Home / خبریں / ذکیہ مشہدی کے نمائندہ افسانوں کا تجزیاتی مطالعہ

ذکیہ مشہدی کے نمائندہ افسانوں کا تجزیاتی مطالعہ


احمد رشید

گلی رہٹ والا کنواں،سرائے رحمن، علی گڑھ


ذکیہ مشہدی اپنے ڈھب کی الگ فنکار ہیں جن کی قلم میں روانی بھی ہے اور موضوعات کی تازگی بھی۔وہ جن موضوعات پر قلم اٹھاتی ہیں اُس کا پورا پورا حق ادا کرتی ہیں۔ان کے تاہنوز چھہ افسانوی مجموعے اشاعت سے ہمکنار ہوچکے ہیں جو درج ذیل ہیں:
۱۔ پرائے چہرے ۱۹۸۴ء
۲۔ تاریک راہوں کے مسافر ۱۹۹۳ء
۳۔ صدائے بازگشت ۲۰۰۳ء
۴۔ نقش ناتمام ۲۰۰۸ء
۵۔ یہ جہانِ رنگ وبو ۲۰۱۳ء
۶۔ آنکھن دیکھی ۲۰۱۷ء
مندجہ بالا مجموعوں میں شامل افسانوں کی تعداد مجموعی طور پر اکیاسی[۸۱] بنتی ہے ۔ان میں دو ناولٹ ’قصہ جانکی رمن پانڈے‘اور’پارسا بی بی کا بگھار‘بھی شامل ہے۔آخر الذکر ناولٹ الگ سے کتابی صورت میں بھی منظر عام پر آچکی ہے۔ذکیہ مشہدی کا قد ہمعصر افسانے میں بڑھتا ہوا نظر آتا ہے۔انھوں نے مختلف موضوعات پر کئی اہم کہانیاں تخلیق کی ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے تمام افسانوں کا تفصیلی مطالعہ کیا جائے لیکن پھر بھی یہاں چند نمائندہ افسانوں کا تجزیہ پیش کیا جارہا ہے۔
ماں
افسانہ فکر و اظہار کی وہ نثری صنف ہے جس میں حیات و کائنات کی علمی و فنّی صورت دی جاتی ہے۔ جس کا تخلیقی ہونا لا زمی ہے بھلے ہی افسانہ مغرب کے زیر اثر ہمارے ادب میں داخل ہوا لیکن شروع ہی سے اس کا رنگ و روپ اور مزاج مشرقی رہا ہے۔ بر صغیر کے مختلف علاقوں کی تہذیب، وہاں کی سیاسی اتھل پتھل ، اقدار کی شکست و ریخت ، سماج کا کھوکھلا پن، رومان اور حقیقت کا ٹکرائو ، فطرت نگاری ، طبقاتی جدو جہد ، غریبی و امیری کا تصادم غرض کہ زندگی کے ہر پہلو کے لیے صنف افسانہ کو استعمال کیاگیا ہے۔ اس صنف میں فکری وسعت اور عصری زندگی کے تقاضوں کے ساتھ تکنیکی اور اسلوبی سطح پر بھی تجربات ہوئے ہیں۔ ہرچند کہ افسانہ مغرب کی دین ہے لیکن فن افسانہ نگاری مغرب کی طرف آنکھ اٹھانے کا محتاج کبھی نہیںر ہا ہے ۔ اس کی وجہ تہذیبی ، سماجی اور معاشرتی پس منظر ہونے کے ساتھ اس کا ارضیت سے جڑے رہنے کا مزاج ہے اور موجودہ عصر میں تو مقامیت ، علاقائیت پر کافی تو جہ دی جارہی ہے ۔ ذکیہ مشہدی کا افسانہ ’’ماں ‘‘ کو سامنے رکھتے ہوئے غور کریں تو فنّی نقطۂ نظر سے اس میں اپنی مکمل تخلیقی صورت میں ہونے کی دلیل نظر آتی ہے ۔ دوسرے تہذیبی اور معاشرتی پس منظر کے ساتھ ساتھ ارضیت اور مقامیت سے جڑے رہنے کی آرزو بھی ہے ۔ یہ معاملہ صرف افسانہ ’’ماں‘‘ ہی کا نہیں بلکہ ذکیہ مشہدی کے افسانوی کائنات میں حقیقت نگاری کے علاوہ مقامیت ، ارضیت ان کی شناخت بن چکی ہے۔ مذکورہ افسانہ میں بھی ایک مخصوص علاقہ کے تہذیبی اور معاشرتی زندگی کا عکس نظر آتا ہے جو گنگا کے درمیان پھیلے دئیراکے کے علاقے میں ’منی‘ جو اس افسانہ کا مرکز ی کردار ہے اپنی زندگی تنہا گزار رہی ہے:
’’ منی ڈری نہیں اور ڈرتی وہ تھی بھی نہیں۔ رات کے سناٹے میں ہر ہر کرتی گنگا کے درمیان پھیلے پڑے دیئرا کے اس علاقے میں وہ تنہا زندگی گزار رہی تھی اور لوگ رہتے تو تھے لیکن جھونپڑیاں دور دور تھیں ۔‘‘ (۱)
افسانہ کی ابتدا میں مصنفہ نے جاڑئے کی شدت کااظہار ایک تخلیقی جملہ سے کیا ہے ۔ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہڈیوں کے آر پار ہوگیا ، موسم کی اس سختی کا ذکر اس لیے کیاگیا ہے کہ مفلوک الحال غریب خاندان کس طرح اس سفاک حقیقت سے جھوجھتا ہے ۔ سردی سے بچنے کے لیے نہ صرف اس کے پاس گرم کپڑے ہوتے ہیں اور نہ ہی لحاف گدّے جس میں گھس کر بے رحم جاڑے سے اپنا بچائو کرسکے۔ رات کے وقت پھٹے پرانے گودڑوں میں نیچے سوتے ہیں ۔ آس پاس جنگل سے چنی ہوئی لکڑیوں کوجلاکر اس کے الائو سے جاڑے کی شدت سے اپنا بچائو کرتے ہیں :
’’ کڑاکے کا جاڑا پڑ رہا تھا اس پر مہاوٹیں بھی برسنے لگیں۔ پتلی ساری کو شانوں کے گرد کس کر لپیٹتے ہوئے منی کو خیال آیا کہ اوسارے میں ٹاپے کے نیچے اس کی چاروں مرغیاں جو دبک کر بیٹھی ہوئی ہوںگی۔ ان پر ٹاپے کی سانکوں سے پھوارپڑ رہی ہو گی۔ بیمار پڑ کر مرگئیں تو دوبارہ خریدنا بہت مشکل ہوگا۔ کپکپاتے ہاتھوں سے اس نے ٹٹرہٹا یا اور باہر آگئی ۔ ‘‘ (۲)
جاڑا، گرمی اوربرسات کی شدت سے زیادہ بڑی چیز پیٹ ہے جو انسان کی اہم اور بنیادی ضرورت ہے۔ پیٹ کی آگ گرمی کی شدت سے زیادہ بھیانک ہے۔ پیٹ ہی کی خاطر غریب انسان سخت ترین جاڑے میں گھر سے نکل کر کمانے نکلتا ہے۔ یہاں بھی منی کو خیال ہے کہ بیمار پڑ کر مرغیاں مر نہ جائیں۔ چوں کہ اس کی روزی روٹی ان سے جڑی ہے اس کا علاوہ منی تھوڑی بہت کمائی مچھلی بیج کر کرلیتی ہے:
’’ سرپر ٹوکرا اٹھائے محلے محلے مچھلی بیچ کر کوئی دو ڈھائی بجے تک لوٹ آتی ۔ راستے سے ضرورت کا سودا سلف بھی اٹھالیتی ۔۔۔ منافع ہونہ ہو ، جمع نکل آئے یہ سوچ کر وہ اکثر بچی ہوئی مچھلی بہت کم داموں میں ہرسیا کو بیچ دیا کرتی تھی ۔ ‘‘ (۳)
’’ہر سیا ‘‘ پولس کا مخبر اوباش قسم کا آدمی تھا۔ گھاٹ کے قریب چائے کا کھو کھا تھا وہ آتے جاتے منی کو چھیڑتا ۔آواز ے کستاتھا ۔مفت کی چائے آفر کرتا لیکن مچھلی کے دام اس نے کبھی پورے نہیں دیے چوں کہ وہ جانتا تھا کہ منی جیسی غریب بیوپاری میں نقصان اٹھانے کا بوتا نہیںہے۔ چائے کے کھوکے کی آڑ میں کچی شراب کے ساتھ تلی مچھلی بیچنے کا دھندہ کرتا تھا۔ ہرسیا نے کسی تکرار کے سبب اس سے بدلہ لینے کے لیے اس کے خلاف مخبری کی تھی۔ منی کو یہ بھی نہیںمعلوم کہ جھوٹی یا سچی بات ہے نیپال سے کیندور کی پتیوں اورکتھے کی اسمگلنگ کے جرم میں اس کا شوہر گرفتار ہوا تھا:
’’ ہوسکتا ہے وہ صرف موٹر بوٹ چلاتا رہا ہوا ور اسے مال کا علم نہ رہا ہو ، ہو سکتا ہے ملوث رہا ہو جو بھی ہو وہ ایک بہت ہی چھوٹی مچھلی تھی جسے بڑی مچھلیاں نگل گئی تھیں ۔‘‘ (۴)
شوہر کی گرفتاری سے پہلے منی کا پہلو ٹھی کا بیٹا بیمار رہا کرتا تھا۔ باپ کے جانے کے بعد گھر پر ایسی مصیبت آئی کہ کھانے پینے کے لالے پڑ گئے ۔ بچے کی بیماری زیادہ بڑھ گئی اور آخر کار وہ مرگیا ۔ ایک نیک فرشتہ صفت انسان نے اس کی مدد کی۔ اسپتال پہنچانے اور تیمار داری کرنے کی ذمہ داری اس نے سنبھالی چوں کہ خدمت خلق کرنا اس کی عادت تھی۔ سخت جاڑے کی اندھیری رات میں ومنی کے گھر مہمان بن کر آتاہے اور وہ منی کے خاندان کی ہر طرح سے مدد کرتا ہے اس کے جھولے میں رکھے بطخ کے چار انڈے اور چھہ عدد کیلے اس نے بچوں کے دے دیے۔ یہ نعمتیں دیکھ کر زرد چہرے اور بجھتی آنکھوں میں جو چمک آئی اسے منی کبھی نہیں بھول سکتی ۔ اہم بات یہ ہے کہ موت کے سامنے بھی پیٹ کی بھوک ایک آگ کی طرح ہوتی ہے جو اخلاقی اقدار ، انسانی تہذیب سب ہی جلاکر راکھ کردیتی ہے تب ہی تومنی سوچتی ہے :
’’جب بھی اس کے جانے کا غم ستاتا وہ مسرت کی اس چمک کو یاد کرتی تو دکھتے دل پر ٹھنڈی ٹھنڈی پھوار پڑ جاتی ۔ اپنی زندگی کے آخری دو دنوں میں اس کا بچہ بہت خوش تھا۔ وہ اس دنیا سے خوش خوش گیا تھا۔ اس کے پیٹ میں کھانا تھا وہ بھی اچھاکھانا ۔ ‘‘ (۵)
اگر افسانہ کی Paraphraisnigکہی جائے تو منی مذکورہ افسانہ ’’ماں‘‘ کا مرکزی کردار ہے اس کا خاندان آٹھ سالہ پولیو زدہ لڑکا اور پانچ پانچ سال کی دو جڑواں مریل لڑکی ہیں جس کا شوہر تسکری کے الزام میں جیل میں قید ہے۔ ہر سیا سے کسی تکرار کے سبب اس نے مخبری کی کہ وہ نیپال سے کتھے کی اسمگلنگ میںشامل ہے۔ وہ کہاں ہے کس حال میں ہے، ہے بھی یا نہیں ہے یہ منی کو بھی نہیں معلوم۔ شوہر کے غائب ہوجانے کے بعد وہ نہایت غریبی اور کسمپرسی کی زندگی گزاررہی ہے۔ منی اپنے بچوں کو دو وقت پیٹ بھرکھانا تک مہیا نہیں کراپاتی۔ ہر سیا نہایت بدکار قسم کا انسان ہے جو چائے کا ہوٹل چلاتا ہے۔ چائے کے کھوکھے کی آڑمیں کچی شراب کے ساتھ تلی مچھلی کا کاروبار کرتا ہے۔منی شہر میں مچھلی فروخت کرنے کاکام کرتی ہے۔ منی ذات کی ملاح نہیں تھی لیکن پندرہویں برس میں وہ بیاہ کر یہاں آئی تھی۔پچھلے بارہ تیرہ سال سے ریڑا میں بنی اس جھونپڑی میں اپنے اور شوہر کو موٹر بوٹ چلانے کے پیشے کی وجہ سے وہ گنگا اور گنگا میں بسی مچھلیوں کے علاوہ اور کسی چیز کو نہیں جانتی۔ بقول مصنف اسے گنگا ماں سے پہلے ہی بڑی عقیدت اور محبت تھی۔اُن کے آنچل میں رہنے کو ملے گا یہ تو اس نے سوچا بھی نہیںتھا اور اب تو روزی روٹی کا ذریعہ بھی گنگا ماں ہی تھی۔ ایک رات کڑاکے کا جاڑا پڑ رہا تھا اس پر مہاوٹیں بھی برسنے لگیں۔ سن سن کرتے دئیرا میں گنگا کو چھو کر یخ بستہ ہوائیں چل رہی تھیں۔ ایک شخص دبلا پتلا، لانبے قد پر دھوتی لپیٹ رکھی تھی جس نے اوسارے میں رات کاٹنے کی اجازت چاہی۔ منی نے کہا ’’اندر آجایئے مالک‘‘ منی نے محسوس کیا کہ ا س کے گھر میں فرشتوں کے قدم اترے ہیں یا گنگا ماں ایک انسان کی شکل اختیار کرکے اس کی جھونپڑی میں آن اتری ہے۔ یہ وہی شخص ہے جس نے اس کے برے وقت میں اس کا ساتھ دیاتھا۔ پہلو ٹھی کے بچہ کی بیماری میں سرکاری اسپتال لے جانے اور اس کی تیمار داری کرنے اس کی مدد کی۔ بھوکے بچوں کو انڈے اور کیلے کھلائے ۔ آج رات بھولے بھٹکے سخت سردی اور ماہوٹ کی وجہ سے وہ رُکا ہے۔ بے لوث خدمت گزاری کی وجہ سے وہ اسے فرشتہ کہتی ہے اس سخت جاڑے کی رات میں اس کا مہمان ہوتا ہے۔ وہ الائو جلاکر رات کی ٹھنڈ کا علاج کرتی ہے اسے گڑ کی چائے پلاتی ہے اور اس کے گیلے کپڑے اترواکر اپنے شوہر کا بکسے میں رکھا ہوا ایک جوڑا پہننے کو دیتی ہے۔ پرانے، پھٹے بستر پر سلانے کاانتظام کرتی ہے ۔ دونوں کے درمیان عام سی بات چیت ہو تی ہے ۔ منی اس کے پر یوار کے بارے میں پوچھتی ہے۔ اس شخص کا جواب ہے ’’میرا پریوار تم لوگ ہو۔ آس پاس کے چاروں گائوں میرا پریوار ہے ‘‘۔ اس کی نہ کوئی عورت ہے ،نہ بچے ہیں عورت کا سکھ اس نے کبھی نہیں جانا۔ شوہر کو یاد کرکے اس کے دل میں ٹیس سی اٹھی ۔اس نے اس شخص سے کہا ’’آپ کا سرسہلادوں ؟ نیند نہیں آرہی ہے نہ ‘‘ اس نے چائے کا آخری گھونٹ لے کر خالی گلاس رکھتے ہوئے کہا ’’تم خود سوئو جاکے۔ سویرے سویرے مچھلی لانے نکل پڑوگی ۔ جائو یہاں سے ‘‘ انہوں نے قدرے ڈپٹ کر کہا۔ یہاں مصنفہ جنس کے اس لمحہ کو اس قدر فطری انداز میں پیش کیا ہے جو حقیقت کے بالکل قریب ہے :
’’ کچھ لمحوں بعد وہ وہیں بیٹھ گئی ۔ تسلے کی آگ بجھ کر بہت سی راکھ چھوڑ گئی تھی۔ لیکن راکھ کے اندر انگارے تھے اور راکھ گرم تھی۔ اس نے ایک ٹہنی سے اسے کرید ا تو چنگاریاں اڑیں‘‘۔ (۶)
کچھ دیر تک وہ اپنی کثرت استعمال سے پتلی پڑتی ساڑی پلوسے خود کو لپیٹ لپیٹ کر کچھ سوچتی رہی پھر دھیرے سے ان کی بغل میں سرک آئی۔ سخت محنت سے گھٹا ہوا اٹھائیس سالہ جوان جسم کمان کی طرح تنا اور پھر چراغ کی طرح لودے اٹھا۔ جنس کے اس کمزورلمحے میں وہ آہنی مرد جوفرشتوں جیسی خصائص کا حامل تھا ٹوٹ گیا۔ اس منظر کو مصنفہ نے بہت ہی خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے ۔ جو رمز یاتی بھی ہے اور علامتی بھی :
’’ اس لمحے نے مزید کچھ سوچنے کا موقع نہیں دیا وہ ان پر حملہ کر بیٹھا۔ جیسے نیپال میں برف پگھلنے کے بعد طغیانی پر آئی بے بضاعت گنڈک خونخوار ہوکر طاقتور گنگا پر چڑھ دوڑتی ہے اور گنگا اپنی تمام ترغضب ناکی کے باوجود کروٹیں بدل بدل کر اسے اپنے اندر ضم کرنے پر مجبور ہوجاتی ہے ۔ ‘‘ (۷)
افسانہ خاتمہ پر اس طرح پہنچتا ہے کہ فنی صبح کو اٹھ کر ہاتھ جوڑ کر کہتی ہے ’’اب کبھی رکنے کو نہیں کہوں گی بھگوںڈریئے گا نہیں ‘‘ ۔ وہ فرشتہ جو رات کی تاریکی میںانسان کے وجود میں ڈوب گیا تھا اپنی غلطی کااحساس کرتے ہوئے کہتا ہے : ’’باقی ساری زندگی صرف ایک وقت کھانا کھاکر آج کی رات کا کفارہ ادا کروںگا مگر تمہارا شکر گزار ہوں منی ماں۔ ہمیشہ رہوں گا۔ انہوںنے اچانک جھک کر اس کے پیر چھولیے۔ رکنے کو کہنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ یہ علاقہ چھوڑ کر جارہا ہوں۔ ‘‘ اور نم دھواں دیتی تاریک صبح میں تیزی سے گم ہو گئے ۔
اس مرد کی عورت کی نگاہ میں بہت اہمیت اور عزت ہو تی ہے جو اس کے برے وقت میں اس کے کام آئے خصوصی طور سے ماں کے سامنے اس کا درجہ اور بھی بلند تر ہوجاتا ہے جو اس کی اولاد پر ترس کھائے ہمدردی کرے اور محبت رکھے۔ پھر منی ایک مفلوک الحال عورت جس کا پہلو مٹھی کا بچہ پہلے ہی مرچکا ہے۔ اس بچہ کی بیماری سے لے کر آخری دن ایک انجان شخص مدد کرے تو وہ اس کی نظر میں دیوتا اور مالک تو ہو ہی جانا چاہیے ۔ قابلِ رحم حالات کا یہ معاملہ ہے کہ دوسرا لڑکا لنگڑا پولیو زدہ ہے اور دوجڑواں کمزور اور لاغر لڑکیاں ہیں شوہر گزشتہ کئی سال سے تسکری کے الزام میں جیل کاٹ رہا ہو، تنگدستی کا عالم یہ ہے کہ پیٹ بھر روٹی میسر نہ ہو ۔ محنت مزدوری کرتی ہے ۔ مزدوری کے نام پر تھوڑی بہت مچھلی فروخت کرکے آتی اور اپنے بچوں کاکام چلائو پیٹ بھرتی ہے۔ بچوں کے علاج و معالجہ کرانے کی اس کے اندر سکت نہیں تھی۔ایسی کسمپرسی کے حالات میں کوئی شخص مدد کرے تو وہ عورت کی نظر میں ’دیوتا ‘ فرشتہ کہلائے گا۔ اس کی نظر میں اس آنے والے انجان مرد کی بے حد وقعت اور منزلت تھی اور ہونی بھی چاہئے چوں کہ وہ اسی قدرو منزلت کا مستحق تھا۔ چوں کہ اس سوتے ہوئے مرد کے پہلو میں داخل ہونے کی ابتدا کرنے کی کوشش منی ہی کی تھی۔ جنس کا ایک کمزور لمحہ ایسا بھی آتا ہے کہ جہاں مرد اور عورت دونوں ہی ٹوٹ جاتے ہیں۔ عورت کی عرض تمنا پر مرد کا فطرتاً جھک جانا عین حقیقت ہے کیوںکہ آدم کے ساتھ حوا کا تخلیق کیاجانا بے مقصد اور معنی نہیں تھا۔ وہ بھی ایسا مرد جو لذت حسن سے آشنا نہ ہو، اس خاص لمحہ میں منی اپنی جنسی ضرورت کااظہار بھی اس طرح کرتی ہے :
’’مالک جانے بغیر دنیا مت چھوڑیے گا ۔ آتما بھٹکے گی ۔ یہ سکھ …….بھوگئے نہ بھوگئے ، جان تو لیجئے ایک بار……..۔‘‘(۸)
اس موقع پر انجان شخص کی ذہنی کیفیت کو مصنفہ نے کس طرح بیان کیا جو حقیقت بیانی کا غماز ہے ۔
’’ مہا تمابدھ ویسے تو اہنسا کے پجاری تھے لیکن کوئی کشکول میں گوشت ڈال دیتا تو کھالیتے لیکن کیا جب مارنے انہیں گمراہ کرنے کے لیے اپنی بیٹیوں کو بھیجا تھا تو وہ انہیں شکست نہیں دے سکے تھے؟ کیا انہوںنے اپنی خواہشوں پر مکمل قابو نہیںپالیاتھا؟‘‘ (۹)
ایک غریب عورت کے پاس ایسا بھی ہے کہ اپنے محسن کو وہ اپنے آپ کو سونپ دے۔ ایسے فرشتہ صفت انسان کی بے لوث مدد کے عوض میں وہ سردرات کے اندھیرے میں مرد کے بن بلائے غیر مرد کے پہلو میں خود سرک جائے ۔ میرے نزدیک یہاں مرد کے احسانات کی قیمت چکانا ہی مقصد نہیں ہے بلکہ اپنی جنسی آسودگی کے تقاضے کو پورا کرنا بھی ہے کیوں کہ کافی عرصے سے وہ اپنے شوہر سے چھوٹی ہوئی بھی ہے۔ یہ جنس کی فطرت بھی کہ شہوانی خواہش کو ایک حد تک دبانا ممکن ہے وہ بھی ایک شادی شدہ عورت جو پہلے سے اس لذت سے آشنا ہے۔ جب اس کا واسطہ ایک ایسے شخص سے پڑتا ہے جس نے کبھی عورت کی شکل جنسی نگاہ سے نہیں دیکھی، شرافت نفس اور عزت و حرمت کا وہ قائل ہے لیکن بغل میں پڑی ہوئی عورت کو دیکھ کر وہ فرشتہ صفت انسان بھی مرد کے وجود میں ڈھل کر عورت (منی) کے سامنے ڈھیر ہوجاتا ہے ۔ دراصل اس افسانہ کا بنیادی کردار منی ہے جس کے ارد گرد کہانی گھومتی ہے لیکن مرکزیت اس بدھا خصلت انسان کو بھی حاصل ہے جو اہنسا کا پجاری ہے پھر بھی جب اس کے کشکول میں گوشت کا ٹکڑا ڈال دیاجائے گا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اسے بھیک سمجھ کر نہ قبول کرلے۔اس لیے فطری طور پر وہ بھی جنس کے اس کمزور لمحہ میں ٹوٹ کربکھر جاتا ہے ۔ لذتِ جنس کے بادل چھٹنے کے بعد اس کو احساسِ ندامت بھی ہوتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭
ہدّو کا ہاتھی
اردو افسانہ میں مقامیت اورارضیت کوخاص اہمیت حاصل ہے۔ اسی طرح معاشرتی،سماجی اور تہذیبی اقدار بھی ترجیحات میں شامل ہیں۔ اردو افسانہ نے اپنے عہد کی ہمیشہ تر جمانی کی ہے باوجود کہ اس کے اندر بدلتی ہوئی اقدار تقاضوں ، رویوں ، سروکاروں کا ساتھ دینے کی صلاحیت وقوت بھی اس کے اندر موجود ہے۔ نہ صرف زمانے کے مطابق اس کی تشکیلی عناصر میں تبدیلی آتی رہی ہے بلکہ موضوعاتی سطح پر بھی اس کی ترکیبی اور فنی اجزا کے برتنے کی شرائط کو بھی توڑنے کی بھی جرأت اس کے اندر موجود ہے چوںکہ افسانہ ایک آزاد نثری صنف ہے جس کے اندر لچک اور تغیر پسند مزاج ہونے کی خصوصیت پوشیدہ ہے۔ افسانہ دیگر اصناف سخن کی طرح زندگی اور موت کی ترجمانی ہی نہیں اس کی تعبیر بھی کرتا ہے۔ اس لیے افسانہ حیات و ممات کا ایک تخلیقی استعارہ کہاجاتا ہے چوں کہ اس میں حیات کی کشمکش، زندگی کی تغیر پسندی اور کرداروں فعالیت کی رو داد پیش کی جاتی ہے ساتھ ہی موت کی کیفیت اور موت کے بعد کے کوائف بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہیں ۔ دراصل افسانہ تخیل اور حقیقت کی آمیزش سے تخلیق ہوتا ہے۔ فنٹاسی کو حقیقت کا روپ اسی طرح دیاجاتا ہے کہ زندگی کاسچ نظر آنے لگے۔ افسانہ ایک متحرک نثری صنف ہے۔ وہ زندگی کو پیش کرتی ہے اور زندگی کسی ساکت و جامد شے کانام نہیں۔ افسانہ ایک نئی دنیا اور نئی زندگی کے متنوع پہلوئوں کو دریافت کرنے کا عمل ہے یہ تاریخ اور عصری تقاضوں کے رشتوں کو مضبوط بناتا ہے ماضی اور حال کی کڑیوں کو جوڑنے اور گڈمڈ کرنے کا کردار اداکرتاہے۔
ذکیہ مشہدی کا افسانہ ’’ ہدّو کا ہاتھی ‘‘ تکنیکی، موضوعاتی اور تہذیبی تنوع کے لحاظ سے بہت معروف افسانہ ہے۔ ذکیہ مشہدی کا محبوب موضوع عورتوں کی نفسیات اور خانگی زندگی کے تعلقات کا مطالعہ ہے۔ وہ عصری آگہی اور سماجی معنویت کو خود اپنے تجربے اور مشاہدے کا حصہ بناکر افسانہ کی بنت کرتی ہیں لیکن مذکورہ افسانہ میںماضی کی تصویروں کے نقوش کو ابھارنے کی سعی ملتی ہے۔ دراصل فکشن ادب کا مرغوب موضوع تہذیبوں کے عروج و زوال کی داستان بیان کرتا رہا ہے۔ اس افسانہ میں بھی مسلمانوں کے شاندار ماضی اس کی شان و شوکت اور اعلیٰ اقدار کی ٹوٹ پھوٹ کو موضوع بنایا ہے ۔ ذکیہ مشہدی نے مذکورہ افسانہ میںماضی کی عظمتوں اور تاریخ کی ان تصویروںکوپیش کیا، ان کے شاندار ماضی کی علامتیں رہی ہیں۔آج بھی ہندوستانی مسلمانوں کے ذہن و شعور پر وہ تصویریں آویزاں ہیں۔ کبھی وہ ان کو یاد کرکے فخر کرتے ہیں اورکبھی آنسو بہاتے ہیں۔ مصنفہ نے بھی زیر تجزیہ افسانہ میں مسلمانوں کے شاندار تاریخ کا ایک ورق کھولاہے۔ تہذیبی زوال، اعلیٰ اقدار کا مٹنا اور معاشرتی نظام کے بکھرنے کاذکر اپنے خوبصورت انداز میں بیا ن کیا ہے ۔
افسانہ کا عنوان ہی اس بات کا مظہر ہے کہ ہدّو نام کا کوئی انسان ہے جو ہاتھی کا مالک ہے اورہاتھی علامت ہے صاحبِ ثروت ہونے کی۔ پرانے زمانے میں زمینداروں اور راجہ مہاراجوں میں ہاتھی رکھنے کا رواج تھا۔ ہاتھی کا پالنا معمولی انسان کی اوقات سے باہر تھا۔ جس طرح جدید دور میں کاروں کا مالک ہونا مالدار ہونے کی نشانی ہے ، کاروں کی گنتی اور ان کے ماڈل سے کسی بھی انسان کی مالداری آنکنے کا پیمانہ ہے۔ اسی طرح ماضی میں ہاتھیوں کی تعداد سے زمینداروں اور راجہ رجواڑوں کی اوقات کا پتہ چلتا تھا۔ کہاوت مشہور ہے کہ ہاتھی خریدنا آسان ہے لیکن اس کو پالنا بے حد مشکل ہے۔ ہما شمانہ تو اس کو خرید سکتا ہے اور نہ ہی پال سکتا ہے۔ ہدّو جو اس افسانہ کا مرکزی کردارہے اپنے عروج کے زمانے میں سید ہادی حسن کے نام معزز اور نامور تھا وقت بگڑنے کے ساتھ ہادی سے ہدّورہ گیا جو اس کے زوال پذیر ہونے کی نشانی ہے :
’’اس وقت حویلی نہایت حسین اور بارونق ہوا کرتی تھی۔ ڈیوڑھی پر تین تین ہاتھی جھولتے تھے جن پر آٹھ ملازم مقرر تھے۔ ان کے خاص مہاوت کی سفارش پر ایک نواں ملازم مقرر کیاگیا۔ یہ ہدو کے پردادا کے والد تھے ۔‘‘ (۱۰)
جیسا کہ عرض کیاجاچکا ہے کہ ہاتھی کا ہونا صاحب ثروت ہونی کی علامت ہے اس وقت حویلی نہایت حسین اور بارونق اس لیے بھی تھی کہ ڈیوڑھی پر تین تین ہاتھی جھومتے تھے جن کی دیکھ ریکھ کرنے کے لیے ملازم رکھے جاتے ۔ ہدّو کے پردادا کے والد بھی فیل بان تھے ۔سید سنجر حسین مہتمم فیل خانہ شاہی جو محض تین ہاتھیوں پر مشتمل معمولی فیل خانے کے ایک معمولی ملازم ضرور تھے لیکن اس زمانے میں اس ملازمت کا بڑا رتبہ اور مرتبہ ہوا کرتا تھا ایک تو شاہی دربار سے منسلک ہونا دوسرے ہاتھیوں کی نگہبانی کرنا جو کسی بھی زمیندار یا راجہ کی عزت کی نشانی تھا۔ ہاتھی کا باعث افتخار ہونا اس لیے بھی تھا کہ شاہی سواری ہونے کے ساتھ ان کا استعمال جنگی میدانوں میں بھی ہوا کرتا تھا۔ یعنی ہاتھی عزت، دولت اور طاقت کی بھر پور علامت بن جاتا ہے۔ افسانہ کی ابتداہا تھی کے ذکر سے ہوتی ہے اور خاتمہ بھی علامتی انداز میں ہوتا ہے۔ ’’ثبوت کے طور پر ہاتھی کے دانت کچی دیوار پر آویزاں تھے اور شجرہ بکس میں محفوظ تھا‘‘۔
ذکیہ مشہدی کا یہ افسانہ تاریخی نوعیت کا ہے جس میں ہاتھی کو علامت بناکر افسانہ کی بنت کی ہے اور پسِ منظر میں تہذیبی اور تاریخی اقدار ابھارنے کی کامیاب کوشش ملتی ہے۔ ہاتھی کے دانت، شیر کی کھال، تلوار ڈھال کا دیوار پر آویزاں ہونا۔ راجائوں اور زمین داروں کی شان و شوکت کی نمودو نمائش ہے۔ حسب و نسب کا شجرہ مرتب ہونا فخر ورعب کی علامت ہے۔ یہ تمام اشیاء ماضی کے لمحات کو پکڑنے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
وسط میں کہانی میں کشمکش اور تصادم شوہر اور بیوی کے درمیان مکالمہ سے شروع ہوتا ہے۔ ہدّو کو ہاتھی سے بے حد محبت ہے اس کے برخلاف اس کی بیوی ہاتھی سے اتنی ہی نفرت ہے چوں کہ وہ ہدّو کی صرف بیوی نہیں ایک ماں بھی ہے۔ حالات اتنے خراب ہو چکے کہ بھوکوں کو مرنے کی نوبت آچکی ہے۔ ہدّو کام وام کچھ نہیں کرتا ، ہاتھی کی خدمت گزاری میں لگارہتا ہے۔ باہر کہیں سے وہ گھر میں داخل ہوتا ہے ۔ بڑے پیار سے ہاتھی سے مخاطب ہوا اور کندھے پر لٹکے انگوچھے میںبندھی پوٹلی میں چار عدد روٹیاں اور پانچ سات حلوے کی قتلیاں ، روٹیوں میں لپیٹ کرہاتھی کے منہ میں ڈالیں ساتھ ہی اس کے دل میں کچوٹ تھی اگر استطاعت ہوتی تو ٹوکرہ بھر حلوہ روٹی کھلاتا، یہ پورا منظر اس کی بیوی دیکھتی ہے اور ٹاٹ کے پردے کے پیچھے سے چلاتی ہے:
’’ ارے اس کمبخت کو ڈھائی گھڑی کی آوے۔ بچے کھالیتے حلوہ روٹی جو اس کے پیٹ میں ڈال دیا۔ اس کالے پہاڑ کا کوئی بھلا نہ ہواوربچے محروم رہ جائیں۔ ‘‘
’’بچے ہیں کہ راون کی فوج اپنا حصہ کھا چکے یہ ہمارا حصہ تھا ہم جسے چاہیں دیں، ہدّو گرے ’’ہم جسے چاہیں دیں‘‘ بیوی نے مونہہ ٹیڑھا کر کے ان کی نقل کی ۔ شاید انہیں کوئی معقول جواب نہیں سوجھا تھا۔ اس لیے منہہ چڑا نے پر ہی اکتفا کی۔
’’نیک بخت اوقات میں رہاکر، شوہر کا منہ چڑاتی ہے۔ جہنم میں جائے گی۔ صبح تین چار گھروں سے حصے آئے۔ سب تیر ے یہ سپوت اڑا گئے۔ ہم نے ایک نوالہ بھی نہیںکھایا۔ گئے تھے اسحٰق صاحب کے یہاں۔ ان کی اہلیہ خدا انہیں جنت نصیب کرے۔ بولیں ’’سید ہادی حسن آئے ہوتو فاتحہ تمہیں پڑھ دو ‘‘ ہم نے فاتحہ پڑھی تو اس کا حصہ انہوںنے الگ سے دیا۔ ‘‘ (۱۱)
تحریر کردہ مکالموں سے ہاتھی کو لے کر شوہر اور بیوی کے درمیان کشمکش کے علاوہ کتنے ہی پہلو نکلتے ہیں۔ا ول تو وہ منظر نامہ ہمارے سامنے آتا ہے جو میاں بیوی کی تکرار اور نوک جھونک سے تخلیق ہوتا ہے۔ دوسرے روز مرّہ کی عام زبان جو گھریلو ماحول میں بولی جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے کی عورت کے روز مرہ کے گزرے لمحات جن کو مصنفہ نے صحیح تناظر میں پیش کیا ہے اور نسوانی کردار کی پیش کش جو اپنی ذات کے علاوہ اپنے معاشرے کی بھر پور نمائندگی بھی کرتی ہے۔ یہ اس بات کی مثال ہے کہ ذکیہ مشہدی کے کردار معاشرے سے الگ نہیں ہوتے۔ ہر مکالمہ جو چاہے عورت کی زبانی اداہوا ہو یا مرد کی زبانی وہ ہمارے سماجی نظام کی حقیقت بیان کرتا ہے۔ جب عورت کہتی ہے ’’ارے کمبخت کو ڈھائی گھڑی کی آوے‘‘ یہ خالص نسوانی محاورہ ہے ’’بچے کھالیتے حلوہ روٹی جو اس کے پیٹ میں ڈال دیا‘‘ یہاں ایک ماں کی بھر پور ممتا کا عکس نظر آتا ہے ۔ کس قدر حقیقت پر مبنی برجستہ کہاوت استعمال ہوا ہے کہ ’’کالے پہاڑ کا کوئی بھلا نہ ہوا اور بچے محروم رہ جائیں‘‘ ۔ ہدّو کے اساطیری جواب میں بھی برجستگی ہے کہ ’’ راون کی فوج اپنا حصہ کھاچکے‘‘ ہدّو کی معقولیت کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ ایک اور بات ہدّو نے اپنا حصہ ہاتھی کو کھلایا ہے جو اس کی پدرانہ فرض اورہاتھی سے بے انتہا محبت کی نشاندہی کرتا ہے جو ابّا عورت کا منہ چڑانا نسوانی فطرت کی سچائی ہے۔ اس نفسیاتی گوشے کو مصنفہ نے وضاحت بھی کی ہے کہ شاید انہیں کوئی معقول جواب نہیں سوجھا تھا اس لیے منہ چڑانے پر ہی اکتفا کی‘‘۔ جب بیوی نے ہدّو کو منہ چڑایا تو وہ کربھی کچھ نہیں سکتا تھا چوں کہ حالات کامارا، بدحال انسان ہے وہ مذہب کا سہارا لیتا ہے ’’ کی بے عزتی کرنے پر جہنم جائے گی ‘‘ یہ مسلمانوں کے مذہبی کلچر کی طرف اشارہ ہے۔ ہدّو کا تعارف ہدّو ہی کی زبانی فن کارانہ انداز میں کرایا ہے کہ ہدّو کا نام سید ہادی حسن ہے۔ ہدّو کو جہاں اپنی شان و شوکت کا خیال ہے وہاں اسے اس بات کا بھی احساس ہے کہ وہ سادات خاندان سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس لیے معمولی کام کرنا کسر شان سمجھتا ہے۔ ایک مرتبہ بیوی نے تجویز رکھی کہ ڈھال گر ٹولہ میںبیڑی بنانے کاکام مل جائے تو ہدّو بے حد ناراض ہوتا ہے ’’اب تم برقعہ اوڑھ کے گلی محلے کے لونڈوں کے بیچ سٹر پٹر کرتی گھومو گی ۔ سیدانی ہو ذرا یہ تو سوچو ’’بیوی نے جواب دیا ‘‘ ہم تمہاری طرح کھرے سید نہیں ہیں ہماری اماں پٹھا نن تھیں اور پھر کام کرنے میں ذات کیسی ’’اس مدلل جواب سے بھی ہدّو مطمئن نہیں ہوئے اپنی جھوٹی شان اور حسب و نسب کے چکّر میں ان کا غیر معقول جواب تھا: ’’ سید کی بیٹی ہو نہ اور سید کی بیوی بھی ۔ بس بات ختم۔ اماں سے کیا ہوتا ہے۔ اماں سے نسل نہیں چلاکرتی ‘‘ ۔تانیثی نقطہ نظر سے مرد کو حسب و نسب کے معاملہ میں بھی فوقیت حاصل ہے کہ نسل باپ سے چلاکرتی ہے۔
بیوی کو ہاتھی سے نفرت ہے کیوں کہ تہذیبی زوال اور بگڑے حالات نے ماضی کی شان و شوکت حسب و نسب، اعلیٰ ذات کے افتخار کو بے معنی بنادیا ہے۔ ذکیہ مشہدی نے میاں بیوی کو دو متضاد افکار والے کرداروں کو پیش کرکے صنفی نقطہ نظر سے افسانہ میں کشمکش تخلیق کی اور زندگی کی ٹھوس حقیقت کو عملی طور پر پیش کرکے معاشرہ اور سماج کی عکاسی کی ہے ۔ ساتھ ہی زندہ کرداروں کے ذہنی و فکری امتیازات ابھر کر سامنے آتے ہیں۔
ہدّو کو ہاتھی کی شان میں گستاخی سختی سے ناپسند تھی۔ بیوی کی مخالفت بھی اس کے لیے ناقابل برداشت تھی بقول مصنفہ ’’ ہاتھی ان کے اجتماعی لاشعور کا ایک حصہ تھا کیوں کہ ان کے اجداد میں سے ایک بزرگ سلطنت جون پور کے تیرے سلطان ابراہیم شاہ مشرقی کے زمانے میں فیل خانے کے مہتمم ہوا کرتے تھے۔ شاہی وقتوں میں یہ ایک بڑا معزز عہدہ تھا۔ اس لیے فیل بانی ہدّو کا آبائی پیشہ تھا:
’’ بیوی بچوں کا پیٹ تو بھر لو پہلے ۔ لٹکے رہتے ہو اس منحوس ہاتھی کی دم سے ۔ شب برات فاتحہ خوانی کے علاوہ بھی کچھ کرلیاکرو۔ اور فاتحہ خوانی بھی اب کہاں۔ جب سے تبلیغی جماعت والوں کا زور بڑھا ہے محلے میں فاتحہ کرانے والے گھر بھی دوچار ہی رہ گئے ہیں۔ نہ جلسے جلوس میں ہاتھی بلایا جائے نہ تم کچھ کرکے دو ‘‘۔
’’ کیوں کریں ہم کچھ اور۔ دادا پردادا کے وَ خت سے ہی فیل بانی کرتے آرہے ہیں اور فاتحہ کیا ہم کسی لالچ میں کرتے ہیں ؟ ار ے لوگوں میں عزت ہے ۔ سید ہیں ہم اور راجہ کے فیل بان ہیں۔ کبھی کبھار لوگ فاتحہ کے لیے کہہ دیتے ہیں ‘‘۔ (۱۲)
ہدّو کو اپنا تہذیبی تشخص بچانے کی فکر ہے اور بیوی کو اپنے بچوں کی پرورش و پرداخت کی جستجو ہے۔ افسانہ نگار نے ہاتھی کو ایک تہذیبی علامت کے طور پر استعمال کیاہے جس کا ذکر کیا جاچکا ہے۔
افسانہ میں قصہ درقصہ ایک سے زائد کہانیاں بیان کی گئی ہیں۔ ایک قصہ ہاتھی کے اٹھ کھڑے ہونے کا ہے ۔ قصہ یوں ہے کہ علی گڑھ سے ایک باریش بزرگ صاحب اپنے پوتے کے ہمراہ جون پور کے موضع فیروز شاہ پور (پڑوسی پور)تشریف فرماہوئے اس وقت خواجہ جہاں کا منھ بولا بیٹا مبارک شاہ تخت نشیں تھا،نے سید صاحب کو کچھ زمین عطاکی ،بزرگ نے اس پر ایک مدرسہ قائم کیا۔اطراف کا ایک پنچ گوتی راج پوت بزرگ سے اس قدر متاثر ہوا کہ اسلام قبول کرلیا اور اپنی بیٹی ان کے پوتے کے نکاح میں دے دی۔سید صاحب بزرگ ہاتھی والے سید صاحب مشہور ہوگئے ایک دن سارافن آزمالیا لیکن بیکار گیا۔بقول مصنفہ’’لیکن زمین جنبد،آسمان جنبد،نہ جنبد فیل سید‘‘۔تب ان کے پوتے کے پانچ سالہ بیٹے جس کی ماں نسلاً راجپوتانی اور مذہباً مسلمان تھی، نے ہاتھی کے گلے میں ننھے ننھے ہاتھ ڈال کر اس کے کا ن میں کچھ کہا۔ہاتھی فوراً کھڑا ہو گیا۔
ہدّو کی بیوی کو سفید ے کے درختوں سے بھی بہت چڑتھی جنہیں وہ ہر وقت ہاتھی کی طرح کوستی رہتی تھی۔مصنفہ نے پڑوسی پور میں لگے سفیدے کے درختوں کا قصہ بیان کیا ہے:
’’ہدّو کی بیوی کو سفیدے کے درختوں سے سخت چڑتھی۔جس میں وہ جق بہ جانب تھیں۔ ان کی زندگی کے منظر نامے پر سفیدے کے درخت لکھے جانے سے پہلے زندگی اتنی بے ہنگم اور تاریک نہیں تھی۔پڑوسی پور کے زمیندار بھیرو سنگھ کے یہاں ایک خستہ حویلی،کچھ زمینیں اور ایک عدد ہاتھی ،خاتمہ زمینداری کے خاصے عرصے بعد تک برقرار تھے۔راجہ صاحب کالقب بھی برقرار تھا۔‘‘(۱۳)
راجہ صاحب نے بیٹوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی ۔اپنے پیشے میں کامیاب ہونے کے بعد باپ کو اپنے ساتھ لے گئے ۔شکستہ حویلی کی گرتی دیوار میں پوری طرح گرواکر ملحق زمین سے اسے ملادیا اور وہاں سفیدے کے درخت لگوادیے کہ یہ نہایت مذمت بخش سودا ہے۔حویلی کے دوکوٹھریاں رہنے دیں اور دونوجوان صحت مند کا رندے مقرر کردیے۔باقی لوگوں کو ہدو اور ہاتھی سمیت باہر نکال دیا۔
افسانہ’’ہدّو کا ہاتھی‘‘ اپنا تاریخی پہلو بھی رکھتا ہے جب دہلی کی حکومت زوال پذیر ہورہی تھی تو مرکز کو کمزور پاکر جو جہاں گورنر مقرر تھا وہ وہاں کا فرمانروابن بیٹھا۔جون پور کے حالت بھی بگڑ نے لگے:
’’سلطنت جون پور بھی کئی اور چھوٹی چھوٹی حکومتوں کی طرح معرض وجود میں آگئی۔بانی تھی سلطان الشرق ملک سرور خواجہ جہاں جو فیروز اشاہ کے وقت میں ہی مشرق علاقوں کے گورنر بنائے گئے تھے اور باوجود اس کے کہ خواجہ سراتھے۔نہایت لائق وفائق انسان تھے صرف پانچ برس کے دورحکومت میں(کہ قضا وقدر نے اس سے زیادہ مہلت نہیں دی)جون پور کو دار السروربناگئے۔آگے چل ،کر شاہ جہاں نے اسے شیر ازہند کے لقب سے نوازا۔‘‘(۱۴)
ذکیہ مشہدی نے ہندوستانی مسلمانوں کے نہ صرف شاندار ماضی کے نقوش ابھارے ہیں بلکہ ان زوال پذیر تاریخ بھی مرتب کی ہے۔مسلمانوں کے اعلیٰ اقدار اور ان کے بکھرنے کی روداربھی بیان کی ہے۔مندرجہ ذیل اقتباس میں قلعہ فیروز شاہی کی شان وشو کت کے مٹنے کے بعد جو حالت بگڑے اس کا اظہار مصنفہ نے نہایت سچائی کے ساتھ کیا ہے:
’’روڈھال گر ٹولہ میں لوہارڈھالیں بنانے میں مصروف ہوتے اور درسگاہوں میں طالب علم اپنے اپنے ذہن کو جلابخشتے۔درسگاہوں نے ایسی شہرت حاصل کی کہ ایک صدی بعد شیر شاہ جیسا مدبر، ذہین اور رعایاپروربادشاہ یہاں تعلیم حاصل کرنے آیا(ڈھال گر ٹولے میں اب غریب مسلمان بیڑی بناتے ہیں اور ٹی بی میں مبتلا ہوکر قبل ازوقت مرجایا کرتے ہیں۔جون پور کے کسی مدرسے میں اب کوئی شیر شاہ پڑھنے نہیں آتا‘‘(۱۵)
اعلیٰ قدریں بکھرچکی ہیں۔مسلمانوں کا شاندار ماضی کب کا ختم ہوچکا ہے۔ہندوستانی مسلمانوں کی نئی تاریخ لکھی جاچکی ہے۔آج بھی ماضی کی دھندلی تصویر یں آنکھوں میں بسی ہوئی ہیں۔جو ہندوستانی مسلمانوں کے ناسٹیلجیا کا حصہ ہے۔مندرجہ ذیل اقتباس میں مصنفہ نے بیان کیا ہے کہ کس طرح جون پور آبادہوا ۔اور اس میں بھی تاریخی حوالے موجود ہیں جو حقیقت پرمبنی ہیں:
’’دہلی میں طوائف الملوکی کے اس دور میں جناب امیر تیمور صاحبقراں نے بھی اپنی ترچھی آنکھیں ہندوستان کی طرف پھریں۔بڑے بڑے شہر بشمول دہلی اجاڑ ہوئے جیسے کوئی نہایت منحوس الو بول گیا ہو۔صاحب علم واوصاف لوگ عزت اور جان ومال کی حفاظت کے لیے بھاگ بھاگ کرنسبتاً پر امن علاقوں میں اکٹھا ہوئے جن میں جون پور بھی تھا جودارالسرور کے بعد دارالامان بھی قرار دیا گیا تھا۔ انہیںدنوں علی گڑھ سے ہجرت کر کے جو اس وقت کوئیل کے خوبصورت نام سے جانا جاتا تھا۔‘‘(۱۶)
امیر تیمورصاحبقراں نے ہندوستان میں بڑی تباہی مچائی۔پورے ملک میں طوائف الملوکی کابازارگرم ہوگیا۔دہلی بشمول دیگر شہر تباہ وبرباد ہوئے ۔صاحب کمال وثروت،علم وحکمت اور عزت دار لوگ اپنی جان ومال کی حفاظت کے لیے پناہ گاہیں تلاش کرنے لگے۔حفظ واماں کے لیے جون پور میں جمع ہوئے جو اس وقت دار السرور کے نام سے مشہور تھا بعد میں دارالامان قرار دیا گیا ۔علی گڑھ سے بھی لوگ ہجرت کر کے گئے جو پہلے کبھی کوئیل کے نام سے جانا جاتا تھا۔آج بھی علی گڑھ (کول) کے نام سے موسوم ہے۔خصوصی طورسے علی گڑھ کا ذکر اس لیے ہوا کہ ایک باریش بزرگ سیدصاحب اپنے پوتے کے ساتھ جون پور آکر آباد ہوئے تھے جن کا قصہ پچھلے اوراق میں کیا جاچکا ہے۔
مصنفہ نے افسانہ’’ہدّو کا ہاتھی‘‘ کے ذریعے ماضی اور حال کے درمیان تہذیبی پل قائم کرنے کی سعی کی ہے اور اس پل کی تعمیر کے لیے تاریخی حوالوں سے مدد لی گئی ہے جو ان کے یاداشت کا حصہ ہیں۔خاندانی عظمت ووجاہت اور حسب ونسب کے بیان کے لیے سید ہاوی حسن اور ان کا ہاتھی ان کے افسانہ کی بنیاد بنا۔’’ہدّو کا ہاتھی‘‘ان کی بہترین کہانی ہے جس کا شمارا اردو کے منتخب افسانوں میں ہوتاہے۔
٭٭٭٭٭٭

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook