Home / خبریں / بازارِ حسن کے شب و روز

بازارِ حسن کے شب و روز

(سفر نامہ۔پانچویں قسط)


پروفیسرشہاب عنایت ملک
رابطہ نمبر:9419181351

اسکندریہ مصر کا ایک اہم معافضا ہے۔ قاہرہ کے بعد اسکندریہ مصر کا دوسرا بڑا شہر ہے جو خوبصورتی کے اعتبار سے قاہرہ سے کم نہیں ہے۔ اس شہر کو سکندر اعظم نے بسایا تھا اور اسی وجہ سے ان ہی کے نام سے منسوب ہے۔قاہرہ سے تقریباً 260 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ 22 فروری کو ہم بذریعہ بس 8 بجے صبح اسکندریہ کے لیے روانہ ہوئے اور تقریباً ۱۱ بجے وہاں پہنچے۔ بازار آہستہ آہستہ کھل رہے تھے۔ پورے مصر میں بازار رات کو دیر سے بند ہوتے ہیں اور صبح دیر سے کھلتے ہیں۔ دوپہر کے بعد بازار وں میں رونق بے حد بڑھ جاتی ہے۔ اسکندریہ پہنچ کر ایک کافی شاپ پر ہم نے کافی پی۔اس کے بعد اللہ کے نبی حضرت دانیال علیہ سلام کے مقبرے پر فاتحہ خوانی کے لیے گئے۔ حضرت دانیال علیہ سلام کے مقبرے کے ساتھ ہی حکیم لقمان کا مقبرہ بھی ہے۔ دونوں مقبروں پر فاتحہ خوانی کے بعد ہم اسکندریہ کا سمندر اور اس کا ساحل دیکھنے چلے گئے۔ خوبصورت سمندر اور اس کا خوبصورت ساحل بہت حسین منظر پیش کر رہا تھا۔ سمندر کی سرد لہریں سردی کا احساس دلا رہی تھیں۔ادھر موسلا دار بارش نے بھی ٹھنڈک میں اضافہ کر دیا تھا۔پروفیسر خواجہ اکرام الدین اور ڈاکٹر محسن سردی سے ٹھٹھر رہے تھے۔انہوں نے فوراً سویٹر پہن لی۔ سمندر کے کنارے ہم نے چائے کی دکان پر چائے پی۔ مصر میں لوگ چائے بغیر دودھ کے پیتے ہیں۔ دودھ والی چائے بہت کم جگہوں یا چائے خانوں میں دستیاب ہوتی ہے۔بغیر دودھ کی گرماگرم چائے پی کر ہم اسکندریہ یونیورسٹی کی طرف چل پڑے۔ اسکندریہ یونیورسٹی کا شمار مصر کی اہم ترین یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے۔یہاں بھی اردو کا شعبہ قائم کیا گیا ہے۔ اسکندریہ یونیورسٹی کی عمارتیں جدید طرز پر تعمیر کی گئی ہیں۔ طلبا و طالبات کا ہجوم اس بات کا ثبوت پیش کر رہے تھے کہ یہاں لڑکے اور لڑکیاں بڑی تعداد میں تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو رہے ہیں۔ شعبہئ اردو میں ہماری ملاقات اساتذہ اور طلباء سے ہوئی۔پروفیسر خواجہ اکرام الدین پہلے بھی اس یونیورسٹی کا دورہ کر چکے ہیں۔ اس لیے وہ شعبہئ اردو کے طلباء اور اساتذہ کے لیے نئے نہیں تھے۔ انہوں نے ہمارا تعارف یہاں کے اساتذہ اور طلباء سے کرایا۔ یہاں یہ جان کر نہایت خوشی ہوئی کہ یہاں کے طلباء دلچسپی سے نہ صرف اردو پڑھتے ہیں بلکہ اس زبان کو بولنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ ہم قصیدہ بردہ شریف کے خالق امام بوسیدی کے مزار پر بھی حاضری دینے چلے گئے۔ فاتحہ خوانی کے بعد ہمارا اگلا پڑاؤ اسکندریہ لائبری تھا۔ اسکندریہ لائبری کا شمار دنیا کی قدیم ترین لائبریوں میں ہوتا ہے۔ کئی منزلوں پر مشتمل یہ لائبری اپنی مثال آپ ہے۔ دنیا کے کئی ممالک کے قدیم ترین مخطوطات اس لائبری کی زینت ہیں۔ طالب علموں کی سہولیت کے لیے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔ پوری لائبری کمپوٹرائز ہے۔ دنیا بھر کے تحقیق نگار اس لائبری سے استفادہ کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً یہاں آتے رہتے ہیں۔ سورج جس طرف رُخ کرتاہے اسی طرف سے اس کی روشنی لائبریری میں داخل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پوری لائبریری دن میں روشنی سے بھری رہتی ہے۔ اسی لائبریری میں ایک چھوٹا سا میوزیم بھی ہے جس میں صدر انور سادات کی وردی اور ان کی زندگی سے متعلق استعمال ہونے والی دوسری چیزوں کو محفوظ کر لیا گیا ہے۔ جن میں ان کی کرسی،پہننے کے کپڑے و دوسری چیزیں شامل ہیں۔ شام 6بجے ہم واپس قاہرہ پہنچے۔ہمارے پاس ابھی وقت تھا چنانچہ فیصلہ یہ ہوا قاہرہ فیسٹول سٹی مال دیکھنے چلا جائے۔قاہرہ فیسٹول سٹی مال قاہرہ کا نہایت ہی پاش علاقہ ہے۔ یہاں بڑے بڑے مال تعمیر کئے گئے ہیں۔ ان بڑے مالوں کے بیچ ایک انتہائی حسین تالاب بھی بنایا گیا ہے جس کے تین طرف کے کناروں پر عمدہ ریستوران اس مال کی خوبصورتی میں بے پناہ اضافہ کرتے ہیں۔ یہ ایک روشنیوں سے جگمگاتا ہوا چھوٹا سا شہر لگتا ہے۔ تالاب کو مختلف طرح کی روشنیوں سے سجایا گیا ہے۔ رات کے اندھیرے میں تالاب کا پانی روشنیوں کی چکاچوند سے دلکش منظر پیش کرتا ہے۔ تالاب کے ایک طرف کسی کرکٹ سٹڈیم کی طرح بیٹھنے کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ جہاں لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کو اپنی محبت کی داستانیں بھی سناتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ انگریزی طرز پر عربی میں میوزک کا انتظام بھی ہے۔قاہرہ فیسٹول سٹی کے تمام مالوں میں زندگی کی ضروریات کی چیزیں نہایت مہنگے داموں پر فروخت کی جاتی ہیں۔ شام کو عربی میوزک پر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں رقص بھی کرتے ہیں۔ یہاں کے ریستوران بھی مہنگے ہیں۔ چھوٹے سے اس شہر میں داخل ہونے کے بعد یہاں کی زندگی قاہرہ سے بالکل الگ نظر آتی ہے۔ہال میں اندر جانے کے لیے سیکورٹی کے کڑے انتظامات سے گزرنا پڑتا ہے۔ تالاب کے کنارے ”مہاراجہ“ نام کا ایک ریستوران بھی ہے۔ جہاں ہندوستانی کھانا دستیاب ہے۔ ہم رات کا کھانا کھانے کے لیے اسی ریستوران میں چلے گئے۔ یہاں ہم نے ہندوستانی کھانا کھایا۔ کھانے میں کالی دال،چکن بریانی،چکن کڑھائی،بٹر اور سادہ نان کھا کر یوں محسوس ہوا کہ ہم مصر میں نہیں کسی ہندوستانی ہوٹل میں بہترین ہندوستانی کھانا کھا رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ریستوران میں کھانا پکانے والے سب ہی مصری ہیں۔ قاہرہ سٹی فیسٹیول مال میں شام کو نہایت ہی سرد ہوا چلتی ہے یہی وجہ ہے کہ گرمیوں میں یہاں زیادہ بھیڑ رہتی ہے۔ قاہرہ کے لوگ گرمیوں سے بچنے کے لیے بڑی تعداد میں قاہرہ فسیٹ چلے آتے ہیں۔ یہاں کے ریستوران میں حقہ پینے کا رواج عام ہے۔ویسے قاہرہ میں ہر خاص وعام حقہ ضرور پیتے ہیں۔ باضابطہ حقے کی دکانیں ہیں جہاں 25 مصری پاونڈ میں پینے کا ایک حقہ فروخت کیا جا تا ہے۔ یہاں کے حقے بڑے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت ہی خوبصورت ہوتے ہیں۔ ان حقوں پر مختلف قسم کے نقش و نگار اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ مردوں کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی حقہ پینے کا شوق رکھتی ہیں۔ جب ہم ریستوران میں کھانا کھا رہے تھے ہماری بغل والی سیٹ پر دو مصری نوجوان لڑکیاں حقے کے بڑے بڑے کش لے رہی تھیں۔بازار خان خلیلی میں مہنگے داموں پر خوبصورت حقے بیچے جاتے ہیں۔ لوگ گھروں میں بھی حقے رکھتے ہیں۔ مہاراجہ ریستوران میں مصری لڑکیوں کے علاوہ دو غیر ملکی سیاح بھی حقہ پینے میں مصروف تھے۔ ہندوستانی کھانا کھا کر واپسی پر راستے میں ہم قلعہ صلاح الدین ایوبی دیکھنے کے لیے گئے۔ یہ قلعہ صلاح الدین ایوبی کے حکم پر تعمیر کیا گیا تھا اور ان کے نام سے ہی منسوب ہے۔ قلعہ کے اندر نہایت ہی خوبصورت مسجد ہے جو مسجد محمد علی کہلاتی ہے۔اسے بادشاہ محمد علی نے تعمیر کرایا تھا۔ اس لیے یہ مسجد ان کے نام سے منسوب ہے۔ قلعہ صلاح الدین ایوبی کافی اونچائی پر ہے۔یہاں سے ہم پورے قاہرہ کا نظارہ کر سکتے ہیں۔ راستے میں مختلف روشنیوں کی وجہ سے قاہرہ واقعی حسن کا بازار دکھائی دیتا ہے۔قاہر ہ کی ایک دوسری مسجد بھی صلاح الدین ایوبی کے نام سے منسوب ہے۔یہ مسجد بھی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔ قاہرہ کی ہر مسجد کا اپنا الگ نام ہے۔ یہ تمام نام عربی میں ہیں اور عربی نہ جاننے والوں کے لیے یہ نام یاد رکھنا ایک مشکل کام ہے۔ دریائے نیل کے کنارے ایک خوبصورت چرچ بھی دیکھنے کو ملا۔اس کے علاوہ عیسائیوں کے قبرستان کا مشاہدہ کرنے کا بھی موقعہ ملا۔ مصر میں مسلمان اور عیسائی بھائیوں کی طرح رہتے ہیں۔ مسلمان اگر چہ کہ اکثریت میں ہیں لیکن یہاں اقلیتیں محفوظ ہیں۔ ہندوستان کی طرح یہاں مذہب،رنگ یا نسل کے نام پر فسادات نہیں ہوتے بلکہ لوگ ایک دوسرے کے مذہب کا احترام کرتے ہیں۔ قوانیں سخت ہیں۔ جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں،عورتوں کی عزتیں بھی محفوظ ہیں۔

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook