Home / خبریں / اُردوافسانہ اوراساطیر،ایک مطالعہ

اُردوافسانہ اوراساطیر،ایک مطالعہ


٭ رفیعہ سرفراز

اُردو اَفسانہ اور اَسَاطِیر ،پی ایچ ڈی کے لیے سر قاضی عبدالرحمن عابد کے مقالے کا موضوع تھا، جو اب کتابی شکل میں ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اِس سے قبل میں ان کی ایک کتاب، اساطیر، کتھا کہانی اور مابعد جدید تناظر، پہ اپنی رائے دے چکی ہوں ۔جس کی پذیرائی نے مجھے حوصلہ دیا اور میں اب ان کی کتاب اُردو افسانہ اور اساطیر پہ اپنا حاصلِ مطالعہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کرنے جا رہی ہوں۔
اسطورہ، اساطیر، متھ، دیو مالا، علم الاصنام، کئی نام ہیں، اہل علم ان اصطلاحات کی تشریح میں کہیں سے کہیں جا نکلے لیکن ان سب معانی کا بنیادی ربط ایک رہا ۔اُردو افسانہ اور اساطیر کے پہلے باب میں اساطیر کی تعریف، حدود، امکانات، مختلف لغات اور ماہرین کی آرا کی روشنی میں زیرِ بحث لائے گئے ہیں ۔لسان العرب، تاج العروس، المورد، جیسی لغات کی مدد سے ایک تعریف متعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ رشید ملک وزیر آغا اور رحمان مذنب کی آراء کے حوالے بھی جا بجا موجود ہیں ۔ انگریزی انسائیکلوپیڈیاز کے اقتباس بھی مزید تفہیم کے لیے نقل کیئے گئے ہیں ۔آخر میں اساطیر یا اسطورہ کی تعریف کچھ یوں متعین کی ہے ۔بیانیہ کی ایک قسم، قصہ، کہانی، روایتی داستان، فوق الفطرت واقعات، اوہام، جھوٹ، تحیر، اساطیر، دنیا کی تمام تہذیبوں کی زبان رہی ہیں جس میں معاشرے نے اپنے آپ کو پورے ثقافتی تنوع کے ساتھ ظاہر کیا ہے۔ انھی تنوعات سے اساطیر شناسی کے مختلف طریقوں نے جنم لیا ۔اس باب میں سر قاضی عابد اپنے قاری کو علم الاصنام کی بھول بھلیوں میں گھماتے تصوف کی وادیوں میں لا چھوڑتے ہیں ۔انھوں نے حضرت عیسٰی کی زندگی، معراج، کربلا اور اس سانحے سے جڑے انتظار کے اساطیری پہلوؤں کو اُجاگر کیا ہے۔
دوسرے باب میں اُردو داستانوں میں اساطیری عناصر پر بحث ہے ۔طلسمات، خیرو شر کی قوتیں، جن بھوت، پری، دیو، ان داستانوں کی اساطیری کردار ہیں ،قصہ مہر افروز، عجائب القصص، باغ و بہار، الف لیلیٰ لیلہ داستانوں میں یہ کردار موجود ہیں۔
تیسرے باب کا موضوع اُردو افسانے میں اساطیری عناصر 1903 سے 1947 کے افسانوی ادب کے اساطیری پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے ۔اس ضمن میں اُردو افسانے کی تشکیل میں مغرب سے مرعوبیت پر سر قاضی عابد طنز کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
یوں لگتا ہے کہ افسانے کی صنف کو ہم نے باقاعدہ کسٹم ڈیوٹی ادا کرکے مغرب سے درآمد کیا ہے ۔یلدرم جس پہ انگریزی کے افسانہ نگاروں کا اثر موجود ہے کے افسانے، خارستان و گلستان اور یلدرم کی اور ایک کہانی حضرت دل کی سوانع عمری کے اساطیری پہلو خود حضرت دل کی زبانی کچھ یوں بیان ہوئے ہیں ۔نجد میں مجھے لیلی نے پریشان کیا، ایران میں شیریں کے ہاتھوں بہت بھٹکا، مگر آہ شکنتلا! شکنتلا وہ مجھ پہ بہت مہربان تھی، لیکن او ہیلن، بے پروا تھی کیسی بے پروا کہ لاکھوں خلقِ خدا کا خون کر گئ ۔پریم چند کے بعد سلطان حیدر کے دو افسانوں، نرگس خود پرست، اور ،پہلا گناہ ،اساطیری مطالعے کے لیے منتخب کیے گئے ۔نرگس خود پرست یونانی دیومالا کے دو کرداروں کی کہانی ہے اور پہلا گناہ قصہ ہابیل و قابیل ہے۔نرگس خود پرست پہ بحث اُٹھاتے ہوئے سر قاضی کہتے ہیں کہ یہ افسانہ کئ حوالوں سے اہم ہے۔
پہلی بات، بیان کا حسن اسطیری کرداروں کی کشمکش اور ان کی کمزوریاں، افسانے کی فضا میں اُلوہیت کی موجودگی۔ آگے بڑھ کر کچھ اور افسانوں اور افسانہ نگاروں کے تذکرے کے بعد مرزا ادیب کی اولین کتابوں، صحرانورد کے خطوط، اور، صحرا نورد کے ارمان، میں مصر کی اساطیری فضا کی بازیافت کی گئی ہے ۔پاکستان میں اُردو افسانے میں اساطیر کے عناصر ے سلسلے میں قرۃ العین حیدر، انتظار حسین اور چراغ حسن حسرت کے مہابھارت کہانیوں کے آزاد تراجم پیش کیئے گئے ہیں ۔ سر قاضی، ڈاکٹر انوار احمد اور ڈاکٹر فاروق عثمان کی آراء کے ساتھ پاکستانی افسانوں کی اساطیری جہات کو نمایاں کرتے چلے جاتے ہیں ۔ انتظار حسین کے افسانے زرد کتا کے اساطیری علائم اور کئی دیگر افسانوں اور افسانہ نگاروں کو ذکر کرنے کے بعد اگلا ایک باب ہندوستانی اُردو افسانے میں اساطیری عناصر کی بازیافت ہے۔
اس کتاب کے آخری حصہ میں اساطیر کے افسانے پر عمومی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے سر قاضی کہتے ہیں ۔اساطیر، افسانے کے لیے ایک مواد مہیا کرتی ہے ۔جس سے اِس تہذیب کے لوگ کسی نہ کسی سطح پر روشناس ہوتے ہیں ۔اساطیر افسانے کے موضوع، کردار اور کہانی کو استناد بخشتی ہے۔اساطیر اور افسانے کے تال میل سے مفہوم کی کئ تہیں پیدا ہو جاتی ہیں اور کہانی کی توضیح کئی سطحوں پہ ممکن ہو جاتی ہے۔
جبر کے دنوں میں جب پرندے بھی بستی چھوڑ جاتے ہیں تو اساطیر ہمارے ابتدا کے دنوں کو بیان کرنے کے لیے اپنا علامتی نظام پیش کرتی ہے۔افسانے میں اساطیر کی شمولیت نے افسانے کے موضوع، تکنیک اور اُسلوب تینوں پر اپنے واضح اثرات مرتسم کیئے ہیں۔
ڈاکٹر سر قاضی عابد کی یہ کتاب مجلس ترقی ادب نے لاہور سے شائع کی ہے۔ 400صفحات کی کتاب اپنے موضوع کے حوالے سے ثروت مند ہے اور قاری کی علمی تشنگی کا ازالہ کر دینے والے مواد کے ساتھ ہراچھے بک اسٹور پر دستیاب ہے۔

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook