Home / خبریں / شریف اکیڈمی جرمنی کی فروغِ علم وادب کی خدمات 2013ء پر ایک نظر

شریف اکیڈمی جرمنی کی فروغِ علم وادب کی خدمات 2013ء پر ایک نظر

تحریر :ولایت احمد فاروقی ڈائریکٹر پاکستان

فروغِ علم وادب کی عالمی تنظیم شریف اکیڈمی جرمنی مارچ 2009ء سے لے کر آج تک اپنے منشور کے مطابق چیف ایگزیکٹو شفیق مراد کی قیادت میں پاکستان سمیت کرۂ ارض پر موجود مختلف ممالک میں علمی ، ادبی اور سماجی ترقی و فروغ کے لئے مسلسل سر گرمِ عمل ہے جس کی کارکردگی کا اعتراف نہ صرف ادب حلقوں ، علمی تنظیموں اور عوامی سطح پر کیا گیا بلکہ سرکاری ادارو ں اور شخصیات نے بھی فروغِ علم وادب سے متعلق کی جانے والی کوششوں کے سراہا ہے جس سے یقیناًاس عالمی ادبی نیٹ ورک کے سربراہ سمیت اکیڈمی کے ہر ڈائریکٹراورممبرکی حوصلہ افزائی ہوئی ہے اور اس پذیرائی کی بدولت شریف اکیڈمی جرمنی کے اندر کام کرنے کامزید جذبہ،لگن اور شوق پیدا ہواہے۔ زیر نظر تحریر میں عالمی سطح کے معروف ادبی میگزین ’’ساحل‘‘ کے لئے سال 2013ء میں اکیڈمی کی جانب سے کی جانے والی کوششوں اور تقریبات کی ایک مختصر رپورٹ پیش کی جارہی ہے یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ سال اکیڈمی کے چیف ایگزیکٹو شفیق مراد کا فرینکفرٹ سے پاکستان کا دورہ اور الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شریف اکیڈمی جرمنی کے دوسرے سالانہ عالمی کنونشن کے انعقاد کو اکیڈمی کے تمام پرگراموں اور تقریبات میں ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
گزشتہ سال کے آغاز پر شریف اکیڈمی جرمنی کا ایک اہم اجلاس ڈائریکٹر پاکستان ولایت احمد فاروقی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں چیف ایگزیکٹو شفیق مراد کی ہدایت کی روشنی میں جنوری سے لے کر دسمبر تک مجوزہ پرگراموں کے کامیاب انعقاد سے متعلق تبادلہ خیال کیاگیا اوراس حوالے سے مختلف تجاویز دی گئیں ۔فروری میں شریف اکیڈمی جرمنی کی بانی ممبر بشریٰ حمید کی یاد میں نعتیہ محفلِ مشاعرہ الحمرا ادبی بیٹھک میں منعقد ہوا جس کی صدارت معروف شاعرہ اور ادبی میگزین احساس جرمنی کی ایڈیٹر ایم ۔ زیڈ کنول نے کی جبکہ ممتاز ماہرِ ِ اور معروف نعت گو شاعر عبدالمجید چٹھہ مہمانِ خصوصی تھے ۔ تقریب میں اعتبار ساجد نے اعزازی مہمان کی حیثیت سے شرکت کی تلاوتِ کلام پاک سے شروع ہونے والے اس مشاعرے میں حسبِ روایت شمع روشن کی گئی جس کے بعد ایم ۔ زیڈ کنو ل، عبدالمجید چٹھہ ، اعتبار ساجد ، ولایت احمد فاروقی،جاوید شیدا، شاہین بھٹی،کامران نذیر ، مقصود عامر،واجد امیر طفیل اعظمی،ڈاکٹر فاخرہ شجاع، فراست بخاری اور سلطان محمود نے اپنا نعتیہ کلام پیش کیا اور داد حاصل کی اس موقع پر پر وگرام کے آرگنائرز اور اکیڈمی کے ڈائریکٹر پاکستان ولایت احمد فاروقی نے چیف ایگزیکٹو شفیق مراد کاپیغام پڑھ کر سنایا اورتمام شعراء کرام اور سامعین کا شکریہ اد اکیا۔مارچ میں اکیڈمی کے چیف ایگزیکٹو پاکستان آئے جن کا علامہ اقبال انٹر نیشنل ائر پورٹ لاہور پر ولایت احمد فاروقی ، ایم زیڈ کنول، تسنیم کوثر اور شاہین بھٹی نے والہانہ استقبال کیا اور انہیں پاکستان آنے پر خوش آمدید کہا۔29 مارچ کو الحمر ا ادبی بیٹھک میں ہی اکیڈمی کی چوتھی سالگرہ کی تقریب منعقد ہوئی جس کی صدارت شفیق مرادنے کی جبکہ پاکستان مسلم لیگ نون کی رہنما بیگم نسیم بانو، او ر سابق مشیر گونر پنجاب بیگم بشریٰ ملک مہمانانِ خصوصی تھے ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شفیق مراد نے اکیڈمی کی چوتھی سالگرہ کی تمام دائریکٹرز اور شرکاء کو مبارکباد دی اور فروغِ علم وادب سے متعلق اکیڈمی کی کارکردگی کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے پاکستان ٹیم کو کوشوں کو سراہا تقریب میں معزز مہمانوں کی ہاتھ سے سالگرہ کا کیک کاٹا گیا تو ہال تالیوں کی آواز سے گونج اٹھا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایم زیڈ کنول کا کہنا تھاکہ شفیق مراد نے پورے دنیا سے علمی اور ادبی ہیروں کو چن چن کر اکیڈمی کی صورت میں ایک بہت بڑا پلیٹ فارم مہیا کردیاہے جس کی ترقی اور کامیابی کے لئے ہم سب کو اپنا کردار اد اکرناہوگا۔ پروگرام کے آرگنائزر اور سٹیج سیکرٹر ولایت احمد فاروقی تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان کے کونے کونے میں علم وادب کی شمع روشن کریں گے اس موقع پر اپنے خطاب میں بیگم بشریٰ ملک ، بیگم نسیم بانو،ڈاکٹر احسن محمود ،طارق شریف ، زیدی ، شاہین بھٹی ، رابعہ رحمان ، تسنیم کوثر ، ڈاکٹر فاخرہ شجاع ، مقصود چغتائی اور اختر علی قاسمی کا کہناتھاکہ شریف اکیڈمی جرمنی کی چوتھی سالگرہ کا کیک کاٹ کر آج پہلے سے زیادہ خوشی اس لئے ہورہی ہے کہ ا س موقع پر اکیڈمی کے چیف ایگزیکٹو شفیق مراد بھی ہم سب کے درمیان موجود ہیں۔مقررین کا کہنا تھا کہ شریف اکیڈمی کا م کسی ایک شخص یا تنظیم کا کام نہیں بلکہ علم وادب کا فروغ ایک قومی اور بین الاقوامی خدمت ہے اور اس اہم مشن میں ہم سب شریف اکیڈمی کے ساتھ ہیں۔اپریل میں شریف اکیڈمی جرمنی کا دوسراسالانہ کنونشن الحمر ا آرٹس کونسل لاہورمیں منعقد ہوا جس کی صدارت معروف شاعر اعتبار ساجد نے کی جبکہ خانہ فرہنگ ایران کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عباس فاموری تھے، کنونشن میں شرکت کیلئے حسبِ معمول اکیڈمی کے چیف ایگزیکٹوشفیق مراد فرینکفرٹ سے خاص طور پر پاکستان تشریف لائے تھے اکیڈمی کے دوسرے عالمی کنونشن میں ڈائریکٹر پروگرام فرانس روحی بانو، ڈائریکٹر فنانس یو ۔کے نگہت خان،ایگزیکٹوڈائریکٹر متحدہ عرب امارات فرزانہ سحاب مرزا، کوآرڈینیٹردوبئی مس دُرِ افشاں،پڑوسی ملک بھارت سے شاعرہ وسیم راشداور شاعر اسلم چشتی نے شرکت کی۔ کنونشن میں اکیڈمی کے ڈائریکٹر پاکستان ولایت احمد فاروقی ،ڈائریکٹر پنجاب ڈاکٹر مقبول نثار ملک، ڈائریکٹر آزادکشمیر ڈاکٹر فرزانہ فرح، ڈائریکٹر فارن افیئرز مرزا کاشف علی ، ایم ۔ ڈی لاہور سکول سسٹم حسنین عباس مرزا، ڈائریکٹرگلگت بلتستان ڈاکٹر عظمیٰ سلیم ، ڈائریکٹر لاہور شاہین بھٹی، ادبی میگزین احساس جرمنی کی ایڈیٹر اور معروف شاعرہ ایم ۔ زیڈ کنول، ڈائریکٹر آئی ۔ ٹی شبانہ تارڑ، ڈائریکٹر سوشل ریلشن ڈاکٹر آصف جاوید خواجہ ،طارق شریف زیدی ،ڈائریکٹر سرگودھا ثمینہ گل، ڈائریکٹر بھکر علی شاہ ،گورنر پنجاب کے مشیر عبدالقادر شاہین، ممتاز شاعر و دانشور اجمل نیازی، سجدۂ بے نیاز کتاب کی مصنفہ اور کالم نگار رابعہ رحمان، کشمیر کے شاعر محمد امین، آل پاکستان یوتھ فیڈریشن کے مرکزی صدر طارق حلیم چوہدری، شاعرہ تسنیم کوثر ، شبہ طراز، عالمی سیاح مقصود چغتائی، معروف شاعر عذرا اصغر ، مضبوط پاکستان موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر رشید زئی،پنجاب ٹیچرز یونین کے صدر سید سجاد اکبر کاظمی ،ماہرتعلیم محمد ظفر سندھو، رانا لیاقت علی ، پاکستان آرمی کے سابق جے سی او حاجی محمد بنارس،اختر علی قاسمی ، حافظ سہیل احمد ، معروف کمپیئر عزیز شیخ ، مبشر شاہین بھٹی اور ڈاکٹر سعدیہ سمیت اکیڈمی کے درجنوں ممبران اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھے والی میل اورفی میل شخصیات شعرائے کرام اورعوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کنونشن میں اس سال بھی زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی علمی ، ادبی ، صحافتی اور سماجی خدمات کے اعتراف میں شریف اکیڈمی کی جانب سے شیلڈز، میڈلز اور سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے ۔ رابعہ رحمان ، ولایت احمد فاروقی اور ثمینہ گل کو اردو تحریک عالمی یوکے کی جانب سے ملنے والے ایوارڈز ایک مرتبہ شریف اکیڈمی جرمنی کے اس دوسر ے کنونشن میں ان تینوں شخصیات کی خدمت میں پیش کیے گئے ۔ معروف شاعرہ ایم زیڈ کنول کوان کی خدمات کے اعتراف میں شریف اکیڈمی کی جانب سے انہیں اردو ادب کا گوہرِ انمول کا خطاب دیا گیا ۔معروف سیاح مقصود چغتائی کو شریف اکیڈمی جرمنی کی جانب سے عالمی ادبی سیاح کا خطاب دیا گیا شریف اکیڈمی جرمنی کے ملک اور بیرونِ ملک سے آئے ڈائریکٹرز کوان کی خدمات کے اعتراف میں شیلڈز ، ایوارڈز اور میڈلز پیش کئے گئے۔کنونشن سے خطاب کرنے والے مقررین نے زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات میں ایوارڈز کی تقسیم کو بے حد سراہا اور شفیق مراد اور ان ٹیم کی کارکردگی کی تعریف کی۔کنونشن میں لاہور بورڈ کے ایف ایس سی کے پوزیشن ہولڈرز طلباء میں شمس ایوارڈ دیے گئے ۔
شریف اکیڈمی جرمنی کے چیف ایگزیکٹو شفیق مراد نے گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج سمن آباد لاہور کی سالانہ بین الکلیاتی تقریبات میں ڈائریکٹرپاکستان ولایت احمد فاروقی کے ہمراہ شرکت کی اور سالانہ مشاعرے میں اپنا کلام سنایا جسے سامعین نے بے حد پسند کیااس موقع پر امجد اسلام امجد ، ڈاکٹر تحسین فراقی،ڈاکٹر فخرالحق نوری،ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا ، ڈاکٹرخورشید رضوی سمیت قومی سطح کے شعراء موجود تھے اس موقع پر کالج کی پروفیسر ڈاکٹر فاخرہ شجاع اور پرنسپل نے شفیق مراد اور ولایت احمد فاروقی کا استقبال کیا۔گزشتہ سال ہی معر وف شاعرہ اور ادبی میگزین کی ایڈیٹر شبہ طراز نے شریف اکیڈمی جرمنی کے چیف ایگزیکٹو کے اعزاز میں لاہور جم خانہ کلب میں ایک مشاعرے کا اہتمام کیا جس شفیق مراد ، شبہ طراز ، عذرا اصغر، ولایت احمد فاروقی، فرزانہ سحاب مرزا، دُ رِ افشاں ، شاہین بھٹی اور دوسرے مقامی شعراء نے اپنا اپنا کلام سنایا جبکہ شفیق مراد نے اپنے اعزاز میں پروقار شعری نشست منعقد کرنے پر شبہ طراز کا شکریہ ادا کیا۔لاہور کی معروف سماجی اور سیاسی شخصیت روبینہ شاہ نے یو مِ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے ایک خوبصورت پرگرام منعقد کیا جس میں مشاعرہ اور موسیقی کا بھی اہتما کیا گیا تھا اس پر گرام میں شفیق مراد نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت اورشرکاء کواپنے کلا م سے بھی محظوظ کیااس موقع پر شفیق مراد کے ہمراہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر پاکستان ولایت احمدفاروقی، ایم زیڈ کنول اور فوزیہ چغتائی بھی تھیں۔ شریف اکیڈمی جرمنی کے زیر اہتمام لند ن میں مقیم شاعرہ ثمینہ رحمت کے شعری مجموے ’’گل بلوئی ‘‘ کی تقریبِ رونمائی الحمرا ادبی بیٹھک میں منعقد ہوئے جس کی صدارت ممتازشاعر اور ماہر تعلیم عبدالمجید چٹھہ نے کی مقررین نے ثمینہ رحمت کی شاعری سے متعلق اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہاکہ شاعرہ نے دیارِ غیرمیں بیٹھ کر بھی پاکستان کو اپنی شاعری میں مقدم رکھا ہے اور اس حوالے سے بہت سی نظمیں اپنی کتاب گل بلوئی میں شامل کی ہیں جس سے شاعرہ کی وطن دوستی واضح طور پر نظر آتی ہے مقررین نے گل بلوئی کو اردو ادب کی ایک بہترین کتا ب قرار دیتے ہوئے شریف اکیڈمی کی کاوش کی داد دی جس نے اس کتاب جیسی کئی کتابیں اب تک اپنے زیرِ اہتمام شائع کرکے بہت سارا کلام منظر عام پر لے آئی ہے تقریب کے منتظم اکیڈمی کے ڈائریکٹر پاکستا ن ولایت احمد فاروقی تھے جنہوں نے تمام شرکاء کا شکریہ اد ا کرتے ہوئے اس عز م کا اظہار کیا کہ شریف اکیڈمی معیاری کتب کی اشاعت کاہتمام کرتی رہے گی اور انہوں نے شریف اکیڈمی جرمنی کے چیف ایگزیکٹو شفیق مراد کا پیغا م پڑ ھ کر سناتے ہوئے خوبصورت کتاب ’’گل بلوئی ‘‘ شائع کرنے پر انہیں مبارکباددی جبکہ تقریب میں شرکت کرنے والے تمام شر کاء کاشکریہ بھی ادا کیا۔
شریف اکیڈمی جرمنی کے زیر اہتمام ممتاز شاعرہ اور ایڈیٹراحساس جرمنی ایم ۔ زیڈ کنول کے شعری مجموعے’’ کائنات مٹھی میں‘‘کی تقریب پذیرائی الحمرا ء ادبی بیٹھک میں منعقد ہوئی جس میں معروف شعراء اور ادیبوں نے خطاب کرتے ہوئے ایم زیڈ کنول کی شاعری کو ایک منفرد اور بامقصد شاعری قرار دیتے ہوئے ان کے اس مجموعہ کلام کو اردو ادب میں ایک گراں قدر اضافہ قرار دیا اس تقریب کی صدارت ممتاز ماہر تعلیم اور شاعر ڈاکٹر طارق جاوید نے کی جبکہ سعودی عرب سے آئے ہوئے شاعر اور شریف اکیڈمی جرمنی کے عہدیدار ایوب صابر ممتاز دانشور حسین مجروح مہمانِ خصوصی تھے اس موقع پر اٹلی سے پاکستان آئی ہوئی سے شاعرہ شازیہ نورین اور نوجرسی امریکہ میں مقیم شریف اکیڈمی جرمنی کے عہدیدار میاں سعید محمد چوہان معزز مہمانوں کی حیثیت سے تقریب میں شریک تھے ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھاکہ ایم زیڈ کنول کی شاعری ایک منفرد اسلوب کے ساتھ جدید لب ولہجہ کی حامل ہے اور شاعرہ کو شاعری کی ہرصنف پرپوری مہارت ہے اس لئے ان کی شاعری سے قاری ہرگز بوریت محسوس نہیں کرتا جبکہ فنی لحاظ سے کنول کی شاعری میں وزن ، بحر اور روانی نے ان کی شاعری کو بڑے شعراء کی صف میں کھڑا کردیا ہے مقررین نے کہا کہ ’’کائنات مٹھی میں‘‘یقیناًاردو ادب میں ایک خوشگوار اضافہ ہے انہو ں نے امید ظاہر کی وہ شاعرہ اس جیسی خوبصورت شاعری مستقبل میں بھی منظر عام پر لاتی رہیں گی ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایم زیڈ کنول کا کہنا تھاکہ شریف اکیڈمی جرمنی چیف ایگزیکٹو شفیق مراد کی قیادت میں جس عزم وہمت اور حوصلے کے ساتھ رواں دواں ہے آج کے دور میں یہ علم وادب کی بڑی خدمت ہے انہوں نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں شریف اکیڈمی کی ٹیم کا بہت شکریہ اد ا ہر وقت علم وادب کے فروغ کے لئے سرگرمِ عمل ہیں خوبصورت تقریب کے کامیاب انعقاد پر ایم زیڈ کنول نے اکیڈمی کیڈائریکٹر پاکستا ن ولایت احمدفاروقی اور ان کی پوری ٹیم کا شکری ادا کیا اس موقع پر معروف شعراء زاہد حسن، وسیم عباس اور محمد اظہر نے اپنا کلام بھی سنایا تقریب میں ڈاکٹرسنبل، اظہر اکرم، ڈاکٹر ارسلان، حافظ سہیل احمد اور اختر علی قاسمی نے بھی شرکت کی۔ سال 2013 ء میں شریف اکیڈمی کے وفد نے شفیق مراد کی قیادت میں گورنر پنجاب مخدوم سید احمدمحمود سے ملاقات کی اور انہیں شریف اکیڈمی کی علمی ، ادبی اور سماجی خدما ت سے آگاہ کیا اس موقع پر گورنر پنجاب کو اکیڈمی کے زیر اہتما م شائع ہونے والی مختلف کتب بھی پیش کیں گورنر پنجاب نے علم وادب کیلئے شریف اکیڈمی کی کاوشوں کو بے حد سراہا اور اس سلسلے میں اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلایا وفد کوگورنر ہاؤ س لاہور کا دورہ بھی کروایا گیا اس ملاقات کا اہتمام اکیڈمی کے ڈائریکٹرپاکستا ن ولایت احمد فاروقی نے کیا دورہ کے موقع پر گورنر پنجاب مخدوم سید احمد محمود نے شفیق مراد کی علمی ، ادبی اور سماجی خدمات کے اعتراف میں انہیں ’’قائدِ اعظم ایوارڈ‘‘بھی دیا جبکہ اس سے پہلے گورنر پنجا ب ’’ قائدِ اعظم ایوارڈ‘‘اکیڈمی کے ڈائریکٹر پاکستان ولایت احمد فاروقی کوبھی ان کی خدمات پر دے چکے ہیں۔ شریف اکیڈمی جرمنی نے گزشتہ سال بہت سی تقریبا ت اورپروگرامز کا انعقادکیا تاہم دسمبرمیں آخری پروگرام اکیڈمی کے ڈائریکٹرسعودی عرب سلیم کاوش کے ساتھ ایک شام کا انعقاد ہے جس کی پروقار تقر یب الحمر اادبی بیٹھک لاہورمیں منعقدہوئی تقریب کی صدارت ممتاز شاعر اور دانشور اعزاز احمد آذ ر نے کی اور مہمانِ خصوصی معروف شاعر اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر مشکور حسین یادتھے تقریب میں ایڈیٹر احساس جرمنی اور معروف شاعرہ ایم زیڈ کنول، مضبوط پاکستان موومنٹ کے چیئر مین ڈاکٹر رشید زئی، پاکستان گلوبل فورم کے چیئرمین امین خالد، میڈیا فیڈریشن آف پاکستان کے سیکرٹری جنرل افتخار یوسف زئی اور معروف صحافی شاہد نذیرچوہدری نے خصوصی طور پر شرکت کی شریف اکیڈمی جرمنی کی اس خوبصورت شام کا آغاز بھی تلاوت کلام پا ک سے ہوا جس کے بعد نعت رسولﷺ پیش کی گئی دو حصوں پرمشتمل تقریب کے پہلے حصے میں شعراء نے اپنا کلام سنایاجبکہ دوسرے حصے میں سلیم کاوش کے فن اور شخصیت کے حوالے سے مقررین نے اظہار خیال کرتے ہوئے سلیم کاوش کو ایک منفرد شاعر قراردیا اور ان کی غزل اور نظم میں ایک مقصدیت اور پختگی کا رنگ غالب قراردیا اور یہی اوصاف کسی کامیاب شاعر کی علامت ہوتے ہیں تقریب میں منتظم ولایت احمد فاروقی نے اسی روز شائع ہوکر منظر عا م پر آنے والی سلیم کاوش کی شاعری کی پہلی کتاب ’’متاعِ اشک ‘‘ کا تعارف کراتے ہوئے کہاکہ یہ خوبصورت کتاب بھی شریف اکیڈمی جرمنی کے زیر اہتمام شائع ہوئی ہے جسے الحمد پبلی کیشنزلاہورنے عمدگی سے شائع کیاہے اور شریف اکیڈمی جرمنی مستقبل میں ایسی کتب کی اشاعت کا اہتما م کرتی رہے گی۔اس موقع پر اکیڈمی کے چیف ایگزیکٹو شفیق مراد کاپیغا م پڑ ھ کرسناتے ہوئے سلیم کاوش کو ان کی پہلی کتاب شائع ہونے پر مبارکباد دی اور شفیق مراد نے ان کے اعزاز میں خوب صورت شام کے انعقاد پر اکیڈمی کے پاکستا ن ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کیا

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook