Home / خبریں / جاوید نامہ اقبال کی معجزانہ شاعری کی عمدہ مثال : ڈاکٹرسید تقی عابدی

جاوید نامہ اقبال کی معجزانہ شاعری کی عمدہ مثال : ڈاکٹرسید تقی عابدی

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں محمد حسن لیکچر سریز کا انعقاد
14484644_985402584915206_8932684316394966909_n

نئی دہلی ،24ستمبر 2016/’’جاوید نامہ اقبال کی معجزانہ شاعری کی مثال ہے ۔اس میں انسانیت اور کردار سازی کے رہنما اصول کے ساتھ ساتھ انسانی سماج کے دیگر مسائل ومباحث بھی موجود ہیں۔ جاوید نامہ میں اقبال نے اپنے فلسفہ کے علاوہ دنیا کے دیگر فلسفیوںکے نظریات کو شامل کرنے کی کوشش کی ہے ‘‘۔ یہ باتیں کنیڈ ا سے تشریف لائے ڈاکٹر تقی عابدی نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں منعقد پروفیسر محمدحسن میموریل لیکچر سیریز میں کہیں ۔ آج یہاں انھو ں نے ’’ جاوید نامہ اور انسانیت سازی‘‘ کے عنوان پر مغز خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ احترامِ آدمیت کے پس منظر میں اقبال کا جاوید نامہ ایک معجزانہ بیان ہے ۔ کیو ں کہ اس میں اقبال کافلسفہ ٔ حیات جہاں ہمیں متوجہ کرتا ہے ، وہیں فنی امتیازات بھی قابل توجہ ہیں ۔ 1837اشعار پر مشتمل اس طویل تمثیلی نظم میں اقبال نے متعد د تجربات کیے ۔ اس میں نظموں کی بیشتر اصناف کی جھلکیاں ملتی ہیں ۔ ڈاکٹر عابدی نے جاوید نامہ کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ فارسی کی پانچ اہم کتابوں میں سے اقبال کا جاوید نامہ ایک ہے۔ اقبال نے قرآن واحادیث اور اسلامی تاریخ کے علاوہ ابن عربی ، ابو علی معری اور ڈالٹے سے استفادہ کرتے ہوئے جاویدنامہ کی شکل میں ہمیں فلسفہ حیات دیا ہے ۔ جس کے اشعار میں انسانیت سازی اور کردار کے اصول جابجا ملتے ہیں ۔ انھوں نے انسانیت سازی کے تناظر میں جاوید نامہ کے متعلق کہا کہ انسان جو دنیا میں اللہ کا خلیفہ ہے ، وہ خود اپنی نظروں میں محترم نہیں ہے ۔ انسان اپنے اندھے پن کی وجہ سے ایک دوسرے کا غلام بن گیا ہے ۔ احترام آدمیت کے ضمن میں انسان نے اپنی عظمت خود اپنی نگاہ میں کم کرلی ہے ۔ ایک انسان دوسرے انسان کے سامنے سرجھکارہا ہے ، تاہم جانوروں میں بھی ایسی برائی نہیں ہے کہ ایک جانور دوسرے جانور کے سامنے سرجھکائے ۔ انھوں نے کہا کہ اقبال نے اس طویل نظم میں جہاں فردی اہمیت کو اجاگر کیا ہے ، وہیں اجتماعی سماج کو بھی تبدیلی کرنے کا فلسفہ پیش کیا ہے ۔

14440632_985402834915181_5033329720756888263_n

قبل ازیں پروفیسر محمد خواجہ محمد اکرام الدین نے ڈاکٹر تقی عابدی کا مختصر تعارف پیش کرتے ہوئے ان کی علمی وتحقیقی کاوشوں کا ذکر کیا ۔پروفیسر خواجہ اکرام الدین نے کہا کہ ڈاکٹر عابدی عالمی سطح پراردو کے سفیر کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ڈاکٹر عابدی کی حالیہ سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حالی پر شائع ہونے والی ان کی تصانیف حالی سناشی کے حوالوں سے قابل قدر ہیں ۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر تقی عابدی ماہرطبیب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نامور محقق ونقاد بھی ہے ۔ کنیڈین رائٹرز یونین کے ممبر ہیں ۔ان کی تقریباً 55 کتابیں شائع ہوچکی ہیں اور اپنے علمی وادبی کاموں کی وجہ سے دنیا کے بیشتر ملکوں کا سفر کرچکے ہیں ۔
14462836_985402398248558_2543597460356244620_n

اس پروگرام میں مہمان اعزازی کے طور پر ڈاکٹر اطہر فاروقی صاحب نے شرکت کی ، انھوں نے اپنے مختصر تقریر میں اس طرح کے پروگرام کو سراہتے ہوئے کہا کہ تقی عابدی اردو کی جو خدمات انجام دے رہے ہیںوہ قابل قدر ہیں ۔ اس پروگروم میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے متعدد سینٹر س کے اساتذہ وطلبا سمیت ڈاکٹرتوحید احمد خان ، ڈاکٹر اخلاق احمد آہن ، ڈاکٹر ہادی ، ڈاکٹر سمیع الرحمان نے خصوصی طور پر شرکت کی ۔ جب کہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر شفیع ایوب نے انجام دیے ۔ اس پروگرام میں بڑی تعداد میں طلبہ طالبات موجود تھے کئی غیر ملکی طلبہ و طالبات بھی شریک ہوئے ۔

14391020_985402918248506_8409957242586069425_n
14368900_985402408248557_17577969430254533_n
14440637_985402921581839_8209815704636321250_n

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook