Home / خبریں / جموں وکشمیر میں اردو عدم تحفظ کی شکار

جموں وکشمیر میں اردو عدم تحفظ کی شکار

ایک اہم تجویز

18402912_620475464829059_8795278551772149907_n

٭ڈاکٹر مشتاق احمد وانی

ریاست جموں وکشمیر تین صوبوں پہ مشتمل ہے اور تینوں صوبے تہذیبی وثقافتی اور لسانی و جغرافیائی اعتبار سے ایک دوسرے سے جداگانہ ہیں۔جموں میں ڈوگری،کشمیر میںکشمیری اور لداخ میں لداخی یہ تینوں زبانیں اپنی اپنی علاقائی نسبت کی نمائندگی کرتی ہیں۔حالانکہ لداخ میں لداخی کے علاوہ بلتی اور شینا زبانیں بھی بولی اور لکھی جاتی ہیں۔اسی طرح کشمیر کے کچھ علاقوں میں گوجری اور پہاڑی بھی بولی جاتی ہیں ۔ صوبہ جموں کی بات کریں تو یہاں اگرچہ ڈوگری بولنے والوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے لیکن اسکے علاوہ خطئہ چناب میں کشمیری اور دیگر علاقائی بولیاں بولی جاتی ہیں جبکہ خطئہ پیر پنچال میں گوجری اور پہاڑی زبانوں کا ادب خاصا جاندار معلوم ہوتا ہے۔تہذیبی وثقافتی اعتبار سے دیکھیں تو جموں کو مندروں کا شہر کہا جاتا ہے اور پھر جموں ہی نہیں بلکہ جموں کے کچھ ضلعوں میں بہت سے مندر ہیں ۔ یہاں کے تہوار،میلے ٹھیلے ،رسم ورواج اور عقائد اپنی نوعیت کے ہیں۔جب کہ کشمیر میں مسجدوں اور زیارت گاہوں کی الگ ایک رونق ہے۔وہاں کے لباس و پوشاک،کھان پان ،بود وباش اور دیگر کئی امور میں صوفی ازم کی جھلکیاں نظرآتی ہیں۔اسی طرح لداخیوں کا کلچر اور ان کاطرززندگی بالکلیہ طور پر صوبہ جموں اور صوبہ کشمیر کے باشندگان سے مختلف ہے۔آب وہوا اور موسموں کے تغیر وتبدل کے اعتبار سے بھی تینوں صوبے مختلف ہیں۔
ریاست جموں وکشمیر کے تینوں صوبوں کی الگ الگ تہذیب وثقافت اور لسانی افتراق کو مد نظر رکھتے ہوئے مہاراجہ رنبیر سنگھ اور ان کے بعد ان کے جانشین مہاراجہ پرتاپ سنگھ نے اپنی دانش مندی اور دور اندیشی کا یہ ثبوت دیا تھا کہ انھوں نے ریاست کی سالمیت اور اسکے استحکا م کے لیے اردو کو 1889میں سرکاری زبان کا درجہ دیا تھا ۔مہاراجہ پرتاپ سنگھ کے تخت نشین ہونے تک اردو کاچلن ریاست میں عام ہوگیا تھا۔عوام کی ایک کثیر تعداد اردو پڑھنے لکھنے کی طرف راغب ہوچکی تھی اور یہ زبان ان کے اظہار کا ایک بہتر وسیلہ بن چکی تھی۔مہاراجہ پرتاپ سنگھ نے سیاسی مصلحت پسندی اور اردو کی بڑھتی مقبولیت کے پیش نظر ریاست کے تینوں خطوں جموں،کشمیر اور لداخ کو ایک لسانی دائرے میں لانے کے لیے اردو کو سرکاری زبان قرار دیا تھا۔مہاراجہ پرتاپ سنگھ کا یہ ایک ایسا عظیم کارنامہ تھا جوآج بھی جموں وکشمیر کی اردو ادبی تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھے جانے کے لائق ہے۔یہاں اس بات کاذکر لازمی معلوم ہوتا ہے کہ ڈوگرہ شاہی حکمران اگر چاہتے تو وہ ڈوگری کو سرکاری زبان کا درجہ دے سکتے تھے۔لیکن انھوں نے ڈوگری کے بجائے اردو کو ایک رابطے کی زبان کے طور پر نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اسکے عملی نفاذ کے لیے ٹھوس اقدامات بھی کیے۔
کسی ملک یا ریاست کی سرکاری زبان کے بارے میں جب ہم بات کرتے ہیں تو اس ضمن میں چند اہم نکات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہوجاتا ہے۔پہلی بات یہ ہے کہ تمام سرکاری وغیر سرکاری اداروں میں اس زبان میں تحریری کاروائی ہوتی ہے۔دوسری بات یہ کہ حکومت نہ صرف اسے آئین میں سرکاری رکھتی ہے بلکہ اسکے عملی نفاذ کے لیے اس زبان کا ایک کلچر بھی قائم کرواتی ہے یعنی ہر مقام پہ وہ زبان عمومی طورپر لکھنے،پڑھنے اور بولنے میں نظر آتی ہے۔تیسری بات یہ کہ سرکا اس زبا ن کے فروغ اور اشاعت کے لیے ایسے منصوبے تیار کرتی ہے جو اس کی بقا و فلاح کے ضامن ہوتے ہیں۔چوتھی بات یہ کہ وہی زبان پھلتی پھولتی اور ترقی کی راہ پہ گامزن ہوتی ہے جسے سرکاری سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔
سرکاری زبان کے متعلق ان چار اہم بنیادی نکات کے تناظر میں اب اگر ہم موجودہ دور میں ریاست جموں وکشمیر میں اردو زبان کا جائزہ لیں تو مایوس کن صورت حال نظر آئے گی۔کیونکہ یہاں محکمہ مال اور پولیس میں تھوڑی بہت اردو نظر آتی ہے لیکن آہستہ آہستہ اب ان محکموں میں بھی انگریزی اپنا تسلط جمانے لگی ہے۔اسی طرح باقی تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں سارا کام انگریزی میں ہوتا ہے۔سرکاری زبان ہونے کے ناطے اردو کا جو رنگ روپ ہونا چاہیئے تھا وہ نظر نہیں آتا۔دفتروں ،اسکولوں،کالجوں،یونیورسٹیوں ،چوک چوراہوں،شہروں ،قصبوں ، قومی شاہراہوں پر اردو میں سائن بورڈ پڑھنے کو نہیں ملتے۔سچ سنیے تو اردو ریاست جموں وکشمیر میں بہت حد تک قصئہ پارینہ بنتی جارہی ہے۔پوری ریاست میں انگلش میڈیم اسکولوں کا اک جال سا بچھ چکا ہے۔ان میں اردو اگر کہیں ہے بھی تو بس ایسے ہی ہے۔اردو پہ ستم یہ بھی کہ جو لوگ اردو لکھتے،پڑھتے اور بولتے ہیں یا اردو کا لقمہ توڑتے ہیں وہ بھی ساٹھ فیصدی اردو بولتے ہیں ۔باقی انگریزی الفاظ سے کام نکال لیتے ہیں۔کچھ فرقہ پرست طاقتیں اردو کو مسلمانوں کی زبان سمجھتی ہیں۔حالانکہ اردو کی آبیاری میں غیر مسلموں نے جو کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں یا دے رہے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔یہاں تفصیل میں جانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔
یہ ایک تاریخی صداقت ہے کہ اردو نہ صرف ایک زبان ہے بلکہ ایک تہذیب کا نام بھی ہے۔اس میں کچھ ایسی فطری کشش اور مٹھاس ہے کہ جو ہر کسی کو اپنا گرویدہ بنالیتی ہے۔حیرت یہ ہے کہ جو لوگ اردو لکھنا،پڑھنا اور کسی حد تک بولنا نہیں جانتے وہ بھی اردو کوپسند کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اردو کی غزلیں اور گیت کل بھی عوام میں مقبول تھے آج بھی ہیں اور کل بھی رہیں گے۔جس طرح آندھرا پردیش میں تلگو،کیرلہ میں ملیالم،مدراس میں تامل،بنگال میں بنگلہ؛مہاراشٹر میں مراٹھی؛کرناٹک میں کنڑی؛گجرات میں گجراتی؛پنجاب میں پنجابی اور بہار ؛یوپی میں ہندی کو پوری طرح سرکاری سرپرستی اور حقوق حاصل ہیں۔اس طرح ریاست جموں وکشمیر میں اردو کو حاصل نہیں ہیں۔ہم یہ بات وثوق سے کہتے ہیں کہ اردو ہندوستان میں ختم نہیں ہوگی کیونکہ اس کی
مٹھاس اور فطری کشش اس زبان کی بقا کی ضامن ہیں۔ہندوستان میں فارسی اور سسنکرت زبانوں کے روبہ زوال ہونے کی ایک خاص وجہ یہ تھی کہ ان زبانوں کے پاس دوسری زبانوں کے الفاظ کو اپنے اندر مدغم کرنے کا ظرف نہیں تھا۔
صوبہ جموں کے ضلع ادھم پور؛سانبہ؛ریاسی؛کٹھوعہ اور جموں میں اردو کی صورت حال نہایت مایوس کن ہے۔پرائمری؛مڈل؛ہائی اور ہائر اسکنڈری اسکولوں میں بہت سے طلبہ وطالبات اردو پڑھنے کے خواہش مند ہوتے ہیں لیکن اسکولوں میں اردو استاد یا اردو مضمون نہ ہونے کی وجہ سے ان کا شوق وذوق اندر ہی اندر دم توڑ دیتا ہے۔یہ بات بھی ایک خاص پالیسی کے تحت ذہنوں میں بٹھا دی گئی ہے کہ اردو ایک مشکل زبان ہے؛جب کہ اردو ایک آسان زبان ہے۔تجربے اور مشاہدے سے یہ بات ثابت ہے کہ اردو پڑھنے لکھنے والا آدمی آسانی سے ہندی اور دیگر زبانیں سیکھ لیتا ہے۔
ریاست جموں وکشمیر میں ایک طویل عرصے سے کئی ادبی وغیر ادبی تنظیمیں اردو کی بقا اسکی ترقی اور اسکے مکمل حقوق کی حصولیابی کے لیے حکومتوں کے سامنے مطالبات رکھتی آئی ہیں۔لیکن اردو کو جو مقام ومرتبہ سرکاروں کی طرف سے ملنا چائیے تھا؛ اس سے وہ ابھی تک محروم ہے۔اس سلسلے میں ہم یہاں ایک تجویز پیش کرنا چاہتے ہیں ۔آپ یقین کیجیے کہ اگر حکومت اس تجویزکو عملی جامہ پہناتی ہے۔تو ریاست جموں وکشمیر میں اردو کی بہار آسکتی ہے۔وہ اہم تجویزات ہے کہ حکومت وقت دفعہ370 کی طرح یہ قانون پاس کرے کہ پہلی کلاس سے گریجویشن کی سطح تک اردو کو بطور لازمی مضمون قرار دے۔یعنی سائنس اور کامرس میں گریجویشن کرنے والوں کے لیے بھی اردو پڑھنا ایک لازمی مضمون کے طور پر ہو۔اسکے ساتھ ساتھ یہ قانون بھی بنائے کہ سرکاری ملازمت کے لیے وہی امیدوار فارم بھر سکتے ہیں جن کی تعلیمی اسناد میں اردو مضمون شامل ہو۔ مزید یہ کہ بیرون ریاست سے انتظامیہ عہد وں پر ایسے آئی اے ایس ؛ کے اے ایس ؛ آئی پی ایس اور آئی ایف ایس آفیسران کو تعینات کیا جانا چاہیے جو بہترین اردو لکھنا؛پڑھنا اور بولنا جانتے ہوں۔ریاست جموں وکشمیر میں اردو کو زندہ رکھنے ؛اسکے فروغ اور اسکی چہل پہل کی واحد یہی ایک صورت بنتی ہے ۔ہمارا تو یہ ماننا ہے کہ زبانیں ایک خاندان کی مانند ہوتی ہیں ۔یہ اچھی بات ہے کہ کشمیر میں کشمیری؛جموں میں ڈوگری؛لداخ میں لداخی کے علاوہ علاقائی زبانیں بلتی؛شینا؛ گوجری اور پہاڑی اپنا تشخص قائم کرچکی ہیں۔ان میں بہت کچھ لکھا جاچکا ہے اور لکھا جارہا ہے۔پہاڑی اور گوجری زبانوں کا فارسی رسم الخط اردو کے لیے مفید ثابت ہوتاہے۔آپ کے اور ہمارے دل سے بھی یہ آواز اٹھ رہی ہے کہ ریاست جموں وکشمیر میں سرکار کو ایک اردو اکادمی قائم کرنی چاہئے ؛ٹھیک ہے ہونی چاہیے لیکن اس سے کئی گنا زیادہ بہتر یہ ہے کہ سرکار پہلی کلاس سے گریجویشن کی سطح تک اردو کو ایک لازمی مضمون قرار دے ۔اس صورت میں یہاں کوئی بھی ہندی پڑھنے لکھنے والا یہ نہیں کہے گا کہ میں اردو لکھنا پڑھنا نہیں جانتا۔ورنہ بصورت دیگر بہت ممکن ہے کہ اردو کا وہی حشر ہوگا جو حشر فارسی اور سنسکرت کا ہوا ہے۔اردو اگر ریاست جموں وکشمیر کی سرکاری زبان ہے تو مکمل صورت میں سرکاری ہونی چاہیے۔ورنہ بقول غالب؛
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook