Home / خبریں / انقرہ یونیورسٹی انقرہ کی جانب سے منعقد پہلی بین الاقوامی اردو ادب کانفرنس کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر

انقرہ یونیورسٹی انقرہ کی جانب سے منعقد پہلی بین الاقوامی اردو ادب کانفرنس کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر

یہ بین الا قوامی سیمینار ’مطالعہ ندیمیات ‘ نئے دروا کرے گا : پروفیسر ارتضیٰ کریم

کانفرنس میں احمد ندیم قاسمی کی تفہیم کے لیے نئے پہلو سامنے آئے ہیں : ناہید قاسمی

٭ ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ کی رپورٹ

14708322_10154174760818752_3957188998388596830_n

انقرہ ،انتالیہ، ترکی، (18 اکتوبر2016 )۔ترکی کے معروف مقام سیاحت انتالیہ میں انقرہ یونیورسٹی کی جانب سے منعقد پہلی بین الاقوامی اردو کانفرنس کا شاندار طریقے سے اختتام ہوا۔ آ خری اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پرفیسر ارتضیٰ کریم ( ڈائرکٹر، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی ) نے کہا ’’ یہ پہلی بین الا قوامی کانفرنس ’مطا لعہ ندیمیات ‘کے نئے دروا کرے گی۔ انقرہ یونیورسٹی کی یہ کوشش ہند و پاک میں بھی اپنے اثرات قائم کرے گی۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے اس موقعے پر اعلان کیا کہ احمد ندیم قاسمی پر پڑھے گئے مقالات کو قومی کونسل احمد ندیم قاسمی نمبر کی شکل میں اپنے سہ ماہی مجلہ فکر و تحقیق میں شائع کرے گی۔
14671331_10154174755263752_230831534805169443_n
اختتامی اجلاس کو خطاب کر تے ہوئے محترمہ ناہید قاسمی نے کہا کہ مجھے بے انتہا خوشی کا احساس ہورہا ہے کہ میں اپنے والد کے صد سالہ یوم پیدائش پر منعقدہ پہلی عالمی کانفرنس میں بہ نفس نفیس موجود رہی۔ کانفرنس میں احمد ندیم قاسمی کی تفہیم کے نئے نئے پہلو سامنے آئے ہیں۔
کانفرنس کی روح رواں انقرہ یونیورسٹی کی صدر شعبہ اردو محتر پروفیسر آسماں ہیلن آزکن نے بے حد جذباتی لہجے میں شرکا کا شکریہ اداکیا۔ معروف نقاد پروفیسر انوار احمد نے اس موقعے پر کہا کہ ہم سب انقرہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے شکر گزار ہیں جس کے سبب ایک اتنا بڑا ادبی جشن منعقد ہو پایا۔ محترم اصغر ندیم سید، پروفیسر انل کمار رائے اور پروفیسر شاہد اقبال کامران نے بھی اس موقع پر اظہار خیال کیا۔
14670828_1840769592878287_2142790385848149652_n
آٹھویں اجلاس کی صدارت دہلی یونیورسٹی کے شعبہ ہندی کے پروفیسر انل کمار رائے نے کی اور دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد قادری نے ’ریاست جموں کشمیر میں ترجمے کی روایت‘ پر اپنا مقالہ پیش کر تے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں ترجمے کی روایت کو ریاست جموں کشمیر کے دارالترجمہ نے خاصی تقویت عطاکی۔ مہاراجہ رنبیر سنکھ نے ریاست میں ترجمے کے کام کو دوام عطاکیا۔ ان کے علمی کارناموں کے سبب انہیں سرسید ثانی بھی کہا جاتا ہے۔
14716236_1839759576312622_7875810159518812483_n
نویں اجلاس کی صدارت ڈاکٹر رجب درگن نے کی اور ڈاکٹر فرحت جبیں ورک نے ’کرنل مسعود اختر شیخ کے تراجم کا ترک پاک رشتوں پر اثر‘ میں کرنل مسعود کے ذریعہ ترکی کے 32 ادیبوں کی کہانیوں کے ترجمے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی محترمہ پروفیسر انوپما (شعبہ ہندی، انقرہ یونیورسٹی) نے ترکی اور ہندوستانی زبانوں کا تعلق کے موضوع پر مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردو اور ہندی میں بے شمار الفاظ ترکی کے پائے جاتے ہیں۔ شلوار، چہرہ، کتاب، قلم جیسے بہت سے لفظ ہیں جو ترکی اور ہندوستان میں بولے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر رجب نے دونوں مقالات کو بہتر قرار دیا۔

14681814_1840840126204567_5613227179104208619_n
14713672_10154174667198752_2385706366344649297_n

14718622_10154174684123752_1231757661574276196_n

14721757_10154174759098752_8698056349648137890_n
14716315_1840800602875186_8235253682355159751_n

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook