Home / خبریں / آمنہ احسن کراچی کا ناول ’’ڈئیوس، علی اور دیا‘‘ پر تبصرہ

آمنہ احسن کراچی کا ناول ’’ڈئیوس، علی اور دیا‘‘ پر تبصرہ


تبصرہ نگار :آمنہ احسن،کراچی ۔

کچھ تبصرہ نگار آمنہ احسن کے بارے میں۔
آمنہ احسن کی پیدائش لاہور میں ہوئی۔پرائمری سے لیکر ماس کا م گریجویٹ تک کی تعلیم لاہور میں حاصل کی۔ انھیں لاہور سے بے انتہا محبت ہے ۔ مگر ازدواجی زندگی سے منسلک ہونے کے بعد کراچی میں سکونت اختیارکی۔ آمنہ احسن کا تعلق اعلیٰ تعلیم یافتہ اور روشن خیال سادات و مشائخین گھرانے سے ہے۔ علمی ، ادبی اور تخلیقی ذوق انہیں اپنے خاندان سے ورثے میں ملا ہے۔وہ بہ یک وقت زندگی کے مختلف شعبوں میں سرگرم عمل ہیں۔ اردو ادب سے گہری دلچسپی ہے۔ آمنہ کے قول و فعل میں تضاد نہیں۔ حق گوئی ، بے باکی ،سچائی، محنت ،لگن، جستجو اور مستقل مزاجی ان کی طبیعت کا خاصہ ہے۔ اردو زبان و ادب سے انھیں والہانہ محبت ہونے کے سبب ،وہ اپنی زبان کو بہتر سے بہتر بنانے میں یقین رکھتی ہیں۔ان کی تحریروں میں معروضیت اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہے اور وہ متعلقہ موضوع پر اپنی بے باک اور سلجھی ہوئی رائے کے اظہار کا فن جانتی ہیں۔ انہیں دور جدید میں اردو زبان و ادب کے تقاضوں کا بھی ادراک ہے اور انہیں پورا کرنے کے فن سے بھی آشناہیں۔ آمنہ جدید اردو زبان و ادب کی نئی نسل کی قلم کاروں میں ایک مستند اور ابھرتا ہوا نام ہیں۔ انہوں نے کئی مضامین قلم بند کئے ہیں جو متعدد ادبی رسالوں اور اخبارات میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ مختلف ادبی پروگراموں میںشرکت کرکے وہ منفرد شناخت قائم کرچکی ہیں۔ تخلیقی ادب میں ان کی گہری دلچسپی ہے۔ انہوں نے ادب کو اس کے فنی رشتوں کے ساتھ ساتھ سماجی سروکار کے حوالے سے دیکھنا چاہا ہے۔ یہ ان کی وسعت نظر اور حقیقت پسندی کا ثبوت ہے۔کتابیں پڑھنے کا شغف رکھتی ہیں ۔ نئے لوگوں سے ملنا پسند کرتی ہیں ۔
ان کا ماننا ہے کہ معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہتی ہوں ۔ پاکستانیوں کا جو ایک negative impact دنیا کے سامنے بن چکا ہے اسے توڑنا چاہتی ہوں ۔زمانے کو بتانا چاہتی ہوں کہ ہم دہشت گرد نہیں بلکہ آرٹسٹ لوگ ہیں۔ آرٹ کے ماہر بھی ہیں اور اسے سراہنے والے بھی ۔میں چاہتی ہوں میں مستقبل میں ایک منفرد اور مثبت لکھاری کے طور پر سامنے آ سکوں۔ان کی بعض تحریریں فیس بک کے ذریعے پڑھنے کا اتفاق ہوا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ وسیع تر ادبی امکانات سے ہم کنار ہیں۔ میں ان کے بہتر مستقبل کی تمنا کرتا ہوں۔

ناول : ڈیوس، علی اور دیا۔۔۔
ناول نگار :نعیم بیگ

یہ ناول ہے نعیم بیگ کا۔ اور یہ کہانی ہے علی کی۔ ایک ambitious ، خواب دیکھنے والا اور ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی صلاحیت رکھنے والے انسان کی۔
یہ کہانی ہے علی کے زندگی میں آنے والے ان تمام کرداروں کی جنہوں نے علی کی زندگی کو ہر بار ایک نئے موڑ پر لا کر چھوڑ دیا ۔
یہ کہانی ہے بھر پور زندگی گزارنے والوں کی ۔۔ یہ کہانی ہے ہر اس شخص کی جو زندگی میں بروقت فیصلے نہیں کر پاتا اور ساری زندگی ان لمحات کو کوستا رہتا ہے جب منزل نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا ہو اور وہ زندگی میں اس سے بہتر منزل کی خواہش میں آگے بڑھ گیا ہو ۔۔۔
یہ کہانی ہے ایک عام انسان کے ساتھ طاقتور لوگوں کے رویہ کی ۔۔ معاشرے میں پھیلے انتشار کی ۔
یہ کہانی ہے محبت کی ۔ دیوی سے داسی کے سفر کی ۔ معاشرے اور حالات کی تلخی کے ساتھ ساتھ سفر کرتی محبت کی ۔
اگرچہ یہ ایک مشکل کام ہے انسان یا تلخی بیان کر سکتا ہے یا محبت کی کہانی ۔ لیکن ایک تلخ سفر میں کہیں کہیں محبت کا رنگ بھرنا اور بے حد خوبصورتی سے اسے کہانی کے ساتھ ساتھ لے کر چلنا ایک باکمال لکھاری ہی کے بس کی بات ہے ۔
یہ ناول شاید قاری کو اسلئے بھی مختلف لگے کہ یہ ناول آج کل کے پاپولر ادب کے طرز پر نہیں لکھا گیا ۔ اسکا کوئی کردار "Perfection کی مثال نہیں ہے ۔ ماں باپ کی آنکھ کا تارا ، پڑھنے میں سب سے آگے ، نیک ، دیندار یا بیوی بچوں کی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھانے جیسا اس ناول میں کوئی سامان نہیں ۔
اس ناول کے کردار کچھ کچھ ہم سب جیسے ہیں ۔ غلطیاں کرتے ۔ زندگی میں آگے بڑھنے کی خواہش لئے کسی لیڈنگ سٹوری کے پیچھے بھاگتے ہوۓ ۔۔۔ محبت کو شدت سے پانے کی خواہش کے باوجود حالات کے آگے سر تسلیم خم کر دینے والے ۔۔۔
ہار کر رو پڑنے والے ۔۔۔ ہار مان جانے والے اور پھر نئے سرے سے جیت کے لئے پر جوش نظر آنے والے ۔۔۔
ہاں میں یہ ضرور سمجھتی ہوں کہ چاہے معاشرے کی ہر سختی نے علی کو چنا اور اس کی زندگی کو مزید مشکل کیا لیکن اس کے باوجود علی کی زندگی کے آخری لمحات کو اس سے بہتر انداز میں پیش کیا جاسکتا تھا جیسے کیا گیا ۔۔۔
یہ ناول آپ کو کیوں پڑھنا چاہیے ؟
سب سے بڑی وجہ یہ آج کل کے پاپولر ادب سے مختلف ہے ۔ بے حد مختلف ۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ ناول ایک نہایت ہی سیریس موضوع پر لکھا گیا ہے لیکن نعیم بیگ صاحب نے اس میں قاری کے لطف اندوز ہونے کا ایسا سامان رکھا ہے کہ بات قاری تک پہنچ بھی جاتی ہے اور اسے بوریت کا احساس بھی نہیں ستاتا ۔
ایک اور وجہ جس نے اس ناول میں میری دلچسپی کو بڑھا دیا وہ ہے اس میں موجود سیاحت اور سفرنامے کا ایک انوکھا رنگ ۔ ناول کے مختلف کردار دنیا کے مختلف کونوں میں سفر کرتے ملیں گے اور اس سفر کی داستان بے حد دل فریب ہے ۔۔۔
ناول کا پلاٹ بھی نیا ہے اور انداز بیاں بھی ۔۔۔ ممکن ہے اس سے ملتا جلتا کوئی پلاٹ قاری کی نظر سے گزرا ہو لیکن اس پلاٹ کو بیان کرنے کا انداز مختلف بھی ہے اور دلچسپ بھی ۔
پھر اگر قاری اس ناول کے لکھنے کی وجہ تک پہنچ جاۓ تو معاشرے میں بڑھتی ناانصافی اور انتشار پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ اور اگر ایسا ہو جاۓ تو سمجھ لیجئے ادب نے معاشرے کی آبیاری میں اپنا کردار ادا کر دیا ہے ۔

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook