ سکتا۔کیونکہ جو کچھ قرآن سے میری سمجھ میں آیا ہے اس کی رو سے اسلام محض انسان کی اخلاقی اصلاح ہی کا داعی نہیں بلکہ عالم بشریت کی اجتماعی زندگی میں ایک تدریجی مگر اساسی انقلاب بھی چاہتا ہے جو اس کے قومی اور نسلی نقطہ نگاہ کو یکسر بدل کر اس میں خالص انسانی ضمیر کی تخلیق کرے‘‘۔(1)
قومی اور نسلی نقطہ نگاہ کو یکسر تبدیل کرکے ایک خالص انسانی ضمیر کی تخلیق کا آئیڈل اپنی جگہ ٗ لیکن بیسویں صدی کے اوایل میں نسلی اور وطنی قوم پرستی نے مغربی اقوام کو انسانی سطح پر کسی وحدت کی طرف مائل کرنے کی بجائے باہم برسر پیکار کردیا۔اقبال نے اس پیکار عظیم اوّل کے وقوع سے بہت پہلے ہی اس کا اندازہ کرلیا تھا ۔ میرا اشارہ اس معروف نظم نما غزل کی طرف ہے جسے اقبال نے کیمبرج سے مخزن کے نام ارسال کیا تھا اور جو مخزن کے مارچ ۱۹۰۷ء کے شمارے کی زینت بنی تھی اور بعد ازاں بانگ درا میں مارچ ۱۹۰۷ء کے زیر عنوان شائع ہوئی ؎
دریارِ مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے! کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زرِ کم عیار ہوگا!
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ٗ ناپائیدار ہوگا
اقبال کے نزدیک ناپائیدار آشیانے کی شاخِ نازک کے دو پہلو تھے ایک نسلی ووطنی قومیت کا تصور ٗ جس نے انسانی مطمح نظر کو محدود اور مجروح کردیا تھا اور دوسرے زر پرستی اور زر طلبی کا جنون ٗ کہ جس نے ایک سیاسی عقیدے کی صورت میں اپنی غارت گری کا آغاز کر دیا تھا اور جسے معروف اصطلاح میں سرمایہ دارانہ نظام کہتے ہیں۔اس نظام سیاست کے انجام کے بارے میں اقبال کا اندازہ پہلی عالمگیر جنگ کی صورت میں درست ثابت ہوا۔ اقبال اس نسلی اور وطنی قومیت کو تہذیب نوی کا تراشیدہ بت قرار دیتے ہیں۔
اپنی ۱۹۱۰ء والی ڈائری میں اقبال Patriotism (وطن پرستی) کے زیر عنوان شذرے میں اپنے اس تاثر کو مزید واضح کرتے ہیں۔
” Islam appeared as a protest against idolatry. And what is patriotism but a subtle form of idolatry; a deification of a material object. The patriotic songs of various nations will bear me out in my calling patriotism a deification of a material object. Islam could not tolerate idolatry in any form. It is our eternal mission to protest against idolatry in all its forms. What was to be demolished by Islam could not be made the very principle of its structure as a political community. The fact that the prophet prospered and died in a place not his birthplace is perhaps a mystic hint to the same effect.”
]’’اسلام کا ظہور بت پرستی کے خلاف ایک احتجاج کی حیثیت رکھتا ہے۔وطن پرستی بھی بت پرستی کی ایک نازک صورت ہے۔ مختلف قوموں کے وطنی ترانے میرے اس دعوے کا ثبوت ہیں کہ وطن پرستی ایک مادّی شے کی پرستش سے عبارت ہے۔ اسلام کسی صورت میں بت پرستی کو گوارا نہیں کر سکتا۔بت پرستی کی تمام اقسام کے خلاف احتجاج کرنا ہمارا ابدی نصب العین ہے۔ اسلام جس چیز کو مٹانے کے لیے آیا تھا ٗ اسے مسلمانوں کی سیاسی تنظیم کا بنیادی اصول قرار نہیں دیا جا سکتا۔پیغمبر ؐ اسلام کا اپنی جائے پیدائش مکہ سے ہجرت فرما کر مدینے میں قیام اور وصال ٗ غالباً اسی حقیقت کی طرف مخفی اشارہ ہے‘‘۔[(3)
وطنی قومیت سے اس قدربے زاری کی دو بڑی وجوہ ٗ اقبال کے معاصر سیاسی تناظر میں کچھ یوں نظر آتی ہیں۔اول یہ کہ وطنی یا جغرافیائی قوم پرستی کا تصور مغرب میں رہبانیت کی طرف مائل مذہب کی عملی سیاسی زندگی سے علیحدگی کے عوض وجود میں آیا۔مغرب نے بنائے اتحاد مذہب کی بجائے ٗ جغرافیے یا وطن کو بنا کر ایک کمی یا خلا کو پورا تو کرلیا لیکن اس کے نتیجے میں بظاہر نظر آنے والی مادی کامیابیوں کے باوجود ٗعالم انسانیت کے وسیع تر مطمح نظر کو نقصان پہنچا ۔پہلی اور دوسری عالمگیر جنگیں اس وطنی اور علاقائی قوم پرستی کے نتائج خیال کی جا سکتی ہیں۔قومیت کا یہی مادی تصور انگریزوں کے زیر نگیں برصغیر میں منتقل ہوا۔اقبال نے بطور ایک سیاسی مدبر کے بھانپ لیا تھا کہ اس سحر انگیز تصور کے لازمی نتیجے کے طور پر برصغیر کے مسلمانوں کو اپنے اسلامی تشخص سے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔لہٰذا تاریخ کے اس فیصلہ کن موڑ اور مقام پر اقبال نے اپنے عقیدے کی روشنی میں مسلمانانِ برصغیر کی سیاسی راہوں کو منور کرنے کی نظریاتی جدوجہد کا آغاز کیا۔خطبہ الہٰ آباد(۱۹۳۰ء) کے آغاز میں اقبال مسیحیت اور اس کے رہبانی نظام ٗ کلیسا کی وسیع آمرانہ حکومت اور اس کے اثرات اور لوتھر کے احتجاج کی وجوہ پر بحث کرتے ہوئے اور اسے درست قرار دیتے ہوئے سیاسیات اور اخلاقیات پر اس کے اثرات کا ذکر کرتے ہیں کہ انہی اثرات کی وجہ سے اہل مغرب کو کسی تصور یا نظریے کی بنیاد پر متحد ہونے کی ضرورت پیش آئی ٗگویا اپنی شناخت کے لیے مذہب کی بجائے دیگر تصورات یا نظریات کی طرف رجوع کرنا پڑا۔ یہ ضرورت وطنی قومیت اور نسلی مطمح نظر پر توجہ نے پوری کردی۔اقبال کے نزدیک اسلام عیسائیت سے بالکل ہی مختلف مذہب ہے ٗ لہٰذا ایسا امکان موجود ہی نہیں کہ اسلام کو بھی عیسائیت جیسے تجربات کا سامنا کرناپڑے۔خطبہ الہٰ آباد میں اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں کے سامنے مستقبل کا سیاسی لائحہ عمل طے کرنے کے لیے ایک بنیادی سوال رکھا یعنی یہ کہ آئندہ کی سیاسی جدوجہد میں مسلمانوں کے لیے ان کے مذہب کی حیثیت کیا ہوگی؟ کیا ان کا مذہب ان کے لیے عملی وسیاسی معنی و مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے؟ یا یہ کہ وہ محض عقائد و توہمات کا ا یک نجی سا سلسلہ ہے جسے دنیاوی مسائل سے الگ تھلگ کر دینا چاہیے؟ دراصل مسلمانانِ برصغیر کی سیاسی زندگی کا یہی وہ مقام ہے جہاں یہ فیصلہ ہونا تھا کہ مسلمان متحدہ قومیت یا وطنی قومیت کے اس جدید سراب میں محو ہو جائیں یا بہ حیثیت مسلمان اپنا الگ تشخص بحال رکھتے ہوئے اپنے لیے علیحدہ سیاسی لائحہ عمل متعین کریں ۔یعنی اپنی شناخت علاقے ،رنگ،نسل اور زبان کی بجائے اپنے مذہب یعنی اسلام سے وابستہ کریں۔ اس طویل پس منظر کو بیان کرنے کا مقصد محض یہ ہے کہ ان وجوہ کو سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ جن کی بنا پر اقبال نے وطنی و جغرافیائی اور نسلی قومیت کے مقابل مسلمانانِ برصغیر کے لیے متبادل کے طور پر ایک ایسی اسلامی بین الاقوامیت کا تصور پیش کیا کہ جو بنیادی طور پر غیر وطنی اور غیر جغرافیائی ہو اور بقول عزیز احمد کے ’’جس میں مرکزِ اتحاد وطن نہ ہو بلکہ اشتراک تمدن ہو‘‘۔ اپنی معروف تالیف اقبال نئی تشکیل میں عزیز احمد نے اس موضوع پر ایک دلچسپ بحث پیش کی ہے اور اس بحث کو سمیٹتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ
’’ یہ بین الاقوامیت ایک طرح سے ایک عالمگیر بین الاقوامیت کا پیش خیمہ ہے ۔ چنانچہ اس سے آگے کی منزل میں مسلمان اور غیر مسلمان کی تمیز باقی نہیں رہے گی۔‘‘(4)
شاید عزیزاحمد یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مذہب وجہ نزاع نہیں رہے گا یا مذہبی امتیاز کی بنا پر پیدا ہونے والا تعصب ختم ہو جائے گا اور محض انسان ہونا ہی بنیادی اہمیت رکھے گا۔ عزیز احمد اس تسلسل میں مزید لکھتے ہیں کہ
’’ جغرافیائی وطن پرستی کی اس تردید کی پہلی بنیاد کلیتاً تمدن ٗ تفکر اور تاریخ اسلام پر مبنی ہے اوراقبال نے واقعہ ہجرت سے یہ مراد لیا ہے کہ یہ دراصل انسان کی جغرافیائی وطن سے علیحدگی ہے اور اصل وطن انسانیت ہے جس میں اجتماعی پیمانہ دینی یا تمدنی وحدت ہے نہ کہ وطنی وحدت‘‘۔(5)
اقبال کے تصور قومیت کی اساس یہی تصورات ہیں اس منفرد تصور قومیت کو ایک تسلسل اور ارتقائی تناظر میں سمجھنے کے لیے ۱۹۱۰ء کا خطبہ علی گڑھ ٗ ملت اسلامیہ کا ایک عمرانی مطالعہ ٗ ۱۹۳۰ء کا خطبہ الہٰ آباد اور ۱۹۳۸ء میں اسلام اور قومیت پر مولانا حسین احمد کے بیان کا جواب ٗ جو روزنامہ احسان ٗ لاہور میں ۹ مارچ ۱۹۳۸ء یعنی اقبال کی وفات سے قریباً ایک ماہ قبل شائع ہوا بنیادی مآخذ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں سے پہلے خطبے میں اقبال نے اپنے تصور قومیت کی عمرانی توضیحات پیش کی ہیں۔ خطبہ الہٰ آباد میں اپنے تصور قومیت کی سیاسی جبکہ مضمون ’’ جغرافیائی حدود اور مسلمان‘‘ میں اقبال نے نہایت صراحت کے ساتھ اپنے تصور قومیت کو خالصاً مذہبی نقطہ نظر سے واضح کیا ہے ۔ بایں ہمہ ٗ اس تصور قومیت نے ہندوستان کی عملی سیاست میں مسلمانوں اور ہندوئوں کے سیاسی راستوں کو جدا جدا کر دیا۔
اگرچہ مسلمانان برصغیر نے صدیوں سے اپنا تاریخی ٗ سیاسی اور ثقافتی رشتہ اقوام ہند کی بجائے مشرق وسطیٰ اور وسطیٰ ایشیا کے ساتھ جوڑ رکھا تھا اور بقول اقبال برصغیر کے آدھے حصے کا رخ مشرق وسطیٰ کی جانب اور پشت ہندوستان کی طرف ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ برصغیر کے مسلمان سلاطین کی طرف سے مرکزی خلافت سے علامتی نسبت کا سلسلہ ٗ یہ سب کچھ یہ باور کرا رہا تھا کہ مسلمانان برصغیر کا مستقبل دنیائے اسلام کے ساتھ وابستہ رہا ہے ۔ خطبہ الہٰ آباد کے آغاز میں اقبال نے نہایت فخر کے ساتھ اس امر کا اظہار کیا تھا کہ
” It cannot be denied that Islam, regarded as an ethical ideal plus a certain kind of polity by which expression I mean a social structure regulated by a legal system and animated by a specific ethical ideal has been the chief formative factor in the life history of the muslims of India. It has furnished those basic emotions and loyalties which gradually unify scattened individuals and groups and finally transfoJrm them into a well-defind people. Indeed, it is no exaggeration to say that India is perhaps the only country in the world where Islam, as a people building force has worked at its best. In India, as elsewhere, the structure of Islam as a society is almost entirely due to the working of Islam as a culture inspired by a specific ethical ideal.”
]’’ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بحیثیت ایک اخلاقی نصب العین اور نظام سیاست کے ٗ اس آخری لفظ سے میرا مطلب ایک ایسی جماعت ہے جس کا نظم و ضبط کسی نظام قانون کے ماتحت عمل میں آتا ہو اور جس کے اندر ایک مخصوص اخلاقی روح سرگرم کار ہو۔اسلام ہی وہ سب سے بڑا جزو ترکیبی تھا جس سے مسلمانانِ ہند کی تاریخ حیات متاثر ہوئی ۔اسلام ہی کی بدولت مسلمانوں کے سینے ان جذبات و طوالف سے معمور ہوئے جن پر جماعتوں کی زندگی کا دارومدار ہے اور جن سے متفرق و منتشر افراد بتدریج متحد ہو کر ایک ممیز و معین قوم کی صورت اختیار کرلیتے ہیں اور ان کے اندر ایک مخصوص اخلاقی شعور پیدا ہو جاتا ہے ۔ حقیقت میں یہ کہنا مبالغہ نہیںکہ دنیا بھر میں شاید ہندوستان ہی ایک ایسا ملک ہے جس میں اسلام کی وحدت خیز قوت کا بہترین اظہار ہوا ہے ۔ دوسرے ممالک کی طرح ہندوستان میں بھی جماعت اسلامی کی ترکیب صرف اسلام ہی کی رہین منت ہے ۔ کیونکہ اسلامی تمدن کے اندر ایک مخصوص اخلاقی روح کارفرما ہے ‘‘۔( 6)
لہٰذا ٗ اقبال کے نظام فکر کے مطابق ٗ ہندوستان کے مسلمانوں کا اجتماعی تجربہ اور اس کے نتائج ہی مسلمان عالم کے سیاسی اتحاد کی اساس بن سکتے ہیں۔ یہاں مسلمانان برصغیر نے رنگ ٗ زبان ٗ نسل ٗ تاریخ ٗ معاشی مفادات اور جغرافیے کو اتحاد و یکجہتی کا جواز اور بنیاد ماننے سے صاف انکار کر دیا۔سیاسیات کا ایک طالب علم جانتا ہے کہ بیسویں صدی کے اوائل میں عربوں کے نسلی تفاخر کے احساس نے اسلام کے وحدت خیز انسانی مطمح نظر کو دھندلا دیا تھا ۔ یا یہ کہ ایرانی مسلمان کے ساتھ ساتھ اپنے ایرانی ہونے پر اور اسی حوالے سے اپنی قبل از اسلام تاریخ کے ساتھ اپنے ذہنی رابطے اور تسلسل پر بھی اصرار کرتے نظر آ جاتے ہیں۔ اسی طرح افغان مسلمان کہ اقبال کو غالباً سب سے زیادہ امیدیں انہی کے ساتھ وابستہ تھی ٗ اپنی دینی حمیت ٗ غیرت اور کہستانی سادگی کے باوجود اپنی رسم اور اپنے رواج اور اپنی قبائلی عصبیت کی گرفت سے اوپر اٹھنے پر تیار نہیں ہوا۔ یہ اعزاز صرف برصغیر کے مسلمانوں کو حاصل ہوا ہے کہ انہوں نے اپنے دینی حوالے کو دیگر تمام نسبتوں پر ترجیح دی اور انہی کے تجزیے کی بنیاد پر عالم اسلام میں ایک ایسے سیاسی اتحاد و یک رنگی کا ظہور قیاس کیا جا سکتا ہے جس کی اساس کامل مساوات کے ا صول پر ہو اور جہاں مسلمانان عالم اپنے انفرادی اور وطنی مطمح نظر ایک طرف رکھ کر حیات و کائنات کے بارے میں ایک جیسے نصب العین کی بنیاد پر متحد ہونے کیلئے آمادہ و تیار ہوں۔ایسے عالمی سیاسی اتحاد کے لیے مسلمان اقوام و ممالک کو اپنی جغرافیائی وحدتوں میں منظم رہتے ہوئے ٗ لیکن اپنے نسلی ٗ لسانی اور وطنی امتیازات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انسانیت کی خاطر یکجا ہونا ہوگا ٗ یہی یک جائی عالم اسلام کے سیاسی اتحاد کے خواب کی تعبیر بن سکتی ہے۔ ایسی تعبیر میں کوئی عرب ہوگا نہ ترک ٗ کوئی ایرانی ہو گا اور نہ ا فغانی اور حبشی سب مسلمان اور انسان ہونے کے احساس کی بنیاد پر ایک ہوں گے اور مزید یہ کہ ایسے عالمی سیاسی اتحاد کے لیے مختلف مسلم ریاستوں کو اپنے فقہی امتیازات سے بھی اوپر اٹھنا ہوگا ۔زمانہ حال کے عالمی سیاسی تجربات نے باور کرادیا ہے کہ ایک طرف مسلم ریاستوں میں سے بعض کا امتیاز سنی ریاست ہونا ہے تو بعض کا شیعہ ریاست ٗ لیکن حکمت فرعونی کے سامنے یہ امتیاز بے معنی ہے ٗ وہ انہیں صرف مسلمان ریاست سمجھ کر اپنی مخالفانہ حکمت اور جارحانہ یلغار کو روبہ عمل لاتا ہے۔ تو کیا ایسے میں ایک عالمگیر اسلامی یک جائی کے لیے جہاں رنگ ٗنسلی اور وطنی مفاخر پر اصرار ترک کرنا لازمی ہے تو وہیں ساتھ ہی ہر مسلم ریاست کا اپنے مذہب فقہ پر اصرار مناسب ہوگا ؟ یقیناً یہ درست ہے کہ یہ مسلم ریاست اپنے ہاں رائے جمہور سے قرآن و سنت کی بصیرت کی روشنی میں قوانین وضع کرنے میں آزاد ہے اور وہ جملہ قوانین اسلامی قوانین ہی ہوں گے لیکن منتخب پارلیمان کے ذریعے ہونے والی یہ قانون سازی بھی عالمگیر اسلامی یک جائی میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔ اگر کسی ایک مسئلے پر مختلف اسلامی ریاستوں کے قوانین میں اصول کی روشنی میں لیکن تعبیر و توضیح کے اعتبار سے فرق بھی ہو تو یہ آزادی رائے اور اصول حرکت کی روح کے عین مطابق ہوگا ۔ یہ ایک دوسرے کے ماحول ٗ تاریخ ٗ رسم و رواج ٗ عرف و عام اور اصول کے مابین یکجائی کا لازمی نتیجہ ہے اور ایک احسن بات ہے ، اقبال کے ہاں ایک تاثر بڑا مضبوط نظر آتا ہے اور وہ یہ کہ وہ شخصی اور مطلق العنان بادشاہوں ٗ آمریتوں اور سرمایہ دارانہ استبدادی حکومتوں کو مسلمان جمہوریتوں کے سیاسی اتحاد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خیال کرتے ہیں۔ زمانہ حال کا تجربہ بھی اقبال کے اس تاثر کی تائید کرتا ہے عالم اسلام کی ترقی ٗ فلاح اور اتحاد و یک جہتی میں مسلمان ممالک کے ملوک و سلاطین اور عسکری غاصب سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ایک طرف جہاں انہوں نے برصغیر میں مسلمانوں کے لیے جداگانہ مسلم ریاست کے مطالبے کی ایک بڑی وجہ یہ بیان کی کہ اس طرح گویا اسلام کو یہ موقع مل سکے گا کہ وہ عرب ملوکیت و شہنشاہیت کے پیدا کردہ جمود کو توڑ ڈالے وہیں، اقبال کے ہاں یہ احساس بھی رہا اسلام کے بین الاقوامی کردار میں شخصی آمریتوں اور مطلق العنان بادشاہوں کا وجود رکاوٹ کا باعث بنے گا ۔ اقبال ۱۹۳۳ء میں اپنے ایک بیان میں وضاحت کرتے ہیں کہ
’’ اسلام ایک عالمگیر سلطنت کا یقیناً منتظر ہے ٗ جو نسلی امتیازات سے بالاتر ہوگی اور جس میں شخصی اور مطلق العنان بادشاہوں اور سرمایہ داروں کی گنجائش نہ ہوگی۔دنیا کا تجربہ خود ایسی سلطنت پیدا کردے گا۔غیر مسلموں کی نگاہ میں شاید یہ محض ایک خواب ہو لیکن مسلمانوں کا یہ ایمان ہے ‘‘۔(7)
یہاں یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ اسلام کا مخاطب صرف مسلمان نہیں بلکہ عالم انسانیت ہے ٗ اسلام دراصل عالم بشریت کی اجتماعی زندگی میں ایک تدریجی مگر اساسی انقلاب بھی چاہتا ہے (8) اقبال وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
’’… قدیم زمانے میں ’’ دین‘‘ قومی تھا۔جیسے مصریوں ٗ یونانیوں اور ہندیوں کا ۔ بعد میں نسلی قرار پایا جیسے یہودیوں کا ۔ مسیحیت نے یہ تعلیم دی کہ ’’ دین ‘‘ انفرادی اور پرائیویٹ ہے جس سے بدبخت یورپ میں یہ بحث پیدا ہوئی کہ دین چونکہ پرائیویٹ عقائد کا نام ہے اس واسطے انسانوں کی اجتماعی زندگی کی ضامن صرف ’’اسٹیٹ‘‘ ہے ۔ یہ اسلام ہی تھا جس نے بنی نوع انسان کو سب سے پہلے یہ پیغام دیا کہ دین نہ قومی ہے نہ نسلی ٗ نہ انفرادی اور پرائیویٹ بلکہ خالصاً انسانی ہے اور اس کا مقصد باوجود تمام فطری امتیازات کے عالم بشریت کو متحد و منظم کرنا ہے‘‘۔(9)
تو ایک اہم نکتہ جو واضح ہو کر سامنے آیا وہ یہ ہے کہ اقبال اسلام کو ایسا دین خیال کرتے ہیں جس کا مقصد عالم بشریت کو تمام تر مادی امتیازات سے بالاتر کرنے اور متحد و منظم ہونے کی طرف مائل کرنا ہے ۔ اس تسلسل میں امر واقعہ یہ ہے کہ دنیائے اسلام کا کوئی بھی ملک یا ریاست اپنے قومی ٗ جغرافیائی اور و طنی مفاخر کی بجائے ٗ صرف اسلامی اور انسانی سطح پر اتحاد ویکجہتی کی طرح قدم بڑھا سکتی ہے ۔
انیسویں اور بیسویں صدی میں مسلمانانِ عالم کا سیاسی زوال اپنی انتہا پر تھا۔اقبال جس ملت کو ملت احمد مرسل ﷺ ٗ ملت اسلام ٗ
ملت بیضا ٗ ملت ختم رسل ﷺ ٗ ملت عربی اور ملت گردوں وقار کہتے ہیں وہ ملت مرحوم اور ملتِ مظلوم بن چکی تھی۔بیسویں صدی میں اسلامی دنیا کا سیاسی زوال اپنی انتہا پر پہنچا اس سیاسی زوال کی نظریاتی وجہ نسلی اور وطنی قوم پرستی کا مغربی تصور تھا کہ جسے استعمار سفید نے اسلامی دنیا میں پھیلا دیا تھا۔خلافتِ عثمانیہ کے اپنے انجام تک پہنچنے کی وجوہ متعدد ہوں گی لیکن بڑی وجہ یہ نبی کہ مغربی تصور قومیت کے رواج یا مقبولیت کی وجہ سے ملت اسلامیہ کی بنائے اتحاد اسلام کی بجائے رنگ ٗ نسل اور علاقہ بن گئی۔عرب قوم پرستی نے آزادی اور مکمل خودمختاری کے نام پر ملت واحد کو تقسیم در تقسیم کرکے ایک ایسے عمل سے دوچار کر دیا ٗ جو ابھی تک جاری و ساری ہے ایک بالکل دوسرے پہلو سے دیکھیں تو خلافت عثمانیہ بطور ایک ادارہ اپنی افادیت اور عالم اسلام کے لیے اپنے اندرمرکزیت کی کشش کو کھو رہا تھا ۔ ایک تو اس سوال کی وجہ سے کہ منصب خلافت کسی فرد واحد کا حق ہے؟ یا اس کے جملہ اختیارات کو کسی منتخب آئینی ادارے کے سپرد کیا جاسکتا ہے؟ چھٹے خطبے ” The principle of movement in the structure of Islam” میں اقبال نے ان نکات پر اچھی بحث پیش کی ہے۔ وہ اشارہ کرتے ہیں عالمگیر خلافت کا تعلق صرف ضرورت اور مصلحت وقت سے ہے۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ دراصل جب تک اسلامی سلطنت قائم و دائم تھی ٗعالمگیر خلافت کے تصور پر عمل ممکن تھا۔لیکن جب یہی اسلامی سلطنت متعدد آزاد خودمختار ریاستوں میں تقسیم ہوگئی تو یہ تصور قابل عمل نہ رہا ۔اقبال کا خیال یہ ہے کہ عصر حاضر میں مسلمان اپنی تنظیم میں عالمگیر خلافت کے اس تصور سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے ٗ بلکہ بعض صورتوں میں تو یہ تصور آزادو خودمختار اسلامی ریاستوں کے اتحاد میں حائل رہا ٗ اقبال ایران کی مثال پیش کرتے ہیں کہ جو ہمیشہ ترکی سے الگ رہا محض اس لیے مسئلہ خلافت میں اس کو عقیدتاً ترکوں سے اختلاف تھا۔(10)
اقبال ملت اسلامیہ کو اپنی سیاسی تاریخ سے بصیرت حاصل کرنے کی دعوت دیتے ہوئے خلافت کے مسئلے پر ترکوں کے طرزعمل کی تحسین کرتے ہیں۔ایسے سیاسی حالات میں اقبال نے عالم اسلام کے سیاسی اتحاد کے لیے جس راہ عمل کی طرف اشارہ کیا ٗ اس کی تہہ میں عالم اسلام کی سیاسی صورت حال بالعموم اور ترکوں کے سیاسی تجربات بالخصوص کارفرما رہے وہ ترک قوم پرست شاعر ضیاء گوک آلپ پاشا کے خیالات میں بھی ایک تازگی اور توانائی محسوس کرتے ہیں ٗ اپنے خطبے الاجتہاد فی الاسلام ٗ میں بھی انہوںنے ضیاء کی بعض منظومات کا حوالہ بڑے پرجوش انداز میں دیا ہے اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اقبال کو ضیاء کے ہاں اس بین الاقوامی نصب العین کی جھلک نظر آتی ہے۔جو دراصل اسلام کا منتہائے نظر ہے مگر جس کو شروع شروع کی عربی شہنشاہیت (دولت امویہ و عباسیہ) نے پس پردہ ہی نہیں ٗ پسِ پشت ڈال رکھا تھا۔(11)
اقبال اس پس منظر میں عالم اسلام کے سیاسی اتحاد کے لیے ایک قابل عمل راہ تجویز کرتے ہیں۔
” For the present every Muslim nation must sink into her own deeper self, temporarily focuse her vision on herself alone, until all are strong and powerful to form a living family of republics.”
]’’بحالتِ موجودہ تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ امم اسلامیہ میں ہر ایک کو اپنی ذات میں ڈوب جاناچاہیے۔اپنی ساری توجہ اپنے آپ پر مرتکز کر دیں ٗ حتیٰ کہ ان سب میں اتنی طاقت پیدا ہو جائے کہ باہم مل کر اسلامی جمہوریتوں کی ایک برادری کی شکل اختیار کرلیں۔‘‘[(12)
اقبال کی اس تجویز کا مطالعہ اقبال کے عہد کی سیاسی صورتحال کو سامنے رکھ کر کرنا چاہیے ۔اقبال غلام ہندوستان کے فرد تھے جہاں مسلمانوں کو اپنی اجتماعی ہستی کی حفظ وبقا کامسئلہ درپیش تھا۔اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں کے اجتماعی شعور کی نمائندگی کرتے ہوئے برصغیر پر قابض انگریزوں ٗ عددی اکثریت کے زعم میں مبتلا ہندوئوں اور بعض نادان نیم سیاسی مسلم تنظیموں کو سیاسی محاذ پر شکست دے کر مسلمانانِ برصغیر کی اجتماعی ہستی کی بقا اور سیاسی زندگی کی آزادی کا اہتمام کیا۔ اقبال کی اس نظریاتی مساعی کا نمونہ آج عالمِ اسلام کے لیے نظریاتی محاذ پرحیاتِ نو کی نوید بن سکتا ہے۔
اقبال کی مذکورہ بالا تجویز بنیادی طور پر سید جمال الدین افغانی کے اتحاد عالمِ اسلامی کے تصور سے متصل معلوم ہوتی ہے ۔ اقبال سید جمال الدین افغانی کا ذکر کرتے ہوئے خاصے پرجوش ہو جاتے ہیں۔
” Maulana syed jamal-ud-Din Afghani was a man of a different stamp. Strange are the ways of providence. One of the most advanced Muslims of our time, both in religious thought and action, was born in Afghanistan. A perfect master of nearly all the Muslim languages of the world and endowed with the most winning eloquence, his restless soul migrated from one Muslim country to another influencing some of the most prominent men in Iran, Egypt and Turkey. Some of the greatest theologians of our time, such as Mufti Muhammad ‘ Abduh. and some of the men of younger generation who later became political leaders, such as Zaghlul Pasha of Egypt, were his disciples. He wrote little, spoke much and thereby transformed into miniature Jamal-ud-Dins all those who came into contact with him. He never claimed to be a prophet or a renewer; yet no other man in our time has stirred the soul of Islam move deeply than he! His spirit is still working in the world of Islam and nobody knows where it will end.”
] ’’ مولانا سید جمال الدین افغانی کی شخصیت کچھ اور ہی تھی۔ قدرت کے طریقے بھی عجیب و غریب ہوتے ہیں۔مذہبی فکر وعمل کے لحاظ سے ہمارے زمانے کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ مسلمان افغانستان میں پیدا ہوتا ہے۔ جمال الدین افغانی دنیائے اسلام کی تمام زبانوں سے واقف تھے۔ان کی فصاحت و بلاغت میں سحر آفرینی و دیعت تھی۔ان کی بے چین روح ایک اسلامی ملک سے دوسرے اسلامی ملک کا سفر کرتی رہی اور اس نے ایران اور ترکی کے ممتاز ترین افراد کو متاثر کیا۔ہمارے زمانے کے جلیل القدر علما جیسے مفتی محمد عبدہ اور نئی پود کے بعض افراد جو آگے چل کر سیاسی قائدبن گئے ٗ جیسے مصر کے زاغلول پاشا وغیرہ انہیں کے شاگردوں میں سے تھے۔انہوں نے لکھا بہت کم اور کہا بہت اور اس طریقہ سے ان تمام لوگوں کو جنہیں ان کا قرب حاصل ہوا، چھوٹے چھوٹے جمال الدین بنا دیا۔ انہوں نے کبھی نبی یا مجدّد ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔پھر بھی ہمارے زمانے کے کسی شخص نے روح اسلام میں اس قدر تڑپ پیدا نہیں کی کہ جس قدر انہوں نے کی تھی۔ان کی روح اب بھی دنیائے اسلام میں سرگرم عمل ہے اور کوئی نہیں جانتا اس کی انتہا کیا ہوگی‘‘[(13)
سید جمال الدین افغانی کی تحریک اتحاد عالم اسلامی کی اساس یہ تھی کہ جملہ اسلامی ممالک میں جمہوری اور دستوری عناصر کو تقویت پہنچائی جائے۔سید جمال الدین افغانی کی اقبال کے نزدیک سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ وہ اپنے عہد کے سب سے زیادہ ترقی پسند مسلمان تھے۔ ان کی اہمیت یہ بھی ہے کہ وہ مسلم ممالک میں ملوکیت ٗ جاگیرداری اور ان دونوں اداروں کے لازمی حصے ملائیت پر ضرب کاری لگاتے ہیں اور نادان مسلمان حکمرانوں کو جمہوری اور دستوری طرز حکومت کی طرف مائل کرتے نظر آتے ہیں۔سید جمال کا تصور یہ تھا کہ آزادخودمختار دستوری و جمہوری مسلم ممالک کے نمائندے ایک کانگرس کی شکل اختیار کرسکتے ہیں دراصل سید جمال الدین افغانی کے نزدیک یہ کانگریس ایک مشرقی جمعیت اقوام یا مسلم ممالک کی جمعیت ہو جو مغرب کی سرمایہ دارانہ شہنشاہیت کے اس بڑھتے ہوئے طوفان کے مقابل مسلمانوں کی اجتماعی حفظ و بقاء کا اہتمام کرسکے ٗ اقبال اس حوالے سے خود کو سید جمال کے تصور کے قریب پاتے ہیں۔اگرچہ اقبال کسی اسلامی سیاسی وفاق یا اسلامی کانگریس وغیرہ کا کوئی نہایت واضح مربوط اور منظم تصور پیش نہیں کرتے۔لیکن مغرب کے سرمایہ دارانہ استبداد کا مقابلہ اور مسلمانان عالم کو بالخصوص اور اقوام مشرق کو بالعموم اس مقابلے کیلئے تیارکرنے کا عزم ضرور رکھتے ہیں اور اسی عزم کو بنائے اتحاد بنانا چاہتے ہیں۔
صحبتِ اقوام کے بارے میں اقبال کا تصور نہایت واضح اور روشن ہے ضرب کلیم کی ایک معنی خیز نظم ’’مکہ اور جنیوا‘‘ میں اقبال کہتے ہیں ؎
اِس دور میں اقوام کی صُحبت بھی ہوئی عام

پوشیدہ نگاہوں سے رہی وحدتِ آدم
تفریقِ ملل حکمت افرنگ کا مقصود

اسلام کا مقصود فقط ملتِ آدم!
مکے نے دیا خاکِ جنیوا کو یہ پیغام

جمعیتِ اقوام کہ جمعیتِ آدم!
اقبال کے نزدیک جمعیتِ آدم کی منزل اسلام کا حقیقی مطمح نظر اور مسلمانان عالم کی جملہ اجتماعی سیاسی مساعی اور جدوجہد کا مقصود ہونا چاہیے۔یہی وجہ ہے کہ اسلامی تمدن کا رخ اور اسلامی ثقافت کی روح دیگر اقوام و ممالک کے تمدن اور ثقافت کے ساتھ تصادم اور کشمکش کا رویہ اپنے اندر نہیں رکھتے۔ویسے بھی تہذیبوں کے تصادم کا نظریہ متعدد وجوہ کی بنا پر قابل اعتناء نہیں ہے۔ثقافت کسی بھی قوم کے طرز فکر اور طرزعمل میں کارفرما روح کا نام ہے اور اسی کے جملہ مظاہر کو ثقافت ٗتہذیب اور تمدن کا نام دیا جاتا ہے۔ثقافت کے اثرونفوذ کا طریقہ اور سلیقہ اس قدر غیر محسوس اور غیر مرئی ہوتا ہے کہ اس کی پیمائش محاربے یا تصادم کے پیمانے سے نہیں کی جا سکتی۔انسان اور اقوام کی فطرت خودبخود احسن کی طرف رغبت کرے گی اور ناقص سے بتدریج کنارہ کرے گی۔زمانہ حال میں قیاس چاہتا ہے کہ اسلامی ثقافت کے غیر محسوس اثرونفوذ اور قبولیت نے اقوام مغرب کے بعض دانشوروں کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے اور وہ تہذیبی عمل اور ثقافتی نفوذ کو حربی پیمانوں سے ناپنے لگے ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ انسان کی تقدیر تفریق و تقسیم میں نہیں وحدت و یکجہتی میں ہے اور بطور اصول اقبال توحید سے یہی مراد لیتے ہیں۔
” The essence of Tawhid, as a working idea, is equality, solidarity and freedom.”(14)
توحیدکے معنی و مطالب کی یہی عمل کاری افراد و اقوام کی زندگیوں میں اساسی انقلاب کا باعث بنتی ہے۔مثنوی رموزِ بے خودی میں بھی اقبال نے توحید کو ملت اسلامیہ کا بنیادی رکن اول قرار دے کر توحید کے وحدت خیز اور ملت ساز اثرات کی طرف اشارے کئے ہیں۔اسی تناظر میں اقبال صحبت اقوام کی بنیاد وحدت آدم کو بناتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ عالم انسانیت کو جمعیت اقوام کی بجائے جمعیت آدم کو اپنی توجہ کا مرکز و محور بنانا چاہیے۔
اقبال کے مسلم جمہوریتوں کے اتحاد کے تصورکو اقبال کی معاصر عالمی سیاسی صورتحال کے تناظر میں سمجھنے کے لیے اقبال کا ایک مکتوب محررہ 22اگست 1910ء بنام گوہر علی خان بڑی اہمیت رکھتا ہے۔اس خط سے یہ سراغ بھی ملتا ہے کہ ممالک اسلامی کے ایسے سیاسی اتحاد کو ممالک مغرب کے خلاف محاذ تصور نہیں کرتے تھے اور مسلمانان عالم کے کسی بھی عالمگیر اتحاد کو مغرب کے خلاف صف آرائی قرار دینے یا تصور کرنے کے خیال کی سختی سے تردید کرتے تھے۔
ایک فرانسیسی صحافی کی اختراع پین اسلامک ازم کے بارے میں اقبال کے بیانات بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں اس خط کا محل یہ ہے کہ 1909ء میں مصر پین اسلامک ازم میں ایک عالمگیر اسلامی کانفرنس کے انعقاد اور اس میں مسلمانان ہند کی شرکت کے بارے میں گوہر علی خان نے بعض نمایاں دانشوران ہند سے رائے طلب کی تھی۔بعض نے اس میں شرکت کی صلاح دی اور بعض نے ایسی کانفرنس کے سود مند اور مفید ہونے کے بارے میں شکوک کا اظہار کرتے ہوئے اس سے الگ رہنے کی رائے دی تھی اقبال بھی انہی زعماء میں شامل تھے۔اقبال کا مذکورہ خط بھی اس سلسلے میں گوہر علی خان کو لکھا گیا تھا یہ خط 1910ء کو لکھا گیا تھا لیکن اس میں اقبال کا موقف کم و بیش وہی ہے جو بعد ازاں چھٹے خطبے اسلام کی ہیت ترکیبی میں اصول حرکت یا الاجتہاد فی الاسلام میں پیش کیا تھا۔ یعنی یہ کہ موجودہ حالات میں امم اسلامیہ کو اپنے حالات و معاملات کی طرف متوجہ رہتے ہوئے خود میں اتنی طاقت پیدا کرنی چاہیے کہ بالآخر سب اسلامی جمہورتوں کی ایک برادری کی صورت اختیار کرلیں۔اس خط میں اقبال نے وضاحت کی کہ اس عالمگیر اسلامی کانفرنس کا محرک ایک روسی اخبار نویس ہے اور غالباً یہ تجویز مسلمانان عالم کی قومی اور معاشرتی اصلاح کی غرض سے پیش کی گئی تھی۔لیکن ممالک اسلامیہ یعنی ترکی ٗ ایران اور مراکو وغیرہ کے دگر گوں سیاسی حالات و واقعات کی وجہ سے یہ تجویز مرکز توجہ نہ بن سکی اقبال لکھتے ہیں کہ
’’ موجودہ حالات میں اسلامی دنیا پولیٹیکل انقلابات سے آزاد نہیں ٗ پھر کیوں کر ممکن ہو سکتا تھا کہ اس قسم کی کانفرنس کا انعقاد کیا جاتا ۔‘‘(15)
یہاںاس امر کی طرف بھی متوجہ رہنا چاہیے کہ اس وقت جملہ اسلامی ممالک یا تو مغربی ممالک (برطانیہ ٗ فرانس وغیرہ) کے مقبوضات تھے یا جو ملک مقبوضہ نہیں بھی تھے وہ بھی انہی مغربی ملکوں کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا بری طرح شکار تھے مثلاً ترکی اور ایران ٗ اب اس سیاسی صورتحال کو استعمار کے زاویہ نگاہ سے سمجھنے کی کوشش اگر کی جائے تو اس کا صاف اور سیدھا مطلب یہ نکلتا ہے کہمسلمانان عالم کی اصلاح اور بیداری کی ہر تحریک کا مطلب مغربی استعمار کے مفادات کو شدید نقصان پہنچانا ہے اور مقبوضات میں بیداری کا ایک مطلب بغاوت بھی ہے۔دوسری طرف عالم اسلام کے نقطہ نظر سے ٗ غلامی اور ابتلا کے دور میں بھی پہلی ترجیح آزادی اور استحکام کا اہتمام ہے نہ کہ مغرب کے ساتھ جنگ و جدل کا ۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال نہایت احتیاط سے اس خیال ٗ تجویز یا تصور کی نفی کرتے رہے جس کا مطلب حقیقی یا فرضی طور پر یورپ کے ساتھ مسلمانوں کا بہ حیثیت ایک ملت محاربہ اور تصادم ہو ٗ اسلامزم کے تصور پر اقبال کے اعتراض کی وجہ بھی یہ ہے یعنی یہ کہ مسلمانان عالم مغرب کے خلاف اپنی موجودہ حالت میں کوئی ’’سازش‘‘ نہیں کر رہے۔اس خط میں اقبال لکھتے ہیں کہ
’’پان اسلامزم کا خوف بالکل بے معنی ہے اور فرانس کے چند احمق اخباروں کی ہرزہ سرائی کا نتیجہ ہے۔مسلمانان عالم کی کسی ملک میں کوئی ایسی تحریک عام طو پر نہیں ہے جس کامنشا یورپ سے پولیٹیکل مقابلہ کرنا ہو ٗ نہ ایسا خیال ایک ایسی قوم میں پیدا ہوسکتا ہے ۔مسلمانوں کو کلام الہٰی میں امن اور صلح کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔‘‘(16)
یہاں ایک تصور تو واضح ہو جاتا ہے کہ اقبال کے نزدیک مسلمانانِ عالم کا سیاسی اتحاد بنیادی طور پر کسی دوسری سیاسی وحدت کے خلاف تشکیل نہیں پائے گا۔جیسا کہ چھٹے خطبے میں بھی اقبال اس طرف توجہ دلاتے ہیں کہ مسلمانوں کا سیاسی اتحاد آزاد اور خودمختار وحدتوں کی ایسی کثرت میں وقوع پذیر ہوگا جن کی نسلی رقابتوں کو مشترک روحانی نصب العین نے ختم کردیا ہو۔اقبال نے زور دے کر یہ بات بارہا کہی ہے کہ اسلام نہ تو وطنیت ہے ا ور نہ شہنشاہیت ٗبلکہ ایک انجمن اقوام۔
” Islam is neither Nationalism nor Imperialism but a leage of Nations….”(17)
ایسے اسلامی سیاسی اتحاد کے لیے اقبال ہمیشہ کوشاں رہے ٗ لیکن اس ضمن میں ان کا رویہ ہمیشہ نہایت محتاط رہا۔1910ء والے اس خط میں لکھتے ہیں کہ
’’ عالمگیر اسلامی کانفرنس مصر کا میں مخالف نہیں ہوں بشرطیکہ اسلامی ملکوں کی پالیٹکس سے اسے بالکل علاحدہ رکھا جائے اور اس کی تجاویز مسلمانوں کی سوشل اور مذہبی اصلاح تک محدود ہوں۔لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ دنیا کی گورنمنٹس ضرور اسے بدظنی کی نگاہ سے دیکھیں گی۔میں اس قسم کی تجویز کا ٗ جس کا مقصد مسلمانوں کی بہتری ہو کس طرح مخالف ہوسکتا ہوں۔خصوصاً اس لحاظ سے بھی کہ ایسی کانفرنس کی تجویز اس روسی اخبار نویس کی تحریک سے کئی ماہ پیشتر خود میرے ذہن میں آ چکی تھی اور میں نے لنڈن میں اپنے دوست شیخ عبدالقادر صاحب سے اس کا ذکر بھی کیا تھا۔ایک عام معاشرتی اور تمدنی کانفرنس کے انعقاد سے مسلمانوں کو ضرور فائدہ ہوگا اور قومیت کی ایک نئی روح ان میں پیدا ہوگی لیکن یہ کام مشکل ہے اور اس کے سرانجام کرنے کے لیے انتہا درجہ کے استقلال اور عاقبت اندیشی کی ضرورت ہے۔عام لوگوں کو یہ تجویز نہایت دلفریب معلوم ہوتی ہے اور منتظموں کے قومی تخیلات اس سے تحریک میں آتے ہیں مگر وہ لوگ اس کی مشکلات سے آگاہ نہیں ہیں اور مسلمانانِ عالم کی موجودہ حالت کے تمام کوائف سے ان کو واقفیت نہیں ہے۔بڑا سنبھل کر قدم رکھنا چاہیے اور جب تک ہم کو پورا یقین نہ ہو جائے کہ کسی بد نتیجہ کے پیدا ہونے کا احتمال بھی نہیں ہے تب تک کوئی عملی کام کرنا شاید مناسب نہ ہوگا۔‘‘(18)
اپنے اس خط میں اقبال نے متوجہ کیا کہ مسلمانوں کی عالمگیر کانفرنس تو مکہ معظمہ میں ہر سال منعقد ہوتی ہے ۔عالمگیر اسلامی کانفرنس کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ
’’ جو مقصد اس قسم کی کانفرنس سے پورا ہو وہ مکہ معظمہ کی سالانہ کانفرنس سے ہوسکتا ہے ٗ افسوس مسلمان اس سے فائدہ اٹھانا نہیں جانتے۔تاہم مجھے یقین ہے کہ وہ وقت قریب ہے جب مسلمان اس رمز سے آگاہ ہوں گے جو فریضہ حج میں مختص ہے ۔‘‘(19)
مثنوی رموز بے خودی میں اقبال نے اسی موضوع پر ایک علیحدہ عنوان قائم کیا کہ حیات ملیہ کے لیے ایک مرکز محسوس ضروری ہوتا ہے اور ملت اسلامیہ کا مرکز بیت الحرام ہے۔
اپنے ایک اور خط (محررہ 8 مئی 1922ء بنام پروفیسر منیر اکبر) میں بھی اقبال نے اتحاد کی شدید ضرورت کا احساس دلایا ہے خصوصاً ایشیا کی مسلمان اقوام کو لکھتے ہیں کہ:
’’ مغربی اور وسطی ایشیا کی مسلمان قومیں اگر متحد ہو گئیںتو بچ جائیں گی اور اگر ان کے اختلافات کا تصفیہ نہ ہوسکا تو اللہ حافظ ہے۔مضامین اتحاد کی سخت ضرورت ہے۔ میرا مذہبی عقیدہ یہی ہے کہ اتحاد ہوگا اور دنیا پھر ایک دفعہ جلال اسلامی کا مظاہرہ دیکھے گی۔‘‘(20)
اقبال کے نزدیک ایک دفعہ پھر جلال اسلامی کا نظارہ دکھانے والا عالم اسلام کا حقیقی اور موثر اتحاد اگر ظہور پذیر ہوگا تو
” It is truly manifested in a multiplicity of free independent units whose racial rivalries are adjusted and harmonized by the unifying bond of a common aspiration. It seems to me that God is slowly bringing home to us the truth that Islam is neither Nationalism nor Imperialism but a League of Nations which recognizes artificial boundaries and recial distinctions for facility of reference only, and not for restricting the social horizon of its members.”
’’ آزاد اور خودمختار وحدتوں کی ایک ایسی کثرت میں جن کی نسلی رقابتوں کو ایک مشترک روحانی نصب العین نے توافق و تطابق سے بدل دیا ہو۔میں تو کچھ یونہی دیکھ رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ شاید ہم مسلمانوں کو بتدریج سمجھا رہی ہے کہ اسلام نہ تو وطنیت ہے ٗ نہ شہنشاہیت ٗ بلکہ ایک انجمن اقوام ٗ جس نے ہمارے خود پیدا کردہ حدود(قومی ٗ وطنی ٗ نسلی ٗ جغرافیائی ) اور نسلی امتیازات کو تسلیم کیا ہے تو محض سہولت تعارف کیلئے ٗ اس لیے نہیں کہ اس کے ارکان اپنا اجتماعی مطمح نظر محدود کرلیں۔‘‘( 21)
حوالے /حواشی

-1 مضمون: جغرافیائی حدود اور مسلمان ٗ حرف اقبال (اسلام آباد : علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ٗ اشاعت اول اگست 1989ء) ص 223,222
-2 نظم : وطنیت ٗ بانگ درا ٗ کلیاتِ اقبال (لاہور: شیخ غلام علی اینڈ سنز ٗ طبع سوم 1996ء)
3- Muhammad Iqbal, stray replections, edited by Dr. Javid Iqbal(Lahore: Iqbal Academy of Pakistan, 3rd edition, 2006) P 35
-3 محمد اقبال شذراتِ فکراقبال ٗ اردو مترجم :ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی ٗ مرتبہ ڈاکٹر جاوید اقبال
(لاہور:مجلس ترقی ادب ٗ طبع دوم1983ء) ص 83
-4 عزیز احمد ٗ اقبال نئی تشکیل (لاہور:گلوب پبلشرز ٗ 1968ء) ص47
-5 عزیزاحمد ٗ اقبال نئی نشکیل ٗ ص48,47
6- Muhammad Iqbal, Presidential address to she all India Muslim League, Discourses of Iqbal edited by Shahid Hussain Razzaqi, (Lahore: Iqbal academy Pakistan, 2nd edition, 2003) P 76
-6 محمد اقبال ٗ خطبہ الہٰ آباد ٗ ص 20
-7 محمد اقبال ٗ گفتار اقبال مرتبہ محمد رفیق افضل ٗ (لاہور : ادارہ تحقیقات پاکستان ٗ دانشاہ پنجاب ٗ طبع سوم 1986ء) ص 178
-8 محمد اقبال ٗ جغرافیائی حدود اور مسلمان ٗ حرف اقبال ص 223
-9 محمد اقبال ٗ جغرافیائی حدود اور مسلمان ٗ حرف اقبال ٗ ص 223
10- Muhammad Iqbal, The Priciple of movement in the structure of Islam, The reconstruction of religious thought in Islam, edited by M.Saeed Sheikh, (Lahore: Iqbal academy of Pakistan / Insititute of Islamic 2nd edition 1989) P 125
11- Muhammad Iqbal, The reconstruction, P 125
12- Muhammad Iqbal, The reconstruction, P 12ٰ
-12 محمد اقبال ٗ تشکیل جدید ٗ ص 245
13- Muhammad Iqbal, Discourses of Iqbal edited by Shahid Hussain Razzaqi, (Lahore: Iqbal academy of Pakistan, 2nd edition, 2003) P 254
-13 محمد اقبال ٗ حرف اقبال ص 137
14- Muhammad Iqbal, The reconstruction, P 122
-15 محمد اقبال ٗ مکتوب بنام گوہر علی خان ٗ مشمولہ کلیات ٗ مکاتیب اقبال ٗ جلد اول
(دہلی :اردو اکادمی ٗ اشاعت چہارم 1993ء) ص214
-16 محمد اقبال ٗ کلیات مکاتیب اقبال ٗ اول ٗ ص216
17- Muhammad Iqbal, The reconstruction, P 126
-18 محمد اقبال ٗ کلیات مکاتیب اقبال ٗ اول ٗ ص 215
19 محمد اقبال ٗ کلیات مکاتیب اقبال ٗ ص215
-20 محمد اقبال ٗ مکتوب بنام پروفیسر محمد منیر اکبر مشمولہ کلیات مکاتیب اقبال ٗ جلد دوم
(دہلی : اردو اکادمی ٗ اشاعت دوم ٗ 1993ء) ص 353
21- Muhammad Iqbal, The reconstruction, P 126
-21 محمد اقبال ٗ تشکیل جدید ٗ ص246

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook