Home / خبریں / رواں صدی میں اردو تنقید

رواں صدی میں اردو تنقید

(ریاست جموں وکشمیر کے حوالے سے)


پروفیسر عارفہ بشریٰ
صدر شعبہ اُردو
کشمیر یونیورسٹی سرینگر۔


محمد لطیف شاہ

پی‘ایچ‘ڈی اسکالر
شعبۂ اردو کشمیر یونیورسٹی سرینگر۔

اکیسویں صدی کی دہلیز پر قدم رکھنے سے پہلے گذشتہ چند دہائیوں سے اردو ادب میں جن تنقیدی تصورات کا پرچار کیا جارہا ہے ۔ا ن میں بیشتر کا تعلق لسانیات سے ہے اور لسانیات کی راہ سے ہی اردو ادب میں بھی داخل ہوکر دیکھتے ہی دیکھتے تفہیم متن کے سلسلے میں نت نئے نظریات و مباحث کی قطار ہمارے سامنے رکھ دی۔جن میںکئی متن و مصنف کو اہمیت دی گئی تو کئی متن کی ساخت اورلسانی برتاؤ کو ‘کئی قرأت کی اہمیت کو اجاگر کیاگیا توکئی قاری کی اہمیت پر زور دیا گیا‘ کئی سماجی‘معاشرتی‘ تہذیبی اور ثقافتی پہلوؤں پر زور دیاگیا۔تو کئی ان کے پیچیدہ اور سنجیدہ رشتے پر وغیرہ مجموعی طور پر ہمارے سامنے جوتاویلات پیش کیے گئے وہ یہ ہیںکہ متن خود مختار و خو دمکتفی نہیںہوتا ہے‘ متن وحدت معنی کی نہیں بلکہ معنی کی تکثیریت کی دعوت دیتاہے ۔کسی بھی فن پارے کی تفہیم کے حوالے سے نہ تو متن کی انفرادی طور پر کوئی اہمیت ہے نہ ہی قاری و زبان کی بلکہ ان تینوں کے گہرے رشتے کی اہمیت ہے۔
بہر حال انہی نظریات و تصورات کو لے کر کے اگرچہ ریاست جموں وکشمیر میں تنقید کی صورت حال مستحکم و مضبوط نہیںہے۔ تاہم جن ناقدین نے اس سلسلے میںاپنے فقید المثال کارنامے انجام دیئے ہیں او ردے رہے ہیں وہ کسی اور ریاست سے کم نہیں ہے ان میں مرحوم پروفیسر حامدی کاشمیری ‘ پروفیسر ظہور الدین‘پروفیسر قدوس جاوید‘محمد یوسف ٹینگ وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ان کی تنقیدی تحریریں کسی بھی دیگر ریاست کی تنقیدی تحریروں سے کم مرتبہ نہیںہے۔ علاوہ ازیں پروفیسر مرغوب بانہالی‘ پروفیسر نذیر احمد ملک‘ ڈاکٹر مشعل سلطان پوری‘ پروفیسر مجید مضمر‘ پروفیسر محمد زماں آزردہ‘ ڈاکٹر مشتاق احمد وانی‘ ڈاکٹر خورشید احمد صدیقی وغیرہ کے نام بھی بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔
حسب ذیل ان نقادوں کا ذکر اجمالاً کیاجائے گا جنہوں نے گذشتہ چند برسوں سے اردو تنقید میں ادبی اورمعیاری کارنامے انجام دیئے ہیں اور آج بھی اس صنفِ ادب کی آبیاری کررہے ہیں۔
۱۔ پروفیسر حامدی کاشمیری:
اردو ادب کے ایک بہت بڑے شاعر‘ افسانہ نگار‘ ناول نگار اور ناقد ہے۔مابعد جدید تنقید اور ادبی تھیوری کے حوالے سے حامدی صاحب کے کارنامے نہ صرف ریاست میں بلکہ پورے اردو ادب میں اہم اور مستند ماننے جاتے ہیں ۔اس کے اسباب بیان کرتے ہوئے پروفیسر قدوس جاوید لکھتے ہیں:
’’اول یہ کہ وہ جدیدترین لسانی ‘ادبی اور ثقافتی تھیوریز اورتصورات کوذہن میں رکھتے ہوئے اردو شعر وادب کی تفہیم و تعبیر کی کوشش کرتے ہیں اور اس ضمن میںاردوشعر وادب کے سابقہ روشن نقطے بھی ان کے لاشعور میں کرنیں بکھیرے رہتے ہیں‘‘ ۔
(بحوالہ۔جموں وکشمیر میں اردو نثر شیرازہ شمارہ:۴ ص ۵۱)
مذکورہ اقتباسات کے حوالے سے حامدی کاشمیری صاحب نے جو کارنامے انجام دیئے ہیں ان میں’’کارگہہ شیشہ گری‘‘،’’نئی حسیت اور عصری اردو شاعری‘‘،’’متن اور تجربہ‘‘،’’تفہیم وتنقید‘‘، ’’اکتشافی تنقید کی شعریات‘‘وغیرہ عمدہ مثالیں ہیں۔
پروفیسر حامدی کاشمیری کسی بھی فن پارے پر تنقید کرتے وقت جس چیز کو اپنی توجہ کامرکز بناتے ہیں وہ متن کی ساخت اوراس کے الحاقی عناصر ہی ہے ۔اس سے بڑھ کر لسانی برتاؤ کے پیچ و خم میں چھپے ہوئے معنی کی تلاش کرتے ہیں اور یوں ہمارے سامنے ایک مربوط انتقادی نظام کو روشناس کراتے ہیں جس میںلسانی عمل کے تحت مصنف‘متن اور قاری کی اہمیت بیک و قت اجاگر ہوتی ہے۔ بقول ان کے :
’’اس انتقادی نظام کے تحت متن سے رابطہ قائم کرکے اس کے لسانی عمل اور لسانی عمل کے تحت ہی اس کی انفرادیت اور اس کی غایت کے ساتھ ساتھ مصنف سے اس کے رشتے اور پھر اس کے قاری/نقاد سے رشتوں پر توجہ کی جاتی ہے‘ ظاہر ہے یہ متن کاایک کثیر الجہتی مطالعہ ہے….‘‘
(بحوالہ۔’’ تجربہ اورمعنی‘‘ ص ۳۹)
حامدی صاحب ان تمام تنقیدی تصورات پر کاری ضرب لگاتے ہیں جو فن کی ماہیت‘اس کی خود مختاریت‘ معنی کے لامتناہی عمل اور فن کے ہیئتی اورعلامتی امکانات سے صرفِ نظر کرکے اس کو موضوع اورہیئت کے دو واضح خانوں میںمنقسم کرکے اس کی یک جوئی تشریح پر اکتفا کرتے ہیں۔
الغرض ریاست جموں وکشمیر کے منظر نامے پر حامدی کاشمیری ایک ایسے ناقد گزرے ہیں جنہوں نے ماضی قریب میں بھی اردو تنقید کی آبیاری کی اور حال میںبھی اس کے دامن کو وسیع کرنے میں اہم اور کلیدی رول ادا کیاہے۔
۲۔ محمد یوسف ٹینگ:
ریاست میںاردو تنقید کو فروغ دینے میں ان کا بھی ایک اہم کردار رہا ہے۔غیر معمولی تنقیدی شعور‘ قابلِ اعتراف تحقیقی سوجھ بوجھ اورمحنت و ریاضت کے ساتھ ساتھ ایک منفرد اسلوب نگارش کی بناء پر محمد یوسف ٹینگ کو اردو تنقیدنگاری کی صفِ اول کی فہرست میں جگہ مل گئی ہے۔ان کے یہاں کلاسیکی تنقید کے ساتھ ساتھ جدید عالمی تنقیدی نظریات مثلاً مابعد جدید تنقید‘ بین المتونیت (Inter-Textual)‘ردتشکیل(De-Construction)مابعد جدید سماجیات اور تہذیب Post Modern Sociology & Culture) )وغیرہ کی گونج بھی سنائی دیتی ہے۔
محمدیوسف ٹینگ نے اردو تنقیدکے حوالے سے جو کارنامے انجام دیئے ہیں ان میں شناخت‘ جستہ جستہ‘کشمیر قلم جیسی تصانیف اپنی مثال آپ ہے اورمضامین کے زمرے میںمنٹوؔ کی افسانہ نگاری‘ رساجاودانی‘غنی کاشمیری‘ حسرت موہانی عاشق اورمجاہد‘ کشمیر ی شاعری میں جدید رجحانات‘ چلمن سے چلمن وغیرہ میں ادبی اور معیاری تنقید کی غمازی دیکھنے کوملتی ہے۔
’’رساجاودانی‘‘والے مضمون میں انہوں نے رسا ؔ کے متن کا بین المتوفی(Inter-Textuality) جائزہ لینے کی کامیاب کوشش کی ہے اور تفہیم متن کے حوالے سے شیخ سعدی‘ حافظ شیرازی‘امیر خسرو‘ غالب‘ اقبال اور مہجور کے متون کے ساتھ تقابلہ کرکے سمجھنے اور سمجھانے کی بھر پور کوشش کی ہے۔اس طرح دیگر مضامین میںعلمی اور ادبی کارگزاریوں کی روش دیکھنے کوملتی ہے بقول ڈاکٹر برج پریمی:
’’اپنے منصبی فرائض سے قطع نظرٹینگ ایک معتبر ادیب اور ناقد ہیں۔شیرازہ کے اداریوںکے علاوہ ریاست کے ادیبوں اورمصنفوں کی کتابوں پر ان کے مقدمے اور دیباچے ان کی وقت نظر کا ثبوت ہیں۔ ٹینگ بطور خاص کشمیریات سے دلچسپی رکھتے ہیں اورکشمیر آرٹ‘ ادب‘کلچر‘ تاریخ اور دوسرے ثقافتی پہلوؤں پر ان کے مضامین دستاویزی اہمیت رکھتے ہیں۔اس کے باوصف غالبؔ‘ اقبالؔ‘ منٹوؔ اور کشمیر میں اردو کے تعلق سے ان کے بعض مضامین نہ صرف ان کی دیدہ وری‘ان کی ریاضت اور محققانہ جگر کاوی کاثبوت ہیں۔ بلکہ ان کے مطالعے سے ان کی تنقیدی بصیرت اورمعروضی انداز نظر کاقائل ہونا پڑتاہے‘‘۔
(بحوالہ۔ ’’جموں وکشمیر میں اردو ادب کی نشو ونما۔ تنقید و تحقیق‘‘ ص ۸۹)
تفہیمِ متن کے حوالے سے شخصِ مذکور زبان کے لسانی برتاؤ‘ ثقافتی درآمد برآمد اور سماجی ومعاشرتی محرکات کو اہمیت دیتے ہیں جو اکیسویں صدی تنقید کا خاصہ ہے۔
۳۔ پروفیسر ظہور الدین:
ریاست جموں وکشمیر کے ایک اچھے ڈراما نگار‘ افسانہ نگار‘ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ اردو ادب کے ایک بہت بڑے ناقد بھی ہیں۔انہوں نے ڈراما‘افسانہ‘ شاعری سے متعلق اپنے تنقیدی خیالات کا پرچار مختلف زاویوں سے کیا ہے علاوہ ازیں مابعد جدید تنقید اور ادبی تھیوری کو بھی سمجھنے اور سمجھانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ریاست میںاردو تنقید کوفروغ دینے میں شخص مذکور نے اہم اور کلیدی رول ادا کیا جس کا اندازہ ہمیں ان کے تنقیدی کارناموں سے ہی ہوتاہے۔مثلاً’’تفکرات‘محروم کی شاعری‘ بیسویں صدی کے اردوادب میںانگریزی کے ادبی رجحانات‘ حقیقت نگاری او راردو ڈرامہ‘ جدید اردو ڈرامہ‘ تعلیل وتاویل ‘ ترجمہ نگاری کا فن‘کہانی کاارتقاء اور جدید ادبی و تنقیدی نظریات وغیرہ قابل ذکر ہے۔ان ادبی نگارشات کومعرض وجود میں لانے کے لیے ظہور الدین نے جن تصورات کو سامنے رکھاہے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پروفیسر قدوس جاوید لکھتے ہیں:
’’وہ(ظہور الدین) شعر وادب کی ماہیت‘غرض و غایت اور قدیم و جدید ادبی تصورات و نظریات کاگہرا شعور رکھتے ہیں‘‘۔
(بحوالہ’’کشمیر میں اردو تنقید‘‘ مشمولہ۔رسالہ شیرازہ۔جلد۵۱ شمارہ ۴ ص ۵۸)
پروفیسر ظہور الدین اپنے اندر ایک گہرا او رباوقار تنقیدی شعور رکھتے ہیںجو ان کی ہر ایک تحریر سے جلوہ گر ہوتاہے۔ غزل کے فن او رداخلیت کے بارے میں ان کا تصور یہ ہے کہ غزل انسان کے نفسیاتی وجود سے مکمل مطابقت رکھتی ہے۔اس کاآغاز بادی النظر میں چاہیے کسی بھی وجہ سے کیوں نہ ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ انسان کا نفسیاتی عمل کبھی مسلسل نہیں ہوتا وہ ہمیشہ اشاروں میں ظاہر ہوتاہے اور اشارے کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنی ذات میں مبہم اور مختصر ہوتے ہوئے بھی مکمل ہوتاہے۔ اس حوالے سے اپنے ایک مضمون’’عملی تنقید اور احتشام حسین‘‘ میں یو ں رقم طراز ہیں:
’’شعر کے سمجھ میں نہ آنے کی دوسری وجہ شاعر اور سخن فہم یا ناقد کے زمانوں میں جذبات میں‘عقائد میں‘ معلومات میں‘ خوابوں اورخواہشوں میں نفسیاتی محرکات میں او راستعمال زبان میں فرق ہے۔ اسی فرق کی وجہ سے بھی کبھی کبھی شعر سمجھنا مشکل ہوجاتاہے‘‘۔
(بحوالہ۔ تنقید نمبر ہماراادب کلچر اکیڈمی سرینگر ص ۲۷۶)
تنقید کے لیے جو پہلی شرط ہے کہ بے باک اور غیر جانبدار ہونا نقاد کے لیے از حد ضروری ہے اس سے بڑھ کر یہ کہ ادیب کو تخلیق ادب کے وقت ادبی اورفنی لوازمات کادامن ہاتھ سے نہیں چھٹ جانا چاہیے بہ الفاظ دیگر ادب میں پہلے ادبیت(Literariness of Literature) ہونی چاہیے اور بعد میں کچھ اور جو روسی ہیئت پسندوں کا بنیادی موقف ہے۔ظہور الدین صاحب کے یہاں بھی یہی موقف دیکھنے کو ملتا ہے۔ ایک مثال ملاحظہ فرمائیے:
’’اس میں کوئی شک نہیں کہ آرٹ زندگی اور کائنات کو مکمل کرنے اور اسے خوب سے خوب تر بنانے کاایک ذریعہ ہے ۔لیکن اس کے معنی ہر گز یہ نہیںکہ اس مقصد کو سامنے رکھنے کے بعد ادیب کو یہ حق حاصل ہوجاتا ہے کہ اس کے فنی لوازم کو نظر انداز کردے۔اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ مقصد کو اول درجہ حاصل ہے اور فنی لوازمات کو ثانوی۔یہ بہت ضروری ہے کہ ہر فن پارہ مقصد کی طرف قدم بڑھانے سے پہلے فنی لوازمات سے عہدہ بر آہو اور اسے پہلے آرٹ اورپھر مقصد ہونا چاہیے‘‘۔
(بحوالہ۔ جدید ادبی و تنقیدی نظریات ص ۷۹)
ظہور الدین صاحب نے اپنی تحریروں میں رائج الوقت تصورات کو سمجھنے اور سمجھانے کی بھر پور کوششیں کی ہیں مثلاً وجودیت‘ اظہاریت‘ اشاریت‘ ڈاڈازم‘ ہپّسی ازم‘ شعورکی رو وغیرہ یہی وجہ ہے کہ دیگر تنقید نگاروں کے مقابلے میں ان کے یہاں حقیقت(Originality) ظاہر ہوتی ہے۔
۴۔ پروفیسر قدوس جاوید:
اپنے منفرد اسلوب اورمطالعے کی گہرائی کی وجہ سے جاوید صاحب اردو تنقید کے حلقہ میںاپنی ایک مخصوص جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ریاست جموں وکشمیر میں تنقید کو فروغ دینے میں ابتداء سے ہی ان کا بہت بڑا ہاتھ رہا ہے۔ شخص مذکورہ نے جہاں اردو کلاسیکی تنقید کے حوالے سے بہت اچھے مقالات پیش کیے ہیں وہی ان کی تصنیف’’متن معنی اور تھیوری‘‘ ادبی تھیوری اورمابعد جدید تنقید کو سمجھنے کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔اس کتاب میں انہوں نے متن‘ معنی ‘ قرأت‘ قاری‘ ہیئت‘ بین المتونیت وغیرہ جیسے تناظرات میں بحث اٹھائی ہے ۔ایک مثال ملاحظہ فرمائیں:
’’لفظ مخلوق نہیں‘ خالق بھی ہوتاہے اور لفظ کی خلاقیت ہی بشرطِ متن کی قرأت کے ساتھ فعال و متحرک ہوکر متن سے معانی و مفاہیم‘ کیفیات و تاثرات کے اخراج کا جواز فراہم کرتی ہے‘‘۔
(بحوالہ۔ متن ‘معنی اور تھیوری ص ۳۳)
ادبی تھیوری پر بات کرتے ہوئے قدوس جاوید صاحب کا خیال ہے کہ یہ ایک ایسا فکر و فلسفہ اور رجحان ہے جومروجہ خیالات و تصورات پر از سر نو غور وخوص کرکے نت نئے معنوی جہات ہمارے سامنے لاتی ہے۔ جس سے ذہنِ انسانی کو چیلنج سے گزرنا پڑتاہے۔اس طرح ذہنی فکر دیگر فکریات سے ہم آہنگ ہوکر ایک نئے نظامِ تفکر کو جنم دیتی ہے۔بقول ان کے :
’’تھیوری۔ ایک متفرق صنف(Miscelleneous Genre)کی عرفیت(Nikname) ہے جسے ان علوم‘ افکار یا تحریروں سے منسوب کیا جاتاہے جو اپنے خود کے دائرے سے باہر جاکر دوسرے میدانوں میں رائج خیالات و تصورات پر اثر انداز ہوتی ہیں اور عرصے سے چلی آرہی مقبول عام روایات پر سوچنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔یہ اکثر ذہنِ انسانی کے لیے تازیانہ ثابت ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں وہ نئے فکری چیلنج قبول کرتا ہے اور یوں فکر انسانی کی تشکیل نو کی صورتیں نکلتی ہیں‘‘۔
(بحوالہ۔’’ ہمارا ادب‘‘ مضمون۔’’تنقیدی تھیوری اورگوپی چندنارنگ‘ کلچر ل اکیڈمی سرینگر ۔ ص۳۰۷)
علاوہ ازیں ان کی کتاب’’ادب او رسماجیات‘‘ بھی کسی ادبی جواہر ریزے سے کم نہیں ہے۔ غرض ریاست جموں وکشمیر میں انہوں نے بھی تنقید کو فروغ دینے میں اہم رول ادا کیا ہے اور آج بھی اس کی آبیاری کررہے ہیں۔
ریاست جموں وکشمیر میں اردو تنقید کوفروغ دینے میں کشمیر یونیورسٹی شعبۂ اردو کا بھی بڑا ہاتھ رہا ہے ۔یہاں آئے دن اساتذہ کی سربراہی میں جہاں طلبہ و طالبات نئے نئے تنقیدی نظریات کے تناظر میںاپنا تحقیقی کام انجام دے رہے ہیں تو وہیں شعبہ سے نکلنے والے تحقیقی وتنقیدی مجلہ ’’ بازیافت‘‘ میں اردو شعبہ سے منسلک گراں قدر اساتذہ کرام نے بھی اردو تنقید کو فروغ دینے میںاہم اورکلیدی رول ادا کیاہے اورکررہے ہیں جن میں پروفیسر عارفہ بشریٰ‘ پروفیسر منصور احمد منصور‘ پروفیسر نذیر احمد ملک‘پروفیسر مرحوم مجید مضمر‘ ڈاکٹر کوثر رسول‘ڈاکٹر مشتاق حیدر وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔انہوں نے اپنے بیش بہا تنقید ی مقالات سے دورِ حاضر میںاردو تنقید نگاری کی آبیاری کی ہے۔ اردو ادب کی بعض اصناف مثلاً غزل‘ نظم ‘ناول‘ افسانہ وغیرہ پران کے مقالات کچھ اس قدر باوقار ہوتے ہیں جو کسی گوپی چند نارنگ اور شمس الرحمن فاروقی سے کم تر نہیںہے مثلاً:
پروفیسر نذیر احمدملک کا ’’اسلوبیات کیوں؟‘‘،’’ہیئتی تنقید‘ نئی تنقید اور اکتشافی تنقید‘‘۔
پروفیسر مجید مضمر کا ’مجتبیٰ حسین کا فن‘ میر تقی اور اردو تنقید‘ اردو افسانے کی تنقید۔
پروفیسر عارفہ بشریٰ صاحبہ کا’’ فائر ایریا‘‘ احتجاج کا تخلیقی اظہار‘‘۔
مذکورہ شخصیتوں کے علاوہ بھی بہت سارے نقادوں نے ریاست میںاردو تنقید کو فروغ دینے میں اہم اور کلیدی رول ادا کیا ہے اور دور حاضر میں بھی اس میدان میںاچھے او رقابلِ قبول مقالات سے اردو تنقید کی آبیاری کررہے ہیں۔ ان میں سے چند ناقدین کی فہرست بشمول کارنامے حسب ذیل پیش کی جاتی ہے:
۱۔ ڈاکٹر مشتاق احمد وانی:
اردو ناول میں تہذیبی بحران‘آئینہ در آئینہ‘ اعتبار و معیار‘ اردو ادب میں تانیثیت۔
۲۔ پروفیسر محمد زماں آزردہ:
مرزاسلامت علی دبیر۔حیات اور کارنامے‘ پریم ناتھ در کی افسانہ نگاری‘ اقبال کا تصور عشق‘ صاحبِ طرز شاعر‘ ۔فرید پربتی وغیرہ۔
مذکورہ بالا فہرست میں مشمول حضرات کی نگارشات کا جائزہ لینے سے واضح ہوتاہے کہ یہ بھی اردو تنقید کو جدید ترین تنقیدی نظریات‘ تصورات او راسالیب سے ہم آہنگ کرنے کی کامیاب کوشش کررہے ہیں۔ ریاست میں اگرچہ ادبی اور معیاری تنقید کی عمارت کچھ گنے چنے نقادوں پر ہی منحصر ہے ۔تاہم رواں صدی کے حوالے سے یہ حضرات بھی نئے تنقیدی نظریات کوسمجھنے اور سمجھانے میں پوری طرح کامیاب نہیںہوئے ہیں۔ادبی تھیوری(Literary Theory)اور ماحولیاتی تنقید(Eco-Criticism)کے سلسلے میں ریاست سے جڑے ناقدین کاکیا مذکورہ بلکہ پورے اردو ادب میںکسی ناقد نے ان کی بھر پور وضاحت نہیں کی ہے۔
اب جب کہ دنیا کو رواں صدی کی دوسری دہائی میںداخل ہوئے بھی خاصہ وقت بیت چکا ہے۔نئی فکریات اور علمیات‘ نظریات اور تصورات نے عالمی سطح پر زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح معاشرت‘ سیاست ثقافت اور زبان و ادب کے ڈسکورس کو الٹ پلٹ کرکے رکھ دیا۔ تاہم ریاست سے جڑے کچھ نقاد اب بھی مروجہ کلاسیکی تنقید کے نغمے الاپ رہے ہیں اور ہیئت ومواد کو اپنی توجہ کا مرکز بنائے رکھے ہیں۔
بحیثیت مجموعی ہم صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ اگرچہ ریاست جموں وکشمیر میں تخلیقی ادب کے مقابلے میں تنقیدی ادب کی رفتار بہت سست ہے مگر وقار بلند ہے جس کی وجہ سے یہاں کے نقاد کسی بھی دوسری ریاستی مرکز سے کم درجہ نہیں ہے جس کی مثالیں مذکورہ بالا تفصیلی تحریر میں پیش کی جاچکی ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ نقاد انِ فن/ شعر وادب خود کونئے تنقیدی نظریات و تصورات سے ہم آہنگ کرکے تفہیم ادب کے سلسلے میں قرأت کے تفاعل سے گزر کر ایک پھول کے مضمون کو سو رنگ سے دیکھنے پر کمر کسے اور تجزیہ لیں تو وہ دن دور نہیں جب ہمارے یہاں بھی تنقیدی روایت نہایت تزک و احتشامی کے ساتھ جلوہ گر ہوکر پورے اردو ادب میںاپنا ایک منفرد مقام حاصل کرے گی۔کیونکہ کشمیر الاصل ڈاکٹر علامہ سر محمد اقبالؒ کاکہنا ہے کہ:

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویران سے

ذرا نم ہو تویہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

٭٭٭

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook