Home / خبریں / اکیسویں صدی میں اردوزبان وادب کے خدوخال

اکیسویں صدی میں اردوزبان وادب کے خدوخال

prof.dr.Shadab
٭پروفیسرڈاکٹرذوالقرنین احمد(شاداب احسانی)
سابق صدرنشین شعبۂ اردو جامعہ کراچی
Email:Shadaburdu@gmail.com

بولیوں اورزبانوں کا پس منظرآوازیں ہیں جبکہ آوازوں کا پس منظراُن آوازوں سے جڑے ہوئے خطّوں کوسمجھنا چاہیے۔آوازوں سے حروفِ تہجی یعنی رسم الخط کااجراء اس خطّے سے مناسبت رکھتا ہے جس خطّے کی وہ آوازیں ہوتی ہیں ۔حروفِ علت یا Vowels کا انحصار بھی آوازوں سے جڑے ہوئے خطّوں کے باسیوں کی آوازوں کی ادائیگی پر محمول سمجھناچاہیے۔اکیسویں صدی تک آتے آتے بولیوں اور زبانوں کا پس منظرقصّۂ پارینہ ہوچلا اور لسانیات کے نام پر مختلف زبانوں کے حوالے سے مختلف خطّوں کی نشاندہی کی جانے لگی کہ یہ آوازیں دراصل اس خطّے کی ہیں۔ جس کی محقق نے قرائن وشواہد کے ذریعہ ہمیں اطلاع فراہم کی ۔
’’برصغیر پاک و ہند کے لوگ اس بناء پر خوش قسمت ہیں کہ ہرطرح کی آوازیں ادا کرنے کے اہل ہیں چنانچہ اگرایک طرف سنسکرت اوردراوڑی  الفاظ سے مخصوص کرخت اصوات ادا کرسکتے ہیں تودوسری طرف عربی،ترکی،فارسی اورمغربی زبانوں سے مخصوص آوازیں بھی حلق سے نکال سکتے ہیں ۔اردو کے حروفِ تہجی اس امرکے مظہر ہیں کہ یہاں کے باشندے تعدادمیں کئی اصوات کی ادائیگی پر قادرہیں۔ اردو زبان میں دنیا کی ہرزبان کا لفظ اپنا اصل لہجہ برقرار رکھتے ہوئے ادا ہوجاتا ہے ‘‘(ماخذ:ڈاکٹرسلیم اختر’’اردوزبان کی مختصرترین تاریخ ‘‘ )
یہ نوعیتیں گریرسن سے لے کرتاحال جاری ہیں جبکہ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کسی بھی زبان کا خالص لسانی مطالعہ اس زبان کے خلاف علمی بددیانتی کے مترادف اس لحاظ سے ہوگا کہ آج دنیا گلوبلائزیشن کی زدّ پر ہے جیساکہ بولیوں اورزبانوں کے آغاز کے ضمن میں کہا جاچکا ہے کہ آوازیں خطّوں سے مناسبت رکھتی ہیں اوراس خطّے کے کلچر کے اظہارمیں یہ آوازیں بنیادی نوعیت کی حامل ہوتی ہیں یہی سبب ہے کہ ہم زبانوں کو قبیلوں میں تقسیم کرچکے ہیں اوران قبیلوں کی ذیلی شاخوں کاقیام بھی عمل میں آچکا ہے اسی مناسبت کوملحوظ ِ خاطررکھتے ہوئے اس حقیقت کوہمیشہ پیشِ نظررکھنا چاہیے کہ ہرزبان بااعتبارِ ساخت اپنا ایک مزاج رکھتی ہے ان معروضات کی روشنی میں زبانوں کے خالص مزاج کوسمجھنا آسان ہے جبکہ موجودہ صورتحال میں اس بات کو سمجھنا سہل نہیں ہے۔
اردوزبان کا آغازوارتقاء گلوبلائزیشن میں زبانوں کے اختلاط وارتباط سے مماثلت لیے ہوئے ہے چھٹی صدی قبل مسیح کا ہندوستان اصلاحِ مت کے ساتھ ساتھ بولیوں کی آزادی سے بھی ہمکنارہوا۔مختلف خطّوں کے بسنے والے اپنی اپنی زبانوں کے ساتھ زندگی کے سردوگرم سے نبرد آزما رہتے ہیں لیکن جب یہ اختلاط وارتباط کے فطری عمل سے گزرتے ہیں تو نتیجتاً لہجوں اور آوازوں کا منتقل ہوناناگزیر ہوجاتا ہے ۔تہذیبی سطح پر ہر تہذیب کے زیرِ اثر ہرخطّے میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں لیکن تہذیبی خطّہ ہمیشہ ایک مرکزی زبان کے حوالے سے اپنے وجود کوقائم ودائم رکھتا ہے ۔ اسی ضمن میں مردہ زبانوں اورزندہ زبانوں کے حوالے سے مطالعہ اورمشاہدہ کیا جاسکتا ہے ۔اردوزبان بھی چھٹی صدی قبل مسیح کے بعد مرکزی زبان کی فطری ضرورت کے ضمن میں توّلد پذیر ہوئی بعدازاں خطّے کے ترجمان کی صورت پشاور سے راس کماری تک بولی اورسمجھی جانے لگی۔’’آبِ حیات‘‘ میں محمد حسین آزاد نے اردوکے مرکزی ہونے کی نشاندہی کچھ اس طرح کی کہ آج بھی اس سے انکارنہیں کیا جاسکتا۔ملاحظہ ہو:
’’اگر بیچوں بیچ ہندوستان میں کھڑے ہوکرآوازدیں کہ اس ملک کی زبان کیا ہے تو جواب یہی سنیں گے کہ اردو، اس کے ایک کنارے سے مثلاً پشاور سے چلو تو اوّل افغانی ہے ،اٹک اترو توپوٹھوواری کچھ اورہی کہتے ہیں ۔جہلم تک داہنے پر کشمیر پکار رہا ہے کہ یورولا۔یورولا یعنی ادھرآؤ ،بائیں پر ملتان کہتا ہے کتھے گھنیا، یعنی کہاں چلے؟ آگے بڑھیں تو وہ بولی ہے کہ پنجابی خاص اسی کو کہتے ہیں کہ اس کے بائیں پر پہاڑی ایسی زبان ہے کہ تحریر وتقریر سب سے الگ ہے ۔ستلج اتریں توپنجابیت کی کمی سے لوگوں کی وضع ولباس میں بھی فرق شروع ہوتا ہے دلّی پہنچے تو اورہی سما بندھا ہوا ہے ،میرٹھ سے بڑھے توعلی گڑھ میں بھاشا سے ملاجلا پورب کا انداز شروع ہوگیا کانپور،لکھنؤ سے الہ آباد تک یہی عالم ہے جنوب کو ہٹیں تو مارواڑی ہوکرگجراتی اوردکھنی ہوجاتی ہے پھر ادھرآئے تو آگے بنگلہ ہے اورکلکتہ پہنچ کرتو عالم گوناگوں خلقِ خدااورملکِ خدا ہے جس کا امتیاز حدانداز سے باہر ہے ‘‘
اردوزبان کے جائے توّلدکے بارے میں مختلف نظریات نے ایک ایسی فضا پیدا کردی کہ جس سے اردو ایک بے ٹھکانہ زبان کے طورپر ذہنی تعصبات کی نمائندہ ہوتی چلی گئی۔اردوزبان کی آرائش دکن،دلّی ، لکھنؤ اورلاہورمیں ہوئی ۔ شمالی ہند اورجنوبی ہند بالخصوص دکن کے کلچرکے فروغ میں اردوزبان نمایاں حصہ دار رہی جبکہ مشرقی اورمغربی پنجاب کا کلچر بھی اس زبان کے ذریعے ہندوستان کے مختلف خطّوں میں پہچانا جاتا رہا اس کے علاوہ دیگرزبانوں کے ساتھ اردوزبان کا تال میل ضرورتاً یا مذہباً جاری و ساری رہا ۔ گستاؤلی بان (مصنف :تمدنِ ہند۱۸۶۲ء)کے اعداد وشماریہ بتاتے ہیں کہ اردوہندوستان کی واحد زبان ہے کہ جسے پورے ہندوستان کوآپس میں جوڑنے کا شرف حاصل رہا اورہے ۔بولی وڈ کی ہندوستان میں مرکزیت بھی اردوزبان کی رہینِ منت ہے ان اعدادوشماراور موجودہ خطّے میں اردوزبان کے چلن کودیکھتے ہوئے یہ نتیجہ اخذکرنا کہ ہم اردوکو صرف رابطے کی زبان سمجھتے ہیں نہایت گمراہ کُن ہے۔رابطے کی زبان کہیں بھی کسی بھی جگہ دورانِ مسافت مسافروں کے درمیان پیدا ہوتی ہے اورمرجاتی ہے جبکہ یہ کیسی رابطے کی زبان ہے کہ ہرکس وناکس کے لیے اس کا سیکھنا ،سمجھنا نہایت آسان ہے۔اس کا مطلب یہ ہواکہ اردوزبان اس خطّے کے خمیر سے جڑی ہوئی ہے اورمرکزی زبان کی صورت میں ظہورپذیر ہونابولیوں کو بڑھاوا دینے کے مترادف ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی خطّے میں اگرکوئی زبان مرکزی حیثیت سے فروغ پارہی ہو تو کیا دیگر زبانیں اس کی مخالف ہوں گی یقینا نہیں دیگر زبانوں کی معاونت کے بغیر اردوزبان اس حیثیت واہمیت کی حامل قطعاً نہیں ہوسکتی تھی پھر آج یہ جھگڑا ،تعصبات کیسے؟ ان تعصبات کے پیچھے صدیوں کی وہ گلوبل سازش ہے کہ جس سے ہندوستان کے باسی اکائی کی صورت میں زندگی گزارنے کے اہل نہیں رہے کیونکہ زبان مذہب سے بڑی اکائی بناتی ہے پھر یہ کہ وطنیت کے تصورات میں زبان حب الوطنی کا بنیادی حوالہ بنتی ہے اس اعتبار سے فرانسیسی جرنل ڈوپلے کا ڈیوائیڈ اینڈ رول کافارمولا اردوزبان پر بھی آزمایا گیا اورلسانیاتی مطالعوں نے دانش کی سطح پر ہندوستانی اکائی میں دراڑڈال دی معاونت کرنے والی زبانوں کے بولنے والے دانشوربھی اس لپیٹ میں آگئے اورانہوں نے اردوزبان سے زیادہ انگریزی کوفوقیت دینا شروع کیا یہیں سے تقسیم در تقسیم کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا اردوکی مخالفت بھی کرتے ہیں اوراردوکے بغیر کام بھی نہیں چلتا…!
اس صورتحال میں اردوزبان کے رسم الخط کے حوالے سے نستعلیق کی وکالت کرنابھینس کے آگے بین بجانے کے مصداق ہے جبکہ تیزی سے انگریزی لفظیات کا عمل دخل او۔اے لیول میں اردوکوانگریزی میں پڑھانا اس خطّے کے لوگوں کو اپنی شناخت سے عاری کرنا ہے یورپ چھ سوبرس تاریکی (DarkAges)[۷] میں پھنسا رہا تب ہی ہمیں اُن(DarkAges) کے اسباب وعلل جاننے کی خواہش بھی کرنا چاہیے ۔خداجانے ہم کتنی صدیاں کارِ مزلت میں گزاریں گے اردونے نکلنے کاراستہ فراہم کیا تھا جسے ہم نے خود تاریک کردیا ۔آج صورتحال یہ ہے کہ گذشتہ پچاس برسوں کی تحریریں پڑھنے کے لیے لغات کی ضرورت آن پڑتی ہے اورروزمرّہ بول چال اورمحاورہ بھی تیزی سے تبدیل ہوتا جارہا ہے شعراء کاکلام مشاعراتی فضامیں واہ سے ضرور ہمکنارہوتا ہے لیکن معاشرے پراس کے اثرات ویسے نظرنہیں آتے ادباء کی تحریریں ڈرائنگ روم کی زینت ضرورہیں لیکن اب ہمارے پاس اکیسویں صدی کے حوالے سے نہ کوئی ایسا شاعرنہ کوئی ایساادیب ہے جس کی کتاب کوBest Seller کہہ سکیں ۔ جن شعراء وادباء کاہم ذکرکرتے ہیں وہ اسّی اورنوّے کی دہائی میں مقبول ہوچکے تھے جبکہ فیض ؔ صاحب کا قبیلہ اس سے بھی پہلے کی بات ہے ۔اگرشہرت کے حوالے سے بات کی جائے توشاید دانش کو بینش نہ ہونے کے سبب ہم سب انگریزی میڈیا کوحرزِ جاں بنائے ہوئے ہوتے ۔کسی بھی شعبے کا بڑا آدمی ہو اس کی شناخت اردومیڈیا کے بغیرممکن نہیں بنائی جاسکتی ۔اردوزبان نے جوخطّے میں فکری توانائی کا ایک سیلِ بے کنار پیدا کردیا تھا اب وہ خشک ہوتا جاتاہے صرف انگریزی بول کراپنی قابلیت کا لوہا منوایا جاسکتا ہے اس فضا میں اردولغات اوررسم الخط میں آوازوں کی کیفیات کو پرکھنے اورسمجھنے والے سماعتوں سے عاری ہوچکے ہیں سوشل میڈیا کا بہاؤ ایک نیا جہانِ اردوپیدا کرتا نظرآتا ہے ماضی کی طرح مشاعرے یا ادبی محافل میں نئی نسل کی دلچسپی اس طرح نظر نہیں آتی لیکن سوشل میڈیا میں نوآموز شعراء ادباء اپنی اپنی تخلیقات پر داد کے منتظر رہتے ہیں تویقینا اردوزبان وادب کے مسائل کہ جواردورسم الخط اورلغات سے جڑے ہوئے ہیں سوشل میڈیا سے گزرکرہی آنے والے کل میں طے ہوسکیں گے فیصلہ کن مرحلہ مادری زبانوں کے حق کو تسلیم کرلینے کے بعد ہی ممکن ہوسکے گا امید یہی رکھنی چاہیے کہ مادری زبانیں مرکزی زبان اردوکی معاون زبانیں ہیں یقینا آنے والے کل میں دانشوروں کی دانش سمت کا تعین کردے گی ہم سب کو مادری زبانوں کوخوش آمدید کہنا چاہیے اوران کے فروغ میں اردوکے کردارکو اجاگرکرتے ہوئے ارتباط واختلاف کے فطری سوتوں کونہیں روکنا چاہیے بعدازاں اردوکے تین رسم الخط اورآج کی روزمرّہ اردو اورمادری زبانوں کے تال میل سے ایک نیا راستہ بنانے میں کامیاب ہوجائے گی اس ضمن میں مادری زبانوں کا عالمی دن منانا اردوکے پاسداروں کی بھی اہم ذمہ داری قرار دیا جانا چاہیے۔
مادری زبانوں کا عالمی دن ہرسال آتا ہے لیکن کچھ عرصہ سے اور بالخصوصأ۱۶۔ ۲۰۱۵ء میں اس عالمی دن کے موقع پر پاکستان کی مادری زبانوں پرسیمینارمنعقد کیے گئے اورکیے جائیں گے ۔یہ سب کچھ(UNESCO) کے تحت عالمی سطح پر سپر پاورز کے عالمی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے بھی ناگزیر نظرآتا ہے زمانہ بدل چکا ہے اوراب ترقی یافتہ ترقی پذیر ممالک کودانش کی سطح پر زیراثرلانے کی سعی کرتے ہیں ۔دانش کی سطح پر ذہنی غلامی صدیوں تک ترقی یافتہ ممالک کے اقتدارکو یقینی بناسکتی ہے اس ضمن میں مادری زبانوں کی اہمیت اورافادیت سے بھلا کس کو انکارہوسکتا ہے لیکن جس خطّے میں مادری زبانیں پائی جاتی ہیں وہاں یقینا انگریزی کے علاوہ بھی کوئی اور زبان مرکزی حیثیت کی حامل ہوتی ہے جوانگریزی سے زیادہ مادری زبانوں کے کلچرکو اس خطّے کے کلچرکواکائی کی صورت بخشنے میں مرکزی کردار ہوتا ہے اسی بات کے پیشِ نظر ایسے ممالک جنہوں نے انگریزی کے علاوہ ترقی کی ہے مذکورہ اصول کوہی پیشِ نظررکھا ہے ان معروضات کی روشنی میں اکیسویں صدی میں اردوکااحوال باعتبارِ رسم الخط رومن ،دیوناگری اورنستعلیق سے جڑاہوا ہے اس کے اسباب و علل پرغورکرنے سے یہ بات ذہن میں آئی کہ ٹیکنالوجی کی زبان رومن رسم الخط کی حامل ہے جبکہ ہندوستان کوجتنی اردو(ہندی)کی ضرورت ہے اتنی ہی حُب الوطنی (Nationalism) کی بھی! جبکہ پاکستان جس کے خمیر میں اردو نظریے سے جڑی ہوئی ہے ہوناتو یہ چاہیے تھا کہ اس نظریے کا اطلاق کیا جاتا اوراردوکو خواندگی سے لے کراعلیٰ تعلیمی ضرورتوں تکمیل کے لیے دیگر مادری زبانوں کے ہم رکاب بنایا جاتا اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ پاکستان ترقی کے ساتھ ساتھ حب الوطنی کی نعمت سے بھی بہرہ مند ہوچکا ہوتا ۔
اکیسویں صدی کے اس منظرنامے میں رسم الخط کے مباحث سوال درسوال ،جواب در جواب کاایک ناختم ہونے والا سلسلہ تاحال جاری ہے جبکہ اکیسویں صدی کااردومیڈیا بھی غلط تلفظات کے ابلاغ پر ثقہ ادیبوں کی زد پر ہے اس ضمن میں غورکرنا ہوگا کہ عوام لغت کے پیچھے چلتی ہے یا لغت عوام کے حوالے سے زندہ رہتی ہے روزمرّہ بول چال کی زبان کو فصاحت سے تعبیر کرنے والے اس بات کو صحیح معنوں میں سمجھ سکتے ہیں اردولغت بورڈ کا۲۳جلدوں میں یہی کارنامہ ہے کہ اردولغت بورڈ نے ناصرف لغت کی تدوین کے اصولوں کوملحوظ رکھا ہے بلکہ عوامی بول چال کوبھی نظراندازنہیں ہونے دیااس صورتحال میں اردوایک ایسی بدقسمت زبان ہے کہ تلفظات کے ذیل میں ہم اس زبان کو معیارقرار دیتے ہیں جس زبان کالفظ اردومیں ضم ہوجاتا ہے اس حوالے سے ہونا تو یہ چاہیے کہ ضم ہونے والا لفظ اردوزبان میں کس طرح اداکیا جارہا ہے لہٰذا اسی تلفظ کو معیارسمجھنا چاہیے[۹] جس طرح تقریباً دوسوبرس قبل آتِش اورآتَش کا قضیہ طے ہوچکا ہے کہ آتِش بھی باعتبارِ تلفظ اردومیں درست ہے مزید یہ کہ ہم جہاں ہرسطح پر انگریزوں کی پیروی میں پیش پیش ہیں وہیں ہم تلفظات کے معیارات کے حوالے سے انگریزی لغت نگاروں کے ان معیارات کو اپنالیں کہ جولفظ انگریزی میں داخل ہوکرانگریزی کا ہوجاتا ہے اس کی سند کے لیے انگریزی ہی اہم ہوتی ہے فرانسیسی ،لاطینی ،یونانی وغیرہ کی نوعیت لفظ شناسی کے ضمن میں محققانہ اہمیت سے زیادہ نہیں رہتی ۔اکیسویں صدی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اثرات یہ بتارہے ہیں کہ گلوبل ولیج کا قائم ہوجانا بعیدازقیاس نہیں لیکن اس گلوبل ولیج میں مختلف خطّے ٹیکنالوجی سے بہرہ مند ہوتے ہوئے اپنی اپنی شناخت بھی برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں گے۔ اس کی سب سے مضبوط دلیل یہ ہے کہ آرنلڈ ۔جے۔ ٹوائن ۔بی کے مطابق انسانوں کی نفسیات پر جغرافیہ بر اہِ راست اثرانداز ہوتا ہے یعنی میدانی ،پہاڑی اورریگستانی علاقوں میں بسنے والوں کی نفسیات یقینامختلف ہوتی ہے اوران علاقوں کے رسم ورواج بھی جغرافیہ کے رہینِ منت ہیں اوراسی جغرافیہ کو کلچرکی بنیاد قراردیا جاسکتا ہے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حوالے سے بعینہٖ فاتح اورمفتوح کے کلچر کی کیفیات پرمحمول کیا جاسکتا ہے ۔ ہندوستان میں وسطی ایشیا کے فاتحین کے کلچر نے فارسی زبان کے ذریعے فروغ پایا جیسے آج انگریزی کی فارسی بھی اس زمانے میں روزگارکی زبان سمجھی جاتی تھی کیا فاتحین کی آمد نے مفتوحین کے کلچرکوختم کردیا؟…نہیں !بلکہ ان فاتحین کے ذریعہ ہندوستانی کلچرمیں ایک نئی زندگی آئی اوروہ زبان جسے سنسکرت کہا جاتا تھا اورخطّوں کی وہ بولیاں جنہیں ہندآریائی کہاجاتاتھا وہ سب کی سب کسی نہ کسی اندازمیں فروغ پاتی رہیں البتہ بولیوں کو علمی حیثیت نہ مل سکی جبکہ بقول امیرخسروؒ فارسی پشاورسے راس کماری تک ایک معیاراورایک ہی اندازکی حامل رہی بعدازاں انگریزوں اورانگریزی کااحوال ہمارے سامنے ہے آج کی دنیا ماضی کے حملوں یا فاتحین جیسی نہیں بلکہ علم ودانش کے ذریعہ قوموں پراپنا تسلط قائم کرنے کا معاملہ ہے یعنی آج کا فاتح سائنس وٹیکنالوجی پر اپنی گرفت مضبوط کیے ہوئے ہے ان معروضات کی روشنی میں اردورسم الخط اورزبان وادب کے معیارات کو دیکھنا ہوگا ٹیکنالوجی کے ضمن میں آج اردوزبان کی تقریباً ۷ سے ۸ ہزار ویب سائٹس موجود ہیں ۔گوگل جیسے سرچ انجن نے بھی اردوکواپنالیا ہے لہٰذا فیس بک کی رنگارنگیوں نے مذکورہ تینوں رسم الخط کے استعمال کو روا رکھا ہوا ہے جبکہ فیس بک کے مشاعرے شعراء کو ٹیکنالوجی کی اہمیت کے لیے آمادہ کرنے میں فعال کردارادا کررہے ہیں۔ ہرنامورادیب یا شاعر اپنی آئی ڈی کے ساتھ فیس بک پر موجود ہے ۔ اس فیس بک کے ذریعے اسکینڈینیوین ممالک سے لے کر ماریشش کے جزائر تک اردومیں ایک دوسرے سے ناصرف تبادلۂ خیال کررہے ہیں بلکہ زبان وادب کے مسائل پربھی مباحث کا سلسلہ جاری ہے اس صورتحال میں اکیسویں صدی کے اختتام تک یقینا رسم الخط کے مباحث ہوں یا لغت نویسی کے مسائل ٹیکنالوجی کوکہیں سے کہیں تک نظرانداز نہیں کیاجاسکے گا اورعوامی نوعیت لغت نویسی میں بھی درآنے کا امکان پیدا ہوچلے گا جبکہ شعراء اورادبا اظہارکی گنجلک وادیوں سے نکل کر اس اظہارکی طرف متوجہ ہوں گے کہ اُن کی تخلیقات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے اوران کی تفہیم ہوسکے اورصحافت کے عامیانہ پن کے بعد اردو زبان کے شعراء اورادباء کواپنی بات پہنچانے میں یقینا دشواری پیش آرہی ہے وہ سماعتیں مفقود ہوگئیں کہ جوعلمِ بیان سے پیدا ہونے والی رنگارنگ معنویت کوادبی اظہارکاخاصہ جانتی تھیں اس فضا میں تینوں رسم الخط سے واقفیت اورلغت کوزیادہ سے زیادہ عوامی بنانے کااہتمام کیا جانے لگا ادب کا سماج میں غیرمتعلق ہوجانا بھی آہستہ آہستہ ختم ہوتا چلاجائے گا اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ یہ اردوزبان کوبھی کوئی نہ کوئی ورڈزورتھ میسرآجانے کا امکان ہوگا اوریہ تقسیم درتقسیم کا سلسلہ مرکزی زبان اردوکے ذریعہ کہیں نہ کہیں رکنے کے عمل سے گزرتا ہوا ماضی کی طرح اکائی میں ڈھل جائے گا مادری زبانوں کا معاملہ اردوسے جڑکرایک ایسی شناخت بنے گا کہ جس سے بائیسویں صدی اس خطّے میں ناصرف ترقی بلکہ زبان وادب کی فضیلت کوبھی مستحکم کرنے کا باعث ہوگی ۔

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook