Home / خبریں / بہار اردو اکادمی سہ روزہ خواتین کنونشن مشاعرہ کے ساتھ اختتام پذیر

بہار اردو اکادمی سہ روزہ خواتین کنونشن مشاعرہ کے ساتھ اختتام پذیر

اردو زبان و ادب سے خواتین کی دلچسپی مردوں سے کم نہیں ہے
بہاراردو اکادمی کے زیراہتمام سہ روزہ خواتین اردو قومی کنونشن کا شاندار انعقاد

ڈاکٹر زر نگار یاسمین پٹنہ کی رپورٹ
12654265_520103008149575_9164599490891648260_n

پٹنہ : بہار اردو اکادمی کے زیر اہتمام‘ مقامی اے این سنہا انسٹی ٹیوٹ میں‘ آج پورے تزک واحتشام کے ساتھ وزیر اقلیتی فلاح وکارگزار صدر اکادمی ڈاکٹر عبدالغفور‘ اکادمی کے نائب صدورجناب سلطان اختر وڈاکٹر اعجاز علی ارشد اور خواتین مہمانان ذی وقار کے ہاتھوں باقاعدہ شمع افروزی سے سہ روزہ خواتین اردو قومی کنونشن کا آغاز ہوا۔ اس موقع پر گل پیشی کی رسم بھی ادا کی گئی۔ اس کنونشن کے افتتاحی اجلاس کی صدارت عزت مآب وزیر اقلیتی فلاح ڈاکٹر عبدالغفور نے فرمائی اور نظامت کے فرائض محترمہ شگفتہ یاسمین نے انجام دیے اور انہوں نے دوران نظامت‘ خواتین کے تعلق سے وزیر اعلیٰ بہار کے حالیہ اقدامات کو تاریخ ساز کارنامہ بتایا۔ اس موقع پر اپنے استقبالیہ خطاب میں سکریٹری اکادمی مشتاق احمد نوری نے تمام شرکائے محفل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اکادمی کے عزائم اور منصوبوں پر اجمالاً روشنی ڈالی اور کہا کہ وزیر اقلیتی فلاح کے مشوروں کی روشنی میں ہماری سرگرمیاں جاری ہیں۔ انہوں نے لائبریریوں کے تعلق سے وزیر محترم کے خیالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لائبریریوں کے لئے ایک خصوصی سیمینار کا انعقاد بھی بہت جلد ہوگا۔ جناب نوری نے بتایا کہ اکادمی کے اس سہ روزہ اردو کنونشن میں پچاس سے زائد‘ خواتین کی حسب پروگرام شرکت وشمولیت یقینی ہے۔ اس موقع پر پروفیسر اعجاز علی ارشد‘ وائس چانسلر مولانا مظہر الحق عربی وفارسی یونیورسیٹی ونائب صدر بہار اردو اکادمی نے اپنے تعارفی کلمات میں کہا کہ نسائی حسیت سے تانیثیت تک کے سفر میں بہار کے فن کاروں کا کردار بھی ہمیشہ ہی نمایاں رہا ہے۔ انہوں نے علامہ جمیل مظہری کے ناولٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی بات مزید واضح کی اور مثالوں کے ساتھ بتایا کہ شعرا کے مقابلے میں‘ شاعرات کے یہاں جب الفاظ‘ علامتوں میں ڈھلتے ہیں تو ان کی معنویت یکسر مختلف ہوجاتی ہے۔ اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ عذرا نقوی نے عورتوں کے لئے خصوصی پروگرام کی تازہ بہ تازہ ضرورت پر توجہ دلائی اور کہا کہ عورتیں چونکہ ایک لمبی مدت تک حاشیہ پر رہی ہیں اس لئے انہیں خاص طور سے آگے بڑھانا لازم ہے۔ محترمہ ثروت خاں نے اس موقع پر اپنے خطاب میں تانیثی ادب کے ذخیرے کو وسیع اور وقیع بتاتے ہوئے اسے مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا اور وزیر اعلیٰ بہار جناب نتیش کمار کے اقدامات کی دوررس معنویت بتاتے ہوئے کہا کہ تعلیم اور اردو زبان سے ان کی محبت نہایت لائق ستائش ہے۔
وزیر اقلیتی فلاح ڈاکٹر عبدالغفور نے اپنے صدارتی خطاب میں‘ اکادمی کے اس پروگرام کو نہایت اہمیت کا حامل بتاتے ہوئے کہا کہ بلاشبہ اردو کی ترقی میں عورت کا اہم مقام رہا ہے۔ انہوں نے پرانے تعلیمی دور کی بعض خوبیاں یاد کرتے ہوئے‘ اس بات پر زور دیا کہ آج ہمیں اردو پڑھنے والوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافے کی طرف توجہ دینے اور اس کے لئے مسلسل کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان سے ہمارے معاشرے کا اٹوٹ اور مستحکم تعلق ہے اور اردو کی ترقی کے لئے ہمیں اپنا محاسبہ کرنے اور اضلاع میں اردو کے تعلق سے بچوں کی کمی دور کرنے پر دھیان دینا لازمی ہے۔ جناب عبدالغفور نے الحاج غلام سرور اور ان کی اردو تحریک کے اثرات یاد دلاتے ہوئے مزید کہا کہ ہمیں اپنے گھروں میں اردو اخبارات خریدنے اور پڑھنے کی عادت بنانی چاہئے۔ یہ ایک بہت مفید وموثر عمل ہے۔ وزیر موصوف نے خواتین کی خدمات پرروشنی ڈالتے ہوئے ان سے کہا کہ وہ اردو کو منجدھار سے نکالنے کے لئے اپنی صلاحتیں بروئے کار لائیں۔ جناب عبدالغفور نے لائبریری کی ضرورت اور اس کے تعلق سے تازہ منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ہرگائوں میں خاص اور طویل منصوبہ کے تحت‘ بہار اردو اکادمی کے ذریعہ اردو لائبریری کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔
اس موقع پر بنگلور سے تشریف لانے والی کرناٹک اردو اکادمی کی صدر ڈاکٹر فوزیہ چودھری نے اپنے خطاب میں کہا کہ احساس مرجائے تو پورا معاشرہ مرجاتا ہے کچھ اایسا ہی حال عورت کے معاملے میں بالعموم مردوںکے معاشرے کا رہا ہے۔ عورتوں پر بے جا تحدیدات کا خاتمہ ضروری ہے۔ محترمہ چودھری نے اہم شخصیات کے اقوال وخیالات سے اپنی باتوں کے لئے غذا حاصل کرتے ہوئے اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کی اور کہا کہ مرد اساس معاشرے میں خواتین کی شناخت کے تحفظ کی خاطر خود ان کے اندر بیداری اور جدوجہد ازبس وقت کا اہم تقاضہ ہے۔ موصوفہ نے ادبیات وشعریات کی طرف آتے ہوئے کہا کہ غزل کی لفظیات مردوں کے اظہار جذبات کی لفظیات ہے اس لئے یہ خواتین کے لئے تشفی بخش اور کما حقہ کارآمد نہیں۔ انہوں نے دیگر پہلوئوں سے بھی متنوع تجزیاتی نکات کی طرف اشارے کئے۔ تقریب میں محترمہ شگفتہ یاسمین کی کتاب اور محترمہ تسنیم کوثر کے رسالہ کا اجراء بھی عمل میں آیا۔ اس موقع پر وزیر محترم اور معزز مہمانوں کی خدمت میں مومنٹو بھی پیش کئے گئے۔ افتتاحی اجلاس کا اختتام جناب سلطان اختر نائب صدر اکادمی کے اظہار تشکر کے ساتھ ہوا۔
دوسرا جلاس دن کے تین بجے سے شروع ہوا جس میں حسب پروگرام مختلف موضوعات پر مقالے پڑھے گئے اور افسانہ خوانی ہوئی۔ خواتین کنونشن کے اس دوسرے اجلاس کی نظامت کے فرائض بھی محترمہ شگفتہ یاسمین نے اپنے مخصوص انداز میں انجام دیے۔ اس موقع پر محترمہ ثریا جبیں نے ’’رشید جہاں کی افسانہ نگاری‘‘ اور ڈاکٹر مسرت جہاں نے ’’شمیم صادقہ کی افسانہ نگاری‘‘ پر اپنے اپنے مقالات میں گرانقدر تنقیدی وتجزیاتی اور معلوماتی باتوں سے سامعین کو نوازا جبکہ ’’اعجاز شاہین کی افسانہ نگاری‘‘ پر محترمہ رضوانہ پروین اور ’’قمر جہاں کی افسانہ نگاری‘‘ پر محترمہ رحمت یونس نے اپنے اپنے مقالات میں متنوع فکری وفنی جہات کی نشاندہی کی۔ اس اجلاس میں محترمہ فرح ناز اور محترمہ فرحت نے اپنے اپنے مقالات کے ذریعہ ’’شمیم افزا قمر کی افسانہ نگاری‘‘ اور ’’میرے صنم خانے‘‘ کی روشنی میں قرۃ العین حیدر کے فکروفن کا جائزہ لیا۔ یہ سبھی پرمغز مقالے نہایت یکسوئی سے سنے گئے اور بے پناہ پسندیدگی سے نوازے گئے۔ وقفہ سوال وجواب کے دوران فن کار کی اثر پزیری کے بارے میں باتیں آئیں اور اس تعلق سے محترمہ ذکیہ مشہدی‘ جناب شوکت حیات اور محترمہ عذرا نقوی نے اپنے اپنے خیالات سے نوازا۔ اس اجلاس میں ’’چاند اور چکور‘‘ کے عنوان سے محترمہ قمر جہاں نے اپنا افسانہ پڑھا جسے کرداروںکی سائیکی کی فن کارانہ پیش کش کے لحاظ سے خاص طور پر بے حد سراہا گیا۔ اس موقع پر محترمہ تسنیم کوثر نے‘ جن کے رسالہ ’’ایشین رپورٹر‘‘ کے افتتاحی شمارے کا پہلے سیشن میں اجرا ہوا تھا‘ محترمہ شگفتہ یاسمین کی دعوت پر اپنے خیالات کا مختصر اظہار کیا اور اپنے مقاصد وعزائم بتاتے ہوئے کہا کہ یہ رسالہ آج کے حالات کے تقاضے محسوس کرتے ہوئے نکالا گیا ہے۔ بہار نے ہمیشہ ہی نازک وقتوں میں ہمیں راستہ دکھایا ہے اور اپنی روایت سے ملے اسی حوصلے نے ہمیں ’’ایشین رپورٹر‘‘ کے اجراء کا ذہن دیا ہے تاکہ ساتھ چلنے والوں کو ساتھ لے کر چلنے کے مواقع ملتے رہیں۔
خواتین کے اس سیشن کی مشترکہ صدارتی ذمہ داری محترمہ قمر جہاں‘ محترمہ افشاں ملک اور محترمہ ثریا جبیں نے بخوبی ادا کی۔ افشاں ملک نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے مقالہ نگار خواتین کی کاوشوں پر بے پناہ طمانیت اور مسرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے نئی نسل کی لکھنے والیوں کو مقالہ نگاری اور مقالہ خوانی کے تعلق سے بعض مفید مشورے دیے اور کہا کہ یہاں جو تحریریں پڑھی گئیں وہ بتارہی ہیں کہ نئی نسل بہت اچھے انداز سے ادبی وعملی تنقید کے میدان میں آگے بڑھ رہی ہے اور ہمارے لئے اپنے ادبی سرمایہ کی بازیافت میں نمایاں کامیابی کے امکانات روشن سے روشن تر ہوتے جارہے ہیں۔ ڈاکٹر قمر جہاں نے اپنے صدارتی خطاب میں اس شاندار پروگرام کی منصوبہ بندی اور اس کے انعقاد پر سکریٹری اکادمی مشتاق احمد نوری کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ زبان بہرحال مادری ہوتی ہے اور اس جہت سے اردو کا تعلق بہرحال مردوں کے مقابلے میں ہم عورتوں سے زیادہ ہے اور ہمیں اپنی ذمہ داریوں پر مسلسل توجہ رکھنی چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زبان سبھوں کی ہوتی ہے اور اس محفل میں مردوں کی بڑی تعداد میں موجودگی نہ صرف ان کی دلچسپی کا ثبوت ہے بلکہ زبان وادب سے ان کی محبت کا ثبوت بھی ہے اس موقع پر مقالہ خواں اور افسانہ خواں خواتین کو اسناد اور خوبصورت مومنٹو سے بھی نوازا گیا۔
بہار اردو اکادمی کے سہ روزہ اردو خواتین کنونشن کا ’’دوسرا‘ تیسرا اور چوتھا‘‘ اجلاس آج 30 جنوری کو حسب پروگرام منعقد ہوا۔ آج کے اجلاس کی ایک بہت ہی حوصلہ افزا بات یہ تھی کہ وزیر اقلیتی فلاح ڈاکٹر عبدالغفور بہ نفس نفیس اس اجلاس میں تشریف لائے اور اکادمی کے کاموں اور اردو کی محبت سے ان کے دلی لگائو کا احساس سبھی حلقوں میں کیا گیا۔ آج کے ’’دوسرے‘‘ اجلاس میں ڈاکٹر درخشاں زریں نے ’’اردو شاعری میں نسائی حسیت اور کیفی اعظمی‘‘ کے موضوع پر اور محترمہ طاہرہ پروین نے ’’اردو شاعری اور تانیثیت‘‘ کے موضوع پر اپنے مقالے پڑھے جبکہ محترمہ نکہت پروین نے ’’زاہدہ زیدی کی شاعری‘‘ پر اور شاذیہ عمیر نے ’’رفیعہ شبنم عابدی‘‘ کی شعری خدمات پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ مقالہ خوانی کے بعد سوال وجواب کے وقفہ میں شوکت حیات‘ کلیم الرحمن‘ افسانہ خاتون‘ ثروت خاں‘ ارمان نجمی‘ خورشید اکبر‘ شکیل سہسرامی اور دیگر حضرات وخواتین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر سیدہ نکہت فاروق نے اپنے صدارتی خطاب میں نہایت دلسوزی کے ساتھ اپنی باتیں کہیں اور مفید مشوروں سے نوازا۔ اس اجلاس کی مقالہ خواں خواتین کو وزیر محترم کے دست مبارک سے سند اور مومنٹو دیا گیا۔ ’’تیسرے اجلاس‘‘ کی مشترکہ صدارت محترمہ سیما صغیر اور محترمہ غزال ضیغم نے فرمائی۔ مذکورہ اجلاس میں ’’اردو کی خواتین ڈرامہ نگار‘‘ کے موضوع پر ڈاکٹر فرغانہ نے اپنا مقالہ پڑھا جبکہ ڈاکٹر الفیہ نوری نے ’’اشرف جہاں بحیثیت افسانہ نگار‘‘ اور ’’محترمہ زرنگار یاسمین نے اپنے مقالے میں ’’قرۃ العین حیدر‘‘ کو ان کی ناول نگاری کے آئینے میں پیش کیا۔ ’’ماحولیاتی تانیثیت اور عصری تانیثی اردو افسانہ‘‘ کے موضوع پر ڈاکٹر نسترن احسن فتحی نے‘ ’’شکیلہ اختر کی افسانہ نگاری‘‘ پر افسانہ خاتون نے اور ممتاز شیریں کی خدمات‘‘ پر فرزانہ اسلم نے اپنے اپنے مقالات سے سامعین کو نوازا۔ اس اجلاس میں کہکشاں پروین نے اپنا افسانہ ’’سراب‘‘ سامعین کی نذر کیا۔
محترمہ سیما صغیر نے اس موقع پر اپنے صدارتی کلمات میں نوواردان علم وقلم کو مفید علمی نکات کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل محنت اور توجہ سے ہی تنقیدی کام نکھرتے ہیں۔ اس اجلاس کی مقالہ خوانی اور افسانہ خوانی کرنے والی خواتین کو جناب سلطان اختر نائب صدر اکادمی کے ہاتھوں سے سند اور مومنو دیا گیا۔
آج کے ’’چوتھے اجلاس‘‘ کا آغاز‘ دن کے 3 بجے سے ہوا جس کی مشترکہ صدارت محترمہ فوزیہ چودھری اور فرزانہ اسلم نے کی۔ ’’افسانوی نشست‘‘ کی صورت میں انعقاد پذیر اس اجلاس میں محترمہ شفقت نوری‘ محترمہ عذرا نقوی‘ محترمہ ثروت خاں‘ محترمہ غزال ضیغم اور محترمہ ذکیہ مشہدی کی افسانہ خوانی سے سامعین خوب خوب محظوظ ہوئے اور انہوں نے محسوس کیا کہ انہیں ایک اچھوتے انفس وآفاق کی سیر اور اس سے بے پناہ مسرت وبصیرت سمیٹنے کے مواقع ملے۔ محترمہ فوزیہ چودھری نے اپنے صدارتی خطاب میں تمام افسانوں کا مختصر‘ مگر جامع ترین تجزیہ کرتے ہوئے نئی نسلوں کو افسانہ خوانی کے سلیقہ اور افسانے کے اختتامیہ کو کمزوری سے بچانے کی طرف بھی توجہ دلائی۔ اس اجلاس کی افسانہ خواں خواتین کو اکادمی کے نائب صدور ڈاکٹر اعجاز علی ارشد اور جناب سلطان اختر کے ہاتھوں سند اور مومنٹو دیے گئے۔ محترمہ فرزانہ اسلم کے کلمات تشکر پر اس اجلاس کا اختتام ہوا۔ آج کے سبھی اجلاس میں محترمہ تسنیم کوثر نے نہایت کامیابی کے ساتھ نظامت کے فرائض انجام دیے۔شروع سے آخر تک آج کے سبھی اجلاس میں سماجی اور اردو حلقے سے کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور اکادمی کے پروگرام کو بے حد سراہا۔
112411241
12644820_1103020849711011_2825333577940995138_n
12625957_768962283248391_1010356179_n
12650246_768962239915062_1730971308_n
12650395_768962259915060_904067784_n
12665857_768962246581728_2082933425_n
12670105_10208076152997740_1837962626407893685_n
12592708_558351407656629_1365201209683888172_n
12644819_1113779831968662_5982007146868164098_n
12674405_768960606581892_1571474733_n
12509000_1113179245362054_4804091298127821868_n

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook