Home / خبریں / ذکیہ مشہدی کے نمائندہ افسانوں کا تجزیاتی مطالعہ

ذکیہ مشہدی کے نمائندہ افسانوں کا تجزیاتی مطالعہ


احمد رشید

گلی رہٹ والا کنواں،سرائے رحمن، علی گڑھ

ذکیہ مشہدی اپنے ڈھب کی الگ فنکار ہیں جن کی قلم میں روانی بھی ہے اور موضوعات کی تازگی بھی۔وہ جن موضوعات پر قلم اٹھاتی ہیں اُس کا پورا پورا حق ادا کرتی ہیں۔ان کے تاہنوز چھہ افسانوی مجموعے اشاعت سے ہمکنار ہوچکے ہیں جو درج ذیل ہیں:
۱۔ پرائے چہرے ۱۹۸۴ء
۲۔ تاریک راہوں کے مسافر ۱۹۹۳ء
۳۔ صدائے بازگشت ۲۰۰۳ء
۴۔ نقش ناتمام ۲۰۰۸ء
۵۔ یہ جہانِ رنگ وبو ۲۰۱۳ء
۶۔ آنکھن دیکھی ۲۰۱۷ء
مندجہ بالا مجموعوں میں شامل افسانوں کی تعداد مجموعی طور پر اکیاسی[۸۱] بنتی ہے ۔ان میں دو ناولٹ ’قصہ جانکی رمن پانڈے‘اور’پارسا بی بی کا بگھار‘بھی شامل ہے۔آخر الذکر ناولٹ الگ سے کتابی صورت میں بھی منظر عام پر آچکی ہے۔ذکیہ مشہدی کا قد ہمعصر افسانے میں بڑھتا ہوا نظر آتا ہے۔انھوں نے مختلف موضوعات پر کئی اہم کہانیاں تخلیق کی ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے تمام افسانوں کا تفصیلی مطالعہ کیا جائے لیکن پھر بھی یہاں چند نمائندہ افسانوں کا تجزیہ پیش کیا جارہا ہے۔
سنسکرتی کا پانچواں ادھیائے
کہانی کہنے میںذکیہ مشہدی کاانداز اس قدر عمدہ ہے کہ پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ واقعہ آنکھوں کے سامنے رونماہورہا ہے۔ابتداسے اختتام تک تجسس برقرار رکھنے میں ان کو کمال حاصل ہے۔ان کا مرغوب موضوع عورتوں کے مسائل ہیں۔ عورتوں کی نفسیات کا مطالعہ بہت گہرا ہے۔انہوں نے عورتوں کی خانگی زندگی کے تعلقات اور رشتے نبھانے میں جن مسائل سے دوچارہونا پڑتا ہے ان پر بڑی خوبصورت کہانیاں لکھی ہیں۔انہوں نے عورتوں کی کمزوریوں اور تکالیف کوپوری درد مندی کے ساتھ پیش کیا ہے۔مصنفہ نے عورت کی معاشرتی زندگی اور روز مرہ میں گزرنے والے لمحات کو حقیقی تناظر میں روشنی ڈالی ہے وہ اپنے افسانوں میں نسوانی کردار کے ساتھ اپنی ذات کی نمائندگی بھرپور کرتی ہیں۔اس میں ان کی زندگی کے تجربات اور مشاہدات کی سچی تصویریں دیکھنے کو ملتی ہیں۔وہ اعلیٰ سوسائٹی میں زندگی گزارنے والی عورت کی تصویر بھی بڑی فنکاری سے ابھارتی ہیں نیز عصری آگہی اور معاشرتی معنویت کو خود اپنے تجربات اور غور وفکر کا حصہ بناکر اپنے افسانوں بڑی فنکاری سے پیش کرنے کا ہنر جانتی ہیں۔
ذکیہ مشہدی کے افسانے ارضیت اور مقامیت سے جڑے ہوتے ہیں۔بھلے ہی ان کے افسانے بہار اور اودھ کے علاقہ سلطان پورکی زمین سے اگتے ہیں لیکن اس کے پس منظر میں ہندوستان کی تہذیب اور معاشرت کے منظر نامے ہمیں دکھائی دیتے ہیں۔
ہندوستان کے تمام صوبے،شہر اور گائوں دقیانوسی رواجوں اور توہمات میں ملوث نظر آتا ہے۔بھوت پریت،آسیب اور بدروحوں کے تصورات پرانے وقتوں سے ہندوستان کے کلچر میں دکھینے کو ملتے ہیں۔موجودہ سائنسی دور میں بھی کم افراد کو چھوڑ کر بڑے بڑے پڑھے لکھے،جاہ وثروت والے،عزت دار یہاں تک کہ نیتا اور کرسی نشین بھی ان بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ بلاتخصیص مذہب وملت ہندوستان میں رہنے والے ہندومسلمان اور دیگر قوموں کے اندر بھی بیہودہ رسومات اور توہمات دیکھنے کو ملتی ہیں:
’’اس وقت بکنگھم پیش پیلس میں بہوئوں کی نئی کھیپ نہیں آئی تھی۔نہ ہی صفدر جنگ روڈ میں بیٹے جوان ہوئے تھے ورنہ پتہ چلتا ہے کہ سنسکرتی کے پانچویں ادھیائے کا یہ صفحہ تو سلطان پور اودھ کے محلوں سے لے کردلی کی شاہی رہائش گاہوں سے گذرتا ہوابکنگھم پیلس تک کھلاپڑاہے۔‘‘(۸۱)
’’سنسکرتی کاپانچواں ادھیائے ‘‘ افسانہ میں الّو کا شکار ہونے کے بعد جو صورت حال بنی مذکورہ کہانی میں بیان کی گئی ہے۔یہ مجوزہ ناول کا پہلاباب ہے۔حالانکہ یہ واقعہ تو اودھ سلطان پور کے محلے کا ہے لیکن الو کے بارے میں جو تو ہمات مشہور ہیں وہ تقریباً ہرگائوں سے لے کر شہروںتک سننے کو ملتی ہیں۔مذکورہ اقتباس میں موصوفہ اسی بات کی نشاندہی کی ہے کہ بکیگھم پیلس ہویا صفدرجنگ روڈ جو آج جدید طرز کاپوش علاقہ ہے گزشتہ دور میں اس کا ماحول بھی سلطان پورا ودھ کے محلوں سے الگ نہیں تھا یہاں تک کہ شاہی رہائش گاہیں جو پرانی دلی میں قائم ہیں۔ وہاں سے بکنگھم پیلس تک سنسکرتی کے پانچویں ادھیائے جیسی صورت حال تھی۔الواور الو کا گوشت ہرمرض کا علاج تھا۔عورتیں جو اپنے مردوں کو قابو میں کرنا چاہتی تھیں تو اپنے مردوں کودھوکے سے اس کا گوشت کھلا کر اپنے بس میں کرتیں۔رام آسرے ریلوے کلرک کی پڑھی لکھی بیوی بھی اپنے شوہر جو ایک بنجارن کے عشق میں پاگل تھا ۔پیچھا چھڑانے کے لیے رفیقن بوا کو ایک روپیہ دے کر الو کا گوشت لائی۔ یہ سوچ کر کہ اب گھن آئے یا پاپ چھڑے۔ایک پورگھیس کر گوشت رام آسرے بابو کے کھانے میں ملاہی دنیا ہے:
’’محلے میں ایسی کہانیاں بہت عام تھیں۔پیارے میاں انصاری ،پیارے لال لوہیا، جگ رام داس چودھری،رام داس کسوندھن اور تو اور مشرائن جن کے یہاں پیاز لہسن کا بھی پرہیز تھا اور میر صاحب کی بی بی جو محلے کی بچیوںکو قرآن پڑھاتی تھیں اور جن کے پاس لوگ بچوں کو پھکوانے لے جاتے تھے سب کو ذرا ذراالو کا گوشت درکار تھا۔سب سے قیمتی چیز یعنی الو کی زبان رکھی رفیقن بوا نے۔ اس لیے کہ الو پران کا دعویٰ مضبوط تھا وہ ان کے بھیا یعنی حکیم صاحب نے مارا تھا۔ الو کی تکابوٹی بھی انہوں نے ہی کی تھی۔‘‘(۸۲)
رفیقن بوا کا دعویٰ اس لیے درست تھا کہ مصنفہ افسانے کی ابتداہی میں اس کا ذکر کر چکی ہیں کہ حکیم صاحب کے یہاں رفیقن بوا گھریلو کام کرنے والی عورت ہیں۔الو کا شکار کس نے کیا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ اس کے پھڑپھڑا کر مرنے کا حادثہ حکیم صاحب کے چبوترے پر ہوا تھا۔جب انہوں مردہ الو کو ڈنڈے پر اٹھا کر گھورے پر پھینکنے کا اصرار کیا تو شہزاد ے کی دادی دوڑی آئیں اور رفیقن بوا بھی پہونچیں’’بھیالے کے آئے رہے،سب سے پہلے ہم لیںگے‘‘اور رفیقن بوانے الو کے گوشت خاص طور سے اس کی زبان کے فیوض بیان شروع کر دیئے۔اس دن محلے کے کئی گھروں میں الو کا گوشت بٹا۔باقی رفیقن بوا سے وعدہ کیاگیا کہ ضرورت پڑنے پروہ اپنے پاس سے لاکر دیں گی۔بس گھس کر ایک پورچٹادوں وہی ہی اپنا کام کرجاتا ہے۔
ظہور احمد کے یہاں بچے نہیں بچتے تھے۔ملنگ بابانے بتایا بہو پر چڑیل کا سایہ ہے۔بچہ پیدا ہوتے ہی اسے اپنا دودھ پلاجاتی ہے اور بچہ مرجاتا ہے۔تعویز گنڈے مگر افاقہ نہیں ہوا۔چار بچے ہوکر مرگئے۔کئی لوگوں نے اگلے بچے کے لیے الو کا گوشت،گھس کرچٹانے کی تجویز پیش کی اور ظہور محمد کی اماں بوٹی کٹواکر لے گئیںاور دھوپ میں باریک کپڑا ڈھک کر احتیاط سے سکھانے کے لیے رکھ دیا گیا۔
دراصل مذکورہ افسانہ کا بنیادی موضوع سماج میں پھیلی بیہودہ تو ہمات اور دقیانوسی خیالات پر مبنی ہے۔ کہانی کی ابتداشکار یات کے شوق سے ہوتی ہے اور وسط سے اختتام تک کہانی’’الو‘‘اور الو کے گوشت کے اردگرد گھومتی ہے:
’’حکیم انور حکمت کم کرتے تھے مطب پر بیٹھ کر لکچر جھارٹے(جن میں اکثر لگائیوں کو گالیاں اور نہروگاندھی کی سیاست پر تبصرہ شامل ہوتا)یاشکار کو نکل کھڑے ہوتے۔بڑا شکار تو کبھی نہیں کیا۔بس ایک دوبار بھیڑیئے مارے تھے اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے انعام پایا تھا۔اسی موقع پر اُن سے نیل گائے کے شکار کا پرمٹ لے لیا تھا۔‘‘(۸۳)
حکیم انور کے شکار کے ساتھیوں میں وصولپاڑی ایک ہنسوڑ،گھٹیا حرکتوں اور مبالغہ آمیز داستانیں سنانے والا انسان تھا۔ حالانکہ انور اس کی بیہودہ حرکتو ں کی وجہ سے ناپسند کرتے تھے۔چونکہ وہ ایک جگاڑ وآدمی تھا اس لیے شکار کے موقع پرایسے انسانوں کو رکھنا ان کی ضرورت تھی۔راجہ صاحب حسن پورہ اور ان کے جگری دوست گنگیئوکو ٹھی والے میرن صاحب وغیرہ بھی ان کے ساتھ ہوتے تھے۔حکیم صاحب گولی چلاکر ہٹ جاتے جانور گرتا تو وصولپاڑی دوڑتے اور چھری چلاتے۔ گوشت کی تقسیم،کھال اتارنا حصے بخرے کرنا بھی ان کے کام تھے جس دن گائوں میں شکار آجاتا مانو وہ دن بہت خوشی کا ہوتا ۔اس بہانے گائوں والے مسلمانوں اور کچھ ہندئوں کو بھی گوشت کھانے کو مل جاتا ۔
اکثر گائوں کے ٹھاکر خبر بھجواتے کہ ارہر کے کھیت میں ریوڑآگئی ہے جو کھیت کو نقصان پہنچارہی ہے اور حکیم صاحب پورے انتظام کے ساتھ نکلتے۔ اس دن گائوں میں خوشی کا ماحول ہوتا بقول ایک مسلمان مہاوت’’بہت لوگن کے ہریا بھرجات بھیا‘‘۔
ٹھاکر کی خبر پر جمعرات کے روزشکار کے لیے نکلنا پڑاپوری کو شش کے باوجود بھی شکار نہیں ملا۔اس کی وجہ بھی اندھ وشواش ہی نکلی:
’’بھیاجانتے نہیں ہیں۔اچھا ہوا لیل گاہ چلے گئے۔وہ اصل لیل گاہ نہیں تھے۔ادھر سے آئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’کدھر سے؟‘‘
’’آج جمعرات ہے نہ بھیا‘‘
’’ابے تجھے جمعہ جمعرات سے کیا مطلب؟‘‘
’’مطلب ہے نہ بھیا۔جمعرات کے روز پانچوں پیرن کی طرف سے لیل گاہ آتے ہیں۔کھیت کے کھیت چرکے،روند کے نکل جاتے ہیں۔ان پر گ ولی چلائو تو اثرہی نہیں کرتی۔ہاں بھیا اور کتنا کھیت کھا جائیں فصل میں برکت ہوتی ہے۔اب دیکھو نہ ٹھاکروں کی کھڑی ارہر گراگئے ۔ان کے کوئی کمی تھوڑہی ہوگئی۔‘‘(۸۴)
ٹھا کر وں کی بگیا پہنچتے پہنچتے سورج غروب ہوگیا تھا۔ راستے میں دوچار الووّں کی ہوہو سنائی دے گئی تھی،کچھ چمگاڈر بھی سرپر سے گزرگئے لیکن شکار نہیںملا ۔وصومیاں نے حکیم صاحب کی ایرگن اپنے کندھے پرلٹکارکھی تھی۔ انہوں نے منحوس صورت ،شکار نہ ملنے پر مذاق اڑانے والے الو پرنشانہ سادھا تو اس کے بازو کے جوڑ پرج کے لگااور وہ دھپ سے نیچے گرا۔وصومیاں نے سوچا شکار تو ملانہیںچلو تماشہ ہی سہی’’ٹھاکروں کے گماشتہ نور میاں نے جھر جھری لی۔شام کا وقت،جمعرات کا دن اور موچرائی کو گرالیا‘‘جوسورتیں تھیں وہ انہوں نے جلدی جلدی الٹی سیدھی پڑھنی شروع کردیں ۔الو کے سلسلے میں ایسی بہت سی روائتیں مشہور ہیں کہ یہ منحوس پرندہ ہوتا ہے ویرانہ پسند ہوتا ہے،ویرانہ چاہتا ہے ،آبادی سے دور رہنا پسند کرتا ہے۔ اگر آباد علاقے میں لوٹ آئے تو اس کا وہاں سے گزر بھی منحوس خیال کیا جاتا ہے نہ صرف مسلمانوں میں ہندئوں میں بھی اس طرح کی کہانیاں مشہورہیں۔ ٹھاکروں کے آفیشیل پجاری سنت رام پنڈت نے سندھیاآرتی کے وقت اسے دیکھا تو خوف زدہ نظروں سے وصولپاڑی اور حکیم صاحب کو دیکھ کر کہا‘‘ملا سانجھ کے ٹیم ای موچرئی مارے کی کون تک رہی؟چھوڑ دئیو سسر ے کو‘‘
پنڈت جی کا خوف بھی اس بات کی علامت ہے کہ ہندوئوں کے یہاں بھی اس پرندہ کو اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا۔
ذکیہ مشہدی نے اپنے معاشرے کی عورت ہی نہیں بلکہ مسلم معاشرے کا نقشہ نہایت سچائی سے کھینچاہے کہ گائوں کے مسلم معاشرہ میں عورتیں کس انداز میں رہتی ہیں خاص طور سے مسلم بہوئیں کس قدر پابندی میں رہتی ہیں:
’’دراصل محلے کا کمپلیکیشن کچھ یوں تھا کہ بیٹیاں تو سرڈھک کے میلے ٹھیلے، اسکول یارشتے داروں کے یہاں آتی جاتی رہتی ہیں کہ چہرہ ڈھکناان کے لیے ضروری نہیں تھا مسلمان لڑکیاں بارہ تیسرہ سال کی عمر کے بعد برقعہ اوڑھنے لگتی تھیں لیکن کچھ نقاب گراکے اور کچھ نقاب اٹھاکے بھی باہر نکل لیتی تھیں۔بہوئوں کے لیے ضابطے تقریباً یکساں تھے۔ہاتھ بھر گھونگھٹ نصف زندگی کڑھارہتا۔‘‘(۸۵)
بہوئوں اور بیٹیوں کے لیے الگ الگ ضابطوں کے فرق بھی اس اقتباس میں صاف نظر آتی ہے۔ اسی طرح ہندو اور مسلمان بیوہ عورتوں کی زندگی جینے کا فرق بھی مذکورہ افسانہ میں واضح کیا گیا ہے جو انسانی تہذیب کے تضاد کو بیان کرتاہے ۔ دراصل مصنفہ نے معاشرہ میں اس کی حیثیت اور اس کے ساتھ ہونے والے اختیارات کو دردمندی کے ساتھ بیان کیاہے۔
’’اس میں ہندو،مسلمان کی تخصیص بس اتنی ہی تھی کہ ہندوبوڑھیاں بیوہ ہوجانے کے بعد سلاہوا کپڑا پہننا عموماً بند کردیتیں۔لیکن کیا مجال جوبے پردگی ہوجائے۔ساڑھی باندھ بوندھ کے ڈھلکی چھاتیوں پر اس طرح پھیلاتیں کہ رواں تک نہ دکھائی دے۔مسلمان بوڑھیاں البتہ مکمل لباس، ساڑی بلائوس پیٹی کوٹ پہنتیں۔‘‘(۸۶)
ذکیہ سلطانہ مشہدی دیہاتوں کو حقیقی تصویر یں اس طرح کھینچتی ہیں کہ دیہی ماحول آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتا ہے۔ وہاں کے مناظر، پیڑپودے اور وہاں کے صبح وشام کا خوشگوار منظر دیکھ کر ان کے گہرے مشاہدہ کا احساس ہوتا ہے:
’’رام رام رام‘‘ باباجی کھڑاویں کھٹ کھٹاتے حویلی کے مندر کی طرف بڑھ گئے۔نور میاں مغرب کی نماز سے پہلے گیس کے ہنڈے جلوایا کرتے تھے۔بجلی ابھی گائوں کیا کیا شہرمیںبھی نہیںآئی تھی۔انہوںنے کام چور رام کرپال اہیرکو آواز دی جوگائیں دوہنے کے ساتھ ساتھ اس کا م میں بھی ان کی مدد کرتا تھا۔اند رحویلی روشن ہوجاتی تھی۔باہر اندھیرا پسرا رہتا تھا۔سن سن سن کہیں کہیں سے آتی تیل کی کیپوں کی ٹمٹاہٹ پراسرار کھیتوں اور پگڈنڈیوں کے طلسم میں اضافہ کرتی تھی۔
ذکیہ مشہدی زبان وبیان پر زبردست گرفت ہے ۔وہ اپنے انسانوں میں مسلمانوں کی شاندار تاریخ اور ماضی کی صحت اقدار کو بڑی خوبصورتی سے سموتی ہیں۔خاندانی عظمت و وجاہت کا بیان اپنی تحریروں میں فنکاری سے کرتی ہیں۔موصوفہ اپنے افسانوں میں مقامی اورا رضی سچائیاںبہت ہی ہی خوبصورت انداز میں نظرآتی ہیں۔ہندوستان کی مشترکہ تہذیب ، ہندوومسلمان کی گنگاجمنی سنسکرتی کی تصویر یں زیادہ تران کے افسانوں میں ملتی ہے ۔مذکورہ افسانہ سنسکرتی کا پانچواں ادھیائے میرے خیال کی سچائی کا بہترین ثبوت ہے۔
٭٭٭٭٭٭
قصہ جانکی رمن پانڈے
بقول ذکیہ مشہدی ’’جانکی رمن پانڈے‘‘میرے پسندیدہ افسانوں میں سے ہے‘‘اس کی تفصیل یہ بتائی کہ یہ عرصہ پہلے شب خون’’میں شائع ہوا تھا۔پاکستان سے جناب اجمل کمال نے اسے اپنے موقر جریدے ’’آج‘‘کراچی میں شائع کیا۔محمد عمر میمن جیسے جید عالم نے اس کا انگریزی میں ترجمہ کر کے 2011ء میں ’’The anuual of Urdu studies‘‘ میںشائع کیا۔افسانہ کی اہمیت اور قدر وقیمت کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے۔
تخلیق کار کواپنی ہر تخلیق سے پیار ہوتا ہے جیسے ایک ماں کو اپنی چھوٹی بڑی منجھلی، اچھی بری ہر اولاد عزیز ہوتی ہے۔باپ کو دیکھا گیا ہے کہ وہی اولاد اس کے قریب ہوتی ہے جو نیک ،فرمانبردار ہو اور اس کے لیے حاضر بادش ہوا ور اس کے کاموں میں ہاتھ بٹائے۔کبھی کبھی بڑا بیٹا یا سب سے چھوٹا بیٹا بھی پیارا ہوتا ہے لیکن ممتااس قسم کی تخصیص سے بالا تر ہوتی ہے۔بلکہ یہ دیکھا گیا ہے کہ جو بچہ فیملی میں کسی بھی بنیاد پر نظر انداز ی کا شکار ہوتا ہے تو ماںدیگر اولادوں کے مقابلے میں اس کو پہلے گلے لگاتی ہے جب کہ پیار سب ہی سے ہوتا ہے۔بالکل یہی مزاج فنکار کا ہوتا ہے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ذکیہ مشہدی ایک جینوئین فنکارہ ہیں۔ اپنی تخلیقات کے وسیلے سے انہوں نے افسانوی کا ئنات میں شناخت بنائی ہے۔ اردو افسانے کی تاریخ ان کی شمولیت کے بغیر نامکمل رہے گی۔اپنی انفرادی خوبیوں کی وجہ سے انہوں نے نہ صرف اپنی پہچان قائم کی بلکہ اردو افسانوی ادب میں ایک معتبر افسانہ نگار کی حیثیت سے شہرہ آفاق ہوئیں اور فن افسانہ نگار ی میں اعتبار حاصل کیا۔مذکورہ افسانہ’’جانکی رمن پانڈے‘‘ نہ صرف موضوعاتی بلکہ تکنیکی سطح پربھی شاہکار افسانہ ہے ۔
تخلیقی اور فنی اعتبار سے اردو ادب کے معدودے چند افسانوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔تب ہی عمر میمن جیسے جید عالم،فن شناس نے اس افسانہ کو انگریزی زبان میں ترجمہ کرنے کے لیے منتخب کیا اور The annual of urdu studiesمیںشائع کیا۔ہندوستان میں’’شب خوں‘‘کے مدیر محترم شمس الرحمن فارقی جو کثیر المطالعہ اور اردو زبان وادب کے عظیم نقاد ہیں نے اپنے موقئر جریدہ میں شائع کیا۔پاکستان کے اجمل کمال مدیر’’آج‘‘نے اسے اپنے موقئر جریدے کراچی سے شائع کر کے پاکستانی قارئین سے روشناس کرایا۔محترم اجمل کمال جن کی مدیرانہ اور تنقیدی صلاحیتوں سے کون انکار کرسکتا ہے؟ان کی نظر انتخاب بھی مذکورہ افسانہ پرجاناخود’’قصہ جانکی رمن پانڈے‘‘ایک اہم تخلیق کارنامہ ہونے کی دلیل ہے۔
افسانہ کا موضوع ہم آہنگی اور اتحاد واتفاق ہے۔ہندوستان میں گنگا جمنی تہذیب کو اجاگر کرنا جو کبھی اس کی پہچان تھی۔اب عرصہ سے زوال پذیر ہے ۔سیکولر اقدار اور مذہبی رواداری کا احیاء کرناا ور مکرر اس ثقافتی منظر نامہ کو بحال کرنا جو کمزور ہوچکے ہیں۔حالانکہ یہ موضوع پرانا ہے اور بیشتر افسانے اس موضوع کو لے کر تحریر ہوئے ہیں اور بعض افسانے اپنی فنی اور تخلیقی خوبیوں کی وجہ سے مثال بن گئے ہیں۔اس کے باوجود مذکورہ افسانہ اپنی زبان وبیاں،تکنیک اور ٹریٹمنٹ کی بنیاد پر ایک فنی کار نامہ قرار دیاجاسکتا ہے۔
ذکیہ مشہدی نے اردو افسانہ کی دنیا میں ایک معتبر خاتون افسانہ نگار کی حیثیت سے شہرت اور مقبولیت حاصل کی ہے۔ان کے یہاں تکنیکی سطح پر تجربے کی کوئی کوشش نہیں ملتی لیکن موضوعاتی تنوع ضرور ہے۔ ارضیت اور مقامیت سے جڑے افسانوں میں ہندوستانی تہذیب کاپس منظراور ہندوستانی عورت جو چاہے کسی بھی مذہب ،فرقہ،ذات سے تعلق رکھتی ہو کو موضوع بناکر افسانے لکھے ہیں۔ان کا عورت کی نفسیات کاگہرا مطالعہ ہے اسی لیے اس کی شخصیت کے ہر پہلو اور گوشے کی گرہ کشائی کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ان کے افسانوں میں ہندوستان کے زمینی مسائل ہی نہیں،بیرون ہندیابین الاقوامی مسائل پر بھی اپنی توجہ صرف کی ہے۔ان کا مشاہدہ بہت گہرا ہے۔کسی بھی موضوع کو انوکھا ٹریٹمنٹ دے کر منفرد افسانہ کا درجہ عطاکر دیتی ہیں۔ اس کائنات میںموضوعات بکھرے پڑے ہیں۔ ایک ایک موضوع پر سینکڑوں افسانے لکھے جاتے ہیںلیکن افسانہ کو انفراداسی وقت حاصل ہوتا ہے جب کہ اسے کامیاب ٹریٹمنٹ دیاجائے۔
مصنفہ نے’’قصہ جانکی رمن پانڈے‘‘کے متذکرہ موضوع کو مخصوص ٹریٹمنٹ دے کر فنی سطح پر ایک بہترین افسانہ تخلیق کیا ہے۔کہانی شروعات ابتدائی حصہ سے وسط تک داستانی طرز پر ہوئی ہے جس کا راوی باقاعدہ طورپر ایک داستان گوکی طرح جانکی رمن پانڈے کا قصہ اس طرح بیان کرتا ہے جیسے پرانے وقتوں میں فرصت کے اوقات میں اپنے روزانہ کاموں سے فارغ ہوکر رات کے وقت چوپالوں میں بیٹھ کر قصہ گوکی داستان سنتے تھے۔جب ادب کا طالب علم کہانی کی ارتقاء پر نظر ڈالتا ہے تو کہانی کی ابتدا داستان گوئی سے شروع ہوتی ہے اور مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے صنف افسانہ کی صورت میں ڈھل کر وجود میں آئی۔مصنفہ نے بھی مذکورہ کامنظر نامہ بھی اسی طرح تخلیق کیا ہے جہاں کے کے ماما داستان گوکاکام انجام دیتا ہے اور سننے والے محلے کے اوپر آس پڑوس کے لوگ جو اس افسانے کے سامعین کی طرح بڑی دلچسپی سے قصہ جانکی رمن پانڈے سنتے ہیں:
’’نہ جانے کسی ستم ظریف نے نام کے آگے ماما لگادیا۔ بس وہ جگت ماما ہوگئے۔خاصہ طویل عرصہ لکھنؤ میں گذراتھا۔اچھی اردو بولتے تھے۔قصہ گوئی کے شوقین تھے۔نخاس کے کسی داستان گوکی روح ان میں حلول کرگئی تھی(ایسا خیال کبھی جانکی رمن پانڈے نے ہی ظاہر کیاتھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔سامعین میں خاص الخاص تھے ۔لانبے چوڑے کنبے کے سارے نوجوان،دو ایک اڑوسی پڑوسی جن میں مرزا انور بیگ کی بیوی نیرہ بیگ بھی شامل تھیں اور جو آیا گیا ہو، وہ الگ انو ربیگ شاید واحدہستی تھے جو کے ۔کے ماما سے جڑتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔’’زنخہ کہیں کا‘‘ان کا کمنٹ ہواکرتا تھا۔‘‘(۸۷)
ذکیہ مشہدی کو کردار نگاری پر ملکہ حاصل ہے۔ ان کے کردار معاشرے سے الگ نہیں ہوتے بلکہ ہمارے سماج کا حصہ ہوتے ہیں۔یہ ان کے اظہار یہ کاکمال ہے کہ جس کردار کو پیش کرتی ہیں وہ زندہ ہوکر ہمارے سامنے چلتا پھر تا محسوس ہونے لگتاہے۔کے کے ماما مذکورہ افسانے کاضمنی کردار ہے جس نے کہانی کے مخصوص حصے تک اپنا رول ادا کرتا ہے اور پھر غائب ہوجاتا ہے۔افسانے کے وسط تک اس کی حرکات وسکنات کی ماما دراصل کرشن کانت کا مخفف ہے،ہنسی مذاق اور مسخراپن ان کی شخصیت کا ایک حصہ تھا۔وہ ذات پات کے سخت مخالف تھے ۔حالانکہ ذات کے برہمن پنڈت تھے لیکن اپنے نام کے ساتھ ٹائٹل کا استعمال نہ کرنا ان کے احتجاج کا مظہر تھا۔ہر نیچ اونچ ذات میں بیٹھنا اٹھنا ان کا شیوہ تھا۔مسلمان چوڑے چماروں سے بھی کھان پان تک کا پرہیز نہ کرتے تھے۔بقول مصنفہ’’کے۔کے کا اپنا بھانجہ تو شاید کوئی تھا بھی نہیں۔نہ جانے کس ستم ظریف نے نام کے آگے ماما لگادیا۔بس وہ جگت ماماہوگئے خاصہ طویل عرصہ لکھنو میں گذرا تھا۔ اچھی اردو بولتے تھے۔یہ ذکر اس لیے ضروری تھا کہ داستان گوئی کے لیے زبان پر عبورہونا شرط ہے۔قصہ گوئی کے شوقین تھے ۔پان کھاتے اس لیے منھ اوپر کر کے بولتے کہ پ یل کی چھیٹیں سننے کے بارے میں خیال تھا ’’راوی تفریح کی جنت لکھتا تھا‘‘۔راوی اور جانکی رمن پانڈے کے درمیان رشتہ داری تھی بقول راوی ’’ان (پانڈے) کی اماں ہماری اماں کے پھپھیرے بھائی کی سالی کے جیٹھ کی چچازاد بہن ہوتی تھیں۔یہ رشتہ تو تھاہی ،تعلقات بھی تھے‘‘
راوی کے کے مامانے جانکی رمن پانڈے ایڈووکیٹ کا قصہ یوں بیان کیا ہے۔پانڈے جب چھوٹے تھے تو ان کی اماں جو پنڈتائن کہلاتی تھیں پر لوک سدھار گئیں۔کچھ دن کے بعد ان کے ابانے دوسرا بیاہ کرلیا۔بڑی بوڑھیوں کے اصرار پر کہ پانچ برس کا لڑکا کیسے پالوگے ۔درمیان میںنیرہ بیگ بول پڑیں:
’’اور جو کہیں پنڈت مرے ہوتے تو کوئی نہ کہتا کہ آئے ہائے پنڈتائین دوسرا بیاہ کرلیو،اور تب پانڈے مزے میں پل بھی جاتے۔کوئی نہ سوچتا کہ پانڈے کیسے پلیںگے اگر ان کی اماں بن بیاہی بیٹھی رہ گئیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘(۸۸)
پرانے زمانے کے ہندوستانی سماج میں بیوہ عورتوں کی دوسری شادی کرنے رواج نہیں تھا۔خصوصی طور سے ہندوسماج میںبیوہ عورتوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ان کے ساتھ برابر تائو ہوتا، سلے ہوئے کپڑے پہننے کی اجازت نہ تھی، خاندان کا ہر فرد اس کے ساتھ بدسلوکی کرتا۔بڑے بوڑھے اسے کوستے کا ٹتے تھے۔سونے بیٹھنے کے لیے بسترمہیا نہیں کئے جاتے۔آدھا پیٹ کھانا وہ بھی جھوٹن ملتا۔دن بھر بھاری بھرکم کام لیے جاتے سنگارپٹی،کرنے ،نہانے دھونے صاف ستھرا رہ نے کی اجازت نہ تھی اور ان کا سرمنڈادیاجاتا۔اکثر عورتوں کو ان کے شوہروں کی چتامیں ہی جلادیا جاتا۔ زندہ جلانے کی یہ رسم اس قدر ظالمانہ تھی کہ انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ہندوتہذیب کے اثرات دوسری شکل میں مسلمانوں میں بھی نظر آتے ہیں مثلاً سنگھار کرنے کی اجازت نہیں تھی۔دوسری شادی کرنے ممانعت تھی وغیرہ وغیرہ ۔مصنفہ نے سماج کی اس بیہودگی کی طرف مکالماتی انداز میں اشارہ کیا ہے’’کوئی نہ سوچتا کہ پانڈے کیسے پلیںگے ۔اگر ان کی اماں بن بیاہی بیٹھی رہ گئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘سماج کی اس ناانصافی کی طرف بھرپور طنز ہے کہ مردوں کو دوسرا بیاہ کرنے کی اجازت ہے’’اس وقت لوگ باگ ضرورت سمجھتے تو بیوی کے مرنے کا بھی انتظار نہیں کیا کرتے تھے۔مزے سے دوسرا بیاہ کرلیتے تھے۔‘‘
جب دوسری ماںکی اپنی اولاد ہوئی تو وہ رانی کیکئی بن گئی۔رمن پانڈے کی بری حالت دیکھ کر ان کی شادی شدہ بڑی بہن اومادیوی اپنے ساتھ لے گئیں۔سارے لڑکے بالے انہیں ددا ددا کہتے تھے۔پانڈے کو ددّا پیار سے بھین کہتی تھیں اور بھائی نہیں بیٹا سمجھتی تھیں۔ددّا کے شوہر اونکار ناتھ مشرنے بھی اپنے سالے کو بھی چاہت اور عزت دی اور وہ بھی اپنی بیوی ددّا کو پیار اور مان دیتے تھے:
’’ددّا جیسی بیوی پاکر خود کو خوش قسمت سمجھتے تھے ۔مشکل سے نقربرساتی برہمن، صاف گوئی اور وعدہ وفاکر نے میں راجپوتنی، سارا حساب کتاب رکھنے،زمین جائداد دیکھنے میں ویشہ اور کھٹ کے خدمت کرنے میں شودُر۔اونکار آگے پیچھے گھومتے جو کہتیں وہ کرتے۔بھین کو بھر پور تعلیم ملی۔۔‘‘(۸۹)
ابھی بی ۔اے کے فائنل ایئر میں تھے بھین کا رشتہ اعلیٰ گھرانہ میں کردیا۔لڑکی کا رنگ کا لاتھا ۔بھین نے دبے لفظوں میں اظہار کیا۔’’سنا ہے مرجاپوروالی کالی ہے اور تم زبان دے آئیں‘‘جس کا جواب ملا’’صورت دیکھی جاتی ہے رنڈی کی۔بیٹا کا تو خاندان دیکھا جاتا ہے۔سوخاندان ہزاروں میں ایک ۔ماس مچھلی تو کیا کوئی پیاز لہسن تک نہیں کھاتا‘‘گفتگو کے درمیان اونکاناتھ بڑی سنجیدگی سے بولے’’برخوردار فی الحال خاندان والی سے بیاہ کرلو بعد میں کبھی ایک صورت والی بھی لے آنا‘‘وکالت کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب ان کی وکالت چل نکلی تو وہ پوری طرح خود کفیل ہوگئے۔
داستان سننے والوں میں بپن بھائی نے ٹھونکا دیا کہ وہ صورت والی مسلمنٹی تھیں لیکن ان سے سابقہ کہاں،کیسے پڑا یہ تو ماماہی بتائیںگے۔‘‘قصہ گونے چائے سڑکتے ہوئے قصہ کا سراپکڑا۔
’’رہا مسلمنٹے مسلمنٹی کا سوال تو میاںکوئی کہہ دے ان نیرہ بی بی کی صورت دیکھ کے کہ یہ ہندو ہیں یا مسلمان ۔ماتھے پہ نہ کوئی ذات لے کے گھومتا ہے نہ مذہب اور میاں ہمارا بس چلے تو ہم دنیا کے سارے مذاہب بین کرادیں۔انسانوں کے بیچ ان سے زیادہ تفرقہ کسی نے نہیں ڈلوابا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماما نے اتنے طیش میں آکے یہ آخر کا جملہ ادا کیا۔‘‘(۹۰)
مندرجہ بالا اقتباس سے نہ صرف کے کے ماما کے سیکولر مزاج کا اظہار ہوتا ہے بلکہ مذہب جس نے انسانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کر دیا ہے، کے خلاف احتجاج بھی درج کرایا ہے۔
پانڈے کے چچا جی پنڈت اور نکارناتھ ایڈوکیٹ کے پرانے فرمانبردار منشی رجب علی کے والد امتیاز علی اونکار ناتھ کے والد کے زمانے سیا ن کی زمینوں کا کاروبار دیکھتے تھے۔بڑے ہی ایماندار اور وفادار منیجر تھے۔ددّا انہیں رجب علی بھائی صاحب کہتیں گھونگھٹ کا ڑھ کے پیر چھوکے پرنام کرتیں ہاں ان لوگوں کے گھر کھانا نہیں کھائی تھیں:
’’پرہیز پکے ہوئے کھانے اورگیلی چیزوں کا تھا۔ سوکھے سامان ،پان تمباکو پھلوں وغیرہ سے عارنہیں تھا۔سو عید میں رجب علی کے یہاں سے خوان آتا۔تانبے کی نئی سینی پرسوکھی سویا لہجے خشک میوے ،شکر اور طرفہ تماشہ دودھ خرید نے کے لیے ایک کنارے کچھ نئے کڑکڑے نوٹ رکھے ہوتے اور سارے لڑکے بالوں کے لیے بنام عیدی کے لفافے بھی ۔‘‘(۹۱)
مصنفہ نے نہ صرف مسلمانوں کی شاندار تاریخ اور پرانی تہذیب کو اپنے افسانوں میں پیش کیا ہے بلکہ قدیم ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کابھی ذکر کیا ہے۔ ہندومسلمان کس طرح ایک دوسرے میں شیر وشکر ہوکر رہتے تھے اور مل جل کر تیوہار مناتے تھے۔تحفے تحائف کا دینا مسلمانوں کے شاندار ماضی کی نشاندہی کرتاہے۔
رجب علی کی ایک بیوہ بہن تھیں۔عمر میں ان سے خاصی بڑی،ان بہن کی ایک نواسی تھی۔ ان کی ماں جوانی میں ہی مرگئی تھی۔باپ نے دوسرا نکاح کرلیا تھا۔رجب علی بیوہ بہن اور یتیم نواسی کو گھر لے آئے۔ اپنی کوئی بیٹی نہیں تھی۔اس لیے بہت چاہتے تھے بڑے ارمان سے شادی کی تھی۔ددّا نے بھی جوڑے توڑے بھیجے تھے۔ کچھ ہی عرصہ بعد معلوم ہوا جس لڑکے سے شادی کی تھی وہ دماغی مریض ہے۔رجب علی کی قبل ازوقت موت کا سبب بھی یہی صدمہ بناکہ آکر کو اس عزیز نواسی کو خلع دلوانا پڑا ۔ایک چپ سی لگ گئی تھی اسے۔پہلی مرتبہ پانڈے کی اس پر نظر پڑی اور وہ اس کے دیوانے ہوگئے۔بظاہر رجب علی پرانی وفاداریوں کے صلے میں پانڈے نے ان کے گھرآنا جانا شروع کردیا۔تحفے تحائف دینے لگے۔بے چاری رجب علی کی بیوی سیدھے سادی گھریلو عورت اوپر سے شوہر کی موت اور اس بچی پر جو گزری تھی ۔اس کے صدمے سے آئے حو اس جاتے رہے تھے ۔بہت دن تک وہ کچھ نہ سمجھیں۔ددّا کو بھی اس کی خبر نہ ہوئی۔جب معلوم ہوا تو پانی سر سے اوپر بہہ رہا تھا۔عشق کا جب بھوت سوار ہوتا ہے تو وہ ذات برادری ،مذہب کی بھی دیوار توڑ دیتا ہے ۔
آخری کاردونوں گھرانوں نے طوعاًوکرہاًیہ رشتہ منظور کرہی لیا۔جب پانڈے نے اس خوبصورت عورت سے شادی کی۔ اس وقت ان کی پانچ چھ برس کی دوبیٹیاں تھیں۔ دوسرا بیاہ کیا تو ایک سال کے اندر ایک بیٹا پھر دوسرے برس دوسرا بیٹا اور پھر بعد میں تیسری بیٹی بھی ہوگئی۔ددّا بھتیجوں کا منھ دیکھ کر خوش ہوئیں بدھا واکی رسم اداہوئی۔گھرپرست نرائن بھگوان کی کتھاہوئی جب غیر مذہب بھاوج سے ددّا پہلی بار ملیں تو اس کی خوبصورتی ، فرمانبرداری اور عزت افزائی کو دیکھ کر بہت خوش ہوئیں بولیں بین کے ساتھ تمہاری جوڑی رام سیتا جوڑی لگتی ہے۔روشن آرا کا نیانام جانکی،سنیتا کی نسبت سے رکھا گیا۔عامر کو اَمر ،صابر کو سُبیر نام دیاگیا۔اس طرح سب کو خاندان میں شامل کرلیا گیا:
’’اسلام اور ہندو ازم کی خلیج انہوں نے پل بھر میں پاٹ کے رکھ دی۔اتنی جلدی تو ہنومان جی کی فوج ہندوستان اور لنکا کو جوڑنے والا پل بھی نہ بناپائی ہوگی۔مگر اس کارروائی کا فال آئوٹ ’’ذرا گڑبڑتھا،جس خاندان والی کی ددّا بڑے ارمان سے بیاہ کے لائی تھیں وہ ددّا سے خاصی ناراض رہنے لگی۔میاں یہ ساس نند والے جھڑے ہوتے تو سب جگہ ہیں۔لیکن شریف گھرانوں میں ذراڈھکے چھپے رہتے ہیں۔‘‘(۹۲)
افسانہ کے عنوان’’قصہ جانکی رمن پانڈے‘‘کرداروں کے ناموں کی نسبت سے رکھا گیا ہے اس اعتبار سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ مذکورہ کہانی کرداری افسانہ ہے جو جانکی اور رمن پانڈے کے اردگرد گھومتا ہے۔ددّا نے روشن آرا کانام جانکی دیا ہے اور سیتا کادوسرا نام جانکی ہے۔ذکیہ مشہدی نے ہندواساطیر کا استعمال اپنے افسانوں میں خوب کہا ہے جو ہندو ازم کے متعلق ان کی واقفیت کا ثبوت ہے جس کی وجہ سے ان کے افسانے تہہ دار ہوگئے ہیں۔ہندومسلمانوں کے درمیان خلیج باٹنے کی مثال وہ ہندوستان اور لنکا کے بیچ سمندر پرپل بنانے کی روایت سے دیتی ہیں جسے ہنومان جی کی فوج نے تعمیر کیاتھا۔دوسرے یہ ارضی سچائی ہے کہ ننداوربھاوج کا رشتہ بڑاہی نازک ہوتا ہے ان دونوںکے معاملات کبھی ہموار نہیں ہوتے ۔ شریف گھرانوں میں بھی ان کے بیچ سرد جنگ چلتی رہتی ہے۔مصنفہ کا خانگی زندگی کے معاملات میںمشاہدہ بہت گہراتھا۔
داستانی طرز میں چلنے والا یہ قصہ یہاں تمام ہوتا ہے اور افسانہ تکنیکی سطح پر دوسرا رخ اختیار کرتا ہے اور کہانی افسانوی طرز میں ڈرامائی اندازسے آگے بڑھتی ہے جس میں مصنفہ خود راوی ہے۔ افسانے کو تخلیقی بیانیہ کے ذریعہ پیش کرتی ہے اور افسانہ زمانہ حال میں واپس ہوتا ہے۔یہ بتانا ضروری ہے کے کے ماما جنہوں نے کہانی کا پہلا حصہ قصہ گوکی حیثیت سے بیان کیا تھا بقول مصنفہ:
’’یہ نشستیں اب بھی ہوتی تھیں لیکن وہ مزانہیں رہ گیا۔کے کے ماما محض پچپن سال کی عمر (بقول خود بھری جوانی)میںکینسر کا شکارہوئے اور دوبرس میں چٹ پٹ ہوگئے‘‘۔ (۹۳)
افسانہ کا دوسرا حصہ بڑاہی معنی خیز اور تخلیقی وفنی سطح پر دلچسپ پر تجسس استدلال نوعیت کا ہے جس میں زندگی وموت ،مذہب اور الواہیت کے موضوعات پر مباحثہ قائم کیا ہے کہ افسانہ کی تخلیقیت پر کوئی حرف بھی نہیں آتا ۔اس لیے افسانہ کے شاہ کار ہونے پر کوئی شبہ بھی نہیں ہوتا۔
ددّا بھی مرچکی ہیں۔ لڑکیاں بڑی ہوگئی ہیں۔ اس لیے پانڈے پر بیوی کا دبائو بڑھ گیا ہے ۔جاتے بھی جلدی واپس ہوتے لیکن اس مرتبہ گئے تو سارااگلا پچھلا حساب چکتا کردیا۔وہیں مرگئے۔بس یونہی اچانک بیٹھے بیٹھے کے کے ماما تو ہیں نہیں ورنہ کہتے۔اب میاں نہ کسی پہ دل آنے کاکوئی وقت مقررہے نہ آندھی شادی اور موت کا۔کبھی کبھی ایسے اچانک آتی ہیں یہ آفتیں کہ پوچھئے مت۔اب دیکھ لیواچھے بھلے پانڈے گھرمیں بیٹھے۔اب یہ رسول پور کہاں جامرے۔ماناکہ وہاں وہ رہ رہی تھی۔ان کی چہیتی بیوی لیکن اس گھڑی نہ جاتے تو شاید مرتے بھی نہیںاور مرتے بیشک لیکن رسول پور میں تونہ مرتے۔‘‘(۹۴)
اس کائنات میں ہر جاندار کی موت برحق ہے ۔لیکن کسی کو یہ پتہ نہیں کہ موت کب آئے گی۔کیسے آئے گی اور کہاں آئے گی۔مفکر ین ،شعرا ، ادبا اور علما نے اس پربہت غور فکر کیا ہے لیکن اس سے زیادہ کوئی کچھ نہ کہہ سکا کہ موت کا ایک دن معین ہے۔کون سادن ،کون سالمحہ ہے، اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔اسی طرح شادی کیسے ہوگی،کب ہوگی،کن حالات میں ہوگی پہلے سے کسی کو پتہ نہیں ہوتا۔اسی طرح ناگہانی آفتیں کب آتی ہیں۔کیوں کرآتی ہیں؟کسی کو نہیں معلوم ہوتا۔رمن پانڈے کو بھی کیا معلوم تھا کہ وہ اپنی چہیتی بیوی کے گھر جا کر مریںگے۔وہ بھی رسول پور میں جو آگے جاکر جھگڑے کا سبب بھی بنا۔
عرصہ ہوا کے کے ماما پہلے ہی مرچکے تھے۔ددّا بھی فوت ہوگئی اور اب جانکی رمن پانڈے ناگہانی موت کے شکار ہوگئے۔اس کائنات میں جو ہونا ہے وہ ہوتا ہے۔ ہونی کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ روشن آرانے بھی اپنی زندگی میں بہت ساری ہونیوں کو دیکھا ہے۔دروازے کے سامنے زبردست شورہے۔لوگوں کے ہاتھوں میں لاٹھیاں ہیں برچھی بھالے ہیں۔مقامی لوگوں کے ہاتھوں میں ہتھیار ہیں۔الٰہ آباد سے پانڈے کے تینوں داماد،ان کے ایک دورشتہ دار ددّا کے جیٹھ کے کاخاندان والے تھے۔ماں کے نام دی جانے والی گندی گالیوںکو سننے کے بعد دروازہ کھول دیا۔اندر آنگن میں روشن ہاتھوں پر قرآن بلند کئے کھڑی تھر تھر کانپ رہی تھی۔روشن بے چین ہوکر باہرنکل آئی اور بیٹوں کے سامنے سینہ سپر ہوکر لولی’’یہ تمہارے رشتہ دار ہیں۔جانکی رمن پانڈے کی اولاد ہیں‘‘بھیڑ سے کوئی جو ’’ابا چلایا‘‘پہلے تو اس کلٹا کو ہی مارناچاہیے۔روشن نے بڑے پرسکون انداز میں کہا‘‘تم لوگ کاغذات لے آئو۔امن سکون کے ساتھ ہمارے ساتھ بیٹھ۔ہم تینوں اس جائداد سے دستبردار ہوتے ہیں جوپنڈت ہمارے نام کرگئے ہیں۔
تبھی کسی انہونی کے خوف سے بزرگ اونکارناتھ مشر موقعہ پر پہنچ گئے اور انہوں نے بات کو سنبھال لیا۔دنیا کے سردوگرم دیکھنے کے بعد لوگوںکے مزاج اور خصلتوں میں تبدیلی آجاتی ہے۔ بیوی کے مرنے کے بعد دنیا کی بے ثباتی دل پر نقش ہوگئی تھی۔پانڈے رسول پور میں مرے تھے تو روشن نے گائوں کے لوگوں سے بیٹوں سے کہا کہ پنڈت کے جسد خاکی کو ان کے گھرالٰہ آباد پہنچا دیا جائے لیکن لوگ نہ مانے۔اس لیے لوگوں نے باقاعدہ نماز جنازہ پڑھاکر انہیں قبرستان میں دفن کردیا گیا۔مرنے سے پہلے ہی انہوں نے نصف جائداد لڑکوں اور روشن کے نام کردی تھی یہ سن گن سب جگہ ہوگئی تھی۔ادھر الیکشن قریب آرہے تھے۔ رسول پور میں آئی ایس آئی کے ایجنٹوں کے سرگرم ہونے کی افواہ بھی تھی۔بہر حال صورت حال نہایت خطرناک تھی جس وقت پنڈت جانکی رمن پانڈے مرنے سے پہلے نصف جائداد بیٹوں کو کررہے تھے تو روشن اظہار کرتی ہے:
’’پنڈت ہمیں کچھ نہیں چاہیے۔بس یہاں رسول پور میں رہنے کا ٹھکانہ تم نے کردیاہے۔دونوں لڑکوں نے اعلیٰ تعلیم پائی۔وہ خودبہت کمالیںگے۔تم نے انہیں اتنی بڑی دولت دی۔باہر رکھ کر اعلیٰ اسکول کا لجوں میں پڑھایا۔اتنا خرچ کیا۔اب اور کیا دوگے۔ہمارا سرپھٹنے لگتا ہے جب ہم سوچتے ہیں کہ انسان بنیادی طور پر خود غرض وار کمینہ خصلت ہے۔ایک کمینہ پن ہم نے بھی کیا کہ ایک بے چاری عورت کے شوہر پر قبضہ کیا‘‘(۹۵)
روشن ایک شریف النفس اور منکسرالمزاج خاتون ہے۔انسانی اور شرافت اس کی تہذیب کا خاصہ ہے۔اس کے اندر نہ کوئی لالچ تھا اور نہ خود غرض ۔پنڈت سے بے لوث محبت کرتی تھی اور ان کی احسان مند بھی تھی۔اسے اس بات کا شدید احساس ہے’’کہ ایک بے چاری عورت کے شوہر پر قبضہ کرلیا‘‘اس کی اعلیٰ ظرفی کی یہ دلیل ہے کہ وہ آج تک اپنے آپ کو گناہ گار سمجھتی ہے۔پانڈے کو بھی اپنے عشق کی پاسداری تھی۔ ان کی وفاداری اور تہذیب عظمت سے بھی انکار ممکن نہیں۔ ایک غیر مذہب عورت سے شادی کرنے پر سماج،خاندان اور عزیزو اقارب کی مخالفتوں کاسامنا کیا اور آخر تک عشق نبھایا۔ایک برہمن سماج سے تعلق رکھتے تھے جس میں لہسن وپیاز کھانے سے بھی پرہیز کیا جاتا ہے۔ ایک تنگ نظرخاندان میں ان کی پرورش ہوئی تھی اس سے بغاوت کرنا یہ ان کی بیبا کی اور وسیع القلبی کا ثبوت ہے۔ذہنی کشادگی کے علاوہ اعلیٰ اخلاق وکردار کے مالک تھے:
’’وہ عورت ایسی بے چاری بھی نہیں ہے روشن۔اسے ہمارا بھرپور ساتھ ملا ہے۔سماج نے اسے جو کچھ دیا ہے وہ ہم تمہیں نہ دے سکے اس لیے سماج سے کٹ کے فرد اکیلا ہوجاتا ہے۔سچ پوچھو تو ہم تمہارے گناہ گار ہیں۔تمہیں بے یارو مددگار چھوڑ کر،مرکر ہم اس گناہ میں اضافہ نہیں کرنا چاہیںگے۔ ہماری دلی خواہش تو یہ ہے کہ مریں تو تمہارے پاس ہوں۔روشن نے پانڈے کے منھ پر اپنی ملائم انگلیاں رکھ دیں۔‘‘(۹۶)
اس سے پہلے کوئی خطرناک واقعہ رونما ہوتا ،اونکارنا تھ کے شدید اصرار پر روشن نے اپنی مرضی کے خلاف کہ خواہ مخواہ پنڈت کا جسد خاکی بے حرمتی ہوگی لیکن کسی انہونی کے خوف سے مردے کو قبر سے اکھاڑ نے کی اجازت دے دی۔جائداد کی واپسی کے لیے کاغذات پر دستخط پہلے ہی کر دیئے تھے۔فضا خراب ہے۔ گائوں میں نہ جانے کتنے بے گناہ مارے جائیںگے۔ اسی میں عافیت ہے کہ سدبھائو نا بنارہے۔وہ سوچتی ہے کہ یہ سارے انسان کون تھے جو قبر کے کیڑوں اور چتاکے بدن چاٹنے والے شعلوں کو بھلاکر جان لینے اور جان دینے پرتل جاتے ہیں؟کیوں انہوں نے اپنے اور اپنے جیسے دوسرے انسانوں کے بیچ نفرت کی دیواریں کھڑی کررہی ہیں؟اسی وقت انہیںپانڈے کے کہے ہوئے الفاظ یاد آتے ہیں:
’’کسی بھلاوے میں مت رہنا روشن آرابیگم۔یہ دوسری دنیا کا تصور ہمیشہ زندہ رہنے اور موت کو شکست دینے کی انسانی خواہش کے اظہار کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ یہ آتما کا اجرامرہونا۔یہ روح کا ناقابل تسخیر ہونا سب فراڈ ہے۔ہمارا تمہارا ساتھ بس اتنا ہی ہے جتنا ہم جئیںگے۔باقی تمہارا جی چاہے تو ہمارے نام سے بھی فاتحہ پڑھ لیاکرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھرو شیطنت کے ساتھ مسکرائے۔۔۔۔۔مگر کیا تمہاری فاتحہ ہم تک پہنچے گی۔ہم ٹھہرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘(۹۷)
موت جو ایک اٹل حقیقت ہے۔موت کے واقعات جوروزانہ زندگی میں رونما ہوتے ہیں ۔اس کے باوجود انسان اس کاعادی نہیں ہوسکا۔ہرروزنیا غم لے کر ہماری سامنے آتی ہے اور انسان اسے شکست دینے کی ناکام کوششیں کرتارہتا ہے۔ روح اور جسم کا ناگزیر تعلق ہے۔ اگر روح نکل جائے تو یہ خوبصورت جسم مٹی بن جاتا ہے۔ روح کے معمہ کو سمجھنے کے لیے وہ غور وفکر کرتا ہے مگر اس کی سچائی کو آج تک نہیں سمجھ سکا۔ہندوفلسفہ کے مطابق آتما اجر ہے روح ایک ناقابل تسخیر عنصر ہے:
’’لوگوں کے لاش لے جانے کے بعد انکار نا تھ کچھ دیر وہیںبیٹھ گئے تھے۔’’اب اسے جلائو یادفن کرو۔وہ تو دنیا سے گیا۔پنچ تتوپنچ تتو میں مل جاتے ہیں۔مٹی،مٹی میں ،آکاش میں،آگ،آگ میں۔پانی ،پانی میں۔اور ہوا، ہوا میں، جل کے بھی یہ ہوتا ہے۔اور دفن ہو کے بھی یہی ہوتا ہے۔فرق اتناہی ہے کہ دفن ہونے پر یہ عمل بہت سست رفتار کے ساتھ ہوتا ہے۔مگر لوگ اس بات کو ن ہیں سمجھیںگے۔مرنے کے بعد ساری رسمیں صرف زندوں کی تسلی کے لیے ہیں۔ہم تومعمولی آدمی ہیں۔ہم کیا کہیں مگر رشیوں مینوں نے شریر کو چولا قرار دیا ہے جسے آتما بدلتی رہتی ہے۔آتما اجراور امر ہے۔‘‘(۹۸)
ہندومائتھولوجی میں آتما اجراور امر ہے ۔آتما کو فنانہیں ،شریر کو چولا قرار دیا ہے جسے آتما بدلتی رہتی ہے اور چولا بد لنے کا یہ سلسلہ اسی لاکھ یونیوتک جاری رہتا ہے۔روح نکلنے کے بعد یہ سلسلہ اسی لاکھ یو نیو تک جاری رہتا ہے۔روح نکلنے کے بعد جسم جلائو یا دفن کروانجام ایک ہی ہوتا ہے۔مٹی میں مٹی مل جاتی ہے۔ کہاجاتا ہے انسان کی تخلیق خاک سے ہوئی ہے۔مٹی بھی پنچ تتو میں ایک تتو ہے۔اسی طرح پانی،پانی میں،ہوا میں ہوا۔آکاش آکاش میں اور آگ میں مل کر اپنا وجود کھودیتی ہے۔جلانے کی رسم ہویادفن کرنے کی یہ تمام رسومات صرف زندوں کو تسلی کے لیے ہیں جو محض رسمیات کے علاوہ کچھ نہیں۔ ان کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں۔سچ تو یہ ہے کہ ہر نفس کو موت کا مزاچکھنا ہے۔افسانہ کا خاتمہ عبرت انگیز المیہ پرہوتا ہے اور مذہب کے ایک مخصوص نظریا پر مبنی ہے:
’’بجھتی چتا کے دھویں کی طرح بے کملی نے روشن کے اندر چکّر کاٹے‘‘۔
’’ساری جنتیں، سارے جہنم ہم اسی دنیا میں جھیل لیتے ہیں اور یہ ہمارے ہی تخلیق کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ہمارے اعمال کے نتیجے___‘‘(۹۹)
یہ دنیا مکانات عمل ہے جو بوئو گے وہی کاٹوگے۔ اگر نیک عمل کئے ہیں تو اس کا بدلہ نیک ملے گا اور برائی کا بدلہ براہوگا۔مذکورہ افسانہ کا اختتام تکنیکی اور فنی سطح پر اس کی ابتدا سے جڑجاتا ہے:
’’اب کوئی پوچھے ان جانکی رمن پانڈے ایڈوکیٹ سے کہ اچھے بھلے الٰہ آباد میں تھے۔رسول پور کہاں جامرے۔وہ بھی محاورہ‘‘نہیں حقیقتاً ۔یوں تو عام عقیدہ ہے کہ مرنے کی ساعت اور جگہ پہلے سے طے ہوتی ہے(ویسے مرنے سے بھی بڑے کچھ واقعات کی ساعت پہلے سے طے ہ وتی ہے مثلاً شادی) لیکن سوال یہ ہے کہ عقیدہ یہ کہتا ہے تو ہنگامہ کا ہے کا۔‘‘(۱۰۰)
دراصل افسانہ کے وسط میں جانکی رمن پانڈے کی غیر مذہب عورت روشن آراسے شادی اور ان کی رسول پور میں موت واقعہ ہونے کا قصہ بیان ہوا ہے۔عام عقیدہ ہے کہ مرنے کی ساعت اور جگہ پہلے سے طے ہوتی ہے یہ بھی یقین ہے کہ اوپر والے حاکم نے مرنے کی جگہ اور ساعت تو پہلے ہی سے طے کردی ہے۔
جانکی رمن پانڈے سناتن دھرم کے ماننے والے سیدھے سادھے ہندوتھے ۔روشن آرا کو پانے کے لیے نقلی مسلمان ہے پھر اصل ہندو بھی نہ رہے۔ روشن آرا کو ان کے مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔وہ تو اس لیے محبت کرتی تھی کہ رمن پانڈے ایک اچھے انسان تھے جس نے بھر پور محبت دی اور روشن آرا کو تحفظ دیااور رمن پانڈے نے روشن آرا سے صرف اس لیے شادی نہیں کی کہ وہ بہت خوبصورت تھی بلکہ وہ ذہین،بذلہ سنج،گہری سوجھ بوجھ اور شرافت سے مزیّن تھی۔چونکہ رمن پانڈے سناتن دھرم کے حامی تھے اس لیے ان کا فلسفہ وحدانیت مسلمانوں کے وحدانی نظریہ سے مماثلث رکھتا ہے۔رمن پانڈے نے کہانی کے وسط میں روشن آراء سے اس کا اظہار یہ مکالمہ میں کیا:
’’ہم نے بڑی شدت سے محسوس کیا ہے کہ کائنات کے اسرار ورموز نے زندگی کے سارے اتار چڑھائوں ،موت، بڑھاپے اور دکھ نے۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ انسان میں۔ ہردو، ہرمقام اور ہررنگ ونسل کے انسان میں ایک ایسی ہستی کا تصور پیدا کیا جو اس سارے گور کھ دھندے پر قادر ہے جسے ہم دنیا کہتے ہیں۔ایسی ہستی جوباپ کی طرح شفیق ہے اور ہر امتیاز سے بالا تر ہے ۔ایسی ہستی جس سے ہم حق کی حمایت اور جھوٹ کی مخالفت کی امید کرتے ہیں۔ایسی ہستی جو ہر وقت جاگتی ہے اور ہر ذی روح پر نظر رکھتی ہے۔ایسی ہستی جس سے ہم سب کچھ مانگ سکتے ہیں۔اس ہستی کو خوش کرنے ،اس کے غصے سے بچنے کے لیے پھر ہم نے گناہ وثواب کے اصول بھی گڑھے۔بنیادی طور پر تو سارے ثواب و ہ تھے جن سے کسی کو فائدہ پہنچے اور گناہ وہ جوباعث نقصان ہوں۔‘‘(۱۰۱)
رمن پانڈے نے خدا، کائنات اور زندگی وموت کے موضوعات پر مدلل مباحثہ کیاہے۔حق ناحق اور گناہ وثواب کے تصور پر بڑا معنیٰ خیز مکالمہ قائم کیا ہے گناہ وہ ہے جو انسانیت کے لیے نقصان کا باعث ہواو ر ثواب وہ ہے جو انسانیت کے فائدہ مند ہو۔وہ نظر یاتی بنیاد پر ایک زبردست انقلابی مصلح کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ وہ نہ ہندو ہیں اور نہ مسلمان بس ایک انسان ہیں جو چڑیوں کی چہچہاہٹ میں،پھولوں کی خوشبوں، خلا کی وسعتوں میں، بکھری کہکشاں میں، دریائوں کے پانی میں، اُگتے اور ڈوبتے سورج کے حسن میں خدا کا جلوہ دیکھتے ہیں ان کا خیال ہے:
’’شاید سورج کی پوجا بھی ہمارے رشیوں مینوں نے اسی لیے کرنی شروع کی تھی اور درختوں کی اور دریائوں کی۔۔۔۔۔۔۔۔یہ سب خدا کی قدرت کے مظہر ہیں اور روشن میں ہر شخص کے لیے اس کے ذاتی عقائد اور مذہب کا حق تسلیم کرتا ہوں۔‘‘(۱۰۲)
شادی سے رمن پانڈے اور روشن آراء کے درمیان جو مکالمہ ہوا ہے وہ نہایت تخلیقی اور پڑمعنی ہے ۔جدید ترین افسانہ نگاروں میں ذکیہ مشہدی کا نام بڑے احترام سے لیا جاتا ہے۔وہ ایک نامور اور تخلیقی فنکارہ ہیں۔ ان کو زبان وبیان پر ملکہ حاصل ہے۔لکھنو اور اس کے گردونواح میں بولی جانے والی زبان اور تہذیبی اثرات بہت گہرے ہیں۔ان کی تحریروں میںلکھنو کی شائستگی اور شگفتگی ہر جگہ نظر آتی ہے۔رمن پانڈے کی پرورش اور تربیت الٰہ آباد میں ضرور ہوئی ہے لیکن رسول پور میں مستقل رہائش ہونے کی وجہ سے وہاں کے تہذیبی اثرات ان کی گفتگو میں دکھائی پڑتے ہیں۔روشن آراء کی شخصیت کی تعمیروتشکیل پور ے طور سے رسول پور میں ہوئی ہے اس لیے ان کے لب ولہجہ میں لکھنوی تہذیب کا پس منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ان کے انداز گفتار میں شائستگی اور سنجیدگی کے ساتھ ملیح طنز اور تہذیب یافتہ مزاح کی جھلک دکھائی پڑتی ہے۔مصنفہ نے اپنے افسانوں میں صرف متوسط اور پس ماندہ گھرانوں کی تصویر کشی نہیں کی ہے بلکہ طبقہ اشرافیہ اور ہائی سوسائٹی میں زندگی گزارنے والے کرداروں کی بڑی فنکاری کے ساتھ تصویریں کھینچی ہیں۔مذکورہ افسانہ ان کی تخلیقی زبان وبیان کی عمدہ مثال ہے ۔شادی ہونے سے پہلے رمن پانڈے اور روشن آرا کے درمیان جو مکالمہ ہوا ہے وہ نہایت تخلیقی اور پرمعنی ہے:
’’جان پنڈت‘‘
’’اس خالص ہندو لفظ کے ساتھ اضافت اچھی نہیں لگتی ۔جیسے ہماری تمہاری جوڑی، انمل جوڑ‘‘
’’روشن آراء تم ہم سے پٹ جائوگی‘‘
روشن یک لخت سنجیدہ ہوگئیں۔ ’’پٹ تو ہم چکے ہیں۔زندگی کی بساط پر ایک بے اضاعت مہرے کی طرح۔پنڈت اب ہم کیا کریں؟‘‘اضطراری طور پر وہ ہاتھ ملنے لگی تھیں۔ان کے لہجے میںبلاکی بے بسی تھی۔
’’کچھ مت کرو۔ بس چپ چاپ ہم سے بیاہ کرلو‘‘
’’تمہیں مذہب بدلنا پڑے گا۔ہم کورٹ میرج نہیں کریںگے‘‘
’’کورٹ میرج تو ویسے بھی نہیں ہوپائے گی۔گھرپر وہ جوہے نہ مرِجاپور والی اس سے کیسے انکار کریںگے کہ وہ ہماری بیاہتاہے‘‘
’’تو؟ہمیں رکھیل بنائوگے کیا؟‘‘(۱۰۳)
ذکیہ مشہدی اپنے چاروں اطراف جو دیکھتی ہیں۔محسوس کرتی ہیں اپنے ذاتی مشاہدے کی روشنی میں پیش کرتی ہیں وہ سماجی معنویت ،عصری حیثیت کو اپنے فکر و شعور کا حصہ بناکر افسانے میں بڑی فنکاری سے ڈھالنے کا ہنر جانتی ہیں۔ان کے کردار معاشرے سے الگ نہیں ہوتے ۔وہ روزمرہ کی عام زبان تخلیقی شعور کے ساتھ استعمال کرتی ہیں جو تہہ دار ہے اور معنیٰ خیز بھی۔ان کے کردار اس قدر فعال اور متحرک ہوتے ہیں کہ ان کا ہر فعل وعمل ذہن واد راک پر نقش ہوجاتا ہے جس طرح روشن آراء(جانکی)جو اس افسانہ کامرکزی کردار ہے اپنی تمام ترخوبیوں کی بنیاد پر ایک نہ بھولنے والا کردار بن گئی ہے۔اسی طرح رمن پانڈے اس کائنات سے الوداع ہوچکاہے پھر بھی انسانی اقدار سے مزین کردار جس کو افسانہ میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ایک موثر شخصیت کی طرح دل ودماغ میں محفوظ ہوگیا ہے۔
٭٭٭٭٭٭
حوالہ جات
۱۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’ماں‘‘مشمولہ’’یہ جہانِ رنگ وبو‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۱۳ء۔صفحہ نمبر۱۱
۲۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’ماں‘‘مشمولہ’’یہ جہانِ رنگ وبو‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۱۳ء۔صفحہ نمبر۱۱
۳۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’ماں‘‘مشمولہ’’یہ جہانِ رنگ وبو‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۱۳ء۔صفحہ نمبر۱۲
۴۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’ماں‘‘مشمولہ’’یہ جہانِ رنگ وبو‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۱۳ء۔صفحہ نمبر۱۴
۵۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’ماں‘‘مشمولہ’’یہ جہانِ رنگ وبو‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۱۳ء۔صفحہ نمبر۱۶
۶۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’ماں‘‘مشمولہ’’یہ جہانِ رنگ وبو‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۱۳ء۔صفحہ نمبر۲۱
۷۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’ماں‘‘مشمولہ’’یہ جہانِ رنگ وبو‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۱۳ء۔صفحہ نمبر۲۲
۸۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’ماں‘‘مشمولہ’’یہ جہانِ رنگ وبو‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۱۳ء۔صفحہ نمبر۲۱
۹۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’ماں‘‘مشمولہ’’یہ جہانِ رنگ وبو‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۱۳ء۔صفحہ نمبر۲۱
۱۰۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’ہدو کا ہاتھی‘‘مشمولہ’’نقش ناتمام‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۸ء۔صفحہ نمبر۱۶
۱۱۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’ہدو کا ہاتھی‘‘مشمولہ’’نقش ناتمام‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۸ء۔صفحہ نمبر۱۲
۱۲۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’ہدو کا ہاتھی‘‘مشمولہ’’نقش ناتمام‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۸ء۔صفحہ نمبر۱۳
۱۳۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’ہدو کا ہاتھی‘‘مشمولہ’’نقش ناتمام‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۸ء۔صفحہ نمبر۱۶
۱۴۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’ہدو کا ہاتھی‘‘مشمولہ’’نقش ناتمام‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۸ء۔صفحہ نمبر۱۴
۱۵۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’ہدو کا ہاتھی‘‘مشمولہ’’نقش ناتمام‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۸ء۔صفحہ نمبر۱۴
۱۶۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’ہدو کا ہاتھی‘‘مشمولہ’’نقش ناتمام‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۸ء۔صفحہ نمبر۱۴
۱۷۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بھیڑیے سیکولر تھے‘‘مشمولہ’’یہ جہانِ رنگ وبو‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۱۳ء۔صفحہ نمبر۳۸
۱۸۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بھیڑیے سیکولر تھے‘‘مشمولہ’’یہ جہانِ رنگ وبو‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۱۳ء۔صفحہ نمبر۴۰
۱۹۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بھیڑیے سیکولر تھے‘‘مشمولہ’’یہ جہانِ رنگ وبو‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۱۳ء۔صفحہ نمبر۴۵
۲۰۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بھیڑیے سیکولر تھے‘‘مشمولہ’’یہ جہانِ رنگ وبو‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۱۳ء۔صفحہ نمبر۵۲
۲۱۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بدا نہیں مری‘‘مشمولہ’’تاریک راہوں کے مسافر‘‘شاہجہاں پرنٹرس،دہلی۔۱۹۹۳ء۔صفحہ نمبر۷۳
۲۲۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بدا نہیں مری‘‘مشمولہ’’تاریک راہوں کے مسافر‘‘شاہجہاں پرنٹرس،دہلی۔۱۹۹۳ء۔صفحہ نمبر۸۴
۲۳۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بدا نہیں مری‘‘مشمولہ’’ تاریک راہوں کے مسافر‘‘شاہجہاں پرنٹرس،دہلی۔۱۹۹۳ء۔صفحہ نمبر۸۴
۲۴۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بدا نہیں مری‘‘مشمولہ’’تاریک راہوں کے مسافر‘‘شاہجہاں پرنٹرس،دہلی۔۱۹۹۳ء۔صفحہ نمبر۷۶
۲۵۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بدا نہیں مری‘‘مشمولہ’’تاریک راہوں کے مسافر‘‘شاہجہاں پرنٹرس،دہلی۔۱۹۹۳ء۔صفحہ نمبر۷۴
۲۶۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بدا نہیں مری‘‘مشمولہ’’تاریک راہوں کے مسافر‘‘شاہجہاں پرنٹرس،دہلی۔۱۹۹۳ء۔صفحہ نمبر۸۲
۲۷۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بدا نہیں مری‘‘مشمولہ’’تاریک راہوں کے مسافر‘‘شاہجہاں پرنٹرس،دہلی۔۱۹۹۳ء۔صفحہ نمبر۷۷
۲۸۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بدا نہیں مری‘‘مشمولہ’’تاریک راہوں کے مسافر‘‘شاہجہاں پرنٹرس،دہلی۔۱۹۹۳ء۔صفحہ نمبر۷۴
۲۹۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بدا نہیں مری‘‘مشمولہ’’تاریک راہوں کے مسافر‘‘شاہجہاں پرنٹرس،دہلی۔۱۹۹۳ء۔صفحہ نمبر۷۷
۳۰۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’ہرہر گنگے‘‘مشمولہ’’تاریک راہوں کے مسافر‘‘شاہجہاں پرنٹرس،دہلی۔۱۹۹۳ء۔صفحہ نمبر۷
۳۱۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’ہرہر گنگے‘‘مشمولہ’’تاریک راہوں کے مسافر‘‘شاہجہاں پرنٹرس،دہلی۔۱۹۹۳ء۔صفحہ نمبر۹
۳۲۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’ہرہر گنگے‘‘مشمولہ’’تاریک راہوں کے مسافر‘‘شاہجہاں پرنٹرس،دہلی۔۱۹۹۳ء۔صفحہ نمبر۹
۳۳۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’ہرہر گنگے‘‘مشمولہ’’تاریک راہوں کے مسافر‘‘شاہجہاں پرنٹرس،دہلی۔۱۹۹۳ء۔صفحہ نمبر۱۲
۳۴۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’ہرہر گنگے‘‘مشمولہ’’تاریک راہوں کے مسافر‘‘شاہجہاں پرنٹرس،دہلی۔۱۹۹۳ء۔صفحہ نمبر۱۰
۳۵۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’ہرہر گنگے‘‘مشمولہ’’تاریک راہوں کے مسافر‘‘شاہجہاں پرنٹرس،دہلی۔۱۹۹۳ء۔صفحہ نمبر۱۳
۳۶۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’ہرہر گنگے‘‘مشمولہ’’تاریک راہوں کے مسافر‘‘شاہجہاں پرنٹرس،دہلی۔۱۹۹۳ء۔صفحہ نمبر۱۵
۳۷۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بھیڑیے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۳۵
۳۸۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بھیڑیے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۳۶
۳۹۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بھیڑیے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۳۸
۴۰۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بھیڑیے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۴۰
۴۱۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بھیڑیے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۳۹
۴۲۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بھیڑیے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۴۰
۴۳۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بھیڑیے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۳۷
۴۴۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بھیڑیے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۳۸
۴۵۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بھیڑیے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۳۸
۴۶۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بھیڑیے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۳۹
۴۷۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بھیڑیے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۳۶
۴۸۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بھیڑیے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۴۳
۴۹۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بھیڑیے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۴۴
۵۰۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بھیڑیے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۴۵
۵۱۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بھیڑیے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۴۵
۵۲۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بھیڑیے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۴۵
۵۳۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بھیڑیے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۴۵
۵۴۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’فضلو بابا ٹخ ٹخ‘‘مشمولہ’’نقش ناتمام‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۸ء۔صفحہ نمبر۴۷
۵۵۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’فضلو بابا ٹخ ٹخ‘‘مشمولہ’’نقش ناتمام‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۸ء۔صفحہ نمبر۴۶
۵۶۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’فضلو بابا ٹخ ٹخ‘‘مشمولہ’’نقش ناتمام‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۸ء۔صفحہ نمبر۴۷
۵۷۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’فضلو بابا ٹخ ٹخ‘‘مشمولہ’’نقش ناتمام‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۸ء۔صفحہ نمبر۵۰
۵۸۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’فضلو بابا ٹخ ٹخ‘‘مشمولہ’’نقش ناتمام‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۸ء۔صفحہ نمبر۴۸
۵۹۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’فضلو بابا ٹخ ٹخ‘‘مشمولہ’’نقش ناتمام‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۸ء۔صفحہ نمبر۴۵
۶۰۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’فضلو بابا ٹخ ٹخ‘‘مشمولہ’’نقش ناتمام‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۸ء۔صفحہ نمبر۴۵
۶۱۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’فضلو بابا ٹخ ٹخ‘‘مشمولہ’’نقش ناتمام‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۸ء۔صفحہ نمبر۵۳
۶۲۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’فضلو بابا ٹخ ٹخ‘‘مشمولہ’’نقش ناتمام‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۸ء۔صفحہ نمبر۵۲
۶۳۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بکسا‘‘مشمولہ’’یہ جہانِ رنگ وبو‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۱۳ء۔صفحہ نمبر۱۵۴
۶۴۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بکسا‘‘مشمولہ’’یہ جہانِ رنگ وبو‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۱۳ء۔صفحہ نمبر۱۵۲
۶۵۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بکسا‘‘مشمولہ’’یہ جہانِ رنگ وبو‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۱۳ء۔صفحہ نمبر۱۵۵
۶۶۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بکسا‘‘مشمولہ’’یہ جہانِ رنگ وبو‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۱۳ء۔صفحہ نمبر۱۵۷
۶۷۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بکسا‘‘مشمولہ’’یہ جہانِ رنگ وبو‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۱۳ء۔صفحہ نمبر۱۵۴
۶۸۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بکسا‘‘مشمولہ’’یہ جہانِ رنگ وبو‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۱۳ء۔صفحہ نمبر۱۵۶
۶۹۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’بکسا‘‘مشمولہ’’یہ جہانِ رنگ وبو‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۱۳ء۔صفحہ نمبر۱۵۸
۷۰۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’منظوروا‘‘مشمولہ’’نقش ناتمام‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۸ء۔صفحہ نمبر۱۱۷
۷۱۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’منظوروا‘‘مشمولہ’’نقش ناتمام‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۸ء۔صفحہ نمبر۱۲۱
۷۲۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’منظوروا‘‘مشمولہ’’نقش ناتمام‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۸ء۔صفحہ نمبر۱۱۶
۷۳۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’منظوروا‘‘مشمولہ’’نقش ناتمام‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۸ء۔صفحہ نمبر۱۱۷
۷۴۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’منظوروا‘‘مشمولہ’’نقش ناتمام‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۸ء۔صفحہ نمبر۱۱۸
۷۵۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’منظوروا‘‘مشمولہ’’نقش ناتمام‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۸ء۔صفحہ نمبر۱۱۸
۷۶۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’اجن ماموں کا بیٹھکہ‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۹
۷۷۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’اجن ماموں کا بیٹھکہ‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۱۱
۷۸۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’اجن ماموں کا بیٹھکہ‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۱۵
۷۹۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’اجن ماموں کا بیٹھکہ‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۱۴
۸۰۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’اجن ماموں کا بیٹھکہ‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۱۷
۸۱۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’سنسکرتی کا پانچواں ادھیائے‘‘مشمولہ’’یہ جہانِ رنگ وبو‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۱۳ء۔صفحہ نمبر۲۵
۸۲۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’سنسکرتی کا پانچواں ادھیائے‘‘مشمولہ’’یہ جہانِ رنگ وبو‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۱۳ء۔صفحہ نمبر۲۷
۸۳۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’سنسکرتی کا پانچواں ادھیائے‘‘مشمولہ’’یہ جہانِ رنگ وبو‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۱۳ء۔صفحہ نمبر۲۶
۸۴۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’سنسکرتی کا پانچواں ادھیائے‘‘مشمولہ’’یہ جہانِ رنگ وبو‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۱۳ء۔صفحہ نمبر۲۷
۸۵۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’سنسکرتی کا پانچواں ادھیائے‘‘مشمولہ’’یہ جہانِ رنگ وبو‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۱۳ء۔صفحہ نمبر۳۲
۸۶۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’سنسکرتی کا پانچواں ادھیائے‘‘مشمولہ’’یہ جہانِ رنگ وبو‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۱۳ء۔صفحہ نمبر۳۳
۸۷۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’قصہ جانکی رمن پانڈے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۱۳۶
۸۸۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’قصہ جانکی رمن پانڈے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۱۳۷
۸۹۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’قصہ جانکی رمن پانڈے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۱۴۰
۹۰۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’قصہ جانکی رمن پانڈے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۱۴۲
۹۱۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’قصہ جانکی رمن پانڈے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۱۴۳
۹۲۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’قصہ جانکی رمن پانڈے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۱۴۸
۹۳۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’قصہ جانکی رمن پانڈے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۱۵۳
۹۴۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’قصہ جانکی رمن پانڈے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۱۵۶
۹۵۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’قصہ جانکی رمن پانڈے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۱۶۰
۹۶۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’قصہ جانکی رمن پانڈے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۱۶۲
۹۷۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’قصہ جانکی رمن پانڈے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۱۶۳
۹۸۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’قصہ جانکی رمن پانڈے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۱۶۴
۹۹۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’قصہ جانکی رمن پانڈے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۱۴۹
۱۰۰۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’قصہ جانکی رمن پانڈے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۱۵۰
۱۰۱۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’قصہ جانکی رمن پانڈے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۱۵۱
۱۰۲۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’قصہ جانکی رمن پانڈے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۱۵۲
۱۰۳۔ذکیہ مشہدی۔افسانہ’’قصہ جانکی رمن پانڈے‘‘مشمولہ’’صدائے بازگشت‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔صفحہ نمبر۱۵۲
٭٭٭٭٭٭

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook