Home / خبریں / زندہ تخلیق وہی ہوتی ہے جو فنکار کے بغیر بھی زندہ رہتی ہے : پروفیسر ابن کنول

زندہ تخلیق وہی ہوتی ہے جو فنکار کے بغیر بھی زندہ رہتی ہے : پروفیسر ابن کنول

ساہتیہ اکادمی کے زیراہتمام کل ہند ’اخترالایمان : بازیافت‘ صدی سمینار اختتام پذیر

????????????????????????????????????

نئی دہلی، 27 نومبر (اسٹاف رپورٹر)اخترالایمان نے آزاد نظم کو اس کی معنویت اور فکری اہمیت سے الگ نہیں کیا۔ ان کی شاعری بھی دیگر شاعروں کی طرح اپنے گردوپیش اور کچھ عالمی صورت حال اور اس سے پیدا ہونے والی ذہنی کیفیت یا ردعمل کی شاعری ہے۔ ان کا فنی شعور انھیں خطیبانہ لہجے پر جمنے نہیں دیتی۔ ان خیالات کا اظہار ساہتیہ اکادمی کے زیراہتمام منعقد دو روزہ کل ہند ’اخترالایمان : بازیافت‘ صدی سمینار کے دوران پروفیسر محمد ذاکر نے اپنے مقالے میں کیا۔ دوسرے دن کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر علی احمد فاطمی نے کہا کہ بغیر کسی لیبل کو چسپاں کیے ہوئے آج کے سیاق و سباق میں اخترالایمان کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اخترالایمان ترقی پسند ہوتے ہوئے بھی فیشن پرست ترقی پسند کی جماعت سے الگ رہے۔ انھوں نے کہا کہ اخترالایمان ایک خاص مزاج کے شخص و شاعر تھے جن کا خمیر تنہائی سے اٹھا تھا۔ اس اجلاس میں اقبال مسعود نے ’اخترالایمان کا تصور انسان‘، اجے مالوی نے ’اخترالایمان کی متروکہ نظموں کی بازدید‘ اور وسیم بیگم نے ’اخترالایمان کی نظم ایک لڑکا کے حوالے سے‘ کے عنوانات سے اپنے مقالے پیش کیے۔ اقبال مسعود نے کہا کہ اخترالایمان ایک صحت مند اور صالح معاشرے کی تعمیر کا خواب دیکھتے ہیں۔ تہذیبی اقدار اور ماضی کی بہترین روایات سے اسی لیے ان کا رشتہ استوار ہے۔ اجے مالوی نے کہا کہ اخترالایمان کی متروکہ نظموں کے حوالے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اخترالایمان غزل بنیاد تہذیب اور پابند تہذیب کے بھی عارف تھے مگر انھوں نے فرسودہ راہ پر چلنا پسند نہیں کیا اور روایت سے بغاوت کو زیادہ معنویت و اہمیت دی اور بے مثال نوتجربہ پسند نظم نگار کے طور پر تاریخ ساز ہوگئے۔
دوسرے اجلاس کی صدارت پروفیسر ابن کنول نے کی۔ انھوں نے سمینار کے انعقاد کے لیے ساہتیہ اکادمی اور بطور خاص محمد موسیٰ رضا کو مبارکباد پیش کی۔ پروفیسر ابن کنول نے کہا کہ زندہ تخلیق وہی ہوتی ہے جو فنکار کے بغیر بھی زندہ رہتی ہے۔ اخترالایمان ایک زندہ فنکار ہیں۔ وہ ایسے شعرا میں تھے جسے ہر گروہ اپنے میں شامل کرنا چاہتا ہے۔ اس اجلاس میں پروفیسر محمد ذاکر، پروفیسر شہزاد انجم اور پروفیسر کوثر مظہری نے مقالے پیش کیے۔ پروفیسر شہزاد انجم نے کہا کہ اخترالایمان کے تخلیقی رویے میں ماضی کی بازیافت، زمین سے گہری وابستگی، قدروں کی پاسداری، فکری صلابت، ذہانت اور دردمندی کا خاصا دخل ہے۔ انھوں نے کہا کہ اخترالایمان شاعری کے تعلق سے گہری بصیرت، کشادہ ذہنی، دوربیں نگاہ اور وسیع فکر و نظر کے قائل تھے۔ پروفیسر کوثر مظہری کے مقالے کی قرأت نوشاد منظر نے کی۔ اس مقالے میں کہا گیا کہ جب ہم اخترالایمان کی نظمیں پڑھتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ واقعی وہ ’گزران‘ ہی ہے جس کے لمحوں کو شاعر نے الفاظ کے پیکر میں مجسم کیا۔ انھوں نے کہا کہ جدید نظم نگاروں میں اخترالایمان نے اپنا تخلیقی سفر آزادانہ طے کیا ہے جس طرح کہ راشد اور اور میراجی نے طے کیا۔
سمینار کے آخری اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جناب نظام صدیقی نے کہا کہ اخترالایمان نے اپنی قدرِ اول کی نوفکریاتی، اسلوبیاتی اور لسانیاتی سطح پر یکسر مجتہدانہ بڑی نظموں اپاہج گاڑی کا آدمی، کوزہ گر، عزم، نیا شہر، یادیں، ایک لڑکا وغیرہ میں اپنی منفرد نئی انضمام ضدینی تکنیک کی بھرپور کامیابی سے بیک وقت اعلیٰ جدیدیت اور اعلی مابعد جدیدیت کی نوتخلیقیت افروز اور نومعنویت بار، توانائیوں اور تابکاریوں کو بخوبی مس کرنے میں سرخ رو ہوئے ہیں۔ اس اجلاس میں پروفیسر مولابخش نے ’اردو کی طویل نظموں میں اخترالایمان کا انفراد‘، پروفیسر صاحب علی نے ’اخترالایمان کی عشقیہ شاعری‘ اور سیفی سرونجی نے ’اخترالایمان کا فن‘ کے عنوانات سے مقالے پیش کیے۔ پروفیسر مولابخش نے کہا کہ طویل نظموں کی شعریات کا شعور اخترالایمان نے جس فنی صلاحیت کے ساتھ پیش کیا اس کا ثبوت نظم سب رنگ ہے۔ طویل نظم میں اولیت کا سہرا بھی سردار جعفری کے سر نہیں بلکہ اخترالایمان کے سر بندھتا ہے۔ پروفیسر صاحب علی نے کہا کہ اخترالایمان کی نظموں میں موضوع اپنی تمام جزئیات کے ساتھ نمایاں ہوتا ہے۔ وہ چاہے زندگی کے عام معمولات سے متعلق نظمیں ہوں یا عشقیہ نظمیں۔ اخترالایمان کی نظموں کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ عشقیہ جذبات کے اظہار کے لیے روزمرہ اور بول چال کے لفظوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ سیفی سرونجی نے کہا کہ اخترالایمان ان معنوں میں سب سے بڑے حقیقت پسند معلوم ہوتے ہیں کہ انھوں نے تمام موجودہ لسانیات شعری کو آزمانے کے بجائے دو ٹوک اور حقیقی زبان کا استعمال کرکے یہ ثابت کردکھایا کہ شاعری کا ایک طرز یہ بھی ہوتا ہے اور اس طرز کو اپنی فہم کا حصہ بنانے کے لیے بہرحال ہمیں اپنی قرأتوں ہی کو نہیں سماعتوں کی بھی ترتیب کرنی ہوگی۔ آخر میں ساہتیہ اکادمی کے سکریٹری ڈاکٹر کے سری نواس راؤ نے تمام صدور، مقالہ نگار اور سامعین کا بے حد شکریہ ادا کیا۔ نظامت کے فرائض پروفیسر مولابخش نے انجام دیے۔ سمینار کے ہر اجلاس کے بعد بحث و مباحثے کا سلسلہ چلا جس میں طلبا و طالبات نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ سوالات کرنے والوں میں محمد علی جوہر، شاہد اقبال، عاطف خاں وغیرہ اہم ہیں۔ اس موقع پر دہلی و اطراف کی سرکردہ ادبی شخصیات کے ساتھ طلبا و طالبات بھی موجود تھے۔
????????????????????????????????????

????????????????????????????????????

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook