Home / خبریں / خطاطی اور کمپیوٹرکا موازنہ

خطاطی اور کمپیوٹرکا موازنہ

551918_141088069398390_1995294034_n
خطاطی اور کمپیوٹر کی دنیامیں ’’فیروز ہاشمی‘‘ ایک معروف نام ہے جو نام و نمود کی چاہت کے بغیر محنت کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ تعلیمی اعتبار سے فارغ التحصیل (الفاضل) مدرسہ حسین بخش دہلی ہیں۔خطاطی اور آرٹ ان کا محبوب مشغلہ ہیں۔ فی الحال گزشتہ نوسالوں سے ان پیج اردو کے ادارہ کے ساتھ کام کررہے ہیں ۔ خطاطی اور فونٹوگرافی پر انہوں نے بہت کچھ کام کیا ہے جو تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ گزشتہ دنوں ان کے دو انٹرویو ٹیلی ویژن پر دیکھنے کو ملے۔ پہلاانٹرویو خطاطی کے بارے میں NET نے کیا تھا اور دوسرا انٹرویو خطاطی و کمپیوٹر کے بارے میں ETV Urdu(ای ٹی وی اردو) نے کیا تھا۔ ان دونوں انٹرویو کو رعنا رگھوناتھ پوری کے ذریعہ تحریری شکل دے کر پرنٹ میڈیا سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے پیش کیا جارہاہے۔
سوال:- فن خوش نویسی جواس وقت دم توڑ رہی ہے، آپ پھر بھی اس فن کی بقا کے لئے کوشاں ہیں۔ کیا آپ کی کوششیں کامیاب ہیں؟
جواب:- فن خوش نویسی بہت عرق ریزی اور دیدہ ریزی کاکام ہے۔ آج کے تیز رفتار زمانہ میں وہی فنکار باقی ہیں جواپنے فن میں مشاق و ماہر ہیں۔ کوئی بھی فن کار اگر اپنے فن کو صرف روزی روٹی کا ذریعہ سمجھ کرکام کرے گا تو اس فن کی اہمیت کم ہوتی جائے گی۔ جس کی وجہ سے وہ اس کام سے منہ موڑے گا۔ نتیجہ میں وہ فن جلدی دم توڑے گی۔ اگر فن کو بحیثیت فن اختیار کیا جائے تو وہ فن کبھی دم نہیں توڑے گی۔ جہاں تک فن خوش نویسی کاتعلق ہے تو اس کو سیکھنے کے لئے پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے۔ کم سے کم اتناکہ املا درست لکھ سکے۔ فن خوش نویسی ایسا نہیں ہے کہ صرف اردو زبان میں ہی کی جاتی ہے۔ کسی بھی زبان کے طرز تحریر میں ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے اس زبان کی پہچان بر قرار رہتی ہے۔
فن خوش نویسی ہمارا اثاثہ ہے ۔ اسے سیکھنا چاہئے۔ برقرار رکھنا ہمارا فریضہ ہے۔ اس کا طرز تحریر خاص طور سے نستعلیق طرز تحریر میں ہمارا تشخص ہے۔ جب ہمارا تشخص زائل ہو جائے گا تو ہماری پہچان ختم ہو جائے گی۔ جب پہچان ہی ختم ہو جائے گی تو پھر بچا کیا…؟
اس وقت ہندوستان میں فن خوش نویسی کے لئے کوشش کرنے والوں کی تعداد کم گرچہ ہے لیکن ان کی کوششیں رنگ لاتی رہی ہیں۔ حکومتی سطح سے مراعات ختم ہونے کے باوجود انفرادی طورپر لوگ اس فن کو باقی رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جہاں تک میری کوششوں کی بات ہے تو الحمدللہ میری کوششیں کامیاب ہے۔
سوال:- کیسے؟
جواب:- ہم نے اس فن کو بطور شوق کم عمری میںہی سیکھنا شروع کیا تھا۔ جیسے جیسے ہمارا تعلیمی معیار بڑھتا گیا ہمارا شوق بھی پروان چڑھتا گیا۔ اسی دوران تقریباً ۱۹۸۲؁ء کی بات ہے حضرت علی ؓ کا قول ایک کتاب میں میری نظر سے گزرا۔ علیکم بحسن الخط فانہٗ مفاتیح الرزق۔ ہمیں بڑی خوشی ہوئی اورحوصلہ ملا کیونکہ یہ قول صحابی رسول، ہمارے چوتھے خلیفہ سیّدنا علی کرم اللہ وجہ کا ہے۔ ہماری محنت اورکوششیں تیزتر ہوتی گئیں۔ مختلف مرحلوں سے گزرتے ہوئے ہم ۱۹۹۴؁ء سے اِن پیج اردو سافٹ ویئر کوبنانے اور عوام تک پہنچانے میں لگے ہوئے ہیں۔ الحمدللہ ان پیج اردو ایک کامیاب ترین اردو سافٹ ویئر ہے۔
سوال:- آپ تو کمپیوٹر کی بات پر آگئے جب کہ میرا سوال خوش نویسی سے متعلق ہے۔؟
جواب:- دیکھئے آج کمپیوٹر زندگی کی ضرورت بن گئی ہے۔ کمپیوٹر وہی کام کرتاہے۔ جو اس میں ڈالا جائے جس کام کو کرنے کی صلاحیت اس میں ڈالی جائے گی وہ کام کرے گا۔ اسی طرح اس میں خوشنویسی ڈالی گئی تب وہ اس کام کو انجام دیتا ہے۔ کمپیوٹر میں خوش نویسی آجانے سے یہ فن اب ہر خاص و عام میں مقبول ہورہاہے۔ پرنٹنگ کے کام میں تیزی آئی ہے۔ جس آٹھ صفحات کے اخبار کو تیار کرنے کیلئے کم سے کم سولہ خوش نویس چھ چھ گھنٹے کام کرکے پورا کرتے تھے اب اسے زیادہ سے زیادہ آٹھ آدمی کام کر کے آٹھ گھنٹے میں اخبار تیار کر لیتے ہیں۔
سوال:- کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کمپیوٹر آنے سے خوش نویسی اور خوش نویس دونوں کا بہت نقصان ہوا ہے؟ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب:- ہر نئی چیز کے آنے کے بارے میں لوگوں کی عموماً اسی طرح کی رائیں ہوتی ہیں۔ جو لوگ اس طرح کی رائے آج پیش کر رہے ہیں، چند سالوں میں ہی وہ اپنی رائے تبدیل کریں گے۔ خوش نویسی کو تو نقصان نہیں پہنچا ہے اس کا اندازہ بازار میں آئے اخبار و کتابوں سے آپ لگا سکتے ہیں۔ اگر نقصان ہوتا تولوگ کتابیں کمپیوٹر سے کیوں بنواتے؟ جہاں تک خوش نویسی کی بات ہے تو دنیا کا دستور ہے کہ وہی فن اور فن کار باقی رہتا ہے جس کی بنیادیں مضبوط ہوں۔ فن کار آج بھی زندہ ہیں اوران کے فن بھی۔ یہ بات ہم نے آپ کو شروع میں ہی بتا دی تھی۔ میرے بچپنے کی بات ہے قریباً پچیس سال پہلے جب ہمارے علاقے میں دو پہیہ موٹر سائیکل اور اس قبیل کی دوسری سواریاں آنی شروع ہوئی تھیں لوگوں نے رائے قائم کی کہ اب سائیکل کی اہمیت کم ہو جائے گی، لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ سائیکل کی ضرورت آج بھی باقی ہے۔ ٹیلی ویژن جب درمیانے اور نچلے طبقے میں آنے لگا تو اس وقت لوگوں کی رائے ہوئی کہ ریڈیو، ٹرانسسٹر کا چلن ختم ہوجائے جبکہ ایسا نہیں ہوا پہلے سے زیادہ تعداد میں یہ چیزیں فروخت ہو رہی ہیں اور پہلے سے زیادہ اقسام میں چیزیں دستیاب ہیں۔
سوال:- لیکن خوش نویسی ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی قبیل کی چیز تو ہے نہیں جس سے آپ موازنہ کررہے ہیں۔؟
جواب:- ٹائپ رائٹر اور کمپیوٹر تو ایک قبیل کی چیز ہے نا ؟ اور دونوں چیزوں کی اہمیت بر قرار ہے اور اس کا استعمال بھی ہو رہاہے۔ چیزوں کے استعمال میں آنے اور مقبول ہونے میں انسان کی ضرورت کے ساتھ ساتھ اس کی پسند اور انتخاب کی بھی اہمیت ہوتی ہے۔ آج جو لوگ خوش نویس اور خوش نویسی کے غم میں گھلے جا رہے ہیں، بلکہ موٹے ہوتے جارہے ہیں وہ خود بتائیں کہ خوش نویس اور خوش نویسی کو باقی رکھنے کے لئے کیا اقدام کئے ہیں۔ آپ ان کے گھروں میں جاکر دیکھیں۔ ان کے ڈرائیننگ روم میں خطاطی کے نمونے کے بجائے ننگی عریاں یاناقابل سمجھ تصاویر ہوں گی جسے وہ آرٹ سے تعبیر کرتے ہیں۔ دعوت نامے انگریزی میں چھپتے ہیں۔ ان کے نیم پلیٹ انگریزی میں ہوتے ہیں۔ اردو اخبار و رسائل کی بجائے صرف انگریزی کے اخبار و رسائل ہوتے ہیں۔ یہ چیزیں ان کی ضرورت کے ساتھ ساتھ ان کا انتخاب بھی ہے۔ اگر لوگ اپنی انتخاب میں اردو، خوش نویسی وغیرہ کو شامل رکھیں گے تو کیوں یہ فن دم توڑے گی؟
سوال:- آپ کی نظر میں اردو اورخوش نویسی کا کن کن علاقوں میں چلن ہے۔؟
جواب:- ہندوستان کے بیشتر حصوںمیں اردو اورخوش نویسی سے متعلق تقریباً ایک ہی طرح کی سوچ ہے۔ جنوبی ہند مغربی ہند ان دو علاقوں میں ابھی بھی اس کا چلن زیادہ ہے۔ حالانکہ وہاں بھی لوگ اپنے بچوں کو انگریزی میڈیم سے تعلیم دلواتے ہیں اور ان کی بھی سوچ جدت پسندی کی ہے لیکن پھر بھی وہ اردو زبان اورخوش نویسی کے تئیں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ اس کااندازہ وہاں کے اخبارات کی اشاعت سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ بمبئی شہر سے شائع ہونے والے روزنامہ کی اشاعت کا اندازہ لگایا جائے تو تقریباً ایک لاکھ اخبار روزانہ فروخت ہوتے ہیں جسے کم سے کم دس لاکھ افراد پڑھتے ہیں۔ سب سے زیادہ اردو میڈیم اسکول بھی مہاراشٹر میں ہی ہے۔ بمبئی سے سب سے زیادہ شائع ہونے والا اخبار ’’انقلاب‘‘ ہے۔ اس کے بعدہی اردو ٹائمز اور ہندوستان یادوسرے روز نامے ہیں۔
جنوب میں اگر حیدرآباد شہر کو اردو کامقام کہا جائے تو بے جانہ ہوگا ۔ منصف، سیاست، رہنمائے دکن، ہمارا عوام وغیرہ روزنامہ اخبارکی کل اشاعت تقریباً ڈیڑھ لاکھ روزانہ ہے۔ جسے کم سے کم پندرہ لاکھ افراد پڑھتے ہیں۔ انقلاب بمبئی، منصف اور سیاست حیدرآباد یہ اردو کے تین ایسے اخبارات ہیں جو ویب سائٹ پر دستیاب ہیں یہ روزانہ اَپ ڈیٹ ہوتے ہیں اور دنیا کے کسی بھی گوشے میں پڑھے جاتے ہیں ۔
جنوب میں ہی بنگلور سے کئی اخبار شائع ہوتے ہیں جو آس پاس کے علاقے میں پڑھے جاتے ہیں۔ جس میں روزنامہ پاسبان اور سالار وغیرہ قابل ذکرہیں۔
مشرق میں کلکتہ روز نامہ اخبارات کی اشاعت میں سب سے آگے ہے جبکہ یہ صوبہ خالص بنگلہ بولنے والوں کی ہے بلکہ مادری زبان بھی بنگلہ ہے۔ اس کے باوجود اردوکے اخبارات اچھے خاصے تعداد میں چھپتے اورفروخت ہوتے ہیں۔ جس میں قابل ذکر اخبار مشرق،آزاد ہند، عکاس وغیرہ ہیں۔ جن کی اشاعت اچھی خاصی ہے اور علاقے میں پسندیدہ ہیں۔ ظاہر ہے وہاں کے لوگوں کی پسند اور انتخاب ہے تب اتنی تعدادمیں اخبارات چھپتے اور فروخت ہوتے ہیں ۔ یہ اخبارات معیاری ہیں۔ حیدرآباد کے ہوٹلوں اورچائے خانوں میں اردو، تیلگو اور انگلش ان تین زبانوں کے اخبارات عام طور سے دیکھنے کوملے ۔ گھومنے کے بہانے ہم جب وہاں گئے مختلف ریسٹورینٹ اور چائے خانوں میں کھانا کھایا اورچائے پیا اور سب جگہ ہم نے ایسا ہی پایا۔ بلکہ ایک دوکاندار سے ہم نے پوچھا بھی تو اس نے کہا کہ ’’صاحب یہاں ہر طرح کے لوگاں آتے نا،ان کاخیال رکھنا پڑتا۔‘‘یہ وہاں کے لوگوں کا انتخاب ہے۔ جبکہ ہمارے یہاں یعنی دہلی میں ایسانہیں ہے۔ بہت کم ایسے چائے خانے یا ریسٹورینٹ ملیں گے جہاں آپ کواتنے اقسام کے اخبارملیں گے۔ یہاں تو لائبریری تک میں یہ حالت ہے کہ اردو کے اخبار موجود نہیں ہوتے۔ لائبریرین سے پوچھنے پرجواب ملتاہے کہ یہاں اردو اخبار پڑھنے والے آتے ہی نہیں، اس لئے بندکر ادیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ دہلی سے شائع ہونے والے روزنامہ اخبار کی اشاعت کم ہے۔ جبکہ آبادی کے لحاظ سے سب سے زیادہ اردو کے بہی خواہ اور ہمدر د یہاں کے لوگ ہی اپنے آپ کو کہتے ہیں۔
سوال:- آپ کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ زبان اورخوش نویسی یاطرز تحریر کو باقی رکھنے کے لئے اسے اپنانا ضروری ہے…؟
جواب:- جی ہاں۔ جب ہم اپنی نسل کو اردو سکھائیں گے اردو طرز تحریر سکھائیں گے تب ہی تو یہ زندگی کی ضرورت ہوگی۔ دوسری زبانیں بھی ہماری ضرورت ہے اسے بھی سیکھنا چاہیے۔ جوبھی زبان علاقائی طور پر یا بین الاقوامی سطح پر آپ کی ضرورت ہے سیکھیں۔اگر نہیں سیکھیں گے توزندگی میں آگے نہیں بڑھ سکیں گے اور نہ ہی دوسری قوموںکی طرح اپنی حیثیت برقرار رکھ سکیں گے۔
سوال:- جو خوش نویسی کاکام بذریعہ ہاتھ لیا جا رہاہے کیا یہ سارے کام بذریعہ کمپیوٹر کئے جاسکتے ہیں۔؟
جواب:- بالکل کئے جا سکتے ہیں۔ سافٹ ویئر بنانے میں ان ضرورتوں کو شامل کیاگیاہے اور آئندہ بھی جو ضرورتیں بنیں گی وہ شامل کی جاتی رہیں گی۔ بذریعہ کمپیوٹر کام تیزی اورخوبی سے ہوتا رہے گا۔
سوال:- کمپیوٹر کے بارے میں بیشتر افراد اور کئی خطاط حضرات بھی شکایت کرتے رہے ہیں کہ اس میں غلطیاں کافی ہیں۔ کافی کمیاںہیں۔ آپ اس بارے میں کیا کہیں گے۔؟
جواب:- ان کی شکایتیں بے جاہیں، عبث ہیں۔ یہ لوگ نہ خطاطی کے رموز سے وقف ہیں اور نہ ہی کمپیوٹر کے کام کرنے کے طریقے سے۔ پہلے ان کو چاہئے کہ کمپیوٹر سے ہونے والے کام کو سمجھیں، اس پر غور کریں۔ جتنی خامیوں کی طرف لوگوں نے میری توجہ دلائی وہ سب کی سب آپریٹر کی غلطیاں ہیں۔ اس طرح کی غلطیاں خوش نویس حضرات بھی کرتے رہے ہیں۔ نظم کو نثر میں لکھ جانا، ایک لفظ کے دوسرے حصے دوسری سطر میں لکھنا، یااس قبیل کی دوسری غلطیاں یہ آپریٹیر کی بے توجہی یا لاعلمی کا نتیجہ ہے۔ جیسا کہ ہم نے شروع میں عرض کیا کہ ’’فن خوش نویسی کو سیکھنے کے کم سے کم اتنا پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے کہ املا درست لکھ سکے۔ اس ضمن میں دوسری سب سے بڑی لاپرواہی پروف ریڈر کی ہوتی ہے۔ہر ادارے میں ایک دو پروف ریڈر ضرور ہوتا ہے۔ اسے چاہئے کہ اس پر نظر رکھیں، اس کی ذمہ داری ہے۔
جن خامیوں کی نشاندہی کچھ لوگ آج کر رہے ہیں ان ساری خامیوں کودرست کر کے ۱۹۹۶؁ءمیں ہی دکھا دیا تھا۔ ۱۹۹۷؁ء میں ہم نے ان پیج سافٹ ویئر کو چلانے کے لئے اردو میں مینول تیار کیا۔ یوزر مینوول میں کسی قسم کا دیباچہ یا پیش لفظ لکھنے کارواج نہیں ہے لیکن ہم نے ہندوستانی رَوِش کو اختیار کرتے ہوئے مختصراً وہ ساری باتیں رکھ دی تھیں جسے آپ نے ابھی پوچھا ہے۔ یہ مینوول لے جائیں اور دیکھیں۔ جن خطاطوں کو اعتراض ہے وہ خاص طورسے ضرور دیکھیں۔ مثال کے طورپر مینوول کے صفحہ ۱۱۰؍ اور ۱۱۱؍ پر پانچ طرح سے سرخی بنائی گئی ہے۔ کمپیوٹر سے یہ سرخی ایک منٹ میں ایک بنی ہے یعنی پانچ منٹ میں پانچ ۔ بذریعہ ہاتھ سرخی کے لئے ہم انہیں دس منٹ کاوقت دیتے ہیں یعنی پچاس منٹ میں وہ پانچوںسرخیاں بنا کر دکھائیں۔ ہم مان لیں گے وہ آج کے دور میں واقعی خطاط ہیں۔ ہم مزیدان سے کچھ سیکھیں گے اور جو کچھ ہمیں وہ سکھائیں گے انشاء اللہ جلدی ہی وہ کمپیوٹر میں ڈالنے کی کوشش کریں گے۔
سوال:- اِن پیج اردوکے مقبول ہونے کی وجہ۔؟
جواب:- اِن پیج اردو سافٹ ویئرمیں اردو اور اس سے ہم رشتہ زبانوں میں کام کرنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔ جیسے عربی اورفارسی اس کے علاوہ بھی کئی زبانیں اس میں شامل ہیں۔ جو باصلاحیت ہو اسے ضرورت مند کیوں نہیں قبول کریں گے؟
سوال:- اِن پیج اردو کہاں اورکس طرح کے ضرورت مند افراد استعمال کررہے ہیں۔؟
جواب:- اِن پیج اردو دنیا کے کونے کونے میں جہاں بھی اردو والے موجود ہیں اور کمپیوٹر کا استعمال کر رہے ہیں تو ان کے کمپیوٹر میں اِن پیج ضرور ہے۔ استعمال کنندہ کسی بھی سطح اور قبیل کے لوگ ہو سکتے ہیں۔ غلطی کرتے ہیں لیکن پھر وہ سیکھتے ہیں۔
سوال:- کس ملک میں آپ کا سافٹ ویئر زیادہ استعمال ہو رہاہے؟
جواب:- ہندوپاک دنیا کے یہ دو ممالک ہی اردو کے لئے اب زرخیز ہیں۔ ان ہی دو ملکوں میں سب سے زیادہ استعمال ہو رہاہے۔ مغربی ممالک میں بھی ان پیج اردو کافی تعداد میں استعمال ہو رہے ہیں خاص طور سے یوکے میں۔
سوال:- کیایو کے کے لوگ زیادہ اِن پیج کو پسند کر رہے ہیں۔ کیا وہ لوگ بھی اِن پیج کی خامیوںکی طرف آ پ کی توجہ دلاتے ہیں۔؟
جواب:- مغربی ملکوں میں لوگ اردو کام کے لئے ان پیج ہی استعمال کررہے ہیں بلکہ ان کی پسند اور ضرورت کا خیال رکھتے ہوئے آج ہم اِن پیج کا تیسرا ورژن تیار کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ہندوپاک میں تو پرانے ورژن لے کر ہی لوگ کام کررہے ہی۔ بلکہ اب تو زیادہ تر لوگ Pirated ورژن سے ہی اپنا کام چلا رہے ہیں۔
بیرون ممالک کے لوگوں نے بھی ان پیج میں خامیوں کی طرف توجہ دلائی ہے لیکن ہندوستانیو ں کی طرح بے سرپیر کے سوالات نہیں پوچھتے۔ وہ لوگ کمپیوٹر کا استعمال پہلے ہی سے کررہے ہیں۔ لہٰذا وہ لوگ اچھی طرح پرکھنے کے بعد ہی ہم سے کوئی سوال کرتے ہیں۔ منطقی طور پر ان کے سوالات اور ضروریات کافی اہم ہوتے ہیں۔
سوال:- آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ ہندوستانی ابھی کمپیوٹر کی بنیادی چیزوں کو نہیں سمجھتے؟
جواب:- سمجھتے ہیں۔ جو لوگ بنیادی چیزوں کو سمجھتے ہیں وہ اعتراض ہی نہیں کرتے ہیں۔ آپ نے ان چند سطحی لوگوں کی بات کو بنیاد بنا کر سوال کیا اس لئے ہمیں خواہ مخواہ اتنا لمبا جواب دینا پڑا۔ ہم نے تو آپ سے عرض کیا کہ یہ سارے اعتراضات آج سے پانچ چھ سال قبل ہی حل کئے جا چکے ہیں۔
سوال:- خیراب آپ یہ تیائیں کے ان پیج کے تیسرے ورژن میں کیا پیش کرنے جارہے ہیں؟
جواب:- اس میں خط نستعلیق میں خوش نویسی جیسی خوبصورتی کے لئے کشش کا استعمال ممکن بنایا گیا ہے فوٹ نوٹ، یونی کوڈ وغیرہ خصوصیات قابل ذکر ہیں۔ ہر ایک کی تفصیل یہاں بتائی نہیں جا سکتی ہے بات لمبی ہو جائے گی ویسے جو ان پیج یا کمپیوٹر کے اصلی استعمال کنندے ہیں وہ اِن امور کو آسانی سے سمجھ لیں گے۔ مزید تفصیلات کے لئے یہ بروشر لے جائیں یا ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں۔ www.inpage.com

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook