Home / خبریں / تحریک آزادی اور مخدوم

تحریک آزادی اور مخدوم


٭ڈاکٹر سلیم محی الدین

پروفیسر،صدر شعبہ اردو
شری شیواجی کالج، پربھنی۔

سیماب وشی ، تشنہ لبی، با خبری ہے
اس دشت میں گررخت سفر ہے تو یہی ہے

یہ شعر بلا شبہ مخدوم کی شخصیت اور فن دونوں کی تفسیر ہے۔مخدوم اپنے فن اپنے نظریے اور اپنی ذات کے تئیں ایک مخلص اور کھرے انسان تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت ، نظریے اور فن میں کہیں کوئی تضاد نظر نہیں آتا۔جذبے کی جو شدت ان کے اشعار میں پائی جاتی ہے وہی ان کی عملی اور نظریاتی زندگی میں نظر آتا ہے ؎

حیات لے کے چلو کائنات لے کے چلو
چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو
تحریک آزادی اور کمیونسٹ تحریک کو اس شعر کی شکل میں ایک مکمل شعری منشور عطا کرنے والا شاعر محض نعرہ باز نہیں تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ تحریک آزادی میں مخدوم کی شرکت کمیونسٹ تحریک کے حوالے اور وساطت سے تھی ۔حیدرآباد کی آصف شاہی کے مقابل جہاں لب کشائی امرمحال تھی، مخدوم نے اپنے قلم کو تلوار بنایا اور ضرورت پڑنے پر تلوار اٹھائی تھی۔
مخدوم کے خاندانی پس منظر پر نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان کا تعلق ایک خالص مذہبی اور علمی ھرانے سے تھا ۔ایک ایسا گھرانہ جس کی رسائی علوم جدیدہ اور حالات حاضرہ تک تھی۔مخدوم کے بچپن میں ان کے چچا محمد بشیر الدین کھانے کے دوران خاندان کے بچوں کو حالات حاضرہ اور اہم سیاسی خبروں سے واقف کرواتے تھے۔
انقلاب روس ہو یا تحریک خلافت یا تحریک آزادی سے متعلق کانگریسی اقدامات ساری سیاسی سرگرمیاں کی تفصیل گویا دسترخوان پر کھانے کے ہمراہ پروس دی جاتی تھیں۔ گیارہ بارہ برس کی عمر کے معصوم مخدوم میں ان سیاسی سرگرمیوں سے دلچسپی پیدا ہونا ایک فطری امر تھا ۔ ایسے ہی ایک موقعے پر خلافت تحریک کے لیڈران مولانا محمد علی و شوکت علی مہاتما گاندھی کے ہمراہ حیدرآباد تشریف لائے تو مخدوم اپنے چچا کے ساتھ چلنے پر بضد ہوگئے۔چچا انھیں ساتھ تو نہیں لے گئے لیکن واپسی میں مخدوم کے لئے گاندھی ٹوپی ضروری لائے بقول مخدوم
’’ اسی ٹوپی کو میری سیاسی زندگی کا آغازسمجھئے۔‘‘ اپنی اس ذہنی تبدیلی کے متعلق مخدوم کہتے ہیں ۔
بی اماں کے قصّے سنتا تھا ۔گھر می چرخہ کا تا جاتا تھا ۔ چچا کھادی کی بڑی تعریف فرماتے ‘ خودبھی پہنتے اور مجھے بھی پہناتے ‘ لیکن مجھے وہ کلف سے اکڑی ہوئی کھادی مطلق پسند نہ تھی ۔ خلافت تحریک کے زمانے میں میری عمر گیارہ بارہ سال کی تھی۔میرے چچا خلافت تحریک کے سرگرم موئید تھے۔ وہ مجھے سمجھایا کرتے تھے کہ دنیا میں ایک ملک روس ہے جہاں بادشاہ کا ہٹا کر غریبوں نے حکومت قائم کرلی ہے۔ اب وہاں امیر غریب سب ایک دسترخوان پر ساتھ کھانا کھاتے ہیں اور پھر نیاز (فتحپوری) کی تحریروں نے مجھے متاثر کیا ۔مارکسٹ ادب سے میں ۱۹۳۴ء میں واقف ہوا اور میں کمیونسٹ پارٹی کا ممبر ہوا۔‘‘ ۱؎
۱۹۳۳ء اور اس کے آگے کا عرصہ عالمی سرمایہ داری کے بحران ، سامراج مخالف جدوجہد کے پنپنے ‘ کمیونسٹ تحریک کے جڑ پکڑنے ‘ آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے قیام اور تیز رفتار برقی ‘ آل انڈیا ٹریڈ یونین کے قیام ‘ نوجوانوں ‘ کسانوں اور محنت کشوں میں اپنے حقوق کے تئیں بیداری اور مخالف زمیندار جدوجہد کے عروج کا عرصہ ہے۔ یہی مخدوم کی فکر و شعور کی انقلابی تبدیلی کا عرصہ بھی ہے۔ایک حساس فنکار ہونے کے ناتے مخدوم کا اس ماحول سے متاثر ہونا لازمی تھا۔مخدوم نہ صرف یہ کہ متاثر ہوئے بلکہ عملی طور پر اس جدوجہد میں شامل ہوگئے ۔ ان کی رہنمائی میں ۱۹۳۹ء میں حیدرآباد میں ’’ کامریڈ اسوسی ایشن ‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔آزادی، جمہوریت اور سوشلزم کا مریڈ اسوسی ایشن کے بنیادی مقاصد احسن علی مرزا اور غلام حیدرشامل تھے۔ اس قافلے میں کچھ دیر سے شامل ہونے والوں میں راج بہادر گوڑ، اونکار، پرشاد، سری نواس لاہوٹی، جواد رضوی، مرزا احمد حسین وغیرہ بھی تھے۔یہی وہ وقت ہے جب بدلتے ہوئے عالمی و ملکی تناظرکے پیش نظر مخدوم میں یہ احتجاجی فکر اور بغاوت کے شعلے کے روپ رنگ اور نقوش ظاہر ہونے لگے تھے۔بقول راج بہادرگوڑ:
’’ ہندوستانی قوم کی محرومیوں نے مخدوم کو درد و کرب دیا۔ایک نئی دنیا کے جنوں پرور تصور نے ان کو آشفتہ سری دی۔پھر وہ اس ممکن الحصول تابناک مستقبل کی طرف حیات لے کے کائنات لے کے ‘ سارے زمانے کو ساتھ لے چل پڑے ۔‘‘ ۲؎
بالآخر بغاوت بغاوت کے شعلے کی پہلی جھلک اس وقت دیکھئے کو ملتی ہے جب دوسری جنگ عظیم کا آغاز ہوتا ہے۔حیدرآباد کی حکمراں نظام شاہی حکومت اس جنگ کی حمایت کرتی ہے۔ جس پر مخدوم اور ان کاکامریڈ اسو سی ایشن عوامی سطح پراپنا سخت احتجاج ظاہر کرتی ہے۔اس جرم کی پاداش میں مخدوم کو ڈھائی سو روپیئے جرمانہ اور تین ماہ کی قید کی سزا سنائی جاتی ہے۔
جنگ عظیم کے نتیجے میں پورے ملک میں شدید غذائی ، بحران پیدا ہوگیا اور حیدرآباد بھی اس بحران کی لپیٹ میں آگیا۔ کامریڈ اسوسی ایشن نے اس صورتحال کے مطالعے اور حل تجویز کرنے کی خاطر ایک جائزہ کمیٹی تشکیل دی جس
میں راج بہادر گوڑ‘ غلام حیدراحسن علی مرزا حیدر حسین اور مخدوم محی الدین شامل تھے۔اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اعلان کیا کہ ’’ قومی اتحاد برائے قومی حکومت و قومی مدافعت ہی غذائی بحران کا حل ہے۔ ‘‘ کمیٹی نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ ’’ عوامی نمائندوں پر مشتمل ایک قانون ساز اسمبلی فوری تشکیل کی جائے تاکہ غیر ضروری سیاسی مداخلت ختم ہوسکے اور تغذیہ کا تحفظ ہوسکے۔ ‘‘ یہ اپنے آپ میں انتہائی جراٗت مندانہ اقدام تھا اور اس رپورٹ کی عوامی تشہیر تو گویا جان ہتھیلی پہ اٹھانے کے مترادف تھی۔
آزادی اور جمہوریت کے حصول کی خاطر نظام حکومت کے خلاف ایک اور مورچہ اسٹوڈنٹس یونین کا قیام تھا۔ ۴۰۔۱۹۳۹ ء کے کے دوران مخدوم کی سرکردگی میں اسٹوڈنٹس فیڈریشن (AISF)سے کیا گیا۔یہی یونین بعد ازاں آل حیدر آباد اسٹوڈنٹس یونین کے نام سے مشہور ہوئی۔ مخدوم کے چند قریبی ساتھیوں اونکار پرشاد،جو اد رضوی، عاقل علی خان، عابد علی خان ، شہاب الدین وغیرہ نے اپنے آپ کو اس تنظیم کے لئے وقف کردیا۔
۱۹۳۹،مخدوم کی زندگی کا ایک اہم موڑ ہے۔ اسی سال انھیں سٹی کالج میں شعبہ اُردو میں ملازمت ملی تھی۔ زندگی میں پہلی بار ٹھہراؤ اور معاشی استحکام نصیب ہوا تھا ۔ پیشہ تدریس میں انھیں لطف بھی آنے لگاتھا اور وہ ایک مقبول استاد بھی ثابت ہوئے تھے۔ مخدوم کے ایک شاگرد امان ارشد کے مطابق :
’’مخدوم اپنے طالب علموں کے حق میں روایتی استاد نہ تھے بلکہ دوست تھے۔وہ پڑھاتے کم تھے اور زیادہ تر ادھر ادھر کی باتیں کرتے جو عام معلومات سے بھر پور ہوتی تھیں۔ بیشتر اشتراکی نظریات کا پرچار کرتے اور طلبہ میں شاہی کے خلاف بغاوت پیدا کرنا ان کا مطمحِ نظر ہوتا۔مخدوم کی کلاس قہقہوں سے زعفران زار ہواکرتی تھی جس سے دوسری جماعتوں کی تعلیم میں خلل پڑتا تھا‘ اس خیال سے مخدوم کالس کے دروازے بند کردیا کرتے تھے ۔کلاس میں لطیفے شاعری ، لچکر سب ہی کچھ ہوتا تھا لیکن فضا کی بے تکلفی میں سنجیدگی کم ہی بار پاتی تھی۔ طلبہ کے اصرارپر جسے ضد کہہ لیجئے مخدوم اپنا کلام بھی کلاس روم میں سنایا کرتے تھے ۔‘‘ ۳؎
مصلحت کوشی مخدوم کے خمیر کا حصّہ نہ تھی۔چونکہ ملازمت سرمایہ دارانہ نظام کی غلامی ہی کا دوسرانام تھا لہذا دوہی سال بعد یعنی ۱۹۴۱ء میں مخدوم نے یہ طوق اپنی گردن سے اتار پھینکا۔اسی دوران وہ ۱۹۴۰ء ہی میں کمیونسٹ پارٹی میں شریک ہوئے اور سیکریڑی منتخب ہوگئے تھے اور راج بہادر گوڑ ان کے جوائنٹ سیکریڑی۔ملازمت سے استعفیٰ کے ساتھ ہی مخدوم پارٹی سے ہمہ وقتی کارکن کے طور پر جڑ گئے اور اپنے آپ کو پارٹی کی سرگرمیوں کے لئے وقف کردیا۔
تیرے دیوانے تری چشم و نظر سے پہلے
دار سے گزرے تری راہ سے گزرے پہلے
(۲)
انہی دنوں ٹریڈ یونین تحریک زور پکڑنے لگی تھی۔ ۱۹۴۱ء میں ریلولے ایمپلائزیونین نے اپنے مطالبات کی یکسوئی کی خاطر ہڑتال کردی۔ ریلوے ایمپلائزیونین کے صدر فتح اﷲ خان اور دیگر لیڈروں کو حکومت نے گرفتار کرلیا۔ قریب تھا کہ ہڑتال ٹوٹ جاتی، لیکن پارٹی نے ہڑتال کی قیادت کی ذمے داری مخدوم کو سونپی۔مخدوم نے راج بہاد ر گوڑ اور اپنے آلوین میٹل ورکس کی ہڑتالوں کو بھی مخدوم اور راج نے کامیابی سے ہمکنار کیا۔ یہیں سے مخدوم ایک ٹریڈ یونین لیڈر کے طور پر ابھرے۔کارخانوں حتیٰ کہ سرکاری محکموں میں بھی یونینوں کا قیام عمل میں آیا۔لگے ہاتھوں مخدوم نے اساتذہ کی ایک یونین بھی قائم کردی۔اب مخدوم کا دائرہ عمل شہر حیدرآباد سے بڑھ کر پور ی ریاست حیدرآباد پر محیط تھا۔ مخدوم نے پوری ریاست میں ٹریڈ یونینوں کا جال سا بچھادیا۔ خود مراٹھواڑہ میں چندر گپت چودھری، ڈی ڈی دیشپانڈے نے حبیب الدین ، افتخار احمد خان، سیّد مخدوم ، فقیر محمد امام الدین یقین اور اطہر بابر نے مخدو م کی رہبری میں مراٹھواڑہ بھر کمیونسٹ تحریک اور بالواسطہ طور پر تحریک آزادی کو پروان چڑھایا۔
دائرہ عمل میں وسعت کے ساتھ ساتھ مخدوم کے مصائب و مشکلات میں بھی اضافہ ہوا۔ گرفتاری و رہائی اور روپوشی اب ایک معمول تھا۔ اس کا اثر ان کی گھر یلو زندگی اور شعری سفر پر بھی پڑا۔اس بات کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مخدوم کے بچے بھی انھیں ’’ بابا‘‘ کہ جگہ ’’ چچا باوا ‘‘ کہتے تھے تاکہ عتاب شاہی سے محفوظ رہ سکیں۔مخدوم کی بیٹی ذکیہ بی بی اساوری کے بقول :
’’ اس کی وجہ یہ تھی کہ میں اور میرے چھوٹے نے بھائی نصرت محی الدین نے ’’ نظام صاحب ‘‘ کے جس حیدرآباد میں آنکھیں کھولی تھیں‘ اس مخدوم شاہی اور مطلق العنانی کے سب سے بڑے دشمن سمجھے جاتے تھے۔میری زندگی کا بڑا حصّہ تو ایسے گزار کہ میں اپنے والد کو جو روپوشی کی زندگی گزاررہے تھے ‘‘ مہینوں میں ایک مرتبہ ان کے کسی قریب دوست کے گھر پر دیکھ لیا کرتی تھی۔ ہاں وہ پارٹی کے کسی کام کے سلسلے میں آتے اور لگے ہاتھوں ہم سے بھی مل لیتے ۔ اس پر آشوب دور میں ہم اپنے چچا نظام الدین صاحب کے گھر رہا کرتے تھے جو سرکاری ملازم تھے اور محض مخدوم کے بھائی ہونے کے ناطے حکومت کی نظروں میں کھٹکا کرتے تھے اس اندیشے سے ہمیں بھی ان کی اولاد ہونے کے ناطے کہیں عتاب شاہی کا شکار نہ ہونا پڑے‘ ہمارے بزرگوں نے بچپن ہی سے یہ باور کرادیا تھا کہ مخدوم صاحب ہمارے چچا ہیں۔‘‘ ۴؎
تحریک آزادی میں اس سرگرمی سے شرکت کے باعث مخدوم کی شاعری بھی بری طرح متاثر ہوئی۔یہی وجہ ہے کہ ان کے پہلے مجموعے ’’ سرخ سویرا ‘‘ اور دوسرے مجموعے ’’ گل تر‘‘ کے درمیان پورے سترہ سال کا فاصلہ ہے ۔ اس بات سے تحریک آزادی کے تئیں مخدوم کے کمٹ منٹ کا انداز ہ ہوتا ہے ۔بقول خلیل الرحمن اعظمی
’’ مخدوم کے فنی خلوص کا یہ بڑا اچھا ثبوت ہے کہ وہ انقلاب اور آزادی کے لئے خود بھی میدان میں اتر پڑا لیکن
اس وقت اس نے اپنا قلم رکھ دیا اور کچھ دنوں کے لئے شعر کی دیوی سے رخصت چاہ لی۔اگر وہ چاہتا تو اس زمانے میں بھی سیاسی اور انقلابی شاعری کا عمل جاری رکھتا اور اس وقت اسے جس احترام کی دیکھا جاتا تھا اس کی بناء پر اس کی ہر تحریر نوجوانوں کے لئے صحیفہ کا حکم رکھتی تھی لیکن اس کے خلوص نے اسے ہنگامی اور وقتی شاعری سے باز رکھا۔‘‘ ۵؎
محنت کش طبقے پر بڑھتے ظلم و استحصال کے خاتمے کے خاطر اکتوبر ۱۹۴۶ ء میں کمیونسٹ پارٹی نے ’’ یوم انسداد استحصال ‘‘ منانے کا فیصلہ کیا جس کے خلاف فوری عمل کرتے ہوئے حکومت نے کمیونسٹ پارٹی پر امتناع عائد کردیا ۔راج بہادر گوڑ اور جواد رضوی گرفتار کرلئے گئے جبکہ مخدوم سمیت تمام کمیونسٹ روپوش ہوگئے۔ دوران روپوشی ہی میں مخدوم اور کامریڈ روی نارائن ریڈی نے ایک بیان جاری کیا کہ
’’ جدوجہد کو تیز کرنے کے لئے ہتھیار اٹھالو ۔‘‘
یہ حکومت وقت کے خلاف کھلا اعلان جنگ تھا۔مخدوم نے اپنی روپوشی کے دوران باضابطہ مسلح جدوجہد میں عملی طور پر حصّہ لیا۔ قلم کے ایک سپاہی نے جنگ آزادی کے سپاہی کا کردار بھی پوری صداقت اور دیانت سے نبھایا بقول شاد تمکنت
’’ مخدوم روپوشی کے دنوں بلاشبہ ایک ٹیرر(Terror)بن گئے تھے۔میں ان دنوں اسکول کا طالب علم تھا۔میں اورمیرے دوایک احباب سرخ سویرا کے حافظ تھے۔ طرح طرح کی باتیں مخدوم کے بارے میں سننے میں آتیں اور نوجوانوں کی یہی خواہش رہتی کہ مخدوم کی باتیں ہوتی رہیں ۔‘‘ ۶؎
مخدوم کے لئے ہر کرداراظہارذات کا وسیلہ تھا۔اظہارذات کے اس عمل میں مخدوم نے اپنی فکری و شعوری پختگی اور کردار کی بلندی کا بے مثال مظاہرہ کیا ہے۔
بقول پروفیسر سید احتشام حسین ؎
’’ کوئی شاعر اپنی ذات کو نظر انداز کرکے تخلیق تو کرہی نہیں سکتا۔ہاں ذات سے ماحول اور کائنات کے رشتے کو نئی طرح جوڑ کر اظہا ر ذات کے طریقوں کو نیافنی پیکر عطا کرتا ہے۔مخدوم نے بھی یہی کیا۔کبھی آزادی وطن کے سپاہی کے روپ میں کبھی مستقبل کے خواب دیکھنے والے کے بھیس میں اور کبھی کٹھن راہوں پر چلنے
والے مسافر کی شکل ہیں ۔‘‘ ۷؎
حوالے
۱؎ مخدوم محی الدین سے انٹرویو ۔از پروفیسر امیر عارفی ۔مشمولہ مخدوم پانچواں مینار ۔ صفحہ ۲۵
۲؎ راج بہادر گوڑ ۔مضمون ’’ مخدوم محی الدین ‘‘ مشمولہ ’’ بساط ِ رقص‘‘۔ صفحہ ب ‘
۳؎ امان ارشد ۔’’ مخدوم محی الدین بحیثیت استاد‘‘۔ ماہنامہ ’’ صبا ‘‘ حیدرآباد۔ مخدوم نمبر صفحہ
۴؎ والد محترم۔مضمون از۔ ذکیہ بی بی اساوری۔مشمولہ ’’ نیا آدم ‘‘ مخدوم نمبر ۔صفحہ ۸۴
۵؎ خلیل الرحمن اعظمی ۔اُردو میں ترقی پسند تحریک ۔صفحہ ۱۶۳ ۶؎ شاذتمکنت ۔ ’’ مخدوم محی الدین حیات اور کارنامے ۔‘‘ صفحہ ۵۸
۷؎ پروفیسر سید احتشام حسین۔ ہم صغیر انقلاب مخدوم ۔مشوملہ مخدوم پانچواں مینار صفحہ ۳۵

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook