Home / خبریں / جموں و کشمیر میں اردو کے ابتدائی نقوش

جموں و کشمیر میں اردو کے ابتدائی نقوش

٭ڈاکٹر الطاف حسین
اسسٹنٹ پروفیسر،
شعبہ اردو ،سینٹرل یونیورسیٹی سرینگر ،کشمیر
9419238801
بر صغیر میں اردو کے دوسرے مراکز کی طرح ریاست جموں و کشمیر کو بھی اردو زبان و ادب کا ایک اہم مرکز ہونے کا شرف حاصل ہئے ۔ حالانکہ جموں وکشمیر میںاردو زبان و ادب کا آغاز و ارتقا اردو کے دیگر مراکز دہلی،دکن ،لاہور،لکھنؤاور عظیم آباد کے برعکس بہت بعد میں سترہوٰیں اٹھارہویں صدی سے ہوتا ہے لیکن بہت کم عرصے میں ہی جموں کشمیر میں تخلیقی، تحقیقی اور تنقیدی ادب کا اتنا وقیع سرمایہ وجود میں آگیا کہ پوری اردو دنیا انگشت بدنداں رہ گئی ۔
ریاست جموں کشمیر ولداخ، لسانی اعتبار سے مختلف و متعدد زبانوں اور بولیوں کا ایک رنگارنگ گلدستہ ہے ۔سنسکرت ، کشمیری فارسی اور اردو کے علاوہ گوجری، ڈوگری،پہاڑی ،لداخی ،شینا ،بلتی ،پریگی ، گدی اور پوگلی وغیرہ زبانوں اور بولیوں میں بھی اب ۲۰۱۶ء۔تک آکر شعر و ادب کا قابل قدر سرمایہ جمع ہو گیا ہے لیکن اس کے باوجود اردو آج بھی نہ صرف یہ کہ اس ریاست کی لنگوا فرینکا ہے بلکہ ادبی وعلمی اور مذہبی و تہذیبی اظہار اور عوامی کاروبار کے لئے بھی اردو کا ہی استعمال ہوتا ہے ۔سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اردو نہ صرف ریاست کے تینوں خطوں،جموں،کشمیر اور لداخ کو آپس جوڑے ہوئے ہے بلکہ اردو ہی ہے جس کے ذریعے اس ریاست کا دنیا کے دوسرے علاقوں سے ربط و ضبطقائم ہے ۔ سنسکرت،فارسی اور دیگر علاقائی زبانوں کے ہوتے ہوئے اردو نے اس فردوس بر زمیں خطہ ارض میں کس طرح اپنی حکمرانی قائم کی ،اس کا قصہ کسی داستان سے کم دلچسپ نہیں۔
صدیوں سے دنیا کے دوسرے علاقوں سے ایک حدتک الگ تھلگ رہنے کے باوجود ریاست جموں و کشمیر کے باسیوں نے نہ صرف اپنے قومی تشخص کو برقرار رکھا ہے بلکہ اپنی علمی ، ادبی اور ثقافتی روایات اور اقدار میں وقت کے ساتھ ترمیم واضافہ بھی کرتے رہے ہیں اور سیاسی و معاشی جبرکے رد و قبول کے مرحلوں سے گزرتے ہوئے انھیں نئے سانچوں میں بھی ڈھالتے رہے ہیں ۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ گرچہ کشمیر میں اُردو میں شعر و ادب کی تخلیق کے ابتدائی نمونے سترہویں صدی سے ہی ملنے لگتے ہیں لیکن شعری اور نثری ادب کی رفتار میں تیزی اور معیار میں بلندی کا با ضا بطہ عمل اُنیسویں صدی کے وسط سے شروع ہوتا ہے۔۱۸۴۶ء میں معاہدہ امرت سر کے تحت گلاب سنگھ کے ہاتھوں جمون و کشمیر میں ’’ ڈوگرہ راج ‘‘ کے قیام کی تفصیل سے ہر شخص واقف ہئے ۔البتہ یہ با ت یادرکھتے چلیں کہ جموں و کشمیر میں اردو کے فروغ کے حوالے سے گلاب سنگھ کے فرزندمہاراجہ رنبیر سنگھ کے ہاتھوں قائم کئے گئے دارالترجمہ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے ۔ اس ادارہ میں ترجمہ نگاری کی جو روایت قائم ہوئی وہی ریاست جموں و کشمیر میں اُردو ادب کے آغاز وارتقا کی بنیاد ثابت ہوئی ۔ لیکن چونکہ کشمیر کا اُردو ادب ، دنیا کی دوسری بستیوں کے ادب کے برعکس چند مخصوص امتیازات کا حامل ہے ۔ جن کی نشاندہی کشمیر کے ہی اُردو کے محققین اور ناقدین نے بڑی دیدہ ریزی کے ساتھ کی ہے ۔ اس لیے کشمیر کے تخلیقی اور تنقیدی کارناموں کی اہمیت کا اعتراف اب دنیا کے تمام اہم مراکز میں کیا جانے لگا ہے ویسے بھی موجودہ دور ادب و ثقافت کے قومی اور بین الاقوامی منظر نامے کے ساتھ ساتھ مقامی اور علاقائی ادب و ثقافت کے مطالعہ و مشاہدہ اور غور و فکر کا دور ہے ۔ اس کا ایک مقصد تو یہ ہے کہ قومی اور عالمی ادب و ثقافت کی تعمیر و ترقی میںمخصوص علاقوں کے کردار ، یا Contributionکا جائزہ لیا جا سکے ۔ کیونکہ کسی بھی مخصوص علاقہ اور وہاں کی انسانی آبادی کے سماجی و سیاسی ، معاشی و ثقافتی مسائل و حقائق کا انداز ہ اس کے ادب و ثقافت کے وسیلے سے ہی بہتر طور پر لگایا جا سکتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی خوا ہشات اور مسائل ، سوچ اور فکر اور نفسیات کا اظہار سب سے بہتر طور پر ادب میں ہی ہوتا ہے ۔ اسی لئے ادب کو کسی مخصوص علاقہ ، شہر یا قصبہ یا ریاست کے عام انسانوں کے جذباتی اور نفسیاتی ، سماجی اور تہذیبی عروج وزوال کے مطالعہ و محاسبہ کا سب سے بہتر وسیلہ مانا جاتا ہئے ۔ در اصل کسی بھی زبان یا قوم کے ا دب و ثقافت کی انفرادیت اوراہمیت بھی اسی سے قائم ہوتی ہے کہ ادیب اور شاعر فنی اور جمالیاتی تقاضوں کو برتتے ہوئے اپنی ذات ، ماحول اورمعاشرہ کے حوالے سے فنی و جمالیاتی اور فکری و ثقافتی درو بسط کے ساتھ زندگی اور زمانہ کو کس حد تک اپنی تخلیقات میں پیش کر پاتا ہے ۔ لیکن یہاں پر گوپی چند نارنگ کی یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ
’’زندہ زبانوں کی ثقافت ہو یا شعریات ،یہ اندر سے بند نہیں ہوتیں،
یہ جامد نہیںہوتیں ،نئے اور پرانے کی آویزش و پیکار سے ان میں
خود انظباتی اور ہم آہنگی کا جدلیاتی عمل برابر جاری رہتا ہئے اور
سابقہ بنیادوں پر نئے معیار بنتے رہتے ہیں اور سابقہ معیاروں
کی باز آفرینی بھی ہوتی رہتی ہئے ۔
د یباچہ ۔ساختیات،پس ساختیا ت اور مشرقی شعریات
فرد اور قوم کی زندگی اور زمانہ میں رونما ہوتی رہنے والی تبدیلیوں کے سبب ،زبان و ادب میں بھی نئے اور پرانے اقدار اور معیار کے مابین کش مکش پیدا ہوتی ہے۔ افتراق ا ور اجتہاد کی آوازیں نمایاں ہوتی ہیںجو پھیلتی ہیں تو ادب میں نئے رحجانات ،موضوعات ، اسالیب اور اظہاری روئے وجود میں آتے ہیں۔ اور انھیں کی بنیاد پر ، عام طور پر شعر و ادب کی تخیق بھی ہوتی ہئے اور ادب کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ لیا جاتا ہے۔مثال کے طور پر ہندوستان کے دوسرے علاقوں کی طرح ریاست جموں و کشمیر میں بھی آج اکیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں زندگی زمانہ اور ادب کے اقدار اور رحجانات ، مسائل اور حقائق وہ نہیں ہیں جو بیسویں صدی کی آخری دہائیوں تک تھے ۔ اسی لئے آج جموں وکشمیر کے اُردو ادب کا مزاج اور معیار بھی ماقبل کے ادب کے مزاج اور معیار سے مختلف ہے۔
زبان، ادب و ثقافت میں وقت کے ساتھ تبدیلیوں کا رونما ہوتے رہنا ایک فطری امر ہے اسی لئے کسی بھی زبان اور اس کے شعر و ادب کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ ، مختلف ادوار کے حوالے سے لیا جاتا ہے ۔ چنانچہ میں نے اپنے مقالے کے اس باب میں جموں و کشمیر میں اُردو ادب کے آغاز وا رتقا کا جائزہ تبدریج رونما ہونے والی سیاسی و سماجی اور ثقافتی تبدیلیوں کے ساتھ پیش کر نے کی کوشش کی ہے ۔
۱۸۵۷؁ء میں ہندوستان نے اپنی آزادی کھوئی تھی اور ۱۹۴۷؁ء میں اس آزادی کو دوبارہ حاصل کیا تھا۔ لیکن ۱۸۵۷؁ء میں غدر یا جنگ آزادی کی پہلی لڑائی میں ناکامی کے سنگین نتائج بر آمد ہوئے ۔ اس شکست کے بعد سلطنت مغلیہ کا شیرازہ بکھر گیا برطانوی سامراجیت کشمیر سمیت پورے ہندوستان پر حاوی ہو گئی ۔ ہندوستانی یا مشرقی روایات اور اقدار کا زوال شروع ہوا اور مغربی روایات اور اقدار کا عروج ہونے لگا ۔ انگریز اپنے ساتھ نہ صرف ایک نیا صنعتی نظام لے کر آئے تھے۔ جس نے یورپ کی کایا پلٹ دی تھی بلکہ وہ کائنات میں انسانی وجود سے متعلق بھی ایک نیا تصور لے کر آئے تھے جوبڑی حد تک سائنسی تھا یورپ میں انسان نے رومانیت کو اس کائنات سے باہر نکا ل دیا تھا اور اس کی جگہ مادیت نے لے لی تھی یا اگر روحانیت کو وہ کوئی اہمیت دیتا بھی تھا تو بس اس قدر کہ انسان اس سے دل خوش کرتا رہے ۔ نئی سائنسی ایجادات نے انسان کے اس نئے تصور کو بہت حد تک تقویت پہنچائی اور ہندوستانی تمام تر مشرقیت اور روحانیت کے باوجود سائینس کے ان کرشموں اور صنعتی نظام کی اُن برکتوں سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے انگریزوں نے ہماری تعلیمی اور اخلاقی اقدار کو بھی بدل کر ہماری فکری روایات واقدار کو کمزور کرنے کی کوشش کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک میں بیک وقت دو طرح کے ردعمل نمودار ہوئے ۔ ایک ردِعمل یہ تھاکہ اپنی روایتی قدروں کی ہر حال میں حفاظت کی جائے اور انگریزوں سے کسی نہ کسی طرح چھٹکارہ حاصل کیا جائے ۔ اس رحجان نے بعد میں کشمیر سمیت پورے برصغیر میں آزادی کی تحریک کو جنم دیا ۔ جس کے آثار اُردو شعر و ادب میں بھی نمایاں ہوئے۔دوسرا ردِ عمل یہ تھا کہ انگریزوں کے علوم وفنون سے استفادہ کر کے اپنی خامیوں کو دور کیا جائے اس طرح پورے ملک میں بہت سی اصلاحی تحریکیں سامنے آئیں پھر بھی ان تمام حقائق کے باوجود یہ کہنا بے جانہ ہو گا کہ یہ سب تبدیلیاں اوپری تبدیلیاں تھیں ۔ اپنی بے پناہ قوت کے باوجود یہ رحجانات اور سماجی اور ادبی تحریکوں نے ملک کے دوسرے حصوں کی طر ح جموں کشمیراور یہاں کی سیاسی، سماجی ، ثقافتی اور ادبی زندگی کو بھی متاثر کیا ۔ جموں و کشمیر کے سیاسی،ثقافتی اور ادبی حالات کا جائزہ لیجئے تو ایسا لگتا ہے کہ یہاں نمودار ہونے والی اکثر تحریکیں یا تو ملک گیر سطح پر نمودار ہونے والی تحریکوں کی ذیلی شاخیں ہیں یا اُن سے براہ راست متاثر رہی ہیں ۔ جموں و کشمیر کے تخلیقی، تحقیقی اور تنقیدی ادب میں اس اثر پذیری کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔
تاریخ کشمیر کا جائزہ ہمیں یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ یہاں بھی ۱۹۴۷؁ء تک جاگیر دارانہ نظام مسلط تھا ملک کے دوسرے حصوں کی طرح یہاں بھی پورا سماج آقا اور غلام ، دو طبقوں میں منقسم تھا ۔ ایک عام انسان کی حیثیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ لوگ اگر کبھی پولیس کا نسٹیبل کو دیکھ لیتے تو وہ اپنے گھر وں کے کواڑ بند کر کے چھپ جاتے تھے ، یہ داستان نہیں حقیقت ہے ۔پوری ریاست چھوٹی چھوٹی جاگیروں میں بٹی ہوئی تھی اور یہاں کے بُنیادی افکار بھی بہت حدتک وہی تھے جوبرصغیر کے دوسرے حصوں میں جاری و ساری تھے اس جاگیر دارانہ نظام نے یہاں بھی اُسی مایوسی ، قنوطیت اور گُھٹن کو جنم دیا تھا جو ملک کے دوسرے حصوں میں عام تھا انسان یہاں بھی اسی طرح مجبور اور بے بس تھا۔ وہ بھی دوسروں کے لئے جیتا اور محنت کرتا تھا ۔ اُس کا اپنا کچھ بھی نہ تھا ۔ سکھ دور اور ڈوگرہ دور میں کشمیری عوام کا ہر طرح سے استحصال کیا گیا ۔’’بیگار‘‘ غربت اور ظلم و جبر کے اس انسانیت سوز ماحول میں پیدا ہونے والا ادب کسی خوش کُن مُستقبل کا خواب کیوں کر دیکھتا ۔ جہاں زبان و قلم پر پابندیاں ہوں اور بات کرنے پر زبان کٹتی ہو اور جہاں ادب تخلیق کرنے کو سب سے بڑی بے ادبی سمجھا جاتا ہو۔ لیکن اس کے باوجود کشمیر میں ۔ کشمیری کے ساتھ ساتھ اُردو شعروا دب کا بھی فروغ وارتقا ہوتا رہا۔

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook