Home / خبریں / برطانوی دورِ حکومت اورتعلیمِ نسواں

برطانوی دورِ حکومت اورتعلیمِ نسواں


٭رابعہ ناز،ریسرچ اسکالر
جواہرلعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی۔

ہندوستان میں 1600ء کا زمانہ وہ زمانہ ہے جب یہاں مغل دورِ حکومت تھی۔ اسی زمانہ میں انگریز یہاں تاجر کی حیثیت سے آئے تھے۔اس وقت تک یورپ میں فیمینزم کی تحریک نے سر اٹھانا شروع کر دیا تھا۔انگریز جب ہندوستان آئے تو وہ آزادئ نسواں کی تحریک سے متاثر تھےجبکہ ہندوستان کے حالات بالکل مختلف تھے18ویں صدی کا دور ہندوستان میں تبدیلیوں کا دور تھا۔مغل سلطنت ٹوٹ رہی تھی اور کئی آزاد ریاستیں قائم ہو چکی تھیں۔مختلف قسم کی تحریکیں سر اٹھانے کو تیار تھیں۔معاشرے میں عورت کی حالت بدتر تھی۔ان میں مختلف طرح کی برائیاں تھیں۔عورت کی تعلیم اور اس کے حقوق کی طرف ذہن منتقل کرانے والا کوئی نہیں تھا۔مسلمان عورتوں کو یوں تو اسلام نے سر اٹھا کر جینے کا حق دیا تھا مگر وہ تمام تعلیمات پس منظر میں جا چکی تھیں۔رسم و رواج جو زیادہ تر ہندووں کے تھے ، قانونی صورت اختیار کر چکے تھے۔جاگیرداری کا زمانی تھا اور ملک کا قانون جاگیرداروں کے حق میں تھا۔باندیوں کا رواج عام تھا۔شادی شدہ عورت کا کام "پتی پوجا "کرنا، بچےّپیدا کرنا، اور گھروں میں بند رہنا تھا۔ہندو عورت زیادہ مسائل کا شکارتھی۔لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کر دینا، انتہائی بچپن میں اُن کی شادی کر دینا، بیوہ کو شادی کی اجازت نہ ہونا اور سب سے زیادہ بربریت کا ثبوت دینے والا”ستی” کا رواج معاشرے میں عام تھا۔
1857 ء میں ہندوستان پر مکمل اختیار حاصل کرنےسے پہلے جب انگریزوں کےقبضے میں کچھ ریاستیں تھیں، تب سے ہی عیسائی مشنریوں نے یہاں اپنے مذہب کی تبلیغ کے لیےتعلیم دینا شروع کردیا تھا۔اُس وقت تک ہندوستان میں تعلیم کا کوئی سرکاری انتظام نہیں تھا۔ لوگ اپنے طور پر "پاٹھشالائیں” اور مدرسے چلایا کرتے تھے۔اُن میں سے کچھ چھوٹے موٹے اداروں کی شکل میں ہوا کرتے تھےاور کچھ شخصی بھی ہوتے تھے۔مسلمان اور ہندو عورتوں میں پردے کا رواج عام تھا۔اس وجہ سے والدین لڑکیوں کو یا تو تعلیم نہیں دلواتے تھے یا عموماً گھروں پر تعلیم دی جاتی تھی۔یہ تعلیم معمولی مذہبی تعلیم کے علاوہ تھوڑے بہت پڑھنے لکھنے کے علم تک محدود تھی۔مشنریوں نے یہاں آکر باقاعدہ اسکول کھولے۔اُن کے قائم کردہ اداروں میں انگریزی نصاب کے مطابق تعلیم دی جاتی تھی۔ انھوں نے لڑکیوں کی تعلیم پر خاص توجہ دی کیوں کہ یورپ میں اُس وقت تک تعلیمِ نسواں کا رواج عام ہو چکا تھا۔
مشنریوں نے پردے کے مسئلے کا حل بھی تلاش کر لیا۔پردہ دار خواتین کو گھر پر رہ کر تعلیم دینے کے لیے انہوں نے انگریز گورنسوں کا انتظام کیا۔ لیکن اس طرح سے تعلیم بہت محدود پیمانے پرمل رہی تھی اور صرف اعلیٰ طبقہ تعلیم سے فیض یاب ہو رہا تھا۔ مشنری اسکولوں میں جو بچےّ جایا کرتے تھے وہ نیچی کہی جانے والی ذات کے ہوتے تھے اور اس ذات سے تعلق رکھنے والی عورت کبھی بھی اعلیٰ کہے جانے والےطبقہ کی عورت کی طرح پردے میں نہیں رہی۔ اس لیے جیسے ہی ہندوستان پوری طرح انگریزوں کی قبضے میں آیا ، انہوں نے پردہ اسکول کھولے۔ہر سطح پر لڑکیوں کو تعلیم کی طرف مائل کرانے کے لیے کوششیں کی گئیں۔ وظائف کا انتظام کیا گیا۔پرائمری میں ان کی فیس معاف تھی۔ میٹرک کے بعد ٹیچر ٹرینگ لینے والی طالبات کو وظیفے اور نوکری دی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ کالج اور یونیورسٹیاں بھی کھولی گئیں۔
نسواں کے لیے نصاب کیا ہو” یہ مسئلہ ہمیشہ ہندو اور مسلمان دونوں طبقوں کے لیے موضوعِ بحث رہا۔لیکن مشنری اداروں نے انگریزی نصاب کے مطابق تعلیم دی۔1827ء تک ہگلی ضلع میں مشنریوں نے لڑکیوں کے 12 اسکول کھول دیے تھے۔انیسویں صدی میں نصف صدی گزرنے تک تعلیمِ نسواں ” نرم دَل ہندو براہمنوں” اور طلبا کے لیے تحریک کا موضوع بن چکا تھا۔بنگال میں عیسائیت پھیلنے کے ڈر سے براہمنوں نے ” کنیا پاٹھشالا” کھولی۔مشنری اسکولوں میں جہاں غریب بچےّ جاتے تھے وہیں ان پاٹھشالاووں کے کھلنے سے اعلیٰ طبقے کے لوگوں نے اپنی لڑکیوں کو وہاں تعلیم کے لیے بھیجا۔ ان لوگوں نے اس وقت بنگال میں ” اَنت پُر ” یا "ا ندر محل” کےنام سے جانے جانے والے زنان خانوں میں بھی تعلیمِ بالغاں کے تحت تعلیم دی۔
1860ء کے درمیان یہ خیال بڑی تیزی سے اُبھرا کہ لڑکیوں کی تعلیم کیوں ضروری ہے اور اس میں کیا پڑھایا جانا چاہئے۔کچھ لوگ انگریزیت کے شکار تھے۔ ایشور چند ودیاساگر نے کبھی بھی مذہبی تعلیم لڑکیوں کو نہیں دی، مگر اپنی اسکول میں سنسکرت اور بنگالی کی تعلیم ضرور دی۔سر سید کا کہنا تھا کہ عورتوں کو تعلیم ضرور حاصل کرنی چاہئے مگر گھر پر اور یہ کہ انھیں انگریزیت سے بچ کر رہنا چاہیے۔دیا نند سرسوتی نے ” ویدک طرز تعلیم کی طرف ذہن منتقل کرایا۔ ایسے ہی خیالات رابندر ناتھ ٹیگور کے تھے۔1839ء میں ٹیگور کی قائم کردہ ” تتو بودھنی سبھا” میں "شاستر اور ویدانت ” کا علم حاصل کرنے کی بات رکھی۔
تعلیمِ نسواں کے حق میں اُٹھنے والی آوازوں کے پیچھےایک وجہ یہ بھی تھی کہ عورت ایک ماں بھی ہوتی ہے اور ایک بیوی بھی۔اس لیے گھر ، شوہر اور بچّوں کی بہتری کے لیے اس کے حالات کا سدھرنا ضروری تھا، اس لیے نہیں کہ وہ خود پریشانیوں کے دور سے گزر رہی تھی۔ مختلف مصلحین کے یہاں عورت کی تعلیم اور اس کے حالت کو بہتر بنانے کے پیچھے کہیں نہ کہیں یہ بات سامنے آہی جاتی تھی۔دیانند سرسوتی کے مطابق عورت کی تعلیم اس لیے ضروری ہے کہ وہ تعلیم یافتہ ہو کر ماں اور بیوی کے فرائض کو بخوبی انجام دے سکے گی۔ جیوتی با پھولے کا بھی یہی خیال تھا حالانکہ انھوں نے عورت کے حق میں کچھ ایسے قدم اٹھائے تھے جو نہایت انقلابی تھے۔ مثلاً انھوں نے "گرہ” شروع کرنے کی کوشش کی جہاں غیر شادی شدہ اور بیوہ عورتیں اپنے ناجائز بچّے کی پیدائش کے لیے آسکتی تھیں مگر اس شرط پر کہ بعد میں وہ اپنے بچّے کو گود لے لیں گی۔ اسی طرح کیشو چندر سین نے اپنی” کنیا پاٹھشالا ” میں کھانا پکانے، سلائی سیکھنے وغیرہ کی تعلیم کو شروع کیا اور ان پر انعامات بھی دیے جاتے تھے۔ان تمام باتوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ عورت کے حالات کا سدھرنا محض عورت کے لیے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے حق میں بہتر تھا۔
ہندووں کے ساتھ مسلمانوں نے بھی اپنی قوم کی فلاح کے لیے کام شرع کر دیے تھے۔سب سے پہلے ان کا ذہن بھی تعلیم کی طرف گیا۔ مسلمان عورتوں میں تعلیم کی بہت کمی تھی۔ نصاب کا مسئلہ یہاں بھی درپیش تھا۔1868ء میں گورنر ولیم میور نے اصلاحی تحریکوں پر سالانہ انعامات دینے کا فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں خواتین کے لیے بہت سی کتابیں شائع ہوئیں اور انعام کی مستحق ٹھہریں۔نذیر احمد ، حالی اور راشدالخیری جیسے عالموں کے کارناموں سے زمانہ بخوبی واقف ہےلیکن ان مصنفین کے علاوہ بھی کچھ ایسے لوگ تھے جنھوں نے عمدہ کتابیں لکھیں۔ ان میں سے یہاں صرف ان کتابوں کا ذکر کیا گیا ہے جو نصاب میں شامل کی گئی تھیں۔ 1869ء میں عنایت حسین کی کتاب ” مفیدالاخلاق” کو انعام بھی ملا اور اسے ٹکسٹ بُک کا درجہ دیا گیا۔محمد مصلح الدین کی” کحل الجواہر” 1837ء میں شائع ہوئی۔ یہ کتاب بھی نصاب میں شامل تھی۔ مولانا حالی کی کتاب ” مجالس النسا” 1876ء میں لکھی گئی۔ اس کتاب کو انعام سے نوازا گیا اور اسے یوپی اور پنجاب کے صوبوں میں نصابی کتب کا درجہ حاصل ہوا۔ اسی طرح ابتدائی دور میں جو کتابیں تعلیمِ نسواں کے لیے لکھی گئیں اور نصاب میں شامل کی گئیں ان کا مقصد عورتوں کو انگریزی چمک دمک سے دور رکھ کر تعلیم دینا تھا۔
عورتوں میں بیداری لانے کے لیے اس زمانے میں رسائل کا بھی سہارا لیا گیا۔ نواب شاہ جہاں بیگم کا نام تحریک بیداری نسواں میں بہت اہم ہے۔1889ء میں انھوں نے ” تہذیب نسواں” نام سے کتاب لکھی۔ اس میں پہلی مرتبہ خواتین کے حقوق ، زچّہ و بچّہ کی صحت اور بچّوں کی پرورش جیسے موضوعات پر قلم اٹھایا تھا۔1884ء میں ” رفیقِ نسواں” رسالہ لکھنؤسے نکلا۔ یہ پندرہ روزہ شمارہ تھا جو اردو، ہندی، تامل اور بنگالی وغیرہ میں نکلتا تھا۔ اس میں سماجی و اخلاقی تعلیم کی ضرورت ، گھریلو خانہ داری کا اسلوب جیسے مضامین اور مختصر کہانیاں ، جو انگریزی اور دوسری زبانوں کا ترجمہ ہوتی تھیں ، چھپتی تھیں۔1887ء میں سید احمد ( فرینگ آصفیہ دکن والے) نے ” اخبار النساء” کے نام سے رسالہ جاری کیا۔ مولوی ممتاز اور ان کی بیگم محمدی بیگم نے” تہذیب نسواں” کے نام سے 1898ء میں رسالہ نکالا۔ اس میں ایک سے زیادہ شادی ، شادی کی عمر ، پردہ ، عورتوں کی تعلیم اور روز مرّہ کے مسائل کو اہمیت دی گئی۔اسے 1948ء میں بند کر دیا گیا۔ 1904ء میں شیخ عبداللہ نے رسالہ "خاتون” جاری کیا۔ یہ جدید قسم کا رسالہ تھا۔ شیخ عبداللہ ترقی پسند قانون داں تھے۔ انھوں نے خواتین کے لیے جدید تعلیم اور سائنس کے علم پر زور دیا اور گھرداری میں مہارت کے بجائے انھیں مردوں کے برابر مواقع فراہم کرنے کی مانگ کی۔ اس کے تحت انھوں نے 1906ء میں "عبداللہ گرلز کالج” علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں قائم کیا۔ راشدالخیری کا رسالہ "عصمت” 1908ء میں جاری ہوا۔ ان رسائل کی مدد سے مصلحین کی آواز گھر گھر پہنچی جس کا یہ فائدہ ہواکہ بیسویں صدی کے آغاز تک خود عورت نے اپنے بارے میں سوچنا اور اپنے حق میں لکھنا شروع کر دیا۔
خواتین کے لیے نکلنے والے رسائل میں خود ان کی اپنی تحریر بہت کم ہوتی تھی کیوں کہ اس زمانے میں بہت کم لکھنے والیاں موجود تھیں۔ راشدالخیری نے عورت کو ترغیب دلانے کے لیے زنانہ ناموں سے لکھا اور معاشرے میں مشہور ہونے کے خوف سے خواتین نے مردانہ ناموں سے لکھا۔لیکن اسی زمانے میں ایسے گھرانے بھی تھے جو اپنی بیٹیوں کو تعلیم حاصل کرنے غیر ملکوں میں بھیج رہے تھے۔ ان میں بدرالدین طیب جی بھی ایک ہیں جنھوں نے اپنی بیٹیوں:عطیہ فیضی، زہرہ فیضی اور نازلی فیضی کو یورپ تعلیم حاصل کرنے بھیجا۔ اسی طرح نذرالباقر ، خجستہ اختر اور بانو سحروردی جیسی خواتین ادیبوں کے نام سامنے آتے ہیں۔اب تعلیم یافتہ خواتین کی ایک نئی کھیپ سامنے آنے لگی۔ نئے طرز کا ادب تخلیق ہونے لگا۔ ملک میں ہونے والی سیاسی ، سماجی اور معاشی تبدیلیوں پر عورت نے اپنی رائے کا اظہار کرنا شروع کیا۔ اس طرح عورت کا ایک نیا کردار تخلیق کی منزلیں طے کرتا
گیا۔

حوالہ جاتی کتب:۔
1. عصمت جمیل : نسائی شعور کی تاریخ، مقتدرہ قومی زبان، پاکستان، 2012ء
2. فاطمہ حسن/آصف فرجی (ادارات) : خاموشی کی آواز، وعدہ کتاب گھر، کراچی، 2003ء
3. ذہن جدید (سہ ما ہی)، جلد22: شمارہ 63، مارچ تا اگست 2012ء
4. سید خان قادری : تانیثیت مغرب کے حوالے سے، مضمون شمولہ ذہن جدید، شمارہ 54 دسمبر 2009 تا مئی 2012ء
5. امرتیہ سین : دا آرگیو مینٹےٹیو انڈیا، پینگئوین بکس،2005ء
6. دا انسائکلوپیڈیا امیریکانا: انٹرنیشنل ایڈیشن ۔ 4ء وایوم 29، گرولیر ان کارپوریٹیڈ

Rabia Naz
Room no. 344, Koyna Hostel,
Jawaharlal Nehru University, New Delhi-110057

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook