Home / خبریں / اُردو افسانہ فن اور روایت

اُردو افسانہ فن اور روایت

٭کہکشاں جبین
ریسرچ اسکالر ،عثمانیہ یونیورسٹی، حید ر آباد

انسان اس کرہ ارض کی سب سے عظیم الشان مخلوق ہے۔قدرت نے انسان کو عقل اورعلم کی دولت سے نوازا‘اسے بات کرنے کی صلاحیت دی اور اسے اشرف المخلوقات کا لقب دیا۔انسانی تہذیب ک تاریخ بہت قدیم ہے۔قصہ سننا اور سنانا انسان کا محبوب مشغلہ رہا ہے یہی وجہہ ہے کہ قصہ گوئی کی تاریخ بھی اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ انسانی تاریخ۔ابتدائے آفرینش سے انسان اس سر زمین کا سب سے عقل مند جاندار رہا ہے۔ ابتدائی زندگی میں انسان کے پاس زندگی کے وسائل کم تھے۔ وہ جانوروں کا گوشت‘ترکاری اور پھل کھاکر‘درختوں کے پتے اوڑھ کرغاروں اور پہاڑوں میں زندگی گذارتا تھا۔ انسان نے دیکھا کہ اس زمین پر اس سے طاقت ور اور بڑے جانور ہیں۔ بلند آسمان ہے۔ سورج چاند ستارے ہیں۔ طوفانی ہوائیں ہیں ‘تیز بہنے والے دریا ہیں۔ گہرے اور وسیع و عریض سمندر ہیں۔ انسان کو محسوس ہوا کہ اس سے بڑی طاقتیں بھی اس دنیا میں ہیں۔ انسان انہیں اپنے قابو میں کرنے اور ان پر اپنی برتری ظاہر کرنے کے خواب دیکھنے لگا۔ انسان چاہتا تھا کہ وہ پرندوں کی طرح ہوا میں اڑے۔ بڑے بڑے جانوروں کو اپنی طاقت سے زیر کرے۔ وہ لوگوں کی نظروں سے غائب ہوکر حیرت انگیز کارنامے کرے۔ اگر اسے کچھ زخم آجائے تو ایسا مرہم استعمال کرے کے پلک جھپکتے میں اس کے زخم مندمل ہوجائیں۔ اور وہ ہر اس بات کا خواب دیکھنے لگا جو وہ نہیں کر سکتا۔ چنانچہ انسانی تمدن ترقی کرنے لگا تو انسانوں میں کچھ ایسے داستان گو پیدا ہوئے جو انسان کے خوابوں کو حقیقت میں تبدیل کرنے والی کہانیاں سنا سکیں۔ انسان جو کام حقیقت میں نہیں کرسکتا تھا کم از کم ان کے خواب تو دیکھ سکتا تھا اور ان خوابوں کو داستان کا روپ بنا کر پیش کیا گیا۔داستان دراصل زندگی اور اس کی حقیقتوں سے فرار کا دوسرا نام ہے۔ خواہشات کی تکمیل جب حقیقی عنوان سے نہ ہو پاتی تو تخیل کے سہارے ان کو پورا کرنے کی کوشش کی جاتی اس لیے انسان جب اپنے حالات سے فرار حاصل کرتا تو عموماً داستانوں کی دنیا میں پہنچ کر ذہنی و قلبی سکون حاصل کرتا۔
زمانہ قدیم سے عرب علاقوں میں انسانی تمدن پرورش پاتا رہا ۔ عرب علاقوں میں کئی نبی اور پیغمبر مبعوث ہوئے۔عرب اقوام پر آسمانی کتابیں جیسے تورات ‘زبور ‘ انجیل اور قرآن اور دیگر صحائف نازل ہوئے۔ جس میں سابقہ اقوام کے قصے عبرت کے لئے پیش کئے گئے تھے۔ اسلام کی آمد سے قبل عرب میں قصہ گوئی اور داستان گوئی ایک فن بن گیا تھا۔ دن بھر کام کرنے کے بعد شام کے اوقات میں کسی میدان میں لوگ جمع ہوجاتے اور داستان گو انہیں کئی حیرت انگیز واقعات پرمشتمل سلسلہ وار داستانیں سناتا تھا۔ ان داستانوں میں شاہی گھرانے کے کردار ہیرو ہوتے جو اصل زندگی میں کوئی کارنامہ کریں یا نہ کریں لیکن داستانوں میں حیرت انگیز کارنامے انجام دیتے ہوئے بدی پر نیکی کی فتح دکھاتے اور اکثر داستانوں میں تلاش اور عشق کے واقعات پیش ہوتے۔ ایک داستان تو ہزار راتوں تک سنائی گئی اس لئے اس کا نام الف لیلیٰ رکھا گیا۔ عربی میں الف ہزار کو کہتے ہیں ۔اور لیل کے معنی رات۔ اس طرح یہ داستان ہزار رات کی داستان کے مفہوم سے مشہور ہوئی۔
اردو کی پہلی نثری داستان سب رس کے علاوہ اردو کی قدیم داستانوں میں قصہ مہر افروز و دلبر، نو طرز مرصع، عجائب القصص، فسانہ عجائب، بوستان خیال، داستان امیر حمزہ، طلسم ہوش ربا ‘ رانی کیتکی کی کہانی ‘ باغ و بہار، آرائشِ محفل، مذہبِ عشق وغیرہ بہت مشہور ہیں۔ 1857؁ء کے انقلاب کے بعد جہاں سماجی زندگی میں تبدیلی آئی۔ وہیں اردو ادب میں بھی حقیقت پسندی کا رجحان بڑھنے لگا۔ ادب میں خیالی باتوں کی جگہ زندگی کے مسائل کو اجاگر کیا جانے لگا۔ سرسید احمد خان نے علی گڑھ تحریک کے زیر اثر ادب اورسماج میں حقیقت پسندی کو پروان چڑھایا۔ اور داستان کی جگہ ناول کی صنف فروغ پانے لگی۔ جن میں زندگی کی حقیقی تصویریں پیش کی جانے لگیں۔ اس طرح ناول کا آغاز داستان کے زوال کا سبب بنا۔انیسویں صدی کے نصف آخر میں ڈپٹی نذیر احمد‘ پریم چندر ‘کرشن چندر‘بیدی ‘عصمت چغتائی‘قرۃ العین حیدر وغیرہ نے ناول کو پروان چڑھایا۔ انیسویں صدی کے اواخر اور بیسیوں صدی کی چھ سات دہائیوں تک اردو میں کئی شاہکار ناول لکھے گئے جنہوں نے اپنے عہد کی زندگی کو اپنے اندر پیش کیا۔صنعتی انقلاب کی آمد‘کارخانوں اور ملوں میں مزدوروں کا کام کرنا‘انسان کی جگہ مشینوں سے تیز رفتاری سے کام انجام دینا یہ وہ تبدیلیاں تھیں جس نے زندگی کی رفتار تیز کردی۔ انسان کی مصروفیات بڑھنے لگیں اور اسے وقت کی کمی کا احساس ہونے لگا۔ وقت کی کمی نے لوگوں کی دلچسپی ناول سے کم کردی اور لوگ کم وقت میں ادب سے تفریح اور پیغام کے حصول کے ذرائع تلاش کرنے لگے۔ یہی وجہہ ہے کہ زندگی کی تیرز رفتاری اور وقت کی کمی نے فسانوی ادب کی طوالت میں بھی کمی کردی اور لوگ افسانے کی طرف رخ کرنے لگے۔
داستان اور ناول کے برعکس افسانہ جدید صنعتی اور مشینی دور کی پیداوار ہے۔ اس دور کے انسان کو تیزی سے بدلتے ہوئے زمانے کا ساتھ دینے اور زندگی کے نت نئے مسائل سلجھانے کے لئے شب و روز مصروف رہنا پڑتا ہے۔ اس مشینی دور کی تھکادینے والی تیز اور مصروف زندگی میں اس کے پاس اتنا وقت ہی نہیں کہ سکون اور فراغت سے بیٹھے اور بھاری بھرکم داستانوں اور ضخیم قسم کے ناولوں کا مطالعہ کرکے جذباتی تسکین یا ذہنی تفریح کا سامان کرسکے۔ چنانچہ وقت کی کم دامنی کا یہ احساس ہی مختصر افسانے کی ایجاد کا باعث بنا۔
افسانے کی تعریف
افسانہ انیسویں صدی کی پیداوار ہے ۔اور زندگی کی تیز رفتاری اور وقت کی کمی کے احساس نے افسانے کو فروغ دیا۔افسانے کی بہت سی تعریفیں کی جاسکتی ہیں۔ جیسے ہر وہ نثری تخلیق جس میں پلاٹ ہو ، کردار ہوں اور کہانی کا اْتار چڑھاؤ ہو۔۔۔ "افسانہ” کی تعریف میں آتی ہے۔افسانہ دوسری طرح کی کہانیوں سے اسی لحاظ سے منفرد اور ممتاز ہے کہ اس میں واضح طور پر کسی ایک چیز کی ترجمانی اور مصوری ہوتی ہے۔ جیسے ایک یا چند کردار، ایک واقعہ، ایک ذہنی کیفیت، ایک جذبہ، ایک مقصد، مختصر یہ کہ افسانے میں جو کچھ بھی ہو، ایک ہو۔ افسانے کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ یہ اپنے اختتام پر قاری کے ذہن پر واحد تاثر قائم کرتا ہے، وحدتِ تاثر کہلاتا ہے۔
افسانے کی تعریف بیان کرتے ہوئے ایک نقاد نے کہا ہے کہ:
’’افسانہ ایک ایسی نثری داستان کو کہتے ہیں جس کے پڑھنے میں کم از کم آدھا اور زیادہ سے زیادہ دو گھنٹے لگیں‘‘۔
اس سلسلے میں ایک اور نقاد کا کہنا ہے کہ:
’’افسانہ ایک ایسی فکری داستان کو کہتے ہیں جس میں ایک خاص کردار، ایک خاص واقعہ، ایک تجربے یا ایک تاثر کی وضاحت کی گئی ہو۔ نیز اس کے پلاٹ کی تفصیل اس قدر منظم طریقے سے بیان کی گئی ہو کہ اس سے تاثر کی وحدت نمایاں ہو‘‘۔
وقار عظیم نے اپنی کتاب فن افسانہ نگاری میں افسانے کے حوالے سے مغربی ماہرین کی آراء پیش کی ہے۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’ایچ جی ویلز کے نزدیک مختصر افسانہ قصے کی ایک ایسی قسم ہے جسے آدھے گھنٹے میں پڑھا جاسکے‘‘ ای جی اوبرائن کے نزدیک مختصر افسانے کی پہلی شناخت یہ ہے کہ افسانہ نگار نے اپنے منتخب کئے ہوئے حقائق اور واقعات کو حد درجہ موثر بنایا ہو‘‘ ۱؎
اسی طرح ہم افسانے کی تعریف یوں کر سکتے ہیں۔
’’افسانہ زندگی سے متعلق کسی واقعے کا اختصار کے ساتھ ایسا فنکارانہ بیان ہے جس میں وحدت تاثر ہو
اور وہ قاری کے ذہن پر گہرا اثر چھوڑے‘ ‘۔
افسانے کی بدلتی ہوئی قدروں کے پیشِ نظر یہ تعریف اتنی جامع نہ ہوتے ہوئے بھی کافی حد تک صحیح ہے۔ اردو کا موجودہ افسانہ دراصل داستان اور ناول کی ترقی یافتہ صورت ہے، جس کے کے لئے انگریزی میں
Story Short کا لفظ مستعمل ہے۔ اس صنف نثر کی موجودہ ادبی اور فنی روایت پر انگریزی افسانے کی گہری چھاپ نمایاں ہے۔ اپنی مخصوص روایت کے اعتبار سے افسانہ، داستان اور ناول سے مختلف صنف ہے۔ داستان اور افسانے کے اجزائے ترکیبی
ناول کی طرح افسانے کے بھی کچھ اجزائے ترکیبی ہیں ۔ وہ اس طرح ہیں۔
۱) موضوع ۲) پلاٹ۳ )کردار۴)مکالمے۵) زماں ومکاں اور منظر نگاری۶) تکنیک۷) انجام اور وحدت تاثر۸) اسلوب۹) عنوان۔
موضوع:
افسانے کے لئے سب سے اولین ضرورت افسانے کا نیا اور اچھوتا موضوع ہے۔ زندگی ان گنت موضوعات میں بٹی ہوئی ہے اس لئے افسانے کے موضوعات بھی بے شمار ہیں۔ اگر افسانہ نگار کو قدرت کی طرف سے دل بیدار اور دیدئہ بینا عطا ہوا ہو تو موضوع کا انتخاب کوئی مشکل بات نہیں۔ افسانے کے لیے موضوعات مناظر قدرت، جاندار اشیاء، حیاتِ انسانی کے مختلف جذباتی پہلوئوں، اس کی سماجی، سیاسی، اقتصادی اور تمدنی زندگی کے مختلف گوشوں سے اخذ کیے جاسکتے ہیں۔ افسانہ نگار کو صرف وہی موضوعات انتخاب کرنے چاہئیں جو اس کی افتاد طبع کے مطابق ہوں یا جن سے انہیں طبعی لگاو اور ذاتی دلچسپی ہو۔ انسان صبح سے شام تک زندگی کے مختلف کام کرتا ہے۔ جس کا بیان افسانے کا موضوع نہیں ہوسکتا۔ جیسے اگر کوئی صبح اٹھے ۔ضروریات سے فارغ ہو اور ناشتہ کرکے گھر سے اپنے کاروبار کو نکل پڑے اور شام میں گھر آجائے تو ان باتوں کا بیان افسانہ نہیں ہوسکتا۔ بلکہ افسانے کے لئے ایسا قصہ یا کہانی منتخب کرنا ہوتا ہے جو ہماری زندگی سے متعلق ہی ہو لیکن اس میں انفرادیت ہو۔ انوکھا پن ہو۔ اور قارئین کی دلچسپی والا ہو۔ افسانہ نگار اور عام قاری میں یہ فرق ہوتا ہے کہ افسانہ نگار کسی واقعہ کو گہرائی سے دیکھتا ہے اور اسے فنکاری کے ساتھ افسانے میں پیش کرتا ہے۔مثال کے طور پر ایک انسان تالاب کے کنارے جارہا تھا۔ اچانک اسے تالاب میں کچھ حرکت دکھائی دی اور ایک انسان کا ہاتھ دکھائی دیا وہ ڈوب رہا تھا اور کسی مدد کا طلب گار تھا۔ پہلے زمانے کی تعلیم و تربیت کے اعتبار سے تالاب کے کنارے چل رہے انسان کا اخلاقی فریضہ یہ ہوتا تھا کہ وہ خود تالاب میں کود کر ڈوبنے والے کو بچائے یا چیخ مار مار کر لوگوں کو جمع کرے اور ڈوبنے والے انسان کی جان بچانے کی کوشش کرے۔ اب آج کاافسانہ نگار اپنے افسانے کو یوں رخ دیتا ہے کہ جیسے ہی تالاب کے کنارے چلنے والے انسان کو پانی میں ہاتھ دکھائی دیا تو فوری وہ اپنے جیب سے اپنا قیمتی اسمارٹ فون نکالتا ہے اور ڈوبتے انسان کی فلمبندی کرتا ہے اور اس فلم کو یا کسی نیوز چینل کو دیتا ہے یا فیس بک پر ڈالتاہے۔ جب کہ انسانیت کا تقاضہ تھا کہ ڈوبتے انسان کو بچانے کی کوشش کی جاتی۔ آج سڑک حادثات ہوں یا اور کوئی جان لیوا حادثات لوگ فوری فون نکال کر تصویریں لینا شروع کر رہے ہیں۔ اس سے انسانوں کی سنگدلی ظاہر ہوتی ہے اور افسانہ نگار یہیں سے اپنے افسانے کا موضوع تلاش کرلیتا ہے۔ افسانے کے لئے موضوعات کی کمی نہیں۔ آج سماج میں جتنی برائیاں عام ہورہی ہیں اتنے ہی افسانے کے موضوعات مل رہے ہیں۔
اردو افسانے کے آغاز اور ترقی پسندی کے دور میں افسانے کے موضوعات بھوک۔ افلاس ۔ زمینداروں اور مذہبی ٹھیکہ داروں کے مظالم۔ دیہاتی انسانوں کی معصومیت۔فسادات ۔جنگ۔ قحط ۔دولت مند طبقے کی عیاشیاں۔ قدرت کے فیصلے۔ انسان کی مجبوریاں وغیرہ شامل تھے۔ آزادی کے بعد اور 80کی دہائی کے بعد افسانے کے موضوعات بدلے ۔ سماجی زندگی کی عکاسی افسانے میں ہونے لگی۔ شادی بیاہ۔ عشق۔ آسودگی۔ تفریح۔ انسانی ترقی۔ جہیز کی لعنت۔ اور دیگر سماجی برائیوں کو افسانے کے موضوعات بنایا گیا۔ آج اکیسویں صدی میں نئی نئی ایجادات کے ساتھ زندگی میں نئے نئے مسائل بھی پیدا ہونے لگے ہیں۔ مادہ پرستی نے نئے موضوعات کو جنم دیا ہے۔ عیش پرستانہ زندگی‘ ناجائز رشتے‘کمزوروں پر مظالم ‘نئے نئے حادثات ‘انسانی مکاریاں یہ سب آج کے افسانے کے موضوعات ہیں۔ اردو افسانے پر اصلاح اور حقیقت پسندی کا رجحان غالب رہا۔ارو افسانے کے میر کارواں پریم چند اردو کے نامور افسانہ نگار مانے جاتے ہیں۔ انہوں نے ہندوستان کی دیہاتی زندگی کی کشمکش کو اپنے افسانوں میں پیش کیا۔ ان کا مشہور افسانہ ’’ کفن‘‘ ہے۔ جس میں غربت کے مارے ایک دیہاتی گھرانے کی تصویر پیش کی گئی کہ انسان بھوک کے سامنے اس قدر بے بس ہوجاتا ہے کہ گھر میں ایک عورت کی لاش رکھی ہوئی ہے۔ اس کی آخری رسومات کے لئے پیسے نہیں ہے۔ باپ بیٹا گائوں میں پھر کر لاش کی آخری رسومات کے لئے پیسے مانگتے ہیں اور جب انہیں پیسے مل جاتے ہیں تو وہ عورت کی لاش کی آخری رسومات انجام دینے کے بجائے بھیک میں ملے پیسوں سے اپنے پیٹ کی بھوک بجھاتے ہیں۔ اسی طرح پریم چند نے ایک افسانہ’’ پوس کی رات لکھا‘‘ جس میں سردیوں کی سخت رات میں کھیت کی نگرانی کرنے والے کی مجبوری بیان کی گئی کہ کھیت میں جانور گھس آتے ہیں اور سارا کھیت برباد کرنے لگتے ہیں لیکن کھیت کی رکھوالی کرنے والا کڑک سردی کی وجہہ سے جانوروں کو نہیں بھگاتا اور کھیت برباد ہوجاتا ہے۔ کرشن چندر بھی اردو کے اہم افسانہ نگار ہیں ان کا ایک افسانہ جامن کا پیڑ ہے۔ جس میں یہ بتایا گیا کہ ایک سرکاری دفتر میں تیز ہوا چلنے کے سبب ایک درخت گر جاتا ہے اور اس درخت کے تنے کے نیچے ایک شخص دب جاتا ہے۔ صبح لوگ دیکھتے ہیں کہ درخت کے نیچے ایک شخص دبا ہوا ہے اور مدد کے لئے پکار رہا ہے لیکن کوئی اس کی مدد کو نہیں آتا کہ یہ درخت سرکاری دفتر میں گرا تھا اور حکومت کی اجازت کے بغیر درخت نہیں ہٹایا جاسکتا۔ درخت کو ہٹانے کے لئے ایک سرکاری فائل بنائی جاتی ہے اور تمام ذمہ دار افسروں تک بھیجی جاتی ہے اس کاروائی میں دو دن لگ جاتے ہیں۔ آخر کار درخت کے تنے کو کاٹ کر دبے ہوئے شخص کو بچانے کا فیصلہ کیا جاتا ہے لیکن اس وقت تک دبا ہوا شخص مرجاتا ہے اس افسانے میں سرکاری قوانین کے سامنے انسانی جان کی کم حیثیتی کو بیان کیا گیا ہے۔اس طرح افسانے کے موضوعات بے شمار ہیں۔ اور اچھے موضوعات کو فنکاری سے کہانی کا روپ دے کر بیان کیا جائے تو افسانہ کامیاب ہوتا ہے اور قارئین اسے پسند کرتے ہیں۔
’’ افسانے میں جو قصہ یا کہانی بیان کی جاتی ہے اس کا مرکزی خیال افسانے کا موضوع کہلاتا ہے۔‘‘
پلاٹ :
افسانہ نگار خام مواد کو ترتیب دینے کے لئے واقعات کے ربط و تعلق کے مطابق کہانی کا جو ڈھانچہ تیار کرتا ہے اسے پلاٹ کہتے ہیں۔ پلاٹ انگریزی لفظ ہے آپ نے سنا ہوگا کہ کسی نے پلاٹ خریدا اور اس پر مکان تعمیر کر رہا ہے۔ مکان کی تعمیر کے لئے نقشے کی ضرورت ہوتی ہے۔اور جب نقشہ تیار ہوتا ہے تو پہلے بنیاد پھر کالم پھر چھت اور دیواریں دروازے کھڑکیاں فرش لائٹ نل وغیرہ انتظامات ہوتے ہیں اور ایک گھر تعمیر ہوتا ہے۔ زمین لیتے ہی بغیر بنیاد اور کالم کے چھت نہیں ڈال سکتے۔اس کے لئے نیچے سے اوپر تعمیری کام کرنا ہوتا ہے۔ اسی طرح افسانے میں پلاٹ کا مطلب واقعات کا ترتیب وار بیان ہے۔ افسانے کا پلاٹ ایسے احوال و واقعات اور تجربات سے مرتب کرنا چاہئے جو ہماری زندگی میں آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔ جب افسانہ نگار کسی کہانی کو افسانے میں پیش کرنا چاہتاہے تو وہ ترتیب وار کہانی کو اس انداز میں پیش کرتا ہے کہ کہانی خود بہ خود آگے بڑھتی ہے اور انجام کو پہونچتی ہے۔ اگر کسی افسانے میں یہ دکھایا جائے کہ انسان خواہشات کی تکمیل کے لئے بیرون ملک جاتاہے اپنی زندگی کے قیمتی ایام خاندان والوں سے دور رہ کر گذارتا ہے جب اس کی زندگی کی بنیادی ضروریات گھر۔ بچوں کی تعلیم۔ بچوں کا شادی وغیرہ ہوجاتی ہے تب وہ وطن آنے کی تیاری کرتا ہے۔ وہ بوڑھا ہوچکا ہوتا ہے جہاز میں سفر کرتا ہے گھر والوں کو اطلاع دیتا ہے کہ فلاں فلائٹ سے وہ آرہا ہے گھر والے بیوی بچے کار لے کر اسے لانے کے لئے ایرپورٹ جاتے ہیں۔ جہاز اترتا ہے سب لوگ اتر جاتے ہیں لیکن وہ شخص نہیں اترتا ہے۔ تب اچانک مائیک پر اعلان ہوتا ہے کہ ایک صاحب جن کا نام یہ ہے دوران سفر انتقال کرگئے ہیں ۔ جہاز سے ان کی میت اتاری جاتی ہے اور جو شخص اپنے خاندان کے بہتر مستقبل کے لئے اپنی ساری زندگی باہر گذار دیتا ہے جو وہ گھر واپس آتا ہے تو اس کے گھر والے اپنے جذبات کی قربانی دینے والے کی لاش لے کر گھر آتے ہیں۔ اس افسانے میں پلاٹ کے اعتبار سے کہانی بیان ہو تو پلاٹ مستحکم سمجھا جائے گا ورنہ اگر کہانی میں ابتدا کے بعد درمیانی واقعات بیان نہ کئے جائیں اور صرف انجام بیان کردیا جائے تو بھی کہانی کا پلاٹ کمزور سمجھا جائے گا۔ افسانے میں بیان کردہ کہانی کے تقاضے کے اعتبار سے چیزوں کا بیان ہونا چاہئے۔ اگر آزادی سے قبل کے افسانے کا بیان ہے تو انگریزحکومت کے ذکر ہو۔ اس دور میں اگر کردار کے ہاتھ میں سیل فون دکھایا جائے تو پلاٹ غلط سمجھا جائے گا۔ گائوں کا منظر ہے تو وہاں کھیت کھلیانوں کا ذکر ہو۔ بیل بنڈیوں کا ذکر ہو۔ گائوں میں بڑی بڑی سڑکوں کامنظر بیان کرنا اور ان سڑکوں پر قیمتی گاڑیوں کو دوڑتا ہوا دکھانا پلاٹ کی کمزروی اور غلطی تصور ہوگی۔ اسی طرح کہانی مرحلہ وار آگے بڑھے تو اسے کہانی کا مربوط پلاٹ سمجھا جائے گا۔ قاری کو افسانہ پڑھنے کے دوران کبھی یہ رکاوٹ محسوس نہیں ہونی چاہئے کہ اب تک کیا ہوا اور آگے کیا ہوگا۔ کہانی کی منطقی اعتبار سے ترتیب کو پلاٹ کہا جاتا ہے۔ افسانوں میں اکثر اکہرے پلاٹ ہوتے ہیں اور ایک سمت میں کہانی آگے بڑھتی ہے۔ ناول میں مشترکہ پلاٹ یا دو یا کئی کرداروں کا کہانیاں ایک ساتھ بیان ہوسکتی ہیں۔ لیکن افسانہ چونکہ مختصر ہوتا ہے اس لئے اس میں مشترکہ یا گنجلک پلاٹ کی گنجائیش نہیں ہوتی۔ کامیاب افسانہ وہی کہلائے گاجس میں پلاٹ ترتیب وار ہو۔
’’افسانے میں کہانی کے ترتیب وار بیان کو پلاٹ کہتے ہیں۔ کہانی کی پیشکشی کی ترتیب پلاٹ کہلاتی ہے۔‘‘
کردار:
افسانہ ہوا یا خلا ء میں تیار نہیں ہوتا۔ وہ زندگی کا کوئی قصہ بیان کرتا ہے۔ اور یہ قصہ افسانے میں پیش کردہ انسانوں سے متعلق ہوتا ہے۔ انسان جب کچھ حرکتیں کرتا ہے تو کہانی وجود میں آتی ہے۔ اس لئے افسانے میں اچھے برے ‘چھوٹے بڑے‘ اہم غیر اہم کردار ہوتے ہیں جو افسانہ نگار کے برتائو اور کہانی کے تقاضوں کے اعتبار سے اپنا کردار انجام دیتے ہیں۔ انسانی زندگی میں بکھرے مختلف صفات کے لوگوں کی طرح افسانے میں بھی کردار خیر و شر کی صفات کے حامل ہوتے ہیں۔ کچھ کردار مرکزی حیثیت کے ہوتے ہیں جو سارے افسانے پر چھائے رہتے ہیں کچھ کردار وقتی ہوتے ہیں جو منظر کے اعتبار سے اپنا کردار ادا کرکے ہٹ جاتے ہیں۔ کرشن چندر کا ایک افسانہ گڈھا ہے جس میں گڑھے میں گرے ایک شخص کونکالنے میں لوگوں کی لا پرواہی کو دکھایا گیا ہے۔ گڑھے میں گرا ہوا شخص افسانے کا مرکزی کردار ہے۔ افسانے کے آغاز میں وہ اپنا تعارف یوں کراتا ہے۔
’’ ایک آدمی گڈھے میں گر گیا۔ اور شور مچانے لگا۔ مجھے پچائو ۔بچائو۔ میں گڈھے میں گر گیا ہوں۔مجھے باہر نکالو۔‘‘
وہ گڈھے میں کیسے گرا۔ کب گرا۔ اس کا جواب افسانے میں کرشن چند ر خود اس انسان کی زبانی یوں بیان کرتے ہیں۔
’’ میرا کوئی قصور نہیں ہے۔ گرا ہوا آدمی بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔ میں کل رات سے اس گڈھے میں گرا ہواہوں۔ سڑک پر اندھیرا تھا۔ اس سڑک پر بجلی کے کھمبے بہت دور دور ہیں۔ اور اس گڈھے کے عین سامنے بجلی کا جو کھمبا ہے نا اس کا بلب ٹوٹا ہوا ہے۔ یقین نہ آئے تو خود دیکھ لو۔ رات کو اندھیرا تھا۔ میں جلدی جلدی قدم اٹھاتے ہوئے گھر جارہا تھا کہ اس گڈھے میں گر گیا۔ مجھے اس گڈھے سے نکالو۔ میرے حال پر رحم کرو۔ میری بیوی گھر پر میرا انتظار کر رہی ہے‘‘۔
اس گفتگوسے کردار کے بارے میں قاری کو اندازہ ہوتا ہے کہ افسانے کے اس مرکزی کردار کے ساتھ کیا ہوا ہے۔
اس افسانے میں ضمنی کردار بھی ہیں جو گڈھے میں گرے ہوئے شخص سے بات کرتے ہیں۔ جن کا ذکر موقع کے اعتبار سے کیا گیا ہے۔کرشن چندر نے مختلف قسم کے لوگوں کا ذکر کیا جو اس شخص سے گفتگو کرتے ہیں لیکن اسے گڈھے سے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ضمنی کرداروں کی گفتگو ملاحظہ ہو۔
’’ اس کا شور سن کر تین آدمی آئے۔ اور گڈھے کے تینوں طرف کھڑے ہوگئے۔وہ لوگ بڑے غور سے گڈھے میں گرے ہوئے آدمی کو دیکھنے لگے۔ ’’گڈھے میں گرگیا ہے‘‘ ایک بولا۔
’’ہاں‘‘ دوسرے نے تائید کی ’’ گڈھا ہی معلوم ہوتا ہے‘‘۔
’’ ہر سڑک پر گڈھے ہوتے ہیں‘‘ تیسرا بولا۔ چلنے والا اگر احتیاط کرے تو کبھی گڈھے میں نہیں گرسکتا‘‘
’’ بے شک کبھی نہیں گر سکتا‘‘۔ پہلا بولا۔ہماری میونسپلٹی ہر سڑک پر اتنے بڑے گڈھے بناتی ہے کہ آنکھ کھول کر چلنے والا آدمی کبھی نہیں گر سکتا۔ یہ سب اس کا اپنا قصور ہے۔‘‘
اس طرح کرشن چندر نے ضمنی کرداروں کی گفتگو سے ان کی صفات اور ان کے کردار کو بیان کردیا کہ دنیا میں کس کس قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ افسانے میں کردار نگاری اختصار سے اور فن کاری سے ہوتی ہے۔ اس کے لئے افسانہ نگار کو ماہر نفسیات ہونا ضروری ہے وہ اپنے سماج کا گہرا نباض ہو اور لوگوں کی فطرت سے واقف ہو تب ہی وہ زندہ جاوید کردار تخلیق کر سکتا ہے۔ اردو میں کئی کرداری افسانے مشہور ہوئے ہیں۔ بعض افسانے کہانی کی وجہہ سے بھی مقبول ہوجاتے ہیں ۔ لیکن کرداری افسانوں میں کردار کی پیشکشی اہمیت رکھتی ہے۔افسانہ نگار کے لئے ضروری ہے کہ کہانی کے منظر زمانے اور مقام کے اعتبار سے کردار کے لباس اور اس کی گفتگو پیش کرے۔ بہار کا افسانہ ہو تو بہاری لہجہ ہو جیسے اے ببوا کیا کرت ہو( یعنی اے لڑکے کیا کر رہا ہے) اور حیدرآبادی کردار ہو تو حیدرآباد ی لہجہ جیسے’’ ہو ناجی دیکھو میں کتا کی بولی انوں مانیچ نئی۔( دیکھئے میں بہت سمجھائی لیکن وہ نہیں مانے)۔ اس طرح کردار نگاری سے افسانے میں جن ڈالی جاسکتی ہے۔
’’افسانے میں کہانی کو آگے بڑھانے کے لئے جن اشخاص کا ذکر ہوتا ہے انہیں افسانے کے کردار کہتے ہیں۔‘‘
مکالمے:
افسانے میں کچھ کردار ہوتے ہیں جو افسانے کی ضرورت کے تحت بات کرتے ہیں۔ کرداروں کی گفتگو کو مکالمے کہتے ہیں۔پہلے زمانے کی کہانی بیانیہ انداز کی ہوتی تھی اور اس میں کرداروں کے مکالموں کو اہمیت نہیں دی جاتی تھی اور صرف سلسلہ وار قصہ بیان کیا جاتا تھا۔ موجودہ افسانے میں کردار بات کرتے ہیں جس سے افسانہ آگے بڑھتا ہے۔ افسانے کے مکالموں کا لب ولہجہ سادہ، فطری، برجستہ اور شگفتہ ہونا چاہئے۔ خوشی، غم، حیرت یا غیظ و غضب کے موقعوں پر لہجے کے آہنگ میں موقع و محل کے مطابق فرق کرنا لازم ہے۔ بچوں کا لہجہ معصوم اور سادہ، مردوں کا لہجہ موقع محل کے اعتبار سے جاندار، پختہ سنجیدہ اور بعض اوقات درشت، مگر تدبر آمیز، عورتوں کا لہجہ عام طور پر نرم و ملائم، اور شفقت آمیز ہونا چاہئے۔ افسانے میں باوقار سنجیدگی کی فضا کو قائم رکھنے کے لئے مکالموں میں تہذیب اور شائستگی کا پہلو نمایاں رکھنا چاہئے۔ کرداروں کا بازاری قسم کے متبذل اور غیر شریفانہ لب و لہجے سے مجتنب رہنا ضروری ہے۔ ایسی ظرافت جو ابتذال کی حدوں سے دور رہے، افسانے کو ناگوار قسم کی سنجیدگی سے محفوظ رکھتی ہے۔
کرشن چندر کے افسانہ ’’گڈھا‘‘ میں گڑھے میں گرے شخص کے اطراف جمع ہونے والے چند افراد یوں مکالمے ادا کرتے ہیں۔
’’ گڈھا بہت گہرا ہے۔‘‘ ایک آدمی نے اظہار افسوس کیا۔
’’ اور اس میں کیچڑبھی ہے۔‘‘ دوسرا بولا۔
’’ اس کو بچانے والا خود گڈھے میں گر سکتا ہے۔‘‘ تیسرا بولا۔
’’ کپڑے بھی خراب ہونگے۔ ‘‘چوتھا بولا۔
’’ مگر کسی نہ کسی کو تو اس بے چارے کو نکالنا ہی چاہئے۔‘‘ ایک ادھیڑ عمر کی عورت اپنے بچے کو سنبھالتے ہوئے بولی۔
کرداروں کے ان مکالموں سے اندازہ ہوتا ہے کہ کہانی کس طرح مکالموں کے ذریعے آگے بڑھتی ہے۔ مکالمے مختصر اور جاندار ہونے چاہئیں۔ مکالموں کے لئے لفظوں کا انتخاب اہمیت رکھتا ہے۔ ادھیڑ عمر کی عورت جو اپنے بچے کو سنبھال رہی ہے وہ طاقت رکھنے والے مردوں سے کہتی ہے کہ کوئی تو اس بے چارے کو گڈھے سے نکالے۔ اس طرح افسانے میں مکالمے اپنا کردار ادار کرتے ہیں۔ مکالمے علاقہ ‘منظر اور کہانی کے تقاضے کے اعتبار سے ہونے چاہئیں۔ طوالت سے بچا جائے۔ اگر کوئی مولوی کو وعظ کرتا دکھانا ہے تو اس کے دو ایک جملے بیان کردئے جائیں سارا وعظ نہیں۔ مکالموںسے کردار کی نفسیات کا بھی پتہ چلتا ہے۔ اوپر دئے گئے مکالموں سے بوڑھی عورت اور مرد حضرات کی نفسیات کا علم ہوتا ہے۔اردو کے بیشتر افسانہ نگاروں جیسے پریم چندر‘کرشن چندر ‘منٹو وغیرہ نے مکالمہ نگاری کا کمال دکھاتے ہوئے شاہکار افسانے لکھے۔
’’افسانے میں کرداروں کی گفتگو کو مکالمے کہتے ہیں۔ مکالموں سے کرداروں کی نفسیات کا بھی علم ہوتا ہے۔‘‘
زماں ومکاں اور منظر نگاری:
افسانے میں یہ ظاہر کیا جائے کہ کہانی کس زمانے کی ہے۔ کس علاقے کی ہے اور وقت کیا ہے ان باتوں کے اظہار کو زماں و مکاں اور منظر نگاری کہتے ہیں۔ یہ فطری طور پر افسانے کا حصہ بنتی ہے۔ جیسے افسانہ موجودہ دور کا ہے۔ آزادی کے بعد کا ہے یا آزادی سے قبل کا ہے۔ واقعات کے بیان سے اندازہ ہوجاتاہے کہ کہانی کا زمانہ کیا ہے۔ اسی طرح افسانہ کس گائوں یا شہر کی کہانی بیان کر رہا ہے وہاں کے مقامات کے بیان سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ افسانے کا مکان کیا ہے اور منظر کیا ہے۔ افسانہ نگار اتنا تو فنکار ہوتا ہی ہے کہ وہ کہانی کی پیشکشی کے دوران ان باتوں کا لحاظ نہ رکھے۔ افسانہ گڈھا میں کرشن چندر نے ایک شہر میں میونسپلٹی والوں کی جانب سے کھودے گئے ایک گڈھے کا ذکر کیا ہے جس میں راستہ چلتا ایک شخص اندھیرے کی وجہہ سے گڈھے میں گر جاتا ہے۔ اس افسانے میں زمانے کے اندازے کی ضرورت نہیں کہ یہ حال کے زمانے کے ایک شہر کا قصہ ہے۔ البتہ میونسپلٹی کے لفظ اور سڑکوں اور بلدیہ اور پولیس کے عملے کے ذکر سے انہوں نے واضح کیا کہ یہ افسانہ شہر کے ماحول میں پیش کیا گیا ہے۔ایک غلط مثال سے اس بات کو سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر حیدرآباد کے ماحول کو افسانے میں پیش کیا جائے توحیدرآباد میں تاج محل کا ذکر نہیں ہوگا بلکہ چارمینار کا ذکر ہوگا۔افسانے میں زماں و مکاں اور مناظر کے حقیقی بیان سے افسانے میں جان پڑتی ہے۔ اور افسانہ حقیقیت سے قریب لگتا ہے۔اسی طرح کرداروں کے لباس‘ گفتگو ان کے عادات و اطوار اور غذائی عادات وغیرہ کا فطری بیان بھی افسانے کے اس جز کا حصہ ہوتا ہے۔ جس پر عمل کرتے ہوئے افسانہ نگار اپنے افسانے کو کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے۔
’’ افسانے میں پیش کردہ زمانے‘ماحول اور مقامات کو زماں و مکاں اور منظر نگاری کہتے ہیں‘‘۔
تکنیک:
افسانے کو جس انداز میں پیش کیا جاتا ہے اسے افسانے کی تکنیک کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر سلسلہ وار قصہ بیان کیا جائے تو اسے بیانیہ افسانہ کہیں گے۔ افسانے کی ایک تکنیک یہ ہوتی ہے کہ افسانے کے آغاز درمیان کے ایک حادثے سے یا انجام سے ہوتا ہے پھر افسانہ نگار انجام بیان کرنے کے بعد کہانی کے ابتدائی حالات بیان کرتا ہے۔ افسانہ گڈھا کا آغاز اس جملے سے ہوتا ہے۔
ایک آدمی گڈھے میں گرگیا۔ اور شور مچانے لگا۔’’ مجھے بچائو بچائو۔ میں گڈھے میں گر گیا ہوں۔ مجھے باہر نکالو۔ ‘‘
اب اس آغاز سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ کون گڈھے میں گرا۔ کب گرا کہاں گرا اور اس کا انجام کیا ہوا۔ اب یہ افسانہ نگارکی تکنیک ہے کہ وہ افسانے کو اس طرح شروع کرتے ہوئے قاری میں ایک تجسس پیدا کرتا ہے کہ چلو پڑھ کر دیکھتے ہیں کہ گڈھے میں گرنے والے کا انجام کیا ہوا۔ افسانہ گڈھا منظر نگاری ‘ مکالموں اور بیانیہ کا مجموعہ ہے اس میں افسانے کی پیشکشی کی مشترکہ تکنیک استعمال کی گئی ہے۔اسی طرح دیگر تکنیکوں میں واحد متکلم غائب کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے۔ جس میں کہانی بولنے والا ظاہر نہیں ہوتا لیکن ضمیری الفاظ جیسے میں میرا وغیرہ کے ذریعہ وہ خودکہانی میں حصہ لیتا ہے۔ جسے روای بھی کہتے ہیں کچھ افسانے خطوط اور ڈائری کی شکل میں پیش ہوئے ہیں۔ یہ افسانہ نگار پر منحصر ہے کہ وہ ایسی تکنیک اختیار کرے جس سے کہانی بہتر طریقے سے قاری تک پہونچ سکے۔
’’ افسانے کی پیشکشی کے انداز کو افسانے کی تکنیک کہتے ہیں۔ جس میں انجام۔درمیان یا ابتداء سے افسانے کا آغاز ممکن ہے۔‘‘
انجام اور وحدت تاثر:
افسانہ چوں کہ زندگی کے کسی ایک پہلو کو اجاگر کرنے کے لئے لکھا جاتا ہے۔ اس لئے اس کا انجام جاندار ہونا چاہئے اور سارے افسانے میں وحدت تاثر ہونا چاہئے کہ افسانہ نگار جس بات کا اثر اپنے قار ی پر چھوڑنا چاہتاہے اسے کمال کے ساتھ پیش کرے۔ اکثر افسانے کا انجام چونکا دینے والا ہوتا ہے جس سے وحدت تاثر قائم ہوتا ہے اور قاری اس بات کی تہہ تک پہونچ جاتا ہے جو افسانہ نگار پیش کرنا چاہتا ہے۔ افسانہ جامن کا پیڑ میں انجام اس طرح ہوتا ہے کہ سرکاری محکمہ میں پیڑ کے نیچے دبے شخص کو بچانے کی فائل آخر کار منظور ہوجاتی ہے اور پیڑ کو کاٹ کر دبے ہوئے شخص کو نکالنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے لیکن فائل کی منظوری تک پیڑ کے نیچے دبا ہوا شخص مر جاتا ہے۔ اسی طرح افسانہ ’’گڈھا‘‘ کا انجام اس طرح ہے۔
’’دس سال بعد میرا اس سڑک سے دوبارہ گذر ہوا۔۔۔۔ گڈھے میں گرا ہوا آدمی ابھی تک وہیں تھا۔اس کی بیوی بھی وہیں تھی۔ اس درمیان ان کے ہاں دو بچے بھی پیدا ہوگئے تھے۔ ۔۔۔ یکایک بہت سے ہاتھ نیچے گڈھے کی طرف بڑھ گئے۔ آئو ۔آئو اوپر آئو۔گڈھے سے نکل آئو۔ ہمارے ساتھ چلو۔۔۔۔ یکایک اس گڈھے میں گرے ہوئے آدمی نے سر ہلا کر کہا۔’’ نہیں۔ نہیں۔میں تمہارے ساتھ کہیں نہیں جاسکتا۔ اس سڑک کے گڈھے میں مجھے آرام بہت ہے‘‘۔
افسانے کے اس انجام سے اندازہ ہوتا ہے کہ گڈھے میں گرا شخص دنیا سے اور دنیا والوں سے اس قدر مایوس ہوگیا تھا اور گڈھے کی زندگی سے اس قدر مانوس ہوگیا تھا کہ اب وہ آزاد ہوا میں جینا نہیں چاہتا۔ اور افسانہ نگار اسی بات کا تاثر اس افسانے سے دینا چاہتے تھے کہ دنیا والے کسی مصیبت زدہ کی وقت پر کیوں مدد نہیں کرتے۔ اور لوگ کیسے مایوس ہوکر حالات سے سمجھوتہ کر لیتے ہیں۔ اس طرح دیگر افسانوں میں بھی افسانہ نگاروں نے چونکا دینے والے انجام سے اپنے افسانوں میں گہرا اثر چھوڑا ہے۔ افسانے کے انجام اور وحدت تاثر دینے میں منٹو بھی مشہور ہیں جنہوں نے اپنے بعض افسانوں میں صرف ایک لفظ کے ذریعے سارے افسانے کا تاثر پیش کردیا ہے۔ اس طرح افسانے کاانجام اور وحدت تاثر کی طرف توجہ دینا افسانے کی کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
’’ افسانے کا چونکا دینے والا انجام اور مرکزی خیال افسانے کی جان ہوتا ہے۔ جس کی جانب توجہ دیناافسانے کی کامیابی کی علامت ہے‘‘۔
اسلوب:
افسانے میں استعمال ہونے والی زبان اور انداز بیان کو اسلوب کہتے ہیں۔ ہر افسانہ نگار کا انداز بیان دوسرے افسانہ نگار سے جدا ہوتا ہے۔ اسلوب کی پہچان افسانہ نگا رکے پیش کردہ واقعات‘ماحول ‘ موضوعات اور طریقہ بیان سے ہوتی ہے۔ پریم چند کے افسانوں کے اسلوب پر دیہاتی انداز بیان موضوعات اور واقعات کا اثر ہے۔ پریم چند کو دیہاتی انداز گفتگو پر عبور حاصل تھا۔ او ر اسے انہوں نے اپنے اسلوب کی پہچان بنایا۔ افسانہ نگار جس انداز میں کہانی بیان کرتا ہے وہ یا تو بیانیہ ہوتی ہے جس میں واقعات کاسلسلہ وار بیان ہوتا ہے یا مکالموں کے ذریعے بات کو آگے بڑھایا جاتا ہے۔ لیکن افسانے کا اچھا اسلوب وہ ہے جس میں واقعات کا بیان معیاری زبان میں ہو اور جہاں کہیں مکالمے ہوں وہ کہانی کے تقاضے کے مطابق ہوں تو افسانے کااسلوب حقیقی محسوس ہوگا۔پریم چند کا ایک افسانہ ’’بڑے بھائی صاحب ‘‘ہے۔ جس میں دو بھائیوں کا ہاسٹل میں رہ کر پڑھنے کا ذکر ہے۔ اس افسانے میں پریم چند کے اسلوب کو ملاحظہ کیجئے۔
’’ ایک روز شام کے وقت ہوسٹل سے دور میں ایک کنکوا لوٹنے دوڑا جارہا تھا۔ کہ بھائی صاحب سے میری مڈ بھیڑ ہوگئی۔ شائد وہ بازار سے لوٹ رہے تھے۔ انہوں نے وہیں میرا ہاتھ پکڑ لیا اور مجھے حقارت آمیز نظروں سے دیکھ کر بولے ۔ ان بازاری لونڈوں کے ساتھ دھیلے کے کنکوے کے لئے دوڑتے تمہیں شرم نہیں آئی۔ تمہیں اس کا کچھ لحاظ نہیں کہ اب نیچی جماعتوں میں نہیں ہو۔ بلکہ آٹھویں جماعت میں آگئے ہو۔ اور مجھ سے صرف ایک درجہ پیچھے ہو ۔ آخر تو اپنی پوزیشن کا خیال رکھنا چاہئے۔ ایک زمانہ تھا کہ لوگ آٹھواں درجہ پاس کرکے نائب تحصیلدار ہوجاتے تھے۔میں کتنے ہی مڈلچیوں کو جانتا ہوں جو آج اول درجہ کے ڈپٹی کلکٹر یا سپرنٹنڈنٹ ہیں۔ کتنے ہی ہمارے لیڈر ہیں بی اے اور ایم اے والے ان کے ماتحت اور ان کے پیرو ہیں۔ اور تم اسی آٹھویں درجے میں آکر بازاری لونڈوں کے ساتھ کنکوے کے لئے دوڑ رہے ہو۔ افسوس ہے تمہاری اس ناعقلی پر۔‘‘۱؎
پریم چند کے اس اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی مخصوص لفظیات کے استعمال کے ساتھ بات پیش کی ہے اور اپنے اسلوب کو دلچسپ بنایا ہے۔ افسانہ چونکہ مختصر ہوتا ہے۔ اس لئے اس میں واقعات کا بیان اور اہم باتوں کواختصار کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔ اور کسی موضوع یا منظر کو بیان کرنے کے لئے طویل گفتگو نہیں ہوتی۔ چھوٹے چھوٹے جملوں میں بات ہو تو افسانہ کااسلوب بہتر مانا جاتا ہے۔ مختلف افسانہ نگاروں کے افسانوں کے مطالعے سے اسلوب کی شناخت کی جاسکتی ہے۔
’’ افسانے کا منفرد انداز بیان اسلوب کہلاتا ہے۔ اسلوب کی پہچان افسانہ نگا رکے پیش کردہ واقعات‘ماحول ‘ موضوعات اور طریقہ بیان سے ہوتی ہے۔‘‘
عنوان:
افسانے کا مناسب اور دلکش و دلچسپ عنوان بھی افسانے کی کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔اکثر افسانہ نگار افسانے میں پیش کی جانے والی کہانی کی مناسبت سے افسانے کا عنوان طے کرتے ہیں۔ جیسے پریم چند کا شاہکار افسانہ’’ کفن‘‘ ہے۔ جس میں مرنے والی عورت کی آخری رسومات کے لئے چندہ اکھٹا کرنے اور اس رقم سے پیٹ کی بھوک مٹانے کی بات پیش کی گئی ہے۔ پریم چند کا ایک افسانہ’’ عید گاہ‘‘ ہے جس میں عید کے روز بچوں کے عیدگاہ جانے اور عید کی خوشیاں مختلف طریقے سے منانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ بعض عنوانات تجسس سے بھرپور ہوتے ہیں۔ جیسے جیلانی بانو نے ایک افسانہ ’’چھس‘‘ کے نام سے لکھا۔ جس کے عنوان سے تجسس ظاہر ہوتا ہے کہ آخر اس افسانے میں کیا بات پیش کی گئی ہے جب کہ افسانہ نگار نے اس افسانے میں ایک انسان کے لوہے کی بھٹی میں گر کر مرجانے کا قصہ بیان کیا ہے اور جب انسان بھٹی میں گرتا ہے تو ’’چھس‘‘ کی آواز آتی ہے جو کڑھائی میں کوئی چیز تلنے کے لئے ڈالتے وقت آتی ہے۔ افسانے کا عنوان مختصر ہو۔ تجسس سے بھر پور ہو۔ اور افسانے کے قصے کا احاطہ کرتا ہو۔ بعض افسانوں کے عنوانات شاعری کے کسی مصرعہ پر یا تکڑے پر رکھے جاتے ہیں۔ لیکن اکثر عنوانات مختصر ہوتے ہیں۔ چنانچہ افسانے کا عنوان بھی اگر دلچسپ ہو تو قاری افسانے کے مطالعے کے لئے تیار ہوتا ہے اور افسانہ نگار کا مقصد پورا ہوتا ہے۔
’’ افسانے کا مناسب نام جس میں اختصار تجسس اور دلچسپی ہو افسانے کا عنوان کہلاتا ہے‘‘۔
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ فنی اعتبار سے افسانہ نگاری کے کچھ لوازم ہیں جنہیں افسانے کے اجزائے ترکیبی کہا جاتا ہے۔ جو افسانہ نگار ان لوازمات کی پاسداری کرتے ہیں ان کے افسانے فنی اعتبار سے کامیاب سمجھے جاتے ہیں اور مقبول بھی ہوتے ہیں۔ ان لوازمات افسانہ میںکمی بیشی ہوسکتی ہے لیکن کہانی ‘قصہ اور افسانے میں فرق ان لوازامات افسانہ کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔
اردو میں افسانہ نگاری کی روایت:
: دیگر اصناف کی طرح افسانہ بھی مغربی صنف ہے۔ اردو میں افسانہ نگاری کی روایت انگریزی سے آئی ہے۔پہلی جنگ عظیم کے بعد انگریزی کے ادیب واشنگٹن ارون کی کتاب’’اسٹیج بک‘‘ سے اس فن کو رواج ملا۔ارون نے افسانہ نگاری کی غیر شعور ی کوشش کی تھی جسے مقبولیت حاصل ہوئی۔ امریکہ اور فرانس کے علاوہ روسی افسانہ نگاروں بالخصوص چیخوف‘لیو ٹالسٹائے وغیرہ نے افسانہ نگاری کو عروج تک پہونچایا۔
اردو افسانے کے ابتدائی نقوش فورٹ ولیم کالج کے تحت لکھی گئی داستانوں میں بھی نظر آنے لگے تھے۔ کیونکہ ان میں افسانے کے عناصر پائے جاتے ہیں۔ تاہم افسانہ نگاری کی شعوری کوشش بیسویں صدی کے شروع میں ہوئی۔سجاد حیدر یلدرم نے ابتداء میں ترکی افسانوں کا اردو میں ترجمہ کرنا شروع کیا۔ ۱۹۰۰ ء میں انہوں نے ’’نشہ کی پہلی ترنگ‘‘ کے عنوان سے اردو کا پہلا افسانہ لکھا۔اردو میں افسانہ نگاری کی ابتدائی کوششوں کے بارے میں فرمان فتح پوری لکھتے ہیں:
’’ سجا حیدر یلدرم ہی اردو کے پہلے افسانہ نگار ہیں۔جنہوں نے ’’نشہ کی پہلی ترنگ‘‘ لکھا جو اکتوبر۱۹۰۰ء میں موجود ہے‘‘ ۲؎
اردو کے بعض محققین نے سرسید احمد خان کے مضامین میں بھی افسانہ نگاری کی نقوش تلاش کئے ہیں لیکن سرسید کا افسانہ نگار نہیں مانا جاتا۔ یلدرم کے بعد اردو افسانے کو حقیقی بال و پر عطا کرنے میں اہم نام پریم چند کا ہے۔۱۹۰۷ء میں پریم چند کا افسانہ’’ دنیا کا سب سے انمول رتن‘‘ ’ زمانہ‘ میں شائع ہوا۔ یلدرم رومانیت کے علمبردار تھے۔ پریم چند اصلاح و حقیقت پسندی کے نقیب تھے۔ اس طرح یلدرم اور پریم چند کو اردو میں افسانہ نگاری کی دو جہتوں کا امام کہا جاسکتا ہے۔حقیقت نگاری اور رومانیت کے ان علمبرداروں کے بارے میں خلیل الرحمٰن اعظمی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ ترقی پسند تحریک سے قبل اردو میں مختصر افسانہ نگاری کے دو واضح میلانات ملتے ہیں۔ ایک حقیقت نگاری اور اصلاح پسندی کا جس کی قیادت پریم چند کر رہے تھے۔دوسرا رومانیت اور تخیل پرستی کا جس کی نمائندگی سجاد حیدر یلدرم کر رہے تھے‘‘ ۳؎
پریم چند کے ابتدائی دور کے افسانوں میں ہندوستانی سماج اور یہاں کے سیاسی و معاشرتی حالات بیان کئے گئے۔ انگریزی تہذیب کامذاق اُڑایاگیا۔ پریم چند نے اپنے افسانوں میں دیہاتی زندگی کو پیش کیا۔ کسانوں اور مزدوروں کے مسائل بیان کئے۔ طبقاتی تقسیم‘ مذہبی اجارہ داری وغیرہ کے خلاف انہوں نے آواز اٹھائی۔ پریم چند کا شاہکار افسانہ ’’کفن‘‘ ہے۔ جو اردو افسانہ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس افسانے کا موضوع مفلسی سے پیدا ہونے والی بے حسی ہے۔افسانہ کے کردار باپ بیٹے ‘ گھیسو اور مادھو ہندوستان کی غربت و افلاس کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ افسانہ ’’کفن‘‘ کے علاوہ پریم چند نے نہ صرف تواتر سے افسانے لکھے بلکہ اس کے ارتقائی سفر میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ انہی کا دم تھا کہ اردو افسانہ نئی تخلیق فضا اور ماحول سے آشنا ہوا۔ یہ پریم چند ہی تھے جنہوں نے اردو افسانے کو داستانی ماحول سے الگ کر کے زندگی کے قریب لایا۔ ان کے ہاں ہندوستانی معاشرہ اپنے حقیقی روپ میں نظر آتا ہے۔اْن کے کردار اپنے گرد و پیش کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اْن کے ہاں کسان، مزدور اور غریب طبقے کے گھرانوںا ور اْن کے ماحول کا ذکر بہت باریک بینی سے کیا گیا ہے۔ پریم چند کے افسانوں میں ہندوستانی کسان، مزدور اور غربت کی چکی میں پستے ہوئے پریشان حال لوگوں کے عادات و اطوار اور رسم و رواج کا ایسا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ جیتی جاگتی تصویریںہمارے سامنے آ جاتی ہیں۔ پریم چند اپنے افسانوں کے ذریعے اخلاقی درس دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، اْن کے کردار،محنت اور انسانی عظمت کے مختلف پہلوئوں کو اْجاگر کرتے ہیں۔ وہ اپنے کرداروں کی مدد سے معاشرتی برائیوں کی اصلاح کاکام بھی لیتے ہیں۔پریم چند ایک باشعور اور بالغ ذہن ادیب کی حیثیت سے اپنے دور میں اٹھنے والی آزادی کی اْمنگ سے بھی لاتعلق نہیں رہتے۔ اس حوالے سے اْن کے افسانے ‘آشیاں برباد’ اور ‘ڈائل کا قیدی’ اْن کے بدلتے ہوئے رجحانات کی ترجمانی کرتے ہیں
پریم چند کے بعداردو افسانے کا ایک اور نمایاں نام کرشن چندر کاہے۔ کرشن چندر بنیادی طور پر مارکسیت پر یقین رکھنے والے افسانہ نگار ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ دیگر اشتراکی ادیبوں کی طرح ادب برائے زندگی اور شدت سے حقیقت نگاری کے قائل ہیں لیکن اْن کے ہاں پائی جانے والی رومانیت اْن کے اشتراکی ذہن کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر ایک دلکش امتزاج کا سبب بنتی ہے۔ کرشن چندر طبعاً رومانی ضرور ہیں لیکن ان کی معروضیت گہرے سماجی شعور کی عکاس ہے۔کرشن چندر سماج اور انسانی مسائل کو اہم موضوعات کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ اْن کے ہاں وسیع تر مشاہدہ کی نمائندگی ہوتی ہے۔ وہ معمولی واقعات سے بھی افسانے تخلیق کر ڈالتے ہیں۔ اْن کے ہاں زندگی کا ربط اور بے ربطی پر دونوں کا اظہار افسانوں کی شکل میں ہوا ہے۔کرشن چندر کا شمار اہم ترقی پسند افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ا پنے افسانوںمیں وہ زندگی کے حقائق اور مسائل بیان کرتے وقت بھی ترقی پسند نظریات کو پیش نظر رکھتے ہیں۔ جہاں تک کرشن چندر کی حقیقت نگاری کا تعلق ہے تو اس سے قطع نظر کہ وہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ زندگی کابہت باریکی اور گہرائی سے مشاہدہ کرتے ہیں۔ وہ انسان کی محرومیوں کو نمایاں کرتے ہیں۔ اْن کے ہاں زندگی سانس لیتی ہوئی اور آگے بڑھتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ان کے افسانے، ان داتا، گرجن کی ایک شام، بالکونی اور پیاسا وغیرہ اس کی عمدہ مثال ہیں۔ کرشن چندر کے دیگرمشہور افسانے کالو بھنگی‘ مہا لکشمی کا پل ‘ گڈھا‘ آدھے گھنٹے کا خدا‘ فٹ پاتھ کے فرشتے وغیرہ مشہور ہیں۔ اْن کا اسلوب رومانیت سے گندھا ہوا ہے جو تلخ سے تلخ بات اور کریہہ سے کریہہ واقعہ کو بھی فطری رعنائی بخش کر قابل قبول بناتا ہے۔ البتہ کہیں کہیں ترقی پسند نظریات کے غلبے کی بنا پر اْن کے ہاں جذبے کی کمی ضرور محسوس ہوئی ہے۔ بحیثیت مجموعی کرشن چندر اردو افسانے کا ایک نمایاں نام ہے جس نے اردو افسانے کے ارتقا میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
پریم چند ایک عہد ساز افسانہ نگار تھے انہوں نے اپنے فن کے ذریعہ دیگر افسانہ نگاروں کو بھی متاثر کیا۔ پریم چند کے رنگ میں اس دور میں سدرشن‘ اعظم کریوی‘ سہیل عظیم آبادی اور علی عباس حسینی نے افسانے لکھے۔ سدرشن نے شہر کے متوسط گھرانوں کے مسائل کو اپنے افسانوں میں بیان کیا۔ ان کے اہم افسانے ’’شاعر‘ مصور‘ ایک نا مکمل کہانی‘ باپ وغیرہ ہیں۔ علی عباس حسینی نے اپنے افسانوں میں انسانی نفسیات ازدواجی زندگی کے مسائل اور دیگر سیاسی و سماجی مسائل پر توجہ دی ہے۔ ان کے اہم افسانے رفیق تنہائی‘ کڑوا گھونٹ‘ آئی۔سی۔ایس ‘ ہار جیت وغیرہ ہیں۔اعظم کریوی نے سیدھے سادھے اسلوب میں پریم چند کی طرح اپنے افسانوں میں حقیقت نگاری کو پیش کیا۔ انکے اہم افسانے ہیرو‘ انصاف‘ دکھیا‘ کنول اور لاج ہیں۔
پریم چند کی حقیقت نگاری سے ہٹ کر اردو کے کچھ افسانہ نگار رومانی افسانے بھی لکھتے رہے۔ ان میں سجاد حیدریلدم‘ نیاز فتح پوری‘ سلطان حیدر جوش‘ اور مجنوں گورکھپوری وغیرہ شامل ہیں۔ یہ افسانہ نگار قاری کو حسین خوابوں کی سیر کراتے تھے۔ ۱۹۳۶ ء میں اردو میں ترقی پسند تحریک کا آغاز ہوا۔ لندن میں مقیم چند نوجوان ہندوستانی ادیبوں سجاد ظہیر‘ رشید جہاں‘ احمد علی اور محمودا لظفر نے روایت سے ہٹ کرکچھ افسانے لکھے۔ یہ کُل دس افسانے تھے جو ۱۹۳۲ میں ’’انگارے ‘‘کے نام سے شائع ہوئے۔ان افسانوں میس فرائڈ‘ مارکس ‘ جیمز جوائس اورڈی ایچ لارینس جیسے مغربی مفکرین اور ماہرین نفسیات کے نظریات پیش کئے گئے۔ اور مذہبی قیود و بند پر بھی آواز اٹھائی گئی۔ روایت سے بغاوت کرنے والے افسانوں کے اس مجموعے کی کاپیاں ضبط کرلی گئیں۔ لیکن’’ انگارے‘‘ کی اشاعت نے اردو افسانے کو نیا موڑ دیا۔۱۹۳۶ء میں لکھنو میں پریم چند کی صدارت میں ترقی پسند تحریک کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ اس میں حقیقت نگاری کو اجاگر کرنے پر زور دیا گیا۔ ترقی پسند تحریک سے کئی افسانہ نگار ابھرے۔ جن میں منٹوؔ‘ بیدیؔ‘ عصمتؔ‘ کرشن چندر‘ احمدندیم قاسمی‘ خواجہ احمدعباس اور عزیز احمد شامل ہیں۔
اردو افسانے کی روایت میں ایک نمایاں نام راجندر سنگھ بیدی کا ہے۔ ان کے افسانوں میں پائی جانے والی معروضیت ان کے جذبے کو معتدل کرتی ہے۔ ان کے موضوعات زمین سے شروع ہو کر زمین پر ہی لوٹ آتے ہیں۔ انسان اس کائنات کا مرکز و محور ہونے کے باوجود اس کائنات میں سب سے محروم اور دکھی مخلوق ہے جو احساس اور شعور رکھنے کی بنا پر ہر لمحے تڑپتی اوربے قرار رہتی ہے۔ بیدی کے افسانوں میں انسانی کرب اورپریشانیوں کو پیش تو کیا گیا ہے لیکن ان کے اسلوب کی لطافت اور جذبے کے سبب کہیں بھی یہ کرب اور پریشانیاں اشتہار نہیں بنتیں ۔راجندر سنگھ بیدی کے ہاں تجربے کی گہرائی سے صداقت کا ظہور ہوا ہے۔ جس نے اْن کے افسانے کو نئی معنویت عطا کی ہے۔راجندر سنگھ بیدی نے اپنے افسانوں میں پنجاب کے دیہاتوںکی تصویر پیش کی۔ عورت کے تقدس کو اجاگر کیا۔ ان کے افسانوں کے مجموعے دانہ و دوام‘ کوکھ جلی‘ مکتی بودھ‘ گرہن‘ اپنے دکھ مجھے دے دو‘ ہاتھ ہمارے قلم ہوئے‘ وغیرہ ہیں۔ ان کے مشہور افسانے لاجونتی‘اپنے دکھ مجھے دے دو‘ گرم کوٹ‘ چشم بدور‘ گرہن‘ بھولا وغیرہ ہیں۔
اردو افسانے کے ارتقائی سفر میں ایک نمایاں افسانہ نگار، جس کے بغیر اردو افسانے کا تذکرہ نامکمل رہے گا وہ سعادت حسن منٹو ہیں۔ بلاشبہ وہ عظیم افسانہ نگار ہیں۔ اس کے باوجود کہ منٹو پر جنس نگاری کی چھاپ لگی ہوئی تھی انہوں نے دوسرے بہت سے موضوعات پر بھی قلم اٹھایا ہے۔ سعادت حسن منٹو نہایت بے باکی سے کہانی بیان کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ وہ حقیقت نگاری کے باوجود اپنے اسلوب میں کہیں سپاٹ پن نہیں آنے دیتے۔ منٹو نے اپنے افسانوں میں اگر طوائف ہی کو زیادہ موضوع بنایا ہے تو اس کی ایک بنیادی وجہ اْس وقت کا ماحول ہے۔ امرتسر جہاں منٹو کا بچپن گزرا،وہاں شہر کے درمیان ایک طویل بازار حسن تھا۔ پھر جب منٹو بمبئی آئے تو یہاں بھی قدم قدم پر انہیں، اْن کی پسند کے کردار ملے۔ شہر سلطانہ، ممدو بھائی، مسز ڈی کوسٹا اور گوپی ناتھ، ممبئی کے ہی کردار ہیں ۔سعادت حسن منٹو زندگی کو سرسری نظر سے نہیں دیکھتے، وہ بہت باریک بینی سے گردوپیش کا جائزہ لیتے ہیں اور نہایت بے باکی سے پوسٹ مارٹم کر کے رکھ دیتے ہیں۔ یہ پوسٹ مارٹم اتنی بے رحمی سے ہوتے ہیں کہ بعض اوقات تو کراہت محسوس ہوتی ہے۔ ایک طرف وہ ٹھنڈا گوشت، کالی شلوار، بلاؤز اور کھول دو جیسے افسانے لکھتے ہیں تو دوسری طرف نیا قانون اور تماشا جیسے افسانے لکھ کر اپنے سماجی و سیاسی شعور کا اظہار بھی کرتے ہیں۔منٹو پر ترقی پسند ی رجعت پسندی اور جنس پرستی کا لیبل لگایا گیا۔ ان کا ایک مشہور نفسیاتی افسانہ ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ ‘‘ہے۔منٹوؔ نے اپنے افسانوں میںالفاظ کو بڑی خوبی سے استعمال کیاہے۔
اسی دور کی ایک اور افسانہ نگار عصمت چغتائی ہیں جن کے افسانوں پر انگریزی افسانوں کا گہرا اثر دکھائی دیتا ہے۔ اْن کے افسانوں میں ایک ایسی عورت کی تصویر کشی کی گئی ہے جو مشرق کی مروجہ روایات اور نسوانیت سے بغاوت پر آمادہ ہے۔ عصمت کے ہاں جنس کے مسائل بہت شدومد سے زیر بحث آئے ہیں۔ اس حوالے سے ‘چوٹیں’ اور ‘لحاف’ اْن کی نمائندہ تحریریں ہیں۔ جس میں انہوں نے جنسی جذبے کو زندگی کی اہم ترین اور بنیادی ضرورت قرار دیا ہے۔ اْن کے نزدیک اس جذبے کی تسکین کی خواہش عین فطرت ہے۔عصمت چغتائی کے ابتدائی افسانوں میں نوجوانوں اور اْن کے مسائل کا تذکرہ بھی بھرپور انداز میں ملتا ہے لیکن اْن کی یہ حقیقت نگاری توازن کے فقدان کی بنا پر زیادہ مؤثر نہیں ٹھہرتی بلکہ لذت پسندی پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔ منٹو کے طرز پر خواتین کے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے عصمت چغتائی نے بھی اردو افسانے میں شہرت حاصل کی۔عصمت کاایک مشہور افسانہ ’’ چوتھی کا جوڑا‘‘ ہے۔جس میں غربت کے سبب شادی کے انتظار میں اپنی جان گنوا دینے والی غریب ہندوستانی لڑکی کی تصویر جذباتی انداز میں پیش کی گئی ہے۔ عصمت کے افسانے اپنے وقت کی ایک جراء ت مندانہ آواز ہیں اور آج بھی وہ نسوانیت کے علمبردار کے طور پر جانی جاتی ہیں۔
عصمت کے علاوہ خاتون افسانہ نگاروں میں خدیجہ مستور اور ہاجرہ مسرور مشہور ہوئیں۔ عزیز احمد ایک اور ترقی پسند افسانہ نگار تھے۔ انہوں نے حیدرآبادی نوابی زندگی کو قریب سے دیکھا تھا۔ وہ انگریزی کے پروفیسر بھی تھے انہوں نے حیدرآبادی جاگیردارانہ گھرانوں کی زندگی کے نشیب و فراز کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا اس کے علاوہ مغربی زندگی اور ترقی پسندی کے اثرات کے تحت انہوں نے بھی اپنے افسانوں میں جنس کو پیش کیا۔ ان کے اکثر کردار نوجوان ہوتے ہیں جو مشرقی تہذیب سے بغاوت کرنے اور مغربی طور طریق کے
دل دادہ دکھائی دیتے ہیں۔ اردو افسانے کے ابتدائی خدوخال نمایاں کرنے میں ایک اور افسانہ نگار کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ خواجہ احمد عباس ہیں۔ خواجہ احمد عباس کے افسانوں کا مجموعی جائزہ لیں تو یہ بات زیادہ قرین قیاس نہیں لگتی۔ وہ ایک ایسے افسانہ نگار ہیں جو زندگی کی تعمیر میں سماجی مسائل اور سیاسی الجھنوں کی اہمیت کو بھی پیش نظر رکھتے ہیں۔ اْن کا مشاہدہ اور تخلیقی قوت دونوں جاندار ہیں البتہ کہیں کہیں ترقی پسند نظریات کے غلبے کی بنا پر اْن کی حقیقت نگاری پر غیر فطری ہونے کا گماں ضرور گزرتا ہے۔ اس حوالے سے ان کے افسانے سردار جی، انتقام اور شکر اللہ وغیرہ کی مثال دی جا سکتی ہے۔ لیکن ان کے بعض افسانے نظریے اور جذبے کا خوبصورت امتزاج بھی ہیں۔ اس سلسلے میں اْن کا افسانہ ‘پسماندگان’ ایک نمایاں مثال ہے۔ جس میں وہ ایک بڑے افسانہ نگار کے طور پر دکھائی دیتے ہیں۔
اوپندر ناتھ اشک بھی اردو افسانہ نگاری میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے افسانوں کے ذریعے نچلے اورمتوسط طبقوں کی معاشی، سماجی اور جنسی محرومیوں کا ذکر کیا ہے۔ ان کے موضوعات کابنیادی ماخذ زمین اور اْس پر بسنے والا انسان ہی ہے۔ یہ موضوع روز ازل ہی سے ہر لکھنے والے کا موضوع رہا ہے لیکن انداز بیاں اور جذبے کی صداقت و گہرائی نے ہر لکھنے والے کو امتیاز بخشا ہے۔ اوپندر ناتھ اشک بھی زمین اور اس کے باسیوں کی محرومیوں اور دکھوں کو موضوع سخن تو بناتے ہیں لیکن ان کے ہاں جذبے کی چاشنی، انہیں روایتی ترقی پسندی کے منصب سے کہیں بلند کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اْن کے ہاں اقدار کی تخریب کے بجائے ایک صحت مند تبدیلی کا ماحول ملتا ہے۔ ان کے افسانے قفس، ڈاچی اور چیتن کی ماں، اس حوالے سے عمدہ مثالیں ہیں۔
احمد ندیم قاسمی شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت عمدہ افسانہ نگار بھی ہیں۔ اردو افسانے کی ترویج میں اْن کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ ان کے افسانوں میں مقصدیت اور حقیقت نگاری کار فرما ہے۔ اْن کی مقصدیت اور حقیقت نگاری رومانیت کے زیر اثر ایک منفرد اسلوب متعارف کراتی ہے۔ اْن کے افسانوں میں دیہاتی اور شہری زندگی کے تصادم سے ایک اچھوتی فضا تیار کی گئی ہے۔ الحمد اللہ، کنجری، مامتا، کپاس کا پھول، سناٹا، رئیس تھانہ، بندگی، طلوع و غروب، اْن کے نمائندہ افسانے ہیں۔احمد ندیم قاسمی کے افسانے فکری اور اسلوبیاتی اعتبار سے ان کی مہارت کے گواہ ہیں۔ انہیں کہانی کی بنت کاری اور کرافٹنگ پر دسترس حاصل ہے ۔
اردو افسانہ نگاری میں ایک اورمعتبر نام قرۃ العین حیدر کاہے۔ انہوں نے اودھ کے جاگیردار طبقے اور آئی سی ایس افسروں کے متعلق اپنی کہانیوں کا آغاز کیا۔ قراۃ العین حیدر کے افسانوں میں تقسیم ہند کے بعد پیش آنے والے حالات و واقعات نے ایک اچھوتا کرب نمایاں کیا ہے۔ اس حوالے سے وہ اپنے دیگر ہم عصر لکھنے والوں سے مختلف انداز میں لکھتی ہیں۔ وہ لٹی ہوئی عصمتوں پر آنسو نہیں بہاتیں، اْن کے افسانوں میں تباہی و بربادی کا نوحہ نہیں ہے۔ کیونکہ انہیں اس سے غرض نہیں ہے کہ کیا ہوا بلکہ وہ اپنی تمام تر توجہ اس پر رکھتی ہیں کہ کیوں ہوا ۔قرۃ العین حیدر کا شمار بھی ارضی رجحان رکھنے والے علمبرداروں میں ہوتا ہے۔ اْن کے موضوعات اپنے گردوپیش کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اْن کے ہاں ‘غفران منزل’ اور ‘کنور لاج’ کا ذکر ہے تو وہیں معمولی ٹائپسٹ لڑکیوں اور ریڈیو سٹیشنوں کے برآمدوں میں انتظار کرتی طوائفوں کا تذکرہ بھی ہے۔
آزادی کے بعد اردو افسانے کے اسلوب اور موضوعات میں تنوع پیدا ہوا۔ بہت سے جدید لکھنے والوں نے اس میں تجربات کے در وا کیے ہیں۔ان لکھنے والوںمیں ایک غلام عباس بھی شامل ہیں۔ جن کی افسانہ نگاری کا آغاز آزادی سے پہلے ہی ہو چکا تھا لیکن آزادی کے بعد انہوں نے اپنے منفرد اسلوب اور موضوعات کی بنا پر، اپنا جداگانہ رنگ جمایا۔ اْن کے ہاں موضوعات کا تنوع ہے۔ وہ زندگی کوبہت قریب سے دیکھتے ہیں اور جذئیات نگاری کو بروئے کار لاتے ہوئے واقعیت نگاری کا حق ادا کر دیتے ہیں۔ ان کا اسلوب رواں اور سادہ ہے۔ اْن کے اکثر کردار دوہری شخصیت کے حامل ہیں جو کہانی میں چونکا دینے کا سبب بنتے ہیں۔ممتاز مفتی ایک اور افسانہ نگار ہیں جنہوں نے اردو افسانے میں نفسیاتی مطالعہ کی اہمیت کو اْجاگر کیا۔ ممتاز مفتی کے کردار بظاہر عام زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد ہوتے ہیں لیکن وہ انہیں نفسیات کی آنکھ سے دیکھ کر مختلف بنا دیتے ہیں۔ ممتاز مفتی کے اکثر افسانوں میں تو انسانی فطرت کا نفسیاتی مطالعہ کسی ماہر نفسیات کی طرح کیا گیاہے۔
اشفاق احمد کے افسانوں کامرکزی نقطہ محبت ہے لیکن اس کے باوجود ان کے ہاں زندگی کا کرب اور اس کی پریشانیوں کا اظہار بھی ہوا ہے۔ حقیقت میں اْن کے ہاں موضوعات کا تنوع ہے اور ان موضوعات کے لیے جو جذبہ مہمیز کا کام کرتا ہے وہ اْن کی والہانہ محبت ہے جو اْن کے افسانوں کا احاطہ کیے رکھتی ہے۔
اردو افسانے کے ارتقائی مراحل میں جس افسانہ نگار کی کاوشوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، وہ انتظار حسین ہیں جنہوں نے کہانی کو ایک نیا پن عطا کیا۔ انہوں نے اردو افسانے کے اسلوب کو ایک نئی جہت بخشی۔ تجسیم، تجدید اور علامت نگاری کے نت نئے تجربات کیے اور اردو افسانے کو دیگر زبانوں میں لکھے جانے والے شاہکار افسانوں کی صف میں لا کھڑا کیا۔
موجودہ دور تک پہنچتے پہنچتے اردو افسانہ مختلف مراحل اور تجربات سے گزرا ہے۔ اس میں موضوعات اور اسلوب کے نت نئے تجربات کیے گئے ہیں۔ یہ تجربات جہاں مختلف شخصیات کے مزاج اور صلاحیتوں کے مرہون منت ہیں وہاں حالات و واقعات اور زندگی کی سماجی اور سیاسی جہتوں میں آنے والی نت نئی تبدیلیاں بھی اس کا سبب ہیں۔ بین الاقوامی تحریکیں اور بدلتے ہوئے تہذیبی و سماجی رجحانات بھی اردو افسانے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔فرانس سے شروع ہونے والی علامتی تحریک کے اثرات بھی ہمارے افسانہ نگاروں نے لیے۔ اس کے ساتھ ہی فرائیڈ اور ژونگ کے خیالات سے بھی اردو افسانہ محفوظ نہ رہ سکا۔ گو یہ خیالات اردو افسانے میں قدرے تاخیر سے داخل ہوئے لیکن ان کے اثرات اجتماعی سوچ اور زندگی پر ظاہر ضرور ہوئے۔ شعور کی رو کے تحت افسانے لکھے گئے۔ شعور و لاشعور کو موضوع بحث بنایا گیا۔حسن عسکری نے شعور کی رو کے حوالے سے افسانے لکھے۔ ان کے افسانوں میں اْن ناآسودہ خواہشات کو موضوع بنایا گیا جو معاشرے کی پابندی کے باعث آسودہ نہیں ہو پاتیں۔ ان کے افسانوں میں پلاٹ کی ترتیب کا اتنا خیال نہیں رکھا گیا۔ محض شعور کی غیر مربوط رو سے ہی کہانی اور کرداروں کے خدوخال ترتیب دیئے گئے ہیں۔مغرب کے زیر اثر ممتاز شریف نے بھی اپنے افسانوںمیں علمیت کا اظہار کر کے اپنے قاری کے لیے ذہنی ورزش کا خوب اہتمام کیا ہے۔ انہوں نے اپنے افسانوں میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ انسانی تجربات کو گرفت میں لانے کے لیے محض حال ہی سے واسطہ کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لیے ماضی میں تاریخ اور دیومالاؤں میں اس کے رشتے اور جڑیں تلاش کرنا پڑتی ہیں۔ یہ انہیں لکھنے والوں کا اعجاز ہے کہ اردو افسانہ نگاری اور فرانسیسی ہم عصر افسانوں کے مقابل آ کھڑا ہوا ہے۔موجودہ عہد میں اردو افسانے کی تکنیک پر بھی بے شمار تجربات ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تکنیک کے اعتبار سے آج اس میں بے پناہ تنوع پایا جاتا ہے۔ آج کا افسانہ تجسیم اور تجرید کے بین بین اپنا سفر طے کر رہا ہے۔ دہری سطح کی کہانیاں لکھی جا رہی ہیں، جنہیں قاری کے لیے سوچنے اور خود کو کہانی میں شامل کرنے کے مواقع موجود ہیں۔ اس طرز کی کہانی میں مشتاق قمر، منشا یاد اور سلیم آغا قزلباش بہت نمایاں ہیں۔ خالدہ حسین احمد کی کہانیوں میں قدرے ابہام پایا جاتا ہے البتہ ان کا نقطہ نظر بین السطور جاری و ساری رہتا ہے، اسی طرح مرزا حامد بیگ کی کہانیوں میں بھی ابہام کی فضا ضرور ہے لیکن اْن کی کہانی کو سمجھنا بھی مشکل نہیں ہے۔
آزادی کے بعد اردو افسانے کا موضوع بدلا‘ اور زندگی کے دیگر مسائل پر افسانے لکھے جانے لگے۔ قراۃ العین حیدر نے اپنے افسانوں میں اودھ کی مٹتی جاگیر کا نوحہ سنایا تو انتظار حسین نے ہجرت کے کرب کو بیان کیا۔۱۹۶۰ ء کے بعد اردو افسانے میں نئے تجربے ہوئے اور جدیدیت عصری ہیت ‘ علامتی و تدریجی افسانے لکھے گئے۔ شعور کی رو کے علاوہ اردو افسانے میں علامت نگاری‘اشارہ اور تجریدی رجحان کو آگے بڑھانے میں جدید افسانہ نگاروں نے خاصی دلچسپی کا اظہار کیا۔اس ضمن میں انتظار حسین‘انور عظیم‘رشید امجد‘شوکت حیات‘بلراج مین را‘سلام بن رزاق‘انور سجاد‘انور خاں‘قدیر زماں‘احمد ہمیش‘احمد یوسف اور عوض سعید وغیرہ قابل ذکر ہیں۔انہوں نے اساطیری حکایتوں کو نئی اور زندہ علامتیں بنا کر پیش کیا۔ جدید افسانہ نگاروں میں بلراج کومل‘سریندر پرکاش‘ کمار پاشی‘دیوندر اسر‘نیر مسعود‘عوض سعید‘ اکرام باگ‘سلام بن رزاق طارق چھتاری‘اقبال متین‘جیلانی بانو‘ علی ظہیر‘بیگ احساس وغیرہ شامل ہیں۔اردو افسانے کے ارتقا اور ترقی میں اوربہت سے افسانہ نگاروں کا خون جگر بھی صرف ہواہے۔ یہ وہ افسانہ نگار ہیں جن کے بغیر اردو افسانے کی داستان ادھوری رہے گی۔ ان میں سے کچھ نام یوں ہیں۔شیر محمد اختر، قدرت اللہ شہاب، شوکت صدیقی، آغا بابر، شمس آغا، منشا یاد، انور سجاد، مظہر الاسلام، رشید امجد، مستنصر حسین تارڑ، غلام الثقلین نقوی، جوگندر پال، رام لعل، جیلانی بانو، خدیجہ مستور، ہاجرہ مسرور، بانو قدسیہ، نشاط فاطمہ، عذرا اصغر، امجد الطاف، صلاح الدین اکبر، الطاف فاطمہ،مسعود مفتی، جمیلہ ہاشمی، فرخندہ لودھی، سائرہ ہاشمی، احمد جاوید، احمد دائود، مظہر الاسلام، اعجاز راہی، نیلوفر اقبال، محمد الیاس، نیلم احمد بشیر، شمشاد احمد، جمیل احمد عدیل، ابدال بیلا، امجد طفیل اور محمد عاصم بٹ وغیرہ شامل ہیں۔
اکیسویں صدی میں افسانچہ یا مختصر کہانی کے نام سے کہانی کی مختصر ترین صورت کو پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس میں چند جملوں میں کہانی کا اہم تاثر دیا جارہا ہے۔ بہرحال اردو افسانے کا سفر جاری ہے۔ اردو افسانے کے فروغ میں رسائل کے بعد سوشل میڈیا نے اہم کردار ادا کیا اس ضمن میں فیس بک پر اردو افسانہ اور عالمی اردو افسانہ کے نام سے کچھ گروپ ہیں جو عالمی سطح پر اردو افسانہ نگاروں کو ایک پلیٹ فارم پر پیش کرتے ہیں۔ اور اردو افسانہ نگاری کے ایونٹ رکھتے ہوئے نئے اور پرانے افسانہ نگاروں کو اپنے فن کو پیش کرنے اور ان افسانوں پر گفتگو کا موقع فراہم کررہے ہیں۔ زندگی میں جس طرح خیر و شر جاری ہے اسی طرح اس مشینی زندگی میں بھی افسانے کے لیے نئے موضوعات مل رہے ہیں اور اردو افسانہ نگار ان موضوعات کو اپنے فن کے ذریعے پیش کر رہے ہیں۔
حواشی:۔
۱؎ بحوالہ پریم چند کے منتخب افسانے۔ انجمن ترقی اردو نئی دہلی ۔۲۰۰۶۔ص۔۱۳۵
۲؎ بحوالہ : فن افسانہ نگاری۔ از وقار عظیم دیباچہ ثانی ص ۱۵
۳؎ فرمان فتح پوری۔اردو افسانہ اور افسانہ نگار۔اگست ۱۹۸۲۔ ص ۔۱۴
۴؎ خلیل الرحمٰن اعظمی۔اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک۔۱۹۲۷۔ص۔۲۰۷

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook