Home / خبریں / ’’ اکیسویں صدی میں اردو ناول ‘‘ اور ’’راجندرسنگھ بیدی : ایک عہد ساز فن کار‘‘ کا اجراء

’’ اکیسویں صدی میں اردو ناول ‘‘ اور ’’راجندرسنگھ بیدی : ایک عہد ساز فن کار‘‘ کا اجراء

مسلم انسٹی ٹیوٹ میں ڈاکٹر نعیم انیس کی دو کتابوں
’’ اکیسویں صدی میں اردو ناول ‘‘ اور ’’راجندرسنگھ بیدی : ایک عہد ساز فن کار‘‘ کا اجراء
18555897_1304776602951264_2119226312098055000_n

کلکتہ(اسٹاف رپورٹر) آج شام ۷؍ بجے شہر کے تاریخی ادارے مسلم انسٹی ٹیوٹ کے قادر نواز ہال میں منعقدہ ایک خوبصورت تقریب میں ڈاکٹر نعیم انیس ( شعبۂ اردو ، کلکتہ گرلس کالج اور اعزازی ایجوکیشن سکریٹری ، مسلم انسٹی ٹیوٹ ، کولکاتا ) کی مرتبہ دو کتابوں ’’ اکیسویں صدی میں اردو ناول ‘‘ اور ’’راجندرسنگھ بیدی : ایک عہد ساز فن کار‘‘ کا اجرا بالترتیب پروفیسر عبدالحق (شعبۂ اردو ، دہلی یونیورسٹی) اور ڈاکٹر زین رامش (صدر ، شعبۂ اردو ، ونوبابھاوے یونیورسٹی ، ہزاری باغ) کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ تقریب کی صدارت نامور فکشن نگار جناب سیّد محمد اشرف نے کی جب کہ نظامت کے فرائض نوجوان شاعر و ادیب شاہد اقبال نے ادا کیے۔ پروگرام کے آغاز میں جناب شیخ شمشیر عالم (آئی آر ایس) نے مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ یہ’’ ادارہ ابتدائی مراحل سے ہی مختلف النوع میدانوں میں سرگرمِ عمل ہے۔ انسٹی ٹیوٹ کی موجودہ کمیٹی نے اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے کھیل کود ، لائبریری ، درس و تدریس اور ثقافتی سرگرمیوں کے ساتھ اردو زبان و ادب کے فروغ کو بھی ترجیح دی اور گزشتہ دو برسوں میں قومی سطح کے دو سیمینار کرائے جن میں پیش کیے گئے مقالوں کو ڈاکٹر نعیم انیس نے کتابی شکل دی اور ا ن دونوں کتابوں کی رونمائی آج اس محفل میں ہوگی۔ ‘‘ کتابوں کی رونمائی کے بعد ادارۂ ہذا کے صدر جناب ایچ اے صفوی نے کہا کہ ’’اردو زبان و ادب کی ایک طویل تاریخ ہے اور یہ زبان ہندستان کی اہم زبانوں میں سے ایک ہے۔ اس کی اہمیت اور مغربی بنگال میں اس کے بولنے والوں کی خاطر خواہ تعداد کے پیشِ نظر ریاستی حکومت نے اسے دوسری سرکاری زبان کا درجہ دے دیا ہے۔ اب یہ ہم اردو والوں کی ذمہ داری ہے کہ اس مراعت سے کیسے استفادہ کریں ۔ ان دونوں کتابوں کے مرتب ڈاکٹر نعیم انیس بھی مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے ان دونوں کتابوں کو سلیقے سے ترتیب دیا۔ ‘‘دونوں کتابوں کے مرتب ڈاکٹر نعیم انیس نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’مسلم انسٹی ٹیوٹ علمی و ادبی تقریبات کے ضمن میں ہمیشہ سے ایک فعال ادارہ رہا ہے۔ مشاعرے، سیمینار، شامِ غزل ، کتابوں کی رونمائی اور ادبا و شعرا کی تہنیت اور عزت افزائی اس ادارے کی خاص سرگرمیاں ہیں۔ ۲۰۰۴ء میں ’’آزادی کے بعد مغربی بنگال کا اردو ادب ‘‘ اور ۲۰۰۸ء میں ’’پریم چند حیات و خدمات ‘‘ پر کامیاب سیمینار اس ادارے کے تحت منعقد کرائے گئے جن میں پیش کیے گئے مقالوں پر بھی کتابیں شائع ہو کر مقبولِ عام ہوئیں۔ آج بھی جن دو کتابوں کا اجرا ہوا وہ دونوں ہی کتابیں گذشتہ دو برسوں کے دوران یہاں منعقد ہوئے دو قومی سیمیناروں میں پیش کیے گئے مقالوں پر مشتمل ہیں۔ پہلی کتاب ’’اکیسویں صدی میں اردو ناول ‘‘ ۴۰۰؍ صفحات پر مشتمل ہے جس میں کل ۲۱؍ مقالے شامل ہیں۔ نیز اس کتاب کے مقدمہ میں اکیسویں صدی کے پہلے ۱۶؍ برسوں کے دوران لکھے گئے ۱۱۳؍ اردو ناولوں کی فہرست شامل ہے۔ ’’اکیسویں صدی میں اردو ناول ‘‘ کے موضوع پر سیمینار ۲۰۱۵ء میں ہوا تھا جس کی خاص بات یہ بھی تھی کہ ملک کے معتبر فکشن نقادوں کے ساتھ اردو ناول نگار بھی اس سیمینار کا حصہ تھے۔ دوسری کتاب راجندر سنگھ بیدی کی صدی تقریبات کے سلسلے میں منعقدہ اس قومی سیمینار میں پیش کیے گئے مقالوں پر مشتمل ہے جو ۲۰۱۶ء میں مسلم انسٹی ٹیوٹ میں منعقد ہوا تھا۔ اس سیمینار کی یہ نمایاں خصوصیت ہے کہ بیدی صدی تقریبات کے سلسلے میں ملک بھر میں یہ پہلا سیمینار تھا۔ ‘‘ڈاکٹر زین رامش نے مرتبِ کتب کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’سیمینار منعقد کرنا اور صرف مقالے سننا اور سنانا اہم نہیں بلکہ منتظمینِ سیمینار کی ذمہ داری اس وقت پوری ہوتی ہے جب سیمینار میں پیش کیے گئے مقالے کتابی شکل میں منظرِ عام پر آتے ہیں اور اساتذہ ، ریسرچ اسکالر ، طلبا و طالبات اور تشنگانِ علم و ادب ان سے خاطر خواہ استفادہ کرتے ہیں۔ ڈاکٹر نعیم انیس کی یہ کتابیں دستاویزی اہمیت کی حامل ہیں کیوں کہ پہلی کتاب ’’اکیسویں صدی میں اردو ناول‘‘ کے مقدمہ میں انھوں نے اس صدی میں لکھے گئے ۱۱۳؍اردو ناولوں کی فہرست شامل کردی ہے جو ایک بے حد اہم کام ہے ، جس سے ریسرچ اسکالر اور طلبا و طالبات ضرور مستفیض ہوں گے۔ ‘‘ ممتاز ماہرِ اقبالیات پروفیسر عبدالحق (پروفیسر ایمرٹس ، دہلی یونیورسٹی ) نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’علامہ اقبال نے نوجوانوں کو اپنی شاعری میں جگہ جگہ خطاب کیا ہے کیوں کہ وہ قوم کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھوں میں دیکھتے تھے۔ ایسے ہی ایک نوجوان ادیب ڈاکٹر نعیم انیس بھی ہیں جن کی مرتبہ کتابوں کی رونمائی آج یہاں کی گئی۔ اس سے قبل علامہ اقبال پر بھی وہ ایک بے حد اہم کتاب مغربی بنگال اردو اکاڈمی کے زیرِ اہتمام شائع کرچکے ہیں۔ ‘‘ انھوں نے اردو میں ہندی ، انگریزی اور دیگر زبانوں کے بڑھتے ہوئے اثرات پر معاصر قلم کاروں خصوصاً فکشن نگاروں سے گزارش کی کہ اردو کو ہندی زدہ نہ بنائیں ۔ ‘‘ ممتاز فکشن نگار سیّد محمد اشرف نے صدارتی خطبہ میں ڈاکٹر نعیم انیس اور ادارے کے منتظمین کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’کلکتہ کے اردو داں حضرات بے حد باذوق اور ادب نواز ہیں جس کا ثبوت تقریب کے آخر تک ہال کی تمام نشستوں پر سامعین کی موجودگی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اردو فکشن کے مکالموں میں دوسری زبانوں کا استعمال فکشن کی روح کو مضبوط کرنے کے لیے کیا جاتا ہے ۔ اقبال اور دیگر عظیم شعرا نے بھی ضرورتِ شعری کے تحت اردو میں ہندی الفاظ کا برمحل استعمال کیا ہے۔ ‘‘ اخیر میں ڈاکٹر دبیر احمد (صدر ، شعبۂ اردو ، مولانا آزاد کالج ، کولکاتا اور خازن ، مسلم انسٹی ٹیوٹ ، کولکاتا )نے اظہارِ تشکر پیش کیا۔
18557450_1339082359520084_295307214689027900_n
18556390_1444413955595309_6830066026346154872_n

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook