Home / خبریں / بہار اردو اکادمی میں ریسرچ اسکالرز سیمینار کا شاندار انعقاد

بہار اردو اکادمی میں ریسرچ اسکالرز سیمینار کا شاندار انعقاد

????????????????????????????????????

پٹنہ (اسٹاف رپورٹر) اردو زبان ہماری پہچان ہے اورہمیں خوشی ہے کہ اردو کے لئے کام ہورہا ہے۔ اردو ہمارے دلوں میں زندہ ہے اور اس زبان کی نفاست کے سبھی معترف ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے جناب محمد شہریار اقبال فیصل (آئی آر ایس) پرائیوٹ سکریٹری محکمہ اقلیتی فلاح حکومت بہار نے مزید کہا کہ بہار اردو اکادمی محض ایک روایتی ادارہ نہیں ہے بلکہ فروغ اردو کے لئے اس کی کاوشیں ہر لحاظ سے قابل تحسین ہیں۔ جناب شہریار آج 26اگست کو بہار اردو اکادمی کے سمینار ہال میں ’’جامعات میں اردو تحقیق کے مسائل اور حل‘‘ کے موضوع پر منعقدہ دو روزہ قومی اردو ریسرچ سمینار کے افتتاحی اجلاس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے بنیادی تعلیم کے فروغ اور جدید تربیتی کورس سے استفادہ پر توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ترقیاتی اسکیم سے ہمیں بروقت فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ مختلف اضلاع اور طلبا و طالبات کے ہوسٹلوں میں معیاری لائبریری کا قیام ہونا چاہئے۔ اردو میں ریسرچ کے تعلق سے موصوف نے کہا کہ خالص ادبی موضوعات کے دائرے سے آگے کی بھی ضرورت ہے۔ مثلا اس بات کو ریسرچ کا موضوع بنایا جانا چاہئے کہ حکومت کی ترقیاتی اسکیموں کے کیا مثبت اثرات سامنے آرہے ہیں اور انہیں کس طرح مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ ایسے موضوعات پر کام کرنے والوں کی پوری طرح حوصلہ افزائی ہوگی۔
آج حسب پروگرام دو روزہ سمینار کا افتتاح جناب شہریار کے ہاتھوں شمع افروزی سے ہوا۔ اس موقع پر سکریٹری اکادمی جناب مشتاق احمد نوری اور اکادمی صدور پروفیسر اعجاز علی ارشد اور جناب سلطان اختر بھی موجود تھے۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت پروفیسر اعجاز اعلی ارشد نے فرمائی۔ انہوں نے اپنے صدارتی خطبہ میں حسب موضوع متعدد اہم نکات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ آج انٹرنیٹ کی سہولتوں سے ہزار فائدے سہی مگر نقصانات بھی کچھ کم نہیں ہیں اور اندھی نقل سے تحقیق کا کچھ بھی بھلا نہیں ہوگا۔ تحقیق کے انتظامی اور اکادمک مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ تحقیق ، معلوم شدہ حقائق میں دیگر حقائق میں حقائق کو جوڑنے کا عمل ہے۔ آج کے علمی حالات میںہمیں لسانیاتی تحقیق پر نسبتاً زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ موضوع کی دستیابی ہزار مشکل سہی، مگر ہمیںہمت سے کام لینا اور اپنے طے شدہ موضوعات سے دیانت داری کے ساتھ جڑے رہنا چاہئے اور اپنی ترجیحات میںمناسب تبدیلی لانی چاہئے کیونکہ محض سند کا حصول ہی کافی نہیں بلکہ تحقیق کی آبرو بچائے رکھنا بھی ہماری اہم اور بنیادی ذمہ داری ہے۔
اس موقع پر پروفیسر رئیس انور نے اپنے خطاب میںکہا کہ تحقیق موجود چیز کی بازیافت کا نام ہے اور اس کے لئے ثبوت کا ہونا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں ’’بخاری شریف‘‘ کے تحقیقی مرتبہ کو مثالی بتایا اور کہا کہ ہمیںموضوع کی وقعت پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اردو میں تحقیق کے ارتقا کی تاریخ پر نہایت علمی انداز سے روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ بیسویں صدی میں محققین نے ثبوت کی فراہمی پر جس قدر توجہ دی وہ مثالی کارنامہ ہے۔ تحقیق میںقیاس پر بھروسہ کی کوئی گنجائش نہیں ہمیں مخطوطات پر خصوصیت سے کام کرنے اور محض تنقید کو تحقیق سمجھ لینے کی غلطی سے بچنے کی ضرورت ہے۔
پروفیسر توقیر عالم نے اپنے خطاب میںکہا کہ اردو کا کام بہار سے شروع ہو کر باہر پہنچتا ہے۔ انہوں نے اپنے تجربات بتاتے ہوئے کہا کہ آج کی صورت حال کے لئے ہم سبھی ذمہ دار ہیں ۔ تحقیق کا مادہ حق ہے یعنی ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم سچائی سے کام لیں۔ ہم میں تجسس ہواور کیا، کب کہاں اور کیسے کا پہلو کبھی نظر انداز نہ ہونے دیں اور اردو کی بنیادی تعلیم میں بہتری لانے پر خصوصی توجہ رکھیں۔
آج کے پروگرام میںسکریٹری اکادمی جناب نوری کے ذریعہ محترم شہریار اقبال فیصل کی شال پوشی ہوئی اور سکریٹری موصوف نے اپنے تعارفی کلمات میں اس سمینار کی غرض و غایت بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد تحقیق کے تعلق سے اساتذہ اور طلبا کے مسائل کو ڈھونڈنا اور ان کا حل تلاش کرنا ہے۔ انہوں نے اپنے عزائم کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس سمینار کے مقالات بہت جلد کتابی شکل میںلائے جائیں گے۔
اس موقع پر سوال و جواب کے مختصر وقفہ میں بھی طلبا و طالبات کو چند اہم نکات کی طرف توجہ دلائی گئی۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض جناب فخرالدین عارفی نے انجام دیا اور انہوں نے اسے اپنی نوعیت کا منفرد پروگرام بتاتے ہوئے کہا کہ یہ سمینار گویاعمل گاہ ہے۔ آج ہمارے ریسرچ اسکالروں کو اپنے اندر اعتماد دلانے اور سہل پسندی کی عادت سے بچنے کی سخت ضرورت ہے۔ افتتاحی اجلاس کا اختتام جناب سلطان اختر کے کلمات تشکر پر ہوا۔
افتتاحی پروگرام کے بعد سمینار کا ’’پہلا اجلاس‘‘ پروفیسر رئیس انور اور پروفیسر توقیر عالم کی مشترکہ صدارت میںمنعقد پایا جس میںجناب محمد معروف (علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی) نے ڈاکٹر ابو محمد سحر کی ہمہ جہت خدمات پر اور جناب محمداسلم (پٹنہ یونیورسیٹی) نے مابعد جدیدیت اردو تنقید پرا پنا مقالہ پڑھاجب کہ جناب محمدکیف فرشوری (علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی) نے پروفیسر مغنی تبسم کی شعری و ادبی خدمات اور محترمہ فرح ناز (پٹنہ یونیورسیٹی) نے نثار احمد فاروقی کی علمی و ادبی خدمات پر اپنے مقالے پیش کئے۔احمد رضا بریلوی کے نعتیہ کلام ’’حدائق بخشش‘‘ کی شعریاتی پر ماہیت پر جناب محمد رجب عالم غوثی (جے پرکاش یونیورسیٹی چھپرہ) اور پریم چند اور سرت چندر کے ناولوں کے تقابلی مطالعہ پر محترمہ رائحہ انصار (علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی) نے اپنے مقالات سے نوازا۔ اس اجلاس میں جناب محمد معروف نے تحقیق کے مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے بیرون ملک کے فنکاروں پر کام کرنے میںمواد کی فراہمی میں دشواریوں کا شکوہ کیا اور اساتذہ نے بتایا کہ بنیادی ماخذ سے کام لینا ہی ایسے مسائل کا بنیادی حل ہے۔
پروفیسر رئیس انور نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ تحقیق کو بہر صورت نتیجہ خیز ہونا چاہئے۔ انہوں نے تمام مقالات پر مختصر تجزیاتی نظر ڈالتے ہوئے اہم نکات کی طرف توجہ دلائی اور بنیادی ماخذ کی اہمیت بتائی۔ پروفیسر توقیر عالم نے بھی مقالہ خواں ریسرچ اسکالروں کو مفید مشوروں سے نوازا اور کہا کہ آداب محفل، آداب گفتگو اور آداب تحریر کا لحاظ رکھنا ہر حال میں ضروری ہے۔
وقفہ طعام کے بعد ’’مقالہ خوانی‘‘ کا دوسرا اجلاس شروع ہوا جس کی صدارت جناب صفدر امام قادری نے فرمائی۔اس اجلاس میں اردو کے نمائندہ ماہرین لسانیات پر جناب محمدمنہاج (پٹنہ یونیورسیٹی) اور ہم عصر اردو افسانے پر تاینثیت کے اثرات پر محترمہ سعیدہ رحمن (مگدھ یونیورسیٹی) نے اپنا مقالہ پڑھا۔ جب کہ محترمہ رحمت یونس (جواہر لال نہرو یونیورسیٹی )نے وہاب اشرفی کے تنقیدی امتیازات اور صفیہ فاطمی (بہار یونیورسیٹی) نے اردو ناول کے سو سال پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ ڈاکٹر الفیہ نوری (مگدھ یونیورسیٹی) نے اسکول کے لئے ادبی تاریخ نویسی مسائل اور امکانات ، جناب غلام نبی کمار (دہلی یونیورسیٹی) نے زبیر رضوی کی نظمیہ شاعری ، محترمہ فرزانہ پروین (بہار یونیورسیٹی) نے منٹو کی خاکہ نگاری ، محترمہ ایمن عبید (مگدھ یونیورسیٹی ) نے معروف افسانہ نگار شفق کے فنی تجربات ، جناب محمد رحمت اللہ افضل (دربھنگہ یونیورسیٹی) نے جناب سلطان اختر کی غزلیہ شاعری ، جناب معراج الدین (دربھنگہ یونیورسیٹی) نے سید منظر امام کی شخصیت اور ادبی خدمات ، جناب صبا مامون رحمانی (ویر کنور سنگھ یونیورسیٹی آرہ) نے اردو خطبات کے ارتقا اور خطبات اقبال اور محترمہ یاسمین خاتون (بہار یونیورسیٹی) نے قرۃ العین حیدر کی ناولٹ نگاری پر اپنے مقالات سے نوازا۔
اس موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں جناب صفدر امام قادری نے تمام مقالوں کا علمی تجزیہ کرتے ہوئے مقالہ خواں اسکالروں کے لئے متعلقہ اہم نکات کی نشاندہی کی اور انہیں تہذیبی تربیت پر توجہ دکھنے کی اہمیت بتائی۔ سوال و جواب کے مختصر وقفہ میں بھی کئی علمی نکات ابھر کر آئے۔
واضح رہے کہ کل 27 اگست اتوار کو وقت مقررہ کے ساتھ 10 بجے سے دوسرے دن کے پروگرام کا آغاز ہوگا اور پروفیسر صغیر افراہیم جو کہ راستے کی مجبوری سے آج بہت تاخیر سے ساتھ تشریف لا سکے، کل انشا اللہ اپنا کلیدی خطبہ پیش کریں گے۔ سکریٹری اکادمی جناب مشتاق احمد نوری نے کہا کہ محبان علم و ادب کی شرکت سے یقینا کل بھی اس پروگرام کی رونق دوبالا رہے گی۔

DSC_0153
21083045_648051672203652_3846071736795761220_o

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook