Home / خبریں / عہد حاضر کی مقبول و معروف شاعرہ ،نقاد،محقق ، افسانہ نگار،اردو ادبیات کی استادڈاکٹر نزہت عباسی

عہد حاضر کی مقبول و معروف شاعرہ ،نقاد،محقق ، افسانہ نگار،اردو ادبیات کی استادڈاکٹر نزہت عباسی

میری شاعری امن، محبت، انسانیت کے فروغ کے لیے ہے۔ ڈاکٹر نزہت عباسی

سہ ماہی عالمی اردو ادب کے لیے ڈاکٹر نزہت عباسی سے بلال احمد خان کی گفتگو

11082528_675933665863275_8242913526998370697_n

ڈاکٹر نزہت عباسی نہ صرف مقبول و معروف شاعرہ ہیں بلکہ نقاد، محقق، افسانہ نگار، اردو ادبیات کی استاد ، شعبۂ اردو کی صدر کے ساتھ ساتھ ایک مقبول میزبان کی حیثیت سے بھی جانی جاتی ہے۔ انھوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ نثر نگاری کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا رہی ہیں۔ ان کے اب تک دو شعری مجموعے اور ایک تحقیقی مقالہ بھی کتابی شکل میں منظر عام پر آچکاہے۔ ڈاکٹر نزہت عباسی ادبی و ثقافتی تقاریب کی میزبانی کے فرائض بھی بخوبی اور مہارت کے ساتھ انجام دیتی ہیں۔ شاعرہ اور ادیب کے ساتھ ساتھ درس و تدریس سے بھی وابستہ ہیں۔ ڈاکٹر نزہت عباسی سے کی گئی گفتگو سہ ماہی عالمی اردو ادب کے معزز قارئین کے ذوق مطالعہ کے لیے پیش خدمت ہے۔ 

سوال:ذاتی زندگی سے متعلق کچھ بتائیے۔
میراتعلق علمی وادبی گھرانے سے ہے۔آنکھ کھولتے ہی اپنے اردگرد کتابیں دیکھیں ،علم و دانش کی باتیں سنیں میرے والد محمد حسین عباسی ظفر انجمی صاحب ِ دیوان شاعر ہیں، وہ اپنے زمانہ ء طالبِ علمی میں ادبی لحاظ سے بڑے فعال تھے،انہوں نے تحریکِ آزادی میں حصہ لیا، قائدِ اعظم اور دیگر رہنماوں سے نیازمندی رہی،ہجرت کے بعد کراچی میں مقیم ہوئے،معاشی مصروفیات کی وجہ سے مشاعروں سے دور رہے،ان کا شعری مجموعہ متاعِ زیست کے نام سے شایع ہوا،انکی وفات ۲۰۰۹ میں ہوئی۔ میری والدہ بھی شعروادب کی دلدادہ تھیں، وہ مجھے علامہ اقبال کی نظمیں یاد کرواتی تھیں، مجھے بچپن ہی میں بے شماراشعار یاد تھے۔میں زمانہ ء طالب ِ علمی میں نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں میں فعال رہی، کئی انعامات حاصل کیے،اسکول کے زمانے میں بچوں کے رسائل میں کہانیاں ،مضامین اور نظمیں لکھیں،کالج اور یونی ورسٹی کے مجلوں کی ادارت کی، بزمِ ادب کی صدر رہی،اسی زمانے میں مشاعروں میں شرکت کی۔اساتذہ کی رہنمائی اور توجہ ہمیشہ حاصل رہی،پروفیسر سحر انصاری،ڈاکٹر عبدالسلام،پروفیسر آفاق صدیقی،پروفیسر اظہر قادری، ڈاکٹر صدیقہ ارمان،پروفیسر رضیہ سبحان،ڈاکٹر نسیم آرا ، پروفیسر شاہدہ حسن،پروفیسرشمسہ تاجدار،ڈاکٹر عائشہ سعید،ڈاکٹر عظمہ فرمان سے فیٖض حاصل کیا،دورانِ تعلیم ہی میری شادی ظفر عباسی سے ہوئی،میرے دو بچے فاکہہ عباسی اور اعتزاز عباسی ہیں،ا یم ،اے اردو ادبیات میں پوزیشن حاصل کی،اسی سال تدریس کا آغاز کردیا، پہلا شعری مجموعہ سکوت ۲۰۰۵ میں شایع ہوا،۲۰۱۰ میں پی ایچ ڈی کا مقالہ اردو کے افسانوی ادب میں نسائی لب و لہجہ کے عنوان سے ڈاکٹر یونس حسنی کی زیرِ نگرانی مکمل کیا، یہ مقالہ انجمن ترقی اردو نے ۲۰۱۳ میں کتابی صورت میں شایع کیا، ۲۰۱۵ میں دوسرا شعری مجموعہ وقت کی دستک سامنے آیا،اس مجموعے پر مجھے پروین شاکر ٹرسٹ کی جانب سے عکسِ خوشبو ایوارڈ سے نوازا گیا،شاعری کے ساتھ افسانہ نگار ی،تحقیق و تنقید میرے میدان ہیں ۔ میرے مقالات معتبر علمی ادبی جرائد میں شایع ہوتے ہیں،عالمی ادبی کانفرنسوں میں مقالات پیش کرچکی ہوں، عالمی مشاعروں میں شرکت کی ہے، کراچی سے باہر بھی مشاعرے پڑھے ہیں،لیکن مشاعرے میرا مسئلہ نہیں، میں شاعری کے لیے شاعری کرتی ہوں،کئی ایوارڈز حاصل کیے ہیں،ادبی تقاریب اور مشاعروں کی نظامت بھی کرتی ہوں،ایک نجی چینل سے افسانے پر سو سے زیادہ پروگرامز پیش کیے ہیں،آج کل عبداللہ کالج برائے خواتین کراچی میں شعبہ ء اردو کی صدر ہوں،یہاں بھی ادبی تقاریب کا اہتمام کرتی ہوں تاکہ طالبات میں ادبی شعور پیدا ہو ان کی تربیت ہو، نوجوان نسل میں اردو زبان و ادب کے ذوق کو فروغ دینا، ان کی ادبی صلاحیتوں کو نکھارنا ہماری ذمہ داری ہے،میراتحقیقی و تنقیدی مقالات کا مجموعہ بھی زیرِ ترتیب ہے،میں ادبی تنظیم دبستانِ غزل کی صدر ،تحریکِ نفاذِ اردو کی جنرل سیکریٹری اور شاعراتِ پاکستان کی بھی جنرل سیکریٹری ہوں،پاکستان ریسرچ اسکالرز ایسوسی ایشن کی نائب صدر ہوں،میری زیر ِ نگرانی کئی طالبات ایم ۔اے کے تحقیقی مقالات لکھ چکی ہیں۔

سوال : غزل کے کس اسلوب سے متاثر ہیں؟
مجھے ذاتی طور پر اظہار کے لیے غزل بہت پسند ہے،غزل کا اپنا مزاج،اپنا رنگ، اپنا اسلوب ہے یہ دوسری اصناف سے منفرد اور ممتاز ہے،غزل کی شاعری جذبات واحساسات کی شاعری ہے،جس میں فکر کی جادو گری بھی ہے،غزل کے موضوعات وسیع ہیں،وہ سارے امور،مسائل،،تاثرات،مباحث،تجربات جن سے کوئی بھی شخص دوچار ہوسکتا ہے ،غزل کا موضوع بن سکتے ہیں،حقیقی تغزل نرم ولطیف باتوں کے بیان کردینے کا نام ہے،یہ دل سے نکل کر براہِ راست دل میں اُترتی ہے،خاص طور پر عصرِ حاضر کے مسائل کو بیان کردینے کا سلیقہ رکھتی ہے،اب یہ شاعر پر منحصر ہے کہ وہ اپنے خیالات،احساسات اور حالات ِ حاضرہ کو کتنی تازگی اور ندرت سے بیان کرتا ہے،غزل میں تازہ بیانی اہمیت رکھتی ہے۔غزل میں مختلف تجربات بھی ہوتے رہے،آزاد غزل،اینٹی غزل،الفاظ کی ساخت کو بھی توڑا گیا مگر غزل کا روایتی اسلوب ہی مقبول رہا،موضوعات کے لحاظ سے جدت آئی ہے۔غزل اردو ادب کی توانا صنف ہے، میں نے غزل کے علاوہ نظمیں،قطعات،ہائیکو بھی لکھی ہیں،مگر غزل میں زیاد ہ سہولت سے اظہار کرسکتی ہوں،غزل میں جو ایمائیت ہے وہ مجھے پسند ہے،یہ میرے مزاج سے مناسبت رکھتی ہے۔

سوال نمبر : تحریکوں کے ادب پر کیا اثرات ہوتے ہیں،آج کے دور میں کوئی تحریک کیوں نظر نہیں آتی؟

اردو ادب پر تحریکوں کے اثرات نمایاں نظر آتے ہیں،ایہام گوئی کی تحریک،ردعمل کی تحریک،اصلاح زبان کی تحریک،سرسید تحریک،رومانی تحریک،ترقی پسند تحریک وغیرہ نے ادب پر گہرے اثرات ثبت کیے،خاص طور پر ترقی پسند تحریک نے ہر صنفِ ادب پر اثر ڈالا،زندگی کو دیکھنے اور بیان کرنے کا نیا زاویہ سامنے آیا،ااس کے علاوہ مغربی تحریکات کے اثرات بھی موجود ہیں،آج کوئی بڑی تحریک تو نظر نہیں آتی مگر مختلف رجحانات نظر آتے ہیں۔

سوال نمبر : کیا تخلیق کار اپنے عہد کا ترجمان ہوتا ہے؟
بے شک ہر تخلیق کا اپنے عہد کا ترجمان ہوتا ہے اور اسے ہونا چاہیے،کیونکہ وہ جس معاشرے میں رہتا ہے اس کی عکاسی اس کی تخلیق میں ہوتی ہے،اگر ایسا نہیں تو وہ حقیقی تخلیق کا ر نہیں،ہم میر کی شاعری پڑھ کے ان کے حات کا اندازہ کرسکتے ہیںاسی طرح غالب کی شاعری ان کے خطوط ان کے عہد کے مسائل کو سامنے لاتے ہیں،سرسید،حالی،اقبال،فیض،منٹو،احمد ندیم قاسمی ،ادا جعفری نے جو ادب تخلیق کیا وہ ان کے عہد کا ترجمان ہے،آپ اس میں اس دور کو دیکھ سکتے ہیں،وہ ادب ہی نہیں تاریخ ہے،ہر دور میں بے شمار ادیب ہوتے ہیں مگر ادبی تاریخ میں وہی زندہ رہتے ہیں جو اپنے عہد کے گواہ ہوتے ہیں۔آج کے عہد کے ادب کو پڑھیں تو اس میں موجودہ دور کا انتشار،بد امنی،دہشت گردی ،بم دھماکے وغیرہ جیسے موضوعات نظر آئیں گے،کیونکہ یہ ہورہا ہے،مگر روشن مستقبل کی امید دلانا بھی ادیب کی ذمہ داری ہے۔

سوال نمبر :اردو ادب کے شعری روایات میں کس حد تک لچک پذیری موجود ہے؟
ہر عہد کی شعری روایات اپنے عہد میں موضوعات ،زبان،لفظیات اور اسالیب کے لحاظ سے تبدیل ہوتی ہے،سو سال پہلے ادب کا جو مزاج تھا اس میں اب بہت تبدیلی آگئی ہے،اکیسویں صدی کے جدید تیز رفتار دور میں خاص طور پر ذرائع ابلاغ کے ترقی نے ادب میں بہت سی جدتیں پیدا کردی ہیں،اب ہما را ایک شعر فیس بک کے ذریعے لمحوں میں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے،عالمی ثقافت نے زبان و بیان پر بہت اثر ڈالا ہے۔اردو کی شعری روایات نے ہر دور کی جدتوں سے استفادہ کیا ہے،اس پر کبھی جمود طاری نہیں ہوا۔اظہار کے نئے پیرائے دریافت ہوتے ہیں،نئی اصناف بھی سامنے آتی ہیں،اردو زبان اور اس کا مستقبل بہت روشن ہے،اس میں امکانات کی وسیع دنیا موجود ہے، اردو زبان اور ادب ہمارا تہذیبی اور ثقافتی سرمایہ ہے،اس کو کوئی خطرہ نہیں۔

سوال نمبر : شاعری کے علاوہ آپ کس صنف میں لکھتی ہیں؟
شاعری میری پہلی ترجیح ہے،دو شعری مجموعے اس کا ثبوت ہیں،بچپن میں شاعری سے ہی آغاز کیا،میں مقدار سے زیادہ معیار کی قائل ہوں،شاعری کے علاوہ افسانے بھی لکھے ہیں،تنقیدی اور تحقیقی مقالات بھی لکھتی ہوں،جس کا مجموعہ زیرِ ترتیب ہے،کالمز اور کتابوں پر تبصرے بھی کرتی ہوں۔

سوال نمبر؛ نسائی ادب کی تحریک کیا ہے؟
دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح ادب میں خواتین کی شمولیت نے ہر قوم اور ہر زبان کے مخصوص رویے،شعور،اسلوبِ بیان میں انفرادیت پیدا کی ہے،دنیا بھر کے ادب میں خوتین نے اپنے افکار اور احساسات سے نسائی شناخت کا اظہار کیا،نسائی ادب کی تخصیص اس لیے نہیں کہ اس خواتین کا ادب کہہ کر الگ کردیا جائے اس کا بنیادی مقصد خوتین کی اپنی مخصوص علمی،ادبی،ذہنی اور جذباتی حیثیت کے ادراک،ابلاغ اور اس کا اظہار ہے،خواتین نے جو ادب تخلیق کیا وہ ان کے آزاد ذہن کی تخلیق ہے،نسائی ادب نے موضوعات،اسلوب اور زبان و بیان کے اعتبار سے نئی دنیا دریافت کی،آج ادب میں روحِ عصر کا مطالعہ نسائی شعور کے حوالے سے کیا جاتا ہے،نسائی شعور ساری دنیا میں تنقیدی مطالعے کا حصہ بن گیا ہے،اور ایک فکری دبستان ،تحریک کے طور پر سامنے آیا ،بیسویں صدی میں نسائی ادب کی اصطلاح عام ہوئی یعنی عورت کی الگ ذات شناخت اس کی صنفی حیثیت اور سماجی و معاشی نقطہ ء نظر سے اس کے منفرد وجود کو سمجھنے کی کوشش کی گئی۔بدلتے ہوئے فکری رجحانات ور جدیدیت کے تحت ادب کا اسلوبیاتی ساخت نے نسائیت کا باقاعدہ تحریک کی صورت دی،نسائی ادب میرا موضوع رہا ہے،اردو کے افسنوی ادب میں نسائی لب و لہجے پر میں نے تحقیقی کام کیا ہے،اس کے علاوہ نسائی شاعری پر بھی تحقیقی کام کررہی ہوں

سوال نمبر:کیا خواتین تخلیق کاروں کو اظہارِ رائے کا حق حاصل ہے؟
ہمارے معاشرے میں عورت کو بہت سی پابندیوں اور مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے،پہلے تو گھر والے ہی ہوں گے جو اس بات کو نہیں سمجھتے،پھر ہمارا معاشرہ مزاحم ہے،تاریخ میں عورت کبھی اتنی تعلیم یافتہ نہیں تھی ،جتنی آج ہے،لیکن یہ بات ہم پورے معاشرے کے لیے نہیں کہہ سکتے،ایک طرف ہمارے معاشرے میں ایسی خواتین نظر آتی ہیں،جنہوں نے اپنی محنت،عزم وحوصلے سے مقام حاصل کیا ،دوسری طرف ایسی خواتین بھی ہیں جنہیں بنیادی حقوق ہی حاصل نہیں ،تعلیم،صحت اس طرح کے بے شمار مسائل ہیں،ہمارے شہروں میں تعلیم یافتہ گھرانوں سے تعلق رکھنے والی خواتین تخلیق کاروں نے بڑی جرات سے اپنے مسائل کا ادرا ک کیا اور اپنے اسلوب میں انہیں بیان کیا،جو خوتین آج ہمت اور جرات کے ساتھ لکھ رہی ہیں وہ واقعی قابلِ تحسین ہے،انہیں تسلیم کرنا چاہیے،ایک افسوسناک صورتِ حال اکثر دیکھنے
میں آتی ہے وہ یہ کہ خواتین کسی سے لکھواتی ہیں،یہ سن کر حقیقی تخلیق کا رخواتین کو دکھ ہوتا ہے کہ وہ کتنے مسائل اور نامساعد حالات کا سامنا کرتے ہوئے یہاں تک پہنچی ہیں ،ہو سکتا ہے ایسا ہو لیکن یہ الزام تو کچھ مرد شعراء پر بھی عائد ہوتا ہے،اس سلسلے میں انصاف کی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔حقیقی اور غیر حقیقی میں فرق کرنا تو سیکھیں۔خواتین جو لکھ رہی ہیں ان کا اپنا الگ رنگ و آہنگ ہے وہ اپنی شناخت اپنے کلام سے کررہی ہیں جس پر کوئی انگلی نہیں اُٹھا سکتا۔
کچھ غیر ادبی رویے جو محسوس ہوتے ہیں کہ فی زمانہ شہرت اور مقبولیت انہیں ہی حاصل ہورہی ہے جن کی پی،آر اچھی ہو، جو متمول ہوں،وہی چند مخصوص شعراء و شاعرات ہر مشاعرے میں ،میڈیا پر نظر آئیں گے،کئی حقیقی تخلیق کا ریہ حالات دیکھ کر گوشہ نشین ہوگئے ہیں،ادبی گروہ بندیوں ،سیاستوں،سازشوں نے بھی ادب کو نقصان پہنچایا ہے،ادبی ادارے بھی اس سے مبرا نہیں، ادیبوں کی فلاح و بہبود کے لیے بھی کام ہونا چاہیے۔سرکاری ایوارڈز میرٹ پر ملنے چاہیے۔

18945309_1214829225307047_712329139_n
18944540_1214835515306418_1024821480_n
19022045_1214829295307040_1515474829_n
22656672_1338760656247236_948410450_n
18985254_1214851575304812_1353043520_n
18985496_1214835548639748_883635140_n

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook