Home / خبریں / بیگ احساس کے افسانہ’’درد کے خیمے‘‘ کا تنقیدی جائزہ

بیگ احساس کے افسانہ’’درد کے خیمے‘‘ کا تنقیدی جائزہ

٭کہکشاں جبین
ریسرچ اسکالر، عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد۔
بیگ احساس ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈ یافتہ اردو کے نامور افسانہ نگار ہیں۔ اردو کے موجودہ افسانہ نگاروں میں وہ قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ بنیادی طور پر وہ افسانہ نگار ہیں۔ تاہم وہ ایک بلند پایہ محقق‘نقاد‘ادیب ‘صحافی اور استاد اردو بھی ہیں۔ جامعہ عثمانیہ اور یونیورسٹی آف حیدرآباد کے شعبے اردو کے صدر بھی رہے۔ بیگ احساس کا اصل نام محمد بیگ ہے لیکن بیگ احساس کے نام سے اردو دنیا میں مشہور ہیں۔۱۰۔ا گسٹ۱۹۴۸ء کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی ملازمت اور کچھ عرصہ صحافت سے وابستہ رہنے کے بعد یونیورسٹی آف حیدرآباد سے ’’ کرشن چندر شخصیت اور فن ‘‘ موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں اردو لیکچرر کے عہدے پر فائز ہوئے اور ترقی کرتے ہوئے پروفیسر اور صدر شعبہ اردو کے عہدے تک پہونچے۔ جامعہ عثمانیہ کے اساتذہ پروفیسر مغنی تبسم‘پروفیسر سیدہ جعفر‘پروفیسر یوسف سرمست‘پروفیسر اشرف رفیع‘غیاث متین‘ ڈاکٹر عقیل ہاشمی‘ڈاکٹرمجید بیدا اور ڈاکٹر افضل الدین اقبال وغیرہ کے ساتھ شعبہ اردو کی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ بعد میں یونیورسٹی آف حیدرآباد میں پروفیسر اور صدر شعبہ اردو رہے۔ اپنے تخلیقی سفر کے دوران ان کی کتابیں خوشہ گندم ( افسانوی مجموعہ۱۹۷۹) ‘ حنظل( افسانوی مجموعہ ۱۹۹۳) ‘ کرشن چندر شخصیت اور فن( تحقیق ۱۹۹۹) ‘ شور جہاں ( تنقیدی مضامین۲۰۰۵ء)‘ ہزار مشعل بکف ستارے(۲۰۰۵ء) درد کے خیمے( افسانوی مجموعہ ۲۰۰۹ء)مرزا غالب( تعلیم بالغان ۲۰۰۴ء) ‘ بوجھ کیوں بنوں( تعلیم بالغان۲۰۰۴ء) ‘ شاذ تمکنت ( مونو گراف ۲۰۱۰ء) دکنی فرہنگ (بہ اشتراک ، ڈاکٹر ایم۔کے۔کول ۲۰۱۲ ) اور دخمہ (افسانوی مجموعہ۲۰۱۵ ء) شائع ہوئیں۔ ان کے افسانوں کا انگریزی زبان میں ترجمہ بھی ہوا۔وہ کچھ عرصہ صحافت سے بھی وابستہ رہے رہبر فلم‘سیاست ‘منصف وغیرہ اردو اخبارات کے فلمی صفحوں کے لیے ہفتہ وار کالم لکھتے رہے۔ انہوں نے خاکہ نگاری میں بھی طبع آزمائی کی۔ حیدرآباد کی ادبی شخصیات پر انہوں نے خاکے لکھے۔ ان کا مقبول خاکہ’’مجتبیٰ حسین‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ ساہتیہ اکیڈیمی دہلی کے اردو مشاورتی بورڈ کے رکن رہے۔حال ہی میں ساہتیہ اکیڈیمی نے انہیں ان کے تازہ افسانوی مجموعہ’’دخمہ‘‘ کی اشاعت پر ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈ سے نامزد کیا، انہیں آندھرا پردیش اردو اکیڈیمی کی جانب سے بیسٹ ٹیچر ایوارڈ دیا گیا اور ان کی کتابوں پر پانچ ایوارڈ بھی ملے۔اردو اکیڈیمی تلنگانہ اسٹیٹ کی جانب سے انہیں سال ۲۰۱۶ ء کا باوقار مخدوم ایوارڈ دیا گیا ہے۔ اس طرح وہ ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈ کے بعد باوقار مخدوم ایوارڈ کے حامل حیدرآبادی افسانہ نگار بن گئے ہیں۔بیگ احساس کے افسانے مختلف کالجوں کے اردو نصاب کا حصہ بھی ہیں۔ گری راج کالج نظام آباد نے ان کے افسانہ’’درد کے خیمے‘‘ کو اپنے نصاب میں شامل کیا ہے۔
بیگ احساس پروفیسر مغنی تبسم کے انتقال کے بعد عالمی شہرت یافتہ رسالہ’’ سب رس‘‘ کے مدیر ہیں۔ اور ملک کی کئی ادبی و لسانی تنظیموں سے وابستہ ہیں۔ مختلف ادبی اجلاسوں اور سمیناروں میں شرکت کے لئے ملک و بیرون ملک کی جامعات اوراداروں کا دورہ کیا۔
بیگ احساس نے اپنے ادبی سفر کا آغاز افسانہ نگاری سے کیا اور گذشتہ تین دہائیوں میں انہوں نے جدیدڈکشن میں ایسی کہانیاں لکھیں کہ جدیداردو افسانہ کے موضوع پر گفتگو بیگ احساس کے حوالے کے بغیر ادھوری رہ جائے گی۔ ’’ حنظل‘‘ (افسانوں کا مجموعہ) ان کے فن کا روشن نمائندہ ہے۔ تدریسی صلاحیت میں یہ اپنی انفرادیت رکھتے ہیں۔ ایم اے ایم فل کے علاوہ پی ایچ ڈی کی سطح پر ان کے شاگردوں میں چند ایک نامور شاعر وادیب بھی ہیں۔ ان کے مقالہ ’’ کرشن چندر شخصیت اور فن ‘‘ کے حوالے سے بیگ احساس کے تحقیقی معیار کو دنیائے ادب نے تسلیم کیا ہے۔ جامعہ عثمانیہ کی فاصلاتی تعلیم کے نصاب کی ترتیب اور دیگر اداروں کی نصابی کتب کی ترتیب کے حوالے سے بیگ احساس کو ماہرین تعلیم کی صف میں شمار کیا جاتا ہے۔ فن افسانہ نگاری کے میدان میں اپنے آپ کو منوانے کے بعد بیگ احساس نے تنقید کے میدان میں قدم رکھتے ہی اپنی سنجیدہ متوازن ، متنی تنقیدکے پیمانوں سے معمور مدلل اور بصیرت افروز نکات کے حوالے سے ہندوستان کے شمال اور جنوب دونوں سمتوں میں اعتبار واحترام کے حامل ہوگئے۔
بیگ احساس نے ‘ اپنے ادبی سفر کے چالیس برسوں میں چارافسانوی مجموعوں کا گرانقدر سرمایہ دیا ہے جن میں ’’خوشئہ گندم ‘‘ ’’ حنظل‘‘ ’’ درد کے خیمے‘‘ اور’’ دخمہ ‘‘شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے ادبی مضامین کا مجموعہ ’’ شور جہاں ‘‘ بھی منظر عام پر آچکا ہے۔ انہوں نے تخلیقی اظہار کے لیے افسانہ کی صنف کا انتخاب کیا ہے۔ انہوں نے سماجی تنقید کے ذریعہ ہندوستانی مسلمانوں کو درپیش مسائل کا نہایت فنکارانہ اور تخلیقی پیرائے میں جائزہ لیا ہے۔ ان کی بعض تحریروں کا انگریزی کے علاوہ کنڑ زبانوں میں ترجمہ کیا جاچکا ہے۔ ان کی ایوارڈ یافتہ تصنیف ’’ دخمہ ‘‘دراصل سکندرآباد کے قدیم پارسی قبرستان کے قریب رہنے والوںکی زندگیوں کے گرد گھومتی ہے۔
بیگ احساس نے بہت کم افسانے لکھے ہیں ۔لیکن جتنے افسانے لکھے اس میں انہوں نے کہانی کو فنکاری سے پیش کیا۔ ان کے افسانے سماجی‘ادبی و فنی خصوصیات پر پورے اترتے ہیں۔ وہ حیدرآبادی تہذیب کے نمائندے ہیں انہوں نے اس دور میں زندگی گزاری جب کہ حیدرآباد کی ریاست کو زوال ہوا تھا اور ہندوستان آزاد ہونے کے بعد زندگی نے کئی تبدیلیاں دیکھیں۔ ان کا ایک افسانہ’’درد کے خیمے ‘‘ ہے۔ اس افسانے میں ہجرت کے کرب کو بیان کیا گیا ہے۔تقسیم ہند ہندوستانی مسلمانوں کے لیے بڑا المیہ تھا۔تقسیم سے متعلق جہاں حقیقی واقعات لوگوں کے سینہ بہ سینہ ہم تک پہونچے ہیںوہیں اردو کے فکشن نگاروں نے تقسیم سے متعلق واقعات اور انسانی زندگی کے المیے کو اپنے اپنے طور پر پیش کیا۔ حیدرآباد چونکہ نظام کی ایک مضبوط حکومت تھی اس لیے ہندوستان کی آزادی کے فوری بعد یہاں کے مسلمانوں نے ہجرت کے بارے میں نہیں سوچا لیکن ریاست حیدرآباد کے ہند یونین میں انضمام اور پولیس ایکشن کے بعد یہاں مسلمانوں کے ساتھ ہوئے ناروا برتائو کو دیکھتے ہوئے کچھ خاندانوں نے پاکستان ہجرت کی تھی۔ لیکن اس ہجرت کا بڑا المیہ یہ تھا کہ خاندان تقسیم ہوگئے تھے کچھ لوگ یہیں رہ گئے اس ارادے کے ساتھ کہ جئیں گے یہیں اور مریں گے یہیں کیوں کہ ان کے اسلاف نے اس ملک کی آزادی کے لیے قربانیاں دیں تھیں اور اسی ملک کی مٹی میں دفن ہو کر ملک سے اپنی محبت کا ثبوت دیا تھا کچھ لوگ اس لیے ہجرت کر گئے کہ انہیں یہ سراب دکھائی دیا کہ پڑوسی ملک میں ہوسکتا ہے ان کے لیے اچھا مستقبل ہو۔ افسانہ ’’درد کے خیمے ‘‘ میں حیدرآباد چھوڑ کر کراچی پاکستان ہجرت کرنے والے ایک خاندان کے المیے کو بیگ احساس نے فنکاری سے پیش کیا ہے۔
افسانے کی کہانی کچھ اس طرح ہے کہ حیدرآباد سے کراچی پاکستان ہجرت کرجانے والے خاندان کی خاتون اپنے والدین اور بھائی بہنوں کو یاد کرتی رہتی ہے لیکن دو ممالک کے حالات کے پیش نظر یہ لوگ ایک دوسرے سے مل نہیں سکتے۔ آخر کار خاتون کا انتقال ہوجاتا ہے۔ جب یہ خبر ہندوستان میں حیدرآباد میں مقیم اس خاتون کے بھائی کو دی جاتی ہے تو وہ اپنے بہنوائی اور ان کے بچوں سے ملاقات کے لئے ذریعے ہوائی جہاز کراچی روانہ ہوتا ہے۔ جب اس کی بہن نے ہجرت کی تھی تو وہ بہت چھوٹا تھا۔ اس کے والدین کے انتقال کے بعد اس کے دیگر بھائی بہنوں کی پرورش اور ان کی شادی بیاہ اسی کی نگرانی میں ہوئی تھی یہی سبب ہے کہ وہ پڑوسی ملک میں موجود اپنی بہن اور ان کے بچوں سے ملنے نہیں جا سکا تھا۔ ایرپورٹ پر اس کی بھانجی اور بہنوائی اس کا استقبال کرتے ہیں۔ بچے اپنے ماموں کو حیرت سے دیکھتے ہیں۔ اور بھانجی اور اس کے بہنوائی اسے سارے حالات سناتے ہیں۔ یہ لوگ قبرستان جاکر بہن کی قبر کی زیارت کرتے ہیں۔ اور آپس میں مل کر غم کا اظہار کرتے ہیں۔ بھائی دوران قیام حیدرآباد کے حالات اور حیدرآباد کی ترقی اور اپنے گھر کے حالات سناتا ہے۔ بہنوائی کہتے ہیں کہ کراچی میں انہیں ایک عرصہ گذارنے کے باوجود مہاجر ہی کہا جاتا ہے اور زندگی میں انہیں ترقی کے مواقع کم دستیاب ہیں۔ ہندوستان میں اچھی ترقی ہوئی جب کہ یہاں آپسی جھگڑے زیادہ ہیں۔ پندرہ دن گذرنے کے بعد بھائی وطن واپسی کے لئے نکلتا ہے۔ واپسی میں ایک مرتبہ پھر قبرستان جاکر بہن کی قبر کی زیارت کرتا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ بہن بھی اس کے ساتھ اپنے وطن واپس چلنے کے لئے بے چین ہے۔ جب وہ حیدرآباد آکر اپنے خیریت سے پہونچنے کی اطلاع دیتا ہے تو بہنوائی ایک عجیب اطلاع دیتے ہیں کہ واپسی میں وہ لوگ ایک مرتبہ پھر قبرستان گئے تھے لیکن یہ دیکھ کر ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ قبرستان میں ان کی بہن کی قبر کا کہیں پتہ نہ تھا۔ شائد ان کی قبر کی مٹی اپنے بھائی کے ساتھ اپنے وطن واپس چلی گئی ہو۔
افسانہ ’’درد کے خیمے‘‘ میں کہانی فنکاری سے بیان کی گئی ہے۔ یہ اس دور کا قصہ ہے جب کہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین خطوط بھی سنسر ہو کر آیا کرتے تھے اسمارٹ فون کا دور ابھی شروع نہیں ہوا تھا اور لوگ اپنے عزیزوں کے چہروں سے بھی واقف نہیں تھے۔ بھائی قصہ بیان کرتا ہے۔ تیس سال بعد اس کے پاکستان سفر کا حال کچھ یوں شروع ہوتا ہے۔
’’ جیسے ہی پلین نے لینڈ کیا میں نے بے ساختہ گھڑی پر نظر ڈالی۔ صرف دیڑھ گھنٹے کا سفر۔ دیڑھ گھنٹے کا یہ فاصلہ میں نے پورے تیس سال میں طے کیا۔ضروری اُمور کی تکمیل کے بعد سب نے منتظر چہرے تلاش کر لئے اور تیزی سے روانہ ہوگئے تھے۔ میں وقت کی جس منزل پر رُکا اس چہرے کو تلاش کر رہا تھا وقت اس سے کہیں آگے بڑھ گیا تھا۔کھچڑی داڑھی والے شخص کے ساتھ ایک خاتون بھی تھی۔ جس کی آنکھیں بے چین سی تھیں۔میرے وجود میں اشارے وصول ہونے لگے میں آگے بڑھا تو اس شخص نے میرا نام پوچھا اور میرا نام پوچھ کر مجھ سے لپٹ گیا۔ اس کے پورے بدن میں لرزش تھی۔ میرے اندر درد کی لہریں اُٹھ رہی تھیں۔ اس درد نے مجھے یقین دلایا کہ یہی میرے بہنوئی اور بھانجی ہیں۔’’تصویروں کے سہارے پہچاننا کتنا مشکل ہوجاتا ہے تم نے آنے میں بہت دیر کردی‘‘۔بہنوائی نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا‘‘۔( بیگ احساس ’’ افسانہ درد کے خیمے‘‘مشمولہ ڈگری اردو نصاب گری راج کالج نظام آباد)
اس اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح جب کافی عرصے بعد اپنے ہی عزیزملتے ہیں تو حیرت و استعجاب کا ماحول رہتا ہے۔
بھائی پاکستان پہنچ کر تیس سال پہلے وہ منظر یاد کرتا ہے جب وہ چھوٹا تھا اور سب لوگ مل کر اپنی بہن اور ان کے خاندان کو اسٹیشن پر چھوڑ آئے تھے بھائی سوچتا ہے’’ اس چہرے پر بہتے آنسوئوں نے میرے وجود کے اندر لگے Rewindکے بٹن کو دبادیا۔کئی منظر تیزی سے پیچھے کی طرف دوڑنے لگے۔ اب میں چھوٹا سا سات برس کا لڑکا ہوں۔ گھر کا عجیب سا ماحول ہے۔ امی کی آنکھیں سرخ رہتی ہیں۔ ابا بھی چپ چپ رہتے ہیں۔ اس فضا نے ہمیں سہما دیا تھا۔ ۔ بہن کا سامان باندھ دیا گیا۔ ابا اور ماموں بھی تیار ہیں۔ بہن امی سے الگ ہی نہیں ہورہی تھیں۔ابا بار بار کہہ رہے تھے’’ اب چلو بیٹا ٹرین کا وقت ہو رہا ہے‘‘۔ لہجے میں غصہ نہیں بے بسی تھی۔ میری ننھی سی بھانجی میری کسی بہن کی گود میں دبکی بیٹھی ہے۔ بہنوائی کا چہرہ سخت پتھر جیسا ہے۔ ماموں نے بڑی مشکل سے بہن کو الگ کیا۔ انہیں رکشہ پر سوار کردیا گیا۔ اور دوسری بہنیں دروازے تک آکر رُک گئیں۔ ایک کہرام اُٹھا جیسے گھر سے کوئی میت جارہی ہو۔ ہم اپنی بہن کو اسی روز رو لئے۔ ابا اور ماموں دوسرے رکشے میں بیٹھ گئے۔ ماموں نے مجھے بھی گود میں بٹھالیا۔ ٹرین آگئی بہن ٹرین میں سوار ہونے کے لئے تیار نہیں ہورہی تھیں۔ماموں نے بہن کو ٹرین میں سوار کروایا۔’’ تم لوگ پہونچو میں بھی تمہارے پیچھے آرہا ہوں‘‘۔ ماموں بھی بے روزگار تھے۔’’ ہاں ہم سب وہاں آجائیں گے بیٹا‘‘ ابا نے بھرائی ہوئی آواز میںْ کہا۔ٹرین نے سیٹی دی تو بہن نے اچانک مجھے بھینچ لیا۔ اور بے تحاشہ پیار کرنے لگیں۔ میرے اندر کچھ پگھلنے لگا۔ اور میں چیخ چیخ کر رونے لگا۔ ٹرین چلنے لگی تو ماموں نے مجھے ان کی گود سے لے لیا۔ وہ چہرہ‘چہرہ میں اسے بھول ہی نہیں سکا۔پورے دھندلے منظر میں وہ ایک ہی چہرہ فوکس میں تھا۔ شارپ!! پھر سب کچھ آئوٹ آف فوکس ہوگیا۔آنسوئوں سے تر چہرے پر منظر رُکا۔ اس چہرے پر شدید بے بسی تھی۔ ٹرین کے ڈبے سے جھانکتا ہوا وہ چہرہ میری بہن کا تھا۔ ٹرین پٹریوں پر رینگتی چلی گئی۔پھر ایک نقطہ بن کر فضاء میں کھو گئی۔ میں نے اپنی بہن کو پھر نہیں دیکھا۔ ‘‘ ( بیگ احساس ’’ افسانہ درد کے خیمے‘‘مشمولہ ڈگری اردو نصاب گری راج کالج نظام آباد)
بھائی اپنے بہنوائی کے ساتھ روز رات کو بیتے دنوں کی باتیں دہرا کر اپنا غم ہلکا کرتا رہتا تھا۔ جس طرح ہجرت کرکے پاکستان جانے والے آج بھی مہاجر کہلاتے ہیں اور خاص طور سے حیدرآباد چھوڑ کر جانے والوں کو حیدرآباد کی یاد ستاتی ہے اسی طرح اس افسانے میں بیگ احساس نے ریاست حیدرآباد کے شاندار ماضی کو مختلف اشاروں میں بیان کیا ہے۔ اور اس بیان میں افسانہ نگار خود بھی فخریہ طور پر شامل ہوجاتے ہیں ۔ بیگ احساس لکھتے ہیں:
’’دن بھر ہم شہر کے خوبصورت مقامات دیکھتے۔ لوگوں سے ملتے۔ بچوں کو اپنے اس شہر پر بڑا فخر تھا۔ سمندر کے کنارے بسا یہ شہر تھا بھی خوبصورت۔ رات ہوتے ہی بہنوائی میرا ہاتھ پکڑ کر ماضی کے اس شہر میں لے چلتے ۔ جو ایک ایسی ریاست کا دارالخلافہ تھا۔ جس کر رقبہ اٹلی کے برابر تھا۔ جس کی آب و ہوا بحیرہ روم جیسی تھی۔ پہاڑیوں سے گھرا باغوں اور جھیلوں کا شہر جس کی بنیاد محب کی یادگار تھی۔ جس کی ہوائوں میں مستی تھی۔اتنی مستی کہ آدمی پر نشہ طاری رہتا۔ مخصوص بولی‘مخصوص تہذیب‘ان کا اپنا بادشاہ تھا۔ جس کو اعلیٰ حضـرت‘حضور‘فاتح دوراں ‘نوشیرواں زماں ‘امیرالمومنین وغیرہ القاب سے بلاتے۔ اس پر جان چھڑکتے۔ ان کی اپنی جامعہ‘اپنی ریل‘اپنا سکہ‘اپنا ٹپہ‘اپنی فیکٹریاں ‘لوہے ‘کوئلے اور سونے کی کانیں تھیں۔سمنٹ کی پختہ سڑکیں اور خوبصورت عمارتیں تھیں۔دور دور سے تاجر یہاں آکر آباد ہوگئے تھے۔ اہل علم کی قدر افزائی ہوتی تھی۔ ملازمتوں کے حصول کے لئے لوگ آتے تو یہیں کے ہو کر رہ جاتے ۔ اس شہر کا سینہ بے حد فراخ تھا۔ اس شہر سے نکل کر میں نے اپنے بہنوائی سے پوچھا کہ’’ پھر وہ شہر کیسے گم ہوگیا‘‘ اتنا وقت گذر جانے کے بعد اب سب کچھ صاف صاف نظر آرہا ہے۔ وقت کو پہچاننے میں غلطی ہوئی تھی۔ اس رہنما کے سر میں ایک ہی سودا تھا کہ اس مملکت کو آزاد رہنا ہے۔ پھر تو انتہا پسند انقلابی لیڈر کی آواز بادشاہ کی آواز سے اونچی ہوگئی۔ لوگ اس کے اشاروں پر ناچنے لگے۔ سیاست کی جگہ جذبات نے لے لی۔ حکومت کی جگہ جوشیلی تقریریں آگئیں۔ سیاسی لڑائی کو مذہبی رنگ دیا گیا۔ نیم فوجی دستے بنے۔ نوجوانوں کو خدا‘مذہب اور قرآن کے نام پر قربانی کے لئے تیار کیا گیا۔ ریڈیو سے حب الوطنی کے گیت بجائے جانے لگے۔ جب وقت آیا تو نیم فوجی دستے لڑنے نکلے۔شاہ کے نام کے نعرے بلند ہوئے۔ جیالے نوجوان ٹینکروں کے سامنے لیٹ گئے۔ بادشاہ کا فوجی کمانڈر اپنی فوج کے ساتھ تماشہ دیکھتا رہا۔ دیکھتے ہی دیکھتے تیس ہزار لاشوں کو عبور کرکے وہ لوگ آگئے۔ ایک شرم ناک شکست !سب ختم ہوگیا۔ بلند بانگ دعوئوں کے رد عمل کے خوف سے ماں باپ نے اپنی بیٹیوں کو کنویں میں چھلانگ لگانے اور زہر کھانے پر مجبور کردیا۔ فوجی کمانڈر نے آگے بڑھ کر فاتحین کا استقبال کیا۔ قربانیاں رائیگاں گئیں۔ بادشا ہ وقت نے انہیں غدار قرار دیا۔ آزاد مملکت کا خواب چکنا چور ہوگیا۔ خوف و ہراس کے اس ماحول میں ترکی ٹوپیاں چھپادی گئیں۔ بعض افراد نے گھبرا کر گاندھی کیپ اوڑھ لی۔ جسے ایک مضبوط قلعہ سمجھا جا رہا تھا۔ وہ ہوا کے ایک ہی جھونکے میں زمین بوس ہوگیا۔ پرندے گرے ہوئے درختوں پر بسیرا نہیں کرتے وہ سب پھڑ پھڑا کر ایک سمت بھاگے۔ اس بھاگ دوڑ کے بعد پتہ چلا نہ اینٹوں کی بھٹی ہے نہ ریت ہے نہ سمنٹ کے بورے نہ ٹرکس ہیں اور نہ مزدور نہ چٹیل میدان تھا۔ جہاں بیروزگاری کا بھوت منہ کھولے کھڑا تھا۔ دوبارہ ٹھیکے داری کا سوال ہی نہ تھا۔ تینوں سمتوں میں اندھیرا ہی تھا۔ ہمیں بھی اسی سمت ڈھکیل دیا گیا۔ میں سوچتا ہوں مجھے تھوڑا وقت اور مل جاتا تو یہاں کبھی نہ آتا۔ دیکھو تم تو اپنی زمین سے جڑے ہوئے ہونا۔ ہجرت کا کرب تو نہیں سہا۔ ہجرت وہی اچھی لگتی ہے جب فاتح دبے پائوں اپنی زمینوں پر واپس آجائیں۔ ‘‘ میں چپ رہا۔ ہم نے تو اپنے شہروں میں ہجرت کا کرب سہہ لیا۔ وہ تہذیب سمٹ کر چند محلوں میں رہ گئی۔ فصیل بند شہر کے دروازوں اور دیواروں کو توڑ کر شہر دور دور تک پھیل گیا۔ سرخ مٹی کو سیاہ مٹی سے جدا کردیا گیا۔ غذائیں بدل گئیں۔لباس بد ل گئے۔ سڑکوں اور گلیوں کے اجنبی نام رکھ دئے گئے۔ وہ جھیل جو کسی بزرگ کے نام سے موسوم ہے وہاں ایک بت نصب کردیا گیا۔وہاں مورتیاں ڈبوئی جاتی ہیں۔وہ پہاڑ جہاں نوبت بجائی جاتی تھی وہاں مندر کی گھنٹیاں بجتی ہیں ۔ لوگوں کا ایک ریلا یہاں آکر بس گیا۔ انہوں نے اپنی اپنی بستیاں اس شان سے بسا لیں کہ ہم سمٹ کر گندہ بستیوں میں آگئے ہیں۔شہر کا بدنما حصہ جسے کوئی نہیں پوچھتا۔نئی نئی عمارتیں زمین کے سینے میں پیوست کی جارہی ہیں۔ اب شہر کی انفرادیت باقی نہیں رہی۔دوسرے شہروں جیسا ہوگیا۔ سڑکیں دیوار اور صحنوں میں اتر آئی ہیں۔ شہرخوبصورت ہوگیا ہے۔ لیکن عام شہروں جیسا ہوگیا ہے سمنٹ کا جنگل۔ شاہ کا نام بعض عمارتوں نے باقی رکھا ہے۔ اور بس۔اب فسادات کم ہوتے ہیں۔ لیکن ہمیں خوف و ہراس اوراحساس کم تری میں مبتلا کردیاگیا ہے۔ ساری قوم کی پیشانی پر دہشت گردی کا نشان داغ دیا گیا ہے۔تمہاری زمین کا سایہ ہمارے سروں پر منڈلاتا رہتا ہے۔ لیکن میں نے کچھ نہیں کہا۔’’ ہاں ہمیں تحریر و تقریر کی آزادی ہے۔لائوڈ اسپیکر پر اذانیں بھی گونجتی ہیں۔‘‘ میں نے کہا۔’’ یہاں گولیاں بہت چلتی ہیں۔جن تیس ہزار لاشوں کو ہم نے ایک بڑا حادثہ سمجھا تھا وہ کچھ بھی نہیں ہے۔ یہاں تو لاشوں کا ایک لا متناہی سلسلہ ہے۔نوجوان آسائیشوں کی تلاش میں دور دور تک چلے گئے ہیں۔سینکڑوں میل دور بیٹھے وہ اپنے وطن میں موجود ماں باپ کی سلامتی کی دعائیں مانگتے ہیں۔عورتیں کچھ تو اپنے شوہروں کے پاس چلی گئیں اورجو یہاں رہ گئیں وہ رات رات بھر ٹی وی کے سامنے بیٹھتی ہیں اور صبح دیر سے جاگتی ہیں۔ مرغن غذائیں کھا کھا کر موٹی ہوتی جارہی ہیں۔پھر جم(Jim)چلی جاتی ہیں۔پتہ نہیں یہ سب کیا ہورہا ہے‘‘۔ بہنوائی نے کہا۔ میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔( بیگ احساس ’’ افسانہ درد کے خیمے‘‘مشمولہ ڈگری اردو نصاب گری راج کالج نظام آباد)
افسانے کے اس طویل اقتباس میں بیگ احساس نے ریاست حیدرآباد کی ساری تاریخ اور تہذیب رقم کردی۔ اپنی ڈاک اپنی ریل ‘ہائی جہاز اور ریڈیو یہ سب نظام حکومت کی ترقی تھی۔ پھر آپریشن پولو کے نام پر جس طرح حکومت ہند نے حکومت حیدرآباد پر حملہ کردیا اور اس مملکت خداداد کے تحفظ کے لیے کس طرح رضاکاروں نے نظام حیدرآباد کے لیے قربانیاں دیں یہ سب اس اقتباس میں اشاروں میں بیان کیا گیا۔ ریاست حیدرآباد کے زوال اور ملک میں انضمام کے بعد کس طرح یہاں کے مسلمان معاشی طور پر فکر مند تھے ان سب باتوں کو اشاروں اشاروں میں بیان کیا گیا۔
اس افسانے کی خاص بات اس کا دلچسپ انجام ہے کہ بھائی اپنی بہن کے انتقال کے بعد کراچی جاتا ہے جب واپسی پر وہ ایک مرتبہ پھر بہن کی قبر پر فاتحہ پڑھنے جاتا ہے اور پلین میں بیٹھ کر واپس حیدرآباد آجاتا ہے تو افسانہ کیسے دلچسپ موڑ لیتا ہے ملاحظہ کریں:
’’ ویزا ختم ہوگیا۔ میں نے توسیع نہیں لی۔ میرا وجود بہنوائی کو حکومت کی آنکھوں میں مشتبہ بنا سکتا ہے۔ میں نے یہی محسوس کیا۔ فضا صاف نہیں تھی۔جانے کا وقت آگیا۔ اس بار بچے بھی لپٹ کر روئے۔بہنوائی نے وعدہ کیا کہ مرنے سے قبل وہ ایک بار سارے بچوں کے ساتھ آئیں گے۔ تمام رشتہ داروں سے ملوائیں گے۔ایر پورٹ جاتے ہوئے قبرستان پر پھرکار رکی ۔ہم بہن کی قبر کے پاس پہونچے۔بہنوائی نے کہا۔’’ دیکھو تمہارا بھائی جارہا ہے۔‘‘ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ میں بھر قبر سے لپٹ گیا۔پلین اپنی رفتار سے چل رہا تھا۔ لیکن میں اب بھی وہیں تھا۔ میرے وجود میں قبر کی خوش بو بس گئی تھی۔ پتہ نہیں کب ملاقات ہو۔خوبصورت شہر کی مخصوص بساند نے احساس دلایا کہ میں اپنی زمین پر واپس آگیا ہوں۔ ایر پورٹ سے ہوٹل آیا۔بہنوائی کو فون لگایا کہ بخیر وہ خوبی پہونچنے کی اطلاع دوں۔ بہنوائی نے فون اٹھایا۔ میں نے پہونچنے کی اطلاع دی۔ انہوں نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا ’’ ایر پورٹ سے واپسی پر ہم پھر قبرستان گئے۔ دل بھر آیاتھا۔ تمہاری بہن کی قبر سے لپٹ کر رونا چاہتا تھا۔ لیکن سنو!تم سن رہے ہونا؟تمہاری بہن کی قبر کا کہیں پتہ نہیں چلا۔ ہم نے قبرستان کا چپہ چپہ چھان مارا۔ تمہاری بہن کی قبر کہیں نہیں!‘‘( بیگ احساس ’’ افسانہ درد کے خیمے‘‘مشمولہ ڈگری اردو نصاب گری راج کالج نظام آباد)
بھائی کے جانے کے بعد کراچی میں قبر کے نشان مٹ جانا اور یہ سوچنا کہ قبر کی مٹی بھی بھائی کے ساتھ اپنے وطن حیدرآباد چلی گئی یہ فسانوی انداز بیان ہے اور شدید جذبات کا اظہار ہے۔اردو افسانوںمیں اس طرح کی ٹکنیک بھی استعمال کی گئی کہ خیالی طور پر انسان کہیں یہاں موجود تو کہیں اور جگہ موجود۔ وطن کی محبت میں کئی دہائیوں تک انتظار کرنے اور حالات کے سبب وطن کا سفر نہ کرنے والی بہن قبر میں جانے کے بعد بھی اپنی مٹی کو نہیں بھولتی اور جب بھائی قبر پر آتا ہے تو قبر کی مٹی اس کے ساتھ اپنے وطن چلی جاتی ہے۔ بیگ احساس نے اس افسانے کے ساتھ یہ تاثر دیا ہے کہ انسان کو کیسے اپنے وطن کی مٹی اور اس کی ہر بات سے پیار ہوتا ہے کہ جیتے جی وطن تک سفر نہ کر پائے تو مرنے کے بعد خیالی طور پر ہی سہی ہم کہیں جاسکتے ہیں۔ اس طرح افسانہ’’درد کے خیمے‘‘ اپنے انجام کو پہونچتا ہے۔ اس افسانے میں بیگ احساس نے اس کرب کو بھی واضح کیا کہ جو نسل یہاں سے ہجرت کر گئی تھی اسے تو اپنا وطن یاد آتا ہے لیکن وہاں جو نئی نسل تیار ہوئی ہے اسے اپنا وطن ہی عزیز ہے اور وہاں کی نشانیاں ہی عزیز ہیں۔ حیدرآبادی بول چال اور پڑوسی ملک کی تہذیب کو بیگ احساس نے فنکاری سے پیش کیا ہے۔ مجموعی طور پر افسانہ ’’درد کے خیمے‘‘ ایک جذباتی افسانہ ہے جو تقسیم ہند کے بعد ہجرت کے کرب کو فنکاری سے پیش کیا ہے۔افسانے میں کرداروں کا انتخاب ان کی بول چال اور افسانے کا سارا ماحول فطری لگتا ہے اور افسانہ اپنے وقت کی ایک کڑوی حقیقت ہے اور یہی ایک سچے فنکار کی نشانی ہے کہ وہ اپنے عہد سے کوئی واقعے کا انتخاب کرتا ہے اور اسے افسانے میں ڈھالتا ہے۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ بیگ احساس نے بہت کم افسانے لکھے ہیں لیکن جتنے بھی افسانے لکھے ان میں اپنے فن کواچھی طرح نکھارا ہے یہی ایک اچھے افسانہ نگار کی پہچان ہے۔

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook