Home / خبریں / شوزیب کاشرؔ کی شاعری

شوزیب کاشرؔ کی شاعری

*ادارہ,عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری*
کی جانب سے ایک اور منفرد پروگرام پیش کرتے ہیں

Screenshot_20170716-140808

received_2053765434868952

شوزیب کاشرؔ
گزشتہ رات ”نعت اکیڈمی” کے فورم پر منعقدہ فی البدیہہ طرحی نعتیہ ایونٹ میں کہی گئی نعتِ پاک ﷺ

مری نس نس جو یوں مہکی ہوئی ہے
دیارِ جاں میں خوشبو نعت کی ہے

دلوں میں زندہ شوقِ پیروی ہے
”یہ سب عشقِ نبی کی روشنی ہے”

نبی کی سیرت و سنت پہ چل کر
حیات آسودہ خاطر کٹ رہی ہے

زمین و آسماں پر تا قیامت
حکومت آپ کی تھی آپ کی ہے

ارے او زائرِ کوئے رسالت
ادب سے جا ! حضوری کی گھڑی ہے

مکمل آپ پر قصرِ نبوّت
یہی تھی جو کہ خشتِ آخری ہے

شفاعت کا جسے مژدہ سنا دیں
وہ عاصی تو مقدر کا دھنی ہے

اغثنی یا رسول اللہ اغنی
چلے آؤ کہ وقتِ جاں کنی ہے

فرشتے چار سو سایہ فگن ہیں
درود ِ پاک کی محفل سجی ہے

جو اپنے دشمنوں کو بھی اماں دے
کمال اس شاہ کی دریا دلی ہے

جو پتھر کھا کے بھی پیہم دعا دے
مرے سرکار جیسا کیا کوئی ہے

پسِ مرگ آپ کا جلوہ عطا ہو
یہی میری تمنا آخری ہے

ثنائے مصطفی پر صرف ہو گی
خدایا تو نے جو توفیق دی ہے

ملک عارض بچھائے منتظر ہیں
سواری مصطفی کی آ رہی ہے

دلوں کے بھید جانت ہے مرا رب
مری نیت کہاں اس سے چپھی ہے

علی شیرِ خدا ہے شاہ مرداں
علی خیبر شکن، سیف الجلی ہے

علی کو واقفِ اسرارِ کُن، جان
علی تو بابِ شہرِ آگہی ہے

بحمد اللہ حسینی ہوں حسینی
مارا ملجا مرا ماویٰ علیؓ ہے

علامانِ علی کی شاں نرالی
قلندر مست نعرہ حیدری ہے

اسے کیا فکرِ محشر ،خوفِ دوزخ
نبی کا امتی جو پنجتنی ہے

تمہارے شہر کی آب و ہوا میں
کشش جیسے کہ مقناطیس کی ہے

نکل جائے نہ ساعت حاضری کی
اسی کارن ہمیں جلدی پڑی ہے

مرے وارے نیارے ہو گئے ہیں
مدینے میں ڈیوٹی لگ گئی ہے

وہ جب سے خواب میں تشریف لائے
مرے اندر کی حالت دیدنی یے

اسی کارن ہوں میں خوشحال کاشر
فروغِ نعت میری نوکری ہے

فروغِ نعت کا صدقہ ہے کاشرؔ
جو دنیا میں مجھے عزت ملی ہے

==========================
2
نعتِ رسولِ مقبولﷺ
زائرو حدِ ادب لاترفعوا اصواتکم
ہے درِ شاہِ عرب لاترفعوا اصواتکم

طبعِ سرور کی نزاکت کا رہے ہر دم لحاظ
ہے یہی فرمانِ رب لاترفعوا اصواتکم

چھوٹنے پائے نہ دامن ہاتھ سے تکریم کا
چاہے دن ہو یا ہو شب لاترفعوا اصواتکم

کوچۂ سرکار میں آواز مت کرنا بلند
خبط ہو جائے نہ سب لاترفعوا اصواتکم

دوسرے پیغمبروں کا مرتبہ ایسا کہاں
اُن کی ہے عظمت عجب لاترفعوا اصواتکم

ذہن میں ہے آیتِ مذکور اُٹھتے بیٹھتے
خامشی کا ہے سبب لاترفعوا اصواتکم

کاشرؔ اُن کی بارگہ میں قدسی و جن و بشر
کہہ رہے ہیں زیرِ لب لاترفعوا اصواتکم

شوزیب کاشرؔ
==========================

پوشاکِ عمل ، جامۂ کردار پہن لوں
سر تا بقدم اسوہٴ سرکار پہن لوں

ایماں کے لیے حسنِ عمل بھی ہے ضروری
یہ کیا کہ فقط جبہ و دستار پہن لوں

آنکھوں میں رہے خاکِ در ِ شاہ کا سُرمہ
صافے کی جگہ طیبہ کے میں خار پہن لوں

کھائی ہے قسم دین ِمحمدﷺ سے وفا کی
کیوں طوقِ جبیں سائیِ اغیار پہن لوں

مل جائے سگِ کوچۂ جاناں کا گلو بند
مر جاؤں خوشی سے اگر اک بار پہن لوں

حرمت تری قربانیاں مانگے تو میں حاضر!
زنجیرِ قضا شوق سے سوبار پہن لوں

جاری رہے ہونٹوں پہ سدا نعت کا نغمہ
نسبت کا یہ تعویذ ہے سرکار پہن لوں ؟

طیبہ سے بلاوا کبھی آئےتو میں کاشرؔ
کچھ ایسےچلوں وقت کی رفتار پہن لوں

شوزیب کاشر
==========================
3
نعت اکیڈمی سال 2016 كى بہترین نعت : سوئم پوزیش
برادرم شوزیب کاشر خوبصورت لب و لہجے کے باکمال شاعر ہیں……خصوصاََ نعت گوئی میں جداگانہ رنگ رکھتے ہیں، انکی کہی ھوئی ایک تازہ نعتِ مبارکہ نعت اکیڈمی کے احباب کے ذوق کی نذر

صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم

تو سيّدِ عالم ہے رفعنا لک ذکرک
پیارے تجھے کیا غم ہے رفعنا لک ذکرک
.
اسحاق ؑ و براہیمؑ ترے جدِّ ممجّد
تو خود بھی مکرم ہے رفعنا لک ذکرک
.
بعثت میں تری ذات مؤخر ہے ولیکن
تو سب سے مقّدم ہے رفعنا لک ذکرک
.
محبوب ترے ذکر کی بالائی پہ شاہد
یہ آیتِ محکم ہے رفعنا لک ذکرک
.
کچھ یوں بھی تری ذات ہے اوصاف کی حامل
کچھ یوں بھی تو اکرم ہے رفعنا لک ذکرک
.
واصف ترا خود رب ہے تو ذاکر ترے قدسی
پیرو ترا آدم ہے رفعنا لک ذکرک
.
ہر آج ترا اور حسیں کل کی بنسبت
یہ بات مسلّم ہے رفعنا لک ذکرک
.
اک مژدۂ تسکین ہے نشرح لک صدرک
اک زمزمہ پیہم ہے رفعنا لک ذکرک
.
جاءوک تری شانِ مسیحائی کا چرچا
رحمت تری چھم چھم ہے رفعنا لک ذکرک
.
پابندِ یُصَلُّونَ ، وَصَلُّوا ملکوتی
انساں کا بھی سر خم ہے رفعنا لک ذکرک
.
پڑھتا ہے درود آپ پہ خود مالکِ کونین
یہ اوج کا عالم ہے رفعنا لک ذکرک
.
پابندئ اوقات نہیں ذکرِ نبی میں
ہر آن ، بہردم ہے رفعنا لک ذکرک
.
وَاستَغفَرَ امت کی شفاعت کی ضمانت
جو سب کو فراہم ہے رفعنا لک ذکرک
.
پیرو ترے دوزخ کی اذیت سے ہیں آزاد
تو کس لیے پرنم ہے رفعنا لک ذکرک
.
اے منکرِ میلاد لے کچھ ہوش کے ناخن
یہ نص بھی تجھے کم ہے رفعنا لک ذکرک
.
اسفل ” ھُوالابتَر” سے ابوجہل وغیرہ
"کو ثر ” سے تو اعظم ہے رفعنا لک ذکرک
.
تَبَّت یَدَا شامت ہے ترے بےاَدَبوں کی
تو کس لیے برہم ہے رفعنا لک ذکرک
.
واللّہ کہ اعدا ہیں ترے خائب و خاسر
اونچھا ترا پرچم ہے رفعنا لک ذکرک
.
طائف کے مبلغ سے تحمّل کا سبق سیکھ
جو خیرِ مجسّم ہے رفعنا لک ذکرک
.
مدّاحِ شہِ کون و مکاں ہوں ، مجھے کاشرؔ
کیا خوفِ جہنم ہے رفعنا لک ذکرک

شوزیب کاشر
==========================
4
جانِ جاں ، جانِ جہاں ، روحِ زمن، شاہِ زمن
سیم تن، نوری جسد، پھول بدن، شاہِ زمن

پرتوِ نورِ خداداد وجودِ مسعود
گلبدن، ماہ لقا، غنچہ دہن ، شاہِ زمن

کبھی منت کشِ جوشبوئے عَرَق عُود و عطر
کبھی ممنونِ کرم مُشکِ ختن، شاہِ زمن

نطق ما ینطق فرمود کا مصداق رہا
ہے سند آپ کا ہر ایک سخن ، شاہِ زمن

جانِ گُل، ختمِ رسل، گنجِ سُبُل، ہادئ کُل
سربسر جُود و عنایت کی بھرن، شاہِ زمن

آپ کے عارض و دندان و لب و رُخ پہ فدا
گُل ، گہر ، مہرِ سما ، لعلِ یمن ، شاہِ زمن

دستِ قدرت میں ہے عالم کا نظام الاوقات
ناظمِ ارض و سما، ملکِ عدن، شاہِ زمن

امتی امتی کہتے ہیں مٹا دیتے ہیں
اپنی امت کے غم و رنج و محن، شاہِ زمن

آپ کے فیض نظر پر ہے زمانہ قائم
آپ کے صدقے سے ہے چرخِ کہن شاہِ زمن

آپ سے پہلے مدینہ تو فقط یثرب تھا
کر گئے دشت و بیاباں کو چمن،شاہِ زمن

آپ سے پہلے رسولوں کی ضرورت تھی مگر
قصرِ اسلام بہ تو مہر شدن، شاہِ زمن

شوزیب کاشرؔ
==========================
5
❊❊❊ شوزیب کاشر کی بہترین غزلیں ❊❊❊

بےگل و بے آب و بے برگ و ثمر دیمک زده
ہم پرندوں کی محبت اک شجر دیمک زده

کھڑکیاں دیمک زدہ اور بام و در دیمک زدہ
ہم زبوں حالوں کا ہے سارا ہی گھر دیمک زدہ

آسماں کی جست ہم کیسے بھریں تم ہی کہو؟
بے دم و بے چارا و بے بال و پر دیمک زدہ

تُو سراپا راحت و تمکین و سطوت اور ہم
خانماں برباد ، مضطر ، دربدر، دیمک زدہ

مجھ کو اک دیمک زدہ نے بددعا دی عشق میں
جا !! خدا تجھ کو بھی رکھے عمر بھر دیمک زدہ

میں تو پہلے ہی نہ کہتا تھا کہ مجھ سے کر حذر
جان پر اب بن رہی تو صبر کر !! دیمک زدہ

تُو تو اس بستی کا سب سے خوبصورت شخص تھا
یار تجھ کو کھا گئی کس کی نظر دیمک زده؟؟

حُسن کی دیوی کو مجھ پر رحم آیا اور کہا
میں تری دیمک اُتاروں آ ادھر دیمک زدہ!!

اول اول جب ہمیں دیمک لگی تو وصل تھا
ہجر میں ہونا پڑا بارِ دگر دیمک زدہ

اس علاقے میں ہم ایسے لوگ جا سکتے نہیں
اس علاقے سے ذرا جلدی گزر دیمک زدہ!!

میں تو ڈرتا ہوں کہ یہ دیمک مجھے بھی کھا نہ لے
تُو بتا! کس بات کا ہے تجھ کو ڈر،دیمک زده!!

کرم خوردہ لکڑیوں کا حال دیکھا ہے کبھی
ظاہر ان کا ٹھیک ٹھاک اندر مگر دیمک زدہ

ورنہ میرا کھوکھلا پن مجھ پہ کھلتا کس طرح
وہ تو مجھ کو مل گیا اک ہمسفر دیمک زدہ

لوگ اک دیمک زدہ کی خستہ حالی پر ہنسے
کر دیا مجذوب نے سارا نگر دیمک زدہ

میں نے تم کو کب دیا ہے دوش مجھ حالات کا
مجھ سے تُو ناراض ہے کس بات پر ؟؟ دیمک زده!!

تُو جو فولادی صفت ہے میں بھی ہوں آبی صفت
کر بھی سکتا ہے تجھے میرا اثر دیمک زدہ

خستگی اندر ہی اندر کھا رہی اُس کا وجود
لیکن اپنے حال سے ہے بے خبر دیمک زدہ

جو بھی میری ٹیک بننا چاہتا ہے سوچ لے
مجھ سے لگ کر ہو گیا وہ بھی اگر دیمک زده!!

رفتہ رفتہ چاٹتا ہے جسم کو آزارِ جاں
بے بسی کا ذائقہ محسوس کر دیمک زده!!

ہم اگر بچ کر نکل آئے تو یہ خوش قسمتی
ورنہ دشتِ خامشی تھا سربسر دیمک زدہ

کاشرؔ اس کمبخت جاں کے عارضوں کا کیا شمار
ہو رہے ہم عشق میں المختصر دیمک زدہ

شوزیب کاشر

بسم اللہ الرّحمٰن الرّحیم
,,,,,,,,شوزیب کاشر,,باکمال شاعر,,,,,,,,,,
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
غزل اردو شاعری کی سب سے محبوب ومقبول صنفِ سخن ہے,یہ شعراء کے نزدیک ہی نہیں بلکہ ا کے پڑھنے اور سننے والوں کے نزدیک بھی سب سے زیادہ پسندیدہ صنف ہے,کسی بھی رسالہ,کتاب ,اخباراور مشاعرہ کی شاعری کا حصّہ غزل کے بغیر مکمل نہیں کہلاتا,غزل کی محبوبیت ومقبولیت کی ایک وجہ تویہی ہےکہ یہ اپنے لغوی معنی محبوب سے گفتاراور اس کے حُسن وعشق کےذکرو وصف کے علاوہ تصوّف,فلسفہ,اخلاقیات اور دیگرسماجی امور سے متعلق مضامین بھی پیش ہوتے ہیں دوسری وجہ پہلی وجہ سے مربوط ہے وہ یہ کہ غزل میں زندگی ودل یعنی کائنات وحیات سے منسوب احساسات وجذبات کی پیش کش بہت فطری انداز میں ہوتی ہے,ذات وجہان کے احوال کا منظر نامہ ہو یا حالات و واقعات سے پیدا جذبات واحساسات غزل کی زمین شاعر کے لئے بہت زرخیز واقع ہوئی ہے,غزل ہر دَور میں ہر مکتبہ فکر کے لئے اپنا دامن کشادہ کرتی رہی ہے اس میں جذبہ واحساسِ زندگی کے نشیب وفراز معاشرتی پیش ہوتی رہی ہے ,
شوزیب کاشر کی غزل جو ادارہ عالمی بیسٹ اردوپوئٹری(وائس)کی نشست بعنوان,,,احمدندیم قاسمی ایوارڈ,,,کی مستحق ,منتخب قرار پائی ہے مختصر روشنی بکھیری ہے,شوزیب کاشر کی غزل ان کی فکرونظر کی ترجمان یے,عصری آگہی سے روبرو ان کی غزل میں زمانے اور دل کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے اور عصری صداقتوں کے قریب رکھا ہے,ان کی مخصوص فکرونظر جو تری ہسند تحریک کی زیرِ اثر پیدا ہوئی ہے,شوزیب کاشر کی غزل کچھ زیادہ ہی بلند بانگ انداز میں پیش ہوئی ہے,غزل میں ان کے جذبات واحساسات کسی قدر نرم لہجے میں پیش ہوئے ہیں,ہر چند ان کی شاعری کی بنیاد آواز جدوجہد کی آواز ہے,لیکن شعر میں تاثیر,وسوں زوگداز کے قائل ہیں,ہ اپنی غزل میں داخلی آراستگی سے محرومی کا ذکر کرتے ہوئے شعر کی تعریف بیان کرتے ہیں,وہ شعر ہی کیا س کو پڑھ کر روح ر سرشاری کی کیفیت طاری نہ ہو اور ان کی غزل میں یہ کیفیت موجود ہے جس کو پڑھ کر روح کی سرشاری طاری ہوتی ہے,اس طرح دیکھا جائے تو شوزیب کاشر کی غزل معاصر غزل کے درمیان مختلف موضوعات کے حوالے سے نہ صرف اپنے وجود کی معنویت پیش کرتی ہے بلکہ ایک خاص قسم کی تاب وتوانائی کا بھی ثبوت دیتی ہے,البتہ یہ ضرور ہے کہ ان کا ہر لمحہ ہر جگہ یکساں نہیں ہے کہیں شوروپُر زورتو کہیں نرم وشیریں,ان کے موضوعات میں معاشی وسماجی ابتری اور زندگی کے نشیب وفراز ہیں,احتجاج اور رومان ان کی شاعری میں مرکزی حیثیت حاصل ہے,ادب برائے زندگی ان کا نظریہ ہے,شوزیب کاشر کی غزل کے لئے سنجیدہ مطالعہ کی ضرورت ہے,جن سے شوزیب کاشر کی ایک خاص پہچان ہے,
آخر کلمات میں شوزیب کاشر کو ,,احمد ندیم قاسمی ایوارڈ,,کےلئے منتخب ہونے ہر ہزاروں دعاؤں کے ساتھ مبارکباد پیش کرتا ہوں اور گہرائیوں ؤگیرایوں سے قلبی تہبیت کہتا ہوں اور زورِ قلم اور زیادہ کی دعاکےساتھ مختصر گفتگو خت جرتا ہوں ,
باقی والسّلام ,اللہ حافظ
خیر اندیش,خادمِ اردو,خاکسار ودعاگو,
امیرالدین امیر بیدر کرناٹک بھارت ,
سکریٹری ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری(وائس)

ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری(وائس)
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری(وائس) اپنے متنوع پروگرامس کی وجہ سے انتہائی دلچسپ ودلکش اور دلنشین ہوگیا ہے,ادارہ کے چیف وآرگنائزر توصیف ترنل اپنی معالیت کی وجہ سے سیک مثالی چیف وآرگنائزر سمجھے جاتے ہیں,وہ ہر دم رواں اور ہر پل دنیا کے ممالک کے عمدہ سے عمدہ اعلٰی سے اعلٰی کہنہ مشق شعراء وشاعرات,ادباء,ناقدین,محقق,اور نومشق شعراء وشاعرات کو اکٹھا کئے ہوئے ہیں جن کے یہاں کہولت کا کوئی احساس نہیں پایا جاتا ہے ,بہترین بات یہ ہےکہ اس بار انہوں نے اپنی ہی طرح کے ہمہ جہت خوبیوں کے مالک ناقد,محقق,مزاح نگار کو مطالعہ کا موضوع بنایا ہے,جس کو ادب کی دنیا میں بےانتہا اہمیت حصل ہے,توصیف ترنل دورانِ مقصدی ادب کے قائل ایسے چیف وآرگنائزر ہیں جنہوں نے ادب کو کبھی فضول کی چیز نہیں سمجھا,اور نہ اس کی افادیت سے انکار کیا,عمدہ با یہ ہےکہ ناقد حضرات نے اس بار شعراء وشاعرات کی تخلیقات دوراں کو موضوع بنایا ہےاور حتی المقدور ان کی ادبی خدمات اور سخنوری و نمایاں کرنے کی با اعتمادکوشش جاری رکھی ہے ,
چیف وآرگنائزر توصیف ترنل نے ادب سے دلچسپی کا خوب خوب مظاہرہ کیا اور ادبی تنقیدی منظر نامہ کو اپنی موجودگی سے ایک طرح خوش گواریت بخشی,
ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری(وائس) کے چیف وآرگنائزر نے ایسے تازہ کار پُر جوش اور کہنہ مشق اور با صلاحیت قلم کاروں کا ہر وقت استقبال کرنے کو تیار ہے جو قلم کو اپنے اظہار کا وسیلہ سمجھتا ہے, ادارہ اپنے افسانوی اع شعری حصّہ سے بھی کافی دلچسپ اور منفرد ہے ظاہر ہےکہ توصیف تربل کی موجودگی کسی بھی شاعر کی شعری حصّہ کو قابل توجہ بنانے کےلئے اپنےآپ میں ایک جواز ہے ,
آخر میں پروگرام بعنوان ,,احمد ندیم قاسمی ایوارڈ,,کے انعقاد پر پُر خلوص مطارکباد اور قلبی تہنیت پیش کرتا ہوں,باقی والسّلام,اللہ حافظ
خیر ندیش,خادمِ اردو,خاکسار,
امیرالدین امیر بیدرکرناٹک بھارت,
سکریٹری ادارہ ،عالمی بیسٹ اردو پوئٹری (وائیس)
==========================

6
صحرا میں کڑی دھوپ کا ڈر ہوتے ہوئے بھی
سائے سے گریزاں ہوں شجر ہوتے ہوئے بھی

ماں باپ کا منظورِ نظر ہوتے ہوئے بھی
محرومِ وراثت ہوں پسر ہوتے ہوئے بھی

یہ جبرِ مشیت ہے کی تنہائی کی عادت
میں قید ہوں دیوار میں در ہوتے ہوئے بھی

ہم ایسے پرندوں کی ہے اک پیڑ سے نسبت
اُڑ کر کہیں جاتے نہیں پر ہوتے ہوئے بھی

ہر چیز لُٹا دینا فقیروں کا ہے شیوہ
کم ظرف ہیں کچھ صاحبِ زر ہوتے ہوئے بھی

اُس دیس کا باسی ہوں کی جس دیس کا ہاری
مایوس ہے شاخوں پہ ثمر ہوتے ہوئے بھی

سورج سے کرے دوستی اک کُور بسر کیا
جلوے کی نہیں تاب نظر ہوتے ہوئے بھی

کچھ ہار گئے جبر کے باوصف بھی ظالم
کچھ جیت گئے نیزوں پہ سر ہوتے ہوئے بھی

تجھ جیسا عدد اپنے تئیں کچھ بھی نہیں ہے
میں تیری ضرورت ہوں صفر ہوتے ہوئے بھی

ہسنا مری آنکھوں کا گوارا نہیں اُس کو
اور دیکھ نہیں سکتا ہے تر ہوتے ہوئے بھی

پھر دشت نوردی نے دکھائی یہ کرامت
میں شہر میں تھا شہر بدر ہوتے ہوئے بھی

اس بار تھے کچھ دوست مرے مدِّ مقابل
سینے پہ سہے وار سپر ہوتے ہوئے بھی

ایسے بھی زبوں حال کئی لوگ ہیں کاشرؔ
بےگھر ہیں اسی شہر میں گھر ہوتے ہوئے بھی

شوزیب کاشر
==========================
7

احساس کی دیوار گرا دی ہے چلا جا !!
جانے کے لیے یار جگہکیا ہے چلا جا !!

اے قیس نما شخص یہاں کچھ نہیں تیرا
تجھ نام کی صحرا میں منادی ہے چلا جا !!

دنیا تو چلو غیر تھی شکوہ نہیں اس سے
تو نے بھی تو اوقات دکھا دی ہے چلا جا !!

تا کوئی بہانہ ترے پیروں سے نہ لپٹے
دیوار سے تصویر ہٹا دی ہے چلا جا !

یکطرفہ محبت کا خسارا ہے مقدر
تجھ خواب کی تعبیر بتا دی ہے چلا جا !!

ہم ایسے فقیروں میں نہیں مادہ پرستی
تیرا تو میاں شعر بھی مادی ہے چلا جا !!

ہے کون رکاوٹ جو تجھے روک رہی ہے
میں نے تو مری ذات بھی ڈھا دی ہے چلا جا !!

اس شہر کے لوگوں میں نہیں قوتِ برداشت
یہ شہر تو سارا ہی فسادی ہے چلا جا !

دستک کے لیے اٹھا ہوا ہاتھ نہ گرتا
خاموشی نے تعزیر سنا دی ہے چلا جا

کچھ جونؔ قبیلے سے نہیں تیرا تعلق
ہر لڑکی یہاں فارہہ زادی ہے چلا جا

جانا تری فطرت ہے بلانا مری قسمت
تو آ کے چلے جانے کا عادی ہے چلا جا

لگتا ہے تو قابُل میں نیا آیا ہے پیارے
افغان کا بچہ بھی جہادی ہے چلا جا

اے موم بدن تیرا گزارا نہیں ممکن
یہ آگ میں جلتی ہوئی وادی ہے چلا جا

افسوس بہت دیر سے آیا ہے تو کاشرؔ
اس پانچ مئی کو مری شادی ہے چلا جا

شوزیب کاشر
==========================
8

پھر خدا سے اُلجھ پڑا ہوں کیا
اپنی حد سے نکل گیا ہوں کیا

تو مجھے دیکھنے سے ڈرتا ہے
لن ترانی کا سلسلہ ہوں کیا

اتنا کیا کان دھر کے سنتا ہے
میں بہت دور کی صدا ہوں کیا

پیرہن پھاڑ کر میں رقص کروں
عشق وحشت میں مبتلا ہوں کیا

بات دشنام تک چلی گئی ہے
سچ بتاؤ بہت برا ہوں کیا

کیا کہا تُو بھگت رہا ہے مجھے
میں کسی جرم کی سزا ہوں کیا

آ رہے لوگ تعزیت کے لیے
میں حقیقت میں مر گیا ہوں کیا

لوگ جھوٹا سمجھ رہے ہیں مجھے
یار میں کوئی گڈریا ہوں کیا

کن کہوں اور کام ہو جائے
آدمی ہوں کوئی خدا ہوں کیا

ہر کوئی بور ہونے لگتا ہے
وجہ بے وجہ بولتا ہوں کیا

جس طرح چاہے گا برت لے گا
تجھ غزل کا میں قافیہ ہوں کیا

ایک ہی فارہہ سے پیار کروں
میں کوئی جون ایلیا ہوں کیا

میں انا الشوق انا الوفا ، کاشرؔ
بندۂ عشق دہریہ ہوں کیا

شوزیب کاشر
==========================
9

زمیں کو جان کر بستر پڑا ہوں
فلک کی اوڑھ کر چادر پڑا ہوں

کوئی کیوں خواہ مخواہ آنکھیں دکھائے
ارے کیا میں کسی کے در پڑا ہوں !!

امیروں کے جہاں پکّے مکاں ہیں
وہیں پر ڈال کر چھپّر پڑا ہوں

تمہیں معلوم کیا دکھ مفلسی کا
شکم پر باندھ کر پتھر پڑا ہوں

کچل دے ، روندھ دے ، پامال کر دے
ترے قدموں کی ٹھوکر پر پڑا ہوں

اُسے رستہ بدلنا ہی پڑا ہے
میں اُس کی راہ میں اکثر پڑا ہوں

مجھے بس وہ حزیں دل جانتے ہیں
جنوں بن کر میں جن کے سر پڑا ہوں

مری تصویر کیِسے میں رکھی ہے
میں اُس کی جیب کے اندر پڑا ہوں

خدا معلوم نیّت کوزہ گر کی
ابھی تو چاک کےاُوپر پڑا ہوں

بڑی صحرا نوردی ہو گئی تھی
پئے آرام اب تو گھر پڑا ہوں

مجھے اغیار میں مت بانٹ لینا
تمہارے پاس مثلِ زر پڑا ہوں

تمہارے ساتھ ہی ہریالیاں تھیں
تمہارے بعد میں بنجر پڑا ہوں

تمہاری یاد جس میں دفن کی تھی
اسی تابوت کے اندر پڑا ہوں

بہت دن بعد کاشرؔ اتّفاقاً
جو دیکھا آئینہ تو ڈر پڑا ہوں

شوزیب کاشرؔ
==========================
10
بہتا ھے کوئی غم کا سمندر مرے اندر
چلتے ھیں تری یاد کے خنجر مرے اندر

کہرام مچا رہتا ہے اکثر مرے اندر
چلتی ہے ترے نام کی صرصر مرے اندر

گمنام سی اک جھیل ھوں خاموش فراموش
مت پھینک ارے یاد کے کنکر مرے اندر

جنت سے نکالا ھوا آدم ھوں میں آدم
باقی وہی لغزش کا ہے عنصر مرے اندر

کہتے ھیں جسے شامِ فراق اہلِ محبت
ٹھرا ہےاُسی شام کا منظر مرے اندر

آیا تھا کوئی شہرِ محبت سے ستمگر
پھر لوٹ گیا آگ جلا کر مرے اندر

احساس کا بندہ ہوں میں اخلاص کا شیدا
ہرگز نہیں خرص و ہوسِ زر مرے اندر

کیسے بھی ھوں حالات نمٹ لیتا ھوں ہنس کر
سنگین نتائج کا نہیں ڈر مرے اندر

میں پورے دل و جان سےھو جاتا ھوں اُس کا
کر لیتا ہے جب شخص کوئی گھر مرے اندر

میں کیا ھوں مری ہستی ہے مجموعۂ اضداد
ترتیب میں ہے کونسا جوہر مرے اندر

کڑتا ہے کبھی دل کبھی رک جاتی ہیں سانسیں
ہر وقت بپا رہتا ہے محشر مرےاندر

ہمشکل مرا کون ہے ہمزاد وہ ہمراز
رہتا ہے کوئی مجھ سا ہی پیکر مرے اندر

جب جب کوئی اُفتاد پڑی کھل گیا کاشرؔ
الہام کا اک اور نیا در مرے اندر

شوزیب کاشرؔ
==========================
11
غزل نذر احمد فراز

اپنے خوابوں کو حقیقت کا لبادہ پہنا
فکر کو ولولے ، خواہش کو ارادہ پہنا

آبلے زخم نہیں پھول ہیں،اکثر جن کو
ہم نے پاپوش کیا جادہ بہ جادہ پہنا

تاکہ ناموس برہنہ کبھی اپنی بھی نہ ہو
سب کو چادر یہ زیادہ سے زیادہ پہنا

میں نے کب اطلس و کمخواب کی فرمائش کی
پیرہن جو بھی ملا خستہ و سادہ پہنا

معتدل وہ بھی تھا سو ہم نے محبت جامہ
نہ اتارا ، نہ ادھیڑا ، نہ زیادہ پہنا

مرشدِ عشق کا فرمان تھا ایمان اٹل
زیرِ خنجر بھی اطاعت کا قلادہ پہنا

جاں خلاصی یوں بھی ممکن تھی ولیکن افسوس
موت کا طوق بھی گردن سے کشادہ پہنا

اور توہینِ بشر اس سے زیادہ کیا ہو
گُرگ شرمندہ کہ انساں کا لبادہ پہنا

یعنی انسان بھی ابلیس سے کچھ کم نہیں ہے
بھیس بدلا تو فرشتوں کا لبادہ پہنا

دوستی یاری اداکاری ملمّع سازی
یعنی بہروپ ”سرِ محفلِ اعدا پہنا

تشنۂ لمس رہیں وصل رُتیں بھی کاشرؔ
اس نے پہنا بھی کبھی مجھ کو تو آدھا پہنا

شوزیب کاشر
راولاکوٹ آزاد کشمیر
==========================
12
زمین اچھی لگی آسمان اچھا لگا
ملا وہ شخص تو سارا جہان اچھا لگا

جہاں پہ رہنا نہیں تھا وہیں پہ رہنے لگے
مکان چھوڑ کہ مالک مکان اچھا لگا

سب ایک جیسے حزیں دل تھے جمع ایک جگہ
یتیم بچوں کو دار الامان اچھا لگا

میں گھر کو جاتے ہوئے دشت میں نکل آیا
کہ جس میں قیس تھا وہ کاروان اچھا لگا

میں ہر سفید بدن پر لپکنے والا نہیں
تمہارے ہونٹ پہ تِل کا نشان اچھا لگا

مزے کی بات کہ دل ممتحن پہ آ گیا تھا
پھر اس نے جو بھی لیا امتحان اچھا لگا

چلا گیا تھا تو زندان ہو گیا تھا مجھے
وہ لوٹ آیا تو اپنا مکان اچھا لگا

نبی کا دین لہو کا خراج چاہتا تھا
خدا کو آپ ہی کا خاندان اچھا لگا

وہ سو رہے تھے اٹھے،اٹھ کہ چل دیے سوئے عرش
کہ دعوت اچھی لگی میزبان اچھا لگا

کرم کی حد ہے کہ لکنت کے باوجود انھیں
بس اک بلال برائے اذان اچھا لگا

دیار غیر میں قحط الرجال کے دن تھے
ملا جو کوئی بھی اہلِ زبان اچھا لگا

اسے عجیب غلط فہمی تھی کہ اچھا ہوں میں
خود اپنے بارے میں اس کا گمان اچھا لگا

وہ رب کے دھیان میں گم تھا میں اس کے دھیان میں گم
نماز پڑھتے ہوئے اس کا دھیان اچھا لگا

میں اس سے روٹھا ہوا تھا مگر رہا نہ گیا
کہا جب اس نے ، سنو میری جان ، اچھا لگا

دل ایک عشق پر قانع نہیں تھا خانہ خراب
اسی کا ہو گیا جو مہربان اچھا لگا

وہ مسکراتے ہوئے چائے لائی جب کاشرؔ
پیالی اچھی لگی چائے دان اچھا لگا

شوزیب کاشرؔ
==========================
13

بچھڑ گئے تھے کسی روز کھیل کھیل میں ہم
کہ ایک ساتھ نہیں چڑھ سکے تھے ریل میں ہم

ذرا سا شورِ بغاوت اٹھا اور اس کے بعد
وزیر تخت پہ بیٹھے تھے اور جیل میں ہم

پتہ چلا وہ کوئی عام پینٹنگ نہیں ہے
اور اسکو بیچنے والے تھے آج سیل میں ہم

جفا کی ایک ہی تیلی سے کام ہو جاتا
کہ پورے بھیگے ہوئے تھے انا کے تیل میں ہم

جو شر پسند ہیں، نفرت کے بیج بوتے رہیں
جٹے رہیں گے محبت کی داغ بیل میں ہم

بس ایک بار ہمارے دلوں کے تار ملے
پھر اس کے بعد نہیں آئے تال میل میں ہم

یہ شاعری تو مری جاں بس اک بہانہ ہے
شریک یوں بھی نہیں ہوتے کھیل ویل میں ہم

سخن کا توسنِ چالاک بےلگام نہیں
ہمیں ہے پاسِ روایت ، سو ہیں نکیل میں ہم

وہاں ہمارے قبیلوں میں جنگ چھڑ گئی تھی
سو تھر کے بھاگے ہوئے آ بسے تھے کیل میں ہم

یہ ایک دکھ تو کوئی مسئلہ نہیں کاشرؔ
پلے بڑے ہیں اسی غم کی ریل پیل میں ہم

==========================
14
نکلنے والے نہ تھے، زندگی کے کھیل سے ہم
کہ چین کھینچ کےاترے تھے خود ہی ریل سے ہم

رہا نہیں بھی وہ کرتا تو مسئلہ نہیں تھا
فرار یوں بھی تو ہو جاتے اس کی جیل سے

سخن میں شعبدہ بازی کے ہم نہیں قائل
بندھے ہوئے ہیں روایات کی نکیل سے ہم

جسے بھی دیکھو لبھایا ہوا ہے دنیا کا
سو بچ گئے ہیں میاں کیسے اس رکھیل سے ہم

اگر یہ طے ہے کہ فرہاد و قیس مردہ باد
تو باز آئے محبت کی داغ بیل سے ہم

اکیلے رہتے تو شاید نہ دیکھتا کوئی
ستارہ ہو گئے اک روشنی کے میل سے ہم

ہم ایسے پیڑ بس اتنی سی بات پر خوش تھے
کہ بیل ہم سے لپٹتی ہے اور بیل سے ہم

خدا نے قعرِ فلاکت میں ہم کو جھونک دیا
بگڑ گئے تھے سہولت کی ریل پیل سے ہم

شوزیب کاشر
==========================
15
دل پر نہ لیا کچھ بھی اثر سوچ سمجھ کر
ہم نے بھی کیا عشق مگر سوچ سجھ کر

ہر بار اٹھانا پڑا نقصان زیادہ
آغاز کیا جب بھی سفر سوچ سمجھ کر

گھر جل گیا اپنا بھی تو کس بات کا شکوہ
کیا تم نے جلایا تھا نگر سوچ سمجھ کر

اب جان پہ بن آئی تو کیوں کوس رہے ہو
تم نے تو ملائی تھی نظر سوچ سمجھ کر

سوچا تھا کہ بھولے سے بھی اب پیار نہ ہو گا
پھر کر ہی لیا بارِ دگر سوچ سمجھ کر

جس عمر میں جذباتی ہوا کرتا ہے انسان
وہ عمر بھی کی ہم نے بسر سوچ سمجھ کر

ایندھن کے لیے کاٹ دیا جاتا اسے بھی
بدلہ ہے پرندوں نے شجر سوچ سمجھ کر

گھر تک نہ چلا آئے زمانے کا تعفّن
رکھا نہیں دیوار میں در سوچ سمجھ کر

مر کر بھی نہیں مرتے شہیدانِ رہِ شوق
کٹوائے گئے دین پہ سر سوچ سمجھ کر

ہیہات ! ”لَفِی خُسر” کا مصداق یہ انسان
خود اس نے چنا جادۂ شر سوچ سمجھ کر

کچھ لوگ بھی خودغرض تھے کچھ ہم نے بھی کاشرؔ
رشتوں سے کیا صرفِ نظر سوچ سمجھ کر

شوزیب کاشرؔ
==========================
16
آج وفا تو کل جفا لہر کا اعتبار کیا
شہر تو یار شہر ہے شہر کا اعتبار کیا

قتلِ عدو پہ خوش نہ ہو خیر منا تو اپنی یار
آج وہاں تو کل یہاں قہر کا اعتبار کیا

اپنے ہی بل پہ چلنا سیکھ آپ ہی اپنا بوجھ اٹھا
وقت پہ ساتھ دے نہ دے دہر کا اعتبار کیا

جسم پہ سنگ باندھ کر ٹھیک سے قاتلا ڈبو
لاش اگل نہ دے کہیں نہر کا اعتبار کیا

مجھ سے بوقتِ خودکشی کہنے لگی یوں زندگی
سینے میں داغ گولیاں زہر کا اعتبار کیا

کھیل ہے سارا وقت کا سوچ سمجھ کے کاشرا
آج بھلا تو کل برا پہر کا اعتبار کیا

شوزیب کاشر
==========================
17

پیچھے کوئی رستہ ہے نہ آگے کوئی منزل
ایسا ہے تو افلاک سے اُترے کوئی منزل

اے عشق جنوں پیشہ تری آبلہ پائی
رستہ کوئی جانے ہے نہ جانے کوئی منزل

ہر آن سیاحت میں ہے مجھ پاؤں کا پہیّہ
گاہے کوئی منزل ہے تو گاہے کوئی منزل

ہر ایک کو ملتا ہے کہاں رہبرِ کامل
خوش بخت ہے تو ، پوچھ لے پگلے ، کوئی منزل

اے پیار میں اجڑی ہوئى وادى !! کوئی رستہ؟
اے درد کے مقبوضہ علاقے!! کوئی منزل؟

اس موڑ سے آگے کہیں جانے کا نہیں میں
خود لینے مجھے آئے تو آئے کوئی منزل

خود کاٹنا پڑتا ہے میاں کوہِ مسافت
ملتی نہیں گھر بیٹھے بٹھائے کوئی منزل

ہم جیسے جہاں گرد و جہاں دیدہ ہیں کم کم
رستے ہمیں پوچھیں کبھی ڈھونڈے کوئی منزل

دل خوش ہے بہت حلقۂ احباب میں آ کر
جیسے کوئی بھٹکا ہوا پا لے کوئی منزل

اندر سے میاں ہم بھی سمجھتے ہیں کہ حق ہے
وحشت کو بظاہر نہیں کہتے کوئی منزل

مجھ خاک نشیں پر وہ بھی ہنستے ہیں ، تعجب!!
کچھ لوگ جو خود کی نہیں رکھتے کوئی منزل

ہے قیس قبیلے کا شرف تیرا حوالہ
صحرائے جنوں ! میں ترے صدقے! کوئی منزل!!

اک عمر ریاضت میں جلا کرتے ہیں جذبے
تب جا کے ملا کرتی ہے پیارے ، کوئی منزل

اخلاص نگر ، عشق سڑک ، نور حویلی
اس نام کی تو ہے نہیں ، جھوٹے، کوئی منزل

اُلجھی ہوئی راہوں کے وہی جال یہاں بھی
اے وقت کے پھیلے ہوئے نقشے ، کوئی منزل؟؟

اس فن کو غلط جاننے والوں کو خبر کیا
یہ شاعری ایسے ہے کہ جیسے کوئی منزل

چلنے کا مزہ تب ہے کہ جب راہ بلائے
اور روتے ہوئے پاؤں سے لپٹے کوئی منزل

ہم جیسے انا زاد مسافر بھی عجب ہیں
بیٹھے ہیں، بلاتی رہے چاہے کوئی منزل

تھک ہار کے بیٹھے ہیں سرِ راہ محبت
جانا تو کہیں بھی نہیں ویسے کوئی منزل؟؟

دو پل ہی سہی آ کے ٹھہرتا تو کوئی شخص
اے کاش کہ ہم لوگ بھی ہوتے کوئی منزل

اوروں کو کچل کر مجھے آگے نہیں بڑھنا
یوں ملتی نہیں عقل کے اندھے ، کوئی منزل

اے دشت نوردی کا صلہ پوچھنے والے
چلنا ہے تو چل ، میری بلا سے، کوئی منزل

ہم جونؔ کے تلمیذ ہمارے لیے صاحب
دانتے کوئی منزل ہے نہ نطشے کوئی منزل

اس تھل میں تو ہر سمت ہی پیروں کے نشان ہیں
چل کاشراؔ شاید نکل آئے کوئی منزل

شوزیب کاشرؔ
==========================
18
یہ جیسے توڑا ہے تُو نے مرا یقیں ، مرے دوست
مثال بنتی تو ہے ” مارِ آستیں” مرے دوست

ہم ایسے لوگ محبت کے خانوادے سے ہیں
ہم ایسے لوگوں سے نفرت؟؟ نہیں نہیں !! مرے دوست

تُو اس کا عادی نہیں ہے سو احتیاط سے چل
ہمارے گاؤں کی پتھریلی ہے زمیں ، مرے دوست

جمال طرفہ ہے حدِ کمال اُس پر یہ
غضب کا شعر بھی کہتے ہو ، آفریں ، مرے دوست

سو وجہِ دوستی اِس کے علاوہ ہے بھی نہیں
کٹھور دل سہی لیکن ہے تُو حسیں ، مرے دوست

غزل کی فصل اگاتے ہیں حق اسامی پر
کہ سرقہ والے نہیں تیرے خوشہ چیں، مرے دوست

بس اک پکار پہ آ جائیں گے مدد کے لیے
غنیم ! دیکھنا ہوں گے یہیں کہیں ، مرے دوست

یہاں پہ چلتے نہیں تیرے جیسے موم بدن
ہمارے دل کا ہے ماحول آتشیں ، مرے دوست

یہ دشتِ عشق فقط قیس کی نہیں جاگیر
جہاں بھی دل کرے خیمہ لگا وہیں مرے دوست

غزل میں قبلۂ اوّل ہے میرؔ درد سو ہم
یہاں وہاں پہ جھکاتے نہیں جبیں ، مرے دوست

یہ کیسے زہرِ ہلاہل بنے پتہ تو چلے
گئے دنوں میں ترے لب تھے انگبیں، مرے دوست

ہر ایک عشق میں انصاف پورا پورا کیا
کہیں کا غُصّہ اُتارا نہیں کہیں ، مرے دوست

تو اتفاق کرے یا کہ اختلاف کرے
یہاں پہ ترکِ تعلق ہے بہتریں،مرے دوست

عجیب قریۂ دہشت میں آ گیا کہ جہاں
جگہ جگہ پہ عدو ہیں کہیں کہیں مرے دوست

مرا تو نام ہی کاشرؔ ہے سو میں جنتی ہوں
میں ایسا شخص ہوں کشمیر کا مکیں، مرے دوست

شوزیب کاشرؔ
==========================
19
شعورِ ضبط کا پہلا مقام راحت ہے
ہمارے ہاں تو اذیت کا نام راحت ہے

کہا تھا کس نے تجھے کر ہوا کے ساتھ سفر
تُو بن رہا تھا بڑا تیز گام ، راحت ہے؟؟

محبتی ہیں میاں کیسا دکھ ملامت کا
سو اس سفر میں ہمیں گام گام راحت ہے

تری طلب میں تکالیف کا حساب ہی کیا
تری قسم ہے کہ ہم پر حرام ، راحت ہے

ہمارے درد کی تشخیص ہو گئی تھی سو اب
بفیضِ عشق علیہ السلام” راحت ہے”*

تمہارے شہر میں کیا ہے مصیبتوں کے سوا؟؟
ہمارے گاؤں میں آنا، مدام راحت ہے

تمہارے شہر میں قائم رواجِ استبداد
ہمارے گاؤں میں رائج نظام، راحت ہے

کسی دوا سے افاقہ نہیں ہوا تھا مجھے
پڑھا ہے میرؔ کا جب سے کلام ، راحت ہے

اُداس ہوں کہ بہت دن سے میں اُداس نہیں
بہت دنوں سے مجھے صبح شام راحت ہے!!

ہماری چھوڑ تُو اپنی سُنا ہوئی تسکین؟؟
ہمیں تو خیر سے اے خوش خرام ! راحت ہے

تڑپ رہا تھا بیجارہ کئی دنوں کا تشنہ
لنڈھائے شیخ نے دو چار جام ، راحت ہے

ابھی ابھی وہ عیادت کو آئے تھے میری
طبیبا ! اب نہ مری نبض تھام ، راحت ہے

ابھی ابھی وہ مسیحا اِدھر سے گزرا ہے
سو جی اُٹھے در و دیوار و بام، راحت ہے

وہ جن کا کام ہے دہشت سو اپنا کام کریں
خدا کے فضل سے اپنا تو کام راحت ہے

بدن کی چوٹوں پہ حبشی کو رشک آنے لگا
مرے حضور نے پوچھا ، غلام !! راحت ہے؟؟

ہمارا قاعدہ کُلیہ ہے کچھ اُلٹ ، کاشرؔ
سہا نہ دردِ محبت تو خام راحت ہے

شوزیب کاشرؔ
________________________
باستفادہ عباس تابشؔ*

یہ دشتِ قیس کہ اب خاص کر کسی کا نہیں
بہ فیضِ عشق علیہ السلام میرا ہے
==========================
20

یہ غزل چونکہ جناب احمد فرازؔ اور جناب اختر عثمانؔ سے متاثر ہو کر ہوئی ہے اس لیے یہ انہی دو کی نذر کرتا ہوں

ہزار کہیے کہ یوں ہے معاملہ یوں ہے
جنوں تو پھر بھی جنوں ہے معاملہ یوں ہے

ہماری رائے سے دل متّفق نہیں کہ اسے
اِسی خلش میں سکوں ہے معاملہ یوں ہے

زمیں خفا ہے کہ پیڑوں کی اُس کے ہوتے ہوئے
ہوا سے دوستی کیوں ہے معاملہ یوں ہے

مجھے شکیب جلالیؔ بنا کے چھوڑے گا
مری رگوں میں جو خوں ہے معاملہ یوں ہے

جو ضد کی پوچھو تو اپنی جگہ ڈٹا ہوا ہوں
وگرنہ جاں تو زبوں ہے معاملہ یوں ہے

غزل بھی علمِ لدنّی کے خاندان سے ہے
یہ سرِّ کُن فیکوں ہے معاملہ یوں ہے

ہزار ماجدؔ و احمد عطاؔ کہیں پہ نہیں
ہوس سے عشق فزوں ہے معاملہ یوں ہے

سرِ حسینؑ کا مدفن ہے وہ زمیں کہ جہاں
سرِ فلک بھی نگوں ہے معاملہ یوں ہے

سخن میں کیسا تقابل کہ ہر کسی کا الگ
سلیقہ ہائے فسوں ہے معاملہ یوں ہے

ہماری فکر سے قائم ہے ارتقاء کا وجود
کہ دم بہ دم ، گونگوں ہے معاملہ یوں ہے

تھی ابتدائے مراسم میں بےحساب للک
پہ اب دروں نہ بروں ہے معاملہ یوں ہے

یہ فیضِ اخترؔ و احمد فرازؔ ہے کاشرؔ
کہ میں بھی کہہ سکوں ہوں، ہے معاملہ یوں ہے

شوزیب کاشرؔ
==========================
21

یہ واقعہ بھی ہوا رونما تو سُن لینا
کہ بات کرنے لگے آئینہ تو سُن لینا

کہ اس طرح سے مسائل جنم نہیں لیتے
بڑے بزرگ جو دیں مشورہ تو سن لینا

ہمیں پتہ ہے جدائی کے بعد کا عالم
بچھڑنے والا اگر دے صدا تو سُن لینا

ہماری چھوڑو ہمارا معاملہ ہے الگ
برائے سجدہ بلائے خدا تو سُن لینا

ملامتی ہیں میاں کیسا دکھ ملامت کا
برُا بھلا بھی کوئی کہہ گیا تو سُن لینا

ابھی تو عشق ہمارا یہ نامکمل ہے
اگر کبھی یہ فسانہ بنا تو سُن لینا

ابھی سمجھ نہیں آئے گی تم کو میری غزل
کبھی جنوں میں ہوئے مبتلا تو سُن لینا

ہمارے نامۂ اعمال میں لکھا کیا ہے
بروزِ حشر ہوا حوصلہ تو سُن لینا

تمہیں بھی نامہ بروں تک رسائی ناممکن
پیام بھیجوں بدستِ صبا تو سُن لینا

ہمیں تو خیر پرندوں کی بولی آتی ہے
یہ معجزہ ہو تمہیں بھی عطا تو سُن لینا

تمہارا مسئلہ یہ ہے کہ ٹوک دیتے ہو
ہمارا مسئلہ سننا پڑا تو سُن لینا

کسی کسی سے اُداسی کلام کرتی ہے
سنائی دے تمہیں چُپ کی صدا تو سُن لینا

میں جانتا ہوں محبت ، غزل نہیں پھر بھی
اگر کسی نے مکرر کہا تو سُن لینا

غلط دلیل تو سننے کے حق میں،میں بھی نہیں
دلیل ٹھیک لگے ہمنوا !! تو سُن لینا

ابھی تو پیار ہے پردہ میں پردہ رہنے دو
زبانِ عام یہ قصّہ ہوا تو سُن لینا

حسین لوگوں سے اچھائی کی امید نہیں
دُعا کے نام پہ دیں بد دُعا تو سُن لینا

یہ ایسا طبقہ کہ جس کی کوئی بھی سنتا نہیں
کریں سوال جو خواجہ سرا تو سُن لینا

ہمیں تو کچھ نہیں آتا سوائے عزلوں کے
وہ سننا چاہو سخن آشنا!! تو سُن لینا

ابھی تو میں بھی ذرا جلدی میں ہوں، قصۂ دل
دوبارہ پھر کبھی موقعہ ملا تو سُن لینا

مشاعرہ ابھی پوری طرح جما نہیں ہے
جب آئے وقت کا جون ایلیا تو سُن لینا

ہمیں تو اذن ہے پیڑوں سے بات کرنے کا
تمہیں بھی اذن ہو سُن لینے کا تو سُن لینا

بہت طویل ہے کاشرؔ کہانی اس دل کی
نہ کٹ رہا ہو کبھی راستہ تو سُن لینا

شوزیب کاشرؔ
==========================
22
ایک غزل جونؔ ایلیا کی نذر
اک حق نما کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو
” میں تو خدا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو”

تم تھے تو زندگی تھی ، مشاغل تھے ، شوق تھا
اب میں ”قضا” کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو

"تھا” ہی تھا جو تھا ”ہے” کا نشاں دور تک نہیں
یعنی میں ”تھا” کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو

اک میں ہوں اور ایک مری ” میں ” ہے دوبدو
میں اس بلا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو

کہتا ہے وصلِ یار کی امید کا دیا
میں تو ہوا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو

میری انا کو روندھ کے کہتے ہو اب کہ میں
اپنی انا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو

یوں تو صلیبِ ہجر پہ دونوں کھنچےہیں دوست
پر میں ”رضا” کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو

اے کشتئ شعور کے خودسر مسافرو!!
میں ناخدا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو

اے جادۂ سلوک کے مکّار راہیو!!
میں راہنما کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو

سطوت کا لالچی ہوں نہ ثروت کا میں حریص
"فقروغنا” کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو

کیوں دہریہ بنوں کہ میں صبحِ الست سے
” قالوا بلیٰ ” کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو

کرتے ہیں مہر و ماہ بھی جس کا طواف ، میں
اُس نقشِ پا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو

نوحہ گرو ! میں حُر ؒ کے قبیلے سے ہوں ، سو میں
” آلِ عبا ” کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو

میں مصلحت پسند نہیں ہوں ، بایں وجہ
سچ کی صدا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو

ہے شام وصل ، چاند ، ستارے ہیں اور میں
اک دلربا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو

کاشرؔ میں ہوتا جونؔ تو مصرعہ یہ باندھتا
میں” فارہہ” کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ هو

==========================
23
جانِ جانانِ جاں ________ طلاق طلاق
زندگی ہے گراں ______طلاق طلاق

بڑھ چکیں تلخیاں ________ طلاق طلاق
جل چکا آشیاں _____________طلاق طلاق

الحذر الحذر ____________ جنون جنون
الاماں الاماں_____________ طلاق طلاق

عقدِ وابستگی____________ قبول نہیں
اس میں کیا , این و آں _______ طلاق طلاق

تو دریدہ دہن ، ___________ میں دست دراز
بن گئیں دوریاں ____________ طلاق طلاق

اب کہاں___________ تو مری شریکِ حیات
کہہ چکی ہے زبان __________طلاق طلاق

اب کہاں ____________ سلسلہ مودّت کا
زوجیت اب کہاں __________ طلاق طلاق

اب سے عدّت ____________ شمار کر اپنی
تو ہے عبرت نشاں ____________طلاق طلاق

تجھ کو عشرت نصیب ___________فرقت میں
جا بدل لے مکاں _____________طلاق طلاق

ڈھونڈ ____________ اپنی برادری کے لوگ
جا چلی جا وہاں ____________ طلاق طلاق

بس بہت ہو گئے ___________ گلے شکوے
ختم شد داستاں ___________ طلاق طلاق

رشتہء ازدواج _______________ ناممکن
چہ عیاں را بیاں ____________ طلاق طلاق

میں یہ کہنے میں _________ حق بجانب ہوں
تو ہے نا مہرباں _____________ طلاق طلاق

تو کہ شہزادی ،___________ میں فقط شاعر
تو کہاں , میں کہاں ____________طلاق طلاق

کٹ چکے _____________ استواریوں کے نخل
پھر چکیں آریاں ______________ طلاق طلاق

وصلیت ______________ تھی زوال آمادہ
ہجر ہے جاوداں _____________ طلاق طلاق

جب یہ آزار ہی _______________ مقدر ہے
کیسی فکرِ زیاں _____________ طلاق طلاق

اب کوئی ___________ صورتِ رجوع نہیں
چل چکی ہے کماں _________ طلاق طلاق

تا بہت غم نہ ہو ____________ جدائی کا
مل کے جا ، رم کناں ________ طلاق طلاق

اب نہ میں __________ عشق کا خدا ,کاشرؔ
اب نہ تو ____ دل ستاں _______ طلاق طلاق

شوزیب کاشر
==========================
24
مکان ہے نہ مکیں ہے________________ فنا ہے سب یعنی
یہاں جو ہے وہ نہیں ہے________________فنا ہے سب یعنی

سنو یہ کیا ہے ندا __________________”کل من علیھا فان”
نہ آسماں نہ زمیں ہے ________________ فنا ہے سب یعنی

عجیب تر ہے __________________ حیات و ممات کا قصّہ
کہیں کی مٹی کہیں ہے________________ فنا ہے سب یعنی

عدم __________ تو ”کُن” سے بھی پہلے کی بات ہے صاحب
یہ وقت اب بھی وہیں ہے______________ فنا ہے سب یعنی

یہ ارتقأ و تغّیر ____________________ تو عارضی شے ہے
یہ واقعہ بھی حسیں ہے ______________ فنا ہے سب یعنی

عدم ہے ہست کے ___________ مادّے کا _____ جزوِلاینفک
یہ نقطہ ذہن نشیں ہے ________________ فنا ہے سب یعنی

بہارِ ارض و سمٰوات __________________ کوئ دم کی ہے
حیات چیں بجبیں ہے _________________فنا ہے سب یعنی

وصالِ یار بھی حادث تھا _______________ چھن گیا آخر
یہ دل حزیں تھا حزیں ہے _____________ فنا ہے سب یعنی

نہیں یہ کفر نہیں ______________________ اعتقادِ لازم ہے
نہ آستاں نہ جبیں ہے _________________ فنا ہے سب یعنی

جہان ____________ عالمِ رؤیا کی مثل ہے _______ کاشرؔ
گمان ہے نہ یقیں ہے _________________ فنا ہے سب یعنی

شوزیب کاشر

==========================
25
صلح میں کیسا استخارہ جی !
امن تو دین ہے ہمارا جی

تُو نے مانگی تو میں نے رائے دی
آگے اے شخص ! جو تمہارا جی

وہ کسی بات پر پریشاں ہیں
اور نہیں لگ رہا ہمارا جی

بے ضرر نفع بخش لوگوں سے
کوئی کرتا ہے یوں کنارہ جی ؟

ایک ہی بار ہے یہ عمرِ رواں
بن پڑے جس طرح بھی یارا ، جی

موت آنے میں دیر کر دیتی
ہم نے بروقت خود کو مارا جی

آپ بھی وقت پر نہ آئے کیوں؟
ہم کو تھا آپ کا سہارا جی

ہجر میں زندگی قیامت تھی
جیسے تیسے کیا گزارا جی

آپ کا لہجہ عامیانہ ہے
شعر کہیے کوئی کرارا جی

ہم کو پُرسہ عطا ہو شہزادی
ہم سے عاشق نہیں دوبارہ جی

چار سُو اس کا ہے شہود مگر
حسبِ توفیق ہے نظارہ جی

جو بھی اُس روشنی کے ساتھ چلا
خاک سے ہو گیا ستارہ جی

دل کی آنکھوں سےدیکھتا کوئی نئیں
حُسن ہے ورنہ آشکارا جی

ایسی لڑکی کو تتلی مت کہیے
خود ہے وہ اپنا استعارہ جی

مذہبِ عشق پر یقین نہیں ؟
اس کا تو کچھ نہیں ہے چارہ جی

ہاں تو کیا عشق پھر سے فرما لیں؟
ہاں جی منظور ہے خسارہ جی؟

مفلسی ننگا ناچ سکتی ہے
سیٹھ جی جب کریں اشارہ جی

ختم شد اختیارِ کوزہ گری
شکل میں ڈھل چکا ہے گارا جی

عشق چشمے سے پانی بھرتی جا
اس کا پانی نہیں ہے کھارا جی

فارہہ ! جونؔ مر گیا یعنی
ایلیا آپ کا وہ پیارا جی

اس نے آنا تھا دس بجے کاشرؔ
ہو گئے اب تو پورے بارہ جی

شوزیب_کاشرؔ
==========================
26

اب کے برس ہوں جتنا تنہا
پہلے کہاں تھا اتنا تنہا
دنیا ایک سمندر جس میں
میں ہوں کوئی جزیرہ تنہا
زیست سفر ہے تنہائی کا
آنا تنہا جانا تنہا
اس کو بتاؤ جسم سے کٹ کر
رہ نہیں سکتا سایہ تنہا
اف یہ موج _ طوفان _ الم
ہاے دل کا سفینہ تنہا
جس کو چاہا جان سے بڑھ کر
آخر اس نے چھوڑا تنہا
گھر سے باھر نکلو کسی دن
اتنا بھی کیا رہنا تنہا
اب وہ ہے کہیں اور میں ہوں کہیں
عمر کٹے گی تنہا تنہا
کاشرکی ہے اپنی ہی دنیا
ہو گا کہیں پر بیٹھا تنہا
شوزیب کاشر

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook