Home / خبریں / شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی، میرٹھ میں جشن سر سید کی دوسو سالہ تقریب کا اہتمام

شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی، میرٹھ میں جشن سر سید کی دوسو سالہ تقریب کا اہتمام

سر سید اس ملک کی روح ہیں،ہمیں انہیں باریکی سے سمجھنا ہو گا : پرو فیسر رتن لعل ہانگلو

پروفیسر رتن لعل، ڈا کٹر کے ڈی شرما اور عارف نقوی(جرمنی) کو سر سید نیشنل ایوارڈ 2017ء

پروفیسر ساغر برنی کی کتاب’’ جدید اردو افسانہ: بدلتی قدریں‘‘ اور عارف نقوی کی ’’طائر آوارہ ‘‘کا اجراء

IMG_0156
22553035_1926996923994088_8459876336753663164_o
IMG_0160

میرٹھ(اسٹاف رپورٹر) ’’ میں بہت شکر گذار ہوں شعبۂ اردو کا جس نے ایک عظیم شخصیت کے نام پر مجھے ایوارڈ سے نوا زا اور سر سید احمد خاں ایک ایسی عظیم شخصیت کا نام ہے کہ جس پر نہ صرف شعبۂ اردو بلکہ یونیورسٹی سطح پر پروگراموں کا انعقاد کر نا چا ہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انسان جب تک اشرف المخلوقات نہیں بن سکتا جب تک وہ ادب نہ پڑھے۔ کیو نکہ ہر قوم و ملت کی ترقی کا وسیلہ تعلیم ہی ہے۔سر سید اس ملک کی روح ہیں،ہمیں انہیں باریکی سے سمجھنا ہو گا تبھی ہم ان کا مقصد اور مشن سمجھ پائیں گے۔سر سید صرف مسلمانوں کے نہیں ہیں،ان پر سب کا حق ہے۔وہ جیدے ہندوستان کے بنیاد گذار وں میں شمار ہو تے ہیں۔انہیں بھی مدن موہن مالویہ کی طرح بھارت رتن دیا جا نا چاہئے۔ ‘‘ یہ کلمات الہ آباد یانیور سٹی کے شیخ الجامعہ،پروفیسر رتن لعل ہانگلو کے تھے،وہ شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی اور سر سید ایجو کیشنل سوسائٹی،میرٹھ کے اشتراک سے محسن قوم، عظیم تعلیمی رہنما سر سید احمد خاں کی200ویں یو م پیدا ئش کے موقع پر جشن سر سید کی عالمی تقریب ،سے خطاب کر رہے تھے۔
سر سید انٹر نیشنل ایوارڈ برائے ادب سے نوازے گئے محترم عا رف نقوی نے اس موقع پر کہا’’ سر سید نے مغربی تعلیم کے ساتھ ساتھ مشرقی تعلیم کی بھی ترغیب دی۔ رو شن خیا لی، ذہنوں کو کھولنا، سائنس سے آگاہی یہ سب سر سید کے مقاصد تھے اور ان سب کی وجہ یہی تھی کہ اس قوم کا بھلا تبھی ممکن ہے جب یہ عصری علوم سے آشنا ہو گی اور ان کی مخالفت بھی اسی سبب ہوئی کہ وہ اپنے زمانے سے سو برس آگے کی سوچ رہے تھے۔‘‘
سالہائے گذشتہ کی طرح امسال بھی شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی اور سر سید ایجو کیشنل سوسائٹی،میرٹھ کے اشتراک سے محسن قوم، عظیم تعلیمی رہنما سر سید احمد خاں کی200ویں یو م پیدا ئش کے موقع پر ہفت روزہ ’’ جشن سر سید تقریبات‘‘ کااختتام شعبۂ اردو چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی میں ہوا۔جس کی صدارت سا بق وزیر ڈا کٹر معراج الدین احمد نے کی۔ مہمان خصوصی کے بطور ڈین فیکلٹی آف سائنس پرو فیسر مردل کمار گپتا شریک ہو ئے۔جب کہ مہمان اعزا زی کے بطور محترمہ اینگرڈ(جرمنی) نے شر کت کی۔ استقبا لیہ کلمات آفاق احمد خاں نے انجام دیے نظا مت ڈا کٹر فرقان سر دھنوی اور شکریے کی رسم ذیشان خان نے انجام دی۔
پرو گرام کا آغاز ڈاکٹر خالد نے تلاوت کلام پاک سے نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔ بعد ازاں مہمانوں نے مل کر شمع روشن کی اور مہمانوں کا پھولوں کے ذریعے استقبال کیا گیا۔اس مو قع پر تین شخصیات محترم عارف نقوی(جرمنی )کوسر سید انٹر نیشنل ایوارڈ،برائے ادبی خدمات پرو فیسر رتن لعل ہانگلو (شیخ الجامعہ ، الہ آباد، یونیورسٹی ،الہ آباد)کو تعلیمی خدمات اور مشہور مؤرخ ڈاکٹر کے ڈی شرما کو سماجی خدمات پر سر سید نیشنل ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔سر سید ایوارڈ یافتگان میں سے عارف نقوی کا تعارف ڈاکٹر شاداب علیم، پروفیسر رتن لعل ہانگلو کا تعارف،مدیحہ اسلم اور ڈاکٹر کے ڈی شرما کا تعارف ڈا کٹر جمال احمد صدیقی نے پیش کیا۔
ڈاکٹر کے ڈی شرما نے کہاکہ سر سید نے ایسے پر آ شوب دور میں قوم کی اصلاح کی کمان سنبھا لی تھی جب ہر طرف تاریکی ہی تاریکی نظر آتی تھی۔انہوں نے قوم کو حو صلہ بخشا اور یہ درس دیا کہ تعلیم اور عمل یہ دو ایسے نسخے ہیں کہ جن کے سہارے یہ پسماندہ قوم بھی عروج تک پہنچ سکتی ہے۔مسلمانوں نے سب سے زیادہ چوٹ انگریزوں کو پہنچائی تھی جس سے انگریز مسلمانوں کی بر بادی کے در پے تھے ۔ایسے حالات میں سر سید نے مسلمانوں کی فلاح و بقا کے لیے اعلیٰ تعلیم کو فروغ دیا۔‘‘ اس موقع پر ڈھاکہ یونیور سٹی سے تشریف لائے پروفیسر غلام ربانی نے سر سید اور بنگلہ دیش کے تعلق سے گفتگو کی۔
22770822_1927047410655706_2939699745618631405_o
22519843_1927012327325881_8854511699909488203_o
22519716_1927043703989410_3979129244698194721_o
22550346_1927009063992874_5907264907091295798_o
22548946_1927049897322124_8463404071564290291_o
22548608_1927043320656115_4264740037371089459_o
22499121_1927043700656077_4205653326517703000_o
22550401_1927043330656114_2949586483211871821_o

سر سید بین الاقوامی سیمینار کا بعنوان ’’سر سید احمد خاں: ادیب، صحا فی، مصلح قوم اور دانشور‘‘

اس سے قبل صبح 10؍ بجے سر سید بین الاقوامی سیمینار کا بعنوان ’’سر سید احمد خاں: ادیب، صحا فی، مصلح قوم اور دانشور‘‘ کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈا کٹر حسین البنا، بنگلہ دیش ،محمد معروف ، اے ایم یو ،علی گڑھ، ام عمارہ ،جے این یو ،دہلی،ڈا کٹر خالد ظہیر ،جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی، ابرا ہیم افسر، دہلی، محمد کیف اے ایم یو،علی گڑھ، محمد ساجداے ایم یو ،علی گڑھ، عبد الرزاق، جے این یو،دہلی، ڈا کٹر ارشاد سیانوی،دہلی یونیور سٹی، محمد یو سف رام پوری، عائشہ ضیاء جے این یو ،دہلی اور شو بی رانی نے اپنے مقالے پیش کیے۔ مختلف اجلاس کی مجلس صدارت پر محترم عارف نقوی( جرمنی)، اینگرڈ نقوی، جرمنی،پروفیسر محمد غلام ربانی،بنگلہ دیش، ،ڈا کٹر ہاشم رضا زیدی، ذیشان خان، آفاق احمد خاں اور نایاب زہرا زیدی ،ڈاکٹر مسعود عالم ہاشمی ،سرتاج ایڈوکیٹ ،سلیم سیفی ،ڈاکتر سراج الدین احمد، انیس میرٹھی ،ڈاکٹر جمال احمد صدیقی ،ڈاکٹر ہما مسعود ،ڈاکٹر فوزیہ بانو،رفعت جمالی وغیرہ جلوہ افروز رہے۔
اختتا می سیشن میں پرو فیسر سا غر برنی کی کتاب’’ جدید اردو افسا نہ: بدلتی قدریں اور عارف نقوی کی تصنیف’’ طائر آ وا رہ‘‘ کی رسم اجراء بھی عمل میں آئی۔ جن پر صدر شعبۂ اردو نے اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے فرمایا ساغر برنی کی کتاب،اردو افسانے کی تنقید میں ایک خوبصورت اضافہ ہے۔بہت دنوں بعد اردو افسانے کی تنقید پر ایسی کتاب سامنے آئی ہے۔طائر ِ آوارہ ،محترم عارف نقوی کے سفر ناموں کا مجموعہ ہے جو نیا پن لئے ہے،چھوٹے چھوٹے سفر نامے کبھی افسانے تو کبھی سانح کا لطف دیتے ہیں ۔
اس مو قع پر سر سید تقریری مقا بلوں کے اول ،دوم ،سوم اور کونسلیشن انعامات بھی بالترتیب، نبیہ، حمدیہ گرلز ہائی اسکول، اول، عا فیہ، حیدر پبلک اسکول، اول حذیفہ سلطان، ایچ بی میمو ریل، فضا حیدر پبلک اسکول، دوم، طیب الرحمن، ثنا دائود، نیو ہورائزن پبلک اسکول نے سوم انعامات حاصل کیے جب کہ مائی پبلک اسکول کی سائفہ اور حمیدیہ گرلز ہائی اسکول کی ارم کو ہمت افزائی انعام سے نوازا گیا۔
علا وہ ازیں سر سید مشن مراکز اور اور ہفتے بھر سے اس مشن کو کامیاب بنا نے والوں کو بھی’’ اسٹار آف سر سید مشن‘‘ کا اعزاز دیا گیا۔
اپنے صدارتی خطبے میں ڈاکٹر معراج الدین احمد نے سر سید تقریبات کے انعقاد پرشعبۂ اردو اور سر سید ایجو کیشنل سو سائٹی، میرٹھ کے اراکین کو مبا رک باد دیتے ہو ئے کہا کہ یہ تقاریب نوجوان نسل کو سر سید جیسے عظیم مفکر، ہمدرد ورہنما اور مصلح قوم اور ماہر تعلیم کی شخصیت سے متعارف کرانے میں معاون ہو رہی ہیں۔یہ ایک خوش آئند بات ہے۔کیونکہ سر سید کے افکار و خیالات یقینانو جوان نسل میں حوصلہ،عمل اور تعلیم کے لیے جذبہ بیدار کرنے کا سبب ہوں گے۔
جلسے میں ڈاکٹر ارشد اقبال ،ڈاکٹر نعیم صدیقی ،ڈاکٹر فرحت خاتون حا جی مشتاق سیفی، سلیم سیفی، ایاز احمد ایڈ وکیٹ،سرتاج احمد ایڈوکیٹ ،ظہیر انور،جمیل احمد،سمیع خان، بیگم شہناز احمد،عر فانی بیگم،انجینئر رفعت جمالی،تنظیر احمد ،حاجی عمران صدیقی،قاضی عقیل ، رو حامہ عقیل ،ڈاکٹر آمرین،طلبا و طالبات اور کثیر تعداد میں عمائدین شہر نے شر کت کی۔
22553090_1927049430655504_3986722044185363114_o
22553088_1927042667322847_8670478053934812184_o

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook