Home / خبریں / بازارِ حسن کے شب و روز

بازارِ حسن کے شب و روز

(سفر نامہ ۔قسط دوم)


٭پروفیسرشہاب عنایت ملک

رابطہ نمبرـ:9419181351

16 فروری کو صبح یونی و رسٹی گیسٹ ہاؤس میں ناشتہ کرنے کے بعد تقریباً 10بجے صبح بذریعہ ٹیکسی ہم ازھر یونی ورسٹی پروفیسر یوسف عامر سے ملاقات کرنیکے لئے چل نکلے ۔ ازھر یونی ورسٹی کا شمار دنیا کی قدیم ترین دانش گاہوں میں ہوتا ہے ۔ اس کی عمر ایک ہزار پانچ سو سال کے قریب ہے ۔ اس یونی ورسٹی کی شاخیں پورے مصر میں قائم کی گئی ہیں۔ یونی ورسٹی میں کام کرنے والے تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی تعداد ڈیڑھ لاکھ ہے ۔جبکہ اس یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کی کل تعداد53 لاکھ ہے ۔ قاہرہ میں یونیورسٹی کا اعلیٰ کیمپس ہے ۔ پوری یونیورسٹی میں کسی بھی شعبے میں مخلوط تعلیم نہیں دی جاتی ہے ۔لڑکے اور لڑکیوں کے علیحدہ علیحدہ شعبے ہیں ۔ پروفیسر یوسف عامر اسی بڑی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں۔ شریف النفس ،ہمدرد اور مہمان نواز انسان ہیں۔ شکل سے کشمیری لگتے ہیںلیکن پروفیسر اردو کے ہیں۔ انہوں نے جامعیہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی دہلی سے اردو کے معروف نقاد پروفیسر شمیم حنفی کی نگرانی میں ’’اردو اور عربی شاعری کا تقابلی مطالعہ ‘‘ موضوع پر مقالہ تحریر کر کے پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے ۔ گزشتہ سال ہم پروفیسر یوسف عامر کی دعوت پر ہی عالمی کانفرس میں شرکت کرنے کے لیے مصر گئے تھے ۔ یوسف عامر کا شمار ہمارے بہترین دوستوں میں ہوتا ہے ۔ ازھر یونی ورسٹی کے گیٹ پر سکیورٹی کے اہلکاران کی پوچھ تاچھ کے بعد ہم وائس چانسلر کے دفتر کی طرف چل پڑے جو گیٹ سے قریب ہی تھا ۔ یوسف عامر ہمارا انتظار کر رہے تھے ۔ انھوں نے ہمارا پر تپاک استقبال کیا ۔ ادب اور ہندوستانی سیاست موضوع ِگفتگو رہی ۔ پروفیسر خواجہ اکرام الدین نے پروفیسر یوسف عامر کو تحفتاً اپنی چند کتابیں بھی پیش کیں ان میں ان کی وہ کتاب بھی شامل تھی جو ’’اُردو، فارسی اورعربی شاعری کی رزمیہ شاعری‘‘ کے عنوان سے حال ہی میں شائع ہوئی ہے ۔ یہ کتاب اُن مقالات کا مجموعہ ہے جو ورلڈ اردو ایسوسیشن کی گزشہ سال جے۔این ۔یو کی عالمی کانفرنس میں پڑھے گئے تھے ۔ اس کانفرس کا کلیدی خطبہ پروفیسر یوسف عامر ہی نے دیا تھا ۔ ان کا کلیدی خطبہ بھی کتاب کی مشمولات میں شامل ہے ۔ پروفیسر خواجہ اکرام الدین نے اپنی بیٹی ثنا کا تحریرکردہ ناول (Gry Tower)بھی پروفیسر یوسف عامر کو تحفتاً پیش کیا جسے دیکھ کر پروفیسر یوسف عامر بہت خوش ہوئے ۔یوسف عامر کو عطیب ،علیم اور رضا سے یہ گلہ تھا کہ وہ ازھر یونی ورسٹی کے طالب علم ہوتے ہوئے بھی ان سے ملنے نہیں آتے ہیں۔ مصروفیت کے باوجود تقریباً ایک گھنٹہ پروفیسر یوسف عامر مختلف موضوعات پر ہم سے گفتگو کرتے رہے ۔پروفیسر یوسف عامر سے اجازت لینے کے بعد ہم شعبۂ اردو (زنانہ) کے صدر پروفیسر ابراہیم سے ملاقات کرنے کے لیے شعبۂ اردو چلے گئے ۔ یہ ازھر یونی ورسٹی کا بڑا فعال شعبہ ہے ۔ گزشتہ سال کی عالمی اردو کانفرنس اسی شعبے میں منعقد ہوئی تھی ۔ یہاں اردو پڑھنے والی طالبات کی تعداد 168 ہے جبکہ اردو کے31 اساتذہ اس شعبے سے وابستہ ہیں ۔ یہ شعبہ مصر میں اُردو کی شمع کو روشن کیے ہوئے ہے ۔ یہاں کی طالبات اور استاتذہ آہستہ آہستہ اردو میں بات کرتے ہیں ۔ پروفیسر ابراہیم کے علاوہ تمام اساتذہ خواتین ہیں۔ یہاں بھی پروفیسر خواجہ اکرام الدین نے صدر شعبۂ اردو کو چند کتابیں تحفتاً پیش کیں ۔ صدر شعبۂ اردو پروفیسر ابراہیم اور دیگر اساتذہ نے ہماری خاطر تواضع چائے اور مختلف قسم کی مٹھائیوں سے کی ۔ صدر شعبۂ اردو اور ان کے رفقاء کا ر سے اجازت لینے کے بعد ہم قاہرہ کے ایک بازار میں پہنچ گئے جو کافی بھیڑ بھاڑ والا بازار تھا ۔یہاں کی ایک دکان پر ہم نے امریکن ڈالر مصری پونڈ میں تبدیل کر لیے ۔ ایک ہوٹل میں کھانا کھایا ۔ کھانے کے بعد ہم مسجد حسینی کی زیارت کے لیے نکل پڑے ۔یہ مسجد حضرت امام حسین علیہ سلام کے نام سے منسوب ہے ۔ مسجد کے اندر ایک روایت کے مطابق حضرت امام حسین علیہ سلام کا سر مبارک دفن ہے ۔ مسجد کے اندر منبر بھی ہے اور وسیع حال بھی جہاں نمازی نماز ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ امام حسین علیہ سلام کے سر مبارک کی قبر بھی موجود ہے جس کی زیارت کے لیے روزانہ ہزاروں زائرین یہاں آتے ہیں۔ حسینی مسجد کے بغل میں ہی خان خلیلی نام کا ایک بڑا بازار ہے ۔اس بازار میں سیاحوں کا بڑا رش رہتاہے ۔ یہاں مصری تہذیب و تمدن سے متعلق بہت سی چیزیں بکنے کے لیے رکھی گئی ہیں۔ مسجد حسینی کے بالکل سامنے کھانے کے بہت سے ریسٹورنٹ ہیں۔ سامنے ایک دوسری بڑی مسجد ہے جو خوبصورتی کا عمدہ نمونہ ہے ۔ مصرمیں جگہ جگہ بڑی تعداد میں عمدہ مسجدیں تعمیر کی گئی ہیں۔ مسجدوں کے اونچے مینار قابلِ دیدہیں۔ یہ مسجدیں فن تعمیر کا عمدہ نمونہ بھی ہیں۔ مصر کو اگر میں مسجدوں کا ملک کہوں تو غلط نہ ہو گا۔خان خلیلی بازار میں ہم خرید و فروخت کر ہی رہے تھے کہ ہمارے دوست عبدالرحمان ہم سے ملنے بازار خان خلیلی پہنچ گئے ۔ عبدالرحمان پیشے سے انجینئر ہیں۔ گزشتہ سال مصر کے سفر کے دوران خواجہ اکرام الدین کی وساطت سے عبدالرحمان سے میری دوستی ہو گئی تھی ۔ ان کی ایک بیٹی معیار جواہر لعل نہرو یونی ورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم۔اے اردو کر رہی ہیں۔ عبدالرحمان سے ملاقات کے بعد ہم حضرت زینبؓ ،حضرت سکینہ ؓ اور حضرت عائشہؓ کے مزاروں کی زیارت کے لیے ایک سنسان علاقہ سے جا رہے تھے ۔سڑک کے دونوں طرف چاردیواری اور گیٹ لگے ہوئے چھوٹے چھوٹے مکانات دیکھنے کو ملے ۔ پورے علاقے میں کوئی انسان دکھائی نہیں دیا ۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ یہ ایک قبرستان ہے ۔ مصر میں لوگ اپنے خاندانوں کے قبرستان کے لیے زمین خرید کر اور اس کو چاردیواری اور گیٹ لگا کر محفوظ کر لیتے ہیں۔ اور خاندان کا جب کوئی فرد رحلت کر جاتا ہے تو اسی زمین میں اسے دفن کیا جا تا ہے ۔ بعد میں اس طرح کے قبرستان مصر کے دوسرے علاقوں میں بھی کثیر تعداد میں دیکھنے کوملے ۔ بہر حال قبر ستان کے راستے سے گزرنے کے بعد ہم نے حضرت زینبؓ ،حضرت سکینہؓ اور حضرت عائشہؓ کے روضہ انور پر حاضری دے کر فاتحہ خوانی بھی کی ۔
17 فروری کو ہم جلدی نہا دھو کر تیار ہو گئے ۔ آج صبح ساڑھے نو بجے آرٹس فیکلٹی کے سیمی نار ہال میں عالمی کانفرنس کی افتتاخی تقریب تھی ۔ ہم تقریباً 9بجے آرٹس فیکلٹی کے سیمی نار ہال پہنچ گئے ۔ 150 سیٹوں پر مشتمل یہ ایک خوبصورت سیمی نار ہال ہے ۔ ٹھیک ساڑھے نو بجے قاہرہ یونیورسٹی کے ڈین فیکلٹی آف آرٹس نے قاہرہ یونیورسٹی کے اس سیمی نار کا افتتاح کیا ۔ سیمی نار کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔ پروفیسر جلال نے عالمی سیمی نار کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس سیمی نار سے یقینا عربی ،فارسی ،ترکی اور اردو وغیرہ زبانیں ایک دوسرے کے ادب کو جانیں گی ۔ اس موقعہ پر مصر کا قومی ترانہ بھی بجایا گیا ۔ افتتاحی تقریب کی پوری کاروائی عربی زبان میں انجام دی گئی ۔اس موقعہ پر ہندوستان ،ترکی ،ازبکستان ،قزاکستان کے مندوبین کے علاوہ قاہرہ کی مختلف یونیورسٹیوں کے اردو ،عربی ،فارسی اور ترکی وغیرہ کے اساتذہ اور طلباء بھی موجود تھے۔ قاہرہ یونیورسٹی میں اردو ثانوی زبان کی حیثیت سے پڑھائی جاتی ہے اس لیے یہاں اردو پڑھنے والے طلباء کی تعداد کم ہے جبکہ اردو پڑھانے والے اساتذہ کی تعداد پانچ ہے ۔ یہ سارے اساتذہ اور طلباء سیمی نار کے مختلف اجلاسوں میں موجود تھے ۔ افتتاحی تقریب کے بعد سیمی نار کا پہلا اکیڈمک اجلاس دس بج کرپنتالیس منٹ پر منعقد ہوا ۔ اس اجلاس میں ملکی اور غیر ملکی مندوبین نے موضوع سے متعلق اپنے مقالات پیش کیے ۔یہ تمام مقالات عربی زبان میں پیش کیے گئے ۔ ہم چوں کہ عربی زبان سے نا آشنا تھے اس لیے ہم کچھ سمجھ نہ پائے ۔دوپہر کے کھانے کے بعد والے اجلاس میں ہم ہندوستان سے تعلق رکھنے والے مقالہ نگار مثلاً راقم ،پروفیسر خواجہ اکرام الدین اور ڈاکٹر محمد محسن نے اپنے اپنے مقالے اردو زبان میں پیش کیے ۔ دو مصری خواتین نے عربی زبان میں اپنے مقالے پیش کیے ۔ اردو زبان میں جو مقالے پڑھے گئے ان کا عربی ترجمہ پروفیسر احمد قاضی نے پڑھ کر سامعین کو سنایا ۔ ڈاکٹر محسن کے مقالے کا عنوان ’’اقبال کی شاعری میں ابلیس کے کرادر کی معنویت ‘‘ تھا جبکہ پروفیسر خواجہ اکرام الدین نے مصر سے اپنے ذاتی رشتوں سے بات کرتے ہوئے عربی ،اردو اور فارسی زبان کی اہمیت و افادیت پر بھی اظہار خیال کیا ۔ پروفیسر احمد قاضی کے موثر عربی ترجمے نے عربی سامعین کو ہمارے مقالات سمجھنے میں بے حد مدد دی ۔ پروفیسر احمد قاضی دہلی یونیورسٹی کے پروردہ مصری اردو پروفیسر ہیں ۔ انہوں نے اپنی پی۔ ایچ۔ڈی دہلی یونیورسٹی سے پروفیسر شریف احمد کی نگرانی میں مکمل کی ہے ۔ عربی اور اردو دونوں زبانوں پر اچھی خاصی دسترس رکھتے ہیں۔ فصیح اردو بولتے ہیںاور کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں ۔دو دن کے اس عالمی سیمی نار میں مختلف مقالہ نگاروں نے موضوع سے متعلق تقریباً ستائیس (27) مقالات پیش کیے گئے۔ سیمی نار کی سب سے بڑی خصوصیت سامعین کی طرف سے پوچھے گئے سوالات تھے جن کے جوابات مقالہ نگاروں نے بڑی خوش اسلوبی سے دیے ۔ مقالات پر اچھی خاصی بحث بھی ہوئی ۔ مجموعی طور پر سیمی نار بہت کامیاب رہا ۔ سیمی نار اختتام پذیر ہونے کے بعد ہم قاہرہ میوزیم دیکھنے گئے ۔ قاہرہ میوزیم قدیم تہذیب و تمدن کا ایک شاہکار ہے ۔ ہزاروں سال پرانے ہتھیار ،پہننے کے کپڑے ،برتن ،زیوارات ، کشتیاں اس میوزیم کی اہمیت میں اضافہ کرتے ہیں۔ یہاں فرعونی سلسلے کے مختلف فرعونوں کی لاشیں بھی محفوظ کی گئی ہیں۔ اس میں اُس فرعون کی لاش بھی ہے جس نے گھمنڈ اور تکبر میں خدا ہونے کا دعویٰ بھی کیا تھا ۔ میوزیم کی عمارت نہایت ہی دیدہ زیب ہے ۔ اس میوزیم کا مشاہدہ کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ مصر ہزاروں سال پہلے سے ہی علم و ادب اور تہذیب و تمدن کا ایک بہت بڑا گہوارہ تھا ۔ تقریباً دو گھنٹے ہم قاہرہ میوزیم میں رہے ۔ گیسٹ ہاؤس میں ہمارا رہنے کا انتظام صرف 18 فروری تک ہی تھا اس لیے میوزیم سے آتے ہی قاہرہ یونیورسٹی کے قریب ہی ہم ہوٹل ’’سینٹ جارج‘‘ منتقل ہوئے ۔ یہ ہوٹل قاہرہ کے چڑیا گھر کے قریب ہے ۔ مصر میں بقیہ دن ہم نے اسی ہوٹل میں گزارے ۔ یہاں سے دریائے نیل بھی قریب ہی ہے ۔ ہوٹل منتقل ہوئے کے فوراً بعد پروفیسر خواجہ اکرام الدین ،راقم ،ڈاکٹر محسن اور علیم بذریعہ ٹیکسی حلوان کی طرف روانہ ہوئے ۔ مصر میں ہندوستان کی طرح ریاستوں کا تصورنہیں ہے بلکہ یہاں میونسپل کارپوریشن کی طرح مصر کو مختلف حصّوں میں بانٹا گیا ہے ۔ ان حصّوں کو معافضات کہا جا تا ہے ۔ حلوان بھی مصر کا ایک معافضاہے جو قاہرہ سے تقریباً 55کلو میٹر دور ہے ۔ اس علاقے کی اپنی مذہبی اہمیت بھی ہے ۔ بہت سے اولیاء اور صحابہ نے اسی علاقے کو اپنا مسکن بنایا تھا ۔ آج بھی ان کے مزارات اس علاقے میں موجود ہیں۔ حلوان میں مصطفیٰ کا گھر ہے ۔ مصطفیٰ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پروفیسر خواجہ اکرام الدین کی نگرانی میں پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری کر رہا ہے ۔ حال ہی میں اس کے والد کا انتقال ہواہے ۔ ہمارا حلوان جانے کا مقصد مصطفیٰ کی والدہ سے تعزیت کر نا تھا۔ تقریباً رات9 بجے ہم مصطفیٰ کے گھر پہنچے ۔یہاں مصطفیٰ کی والدہ سے تعزیت کی ۔ مصطفیٰ کے چھوٹے بھائی احمد سے ملاقات ہوئی ۔ احمد نے حال ہی میں ازھر یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری مکمل کی ہے اور اب وہ فوج سے ٹرینگ حاصل کر رہا ہے ۔ احمد سے ہی معلوم ہوا کہ پڑھائی مکمل کرنے کے بعد مصر کے قانون کے مطابق ہر مصری نوجوان کو ایک سال فوج کی ٹرینگ حاصل کرنا ضروری ہوتی ہے۔ تاکہ وہ ملک کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار رہے ۔ یہیں یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ مصری نوجوان کو شادی کرنے سے پہلے لڑکی کی سیکورٹی کے لیے گھر خرید کر دینا پڑتا ہے تب وہ اس لڑکی سے شادی کر سکتا ہے ۔
مصطفیٰ کی والدہ نہایت ہی سادہ اور مہمان نواز خاتون ہیں۔ انہوں نے ہماری خاطر تواضع کرنے میں کوئی کثر باقی نہ چھوڑی ۔حلوان کو صحابۂ اکرام نے ہی بسایا تھا ۔ حضرت عمرؓ کے صاحبزادے نے بھی اسی علاقے میں قیام کیا تھا ۔ تقریباً رات دس بجے ہم بذریعہ ٹیکسی واپس قاہر ہ کی طرف روانہ ہوئے ۔

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook