Home / خبریں / جنید آزر کا بْت خانہ ء سخن

جنید آزر کا بْت خانہ ء سخن

11024653_766690696748670_2647369670284663942_n

مضمون نگار : نازؔ بٹ پاکستان
جنید آزر کی شاعری ذات کے آتش کدے میں ماضی ، حال اور مستقبل کیے کرب کا الاؤ ھے اور اس الاؤ سے نمایاں ھونے والے امکانات دِل پر نالہ ء پْر تاثیر کی طرح چڑھ جاتے ھیں ، حدیث ِ دل کے باب روشن ہونے لگتے ھیں اور صحنِِ وجدان میں وہ رمق روشن ہونے لگتی ہے جس سے ھمیں پتہ چلتا ھے کہ شاعر کی توفیقات کی استعداد کیا ھے ، جن عوامل کے رد ِ عمل میں جنید آزر جبر و مقدر کی سنگلاخ زمینوں میں تخم سخن بونے کی سعی کر رہا ہے وہ خود اپنی جگہ پر ایک جاں گسل عمل ہے۔ جنیدآزر کی شاعری کا کم و کیف کیا ھے اور کن وجوھات سے صدمہ ء اضداد کو نوک ِ خامہ ء قلم پر اناالحق کے متوازی نعرہ ء مستانہ اٹھانا پڑا ھے، جنید آذر جزبات کی دْہری ، تہری سلائی کو ادھیڑنے کا سلیقہ رکھتا ھے ، وہ گْل و راغ و باغ کی پتا پتا سنکھیا چاٹتی بہار کا ھر رنگ جانتا ھے۔ وہ خواھش ِ نمو اور نمو کی ھوس کے سارے رازوں کا امین شاعر ھے:

?

?

” رویا ھوں بہت سبزہ ء خواھش کی نمو
پر جب پاؤں مرا سوکھی ھوئی گھاس پہ آیا”
"سانسوں سے روندتا ھوں تمنا کے ریگزار
جب سے مری سپاہ میں ھے میرا دشت ِ سبز”
لفظ کو لفظ کی پرت سے نکالنا اور معنی کو معنی کی کوکھ سیکھوجنا، اس شرط پر کہ زندگی کی ریشم سچائیوں اور فولاد حقیقتوں میں التباس پیدا نہ ھو ، آسان نہیں ھوتا لیکن جنید آزر کی سرمستی ء￿ شعر ایک کوہ کن کی ضرب ھے جو جوئے شیر کھودنے کے درپے ملتی ھے اور یہ اعتماد ِ سخن جو اس کے شعروں کے پس پردہ چل رھا ھے۔ یہ اعتماد ریاضتِ فن کی بھٹی میں ایک عمر جلے بغیر کیسے ممکن ہے۔
” تعین خود کرے گا راستوں کا
مرے دریا کو بہنا آگیا ھے”
"جدھر سے روک رہی ھے مجھے تری خواھش
"عجب نہیں کہ یہ دنیا ادھر نکلنے لگے”
سچا شاعر وھی ھوتا ھے جو حواس ِ خمسہ کو ایک دوسر ے پر الٹ کر ایک نئی خوشبو کشید کرتا ھے تب اس پر اسرار ِ ھستی الہام و وحی کی طرح اترنے لگتے ھیں اور حقیقتیں وجدان کے نوکِ قلم پر الوھی ترانہ پڑھنے لگتی ھیں۔ فنا و بقا کے نصاب اور اس سے بے خبری کی خبر ملتی ھے۔
"پہلے مری فنا پہ لئے میرے دستخط
تب جا کے ممکنات میں رکھا گیا مجھے
خوشبو کے نام پر مری سانسیں کشید کیں
موسم کے انحطاط میں رکھا گیا مجھے”
اور یہ شعر دیکھئے گا۔۔۔۔۔۔۔
"ھمیں اس خاک سے اٹھنا ھے کس دن
ھمارا آب و دانہ کس جگہ ھے”
جنید آزر کی شاعری روایت سے وابستہ ھو کر مہکتی نظر آتی ھے اور جذبہ و خیال کے در و بست پر دستک دینا اسے خوب آتا ھے کہیں کہیں جنید آزر جذبہ اور تفکر کو باھم آمیخت کر کے اک نئی اقلیم کا راستہ سْجھاتا ھے اور کوئی ایسا حیرت انگیز شعر کہہ دیتا ھے جس کا لب و لہجہ کائناتی اور آفاقی ھوتا ھے۔
"سو کہ اٹھتا ھوں تو دیوار نئی ھوتی ھے
رات کھا جاتی ھے خوابوں کو سحر ھونے تک”
"ھم نے ساری زندگی اس پر ھی چلتے کاٹ دی
جس زمیں پر پاؤں کے نیچے کوئی رستہ نہ تھا”
عمر کو رائیگانی کی مسافت میں گھلا دینا بے شوریدہ سری ء عشق اور جنوں بھی ھو سکتا ھے لیکن با مقصد راستوں میں شہید ِ کرامت ِ معنی ھونا مستند حوالوں کو جنم دیتا ھے اور شعری تاریخ کا ورثہ بڑا کرتا ھے۔ جنید آزر کو اپنے اس منصب کی قدرو قیمت کا پتہ ھے جس کی وجہ سے وہ لہلہا رھا ھے:
” تخم ِ امید سے یہ عہد کیا تھا میں نے
دھوپ میں جلتا رھوں گا میں شجر ھونے تک”
زوال ِ عہد ِ حاضر اور استقبال ِ عصر ِ آئندہ کن شرائط پر میسر آتا ھے اور نئی نسلوں پر اس کے کیا اثرات نکلتے ھیں جنید آزر کا زرخیز وجدان اسے بخوبی جانتا ھے ، وہ اپنے خوابوں اور ان کی دن میں دیکھی تعبیروں کو سیر ِ حاصل ِ آئندہ کے عنوان سے رقم کرتے ھوئے اپنی ذمہ داری خوب ادا کر رھا ھے:
” بزرگوں کی شبیہیں ھیں مرے بچوں کے چہروں میں
میں ماضی کے حوالوں کو ھی مستقبل سمجھتا ھوں”
اور کہیں کہتا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"پہلی ھی نسل کے ابھی اترے نہیں ہیں قرض
"کھانے لگا ھے کیوں غم ِ آئندگاں مجھے”
جنید آزر زندہ احساس ، زرخیز وجدان اور چشم ِ بینا کا مالک ھے۔۔۔۔۔۔۔ اس کے تجربے صادق اس کے قول مستند ھیں۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر انسان جذبہ ء تخیل میں بھی اپنے سچ کی آبرو نہیں کرے گا تو وہ اپنے تفکر آمیز عمل میں کیسے نمو کرے گا ؟ جنید آزر کے یہاں یہ آمیختہ جگہ جگہ نظر آتا ھے۔
” میں ایسی بات بھلا کیسے مان سکتا ھوں
فقیر رقص کرے موج میں دھمال نہ ھو”
” میں کیا کروں گا چمکتے ھوئے ستاروں کو
مری نظر میں اگر روشنی بحال نہ ھو”
جنید آزر ایسا حساس شاعر ھے جو درد و کرب کے احساس کو اپنی پلکوں سے چنتا ھے اور آنکھوں کے راستے اپنے وجود میں جذب کرتا ھے۔۔۔ اس انجذاب میں جب اس کا دم گھٹنے لگتا ھے تو وہ اس کرب کو۔۔۔۔ احساسِ دروں کی دھیمی دھیمی لو میں قطرہ قطرہ پگھلتے لفظوں کی صورت سپرد ِ قلم کرتا ھے۔
"مجھ سے گیلی ھوا لگ کے روتی رھی
میرے سینے میں جنگل اگا رہ گیا
اتنی شدت سے میں نے پکارا اسے
میری آواز پر آبلہ رہ گیا”
"کوچ کر جائیں گے زنداں سے اسیر ِ آرزو
اک تعلق درد کا زنجیر سے رہ جائے گا
پیاس میری پانیوں پہ تیرتی رہ جائے گی
میری حسرت کو سمندر دیکھتا رہ جائے گا”
جنید آزر کو ادراک ہے کہ اس کی شاعری میں تلخی کی شدت زیادہ ہے اور وجہ حد درجہ حساسیت ہی ہے۔
"ہوا نہیں تو یہ ممکن ہے ہونے لگ جائے
ہَوا چراغ کا دْکھ سن کے رونے لگ جائے
یہ کیسا در مجھے ورثے میں مل گیا آزر
جو دَر جگاؤں تو دیوار سونے لگ جائے”
جنید آزر کی شاعری ایک خاص قسم کی معنویت ، خاص قسم کے احساس ، خاص قسم کے کائناتی مشاھدات پر مشتمل ھے۔
” کوئی سورج سے کہاں آنکھ ملا سکتا تھا
یہ تو ھم تھے جو نکل آئے اسے چھونے بھی”
جنید آزر حقیقت پسند شاعر ہے جس کی نظر گہری اور مطالعہ عمیق ھے تبھی تو وہ کہتا ہے۔
"چپ چاپ اْترتا ہوا اک ضعف کا موسم
میں جسم کی تختی پہ لکھا دیکھ رہا ہوں”
جنید آزر الفاظ کو برتنے کا فن خوب جانتا ھے۔اس کے ھاں جذبے کی گہرائی ، گیرائی ، سچائی، اظہار کا قرینہ ، شعری وجدان ، استحکام ، عملی و نفسیاتی ادراک سب کچھ دیکھنے کو ملتا ھے۔ پرانے موضوعات کو نئے انداز میں بیان کرنے کا فن جانتا ھے۔
"میں اعتکاف میں بیٹھوں گا ایک شب کے لئے
پھر اس کا کشف مرے جسم و جاں سے جھانکے گا
مجھے اتارا گیا بے زباں قبیلے پر
سو میرا کرب کسی کے بیاں سے جھانکے گا”
جنید آزر نے اپنی شاعری کو صرف ہجر و وصال ، گل و بلبل تک ھی محدود نہ رکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا دکھ آفاقی ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زمینی حقائق سے جڑا ھوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ خود کہتا ہے:
” کوئی بھی با شعور شخص اپنے ماحول اور معاشرے سے کٹ کر نہیں رہ سکتا دوسروں کی طرح میں بھی اسی معاشرے کا حصہ ھوں۔ مجھے بھی اس معاشرے کی تمام تلخیوں اور مٹھاس کا ذائقہ اپنی زبان پر محسوس ہوتا ہے”
جنید آزر اپنے اطراف پھیلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معاشرتی ناھمواریوں کا دکھ اپنے دل کے نہاں خانوں میں سمیٹے کہتا ھے:
"شکم میں بھوک تو آنکھوں میں خواب رکھتے ھیں
ھم اپنے بخت میں دْھرا عذاب رکھتے ھیں”
جو لکھ رھا ھے مقدر کے حاشئیے آزر
اسی کے نام سبھی اقتباس رکھتے ھیں”
جنیدآزر کے ہاں حساسیت کی انتہا دیکھئے:
"بوڑھے شجر سے آخری پتے کا دکھ نہ پوچھ
اندھی ہوا کا خوف ہے لرزاں کئے ہوئے”
اسکی شاعرانہ قوت ِ تجزیہ شاندار ہے ، جب وہ اطراف کی صورتحال پرنظر کرتا ہے تو اس کا جی کڑھتا ہے ایسے میں اسکا وجدان پکار اٹھتا ہے:
"ھم لوگ کمک مانگنے لگتے ہیں ہَوا سے
ہم پر جہاں کھلتا نہیں دروازہ سفر کا”
شاعری وضاحت ھے، سلیقہ ہے۔ بشر کے ذاتی اور وجدانی المیہ کا منظم بیان ہے کس سہولت اور تخلیقی مہارت کے ساتھ وہ اتنا بلیغ شعر کہہ جاتا ہے:
"کہیں ورثے میں اندھی خواھشیں پروان چڑھتی ھیں
کہیں زندوں کو مْردوں کی وصیت مار دیتی ھے”
محبت اپنی تمام تر کوملتا اور کسی نیم خوابیدہ احساس کی طرح اس کے ارد گرد مدھر لے میں رقصاں ھے:
"ھوا کے دوش پہ خوشبو کو دنگ کرتا رھا
میں اسکے خوابوں پہ آنکھوں سے رنگ کرتا رھا
تھا دسترس میں مری اْس کا ابر جیسا بدن
میں سورجوں کی طرح سے ترنگ کرتا رھا”
یا پھر یہ اشعار دیکھئے:
"خوشبو کی طرح مست بہارِ بدن میں رہ
اچھا ہے تھوڑی دیر خمارِ بدن میں رہ
میں بھول ہی نہ جائوں ترے لمس کی مہک
میں چاہتا ہوں یوں ہی خمارِ بدن میں رہ”
جوں جوں ھم اس کی لطیف شاعری کی پرتوں کو کھولتے چلے جاتے ھیں جنید آزر ھمیں صنم تراشی کے ایسے معبد میں لے جاتا ھے جہاں اسکی چشم ِ تخیل اپنے دیکھے ھوئے خوابوں اور۔۔۔۔۔۔۔ اس کی سانسیں اپنے وجدان کے چکھے ھوئے آمیزوں کو اگل رھی ھوتی ھیں ایسی ھی شاعرانہ لطافتوں سے مزین ، نرم کیفیت میں ڈوبی نظم:
خواب کا اک منظر” ”
"خواب نے اپنے بوسے مری آنکھ پر رکھ دئے
اور منظر بدلنے لگے
ایک پل میں زمیں آسماں کے کناروں کو چھونے لگی
زھر امرت بنا
زندگی کی حرارت رگ و پے میں اتری تو خواھش کی آنکھیں کھلیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی میرے سینے میں کب سے مقید تھی
اور سانس لیتی تھی۔۔۔۔۔۔
دل میں دھڑکتی تھی پر زندگی تو نہ تھی
پھراچانک کسی مرمریں ھاتھ کا لمس سینے پہ اترا تو ایسا لگا
جیسے بے جان پتھر میں جاں پڑ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اک چشم ِ دل افروز کا عکس دل پہ پڑا
رنگ اور روشنی کے معانی کھلے
سایہ ء￿ سبز سر پر ردا بن گیا
خواب نے اپنے بوسے مری آنکھ پر رکھ دئیے
معجزہ ھو گیا۔۔۔
یہاں لطافت خیال اور نازک احساس کا ایک اور شعر بھی دیکھتے چلیں:
"تم ہو نازک خیال کی مانند
تم کو چھوتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں”
جنیدآزر کی شاعری میں سہل ممتنع کی مثالیں جا بہ جا ملتی ہیں۔۔۔ شعر پڑھئے اور سر دھنتے جائیے:
"میرے لب پر سوال آتا نہیں
آپ کو خود خیال آتا نہیں”
یا
"ہم نے مانا تمہیں عزیز نہیں
دل مگر توڑنے کی چیز نہیں”
یا پھر:
"کس طرح سے بچیں گے نظروں سے
لوگ تو ہر جگہ پہ ہوتے ہیں”
یہاں چند اشعار دیکھئے جو جنید آزر کی شاعری کے مختلف فکری رنگ بکھیر رہے ہیں:
"کھینچے گا کہاں اْس کو مرا سادہ تکلم
وہ شخص ابھی چرب زبانوں میں گھرا ہے”
"میں پھول بانٹتا رہتا ہوں شہر والوں میں
پھر ان کے ہاتھ میں پتھر کہاں سے آتے ہیں”
"سحر کا نور نہیں شام کا اجالا نہیں
بصارتیں مری بینائی کا حوالہ نہیں”
ایک باشعور، عاقل و بالغ تخلیق کار کی طرح ملکی سطح پر ھونے والے سانحات و واقعات شدت سے اس پر اثر انداز ھوتے ھیں اسی شدت سے وہ اس کرب کی ترسیل بھی کرتا ھے۔۔۔ اس کی شاعری میں جذبہ ء￿ حْب الوطنی نخل ِ سر سبز کی طرح تر و تازہ ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"میں اپنی ذات پہ مرتا رہا سمٹتا رہا
مرا وطن پہ تو سارے وطن میں پھیل گیا”
اور کہیں وہ ساری زندگی کی کمائی اپنی شہرت ، اپنے نام و نسب کو ٹھوکر مار کر کہتا ھے:
"کیا مرا نام و نسب کیا مری ہستی آزر
اتنا کچھ ، کچھ بھی نہیں اپنے وطن سے ہٹ کر”
جنید آزر کی پہلی شعری کاوش” کاغذ کی راکھ” 1998 میں منظر ِعام پر آئی جسے سردار عبدالرب نشتر ایوارڈ اور گورنر سرحد نے گولڈ میڈل سے نوازا۔ اس کے علاوہ متعدد اعزازات جن میں "الکرم میلینیم ادبی ایوارڈ 2000″، "بزم ِ اردو بریڈ فورڈ کی جانب سے ادبی ایوارڈ وغیرہ شامل ہیں، سے نوازا جا چکا ھے۔ دوسرا شعری مجموعہ ” اشارہ” 2008 میں منظر ِ عام پر آیا۔ اس کے علاوہ 2 تحقیقی کتب بھی شائع ہو چکی ہیں۔
جنیدآزرکی شاعری کا مطالعہ ہمیں اس کی متنوع فکری جہات سے روشناس کراتا ہے۔ آئندہ دنوں میں وہ اپنے لب و لہجے کی انفرادیت کو کتنی وسعتوں سے ہم آہنگ کرنے میں کامیاب ہوتا اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کر ے گا مگر امکانی طور پر اس کے روشن شعری مستقبل کی پیش گوئی کی جاسکتی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ شاعری اور بالخصوص غزل ہر شاعر کو اپنے دامنِ قبولیت میں جگہ نہیں دیتی۔ میں سمجھتی ہوں کہ جنیدآزر شعرا کے اس کارواں کا حصہ ہے جس کے سر پر غزل اپنا سایہ کرتے ہوئے تنگ دامنی اور بخیلی کا مظاہر ہ نہیں کرتی۔

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook