Home / خبریں / علامہ اقبال کی نظم ’’صدائے درد‘‘ :ایک جائزہ

علامہ اقبال کی نظم ’’صدائے درد‘‘ :ایک جائزہ

٭ڈاکٹر محمد محسن
کروڑی مل کالج ، یونیورسٹی آف دہلی، دہلی
علامہ اقبالؔ ایک صاحب فکر شاعر ہیں ۔ شاعری کو اگر ایک جسم قرار دیا جائے تو اس جسم کی روح فکر ہے ۔ یہی فکر ان کی شاعری کی روح ہے ۔ علامہ اقبال نے ؔ مغربی تہذیب اور فرنگی حکومت سے متاثر ہو کر قو می اتحاد اور حب الوطنی جیسے موضوع پر نظمیں لکھیں ہیں۔ ان کی قومی و وطنی شاعری اردو ادب کا ایک عظیم سرمایہ ہے ۔
اقبال ؔ نے اپنی شاعری کا آغاز اس دور میں کیا جب ہندستان غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا اور انگریزی حکومت کا بول بالا تھا ۔ ملک و قوم کی تباہی کا منظر عروج پر تھا ۔ اس زرخیز زمین پر خوف و ہراس کے بادل چھائے ہوئے تھے ۔ انگریزی حکومت ظلم و ستم کے تمام حدود عبور کر چکے تھے ۔غرض یہ کہ انہوں نے انسانی اقدار کی پامالی میںبھی کوئی کسر نہیںچھوڑی ۔ ان حالات میں علامہ اقبال ؔ جیسے حساس اور دور رس مفکر شاعر کس طرح خاموش بیٹھ جاتے ۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی شاعری کے ذریعے قوم کی بیداری کے لئے حتی ٰالامکان کوشش کی ۔ انہوں نے باشندگان ِ ہند کو راہ راست پر لانے کے لیے اپنی شاعری کو ایک وسیلہ بنایا ۔ جو ان کی حب الوطنی نظموں میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ جیسے ’ہمالہ‘،’ صدائے درد‘ ،’ تصویر درد‘ ،’ ترانہ ہندی‘ ،’ ہندوستانی بچوں کا قومی گیت‘ اور’ نیا شوالہ‘ وغیرہ حب الوطنی کے موضوع پر اقبال کی مشہور ترین نظمیں ہیں ۔
زیر ِ بحث اقبال ؔ کی نظم ’’ صدائے درد ‘‘ ہے ۔ جو دو بند پر مشتمل ہے ۔ پہلے بند میں پانچ اشعار ، اور آخر کے بند میں چار اشعار ہیں لیکن’’ بانگ درا‘‘ کی اشاعت سے پہلے جب یہ نظم رسالہ ’’ مخزن ‘‘ (شیخ عبدالقادر) میں جون ۱۹۲۰ء کوچھپی تھی ۔تب نظم ’’صدائے درد‘‘میں کل پچیس اشعار تھے ۔ اس نظم کے خالق علامہ اقبال ـؔ جب اپنا اردو کلام کا پہلا مجموعہ ’’ بانگ درا ‘‘ ( ۱۹۲۴) منظر عام پر لائے تو اس نظم سے سولہ اشعار منسوخ کر دیے تھے ۔ وہ منسوخ شدہ اشعار اب ’’باقیات اقبال ؔ ‘‘( سیدعبدالواحدمعینی )میں شامل ہیں :
پھر بلا لے مجھ کو اے صحرائے وسطِ ایشیا
آہ اس بستی میں اب میرا گزارا ہو چکا
پار لے چل مجھ کو پھر اے کشتیِ موجِ اٹک
اب نہیں بھاتی یہاں کے بوستانوں کی مہک
ہاں سلامِ اے مولدبوذاسفِ گوتم تجھے
اب فضا تیری نظر آتی ہے نا محرم مجھے
الوداع اے سیرگاہِ شیخِ شیراز الوداع
اے دیارِ بالمیکِ نکتہ پرداز الوداع
الوداع اے مدفنِ ہجویریِؒ اعجاز دم
رخصت اے آرام گاہِ شنکرِ جادو رقم
الوداع اے سرزمینِ نانکِ شیریں بیاں
رخصت اے آرام گاہِ چشتیِؒ عیسیٰ بیاں
رمزِ الفت سے مرے اہلِ وطن غافل ہوئے
کار زارِ عرصہِ ہستی کے ناقابل ہوئے
اپنی اصلیّت سے ناواقف ہیں، کیا انساں ہیں یہ
غیر اپنوں کو سمجھتے ہیں، عجب ناداں ہیں یہ
جس کا اک مدّت سے دھڑکا تھا وہ دن آنے کو ہے
صفحہ ہستی سے اپنا نام مٹ جانے کو ہے
دل حزیں ہے، جاں رہینِ رنجِ بے اندازہ ہے
آہ اک دفتر تھا اپنا، وہ بھی بے شیرازہ ہے
امتیازِ قوم و ملّت پر مٹے جاتے ہیں یہ
اور اس الجھی ہوئی گتھّی کو الجھاتے ہیں یہ
ہم نے یہ مانا کہ مذہب جان ہے انسان کی
کچھ اسی کے دم سے قائم شان ہے انسان کی
روح کا جوبن نکھرتا ہے اسی تدبیر سے
آدمی سونے کا بن جاتا ہے اس اکسیر سے
رنگِ قومیّت مگر اس سے بدل سکتا نہیں
خونِ آبائی رگِ تن سے نکل سکتا نہیں
اصلِ محبوبِ ازل کی ہیں یہ تدبیریں سبھی
اک بیاضِ نظمِ ہستی کی ہیں تفسیریں سبھی
(باقیات ِ اقبال ، سید عبدالواحد معینی ، آئینہ ادب ۔ چوک منار ۔ انارکلی ۔لاہور، ۱۹۶۶، ص ۸۸ ۔ ۸۹ ۔ ۹۰ )
مندرجہ بالا چھ الوداعی اشعار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایک غیر معمولی فنی بصیرت رکھنے والا شاعر اہل وطن کی ذہنیت اور کجروی کی وجہ سے اس قدر غم زدہ ہے کہ وہ ہندو مسلمان کی باہمی نفرت کی تاب نہ لا کر وہ ملک کے کسی دوسری جگہ زندگی گزارنا چاہتا ہے ۔ کیونکہ اقبال ؔ جیسے حساس شاعر انگریزی حکومت کی غلامی سے اپنے ہم وطنوں کو نجات دلانا چاہتے تھے اوروہ ہمیشہ اس فکر میں منہمک رہتے کہ ہمارا ملک سارے جہاں سے اچھا ہندستان کب حکومت فرنگی سے آزاد ہو گا ۔
مذکورہ بالا اشعار کے سلسلے میں ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی لکھتے ہیں کہ:
’’شروع میں علامہ نے ہندوستان کو اپنا وطن قرار دے کر کہا تھا ’ ’ہندی ہیں ہم
وطن ہے ہندوستان ہمارا‘‘لیکن بعد میں ان پر ہندووں کی ذہنیت واضح ہوگئی
کہ وہ کسی طرح بھی اور کہیں بھی مسلمانوں کی اکثریت برداشت نہیں کر سکتے ۔
چنانچہ ۱۹۰۸ میں بنگال کی تقسیم سے اس کی تصدیق ہوگئی ۔ اگرچہ اس نظم میں
علامہ نے ہندووں اور مسلمانوں کو ایک خرمن کے دو دانے کہا ہے لیکن اس وقت
تک وہ ہندووں کے سلوک اور رویے سے اس حد تک مایوس ہوچکے تھے کہ وہ
ہندوستان سے کسی دوسرے ملک جانے کی ترجیح دیتے تھے۔ ان کی
یہ سوچ ان چھہ الوداعی شعروں سے ظاہر ہے جو علامہ نے بعد میں نکال دیے
تھے اور اب ’’باقیاتِ اقبال ‘‘ ص ۲۹۴ پر نقل ہیں ۔ مکمل نظم مخزن شمارہ جون میں
شایع ہوئی تھی ۔ اس نظم میں ہندوئوں کے اسی رویے پر اظہارِ افسوس ہے۔‘‘
(شرح بانگِ درا ، ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی ،ص۔۵۳)
مندرجہ بالا عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یزدانی صاحب نے جو تشریح کی ہے وہ راقم الحروف کے نزدیک قابل اشکال ہے چونکہ راقم کے نزدیک اقبال کا ؔ ہندوستان کو ترک کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا بلکہ اسی ملک میںکسی ایسی جگہ سکونت اختیار کی جائے جہاں امن و امان کا ماحول میسر ہو ، نہ کہ اس ملک کو کلی طور پر ترک کرنے کا عزم کیا ہو ۔ جو یزدانی صاحب کا کہنا ہے ۔
کیونکہ کسی ناقد ، مصنف ، فلاسفر کی ابتدائی خیالات و نظریات کو حرف آخر تسلیم نہیں کیا جاتا بلکہ ان کی زندگی کی آخری مراحل کے اقوال و افعال کو مستند و مدلل مانا جاتا ہے ۔ بہر حال نظم ’’ صدئے درد ‘‘ میں اقبال ؔ کا پیغام دراصل ہندو مسلم کے مابین لڑائی اور حب الوطنی پر مبنی ہے ۔ بعد میں جن اشعار کو علامہ نے ’’صدائے درد ‘‘ سے خارج کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ علامہ اقبال کے افکار میں تبدیلی نظر آتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ باقی کے اشعار جنہیں خارج کرنے پر مجبور ہوئے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ علامہ اقبال کا مقصد یہ تھا کہ اس نظم کے ذریعے قوموں میںآپسی اتحاد و اتفاق کو رائج و عام کیا جائے ۔
اس وقت کا عالم یہ تھا کہ باشندگان ہندوستان ہندو اور مسلمان دونوں میں اس قدر نفرت تھی کہ دونوں قوم ایک دوسرے کو زیر کرنے میں گامزن رہتے ۔ ایسے درد ناک صو رت ِ حال میں کیا کوئی ملک آزاد ہو سکتا تھا ۔ اسی بنا پر علامہ اقبال جیسے عظیم شاعر یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ فرنگیوں کے ہاتھوں ذلت آمیز زندگی سے مبراء ہونا چاہتا ہوں ۔ ہندو مسلمان کی باہمی نفرت و چپقلش سے کہیں دور کسی اور منزل پر جہاں دونوں قوم میں جھگڑے نہ ہوں اور وہاں کیوں نہ اس خرمن کے دو دانے یعنی متحدہ ہند و ستان کے ہندو مسلمان دونوں کو بیدارکریں کہ وہ ملک کو فرنگی جیسے ظالم سے آزاد کرانے میں ہمارے ساتھ ساتھ رہیں ۔ چونکہ علامہ پیار و محبت کا پیامبر ہیں جن کی زندگی کا مقصد اصلی صرف یہی ہے کہ قوم کے درمیان محبت اور امن و امان کا پیغام پہنچایا جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس نظم میں مکمل طور پر وطن دوستی کا پیغام ہے ۔ نظم’’ صدائے درد‘‘ اقبال کی ایک وطنی نظم ہے اس نظم میں اقبال متحدہ ہندوستان کو ایک خرمن اور ملک کے عوام ہندو مسلمان دونوں کو اس خرمن کے دو دانے تصور کرتے ہیں۔ تو پھرہندوستان میں اتحاد و اتفاق کے بجائے جنگ و چپقلش کیوں جاری ہے ۔ ایک دوسرے کے درمیان نا آشنائی اور بعو درہنا یہ بڑے ہی تکلف دہ اور غلامی کی علامت ہے ۔ جس سے ہندستان کی آزادی کی خواب عمل میں نہیں لایا جا سکتا ۔ ایسے حالات میں باشند گان ِ ہند ایک زمانے تک غلامی کی زنجیر میں جکڑے ہوئے رہیں گے ۔ آگے بیان کرتے ہیں کہ اس ملک کی عوام ہندو مسلمان کے درمیان مساوات اور گنگا جمنی تہذیب قائم نہیں ہو سکتی ۔ ایسے عالم میںشاعر کا کہنا ہے کہ یہاں آزادی اور امن کا پیغام بے سود ہے ۔ چونکہ اقبال کی آرزو یہ ہے کہ ہندو مسلمان دونوں میں باہمی نفرت کے بجائے با ہمی اتفاق و اتحاد ہو ۔ لیکن دونوں قوموں کے درمیان آپس میں میل جول کی بات تو کوسوں دور یہاں تو ہندو مسلمان دونوں کے درمیان قیامت کا سا ہنگامہ آرائی ہے ۔ اس کشید گی کی وجہ سے علامہ اقبالؔ بے چین ہو کر خود کو گنگا میں غرق کرنے کے جذبات کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس نظم میں ملک کی غلامی اور آپسی تصادم پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ وطن دوستی کا پیغام بھی پیش کرتے ہیں ۔ جسے ہم نظم’’صدائے درد‘‘کے پہلے بند میں دیکھ سکتے ہیں ۔ جو بانگِ درا میں شامل ہے :
جل رہا ہوں کل نہیں پڑتی کسی پہلو مجھے
ہاں ڈبو دے اے محیط آب گنگا تو مجھے
سرزمیں اپنی قیامت کی نفاق انگیز ہے
وصل کیسا، یاں تو اک قرب فراق انگیز ہے
بدلے یک رنگی کے یہ نا آشنائی ہے غضب
ایک ہی خرمن کے دانوں میں جدائی ہے غضب
جس کے پھولوں میں اخوت کی ہوا آئی نہیں
اس چمن میں کوئی لطف نغمہ پیرائی نہیں
لذت قرب حقیقی پر مٹا جاتا ہوں میں
اختلاط موجہ و ساحل سے گھبراتا ہوں میں
مذکورہ اشعار سے یہ بات اظہر من الشمس کی طرح عیاں ہے کہ اقبال باشندگان ِ ہند کو ایک ہی پیمانے پر دیکھنا چاہتے ہیں کہ اگر ہندستان ایک جسم ہے تو ہندو مسلمان اس جسم کی دو آنکھیں ہیں ۔ اس بات کو پرو فیسر یوسف سلیم چشتی یوں رقم طراز ہیں :
’’اقبال نے ہندو مسلمانوں کو ایک ہی خرمن کے دانوں سے تعمیر کیا
ہے ۔ یہ تصور انہوں نے سر سید احمد خاں مرحوم سے مستعار لیا تھا جنہوں
نے ایک تقریر میں یہ کہا تھا کہ ہندوستان ایک دلہن اور ہندو مسلمان
اس کی دو آنکھیں ہیں اور اس کا حسن دونوں آنکھوں کی بقاء پر موقوف
ہے اگر ایک آنکھ جاتی رہے تویہ دلہن کانی ہوجائے گی ‘‘
(شرح بانگِ درا ، پروفیسریوسف سلیم چشتی، ص۔ ۱۱۰)
مندرجہ بالا اقتباس سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ انگریزی حکومت تسلط ہو جانے کے سبب ہندو مسلم کے مابین فسادات اپنے عروج پر تھیں۔جو نظم کے دوسرے بند میں ہم بخوبی دیکھ سکتے ہیں :
دانہ خرمن نما ہے شاعر معجز بیاں
ہو نہ خرمن ہی تو اس دانے کی ہستی پھر کہاں
حسن ہو کیا خود نما جب کوئی مائل ہی نہ ہو
شمع کو جلنے سے کیا مطلب جو محفل ہی نہ ہو
ذوق گویائی خموشی سے بدلتا کیوں نہیں
میرے آئینے سے یہ جوہر نکلتا کیوں نہیں
کب زباں کھولی ہماری لذتِ گفتار نے
پھونک ڈالا جب چمن کو آتشِ پیکار نے
جہاں تک دوسرے بند کی بات ہے تو دوسرے بند کے بیشتر اشعار میں پہلے بند کی فکر کی باز گشت سنائی دیتی ہے ۔ شعری استعارے میں ندرت ہے جس کے سبب فکری تکرار گراں بار نہیں ہوتی ۔ اقبال ایک انسانی غمخوار شاعر ہیں ۔ وہ جو کچھ بھی دیکھتے اورسنتے ہیں۔ وہ دراصل اوروں کو دکھانے اوربتانے کے لئے۔اسی لئے یہ کہنا درست ہے کہ ان کی شاعری تمام انسانوں کے لئے ایک محو رہے۔ کیونکہ وہ دنیا کے تمام مذاہب کے ماننے والوں کو یکساں تسلیم کرتے ہیں جو ملک کی ترقی ، امن اور آزادی کے لئے نہایت ہی از بس ضروری ہے ۔
شعری پرائے میں شمع اور محفل کا استعارہ جو انہوں نے فنی کمالات کے ساتھ پیش کیے ہیں وہ ان کے فن کامعراج ہے جس کی نظیر دنیا کے بیشترشاعروں کے یہاں نہیں دکھائی دیتی ۔ شمع اور محفل کا وجود لازم و ملزوم ہے ۔ اس طرح کے ان میں سے کسی ایک کا وجود ایک دوسرے کے بغیر بے معنی ہے ۔ ملک کا تصور اس میں بسنے والی عوام سے ہے ۔ یہ دونوں ایک دوسرے کا تکملہ (تتمہ)ہے ۔ بیء شک اللہ تعا لیٰ اس قوم کو تبدیل نہیں کرتے جب تک وہ قوم خود تبدیل نہیں ہوتے۔ تو پھر ہندوستان ٓازاد کیونکر ہو سکتا جب تک قوم ِ ہندستان خود آزادی کی طرف مائل نہ ہو ں۔
قومی یکجہتی اور باہمی اتحاد و اتفاق اقبالؔ کی فکر کا محورہے ۔ وہ اپنے سینے میں ایک درد مند دل رکھتے ہیں اور اسی کا سبب وہ آپسی نا اتفاقی اور عناد پر خاموش رہنا اپنے ضمیر کے خلاف تصور کرتے ہیں ۔ وہ شاعری کا محرک وطن کے خلاف اٹھنے والی منافرت بتاتے ہیں ۔ جس کے سد باب کے لئے انہوں نے باقاعدہ شاعری شروع کی اور عوام کو امن و آستی اور محبت کا پیغام دیا ۔ نظم کے آخر میں اقبالؔ اپنے جذبات کا اظہاراس طرح بیان کرتے ہیں کہ میری شاعری کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب ہندستان میں ہندو مسلمان کے بیچ جھگڑے اورفساد ات اپنے عروج پر تھیں۔ جو علامہ اقبال جیسے پیار و محبت کا پیغام دینے والے شاعر کے لئے بڑے ہی غم و الم کی بات تھی ۔ پھر بھی اس عالم میں بھی اقبال نظم ’’صدائے درد ‘‘ کے ذریعے بڑے ہی دلکش پرائے میں اپنے ہم وطنوں کو وطن پروری کا پیغام دیتے ہیں۔ لیکن اقبال کے یہاں وطن پروری سے مراد وطن کی پرستش نہیں بلکہ وطن دوستی ہے ۔

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook