Home / خبریں / بازارِ حسن کے شب و روز

بازارِ حسن کے شب و روز

(سفر نامہ ۔قسط اوّل)


٭پروفیسرشہاب عنایت ملک

رابطہ نمبرـ:9419181351

تمام اسلامی ممالک میں مصر کو کہیں اعتبار سے خاص اہمیت حاصل ہے ۔ یہ سر زمین انبیا اکرام ،صوفیا اکرام،صحابہ اکرام اور بڑے بڑے مذہبی بزرگوں کا مسکن بھی ہے اور قدیم تہذیب و تمدن کا گہوارہ بھی ۔ اس سر زمین کا ذکر کہی دفعہ قرآن کریم کی متعدد آیات میں بھی بار بار آیا ہے ۔ اسی سر زمین کی ایک پہاڑی ’’کوہ طور ‘‘ پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ سلام کو اپنا جلوہ بھی دکھایا تھا ۔ فرعون نے اپنے خدا ہونے کا دعویٰ بھی اسی سر زمین سے کیا تھا اور پھر جس طرح سے وہ غرق ہوا تھا اس کا ذکر بھی قرآن کریم میں ہے ۔ اس سر زمین کو ’’بازارِ حسن ‘‘ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے یہاں کے لوگ قدیم زمانے سے ہی نہایت ہی خوب صورت اور حسین و جمیل ہیں ۔ حضرت یوسف علیہ سلام کے حسن سے کون واقف نہیں ۔تہذیبی اور تمدنی اعتبار سے مصر کو اس بات کا فخر حاصل ہے کہ یہاں کی قدیم تہذیب و تمدن کا مشاہدہ کرنے کے لیے ہر سال دنیا کے مختلف ممالک سے لاکھوں کی تعداد میں سیاح مصر آتے ہیں اور یہاں کی قدیم تہذیب و تمدن اور یہاں کے خوب صورت مقامات کی زیارت کرتے ہیں ۔ مصر کی آبادی ۱۰ کروڑ ہے جس میں ۹۰ فی صد عوام مسلمان ہیں جبکہ ۱۰ فی صد تعداد عیسائیں کی ہیں ۔ سیاسی اتھل پتھل کے لیے بھی مصر ہمیشہ شہ سرخیوں میں رہتا ہے ۔ نومبر ۲۰۱۹ء میں ازھر یونی ورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر یوسف عامر کی دعوت پر ایک عالمی سیمی نار میں شرکت کرنے کے لیے میں نے مصر کا دورہ کیا تھا ۔ ایک ہفتہ مصر میں قیام کے دوران مصر کے اہم مقامات کی سیاحت بھی کی تھی لیکن واپسی پر بعض وجوہات کی بنا پر میں مصر کے سفر کی روداد قلم بند نہیں کر سکا ۔اس دفعہ قاہرہ یونی ورسٹی کے اورینٹل لینگویجز کے شعبۂ کے صدر پروفیسر جلال نے جو انٹر نیشنل سیمی نار میں شرکت کرنے کے لیے دعوت دی تو میں نے فوراً قبول کر لی ۔ دعوت نامہ مجھے دسمبر ۲۰۱۹ء میں ملا ۔ اس کے مطابق قاہرہ یونی ورسٹی ۱۷ اور ۱۸؍فروری ۲۰۲۰ء کو ایک عالمی سیمی نار کا انعقاد کرنے جا رہی تھی۔ میرے ساتھ جواہر لال نہرو یونی ورسٹی کے پروفیسر خواجہ اکرام الدین اور کروڑی مل کالج کے ڈاکٹر محمد محسن کو بھی سیمی نار میں شرکت کرنے کا دعوت نامہ مل چکا تھا ۔ ہم تینوں نے اس عالمی کانفرس میں شرکت کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ ہم نے ٹکٹ بنوایا ۔ پروگرام کے مطابق ہم نے کویت ائیرلائینز کی فلائٹ سے ۱۵؍ فروری کی صبح کویت ہوتے ہوئے قاہرہ پہنچنا تھا ۔قاہرہ مصر کا دارالحکومت بھی ہے ۔ قاہرہ کی آبادی تقریباً ۳ کروڑ ہے ۔یہاں بہت ساری یونی ورسٹیاں قائم ہیں جن میں ازھر یونی ورسٹی ،قاہرہ یونی ورسٹی اور عین شمس یونی ورسٹی کے نام اہمیت کے حامل ہیں ۔
۱۴؍ فروری کی شام ۴ بجے کی Indigoفلائٹ سے میں دہلی کے لیے رونہ ہوا ۔ طے یہ ہوا تھا کہ رات میں خواجہ اکرام الدین کے گھر جے ۔این ۔یو میں گزاروں اور ۱۵؍ کی صبح تقریباً ۳ بجے وہیں سے اندراگاندھی انٹرنیشنل ائرپورٹ کے لیے رونہ ہو جائے کیوں کہ کویت ائرلائینز کی فلائٹ اسی ائر پورٹ سے ۱۵؍ فروری کی صبح ۷ بجے کویت کے لیے رونہ ہونے والی تھی ۔ اسی پروگرام کے تحت ہم اندراگاندھی ائرپورٹ پہنچے ۔ پاسپورٹ اور دیگر جانچ پڑتال کے بعد ہم ساڑھے چھ بجے طیارے میں اپنی اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئے ۔ جہاز نے وقت مقررہ پر کویت کے لیے اُڑان بھری ۔تمام مسافر ہندوستانی تھے ۔ یہ وہ لوگ تھے جو کویت میں روزی روٹی کماتے ہیں اور چھٹیاں گزارنے کے لیے ہندوستان اپنے وطن واپس آئے تھے ۔اب وہ واپس کویت جا رہے تھے ۔ اُڑان بھرنے کے تھوڑی دیر بعد ہمیں ناشتہ دیا گیا ۔رات چوں کہ ہم نے نیند بہت کم کی تھی اس لیے ناشتے کے بعد آنکھ جو لگی تو دیکھا کہ جہاز کویت انٹرنیشنل ائر پورٹ پر اتر چکا تھا ۔ اس وقت کویت کے وقت کے مطابق صبح کے ۹بج رہے تھے ۔ ہندوستان سے کویت تک کا سفر تقریباً ساڑھے تین گھنٹے کا ہے ۔ کویت ائر پورٹ پر ہمیں چار گھنٹے رکنا تھا کیوں کہ ۱ بجے اسی ائر لائینز کی فلائٹ مصر کے لیے روانہ ہونی تھی ۔ جہاز سے اتر کر ہم اُس دروازے پر پہنچے جہاں سے قاہرہ کے لیے ہمارا جہاز روانہ ہونا تھا ۔ہم کویت ائرپورٹ کا مشاہدہ کرنے لگے ۔مسافر اپنی اپنی منزلوں کی طرف رواں دواں تھے ۔ خوبصورت ائرپورٹ پر مختلف اشیاء کی خوبصورت دکانیں بھی ہیں جہاں مختلف چیزیں بڑے مہنگے داموں پر دستیاب ہیں ۔ ہمارا دل کافی(Coffee)پینے کو کر رہا تھا ایک کافی شاپ پر ایک کافی کا کپ ۶ ڈالر میں خریدا یعنی ہندوستانی روپیوں کے مطابق تقریباً ۴۲۰ روپے کا کافی کاایک کپ۔ جو ہندوستان کے ائر پورٹ پر تقریباً ۲۰۰ روپے کا ملتا ہے ۔ ۲ ڈالر میں پانی کی ایک چھوٹی بوتل خریدی جس سے میں اور خواجہ اکرام مشکل سے اپنی دوا کھا سکے ۔ ائر پورٹ کا مشاہدہ کرنے اور کافی پینے کے بعد ہم دورازہ نمبر ۲ پر پہنچے جہاں سے ہماری فلائٹ مصر کے لیے روانہ ہونے والی تھی ۔ اب مصر جانے والے مسافروں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا تھا ۔ٹھیک ساڑھے بارہ بجے ایک خوبصورت نسوانی آواز کانوں سے ٹکرائی جو ہمیں جہاز میں بیٹھنے کی دعوت دے رہی تھی ۔ ایک بج کے پینتالیس منٹ پر کوئت ائر لائینز کے جہاز نے قاہرہ کے لیے اُڑان بھری ۔ جہاز مسافروں سے کھچا کھچ بھرا تھا ۔ان میں کچھ تو سیاح تھے اور کچھ مصری ۔کویت سے قاہرہ تک کا سفر تقریباً تین گھنٹوں کا ہے ۔ جہاز تھوڑی دور تک ہی پرواز کر چکا تھا کہ میری برابر والی سیٹ پر بیٹھے ہوئے ایک مصری مسافر کو سینے میں کچھ درد محسوس ہوئی ۔ جہا زکا عملہ فوراً جمع ہوا ۔مسافر کی تکلیف بڑھ رہی تھی ۔عملے نے فوراً مسافر کو آکسیجن دی لیکن مسافر کو کوئی افاقہ نہیں ہوا ۔ کسی عرب ملک کا ایک ڈاکٹر اسی جہاز سے مصر جا رہا تھا ۔ مسافر کی حالت دیکھ کر اس نے مسافر کا چیک اپ کیا ۔ اسے کسی ایسی دوا کی ضرورت تھی جو مسافر کو نیند دلا سکتی تھی ۔ اتفاق سے میرے ہینڈ بیگ میں Ativan کا پورا پتا موجود تھا ۔ میں نے ایک Tablet دی جسے لینے کے بعد مسافر سو گیا اور یوں جب وہ قاہرہ ائرپورٹ پر اترا تو اس کی حالت قدرے بہتر تھی۔ ٹھیک مصری وقت کے مطابق ہمارا جہاز چار بج کر پینتالیس منٹ پر قاہرہ کے انٹرنیشنل ائرپورٹ پر لینڈ کر گیا ۔ دو منزلوں پر مشتمل یہ نہایت ہی خوبصورت ائرپورٹ ہے ۔ ضروری کاغذات کی جانچ پڑتال کروانے کے بعد ہم اپنا اپنا سامان لے کر ائرپورٹ سے باہر آ گئے جہاں عطیب قادری، علیم اور رضا ہمارے استقبال کے لیے پہلے سے ہی ہمارا انتظار کر رہے تھے ۔عطیب اور رضا کا تعلق اتر پردیش کے ضلع بدایوں سے ہے جبکہ علیم اورنگ آباد کے رہنے والے ہیں ۔تینوں گزشتہ کئی برسوں سے ازھر یونی ورسٹی سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ نہایت ہی مخلص اور فرمابردار طالب علم ہیں۔ گزشتہ سال جب ہم مصر میں تھے تو تینوں ہمارے ساتھ سائے کی طرح رہے اور ہمیں مصر میں کہیں بھی دشواری کا سامنا آنے نہیں دیا۔ تینوں عربی زبان بولتے ہیں ۔ زبان کے اعتبار سے عربی نہ جاننے والے غیر ملکی سیاح کو مصر میںبے حد دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ عربی مصر کی سرکاری اور عوامی زبان ہے ۔ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے تمام سائین بورڈ عربی زبان میں تحریر کئے گئے ہیں ۔ انگریزی زبان کا استعمال مصر میں نہ ہونے کے برابر ہے ۔ مصریوں نے اپنی زبان کو زندہ رکھا ہے اور جو قومیں اپنی زبان کو زندہ رکھتی ہیں ان کا قدیم ورثہ ہمیشہ محفوظ رہتا ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مصر کی قدیم تہذیب و ثقافت اب تک سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے ۔ مصر کے لوگ عربی زبان لکھنا پڑھنا اور بولنا اپنے لیے فخر محسوس کرتے ہیں۔ گزشتہ سال عطیب ،رضا اور علیم نے ہمیں زبان کے اعتبار سے کوئی دقت محسوس نہیں ہونے دی تھی ۔ہم اردو میں اپنی بات ان تک پہنچاتے تھے اور وہ عربی میں ہماری باتوں کو مصریوں تک پہنچا دیتے تھے ۔ یہی اس بار بھی ہوا ۔ تینوں ہندوستانی طلبا نے ائر پورٹ کے باہر ٹیکسی منگوا لی ۔ ٹیکسی میں سامان رکھنے کے بعد ہم قاہرہ یونی ورسٹی کی طرف روانہ ہوئے ۔جہاں کے گیسٹ ہاؤس میں کانفرس کے منتظمین نے ہمارے رہنے کا انتظام کیا تھا ۔ قاہرہ ائر پورٹ سے یونی ورسٹی تقریباً ۲۰ کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے ۔ راستہ صاف و شفاف تھا ۔راستے کے ایک طرف جہاں ریگستان ہیں تو دوسری طرف ہریالی بھی نظر آتی ہے ۔ ریت اور مٹی کے رنگ کی بنی ہوئی عالیشان عمارتیں قاہرہ کے حسن کو دوبالا کر تی ہیں ۔پورے قاہرہ کی عمارتیں ریت اور مٹی کے رنگ کی ہی بنی ہوئی ہیں جو دیکھنے میں بہت خوبصورت لگتی ہیں ۔ائر پورٹ اور قاہرہ یونی ورسٹی کے راستے میں تقریباً ڈھائی کلومیٹر ایک خوبصورت ٹنل ہے جو ہمارے یہاں بنے ہوئے ناشری ٹنل کی یاد دلاتا ہے ۔ جب ہماری ٹیکسی اس ٹنل سے گزررہی تھی اس وقت مصری وقت کے مطابق ساڑھے پانچ بج رہے تھے ۔ تینوں ہندوستانی طلبا جہاں ہم سے اردو میں گفتگو کر رہے تھے وہیں ڈرائیور کو عربی زبان میں قاہر ہ یونی ورسٹی کے مختلف راستوں کے بارے میں بھی بات کر رہے تھے ۔ ٹھیک چھ بجے ہم قاہرہ یونی ورسٹی کے شاندار گیٹ پر پہنچے ۔جہاں پہلے سے ہی پروفیسر جلال صدر شعبۂ اورینٹل لینگویجز ہمارے استقبال کے لیے کھڑے تھے ۔ پروفیسر جلال کی سر پرستی میں ہی قاہر ہ یونی ورسٹی کی دو روزہ عالمی کانفرس منعقد ہو رہی تھی ۔ پروفیسر جلال نے ہمارا پر تپاک استقبال کیا ۔ گیٹ پر ضروری جانچ پڑتال کے بعد ہم یونی ورسٹی کے گیسٹ ہاؤس میں داخل ہوئے ۔قاہرہ یونی ورسٹی جدید عمارتوں سے بنی ہوئی نہایت ہی خوبصورت یونی ورسٹی ہے ۔ بڑی تعداد میں طلباء اس وقت بھی یونیورسٹی میں موجود تھے ۔صاف شفاف سڑکیں ،عمدہ گیسٹ ہاؤس ،معطر ہوا ، کھجور کے لمبے درخت ،عالیشان عمارتیں یونی ورسٹی کے حسن کو چار چاندلگارہی تھیں۔ پروفیسر جلال ہم سے اردو میں بات کر رہے تھے ۔ انہوں نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے ایم۔فل اُردو اور پی۔ایچ۔ڈی عربی مضمون میں کیا ہے ۔ تقریباً دس سال مدینہ میں بھی پڑھا چکے ہیں۔ ان کے اصرار پر ہی ہم نے پہلے گیسٹ ہاؤس میں کھانا کھایا ۔ کھانے میں گائے کا بھنا ہوا گوشت ،چاول ،سلاد اور مصری روٹی نے ہماری بھوک کو بڑی حد تک مٹا دیا ۔ گائے کا گوشت مصر کے شہری علاقوں میں خوب کھایا جاتا ہے ۔ بکرے کاگوشت کھانے کا رواج زیادہ تر مصر کے گاؤں میں ہے ۔ اس کی شاید ایک وجہ یہ بھی ہے کہ گائے کا گوشت بکرے کے گوشت سے سستا ہے ۔ بکرے چوں کہ گاؤں میں خوب پائے جاتے ہیں اس لیے وہاں کے لوگ ان کا گوشت ہی استعمال کرتے ہیں ۔ مصری چاول اور مصری روٹی بھی بے حد لذیز ہوتے ہیں۔ مصری روٹی ایک خاص طرح کی مشین سے بنائی جاتی ہے۔ بہت دنوں تک یہ روٹی خراب نہیں ہوتی ہے ۔ مصر کے بازاروں میں یہ روٹی خوب بکتی ہے ۔ اس کا سائز کشمیر میں تیار کردہ روٹی ’’گردے‘‘ کے برابر ہوتاہے ۔ چاول بغیر سالن کے کھائے جاتے ہیں ۔کھانا کھانے کے بعد ہم پروفیسر جلال کے ساتھ آرٹس فیکلٹی دیکھنے چلے گئے ۔ شعبۂ اردو بھی اسی فیکلٹی کا حصّہ ہے ۔ شعبۂ اردو کے علاوہ تقریباً ۱۸ زبانوں کے شعبے بھی قاہرہ یونیورسٹی کی اس بڑی فیکلٹی کا حصّہ ہیں ۔ فیکلٹی جدید طرز کی بنی ہوئی دومنزلہ عمارت پر مشتمل ہے ۔ پروفیسر جلال کا اصرار تھا کہ دریائے نیل کے کنارے ایک کافی شاپ پر تھکان دور کرنے کی غرض سے کافی پینے چلا جائے اور ساتھ ہی دریائے نیل کی سیر بھی کر آئیں کیوں کہ دریائے نیل وہاں سے زیادہ دور نہیں تھا ۔ پروفیسر جلال کی گاڑی میں سوار ہو کر ہم دریائے نیل کے کنارے کافی کیفٹیریا پہنچے ۔ دریائے نیل رات میں نہایت ہی خوبصورت منظر پیش کر رہا تھا ۔ صاف شفاف نیلا پانی اور مختلف قسم کی روشنیاں دریا کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کر رہی تھیں ۔دریائے نیل کی اپنی تاریخی اور مذہبی اہمیت ہے ۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا دریا بھی ہے ۔ اس کا پانی پورے مصر کو سیراب کرتا ہے ۔یہ قاہرہ شہر کے بیچوں بیچ گزرتا ہے ۔ دریائے نیل کے کنارے عالیشان عمارتیں بھی ہیں اور کئی ملکوں کے سفارت خانے بھی ۔’’ قاہرہ ٹاور‘‘ دریائے نیل میں ہی ہے ۔ سامنے حکومت ِ سعودی عربیہ کا سفارت خانہ ہے ۔ اس عالیشان عمارت کی آخری منزل پر ہیلی پیڈ بھی قائم کیا گیاہے ۔ اس عمارت کا مشاہدہ کرنے کے بعد یہ معلوم ہوتاہے کہ دولت کی بہتات اگر ہو تو انسان اسے اپنے عیش و آرام کے لیے بے دریغی سے استعمال کر سکتا ہے۔ قاہرہ ٹیلی وژن کا دفتر بھی نیل کے کنارے ہی ہے ۔ یہ دریا رات میں ڈل جھیل جیسا منظر پیش کرتا ہے ۔سعودی عربیہ کے سفارت خانے کی عمارت میں جہاں حکومتِ سعودیہ کے دفاتر قائم کئے گئے ہیں وہیں ان دفاتر میں کام کرنے والے لوگوں کے رہنے کا انتظام بھی ہے ۔ نیل کے کنارے کلب کا منظر بھی بڑا دلکش تھا ۔دریا کے کنارے چلنے والی ٹھنڈی ہوا ماحول کو اور بھی معطر بنا رہی تھی ۔ کافی پینے کے بعد ہم تقریباً رات دس بجے واپس قاہرہ یونی ورسٹی کے گیسٹ ہاؤس پہنچے ۔ گزشتہ دنوں کے سفر نے ہمیں بہت تھکا دیا تھا ۔اس تھکان کی وجہ سے نیند آنا قدرتی بات تھی ۔

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook