Home / خبریں / سیکولرازم کی سمجھ

سیکولرازم کی سمجھ


٭ڈاکٹر وسیم انور

اسسٹنٹ پروفیسر
شعبہء اردو فارسی،ڈاکٹر ہری سنگھ گور یونی ورسٹی,ساگر ایم پی 470003
سیکولرازم سب سے پہلے یوروپ میں استعمال کیا گیا۔ آج اس کے کئی تصور موجود ہیںجو مختلف سیاق و سباق میں استعمال کئے جاتے ہیں۔ سیکولرازم کیا ہے؟اس کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟کیا سیکولر ازم آزاد خیالی یا روشن خیالی ہے ؟اس طرح کے کئی سوال پچھلی صدی سے زیر بحث ہیں۔یہاں ہم سیکولرازم کے معنی و مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
سیکولر لاطینی زبا ن کے لفظ سیکولم (Seculum) سے ماخوذ ہے۔ سبطِ حسن سیکولرازم کی تاریخ کے متعلق لکھتے ہیں ’’قرونِ وسطیٰ میں رومن کتھولک پادری دو گروہوں میں بٹے ہوئے تھے، ایک وہ پادری جو کلیساکے ضابطوں کے تحت خانقاہوں میں رہتے تھے۔ دوسرے وہ پادری جو عام شہریوں کی سی زندگی بسر کرتے تھے کلیسا کی اصطلاح میں آخرالذکر کو سیکولرپادری کہا جاتا تھاوہ تمام ادارے بھی سیکولر کہلاتے تھے جو کلیسا کے ماتحت نہ تھے اور وہ جائیداد بھی جسے کلیسا فروخت کر دیتا تھا۔ آج کل سیکولرازم سے مراد ریاستی سیاست یا نظم ونسق کی مذہب یا کلیسا سے علیحدگی ہے‘‘۔(نویدِ فکرصفحہ69)۔
سیکولرازم کی تاریخ:
قدیم ہندوستانی، یونانی، چینی، اور رومن فلسفیوں کی تعلیمات میں متعدد بیانات اور نظریات ملتے ہیںجو مذہبی عقیدے پر انحصارکے بجائے عقل ومنطق کی اہمیت و افادیت کو واضح کرتے ہیں، یہ نظریات تاریخ میں تعلیم اور معاشرے کی سیکولرائزیشن کے آغاز کی علامت اور سیکولرازم کے ابتدائی نقوش تسلیم کئے جا سکتے ہیں۔ سیکولر طرز فکر کی ابتدائی مروجہ مذہبی رواج اورمذہبی عقیدے پر استدلال کے ساتھ ہی ہوتی ہے۔ سیکولرازم قدیم یونان کے کلاسیکی فلسفہ اور سیاست میں پہلی بار وجود میں آیا، یونان کے زوال کے بعد ایک عرصے کے لئے پردہ ٔ خفاء میں چلا گیا، لیکن ایک ڈیڑھ ہزار کے بعد پھر نمودار ہوا،انسانی صلاحیتوں، وجہ اور پیش رفت پر بڑھتا ہوا اعتماد، اور منظم اور ریاستی حمایت یافتہ مذہب میں بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کے ساتھ، روشن خیالی کا آغاز ہوا، جس نے زندگی کے تمام پہلوؤں کو عقل کے دائرے میں داخل کر دیا۔ ا س طرح تعلیم، معاشرے اور ریاست کو مذہب کے تسلط سے آزاد کرنے کی جدیدطرز فکر سیکولرازم کہلائی۔
سیکولرازم کی تعریف:
سیکولرازم کے معنی و مفہوم بہت وسیع ہیں۔ اگرچہ اس کی تعریف کو شہری امور اور ریاست سے مذہب کی علیحدگی کے طور پر سب سے زیادہ عام کیا گیا ہے۔الحاد، مادیت پسندی ، فطرت پسندی، عوامی دائرے سے مذہبی علامتوں کی برطرفی وغیرہ اس کے معنی و مفہوم میں شامل ہیں ۔ کچھ مشہور انسائیکلوپیڈیا اور ڈکشنریوں میں سیکولرازم کی تعریف ملاحظہ ہو:
’’سیکولرزم ایک ایسا اخلاقی نظام ہے جس کی بنیاد عام پندونصائح کے اصولوں پر رکھی گئی ہواور جو الہامی مذہب پر انحصار نہ رکھتا ہو۔سیکولرزم تمام اہم سوالات مثلا خدا کے وجود اور روح کے غیر فانی ہونے وغیرہ پر بحث و تمحیص کا حق دیتا ہے۔‘‘(انسائیکلو پیڈیا امریکانا)
’’سیکولرزم ایک ایسا نظریہِ حیات ہے جو غیر مذہبی اور مذہب دشمن اصولوں کی وکالت کرتا ہے۔مختصر یہ کہ سیکولرزم ایک ایسا طریقہِ عمل ہے جس میں مذہبی حساسیت،فعالیت اور مسلمہ مذہبی قوانین اپنی سماجی وقعت کھو دیتے ہیں‘‘۔( انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجن)
’’سیکولرازم کا مطلب مسلک یا مذہبی قوانین سے مختلف یا متصادم ہے۔ یہ روحانی یا مذہبی مقام کے برعکس بالکل کائناتی ہے۔ ‘‘( انسائیکلوپیڈیاآف برطانیہ )
’’ سیکولرازم وہ نظریہ ہے ،جو مذہبی عقیدے کی ہر شکل اور مذہبی عبادت کی ہر قسم کی نفی کر دے‘‘۔(لرنر ٹائپ کنسائز انگلش ڈکشنری )
’’ریاست کو مذہبی اداروں سے الگ کرنے کا اصول‘‘، (آکسفورڈ ڈکشنری )
’’یہ عقیدہ کہ مذہب کسی ملک کی عام سماجی اور سیاسی سرگرمیوں میں شامل نہیں ہونا چاہئے،‘‘ (کیمبرج ڈکشنری)
’’سیکولرازم اس معاشرتی اور تعلیمی نظام کو کہتے ہیں،جس کی اساس مذہب کے بجائے سائنس پر ہو اور جس میں ریاستی امور کی حد تک مذہبی مداخلت کی گنجائش نہ ہو‘‘(ڈاکٹر مولوی عبدالحق کی انگلش اردو ڈکشنری )
مذکورہ بالا تمام تعریفوں کا لب و لباب یہی ہے کہ سیکولرازم ایک ایسا اخلاقی نظام ،نظریہ حیات اور طریقہ عمل ہے جومذہب اور مذہبی قوانین کو در کنار کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کے سبھی پہلوئوں، سیاسی نظام اور اخلاقی قدروں کی بنیاد عقل و شعور اور سائنس کو قرار دیتا ہے۔
سیکولرازم کی تعریف بیان کرتے ہوئے مولانا وحید الدین خان صاحب لکھتے ہیں کہ ’’حقیقت یہ ہے سیکولرازم کوئی مذہبی عقیدہ نہیں اس کا مطلب لادینیت نہیں بلکہ مذہب کے بارے میں غیر جانبدارانہ پالیسی اختیار کرنا ہے یہ ایک عملی تدبیر ہے اسکا مقصد یہ ہے کہ مذہبی نزاع سے بچتے ہوئے سیاسی اور اقتصادی امور میں مشترک بنیاد پر ملک کانظام چلایاجائے‘‘۔(مولانا وحید الدین خان۔مسائل اجتہاد)یعنی مولانا وحید الدین خان صاحب سیکولرازم کو لادینیت نہیں مانتے ہیں،وہ صرف اس کو سیاسی اور اقتصادی نظام کی بنیادبتاتے ہیں۔جب کہ مغربی مفکر واٹر ہائوس سیکولر ازم کو مذہب مخالف نظریہ بتاتے ہوئے لکھتا ہے: ’’سیکولرزم ایک نظریہ ہے جو زندگی اور طرز عمل کا ایک اصول پیش کرتا ہے جو مسلک یا مذہب کے خلاف ہے۔‘‘( واٹر ہاؤس)
ڈونلڈ اسمتھ مثالی سیکولر ریاست کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے رقم طرازہیں: ’’سیکولر ریاست وہ ریاست ہے جس کے تحت انفرادی اور اجتماعی آزادیوں کا تحفظ کیا جاتا ہے، جو مذہب کو فروغ دینے کی کوشش نہیں کرتی ہیں اور نہ ہی فرد کے ساتھ معاملات کرتے ہوئے مذہب کے معاملات میں مداخلت کرتی ہیں۔‘‘(ڈونلڈ اسمتھ )
سیکولرازم کی تحریک:
19ویں صدی کے ایک انگریز مفکر اور دانشور’’جارج جیکب ہولی اوک ( George Jacob Holyoake )‘‘ نے1846 میں سیکولر اور سیکولرازم کی اصطلاح کاپہلی مرتبہ استعمال کیا۔ ہولی اوک نے چارلس بریڈلا کے ساتھ مل کر سیکولر تحریک کو فروغ دیا۔ ترقی پسنداور سائنسی خیالات کی ترویج و ترقی کے لئے لندن میں 1851ء میں ’’سنٹرل سیکولر سوسائٹی‘‘ کے نام سے ایک علمی وادبی انجمن قائم کی ۔ اس تحریک نے آزاد سوچ پر بہت زور دیا۔تنقیدی سوچ اور سائنسی طرز فکر کے ساتھ آمریت کا مخالفت،جمہوریت کے حمایت، مذہبی آزادی،سیاست سے مذہب کو الگ کرنا،ریاست کا کوئی مذہب نہ ہونا،ہر مسلک کے لوگوں کو مساوی سمجھنااورآفاقی خیر سگالی جیسے عظیم مقاصد کے لئے یہ تحریک کوشاں رہی۔
سیکولرازم کے اقسام:
انسٹی ٹیوٹ برائے مطالعہ سیکولرازم سوسائٹی اینڈ کلچر کے بیری کوسمین (Barry Kosmin)نے جدید سیکولرازم کو دو قسموں میںتقسیم کیاہے: سخت اور نرم سیکولر ازم۔کوسمین کے بقول، ’’سخت سیکولرسٹ مذہبی تجاویز کو وجہ اور تجربہ کے بغیرہی نفسیاتی طور پر ناجائز قرار دیتے ہیں۔‘‘ تاہم، نرم سیکولر ازم کے پیش نظر،’’مطلق سچائی کا حصول ناممکن تھا، اور اسی وجہ سے، سائنس اور مذہب کی گفتگو کے وقت شکوک و شبہات میں رواداری اور اصولوں کواہمیت دینی چاہئے۔‘‘
مغرب میں سیکولرازم کی الگ الگ روایات ہیں، جیسے فرانسیسی اور اینگلو امریکن ماڈل، اور اس سے آگے، ہندوستان میں، جہاں علیحدگی کے بجائے تمام مذاہب کے لئے رواداری پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ سیکولرازم کی حمایت کے مقاصد اور دلائل وسیع پیمانے پر مختلف ہیں،مثلاً سیکولرازم جدیدیت کا ایک اہم عنصر ہے، یا یہ کہ مذہب اور روایتی اقدار پسماندہ اور تفریق پسند ہیں، اس لئے مذہبی آزاد ی اور آزاد خیالی لازم ہے۔کچھ معروف ریاستیں جنہیں اکثر ’’آئینی طور پر سیکولر‘‘ریاست تسلیم کیا گیا ہے ،وہ امریکہ، فرانس، میکسیکو ،جنوبی کوریا، اور ترکی ہیں اگرچہ ان اقوام میں سے کسی میں مذہب کے حوالے سے ایک جیسے طرز حکمرانی نہیں ہے۔مثال کے طور پر، ہندوستانی سیکولرازم میں مذاہب میں ریاستی شمولیت شامل ہے، جبکہ فرانسیسی سیکولرازم مذہب میں ریاست کی شمولیت کو روکتا ہے۔
ہندوستان میں سیکولر ازم کی نوعیت:
ہندوستانی سیکولرازم کا مطلب حکومت کو تمام مذاہب سے مساوی فاصلہ رکھنا ہے۔ہندوستانی سیکولرازم کا تصور ریاستہائے متحدہ امریکہ جیسے مذہب اور ریاست کے درمیان علیحدگی پر مبنی نہیں ہے۔ ہندوستان کی سیکولرازم نہ تو مذہب سے پوری طرح وابستہ ہے اور نہ ہی اس کے ساتھ مکمل غیر جانبدار ہے۔ ہندوستانی سیکولرازم کی ان اقدار کو نظریاتی فرق بتایا گیا ہے۔ہندوستان میں سیکولرازم ’’ سرو دھرم سمبھاو‘‘( تمام مذاہب کا احترام) کے تصور پر مبنی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہندوستان کی سپریم کورٹ نے1973 میں کیشوانند بھارتی معاملے میں اپنے فیصلے میں سیکولرازم کو ہندوستان کے انفراسٹرکچر کا ایک حصہ سمجھا ہے۔ سیکولرازم کی اصطلاح ہندوستانی آئین کے کسی بھی حصے میں استعمال نہیں ہوئی تھی، لیکن آئین میں ایسے بہت سے آرٹیکل موجود تھے جو ہندوستان کو سیکولر ریاست کا درجہ دیتے ہیں۔ 42 ویں آئینی ترمیم 1976 میں سیکولر لفظ کو آئین کے پریمبل(Preamble)میں شامل کیا گیا۔ ہندوستانی فلسفہ میں، مذہب کا مطلب فرض اور فضیلت ہے۔ کوئی فرد یا قوم اس سے الگ نہیں رہ سکتی۔ لہذا سیکولرازم کے ہندی معنی دھرم نر پیکش کے بجائے پنتھ نرپیکش کا لفظ شامل کیا گیا۔ 3 جنوری 1977 سے، ہندوستان ایک اعلان شدہ سیکولر ریاست ہے۔
ہندوستان آئینی طور پر ایک سیکولر ریاست ہے یعنی اس کا اپنا کوئی مذہب نہیں ہے۔ اس سے تمام مسلک کو مساوی اور متوازی ترقی کی آزادی ملتی ہے۔ ریاست تمام مذاہب کو یکساں درجہ دیتی ہے۔ ریاست مذہب، ذات پات، قبیلہ یا نسل کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کرتی ہے۔
سیکولرازم اور اخلاقیات:
بقول ہولی اوک :’’سیکولرازم زندگی کے متعلق ایک ضابطہ اخلاق ہے، جو خالصتا ً انسانوں کے تحفظات پر مبنی ہے اور اس کا مقصد بنیادی طور پر ان لوگوں کے لئے ہے جنہیں دینیات غیر معینہ یا ناکافی اور ناقابل اعتماد لگتا ہے۔ اس کے تین لازمی اصول ہیں:
(1) مادی ذرائع سے اس زندگی کی بہتری۔
(2) سائنس انسان کی دستیاب فراہمی ہے۔
(3) اچھا کرنا اچھا ہے۔ خواہ کوئی دوسرا بھلا ہو یا نہ ہو، موجودہ زندگی کی بھلائی اچھی ہے، اور اس بھلائی کی تلاش کرنا ہی اچھا ہے۔‘‘
ہولی اوک نے کہا کہ سیکولرازم اور سیکولر اخلاقیات کو مذہبی سوالات میں ذرا بھی نہیں الجھنا چاہئے، اور اسے سخت عقیدے اور ملحدیت سے ممتاز کیا جانا چاہئے۔اس طرح سیکولرسٹ تحریک ان لوگوں کے درمیان بھی مقبول ہوئی جنھوں نے یہ استدلال کیا تھاکہ یہ مذہب مخالف تحریک ہے۔ سیکولرزم کا مطلب کسی کے مذہب کی مخالفت کرنا نہیں ہے بلکہ ہر ایک کو اپنے مذہبی عقائد کو آزادانہ طور پر قبول کرنے کی اجازت ہے۔سیکولرازم کے تناظر میں مذہب، فرد کا ایک بہت ہی نجی معاملہ ہے، جس میں ریاست اس وقت تک مداخلت نہیں کرتی جب تک مختلف مذاہب کے بنیادی تصورات میں اصل تنازعہ پیدا نہیں ہوتا ہے۔سیکولر ریاست میں اس شخص کا بھی احترام ہوتا ہے جو کسی بھی مذہب کو نہیں مانتا ہے۔سیکولرازم ریاست کو کسی خاص مذہب کو تحفظ فراہم کرنے سے روکتا ہے۔
سیکولرازم کی ضرورت:
مذہب کا آغاز اکثر عالمگیر اقدار اور روحانی ادراک جیسے دم توڑنے والے الفاظ سے ہوتا ہے، لیکن جلد ہی وہ تعصب، منافقت اور کھوکھلی رسوم کی وکالت کرتے ہیں۔ پھر تشدد، نفرت وغیرہ دماغ کو بھر دیتا ہے۔ یہ سب مل کر ایک سست معاشرے اور ہوشیار شخصیت کو جنم دیتا ہے۔عصری دنیا میں مذہبی بنیاد پرستی کی سب سے اہم قوتیں عیسائی بنیاد پرستی اور اسلامی بنیاد پرستی ہیں۔ اسی کے ساتھ ہی سیکولرازم کا ایک خاص دھارہ مذہبی اقلیتوں کی طرف سے سامنے آیا ہے جو سرکاری اور سیاسی سیکولرازم کو برابری کے حقوق کے تحفظ کے لئے لازمی قرار دیتے ہیں۔ایک فلسفہ کی حیثیت سے، سیکولرازم مذہب کی تقویت کے بغیر، مادی دنیا سے مکمل طور پر لئے گئے اصولوں پر زندگی کی ترجمانی کرتا ہے۔ اس میں فطرت، وجہ، سائنس اور ترقی پر زور دینے کے ساتھ مذہب کے علاوہ دوسری دنیاوی چیزوں کی طرف توجہ دی جاتی ہے۔زندگی کو بہتر بنانا، خوش ہونا، سمجھدار ہونا، اور ایک مکمل انسان بننے کے لئے سیکولر ہونالازمی ہے۔
٭٭٭
Dr. Waseem Anwar
Assistant Professor
Department of Urdu & Persian
Dr. H. S. Gour University, Sagar M. P. 470003

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook