Home / Uncategorized / ایم جی ایم ڈگری کالج سنبھل میں قومی سیمیناربعنوان” اردو لوک گیت میں ہندستانی سماج کی عکاسی”اختتام پذیر

ایم جی ایم ڈگری کالج سنبھل میں قومی سیمیناربعنوان” اردو لوک گیت میں ہندستانی سماج کی عکاسی”اختتام پذیر

25550325_1512875142126975_5678881538843029849_n
سنبھل(اسٹاف رپورٹر) ایم جی ایم ڈگری کالج سنبھل میں اردو محکمہ کے ذریعہ قومی قونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی کے اشتراک سے قومی سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس کا عنوان اردو لوک گیت میں ہندستانی سماج کی عکاسی کے عنوان سے کیا گیا جس میں ملک کے مختلف ڈگری کالجوں سے آئےاردو داں نے اپنے مکالےپیش کئے افتتاحی صدارتی تقریر میں سابق سانسد ڈاکٹر شفیق الرحمان برق نے کہا کی اردو والوں نے ملک کی آزادی کے لئے خون بہایاہیے انگریزوں کو نکالنے کے لئے اردو لوک گیتوں نے بھی اپنا کردار نبہایا اے ایم یو پروفیسراور تہزیب الاخلاق رسالے کے اذیٹر پروفیسر صغیر افاہیم نے کہا کی لوک گیتوں کا فلموں سے رشتہ رہا ہیے راج کپور نے نیرج جی سے لوک گیتوں پر فلمی گیت لکھنے کو کہا تھا انہوں نے کہا کی بھارتیہ سماج میں اردو لوک گیت رچے بسے ہیے یہی نہیں بیرونی ملکوں میں بھی شادی کی رسموں میں لوک گیتوں کی دھمک کو محسوس کیا جا سکتا ہیے خصوصی مقرر چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ کے شعبہ اردو کے صدر ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے کہا کی لوک گیت ہندی اردو کی ملی جلی وراست ہیے یہ ایسے گیت ہوتے ہیے جن کے گیت مختلف تیہواروں رسموں کے موقع پر گائے جاتے ہیں اس سے پہلے منیجمنٹ کمیٹی سکریٹری سنجے اگروال نے مضمعون کا تعارف کراتے ہوئے کہا کی گاٰوں کی زمین میں گائے جانے والے لوک گیتوں میں بھارتیہ سماج زندہ ہو جاتا ہیے انہوں نے مختلف گیتوں کو گاکر کہا کی لوک گیت ملی جلی وراثت ہیے۔ ڈاکٹر محمد فرقان سنبھلی نے کہا کہ لوک گیت میں صرف خانگی زندگی کے موقع پر ہی گیت نھین گائے جاتے بلکہ جنگوں اور آزادی کی لڑائی کے مواقع پر بھی لوک گیت روہیلکھنڈ علاقے میں کہے گئے ہیں۔ اس موقع پر ملک کے مختلف یونیورسٹیوں سے کے نمائندوں میں پروفیسر ممتاز عرشی.پروفیسر شریف احمد قریشی، گلشن جہاں یوسف رامپوری ارشاد سییانوی ڈاکٹر عارفہ مسعود .عزہ موئن فیضان سعید ڈاکٹرشیخ نگینوی ڈاکٹر قمر عالم شفیق الرحمان برکاتی ڈاکٹر کشور زیدی ڈاکٹر شکیل احمد خاں غثیہ صبا ناز اور ندا علین نے اپنے مکالے پیش کئےطاس مووع پر ڈاکٹر سنتوش پانڈےبڈاکٹر اظہر حسین آہ سلطان خاں کلیم فیروز خان سید حسین افسر یمین برکاتی مولانا محمد میاں ڈاکٹر محمد عمران نے اپنے خیالات پیش کئے آخر میں کالج کے پرنسپل ڈسکٹر عابد حسین حیدری نے سبھی شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کی لوک گیتوں میں جس سماج کی عکاسی کی گئی ہیے وہ سنبھل سمیت آس پاس کے ضلعوں و دیہات میں محسوس کی جا سکتی ہیے پرعگرام کی نظامت ڈاکٹر شہزاد احمد اور رضاالرحمان عاقف نے کی سیمینار کے بعد شام ساڈھے تین بجے سیپہرایک مشاعرہ کا بھیبانعقاد کیا گیا جو مغرب سے پہلے اختتام ہو گیا مشاعرہ کی صدارت پروفیسر شریف احمد نے کی جبکہ مھمان خصوصی پروفیسر ممتاز عرشی رہے مہمان خضوصی سینئر پروفیسر محمد حسین جعفری رہے مشاعرہ کی نظامت حیات سرسوی نے کی اس مشاعرہ میں عزرہ سنبھلی ڈاکٹر یعقوب راج مرادآبادی کوثر سنبھلی عظیم سرور انتخاب سنبھلی شفیق الرحمان برکاتی مزمل خاں مزمل سید حسین افدرطسلطان محمد خان کلیم رضاالرحمان حسجی عبدلحفیظ خان سید اظہر حسین خالد نومان نکہت سنبھلینےاپنے کلام پیش کئے۔
25591827_2008436282772226_6773118547980845957_n (1) 25659829_2008436306105557_2675659254297391142_n (1)

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook