Home / خبریں / بیسوی صدی عیسوی کے بلند پایہ شاعرعلامہ ا قبال: ایک جائزہ

بیسوی صدی عیسوی کے بلند پایہ شاعرعلامہ ا قبال: ایک جائزہ

شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؔ کی یوم ولادت پر خصوصی پیش کش


٭ڈاکٹر محمد الطاف بٹ

لیکچرارمو قتی
شعبہ اُردو و فارسی
دانشگاہِ گرو نانک دیو، امرتسر
Email id : altaf191111@gmail.com

iqbal_day_1

ملے گا منزلِ مقصود کا اُسی کو سراغ اندھیری شب میں ہے چیتے کی آنکھ جس کا چراغ ۱؎
علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال کسی تعرف کے محتاج نہیں ہیں۔ میں حقیر طالب علم آپ جیسی عظیم شخصیت پر قلم اٹھانے کی جسارت کرتا ہوں یہ تو سورج کے سامنے شمع جھلانے کے مترادف ہو گا۔بہر حال بقول علامہ اقبال ؔلاہوری ؎
نہ ہو نو مید، نومیدی زوال ِ علم و عرفان ہے امیدِ مردِ مومن ہے خدا کے رازدانوں میں ۲؎
مشاہدہ میں آیا ہے کہ سب سے پہلے کسی بھی شخصیت کو بنانے میںانسانی زندگی کا ابتدایٔ دور ہوتا ہے جس کے نقش عموماً دیر پا ہوتے ہیں۔اس ضمن میں علامہ اقبال کی پرورش کس ماحول میں ہویٔ اس کا اندازہ کچھ اس سے لگایا جا سکتا ہے۔
علامہ اقبال کے بزرگ سپرو برہمن تھے اور کشمیر ان کا وطن تھا۔ ا ٹھارویں صدی کے آخر میں آپ کے جد اعلیٰ نے اسلام قبول کیا اوران کا خاندان کشمیر سے ھجرت کر کے پاکستان کے سیالکوٹ میں قیام پزیر ہوئے۔۳ ؎ اگر چہ آپ کی شخصیت پر بے شمار تحقیق ہویٔ ہے اس کے با وجود موصوف کی تاریخ ولادت میں مورخین و محققین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔بحوالہ ’’فارسی ادب کی مختصر ترین تاریخ‘‘ بزم ِ اقبال لاہور کے حوالے سے ۲۹،دسمبر ۱۸۷۳ء اور اقبال اکادمی کراچی کے مطابق ۹،نومبر ۱۸۷۷ء کو ہویٔ ہے۔ ۴؎ ابتدایٔ رہنمایٔ تعلیم کا شرف اپنے والد محترم سے حاصل کیا۔آپ نے اپنے والدصاحب کی صحبتوں سے فیض اٹھانے کا ذکر بہت ہی فخر کے ساتھ کیا ہے۔ ایک خط میں لکھتے ہیں ’’ہزار کتب خانے ایک طرف اور باپ کی نگاہِ شفقت ایک طرف‘‘۵؎ تلاوت کلام پاک سے علامہ اقبال کو بے حد لگاو تھااور کلام پاک کے رموز و نکات پر آپ مسلسل غور وفکر کرتے رہے ۔یہاں تک کہ قرآن کریم کی تعلیم انکی رگ و ریشے میں سرایت کر گیٔ۔اس طرح سے ان کی شاعری سر تاسر کلام اللہ کی تفسیر بن گیٔ۔چنانچہ’’ رموز بے خودی‘‘ کے آخر ی حصہ میں علامہ اقبال ؒ نے پیغمبر آخر زمان حضرت محمد مصطفیﷺ کے جوار میں اپنی نالہ و فریاد میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ اگر میں قرآن پاک کے سوا کچھ کہوں تو مجھے ختم کر دیا جائے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ میری شاعری وجود میں آنے سے پہلے فنا ہو جائے۔نیز روزِ محشر مجھے ذلت و رسوایٔ کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے۔مثلاً فرماتے ہیں ؎
روزِ محشر خوار و رسوا کن مرا
بے نصیب از بوسہ پاک کن مرا
گر دُرِاسرارِ قرآن سفتہ ام
با مسلمانان اگر حق گفتہ ام
ای کہ از احسانِ تو ناکس کس است
یک دعایت فردِ گفتارم بس است ۶؎
علامہ اقبال اس منزل تک اپنی لگن اور محنت سے پہنچے مگر انھیں یہ راستہ دکھانے والے بلا شبہ ان کے والد محترم تھے۔آپ نے ابتدایٔ تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی۔بی ۔اے گورنمنٹ کالج لاہور سے ۱۸۹۷ ء میںاول درجہ کے ساتھ پاس کیا۔اسی کالج سے فلسفے کے مضمون میں ۱۸۹۹ء میں ایم ۔ اے پاس کیا۔۱۹۰۷ء میں پی ۔ایچ۔ڈی کی ڈگری جرمنی سے حاصل کی اور اس کے بعد لندن سے بیرسٹری کی سند حاصل کی۔۱۹۰۸ء میں اپنے وطن واپس آئے۔ بقول پروفیسر عزیز عباس ’’علامہ اقبال نے ۱۸۹۹ء میں ’’انجمن حمایت الاسلام‘‘ کے سالانہ جلسہ میں اپنی نظم ’نالہ یتیم‘ پڑھی۔ کسی بڑے جلسے میں یہ آپ کی سب سے پہلی شرکت تھی۔‘‘۷ ؎
بیسوی صدی کے اس عظیم شاعر نے اپنے جد اعلیٰ کی سر زمین یعنی کشمیر کو جون ۱۹۲۱ء میں اپنی تشریف آوری کا شرف بخشا۔ نشاط باغ میںآپ نے ایک مشہورنظم ’’ساقی نامہ‘‘ کہی۔نمونے کے طور پر یہاں ساقی نامہ سے چند اشعار نقل کئے جاتے ہیں ؎
خوشا روز گارے ،خوشا نو بہارے نجومِ پرن رست از مر غزارے
زمین از بہاران جو بالِ تدروے زفوّارہ الماس بار آبشارے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چہ شیرین نوائے، چہ دلکش صدائے کہ می آید از خلوتِ شاخسارے
بہ تن جان، بہ جان آرزو زندہ گردد زآوائے سارے، زبانگ ہزارے۔۔۔
تو گویٔ کہ یزدان بہشتِ برین را نہاد است در دامن ِ کو ہسارے۔۔۔۔
کشیری کہ با بندگی خو گرفتہ بتے می تراشد ز سنگ ِ مزارے
ضمیرش تہی از خیالِ بلندے خودی نا شناسے ز خود شرمسارے ۸؎
ایک طرف تو علامہ اقبال کے زندگی میں فلسفیانہ خیالات اور جہان گردی اور خارج از ملک تحصیل کا گہرا اثر پڑا ، دوسری طرف سے گوہر تابدار کو اور بھی تابدار بنانے کی جو سعی ہو رہی تھی اس کو یوں سمجھ لیجئے علامہ خود تحریر فرماتے ہیں:
’ ایک مرتبہ ایک فقیر ہمارے دروازے پر آکر ڈٹ گیا ۔ میں نے اس سے ایک ضرب لگایٔ جو کچھ اس سے بھیک ملی تھی سب گر پڑی، یہ دیکھتے ہی والد صاحب بہت تڑپ اٹھے، آنکھیں نمناک ہو گیٔ۔ فرمایا قیامت کے دن خیر ا لرسل کی امت کے غازی شہید ، عالم، زاہد،عاشق جمع ہوں گے اور رسول ﷺ مجھے پو چھیں گے کہ ایک جوان مسلمان تیرے حوالے ہوا تھا جسے تیری تعلیم سے کچھ حاصل نہ ہوا تو مٹھی بھر خاک کو آدمیت کے اوصاف نہ سکھا سکا۔ بتائیں میں کیا جواب دوں گا ؟ ‘غرض میں یہ پیغام دینا چاہتا ہوں۔حقیقت یہ ہے کہ پھر اسی علامہ اقبال نے جس سے اوصاف آدمیت سے بیگانگی کی شکایت تھی ایک عالم کو آدمیت کے اوصاف سے متصف ہو نے کے لئے ایک راہ دی۔موصوف کے کلام کے مطالعے سے یہ بات بالکل واضح طور پر سامنے آجاتی ہے انہوں نے اپنے کلام کو شاعری بمعنی روایتی مفہوم کے ہونے سے نفی فرما دی ہے فرماتے ہیں ؎
میری نوائے سحر کو شاعری نہ سمجھ کہ میں ہوں محرم راز داراں میخانہ
سچ تو یہ ہے کہ پھر علامہ اقبال نے اس راز کو راز نہ رکھکر کھول کے ہر خاص و عام کے سامنے پیش کیا اور سمجھنے والے سمجھ گئے۔ لیکن کیا کیجئے کہ علامہ اقبال کی امید اور توقع کے مطابق نہ سمجھ سکے اور علامہ اپنی زندگی میں ہی اس تلخ حقیقت کو محسوس کر چکے تھے۔ چنانچہ در خدمت رسول اکرمﷺ یوں فریاد کرتے ہیں ؎
من ای میرامم داد از تو می خواہم مرا یاران غزل خوان شمر دند ۹؎
’’یعنی ای میرے اور ساری کائنات کے بادشاہ میں آپ کی خدمت میں فریاد لے کر حا ضر ہوا ہوںکہ میں نے تو اپنی قوم کو آپ کا پیغام سنایا لیکن انہوں نے مجھے محض ایک شاعر سمجھا‘‘۔
در اصل علامہ اقبال کی شاعری جدو جہد کا پیغام دیتی ہے جیساکہ موصوف نے اپنے اس مقطع میں کہا ہے ؎
ز شعر دلکش اقبال می توان دریافت کہ درس فلسفہ می داد و عاشقی ورزید ۱۰؎
علامہ اقبال نے اُردو شاعری کے ساتھ ساتھ فارسی شاعری میں بھی ایک دائمی حیثیت کا مقام حاصل کیا ہے اور وہ فلسفیانہ افکار و خیالات جو فارسی شاعری میں انھوں نے ادا کیے ہیں اپنی جگہ مسلم ،علامہ موصوف کی فکر کے بہت سے پہلو اس میں پنہان ہیں۔آپ کا کلام نہ صرف حقیقی تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے بلکہ اس پر سنجیدگی کے ساتھ غور و خوز کرنے کی تلقین بھی کرتا ہے،روحانی بیداری،علم و عمل اور خود شناسی آپ کے کلام میں اکثر دیکھنے کو ملتا ہے مثلاً ایک جگہ ’’ تعلیم ‘‘ کے عنوان سے یوں رطب اللسا ن ہیں ؎
تب و تا بے کہ باشد جاودانہ سمند ِ زندگی را تازیانہ
بہ فر زندان بیاموز این تب و تاب کتاب و مکتب افسون و فسانہ!
ز علمِ چارہ سازے بے گدازے بسے خوشتر نگاہِ پاک بازے
نکو تر از نگاہِ پاک بازے دلے از ہر دو عالم بے نیازے
بہ آن مومن خدا کارے ندارد کہ در تن جانِ بیدارے ندارد
از ان از مکتب یاران گریزم جوانے خود نگہدارے ندارد
ادب پیرایۂ نادان و دانا ست خوش آن کو از ادب خود را بیار ست
ندارم آن مسلمان زادہ را دوست کہ در دانش فزود و در ادب کاست!۔۔۔۱۱؎
علامہ کی شاعری کے بہت سے پہلو ہے جیسا کہ پہلے ہی اشارہ دیا جا چکا ہے۔ اگر چہ اس پر بہت ساری کتابیں لکھی جا چکی ہیں بہت کچھ اور بھی لکھا جا سکتا ہے ۔ عصر حاضر کو مد نظر رکھ کر اور علامہ اقبال کے فلسفیانہ اور اخلاقیانہ کلام کو سامنے رکھ کر راقم الحروف اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ اس کا اہم پہلو انسانیت اور انسانی بیداری ہے۔موصوف نے ہمیشہ اپنی شاعری کو مقصد کے تابع رکھا۔انھوں نے ان تمام روایات سے انحراف کیا جن سے قومی ضمیر میں غلامی و تقلید کی بو پیدا ہوتی ہے۔اُن کے خیالات اپنی راہ آپ پیدا کرنے کے قائل تھے،انھوں نے دامن شاعری کو فنی و فکری جوہر پاروں سے مالا مال کر دیا۔انھوں نے اپنی شاعری کو دقیق اور رنگارنگ فلسفی اور مذہبی افکار سے بھر دیا ۔ آپ نے نئے انداز اور سوز وساز کو وجود بخشا ۔گر چہ ہیت کے اعتبار سے کسی نئی صنف سخن کے موجد تو نہیں بنے۔لیکن موضوع کے حوالے سے انھوں نے جدت و ندرت سے ضرور کام لیا۔ موصوف نے انسانی وجود کو جھنجوڑا اور جھنجوڑ کر اس میں مضمر حقائق کو تلاش کرنے کی دعوت دی ہے۔اپنے اندر کی بے انتہا توانائی کی طرف اشارہ کیا ہے۔کیا خوب فر ماتے ہیں ؎
اپنی اصلیت سے ہو آگاہ اے غافل کہ تو
قطرہ ہے لیکن مثال بحر بے پایان بھی ہے
کیوں گرفتار طلسم ہیچ مقداری ہے تو
دیکھ تو پوشیدہ تجھ میں شوکت طوفان بھی ہے
اس تونائی کو ایک اور جگہ مزید اُبھار کر یوں تراشا ہے ؎
خودی ہے جلوہ ٔ بدمست و خلوت پسند سمندر ہے ایک بوند پانی میں بند
بدون مبالغہ آمیزی دنیا ئے ادب کو شاعر مفکر نے اپنے فلسفیانہ خیالات اور شاعری جاہ و جلال سے ابدی سرفرازی عطا کی ۔علامہ کو شعری محاسن اور خیالات کی بلندی نے نہ صرف بیسویں صدی کے عظیم شعراء کی صف میں ممتاز کر دیا بلکہ دنیا کے بلند پایہ مفکرین میں بھی فضیلت بخشی۔چونکہ اس سورج نے مشرق سے طلوع ہو کر پوری دنیا کی فکر کو منور کر دیا۔مولانا گرامیؔ نے اپنی شاعری میں علامہ اقبال ؒ کو یوں یاد کیا ہے ؎
در دیدۂ معنی نگہبان حضرت اقبال پیغمبری کرد و پیغمبر نتون گفت ۱۲؎
علامہ سر محمد اقبال نے اپنی شاعری کی یاد گار اُردو و فارسی دونوں زبانوں میں چھوڑے ہیں۔اُردو زبان میں آپ نے تین شعری کتابیں ’’بانگِ درا، بالِ جبریل اور ضربِ کلیم ‘‘ لکھی ہیں۔جبکہ فارسی زبان میں آپ ’’زبور عجم‘‘، جاوید نامہ‘‘، اسرار خودی‘‘، رموز بے خودی‘‘،پس چہ باید کرد‘‘،اے اقوام مشرق ‘‘ اور پیام مشرق‘‘ کے خالق ہیں۔آپ کا یہ شعر آپ پر صادق آتا ہے ؎
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے چمن میںہوتا ہے دیدہ ور پیدا
آپ نظم و غزل دونوں صنف سخن میں شاعری کرتے رہے مگر موصوف کی شاعری کا جوہر صنف نظم میں کھل کر سامنے آتا ہے۔ در اصل ان کی فکر اتنی و سیع اور ہمہ پہلو تھی کہ تنگنائے غزل میں اس کو ظاہر کرنا مشکل تھا۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ غزل میں انھوں نے اچھی شاعری نہیں کی ہیں بلکہ ان کا کار نامہ یہ ہے کہ انھوں نے غزل کے دامن کو وسیع کر دیا۔اچھی نظموں کے ساتھ بہترین غزلیں بھی کہیں ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ نظم کے مقابلے میں ان کو غزل میں وہ شہرت نصیب نہ ہویٔ جو سعدی ؔ،حافظؔ، جامیؔ، نظیریؔ،غالبؔ،عرفیؔ، اور امیر خسروؔ کو حاصل ہو گیٔ۔
علامہ اقبال لاہوری ایک وسیع المطالعہ شاعر اور فلسفی و بلند پایہ مفکر تھے۔ وہ دوسرے بڑے فقراء اور فلسفیوں کے افکار سے بھی اثر پزیر ہوئے تھے۔آپ بہت بڑے فنکار بھی تھے۔انھیں کسی محدود اور تنگ نظرئے میں قید کرنا ان کے ساتھ ناانصافی کرنے کے مترادف ہے۔آپ نہ صرف علوم مغرب سے بہرہ مند تھے بلکہ مشرقی علوم ، دینی علوم او رشعر و ادب پر بھی یکسان قدرت رکھتے تھے یا یوں کہیں کہ آپ کی نظرنہایت دقیق تھی۔
موصوف کی فارسی غزلیات کامطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی غزلیات میں فارسی زبان کے بلند پایہ شعراحافظؔشیرازی ،نظیریؔنیشا پوری اور سعدیؔ کا رنگ جھلکتا ہوا نظر آتا ہے۔یہاں تک کہ علامہ کی غزلوں میں تو حافظؔ و نظیریؔ کا اثر زبان اور انداز بیان پر بھی نظرآتا ہے۔ لیکن فکری اعتبار سے موصوف کی غزلیں ان سے مختلف ہیں۔یہ آپ ہی ہے کہ جس نے اپنے کمال ِ فن سے فلسفہ جیسے خشک موضوع کو غزل میں پُر نمی کے ساتھ ادا کیا ہے۔اس عمل میں وہ سلاست و سادگی کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے بلکہ شعر میں دلکشی کا عنصر غالب رہتا ہے۔ان کا یہ انداز اردو و فارسی غزلیات میں نمایاں ہیں ۔ فرماتے ہیں ؎
من بندۂ آزادم عشق است امام من عشق است امام من عقل است غلامِ من۔۔۔۔
اے عالمِ رنگ و بو این صحبتِ ما تا چند مرگ است دوامِ تو عشق است دوامِ من! ۱۳؎
موصوف کی شاعرانہ عظمت اس بات میں مضمر ہے کہ انھوں نے بہت سے شعرا و ادباء سے استفادہ کیا ہے۔جیسا کہ قبلاً اشارہ کیا جا چکا ہے فارسی کے کلاسک شعرا سعدیؔ، حافظؔ اور غالبؔ وغیرہ نے انھیںبہت متاثر کیا ہے۔اس کے با وجود کہ علامہ اقبال نے عظیم مفکرین اور شعرأ کے خیالات سے استفادہ کیا ۔ ان کی شاعری میں ان کا اپنا رنگ اور انداز ہی انھیں دیگر شعرا ٔ سے ممتاز کرتا ہے۔ موصوف نے خودی کا تصور دے کر اسلامی فلسفے کے میدان میں انقلاب برپا کر دیا ۔ایک جگہ خودی کا اظہار اپنے کلام میں یوں کرتے ہیں ؎
نہ میں اعجمی ، نہ ہندی، نہ عراقی و حجا زی کہ خودی سے میں نے سیکھی دو جہان سے بے نیازی ۱۴؎
موصوف نے کبھی فرشتوں سے ،کبھی اللہ سے، کبھی بندے اور کبھی مومن سے مخاطب ہوکر اپنے عارفانہ خیالات کو فلسفیانہ انداز میں ظاہر کیا ہے۔ ذیل میں ملا حظہ فرمائیں کہ کس طرح خداوند کریم اور بندے کے درمیان قادرالکلامی کے ساتھ مکالمے کو شاعری کا لبادہ پہنا یا ہے ؎
خدا:
جہان را ز یک آب و گِل آفریدم تو ایران و تاتار و زنگ آفریدی
من از خاک پولادِ ناب آفریدم تو شمشیر و تیر و تفنگ ا ٓفریدی
تبر آفریدی نہال چمن را
قفس ساختی طائرِ نغمہ زن را
بندہ:
تو شب آفریدی چراغ آفریدم سفال آفریدی ایاغ آفریدم
بیا بان و کہسار و راغ آفریدم خیابان و گلزار و باغ آفریدم
من آنم کہ سنگ آئینہ سازم
من آنم کہ از زہر نو سینہ سازم ۱۵؎
غرض عصر حاضر میں علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال کے فلسفیانہ خیالات اور ان کے اشعار و اقوال کو سمجھنا اور ان سے سبق حاصل کرنا وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے۔موصوف کے کلام کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کو تمثیل کے دائرے میں قید کرنا ٹھیک نہیں۔آپ کا کلام آفاقی نوعیت کا ہے اور اسے کسی حیثیت میں محدودنہیں کیا جا سکتا ہے، بلکہ اس سے فی الواقع انسانی زندگی میں سدھار اور نکھار لایا جا سکتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ علامہ اقبال کو اس کے صحیح تنا ظر میں سمجھیں اور ان کی تعلیمات کو اپنے لئے مشعل راہ بنائیں۔اس سلسلے میں تمام اہلِ علم و ادب پر بھاری زمہ داری ہے کہ وہ علامہ موصوف کے فلسفے اور خیالات کو منظر عام پر لائیں۔کیا خوب کہا ہے ؎
تیری علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کویٔ
نہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کویٔ
بالآخرعلامہ اقبال ۱۹۲۴ء میں سخت بیمار ہوئے۔حکیم نا بینا عبد الوہاب انصاری کی انتھک محنت کے با وجود آپ صحتیاب نہ ہو سکے اور بیسوی صدی عیسوی کا یہ درخشندہ ستارہ، قابل قدر مفکر،اعلیٰ پایہ کے عالم،فصیح و بلیغ مقرر، قابل تحسین ذاہد اور حب الوطن انسان نے۲۱،اپریل ۱۹۳۸ء میں دنیائے فانی کو خیر باد کہا۔اس با کمال شاعر کو بین مسجد بادشاہی و قلعہ لاہور میں سپرد خاک کیا گیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ موت سے آدھا گھنٹہ پہلے آپ نے یہ اشعار کہے تھے ؎
’’سرودِ رفتہ باز آید کہ ناید نسیمی از حجاز آید کہ ناید
سر آمد روز گارِ این فقیرے دگر دانای راز آید کہ ناید‘‘ ۱۶؎
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ علامہ اقبال کی موت قوم کے لئے اور امت مسلمہ کے لئے کویٔ سانحہ نہیں،کیوں کہ موت تو زندگی کے مر حلوں میں سے ایک مر حلہ ہے جس سے وہ گزر چکے ؎
اگر نہ ہو الجھن تجھے تو کھول کر کہدوں وجود حضرت آدم نہ روح ہے نہ بدن
تو ہی ہے شاعر مشرق ،تو ہی ہے شاعر اعظم خودی تجھ سے ہویٔ روشن،ہوا ہے عزم مستحکم
تیرے اشعار مانند گہر ہیں در صدف پنہاں ہمارے واسطے انمول مثل خضر ہیں ہر آں
اپنے آپ سے مخاطب ہو کر ساری امت مسلمہ کے ئے یہ پیغام دیا ہے ؎
دل کو مایوس نہ کر رحمت حق سے اقبال
مرغ افسردہ کو پھر اپنے غزل خواں کر دے
علامہ اقبال کی شاعرانہ خوبیوں سے نہ صرف ہند و پاک کے اہلِ علم و ادب متاثر ہے بلکہ ایرانی دانشورں اور شعرا نے آپ کی شاعری کے بارے میں توصیفی جملے کہیں ہیں۔ موصوف کی تمام شاعرانہ و فلسفیانہ خوبیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم کہ سکتے ہیں کہ علامہ اقبال بیسویں صدی عیسوی کے عظیم ترین شاعر و مفکر ہیں۔آپ کی خوبیوں کو دیکھ کر ایرانی شعرأ نے بیسویں صدی کو ’’قرن اقبال‘‘قرار دیا ہے جو بجا ہے۔ اس ضمن میں ثبوت کے طور پر چند اشعار پیش کئے جاتے ہیں ؎
قرنِ حاضر خاصئہ اقبال بود کز قیامش لزّت ایمان فزود
قرنِ حاضر خا صئہ اقبال گشت واحدی کز صد ہزاران بر گزشت ۱۸؎
کتابیات
۱۔’’ کلیات اقبال ‘‘اردو موصنف علامہ اقبال،طبع اوّل مارچ ۲۰۰۴ ء با ھتمام محمد ناصر خان ، ناشر فرید بکڈپو ،دہلی ص ۴۵۹
۲۔ ایضاً۔۔ ۔۔۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ص ۳۴۱
۳۔ ’’چکیدہ، تاریخ ادبیات ایران‘‘ حصہ شعر ،جلد دوم از ڈاکٹر منظر امام ، بار اول ۲۰۰۰ء ،طباعت بھارت آفسٹ پرنٹرس ،دہلی ص ۲۵۴
۴۔’’فارسی ادب کی مختصر ترین تاریخ ‘‘ از ڈاکٹر محمد ریاض۔ڈاکٹر صدیق شبلی ،اشاعت ۲۰۰۲ ء ،مطبع کاک آفسٹ پرنٹرس ، دہلی ص ۲۳۳
۵۔’’چکیدہ، تاریخ ادبیات ایران‘‘ حصہ شعر ،جلد دوم از ڈاکٹر منظر امام ، بار اول ۲۰۰۰ء ،طباعت بھارت آفسٹ پرنٹرس ،دہلی ص ۲۵۴
۶۔ ’’اسرار ِ و رموز‘‘ از اقبال ،طباعت اول مئی ۱۹۶۲ ء، ناشر کتب خانہ نزیریہ اردو بازار ، دہلی ص ۱۵۰
۷۔’’فارسی مثنوی کا ارتقاء ‘‘ مصنف ڈاکٹر عزیز عباس ، سال اشاعت ۲۰۰۷ ء، ناشر شہید پبلیکیشنز، آزاد مارکٹ ،دہلی ص ۸۸
۸۔ ’’پیامِ مشرق ‘‘ مصنف علامہ قبال ،طباعت اول مئی ۱۹۶۲ ء، ناشر کتب خانہ نزیریہ اردو بازار ، دہلی ص ۸۵۔۸۶
۹۔مجلہ دانش ، سال ۱۹۸۷ ء ناشر گروہ فارسی دانشگاہِ کشمیر ، حضرت بل، سرینگر ص ۱۱
۱۰۔ ’’پیامِ مشرق‘‘ مصنف علامہ قبال ،طباعت اول مئی ۱۹۶۲ ء، ناشر کتب خانہ نزیریہ اردو بازار ، دہلی ص ۱۲۵
۱۱۔’’ ارمغان حجاز‘‘ مصنف علامہ قبال ،طباعت اول مئی ۱۹۶۲ ء، ناشر کتب خانہ نزیریہ اردو بازار ، دہلی ص ۷۸
۱۲ْ۔ ’’روز نامہ ’’کشمیر اعظمیٰ ، ۱۲ ، مارچ ۲۰۱۲ ء مطبع سرینگر کشمیر
۱۳۔’’زبور ِ عجم‘‘ مصنف علامہ قبال ،طباعت اول مئی ۱۹۶۲ ء، ناشر کتب خانہ نزیریہ اردو بازار ،دہلی ص ۹۹۔۱۰۰
۱۴۔’’ضرب کلیم‘‘ مصنف علامہ قبال ،طباعت اول مئی ۱۹۶۲ ء، ناشر کتب خانہ نزیریہ اردو بازار ،دہلی ص ۶۳
۱۵۔ ’’پیامِ مشرق ‘‘ مصنف علامہ قبال ،طباعت اول مئی ۱۹۶۲ ء، ناشر کتب خانہ نزیریہ اردو بازار ، دہلی ص ۸۴۔۸۵
۱۶۔’’فارسی مثنوی کا ارتقاء‘‘ مصنف ڈاکٹر عزیز عباس ، سال اشاعت ۲۰۰۷ ء، ناشر شہید پبلیکیشنز، آزاد مارکٹ ،دہلی ص ۸۹
۱۷۔’’فارسی ادب کی مختصر ترین تاریخ‘‘ از ڈاکٹر محمد ریاض۔ڈاکٹر صدیق شبلی ،اشاعت ۲۰۰۲ ء ،مطبع کاک آفسٹ پرنٹرس ، دہلی ص ۲۳۴

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook