Home / خبریں / بازارِ حسن کے شب و روز

بازارِ حسن کے شب و روز

(سفر نامہ۔چوتھی قسط)

٭پروفیسرشہاب عنایت ملک
رابطہ نمبر:9419181351

بحیر قارون سے ہوتے ہوئے ہم وادیئ ریان پہنچ گئے۔ وادیئ ریان دراصل ریگستان میں ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے۔ دور دور تک ریت ہی ریت ہے لیکن قدرت کا کرشمہ دیکھئے کہ بیچ میں ایک خوبصورت سا تالاب ہے۔ جس کے کنارے سر سبز پودے ہیں۔ اس وادی میں ایک جگہ ریگستان سے ہی پانی پھوٹتا ہے جو آگے جا کر تین آبشاروں کی شکل اختیار کر لیتاہے۔ تینوں آبشاروں کا پانی مزید آگے ایک جگہ مل کر چھوٹی سی ندی کی شکل اختیار کر کے بڑے تالاب کا حصّہ بن جاتا ہے۔ مصری اور غیر ملکی سیاح یہاں کثیر تعداد میں پکنک منانے آتے ہیں۔ریان وادی میں ایک نیشنل پارک بھی ہے جو ریان نیشنل پارک کہلاتاہے۔یہاں ریگستان کی وجہ سے تیز ہوائیں چلتی ہیں۔ یہاں مٹی اور ریت سے تعمیر کی گئی ایک خوبصورت مسجد بھی ہے جو فن تعمیر کا ایک عمدہ نمونہ بھی ہے۔ ریت اور مٹی سے تعمیر کیا ہوا کبوتروں کے لیے گھر بھی دیکھنے کی چیز ہے۔ مصر میں کبوتر بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ لوگ کبوتر پالتے اور کھاتے ہیں۔کبوتر مصریوں کی مرغوب غذا بھی ہے۔ کبوتر کے گوشت کو مختلف طریقوں سے پکایا جا تا ہے۔تالاب کے کنارے ہی مٹی اور بانس سے بنے ہوئے دو خوبصورت ریستوران بھی موجود ہیں۔ جہاں کھانے پینے کی ضروری اشیاء رکھی گئی ہیں۔ رات میں رہنے کے لیے لوگ ریان وادی میں ٹنٹ نصب کر لیتے ہیں۔ ریگستان میں اتنا خوبصورت جزیرہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوتی ہے۔ یہاں سواری کے لیے اونٹ اور گھوڑے بھی دستیاب ہیں۔ ریان کی اس حسین ترین وادی سے واپس لوٹنے کو دل نہیں کر رہا تھا لیکن چوں کہ رات کے کھانے کی دعوت پروفیسر جلال نے پہلے سے ہی دے رکھی تھی اس لیے ہمیں جلدی واپس لوٹنا پڑا۔6 بجے ہم واپس قاہرہ پہنچ گئے۔ پروفیسر جلال نے رات کے کھانے کا اہتمام ایک مقامی ریستوران میں کیا تھا۔ کھانے میں کبوتر مسلّم اور بکرے کا گوشت،شامی روٹی،کوفتہ، کباب،سلاد،مصری چاول سب کچھ موجود تھا۔ پروفیسر جلال حددرجہ مہمان نواز بھی ہیں۔ ویسے بھی مصر اپنی مہمان نوازی کے لیے دور دورتک مشہور ہے۔ ہم جہاں بھی گئے مصریوں نے خوب خاطر تواضع کی۔
21 فروری کوہم نے قریہ فرعونیہ جانے کا فیصلہ کیا۔قاہرہ سے تقریباً 25 کلومیٹر دور حسنی مبارک کے دور میں حکومت ِ مصر نے تقریباً 30 ایکڑ زمین پر فرعونیہ تہذیب سے متعلق ایک گاؤں بسایا جس میں فرعونیہ تہذیب سے متعلق مصنوعی چیزیں رکھی گئیں۔ یہ گاؤں جلد ہی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا۔ مصری وقت کے مطابق ہم تقریباً ۱ بجے قریہ فرعونیہ پہنچے ۔ ہمارے ساتھ عطیب،امیر رضا اور علیم بھی تھے۔ ابراہیم ہی ہمیں گاڑی سے یہاں لے آیا۔ گاؤں میں اندر جانے کے لیے ہم نے 450مصری پاونڈ کا ایک ٹکٹ خرید ا جو ہندوستان کے تقریباً ۰۰۹۱ روپے کے برابر تھا۔ اندر داخل ہوتے ہی ایک شاندار ریستوران تعمیر کیا گیا ہے۔ ریستوران کے پیچھے دریائے نیل سے ایک نہر نکالی گئی ہے۔ نہر کے کنارے سیاحوں کے لیے چند کشتیاں بھی رکھی گئی ہیں۔ ایک کشتی میں ہم اس گاؤں کی سیر کو نکلے۔ نہر کے کنارے بے شمار درخت اور جھاڑیاں اگائی گئی ہیں۔ نہر کے پانی میں ہی فرعونیہ دور کے ان خداؤں کے بت نصب کیے گئے ہیں جن کی پوجا اس دور کے انسان کیا کرتے تھے۔ گاؤں میں کھیت بھی اگائے گئے ہیں جن میں ہل جوتتے ہوئے کسان بھی نظر آئے۔ کبوتر،مرغ بھیڑاور بکریاں بھی اس گاؤں میں رکھے گئے ہیں۔ فرعونیہ دور کے طرز پر کھیل کا میدان بھی اس گاؤں میں تعمیر کیا گیا ہے۔ اس دور کی طرح مٹی سے بنے ہوئے گھر،پوجا کرنے کی جگہ،امیر لوگوں کے گھر اور ان میں استعمال ہونے والی چیزیں،اناج جمع کرنے کی جگہ،غریبوں کا رہن سہن،کاغذ بنانے کا طریقہ،بانس سے بنی ہوئی کشتیاں،شہدنکالنے کا طریقہ،مٹی کے برتن،یہ وہ چیزیں ہیں جو فرعونیہ دور کی تہذیب و تمدن کی عکاسی کرتی ہیں۔لکڑی کاٹنے کے اوزار،فصل کاٹتی ہوئی عورتیں،عورتوں کے اس زمانے کے زیورات،یہ سب کچھ دیکھ کر انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ اس دور میں بھی مصر اتنا زیادہ ترقی یافتہ تھا۔ گاؤں میں چند دکانیں بھی ہیں جہاں مصری تہذیب سے متعلق بہت ساری چیزیں سیاحوں کی خرید و فروخت کے لیے رکھی گئی ہیں۔ جس وقت ہم اس گاؤں کی سیر کر رہے تھے اس وقت مصر کے ایک اسکول کے طالب علم یہاں پکنک منانے آ ئے ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ ان کے اساتذہ بھی تھے جس کی وجہ سے گاؤں میں کافی چہل پہل تھی۔ اس گاؤں میں چھوٹے چھوٹے نو (۹) میوزیم بھی ہیں جن میں فرعونیہ دور کی طرح مصنوعی اشیا ء قرینے سے سجائی گئی ہیں۔ ہمارا گائیڈ انگریزی زبان میں گاؤں سے متعلق معلومات ہم تک پہنچا رہا تھا۔اس گاؤں میں ایک گھنٹہ گزارنے کے بعد ہم حرم سقایا گئے۔ یہاں حضرت یوسف علیہ سلام کا زنداں مبارک ہے۔ اسی زنداں میں حضرت یوسف علیہ سلام کو قید رکھا گیا تھا جس کا ذکر قرآن شریف میں بھی ہے۔ حرم سقایا احرام کے قریب ہے۔ ہم نے اس قید خانے کوتو دیکھا لیکن اس زنداں میں اب جانے کی اجازت نہیں ہے اور حضرت یوسف علیہ سلام کا یہ زنداں مبارک بند پڑا ہے۔ قریب ہی مصر کے تین بڑے احرا م ہیں۔ تینوں احرام فن تعمیر کا عمدہ نمونہ ہیں۔ انہیں فرعون نے تعمیر کروایا تھا۔ اس دور میں جب کسی حاکم کی وفات ہوتی تھی تو ان احراموں میں تابوت میں بند کر کے لاش کو محفوظ کیا جا تا تھا۔ حاکم کے ساتھ ساتھ اس کے خادموں اور دولت کو بھی ان احراموں میں بند کیا جاتا تھا اور ان کے کھانے پینے کا باضابطہ انتظام کیا جاتا تھا۔ یہ تابوت ممیز کہلاتی تھیں۔اب ان ممیز کو احراموں سے باہر نکال کر قاہرہ میوزیم میں محفوظ کرلیا گیا ہے۔ احراموں کے اردگرد اب چند پارک بھی تعمیر کئے گئے ہیں اور وہاں پہنچنے کے لیے ایک پختہ سڑک بھی تعمیر کی گئی ہے۔ غیر ملکی سیاح ان احراموں کو دیکھنے لاکھوں کی تعداد میں ہر سال مصر آتے ہیں اور یوں مصر کی معیشت کو مضبوط کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔۔مصری وقت کے مطابق ہم شام چھ بجے واپس ہوٹل پہنچے۔ مصر اور ہندوستان کے وقت میں ساڑھے تین گھنٹے کا فرق ہے۔ مصر کا وقت ہندوستان کے وقت سے ساڑھے تین گھنٹے پیچھے چلتا ہے یعنی اگر مصر میں دن کے۲ ۱ بجے ہوں تو ہندوستان میں دن کے ساڑھے تین بج رہے ہوتے ہیں۔

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook