Home / خبریں / رینو کے شہر میں

رینو کے شہر میں

فیاض احمد وجیہہ
117,SultejHostel,JNU,
New Delhi-110067
faiyazwajeeh@gmail.com
بعض عبارتیں ایسی ہوتی ہیں ،جو شب کی گہری اور مسلسل سیاہی میں بھی روشنی کا سفر طے کرتی ہیں۔حقانی القاسمی کی شعریات میں بھی رنگ ،روشنی اور خوشبو کا یہ سلسلہ احساس کی فرہنگ کے بہ طور بعض ایسے ہی بھید و اسرار کی آنکھ بن گئی ہے۔چنانچہ ان کے اسالیبِ بیان کی روانی اور تفاعل کو-Velocity of lightکے سائنسی اظہار میں بھی ایک خاص انداز سے محسوس کیا جاسکتا ہے۔دراصل حقانی القاسمی کی تخلیقی جمالیات اپنے افکار و عقائد کی تلاش و جستجو میں اکثراسالیبِ بیان کے ایسے ہی مرکزی حوالوں کو خاطر نشان رکھتی ہے اور کئی معنوں میں اُجالتی ہے،جو فکریات اور علمیات کی غیر ضروری اور پر فریب نمائش سے زیادہ قاری کو معنی کی فرہنگ میں جمالیاتی آہنگ کے روبرو کرتا ہے۔’رینو کے شہر میں‘کے مندرجات بھی تخلیقی جمالیات کے بھید بھرے آہنگ سے روشن ہیں تو نقد و شعور کے اس وژن اور wisdomکے اعتبارات کی ترجمان بھی ہیں ،جس میں مقامی اور لسانی بنیادوں پر قائم تہذیب و ثقافت کی عظمت کے ترانے مابعد صورتِ حال کو صیقل کرتے ہیں۔جذب و جنوں کا مسلسل کیف و آہنگ اور تنقید کی غیر روایتی فرہنگ،ان متون میں رینو ماٹی کے تشخص کا گراں قدر اظہاریہ ہیں ،اس رویہ اور صورتِ حال کو ادبی جبر اور تہذیب و ثقافت کی بے چہرگی کے منظرنامہ میں وجودی احوال و کوائف اور وجودیاتی تناظر کا بلیغ استعارہ بھی کہہ سکتے ہیں:
’’مٹی سے بچھڑنے کا دکھ باطن میں لہریں مارنے لگتا ہے تو انسان اپنی زندگی کا سارا سچ اپنی مٹی کے حوالے کردیتا ہے…مٹی ہی میرا چہرہ اور میری پہچان ہے‘‘۔(رینو کے شہر میں)
حقانی القاسمی کا ’چہرہ‘رینو کے شہر میں اس کردار کا ناسٹلجیا ہے جس کی آنکھوں میں مظاہرِ فطرت کی مسلسل کتھا -زندگی کی مصنوعی آب و رنگ کے مدِ مقابل تحرک و تسلسل کا استعارہ ہیں۔اس ناسٹلجیا میںصرف ہجرت کا دکھ نہیں ہے،مشرق کی طہارت سے وصل و فراق کا کیف بھی اس میں شامل ہے۔اس کردار کا وجودی حوالہ تہذیبی کثرت اور کلچر کی صارفی ناز و ادا کے منظرنامہ میں فطری زندگی کا مرکزی تشخص ہے۔ان متون کے مرکزی احوال کی جہتوں کو روشن کرتے ہوئے یہ عرض کردینا بھی نہایت ضروری ہے کہ اس کتاب کی صنفی حیثیت کا تعین مجھ ایسے قاری کے لیے محال ہے،لیکن اس کے آب و رنگ میں ایک نوع کی تصویریت اور مظہریت نمایاں ہے۔اسی کے باعث قاری کی آنکھیں’ماہِ کامل ـ‘کے تصور میں سائنسی فتوحات کے راست پہلو ئوں کا حوالہ ہی نہیں بنتی ہیں بلکہ گھپ اندھیرے میں بھی ذہن و دل کے لیے روشنی فراہم کرتی ہیں ۔شاہد و مشہود کی دوئی اکثر مٹ جاتی ہے،متن اور قاری کی آنکھیں باہم منقلب ہو کر وجودیاتی تناظر کے ایک نئے باب کی تشکیل میں حصہ لیتی ہیں۔اس نئے باب میں کئی خوش کن ساعتیں شامل ہیں تو جذبات و محسوسات کے ایسے بھید بھرے سنگیت بھی شریک ہیں جن کو نشاطِ غم اور نشاطِ زیست کا نام دے سکتے ہیں۔ایک طرح سے حقانی القاسمی نے مذہبِ حیات کے فلسفیانہ مباحث سے زیادہ اس کی اصل روح کو اپنے اسالیبِ بیان میں قوت بخشی ہے۔چنانچہ ان کے یہاں زندگی کے حیاتیاتی نظام کی تعبیرات و تصریحات میں-شب و روز کا درشن،چنتن اور ذات کی نوحہ خوانی بعض ایسی جہات ہیں جن کے مرکزی احوال میں سائنسی کرشمے کی غیر فطری دنیا اور کلچر کے سیاسی چہرہ کے عالمی تناظرات ،سب روشن ہو گئے ہیں۔اسی کے باعث ان کے اسلوبیاتی تنوع میں تاریخ و تہذیب کے حوالے روایتی آہنگ و فرہنگ سے الگ اپنا وجود رکھتے ہیں،ان میں اساطیری اور دیومالائی حکایتیں ہیں ،کائنات کا حسن ہے ،اس کی مدھر راگنی ہے،ہجر و وصال کے گیت ہیں اور مٹی کی تخلیقی جمالیات میں بدن کا اصل چہرہ ہے۔
’رینو کے شہر میں‘-ورق ورق دھوپ چھائوں کی مسلسل گاتھا ہے،ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حقانی القاسمی مسلسل حالتِ سفر میں ہیں اور محشرِ زمان و مکاںاحساس کے قالب میں ڈھل رہے ہیں۔’ماں کے مزار‘کی سائیکی سے وصل و فراق کے تجربے تک حقانی القاسمی ننگ وجود اپنی مٹی کا دکھ اٹھا ئے پھر رہے ہیں،یہ دکھ کتنے چہروں میں تقسیم ہوا ہے(؟) اس کی تفصیل اور تمہید اس کتاب کا مرکزی حوالہ ہے۔اپنی مٹی سے وصل و فراق کے تجربے کی مسلسل گاتھا نے ان کو بھید بھری دنیا ودیعت کی ہے،اور اس بھید بھری دنیا کے ہنگاموں نے ان کے اندر ایک ایسے کردار کے تشخص میں اہم کردار ادا کیا ہے جن سے شبدوں نے قسطوں میں بیعت کیا ہے ۔ورنہ مٹی کا دکھ ایک انسان کا وجودی حوالہ کیوں بنتا۔
’رینو کے شہر میں‘میں نے کئی راتیں بسر کی ہیں اور جذبات و محسوسات کی نازک تتلیوں کو اپنی سانسوں میں بے قابو ہوتے دیکھا ہے۔اس شہرِ خیال میں بعض مقامات ایسے بھی ہیں جہاں نہ جانے کیوں یہ محسوس ہوا کہ ہم سب کو جلا وطنی کی سزا مل رہی ہے اور ہجرت کے بھید و اسرار نئے طور سے گہرا رہے ہیں۔ہجرت کی کوئی شعریات اگر ممکن ہے تو حقا نی القاسمی نے پوری زندگی کو اس صورت میں مرتب کرنے کی صد گونہ کوشش کی ہے۔دراصل جذب وجنوں سے معطر لفظوں نے مجھ ایسے نو عمرکو دیکھی اور ان دیکھی دنیا کی سیر کا موقعہ فراہم کیا ہے۔میرے خیال میں زندہ فن پارہ اور اپنی روایات کے فکر و تسلسل کا استعارہ اسی کو کہتے ہیں ۔داستان ،حکایت،افسانہ،کتھا،کہانی،غزل،گیت اور مظاہرِ فطرت کی قوس و قزح-فنی و فکری اظہار کے تمام تر قالب یہاں روشن ہیں ۔قلی قطب شاہ کی بارہ پیاریاں اور خدائے سخن میرؔتقی میر کے درد و غم کی Ironyاسلوبیاتی جمال کی منطق میں لذتِ حیات و غم کو اجالا کرتے ہیں۔ان کے یہاں اسلوبیاتی جمال کی منطق میں مابعد الطبیعیات کے آثار و نقوش بھی نمایاں ہیں،اس کے مندرجات میں احساس و خیال کی تجسیم کا وہ پہلو ہے جو زندگی کے گھپ اندھیرے کو بھی معنی پہناتے ہیں۔چنانچہ ایسے متن کا تفاعل قاری کو زندگی کی طبیعیات اور مابعد الطبیعیات کی تفہیم میں مدد کرتا ہے۔
حقانی القاسمی نے رینو کے شہر میں جس ماضی بعید اور ماضی قریب کے گائوں کی سائیکی کو حال کے منظرنامہ میں ابھارنے کی کوشش کی ہے،اس کے ادبی اور تخلیقی جمال کی منطق -’نیست بر لوحِ دلم جز الف…‘کی تھیسس Thesis))میںاس طرح نظر آتی ہے:
’’مجھے یہ کتاب نہیں لکھنی چاہیے تھی…!
خوابیدہ خفتہ سماج کو جگانے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہیے ورنہ جگانے والا تھک ہار کر خود سو جاتا ہے اور مجھے ابھی جاگنا ہے۔مجھے ایسے لوگوں کو Inner prisonسے نکالنے کا حوصلہ بھی نہیںہے‘‘۔
’’میں تو صرف اپنی زمین سے ’تخلیقی لمس‘چاہتا تھا ،اس لمس کی لذت میں تاریخ بے کیف محسوس ہوتی ہے‘‘۔
’’میرا مقصد صرف یہ ہے کہ رینو کے شہر کی تخلیقی روح اس کے ضمیر اور احساس و اظہار کی داخلی قوت سے آگاہ ہو جائوں،اس سر زمین کے فن کاروں کی تخلیقی حسیت اور بصیرت کے ساتھ کچھ وقت گزاروںکہ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا ہے۔تنقید اور تعصب نے انھیں تہِ تیغ کیا ہے‘‘۔
’’یہ مسئلہ صرف ایک ہی سر زمین کے تخلیق کاروں کا نہیں ہے،یہ مقامی نہیں،آفاقی مسئلہ ہے۔یہ اردو دنیا کے ان تمام لکھنے والوں کا مسئلہ ہے جن پر مقامیت یا علاقائیت کا لیبل لگا کر مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے‘‘۔
یہ حقانی القاسمی کے ادبی معتقدات ہیں،جو مابعد تنقید کو بھی اعتبار عطا کرتے ہیں۔فلسفیانہ مباحث کے شور و غوغامیں انھوں نے رینو اور رینو کے شہر کی تخلیقیت کو ادبی جبر اور تعصب و تنقید کے خلاف احساس و اظہار کا پر قوت استعارہ بنا دیا ہے۔چنانچہ وہ حقائق کو اس طرح بھی پیش کرتے ہیں:
’’رینو نے جب ’میلا آنچل ‘لکھا تھا تو اس پر مقامیت کا لیبل لگا کر اسے مسترد کرنے کی کوشش کی گئی تھی مگر یہی ناول جب روسی زبان میں چھپا تو ایک ہفتے میں ستر ہزار کاپیاں فروخت ہوئیں۔بڑا ادب تو لمہی یااوراہی ہنگنا میں ہی جنم لیتا ہے‘‘۔
رینو کے ’میلا آنچل‘کی عظمت سے ہندوستانی ادب کے رگ و پے میں حرارت بہت بعد میں پہنچی،جس علاقائی اسلوب کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی گئی اس کے انفراد و امتیاز کو روسی فکر و شعور نے نہ صرف محسوس کیابلکہ اس کی بے پناہ عظمت اور تر وتازگی کا اعتراف بھی کیا۔حقانی القاسمی بعض ایسی ہی باتوں کو روشن کرتے ہوئے اپنی تنقید میں اس کی تخلیقیت کو یوں پیش کرتے ہیںـ:
’’ارریا نہ اصفہانِ جہاں ہے،نہ بنارس کی طرح پر نور،بہشت خرم،فردوس معمور-وہ ایک چھوٹا سامنطقہ ہے…جغرافیائی کائنات میں خطِ منحنی کی طرح ایک باریک لکیر-میں نے اس منطقہ کے خس و خار میں باغ تلاش کرنے کی کوشش کی ہے اور گرد و غبار میں روح کا جوہر۔مجھے پتا ہے کہ اس شہر میں تخلیق کی آتما بہت ہی منور ہے اور تخلیق کی جیوتی ہمیشہ جلتی رہتی ہے۔اس دھرتی نے ایک ایسا عظیم تخلیق کار پیدا کیا ہے جو اگیے کی نظر میں ’دھرتی کا دھنی‘تھا تو کملیشور کی نظر میں بیسویں صدی کا سنجے جس کی اونچی پیشانی پہ وید ویاس کی دعا لکھی ہے اور جو نرمل ورما کی نظر میں ایک ایسا سنت ہے جس نے بہار کے چھوٹے زمینی ٹکڑے کی ہتھیلی پر سارے شمالی ہندوستان کے خطِ تقدیر کو اجاگر کیا ہے۔یہ سنت کوئی اور نہیں،رینو تھا۔جس کے ناول’میلا آنچل‘کی دھوم پورے عالمی ادب میں ہے…روس کے ادب شناسوں نے یہ فیصلہ صادر کردیا کہ اس ناول میں ہندوستان کی سچی دھڑکنوں کو محسوس کیا جاسکتا ہے…اس ناول کے کردار پرشانت اور کملا دونوں آج بھی جیتے جاگتے نظر آتے ہیں۔کرداروں کی یہ دوامیت،ایک بڑے ناول ہی کی دین ہوتی ہے۔رینو کی کہانیوں نے گائوں کو وقعت،رفعت اورعزت عطا کی اور عام انسان کی زندگی کو ایک نیا طرزِ احساس دیا۔ان کی علاقائیت میں بھی آفاقیت مضمر ہے۔آج پوری دنیا اس مقامیت میں عا لمیت/آفاقیت کے سارے رنگ دیکھ رہی ہے۔Katheryn Hansenنے اپنے مضمون "Renu’s Regionalism:Language form”میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ رینو نے فکشن میں ایک امتیازی علاقائی اسلوب کو فروغ دیا ہے…Hansenنے رینو کے تخلیقی امتیازات کی جو تنقیدی تعبیر پیش کی ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ رینو کے خلاق اور اختراعی ذہن،اسلوب کا اعتراف سبھی کو ہیـ‘‘۔(رینو کے شہر میں)
یہاںبہت سی باتوںکااعادہ ضروری نہیںہے البتہ یہ عرض کرنے میںکو ــقباحت نہیںہے کہ مابعدصورت حال اسی علاقائیت اور مقامیت کوآفاقی تناظرمیںپیش کرنا چاہتی ہے۔مابعدصورت حال کا یہ رویہ کسی مغربی تھیوری سے ماخوذ ہے بھی(؟)تواس کے عملی انطباق کے لیے ایسے متون موجود ہیںجواس صورت حال کو مزید صیقل کرتے ہیں۔حقانی القاسمی نے اپنی تنقیدمیں کسی ایسی تھیوری کی تقلید نہیں کی ہے بلکہ متن کے تفاعل سے اپنے بنیادی اسلوب کی تعمیروتشکیل میںحصہ لیا ہے۔اسی وجہ سے رینواور رینوماٹی کی تخلیقیت حقانی القاسمی کے وجودکی پہچان بن گئی ہے اورحاشیائی تخلیق کے ڈسکورس میںایک نئی شعریات کی فرہنگ بھی۔ انہوں نے حدیث لالہ وگل کی منطق میں-شہر کی سانسوں میں الجھی ہوئی تاریخ، شہر کی صبح میں ایک شام ،ارریا آندھی اور آم اور چھوٹے شہر کا بڑا سفرنامہ ایسے علا متی عنوان میں جذب وجنوں میں ڈوبی ہوئی شام وسحر کا قصہ لکھا ہے۔اس قصے میں شہر آشوب کی منطق مرثیہ کی طبعیات اور گیت وغزل کی شوخی سب جذب ہو گے ہیں۔بلا شبہ اس میں ایک Nostalgic characterسے وصل وفراق کا کیف بھید بھری دنیا کی مرتب شعریات کی نفی واثبات کا بے حد توانا اور پر اثراحوال ہے۔شہر کی سانسیں دراصل اس کے روح ضمیر اوربدن کی تجسیم ہے۔تجسیم کے اس تصور میںانسان کا وجودی حوالہ اکثر در آ یا ہے۔بعض جگہوں پر تاریخ کی مرتب شعریات کی نفی کی گئی ہے،چوں کہ اس میں تموج نہیںہے۔ارریا آندھی اور آم میں مہا کوی ٹیگور کی نظموں کی قوس وقزح ہر طرف بکھڑی پڑی ہے،بوند بوند آنسو کے ناسٹلجیائی تجربے سے حال کی اداس آ نکھوں تک اور ایک نئی دنیا کے جبر کی گاتھا سے صبح کی اجلی دھوپ تک کے آ ئینہ میں آ ج کا انسان اپنا اصلی چہرہ دیکھ سکتاہے۔ان کے دلکش اور مخصوص اسالیب بیان میں شہر اور گائوں کی جوعلامتیں وضع ہوئی ہیں،ان میںاپنی مٹی کاچہرہ اور بدن حا شیے میں ضرور نظر آ تاہے،لیکن مشرقی تہذیب کا وجودی تناظراور اپنے تشخص کا مرکزی حوالہ بھی یہی ہے ۔حقانی القاسمی نے اس کی تخلیقیت اور دوشیزگی کو آئینہ تمثال بناکر پیش کیا ہے۔
انہوں نے رینو کے شہر کی صرف سیاحت نہیں کی ہے بلکہ اس کی شعریات کو متشکل کیا ہے۔اس کا مرکزی حوالہ اس-Nostalgic characterکا اپنا وجود ہے۔یقین مانیے یہ پوری کتاب خوب صورت مصوری ہے،جس کی ان گنت تصویروں میں علامت ہے،استعارہ ہے اور رمز وکنایہ ہے۔ان کے اندر کا’رینو‘ فن وفکر کے عصری تناظرات میں مٹی کی خوشبو تلاش کر رہا ہے،وہ کسی فریم ورک کا قائل نہیں ہے۔تخلیق کی تروتازگی اور توانائی ہی ان کے نقدوشعور کی حرارت ہیں۔بلاشبہ لفظ کسی حد تک محدود ہو تے ہیںلیکن جذبوں میںبڑی وسعت اور صداقت ہوتی ہے،اس کا شدید احساس مجھے ان متون کے مختلف رنگ وآہنگ کے وصل و فراق کے عمل میں ہوا ۔شبدوں کے مایا جال سے یہ متون کوئی سروکار نہیں رکھتے،بلکہ احساس واظہار کی توانائی کا رمز اس میں پوشیدہ ہے۔جذبات ومحسوسات کے کیف و آہنگ کی شدت کو روشن کرنے کی خوبی ان کے یہاں نمایاں ہے۔
داستان عہد گل کے عنوان سے ان مورخوں کے متون کا مطالعہ کیا گیا ہے، جس میں اپنی مٹی(پورنیہ)کی تاریخی،سماجی،ثقافتی اورسیاسی حوالے موجود ہیں۔اس مطالعے میں انہوں نے متعلقہ متون کے تناظرات کو واضح کیا ہے اور اس کے کیف وکم سے پورے طورپرسروکار رکھا ہے۔ان متون کے تجزیہ وتعارف میں انہوں نے ملکی منظر نامہ میں پورنیہ کی گراں قدر خدمات کا بھی احاطہ کیا ہے۔ان متون کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگا یا جا سکتا ہے کہ ماحولیاتی اورمعاشرتی سروکار تک اس کے دائرہ کار میں خاطر نشان رکھے گے ہیں۔حقانی القاسمی بعض ایسے ہی متون کی حرارت کو محسوس کرتے ہو ے اس شہر کی سائیکی کو بیان کرتے ہیں:
ـــ’’اسے تاریخ کا المیہ کہیے یا باشند گان کی بے حسی کہ اس علاقہ کی سیاسی، ثقافتی تاریخ اپنے ہی منطقہ میں محدود ہو کر رہ گی‘‘۔ (رینو کے شہر میں)
انہوں نے بعض ایسے بیش قیمت متون کے وجودی احوال میں اکمل یزدانی،کبیرالدین فوزان،وہاج الدین صدیقی اورڈاکٹر عبدالرقیب کی خدمات کا جائزہ لیا ہے،بالخصوص شیخ کفا یت اللہ کی ودیا دھر، جو تقریبا تین سو سال پرانی تصنیف ہے اور متروک زبان میں لکھی گی ہے۔اس کی متنی تحقیق و ترتیب کے لیے قمر شاداں کی ذہانت اورحوصلے کی داد دیتے ہو ے حقانی القاسمی لکھتے ہیں :
’’انہوں نے پوری مثنوی کو ہندی میں نہ صرف مرتب کیا بلکہ لغوی اور معنوی تشریحات وتعبیرات کے ذریعہ عسیرالفہم کتاب کو سہل بنا دیا‘‘ ۔(رینو کے شہر میں)
حقانی القاسمی اس تصنیف کے تفردات و امتیازات کو نئی تھیوری کا حوالہ بھی بناتے ہیں:
’’ما بعد جدید تصورات کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ’ودیا دھر ‘ما بعد جدیدیت کے بہت سے مباحث میں بھی مدد گار ہوسکتی ہے بالخصوص تعیین معنی اور التوائے معنی کی بحث میں بدیا دھر سے روشنی مل سکتی ہے۔بادی النظر میں یہ مثنوی پریم کتھا نظر آ تی ہے مگرحقیقت میں مصنف نے مجازی محبت کو وجود مطلق سے مربوط کر دیا ہے‘‘۔(رینو کے شہر میں)
اس کتاب کے مطالعات کو قائم کر تے ہوئے انہوں نے بعض ایسے حوالے روشن کیے ہیں کہ مجھ ایسے قاری کو بھی ان متون کے اعماق میں اترنے کو جی کرتا ہے۔ودیا دھر ۱۷۲۸ء کی تصنیف ہے،اس کا اردو اڈیشن ۱۹۳۸ء میں شائع ہوا۔اس مثنوی کے مندرجات سے’پورنیہ کے طرزِ معاشرت اور سماج کی سائیکی اور تہذیبی نقوش پر بھی روشنی پڑتی ہے‘۔(۱۰۹)
زمین شور میں سنبل-اس عنوان کی منطق میں انہوں نے نام نہاد حاشیائی ادب ،تخلیق اور تخلیق کار کی عظمت اور بے پناہ قوت کا استعارہ وضع کیا ہے۔چنانچہ رینو ان کے احساس و اظہار میں اندر تک اتر گئے ہیںاور ان کے ماٹی کی تخلیقیت ان کی شعریات میں نقد و نظر کا ایک الگ زاویہ بن گئی ہے۔نقد و نظر کے اس زاویہ کو بنیاد بنا کر انہوں نے رینو کے فن و فکر کو نہ صرف روشن کیا ہے بلکہ ان کی روایت کو تسلسل عطا کرنے والے تخلیقی فن کا روں کا تعارف نامہ بھی درج کیا ہے۔اس کے بعد شعری منظرنامہ کے تحت مولانا عیسیٰ فرتاب ،مظہرالقیوم مظہر،شمس جمال،زبیرالحسن غافل،شاذ رحمانی،طارق بن ثاقب،ہارون رشید غافل اور ڈاکٹر فرحت آرا کے شعری جمالیات میں ڈوب کر انہوں نے عصری تناظرات کے اکثر حوالوں کو اپنی تنقید میں روشن کیا ہے۔زبیرالحسن غافل کی شعری جہات میں احساس و اظہار کی جو فرہنگ تشکیل ہوئی ہے،اس کے پسِ منظر اور پیشِ منظر کو اپنے فکر و شعور کا حوالہ بناتے ہوئے انہوں نے صارفی سماج کے جبر اور اس کے متعلقات کو کریدنے کی جہد کی ہے۔صارفی سماج کا فروغ اس بحث کا بنیادی موضوع ہے،اسی کے باعث حقانی القاسمی نے آرٹ اور ادب کے اعتبارات کو قائم کرنے کی کوشش میں بھی بعض ایسے سوالات createکیے ہیں جو دیہی علاقوں کی تخلیقی زرخیزی کی گمشدگی کا باعث ہیں۔صنعتِ توشیح میں لکھا گیا یہ مضمون بہت دیر تک قاری کو فکر و نظر کی حرارت میں نئے آفاق کی جستجو کا اشاریہ فراہم کرتا ہے۔
نثری منظرنامہ کے احوال میں انہوں نے مشتاق احمد نوری اور رفیع حیدر انجم کے افسانوی چہرہ کو متشکل کیا ہے۔نوری کے یہاں انہوں نے پریم چند اور رینو کے رنگ کی دریافت کی ہے اور ان کے انفرادی رنگ کو عصری کہانی کی ادبی تاریخ کا حصہ قرار دیا ہے۔ بلا شبہ نوری کے افسانے کی عصری تاریخ میں نمایاں مقام رکھتے ہیں اور اپنی تخلیقی جودت کے لیے پہچانے جاتے ہیں ۔رفیع حیدر انجم بھی اپنے فن و فکر کی گہری سیاہی سے اردو افسانوی ادب کی پیشانی کو منور کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔حقانی القاسمی نے ان کے تخلیقی بیانیہ کی قوت اور محاکاتی تاثر کا کھلے دل سے اعتراف کیا ہے۔
’باغبانِ گل ‘کے عنوان میں مولانا اسرارالحق قاسمی ،مولانا کبیرالدین فاران ،شمس جلیلی،وہاج الدین صدیقی اور ڈاکٹر محمد اقبال حسین ندوی کے علمی اور ادبی فتوحات کا شمار مخصوص اوزان کے تحت اس طرح کیا گیا ہے کہ ہرہرمنظر علم و ادب کا مظہر بن گیا ہے۔اس باب میں وہاج الدین صدیقی کے شخصی غم کے اظہاریہ کا مطالعہ حقانی القاسمی نے جن بنیادوں پر قائم کیا ہے،وہ کئی معنوں میں اہم ہیں۔دراصل انہوں نے ان کے ذاتی غم میں کائناتی غم کے حسن کو تلاش کیا ہے اور اس کو نثری مرثیہ کے بجائے نقشِ حیات قرار دیا ہے۔صدیقی کا یہ اظہاریہ ان کی بیٹی کی موت کے بعد وجود میں آیا ہے،دراصل وہ کوئی فن کا ر اور ادیب نہیں ہیں۔حقانی القاسمی ایسی باتوں کو نشان زد کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’مجھے اس کتاب کے مسودے کی قرأت سے گزرنے کا اتفاق ہوا۔کئی بار جملوں کی تہذیب و ترتیب کا جی چاہا مگر اس خدشے سے باز رہا کہ ذرا سی ترمیم سے جملوں کا حسن تو دوچند ہو جائے گا مگر ان لفظوں کی رگوں میں جذبے کا جو لہو ہے اس جذبے کا’خون‘ہو جائے گا۔میں ان لفظوں کے رگ و پے میں وہ جذبہ کہا ں سے پیدا کروںگا ۔جذبے کی وہ حدت اور شدت کہاں سے لائوں گاجو ان شکستہ سطروں میں پوشیدہ ہے۔جذبے کا حسن جملے کے جمال پر ہمیشہ حاوی ہوتا ہے ۔لفظوں کی خوبصورتی سے زیادہ جذبے کی نزاکت عزیز ہوتی ہے ‘‘۔(رینو کے شہر میں)
ان باتوں میں لسانی جمالیات اور جذبے کی نزاکت کی داستان صرف اظہار کے فطری پن سے عبارت نہیں ہے بلکہ تخلیقی بھید و اسرار کا روشن پہلو بھی اس میں نظر آتا ہے۔’شاخِ نو بہار‘ کے تحت انہوں نے نئی نسل کے علمی اور ادبی فتوحات کے اعتبار کو قائم کیا ہے۔ان میں آصف انور علیگ،عابد انور ،نعمان قیصر،افتخارالزماں اور محفوظ عالم کے نام ایسے ہیں ،جن سے علم و ادب کا حلقہ مانوس ہے۔حقانی القاسمی نے اپنی مٹی کے شاخِ نو بہار کا تذکرہ اس طور سے کیا ہے کہ ان کے تفردات اور امتیازات بہ ہر دو اعتبار نہ صر ف روشن ہو گئے ہیں بلکہ اس میں رینو ماٹی کی پیشانی کی عظمت کا استعارہ بھی وضع ہو گیا ہے ۔’لوحِِ گمشدہ ‘کے تحت انہوں نے قاضی نجم الدین ہری پوری اور قاضی جلال ہری پوری کی تخلیقی جمالیات کو قارئین کی نذر کیا ہے۔نجم الدین کو انہوں نے اقبال کی فکری روایت کا امین اور جلال کو کلاسیکی تخلیقی وراثت یعنی تغزل کا شاعر قرار دیا ہے۔
حقانی القاسمی کے لسانی ملاحظات میںوہ حوا لے اکثر در آئے ہیں جو رینو ما ٹی ایسے علاقائی اسلوب کو آفا قی تناظرعطا کرتے ہیں۔میں نے بساط بھر بعض باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے ،لیکن یہ عرض کرنے میں کو ئی ہر ج نہیں ہے کہ نئی تنقید سے متعلق کم و بیش ہر شعریات کی اطلاقی تنقید اس کتاب میں موجود ہے۔دراصل ہمارے یہاں نئی شعریات پر فلسفیانہ مباحث کا انبار ہے لیکن اطلاقی تنقید کے نمونے نایاب ہیں ۔میرے خیال میں نئی تھیوری کی مغربی صورت سے آشنائی ضروری ہے لیکن متن کے تفاعل سے ظہور میں آنے والی تنقید کا اکتساب بھی لازم ہے۔اس لحاظ سے حقانی القاسمی کی تنقید میںمتن کا تفاعل قابلِ تحسین ہے،چونکہ انہوں نے علاقائی اسلوب کی بازیافت میں نئی تھیوری کے زمینی سروکار کو اجالا ہے۔
یہ کتاب جہاں اپنی مٹی کا سفر نامہ(اول) ہے وہیںحقانی القاسمی کے اپنے تشخص کا ایک اہم حوالہ بھی ہے۔کائنات اور ذات کے اس مدغم سفر اور حسین امتزاج کو کوئی نام دینا مشکل ہے،دراصل جب عشق اور حسن تحلیل ہو جاتے ہیں تو ان کے تفردات کو روشن کرنا ناممکن ہوجاتا ہے ۔البتہ ان کی اس بات میں حسن وعشق کی یہی راگنی ہے کہ ’یہ کتاب ایک آشفتہ سر کا خراجِ محبت ہے‘:
مٹی کی محبت میںہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض چکائے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے
……………………

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook