Home / خبریں / غالب کی دیگر نثری تحریریں

غالب کی دیگر نثری تحریریں

٭مریم فاطمہ
پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر ۔تلنگانہ یونیورسٹی نظام آباد۔

Mirza-Ghalib-Picture
مرزاغالب(1797-1869) اردو کے عظیم شاعر گذرے ہیں۔ غالب ایک ہمہ گیر اور جدت پسند شخصیت کے حامل تھے۔ وہ مغلیہ دور کی ثقافت کی عظیم یادگار ہیں۔غالب نے اپنی جدت پسند شخصیت سے اپنی شاعری اور نثر نگاری میں نرالا رنگ قائم کیا۔ ان کے مختصر اردو دیوان نے انہیں شاعری کی دنیا میں عالمی شہرت دلائی تو وہیں نثر میں ان کی منفرد مکتوب نگاری کے وہ امام قرار پائے۔ غالب کے خطوط اردو نثر کا سرمایہ اور اپنے عہد کی تاریخ ہیں۔ غالب نے مکاتیب کے علاوہ کچھ اور نثری سرمایہ بھی چھوڑا ہے جس کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مکتوب نگاری کے علاوہ ان کی دیگر نثری تحریریں بھی ان کی شخصیت کی آئینہ دار ہیں۔
اردو نثرمیںغالب نے جو متفرق تحریریں چھوڑی ہیںان میں دوست احباب کی کتابوں پر لکھے گئے تبصرے اورتقریظیںشامل ہیں۔ اس کے علاوہ قاطع برہان کے نام سے جو بحث چلی تھی اس سے متعلق تحریریںہیںاور’’ازالہ حیثیت عرفی‘‘ مقدمہ کے ضمن میں لکھی گئی ان کی تحریریں شامل ہیں۔غالب کی اردو نثر کا یہ سرمایہ بکھراہواتھا جسے خلیل الرحمن دائودی نے ’’مجموعہ نثر غالب اُردو‘‘ کے نام سے جمع کیا۔ ہندوستان میں ’’انجمن ترقی اردو‘‘ نے 1967ء میں شائع کیا اس کتاب کی عکسی نقل اردو ادب کے انٹرنیٹ پر موجود ذخیرہ ’’ریختہ ڈاٹ کام ‘‘ پر موجود ہ ہے ۔۔ ذیل میں غالب کی دیگر نثری تحریروں کا تعارف پیش کیا جارہا ہے۔
۱۔لطائف ِغیبی:۔
’’لطائف غیبی‘‘44صفحات کاایک رسالہ ہے ۔جو’’مطبع اکمل المطابع دہلی‘‘سے 1864ء؁ میں شائع ہوا۔ اس کی قیمت آٹھ آنے مقرر تھی۔ یہ رسالہ 1864ء؁ میں صرف ایک بار شائع ہوا۔ مرزا غالبؔ نے ’’قاطع برہان‘‘ کے جواب میں یہ رسالہ بعنوان ’’لطائف غیبی‘‘ خود لکھا۔ لیکن اسے اپنے عزیز شاگرد ’’میاں داد خان سیاح‘‘ کے نام سے شائع کیا۔ ’’غالب‘‘ پرکام کرنے والے تمام محققین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ تصنیف مرزا غالب کی فکر کا نتیجہ ہے۔ اس مجموعے میں 20لطائف ہیں۔ خلیل الرحمن دائودی اپنی کتاب ’’مجموعہ نثر ِغالب اردو‘‘ میں ’’لطائف ِ غیبی‘‘ کے نسخے کے بارے میں لکھتے ہیںکہ
’’لطائف ِغیبی‘‘ عرصہ ٔدراز سے نایاب ہے اس کا ایک انتہائی نادر نسخہ مولانا عبدالمجید سالک صاحب کے پاس تھا۔ وہ نسخہ نواب سعید الدین احمدخاں ابن نواب ضیاء الدین احمدخاںنیردرخشاں کاتھا۔ جوانہیں زمانۂ طالب علمی میں نواب علائو الدین احمدخاں علائی نے دیاتھا۔ پاکستان میں اگرچہ اس کے دوتین نسخوں کا سراغ ملتاہے لیکن ان سے نسخہ لے کر اشاعت کیلئے متن نقل کرنا بہت ہی دشوار کام ہے ۔ بہرحال کسی نہ کسی طرح مجھے اس کا متن حاصل ہوگیا اور اب اس نعمت ِغیر مترقبہ کو ’’مجلس ِترقی ادب لاہور‘‘ کے ذریعہ عام کررہاہوں۔‘‘ ۱؎
خلیل الرحمن دائودی کے خیال کے مطابق ’’لطائف ِغیبی ‘‘ایک نایاب کتاب ہے جسے انہوںنے بڑی جستجوسے شائع کیا۔ جیسا کہ کہا گیا اس رسالے میں غالب کے ’’قاطع برہان‘‘ کے ضمن میںلکھے گئے لطائف ہیں اور ’’قاطع برہان‘‘کی بحث ہے ۔ اس رسالے میں موجود غالب کی نثر کا جائزہ اس حوالے سے لیاجاسکتاہے۔
’’جس شخص کا بادشاہی دفتر میں اسداللہ خاں نام لکھاگیاہواور نواب گورنر جنرل بہادرکے محکمہ محتشمہ سے ’’خان صاحب بس یارمہربانی دوستانی مرزا اسد اللہ خان‘‘لکھا جاتاہو۔اگر ایک شخص گمنام رعایائے دہلی میں سے اس کانام بگاڑکرلکھے تو اس نامو رکاکیابگڑا۔مگرلکھنے والے کا حق مال بغض ثابت ہوگیا۔ اس سے زیادہ گرم ایک فقرہ اور سنئے۔ منشی جی قاطع کی عبارت کوبرابتاتے ہیںاورپھر کہیں کہیںاسی انداز کے ایک دوجملے لاتے ہیں۔فقرہ پوراکب لکھ سکتے ہیں۔ دو چار لفظ جمع کئے اور ٹھیک نکل گئی جیسے پڑھاطوطادن بھر میں کبھی اللہ پاک ذات اللہ بول اٹھتاہے اور باقی تمام دن ٹیں ٹیں کہا کرتاہے۔مانا کہ قاطع برہان کے جواب میں لکھنے سے منشی جی کی مراد یہ تھی کہ کج محمول سے باہر آئیں اور ایک صاحب نام ونشان کے مقابل ہوکر خود بھی نام پائیں۔ یہ نہ سمجھیں کہ مشہور نہ ہوں گے مگر اشتہاری ہوجائیں گے ۔‘‘ ۲؎
’’لطائف غیبی‘‘رسالے میں موجود غالب کی اس تحریر سے اندازہ ہوتاہے کہ جس طرح ان کی شخصیت میں ظرافت تھی۔اسی طرح ان کی تحریر میں بھی ظرافت ہے اور ظرافت کے ساتھ ضرورت پڑنے پر انہوںنے طنز کے تیر بھی چلائے ہیں۔ سارے رسالے میں غالب کی نثر کا یہی انداز ہے ۔
۲۔رسالہ ’’سوالات عبدالکریم ‘‘:۔
’’قاطع برہان ‘‘ کی مخالفت میں اس زمانے میں سب سے پہلی کتاب’’محرق قاطع برہان‘‘ ظہور میں آئی۔ جس کے مصنف سید سعادت علی صاحب میر منشی ریزیڈنٹ راجپوتانہ تھے۔یہ کتاب 1280ھ میں دہلی سے شائع ہوئی تھی ۔اس کے جواب میں دیگر لوگوں کے علاوہ غالب نے دورسالے لکھے۔ جس کے پہلے رسالے کا نام ’’رسولہ سوالات عبدالکریم ‘‘ہے غالب نے یہ رسالہ اپنے ایک فرضی طالب علم عبدالکریم کے نام سے شائع کرایا۔سوالات عبدالکریم رسالہ آٹھ صفحوں کا رسالہ ہے جس پر مطبع کانام نہیں ہے تاہم خلیل الرحمن دائودی نے مالک رام کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ رسالہ اکمال المطابع دہلی سے 1865ء مطابق1281ھ میں شائع ہوا۔ اس رسالہ میں 16سوالات ہیں اور آخر میں دوضمنی سوالات بھی ہیں۔ یہ رسالہ غالب کی حیات میں ایک مرتبہ 1865ء میں اور بعد میں قاضی عبدالودود صاحب نے1952ء میں سہ ماہی مجلہ ’’معاصر‘‘پٹنہ سے شائع کیا۔ رسالے کے آغاز اور پہلاسوال کرتے ہوئے غالب لکھتے ہیں۔
’’اضعف بندگانِ رب کریم عبدالکریم منشی سعادت علی صاحب کی خدمت بابرکت میں عرض کرتاہے کہ میں ’’محرق قاطع برہان‘‘ کودیکھ کر آپ کی فارسی دانی بلکہ ہمہ دانی کا معتقد ہوا۔ مگر اپنے فہم کے قصور سے بعض ترکیبوں کو نہیں سمجھا ناچار ان کی حقیقت آپ سے پوچھتاہوں اور متوقع ہوں کہ ہر سوال کا جواب جداگانہ بہ عبارت سلیس عام فہم لکھئے گا… جب ان سوالات کے جواب پاچکوں گاتوسوالات باقی پیش کروں گا۔
سوال پہلا…صفحہ2سطر8آپ لکھتے ہیں کہ پیش ازیں چند سالے کتاب مسمیٰ بہ حدائق العجائب تالیف کردہ بودم‘‘ ۔ آسی عرض کرتاہے کہ ’’چندسالے ‘کیا ترکیب ہے ۔ہاں سالے چند۔ماہے چند۔روزے چند یا چندسال ۔چند ماہ۔چند روز مستعمل فصحا ہے۔‘‘ ۳؎
’’رسالہ سوالات عبدالکریم‘‘ میں غالب کے طرزِ تخاطب سے اندازہ ہوتاہے کہ غالب کو یہ برداشت نہیں ہوا کہ ان کی زبان دانی کے اعلیٰ معیار کے دور میں کوئی زبان و بیان کی غلطی کرے چونکہ غالب خوددار تھے۔ وہ لوگوں کے منہ لگنا نہیں چاہتے تھے اس لئے انہوںنے پردے میں رہتے ہوئے سوالات عبدالکریم کے نام سے منشی سعادت علی صاحب کی تحریر کی خامیوں کو اجاگر کیا اور ان سے جوابات طلب کئے۔ غالب خداداد صلاحیت کے مالک تھے۔ ان کی فارسی دانی بھی اعلیٰ معیار کی تھی لیکن زمانے کے مزاج کودیکھتے ہوئے جب انہیں اردو میں تصنیف وتالیف کرناپڑاتوانہوںنے اپنے لئے زبان و بیان کا اونچا معیار رکھا اور وہ چاہتے تھے کہ لوگ بھی وہی معیار کی اُڑدو لکھیں اور بولیں لیکن ان کے سامنے لوگوں کومعیار کم تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگوں سے ان کی بحث ہوجاتی تھی اور غالب کا یہ انداز منفی یا مثبت ان کی شہرت کا باعث ہوئی۔
۳۔’’نامہ ٔغالبؔ‘‘:۔
’’قاطع برہان‘‘ کی مخالفت میں ایک کتاب’’ساطع برہان ‘‘مرزا رحیم بیگ میرٹھی نے شائع کی تھی اس کے جواب میں مرزا غالب نے 16صفحات کاایک خط کتابی صورت میں تحریر کیا اور اگست1865ء؁ میں مطبع محمدی محمدمرزاخاں دہلی سے اس کے تین سو300نسخے شائع کئے ۔جس کے پانچ نسخے نواب صاحب رامپور کو بھی بھیجے۔بعدمیں یہ خط’’عودہندی‘‘میں بھی شائع ہوا۔غالب نے چونکہ یہ طویل خط ایک رسالے کی شکل میں شائع کیاتھا۔ اس لئے اسے غالب کی ایک تصنیف کے طورپر تسلیم کیاجاتاہے۔اس خط میں خط کے علاوہ بھی دیگر خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ غالب اپنے اس خط میں مرزا رحیم بیگ سے خطاب کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
’’جس طرح توحید میں نفی ماسوائے اللہ دستور ہے مجھ کو تحریر میں حذف زوائد منظور ہے۔ عزم مقابلہ نہیں ،مقصد مجادلہ نہیں سرتاسردوستانہ حکایت ہے ۔خاتمہ میں ایک شکایت ہے۔ شکوہ دردمندانہ منافی شیوۂ ادب نہیں۔معہ ہذا اظہار دردِ دل مراد ہے کوئی بات جواب طلب نہیں۔ احسان مندہوں آپ کاکہ آپ نے منشی سعادت علی کی طرح آدھا نام میرا نہ لکھا۔ ان کے حسن ِظن کے مطابق مجھ کو معشوق میرے استاد کانہ لکھا۔‘‘ ۴؎
اس خط کی نثر اور اندازِ بیان سے واضح ہوتاہے کہ غالب نے اپنے وضعدارانہ انداز میں اپنی زبان دانی کااظہار کیا اور’’ قاطع برہان ‘‘کی جو بحث چل رہی تھی اسی سلسلے کوآگے بڑھایا۔
۴۔ ’’تیغ ِتیز‘‘:۔
’’قاطع برہان‘‘ کی تائید اور مخالفت میں جو کتابیں آرہی تھیں اس میں ایک کتاب’’موید برہان‘‘بھی تھی جس کے مصنف آغااحمدعلی تھے۔ یہ مدرسہ عالیہ کلکتہ میں فارسی کے مدرس تھے۔ ’’موید برہان‘‘ کو دیکھ کر مرزا غالب نے اس کے جواب میں 34صفحات کا ایک رسالہ’’تیغ تیز‘‘ کے نام سے لکھا۔ کتاب میں 17فصلیں ہیں۔ ابتدائی 16فصلوں میں مولوی احمدعلی صاحب پر ایک ایک کرکے اعتراضات کئے اور ان اعتراضات کا جواب بھی دیا۔ یہ غالب کے قلم سے نکلنے والا آخری رسالہ ہے اس کے بعد مولوی احمدعلی اور غالب کے معاونین کے د رمیان قطعاتِ نظم کی شکل میں جنگ چھڑ گئی اور یہ شعری بحث ’’ہنگامہ ٔدل آشوب‘‘ حصہ اول و دوم کی شکل میں شائع ہوئی۔اس کتاب میں غالب کی جانب سے اٹھائے گئے سوال وجواب کی ایک مثال اس طرح ہے۔
’’پہلا سوال…لغت فارسی کی حقیقت اور حروف کی حرکت میں فردوسی وخاقانی سچے ہیں یا ہندوستانی فرہنگ لکھنے والے ۔؟‘‘
جواب:فردوسی وخاقانی سچے ہیں۔ ہندوستانی ان کے مطابق لکھیں تو سچے۔ اس کے برخلاف لکھیں تو جھوٹے۔‘‘ ۵؎
غالب کے اس سوال وجواب سے اندازہ ہوتاہے کہ غالب کو نہ صرف اپنی فارسی دانی پر ناز تھا بلکہ وہ اردو کے نامور شعراء اورادبیوں کے مقابلے میں فارسی کے شعراء جیسے فردوسی وخاقانی وغیرہ کی بالادستی کو پسند کرتے تھے اور یہ بات آخری زمانے تک غالب کی شخصیت اور مزاج کا حصہ رہی۔
۵۔دیباچہ ’’سراج المعرفت ‘‘:۔
جیساکہ کہاگیا غالب نے خطوط کے علاوہ اردو میں جو نثری سرمایہ چھوڑا ہے اس میں ایک بڑا حصہ اپنے دوست احباب کی کتابوں پر لکھے گئے تبصرے اور تقاریظ ہیں۔ اسی سلسلے کے طورپر غالب نے مفتی سید رحمت علی خان عرف میرلال کی تصنیف ’’سراج المعرفت‘‘ پردیباچہ لکھا۔یہ کتاب بہادرشاہ ثانی کی فرمائش پر لکھی گئی اس کتاب میں عہد ِرسالت سے سینہ بہ سینہ چلے آرہے اشغال واذکار بیان کئے گئے۔ غالب نے جس وقت یہ دیباچہ لکھا۔ اس وقت وہ قلعہ کے ملازم تھے اور ان کی عمر57سال تھی۔ اس حساب سے دیباچے کا سن تصنیف 1853ء قرار پاتا ہے۔ غالب نے دیباچے کا اختتام ان جملوں سے کیا’’بادشاہ سے کیا عجب ہے کہ دوبرس کی تنخواہ دے کر مجھ کو خانہ ٔخداکے طواف کی رخصت دیں کہ وہاں جاکر اور اپنے57برس کے گناہ کہ جس میں سوائے شرک سب کچھ ہیںبخشواکر پھر آئے۔ ‘‘غالب کے اس خیال سے اس دیباچے کے سنہ تصنیف کا اندازہ لگایاگیاہے۔غالب کے بارے میں یہ بات واضح ہے کہ عملی زندگی میں وہ مذاہب بیزار تھے۔ لیکن انہوںنے اپنی تحریروں اور شاعری میں اسلامی شعائر سے اپنی عظمت کا اظہارکیا۔چنانچہ اس مذہبی رسالے کے دیباچے میں وہ لکھتے ہیں کہ
’’اس رسالے کے مشاہدے سے مستفیض ہوا۔ جی میں آیا کہ اس کتاب مستطاب پر ایک دیباچہ لکھے اور پھر میں برگ و سازکروں اورعزم ِسفرحجاز کروں۔ زم زم کے پانی سے وضو اور اس کا شانۂ ملائک آشیانہ کے گرد پھروں اور حجر اسود کو چوموں اور پھر وہاں سے مدینہ منورہ جائوں اور خاک تُربت ِاطہر کا سرمہ آنکھوں میں لگائوں۔‘‘ ۶؎
۶۔دیباچہ ’’حدائق ِانظار ‘‘:۔
غالب کے ایک ہمعصر خواجہ بدر الدین خان عرف خواجہ امان دہلوی تھے۔ان کا تعلق راجا شیودان سنگھ وائی ریاست الور سے تھا۔ راجہ صاحب کی فرمائش پر ان کے کتب خانے میں موجود’’بوستانِ خیال‘‘کی 15جلدوں میں سے خواجہ امان نے دو جلدوں کا ترجمہ اردو میں کیا۔ جس کی پہلی جلد1866ء؁ میں ’’حدائق ِ انظار‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔اس کتاب کا دیباچہ مرزا غالب نے لکھا۔ دیباچے کے آغاز میں غالب لکھتے ہیں۔
’’سبحان اللہ شاہد زیبائے سخن کا حسن بے مثال۔مشاہدہ اس کا نورافزائے نگاہ‘‘ تصوراس کا انجمن افروز خیال۔ازرائے لفظ اہل معنی کی نظر میں۔ آئینہ عارض جمال…اگر نفس ناطقہ کوحق نے بصورت انسان پیدا کیا ہوتا تو ہم اس صورت میں یہ کیونکر کہیں کہ کیا ہوتا…نظم میں اور یہ روپ۔نثر میں اور یہ ڈھنگ فارسی میںاور ہی زمزمہ اردو میں اور ہی آہنگ…سیروتواریخ میں وہ دیکھو جوتم سے سیکڑوں برس پہلے واقع ہواہوافسانہ وداستان میں وہ کچھ سنو کہ کبھی کسی نے نہ دیکھا ہو نہ سناہو۔‘‘ ۷؎
غالب کے مشاغل اور ان کی پسند کے بارے میں اکثر یہ سنا گیا کہ انہیں ’’بوستانِ خیال‘‘ داستان پڑھنا اور شراب نوشی کرنا بہت اچھا لگتاتھا ۔ داستانوں میں مقفٰی ومسجع عبارت آرائی ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس دیباچے میں بھی آغاز میں غالب نے قافیہ پیمائی کے اندا زمیں اپنے خیالات کا اظہار کیا اور داستانوں کی اہم صفت حیرت و استعجاب کی طرف اشارہ کیا۔ غالب اچھے شعر تھے اور اچھے نثر نگار بھی۔ اگر نثر میں خطوط کے علاوہ وہ کوئی مستقل کتاب لکھتے تو اسے بھی وہ شہرت حاصل ہوتی جو ان کے مختصر اردو دیوان کو ساری دنیا میں حاصل ہے ۔
۷۔دیباچہ ’’رسالہ تذکیر وتانیث ‘‘:۔
غالب کے ایک دوست عالم مارہروی تھے ۔ان کے نواسے سید فرزنداحمدصغیر بلگرامی غالب کے شاگرد تھے۔صغیر بلگرامی نے ’’قواعد تذکیر وتانیث‘‘پرایک رسالہ ’’فیض ِصغیر‘‘ کے نام سے لکھا۔ یہ رسالہ1885ء؁ میں ایک بار شائع ہوا۔ غالب نے اس رسالے کادیباچہ اپنے قلم سے لکھا۔ رسالہ کے آغاز میں صغیر بلگرامی کے اس کام کی تعریف کرتے ہوئے غالب اپنے مخصوص انداز میں لکھتے ہیں کہ
’’سیدی وسندی نورِ بصر و لخت ِجگر، قرۃ العین، اسدمولوی سید فرزند احمدکے طولعمرودوامِ دولت وقبائے اقبال کی دعا مانگتاہوںجن کو مبدہ فیاض سے اس رسالے کے لکھنے کی توفیق عطاہوئی ہے۔ سبحان اللہ تذکیر وتانیث کی تقریر کہ وہ اور مطالب کی توضیح پر بھی مشتمل ہے کس لطف سے ادا ہوئی۔ہرچنداس راہ سے دانا اور دقیقہ رس اور منصف ہیں۔قواعدتذکیر وتانیث کے منضبط نہ ہونے کے خود معترف ہیں لیکن علم وحسن، فہم ولطف طبع سے وہ مضبوط ضوابط بہم پہنچائے ہیں کہ اورصاحبوں کے دل دوسرے کو کیا خبر، مگر مجھے تو دل سے پسند آئے ہیں۔دعا یہ ہے اور یقین بھی ہے کہ رسالہ صفحۂ روزگار پر یادگار اور ہمیشہ منظورِ انظار اور لوالابصار رہے گا جو صاحب اس کو مطالعہ فرمائیںگے نفع بھی پائیں گے اور لطف بھی ا ٹھائیں گے ۔‘‘ ۸؎
غالب کے دور میں اردو زبان خاص طور سے اس کی نثر اور اس کے قواعد تشکیلی دور میں تھے اور لفظوں کی تذکیروتانیث کا جھگڑاعام تھا۔یہی وجہ ہے کہ غالب نے بھی اس میں دلچسپی دکھائی اور اس کتاب پرتبصرہ لکھ کر صاحب ِکتاب کی حوصلہ افزائی کی۔ غالب کے سفر کلکتہ کا یہ لطیفہ بھی مشہور ہے کہ جب وہ رتھ میں سفر کررہے تھے تو کسی نے ان سے دریافت کیاتھا کہ لفظ’’رتھ‘‘ مذکر ہے یا مونث۔تب غالب نے ازراہِ مذاق جواب دیا کہ اگر تھ میں مردبیٹھے ہوں تو اسے مذکر سمجھو اور عورتیں بیٹھیں تو اسے مونث سمجھو۔ غالب نے شاعری کی طرح نثر میں بھی معیاری زبان استعمال کی اور لفظوں کی شان و شوکت سے اپنے اسلوب کو جاندار بنایا۔
۸۔تقریظ بر ’’کتاب بہادر شاہ ثانی ‘‘:۔
غالب کے قلعہ معلی سے تعلقات تھے اور غالب بادشاہ سے متعلق کچھ امور کی تصنیف و تالیف بھی انجام دیتے تھے۔ ایک دفعہ بہادر شاہ ثانی کی طبیعت ناساز ہوئی تھی تب ان کے دوست مرزا سلیمان شکوہ اور مرزا حیدرشکوہ نے یہ دعامانگی کہ وہ بادشاہ کی صحت یابی پر حضرت عباس کی درگاہ میں عَلَم چڑھائیں گے۔ یہ لوگ شیعہ عقیدہ کے تھے ۔بادشاہ کی صحت پر جب عَلَم چڑھایاگیاتولوگوں میں غصہ کی لہر دوڑ گئی کہ بادشاہ شیعہ ہوگیا۔ اس بات کی نفی کرنے کے لئے کئی اعلانات کئے گئے اور وضاحتی کتابیں بھی لکھائی گئیں۔اس سلسلہ کی ایک کتاب لکھی گئی۔ جس پر غالب نے اپنی تقریظ لکھی تھی۔ محققین کواصل کتاب دستیاب نہیں ہوسکی تاہم اس کتاب کی تقریظ ’’عودِ ہندی‘‘میں شامل ہونے کی وجہ سے محفوظ رہی۔ اس تقریظ میں غالب لکھتے ہیں۔
’’یہ کتاب کہ مجموعہ دانش وآگہی ہے اگرچہ اس کو سفینہ کہہ سکتے ہیں لیکن ازروئے حقیقت ایک ہنر ہے کہ بحرِ سخن سے اُدھر کو بھی ہے جب اس نگارش میں انجام پایاتو مجھ کو پیش گاہ سلطنت ابدمدت سے حکم آیا کہ بندۂ دوگاہ اسداللہ اس کی تقریظ لکھنے میں اظہارِ حسن اطاعت کرے اور سخن طرازی میں آرائشِ زبانِ اردو پر قناعت کرے۔ جیسا کہ حکم بجالاضرور ویسا ہی یہ بھی کہہ جانا ضرور ہے ۔منشاء اس رسالۂ نگارش کا کیاہے۔‘‘ ۹؎
اس اقتباس میں کتاب اور صاحب کتاب سے زیادہ غالب کاشاعرانہ اُسلوب جھلکتا ہے جبکہ وہ بادشاہ سے نظرِ عنایت کی خاطر اس کے لئے تعریفی وتوصیفی الفاظ کہتے ہیں۔
۹۔تقریظ بر ’’گلزارِ سرور ‘‘:۔
’’گلزارِ سرور‘‘ لکھنو کے مشہور ناول نگار رجب علی بیگ سرور کی تصنیف ہے۔سرور نے یہ کتاب والی ٔبنارس ایشوری پرشاد نارائن سنگھ کی فرمائش پر لکھی۔ دراصل یہ کتاب محمدشفیع کی’’حدائق العشاق‘‘ کاترجمہ ہے۔ ’’گلزارِ سرور‘‘لکھنے کے بعد رجب علی بیگ سرور نے اس کتاب کی تقریط لکھنے کے لئے غالب سے گذارش کی ۔ گلزارِ سرور کی جلد اول میں یہ تقریظ شامل ہے۔غالب اس تقریظ میں لکھتے ہیں
’’سبحان اللہ ،خدا کی کیا نظرفروز صنعتیں ہیں، تعالیٰ اللہ،کیا حیرت اور قدرتیںہیں۔یہ جو حدائق العشاق کا فارسی زبان سے عبادت اردو میں گارش پانا ہے، ارم کا زمین دنیا سے اٹھ کر بہارستان قدس کا باغ بن جاناہے،وہاں حضرت رضوان ارم کے نخل بندوآبیار ہوئے۔یہاں مرزا رجب علی بیگ ’’سرور حدائق العشاق‘‘کے صحیفہ نگار ہوئے۔اس مقام پر یہ ہیچ میرز جو موسوم بہ اسداللہ خاںاورمخاطب بہ نجم الدولہ اور متخلص بہ غالب ہے ، خدائے جہاں آفرین سے توفیق کا اور خلق سے انصاف کا طالب ہے۔ہاں، ائے صاحبانِ فہم وا دراک! سرور سحر بیان کا اردو کی نثر میں کیا پایہ ہے اور اس بزرگوار کا کلام شاہد معنی! کے واسطے کیسا گراں بہاپیرایہ ہے۔ مجھ کو دعویٰ تھا کہ اندازِ بیان اور شوخی ِتقریر میں ’’فسانہ ٔعجائب‘‘ بے نظیر ہے۔جس نے میرے دعویٰ کو اور ’’فسانہ عجائب ‘‘یکتائی کو مٹایا۔ یہ وہ تحریر ہے ۔‘‘ ۱۰؎
سرور کی ’’فسانہ ٔعجائب‘‘ کے چرچے اس زمانے میں لکھنو ارو دہلی میں بہت زیادہ تھے اسی شہرت کی بناء غالب نے ’’گلزارِ سرور ‘‘ پر تقریظ لکھنے پر آمادگی ظاہر کی اور غالب نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ سرور کی تحریر دلچسپ ہے ۔
۱۰۔دیباچہ ’’انتخاب ِ غالب ‘‘:۔
غالب نے کمشنر پنجاب مسٹرڈولانڈ میکلوڈ کی فرمائش پر ایک مجموعہ’’مکاتیب ِ غالب‘‘کے نام سے ترتیب دیا۔ جس میں 11خطوط، 2دیباچے اور ایک لطیفہ شامل ہے۔ یہ کتاب محمدعبدالرزاق نے مرتب کرکے لاہور سے 1345ھ میں شائع کرایا۔ اس کا ایک نسخہ ڈاکٹر عبدالستار صدیقی کے پاس موجود تھا۔ جس میں کتاب کا دیباچہ بھی محفوظ رہا۔ دیباے کے آغاز میں غالب اس کتاب کا تعارف پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں …
’’یہ کتاب جو دوباب کی ہے حقیق یہ اس کتاب کی ہے کہ پہلے باب میں دودیباچے ،کئی لطیفے اور کئی مکتوب ہیں۔ اگر میرے لکھے ہوئے نہ ہوتے تو میں کہتا کہ بہت خوب ہیں۔ دوسراباب اشعار کا ہے کہ وہ بھی کلام اس خاکسار کا ہے ۔ اگر کوئی خط اردوزبان میں لکھاجائے ان اشعار میں سے شعر محل و مقام کی مناسبت سے درج کیاجائے اور یہ مجموعہ نذر اس جناب رفعت مآب کے ہے جس سے عزت وتوقیر وفنانشیل کمشنر پنجاب کی ہے صاحب ِوالا مناقب عالی شان علم و اہل ِعلم کے قدردان یگانہ روزگار جن کا مطیع و محکوم ہونا اہل ہند کو سرمایہ عزوافتخار ہے ۔‘‘ ۱۱؎
یہ کتاب چونکہ ایک انگریز افسر کی فرمائش پر لکھی گئی تھی اور زمانے کا مزاج دیکھتے ہوئے غالب نے بھی انگریز سرکار کی قصیدہ خوانی میں ہی عافیت سمجھی تھی اس کتاب میں بھی غالب نے انگریز افسر کے لئے بہت سے القاب و آداب کا ذکر کیا اور کتاب وجہ تصنیف بیان کی۔
۱۱۔خاتمہ’’انتخابِ غالب‘‘:۔
’’انتخاب ِغالب‘‘ کے نام سے ایک مختصر کتاب غالب نے ترتیب دی تھی۔ اس کتاب کے آخر میں غالب نے کچھ اختتامی کلمات لکھے جس سے ان کے جذبات کی عکاسی ہوتی ہے ۔ غالب لکھتے ہیں
’’خدا کا شکر بجالاتاہوں کہ یہ مجموعہ مختصر تمام ہوا۔اب خدا سے یہ دعامانگتاہوں کہ یہ تحریر میرے مربی اور محسن کو پسند آئے۔تم نے جانا کہ میرے مربی اور محسن کون ہیں وہ کہ جن کی ہدایت پر شکرگذار اور عنایت کا امیدوار ہوں جب نام نامی ان کا دیباچہ کتاب میں مرقوم اور عالم میں مشہور ہے تو باربار حضرت کانام لینا ادب سے دور ہے ۔مگر ہاں خاتمہ میں یہ شعر لکھ دینا ضرور ہے سب کے دل میں ہے جگہ تیری ، جوتوراضی ہو
مجھ پہ گویا ایک زمانہ مہربان ہوجائے گا‘‘ ۱۲؎
اس تحریر میں بھی غالب نے بادشاہ کے ساتھ اپنی وفاداری اوران کے بارے میں اپنے عجز و انکسار کا ذکر کیاہے۔یہ اس دور کے درباری آداب بھی تھے جن کی پاسداری غالب نے کی۔
۱۲۔پیش لفظ ’’خاش وخماش ‘‘:۔
غالب نے حبیب اللہ ذکاء کے فارسی نظم و نثر کے مجموعے ’’خاش وخماش‘‘کا پیش لفظ لکھا یہ کتاب حیدرآباد دکن سے 1302ھ میں شائع ہوئی۔ خلیل الرحمن دائودی، حبیب اللہ ذکاء اور ان کی کتاب پر لکھے گئے پیش لفظ کا تعارف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
’’حبیب اللہ ذکای 1244ھ مطابق1830ء میں اودگیر ضلع نیلور میں پید اہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے بڑے بھائی منشی رحمت اللہ رساسے پائی۔ عربی وفارسی کے ماہر تھے۔شاعری میں میر مہدی ثاقب اور سید مرتضیٰ بنیش کے سامنے زانوئے تلمذطئے کیا۔1855-56ء میں حیدرآباد دکن پہنچے اور نواب مختار الملک سالار جنگ کے میر منشی مقرر ہوئے۔ 1862ء میں مرزا غالب کی شاگردی اختیار فرمائی۔ 1875ء میں وفات پاگئے۔ان کے انتقال کے 9سال کے بعد ان کا مجموعہ نظم ونثر شائع ہوا۔ ‘‘
مرزا غالب کا یہ پیش لفظ ’’عودِ ہندی میں شامل ہوکر پہلے چھپ گیاتھا۔ ’’خاش وخماش‘‘ کی اشاعت اول 1884ء میں ہوئی۔ اس لئے ذکاء کے مجموعہ نظم و نثر کے ساتھ یہ بہت بعد میں چھپا ہے ۔’’عود ہندی‘‘ میں شامل پیش لفظ میں کافی غلطیاں ہیں۔ بعض اصحاب نے اس کا عنوان ’’دیباچہ دیوان ذکاء‘‘ رکھا ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہ محل نظر ہے کیونکہ جس مجموعے پر یہ تحریر ہے وہ محض دیوان نہیں ہے بلکہ ذکاء کی تمام نثر و نظم کا ترجمہ ہے ۔ ‘‘ ۱۳؎
غالب ’’خاش وخماش‘‘ کتاب کے پیش لفظ میں مصنف کتاب کے تعلق سے لکھتے ہیں کہ
’’یہ کلام کسی بادشاہ کا نہیں، کسی امیر کا نہیں ، کسی شیخ شیاد کا نہیں یہ کلام میرے ایکد وست روحانی کا ہے اور فقیر اپنے دوست کے کلام کومعرض اصلاح میں بدنظر دشمن دیکھتاہے پس جب تملق نہیں، مدارانہیں تو جو مجھ کو نظر آیا ہے بے حیف ومیل کہوں گا۔ نثر میں نعمت خان عالی کی طرز کا احیاء کیاہے ۔مگر پیرایہ کچھ اس سے بہتر دیاہے۔ قصائد میں انوری کاچربہ اٹھایاہے مگر طبیعت نے اچھا زور دکھایاہے ۔ غزل میں متاخرین کا انداز، عاشقانہ سوزوگداز، منشی حبیب اللہ ذکاء، سخنور ہمہ دان یکتا، لفظ طراز، معنی آفرین،آفرین، صدہزار آفرین۔‘‘ ۱۴؎
اس پیش لفظ میں غالب نے کتاب کا تنقیدی جائزہ لیاہے اور حبیب اللہ ذکا کی شاعری کا تقابلی انداز میں جائزہ لیا اور کہیں کہیں نکتہ چینی بھی کی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ غالب کے دور میں پیش لفظ یادیباچہ نگاری میں صرف تعریف و توصیف ہی نہیں ہوتی تھی بلکہ اعتدال پسند تنقید بھی ہوتی تھی۔
۱۳۔دیباچہ ’’دیوانِ سخن‘‘:۔
غالب نے اپنے ایک شاگرد میر فخر الدین حسین خاں سخن دہلوی کے دیوان پر دیباچہ لکھا۔ یہ دیباچہ ’’عودِ ہندی‘‘ میں شامل ہوا اور دیوان کی اشاعت سے قبل منظر ِعام پر آگیا۔ غالب کی وفات1869ء میں ہوئی اور ’’دیوانِ سخن‘‘ 1886ء میں مطبع نول کشور سے شائع ہوا۔ سخن دہلوی نے اپنے دیوان پر پہلے ہی غالب سے دیباچہ لکھوالیاتھا۔ جو ان کے انتقال کے بعد منظر عام پر آیا۔ غالب سخن دہلوی کے کلام پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
’’سخنوروں کے ہزاروں دیوان دیکھے ہوں گے آپ سخن ؔکا دیوان دیکھیں زہے شاعر یکتاونامی کے جس کا پیارا نام سخن ؔہے ۔ یعنی ہمہ تن سخن اور کام سخن ہے ۔ قرۃ العین خواجہ سید محمدفخرالدین حسین کو اگر سخنور بے عدیل کہوں تو بجا ہے کیونکہ اس کا حسن کلام میرے دعویٰ پر دلیل ِاقویٰ ہے۔ اس سحر کا جادونگار نے پری زادان معنی کو الفاظ کے شیشوں میںاس طرح اتارا ہے جیسے آبگینہ ٔمہ سے رنگِ مہ نظر آئے۔ لفظ سے جلوۂ معنی آشکار رہے۔‘‘ ۱۵؎
۱۴۔دیباچہ ’’قصائد مرزا کلب حسین خان ‘‘:۔
مرزا غالب کے نثری کارناموں میں خطوط کے بعددوسرابڑا حصہ دوست احباب کی کتابوں پر لکھے گئے دیباچے ہیں۔ ان ہی دیباچوں میں ایک ’’قصائد مرزا کلب حسین خاں‘‘کا دیباچہ ہے ۔ خلیل الرحمن دائودی کے بموجب مرزا کلب حسین خان کاتخلص نادرؔ تھا۔ اور وہ بنارس کے رئیس احترام الدولہ دبیرالملک ہیبت جنت کے صاحبزادے تھے۔ ناسخؔ کے شاگرد تھے اور کئی کتابوں کے مصنف تھے۔غالب ’’قصائد مرزا کلب حسین خان‘‘کے دیباچے کے آغاز میں لکھتے ہیں۔
’’سبحان اللہ !شاہد سخن کمالِ حسن میںلاثانی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ یوسف کنعانِ معانی ہیں۔ کنعان ہو، کنواںہو، کارواں ہو کوئی جگہ کوئی مقام کوئی مکان ہو۔ زلف ویسی ہی معتبر،عارض بدستور تابدار، لب کی جاں بخشی کا وہی عالم۔ چشم اسی طرح بیمار معہ ہذا جو سلطنت مصرکے زمانے کاجمال تصور میں لائے…جس کتاب میں ائمہ معصومین علہیم الصلوۃ السلام کی مدح کے 100قصیدے زینت ِاوراق ہوں ان اوراق کے سواد کیوں سرمۂ چشم اہل ِ دین اور وہ اوراق کیوں نہ سوزبازوئے مومنین آفاق ہوں۔ میں علومرتبت پر ناز کرتاہوں کہ ائمہ اطہار کے مدح کا ستائش گرہوں اور بذریعہ اس ستائش کے غالب پر غالب یعنی اپنے سے بہتر ہوں۔ اس دعویٰ کا گواہ اسداللہ…‘‘ ۱۶؎
غالب نے بھی قصیدے لکھے تھے اور انہیں اس صنف سے لگائو تھا۔ چنانچہ مرزا کلب علی خان کی تصنیف میں بزرگان ِ دین کی تعریف میں شامل قصائد دیکھے تو غالب نے کھلے دل سے ان قصائد کی تعریف کی۔غالب کے دیباچوں سے ان کی شخصیت کے اس پہلو کا بھی اظہار ہوتاہے کہ غالب اپنے چاہنے والوں سے خندہ پیشانی سے ملتے تھے اور لوگوں کی فرمائش پر کتاب کاحسن بڑھانے والے دیباچے بھی لکھتے تھے ۔
۱۵۔خاتمہ ’’شعاعِ مہر‘‘:۔
’’شعاعِ مہر‘‘مرزا حاتم علی بیگ کی مثنوی ہے ۔ غالب نے جن لوگوں کو پابندی سے خطوط لکھے تھے ان میں ایک نام حاتم علی بیگ مہر کا بھی ہے ۔ مہر کی یہ مثنوی جب مکمل ہوئی تو انہوںنے غالب سے اس کا دیباچہ لکھنے کی فرمائش کی ۔غالب نے کتاب پرتقریظ لکھی جو پہلے ’’عودِ ہندی‘‘ میں شامل ہوکر شائع ہوئی اور بعد میں اصل مثنوی کے ساتھ منظر عام پر آئی۔ غالب نے اس تقریظ میں مثنوی اور صاحب ِمثنوی کی دل کھول کر تعریف کی۔ چنانچہ غالب لکھتے ہیں
’’یہ مثنوی کہ مجموعہ دانش و آگہی ہے اگرچہ اس کو سفینہ کہہ سکتے ہیں لیکن فی الحقیقت ایک ہنر ہے کہ بحرِ سخن سے ادھر بھی ہے ۔ سخن ایک معشوقہ پری پیکر ہے ۔ تقطیع شعراس کا لباس اور مضامین اس کا زیور ہیں۔ دیدہ وروں نے شاہد ِسخن کو اس لباس اور زیور میں روکش ماہِ تمام پایا ہے ۔ اس رو سے اس مثنوی نے شعاعِ مہر نام یاپاہے کہیںیہ نہ سمجھنا کہ یہاں مہر سے مراد آفتاب ہے یہ شعاع اس مہر کی ہے جو ذرہ خاک راہِ بوتراب ہے ۔سچ تو یوں ہے کہ سخنور روشن ضمیر، مہرچہرہ مرزا حاتم علی مہر کوسخن طرازی میں ید ِبیضا ہے ۔‘‘ ۱۷؎
غالب کی نثر کے اس اقتباس سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ اردو نثر کے ابتدائی دور میں خاص طور سے غالب کے عہد تک آتے آتے نثر میں سادگی اور روانی کا چلن شروع ہوچکاتھا اور فورٹ ولیم کالج کی داستانوں سے اردو نثر کو سادگی پہنچانے کا جو سلسلہ میرامن اور دیگر مصنفین فورٹ ولیم کالج نے شروع کیاتھا وہ انیسویں صدی کے نصف تک غالب کی نثر اور بعد میں علی گڑھ تحریک کے زیرِ اثر سرسید اور ان کے رفقاء کے کارناموں سے بہت حد تک سادگی پسند ہوگیاتھا اور اردو نثر کوقافیہ پیمائی اور مرصع نگاری سے نکال کر سادگی پہنچانے میں غالب نے بھی اہم کردار اد اکیا۔
۱۶۔ ’’اردوئے معلّٰی ‘‘کاحق ِتصنیف:۔
غالب کی حیات میں ان کے خطوط کا پہلا مجموعہ ’’عودِ ہندی ‘‘کے نام سے 17؍اکتوبر1868ء کو شائع ہوچکاتھا اور دوسرا مجموعہ بھی ’’اردوئے معلی‘‘ کے نام سے ترتیب پاچکاتھا۔ لیکن اس کی اشاعت غالب کی وفات کے 19دن بعد عمل میں آئی۔ غالب نے اپنی زندگی میں ہی ’’اردو ئے معلی‘‘ کاحقِ تصنیف مطبع اکمال المطابع کے مالک حکیم غلام رضاخان کے نام کردیاتھا۔ کیونکہ غالب کی بہت سی کتابیں اسی مطبع سے شائع ہوئی تھیں۔غالب اس کتاب کا حق تصنیف حکیم غلام رضاخاں کے نام کرتے ہوئے والہانہ انداز میں لکھتے ہیں کہ
’’پیکرِ بے روح ورواں،فقیر اسد اللہ خاں غالب تخلص ہیچ مدح کہتاہے اور لکھ دیتا ہے کہ یہ جواُردوئے معلی تصنیف فقیر ’’مطبع اکمال المطابع‘‘ دہلی میں چھاپاہوا،سومیںنے ازاراہِ فرطِ محبت اپنا حقِ تالیف نور چشم اقبال نشان حکیم رضا خان کو بخش دیا ہے اور اس حق کوخاص ان کا حق کیا۔ اب کوئی اور صاحب اگر مالک اکمل المطابع حکیم رضاخاں کے بے اطلاع اردوئے معلی کے چھاپنے کا قصد کریں گے تومواخذہ سے محفوظ نہ رہیں گے اور فوراً حسب منشاقانون بہ ستم 1847ء سزا پائیں گے ۔ اسداللہ خان‘‘ ۱۸؎
غالب ہرلحاظ سے جدت پسند واقع ہوئے تھے۔ انہوںنے اپنے طورپر بہت سی نئی باتیں شروع کیں اور بعد میں لوگوںنے اسے جاری رکھا۔ چنانچہ اس حقِ تصنیف کے اندازِ تحریر سے انداز ہ ہوتاہے کہ غالب دستاویز نویسی میں بھی مہارت رکھتے تھے اور اردو میں انہوںنے بڑے ہی نفیس انداز میں کتاب کے جملہ حقوق محفوظ کرنے کی بات کو پیش کیا اور چند ایک تبدیلیوں کے ساتھ کم و بیش یہی طریقہ کار آج بھی رائج ہے ۔ جس کا سلسلہ غالب نے اپنے عہد میں شروع کیاتھا۔
۱۷۔ ’’شہادت ‘‘(مولوی حیدرعلی کے مباہلے سے متعلق ):۔
1857ء کے انقلاب سے قبل 1855-56ء میں دہلی میں مولوی حیدرعلی صاحب اور سید رجب علی خاں کے مابین مباہلے کا ایک ہنگامہ ہوا۔ مقامی اخبارات نے اس ضمن میں دلچسپی دکھائی۔ مولانا محمدحسین آزاد کے والد مولوی محمدباقر اور مولانا حیدرعلی کے شاگردوںنے اس میں خوب حصہ لیا۔ اخبار’’نورِ مشرق‘‘ میں مولوی محمدباقر کے شاگرد شیخ امداد صاحب نے اس ضمن میں کچھ لکھا جس کے جواب میں مولوی حیدرعلی کے شاگرد انوار الحق نے ایک رسالہ شائع کیا۔ اس رسالے میں غالب کی شہادت پرمبنی عبارت بھی شائع کی گئی۔ خلیل الرحمن دائودی مرتب ’’مجموعہ نثر ِغالب اردو‘‘نے دعویٰ کیا ہے کہ غالب کی یہ شہادت کہیں اور شائع نہیں ہوئی۔ پہلی مرتبہ انہوںنے اسے اپنی کتاب میں شامل کیا۔ غالب شہادت پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں
’’بحث ملت ومذہب سے مجھ کو کچھ علاقہ نہیں۔ صرف ادائے شہادت کرتاہوں ازروئے مصدق اور وہ یہ ہے کہ مولوی حیدرعلی صاحب نے ہرگز مباہلے سے انکار نہیں کیا اور وہ آمادہ تھے مباہلے پر…فقط بے گناہ اسداللہ ‘‘ ۱۹؎
غالب کا تعلق قلعہ دہلی سے تھا اور دہلی میں وہ ایک وضعدار شخصیت کے طورپر جانے جاتے تھے۔دینی معاملے کی شہادت دینے سے اندازہ ہوتاہے کہ ان کا تعلق سماج سے تھا اور وہ لوگوں کی رائے کا احترام کرتے تھے ۔
۱۸۔دہلی سوسائٹی کے جلسے میں مرزا کا مضمون:۔
لاہورمیں قائم انجمن ِ پنجاب، علی گڑھ کی سائنٹفک سوسائٹی، لکھنو کی مجلس ِتہذیب کی طرح دہلی میں بھی ایک علمی انجمن دہلی سوسائٹی کے نام سے 1865ء میں قائم ہوئی تھی ۔ماسٹر پیارے لال آشوب اس کے پہلے سکریٹری تھے۔ اس سوسائٹی کے تحت ہونے والے جلسوں کی روداد بھی شائع ہوتی تھی۔ڈاکٹر عبدالستار صدیقی کو پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی کے ذریعہ سوسائٹی کے رسالے کے چار شمارے ملے۔ ان رسالوں کو دیکھ کر انہوںنے ایک مضمون ’’دہلی سوسائٹی اور مرزا غالب‘‘علی گڑھ میگزین کے ’’غالب نمبر‘‘ کے لئے لکھا۔ اس مضمون میں انہوںنے لکھا کہ غالب تاحیات اس سوسائٹی کے مستقل ممبر تھے اور 11؍اگست1865ء کو سوسائٹی کے دوسرے جلسے میں غالب نے ایک مضمون پڑھاتھا۔ یہ مضمون ’’علی گڑھ میگزین ‘‘اور ’’ادبی دنیا لاہور‘‘ میں شائع ہوا۔ خلیل الرحمن دائودی نے اپنی کتاب ’’مجموعہ نثر غالب اُردو‘‘ میں یہ مکمل مضمون شامل کیاہے ۔ غالب اس مضمون میں لکھتے ہیں
’’میں کہاں اور بزم نشینی کہاں، نظم ونثر میں وہ رنگینی کہاں ‘‘ سرکارکی خدمت گذاری کا شائق ہوں مگر اب صرف دو کام کے لائق ہوں۔ اگر کسی امر میں بذریعہ خط مجھ سے کچھ پوچھاجائے تو وہ لکھ سکتاہوںجو میری رائے میں آئے یا اگر تحریر نظم و نثر فارسی واردو کا حکم آوے تو لکھ کر بھیج سکتاہوں۔آئندہ حکام کے پسند ناہوںیامقبول ہوجائے ۔1806ء سے جس کو آج 60برس ہوئے سرکار انگریزی کا نمک خوار ہوںاور1855ء میں 10برس سے شہنشاہِ بحروبرحضرت فلک رفعت ملکہ معظم کامدحت نگار ہوں۔‘‘ ۲۰؎
غالب کی تحریروںکے بارے میںکہاجاتاہے کہ ان کے خطوط اور دیگر نثری کارناموں سے ان کے عہد کی دلی کے تاریخی واقعات اور خودان کے حالات ِ زندگی سے پردہ اٹھتا ہے اور مورخین نے ان کی تحریروں میں پائی جانے والی داخلی شہادتوں سے بھی غالب اور ان کے دور کے تاریخی واقعات اور حالات جمع کئے ہیں۔ چنانچہ غالب نے اپنے اس مضمون میں اپنی سماجی حالت اور قلعہ سے وابستہ رہنے اپنی دلی خواہش کااظہار کیاہے۔
۱۹۔پیارے لال آشوب سے متعلق ایک تاثر:۔
خلیل الرحمن دائودی نے پیارے لال آشوب سے متعلق غالب کے تاثرات کو اپنی کتاب ’’مجموعہ نثر غالب اردو‘‘میں شامل کرتے ہوئے لکھا کہ دہلی میں کرنل ہیملٹن کمشنر کی سرپرستی میں 1865ء میں دہلی سوسائٹی قائم کی گئی۔ اس کے پہلے سکریٹری ماسٹر پیارے لال آشوب تھے۔ غالب کو ان سے بڑی محبت تھی۔1868ء میں پیارے لال آشوب کا تبادلہ دہلی سے لاہور ہوگیااورانہیں سوسائٹی سے استعفیٰ دے کر جانا پڑا۔وداعی تقریب کے موقع پر سوسائٹی کے اراکین کی جانب سے پیارے لال آشوب کی خدمت میں ایک سپاس نامہ پیش کیاگیا جس پر غالب نے بھی دستخط کئے تھے اور دستخط کے ساتھ کچھ الفاظ بھی تحریر کئے۔ غالب کے تاثرات’’علی گڑھ میگزین ‘‘کے غالب نمبر اور’’قدیم دلی کالج نمبر‘‘ میں شائع ہوئے ۔غالب کے تاثرات اس طرح ہیں۔
’’فقیر اسداللہ خاں غالب ؔکہتا ہے کہ بابوپیارے لال کی مفارقت کا جو غم واندوہ ہواہے میرا جی چاہتاہے بس اب میں نے جانا کہ میرادلی میں کوئی نہیں۔‘‘ ۲۱؎
غالب کے اس مختصر تاثر سے اندازہ ہوتاہے کہ ان کی تحریر میں ایک ایک لفظ سے محبت اور ہمدردی جھلکتی ہے یہی وجہ ہے کہ غالب اپنے عہد میں اور بعد میں بھی لوگوں میں کافی مقبول تھے۔
۲۰۔مرزا غالب کے خودنوشت حالات ِ زندگی:۔
خلیل الرحمن دائودی نے اپنی کتاب’’مجموعہ نثر غالب اردو‘‘ میں غالب کے خودنوشت حالاتِ زندگی کے نام سے غالب کی تحریر کو شامل کیاہے۔ اس کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ غالب کی یہ خود نوشت سب سے پہلے ’’انجمن ترقی اردو‘‘ اورنگ آباددکن کے سہ ماہی مجلہ’’ اُردو‘‘جولائی1928ء میں بعنوان ’’مرزا غالب کی خودنوشتہ سوانح عمری کا ورق‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ غالب نے یہ حالات1865ء میں لکھے تھے۔جوبعدمیں اور لوگوںنے بھی شائع کیا۔ غالب کی یہ سوانح بڑی مختصر ہے لیکن اس میں غالب کے آباواجداد اور ان کی پیدائش اور زندگی کے ابتدائی ایام سے متعلق اہم معلومات فراہم ہوتی ہیں۔ غالب خود نوشت کے آغاز میں اپنے آباواجداد کے بارے میں لکھتے ہیں کہ
’’اسداللہ خاں غالب تخلص، عرف مرزا نوشہ،قوم کا ترک سلجوقی، سلطان برکیارق سلجوقی کی اولاد میں سے، اس کا دادا قوقان بیگ خاں شاہ عالم کے عہد میں سمرقند سے دلی میں آیا۔ 50گھوڑے اور نقارہ نشان سے بادشاہ کا نوکر ہوا۔ پہاسو کا پرگنہ جواب سمروکی بیگم کوسرکار سے ملاتھا وہ اس کی جائیداد میں مقرر تھا۔ باپ اسداللہ خاں مذکور کا عبداللہ بیگ خاں دلی کی ریاست چھوڑ کر اکبرآباد میں جارہا۔‘‘ ۲۲؎
غالب کی اس خودنوشت سے خود ان کی تاریخ پیدائش کا بھی پتہ چلتاہے جبکہ غالب نے لکھا کہ ان کی پیدائش 8؍رجب 1212ھ بروز یکشنبہ ہے ۔ ۲۳؎
غالب نے اس سوانح میں آگے اپنے بچپن کے حالات لکھے جس میں چچا نصر اللہ بیگ خاں کے ساتھ رہنے کا ذکر بھی ہے۔غالب نے اس دور میں دہلی اور اس کے اطراف ہونے والی سیاسی شورشوں کا ذکر کیا اور اپنی زندگی کے سفر کے حالات بھی بیان کئے۔غالب اپنے بارے میں لکھتے ہیں
’’اس نے شاعری میں بڑا کمال پید اکیا۔ نہ فقط شعر بلکہ نثر میں بھی دستگاہ رکھتاہے۔نثر کی تین کتابیں ہیں۔ پنچ آہنگ، مہرنیم روز، دستنبو۔فارسی نظم کی کلیات۔10ہزار بیت کابالفعل اودھ اخبار لکھنومیں چھاپاہواہے۔گورنمنٹ میں اس کی بڑی عزت ہے۔اشرفیوں کے عوض قصیدۂ مدح نذر دیتاہے اور سات پارچے چیغہ،سرپیچ موتیوں کی مالاخلعت پاتاہے۔ خیر آخر عمر میں یہ ایک داغِ حسرت رہا۔ حق بات کو ظاہر نہ کرنا خداپرستی اور حق شناسی کے خلاف اس شخص نے 1855 ء کے آخر میں قصیدۂ مدح ملکہ معظمہ ولایت کو بہ سبیل ڈاک لارڈالن براگورنرسابق کی معرفت بھیجاہے اور اوائل 1856ء میں تین خط انگریزی بہ واسطہ انڈیا گورنمنٹ ولایت سے اس کو ڈاک میں آئے ہیں۔ اب ہم ان تین خطوط کے خلاصے لکھ کر اس کے ذکر کو ختم کرتے ہیں۔‘‘ ۲۴؎
غالب کی یہ مختصر سوانح ہے جس میں انہوںنے اپنے آباواجداد اور اپنے شعری سفر کی جانب اشارے کئے اور قلعہ سے ملنے والے انعامات اور ملکہ کی تعریف میں لکھے گئے قصیدے اور اس کے جواب میں ملنے والے انگریزی خطوط کا ذکر کیا۔غالب کی یہ خود نوشت سوانح سرسری ہے لیکن نہ صرف اپنے اندر بھرپور معلومات رکھتی ہے بلکہ خود کے بارے میں غالب کی وضعدارانہ رائے کا اظہار بھی کرتی ہے ۔
۲۱۔’ازالہ‘ حیثیت عرفی کی نالش میں غالب ؔکی تحریریں:۔
غالب نے فارسی زبان کی مشہور لغت’’برہانِ قاطع‘‘ کے اغلاط کی نشاندہی کرتے ہوئے ’’قاطع برہان‘‘کے نام سے 1862ء میں کتاب شائع کرائی۔ ’’قاطع برہان‘‘کی اشاعت کے بعد کئی لوگ ان کی مخالفت میں کتابیں نکالنے لگے۔جن میں تین کتابیں’’محرق قاطع برہان‘‘ ’’ساطع برہان‘‘ اور’’مویدبرہان‘‘ کتابوں کے جواب غالب نے دیئے۔ایک اور کتاب’’قاطع القاطع برہان‘‘ بھی تھی جس کا جواب نہ غالب نے دیا نہ اپنے کسی حامی کو دینے دیا کیونکہ اس کتاب کے مصنف امین الدین پٹیالوی نے اس کتاب میں غالب کے خلاف ناشائستہ کلمات استعمال کئے تھے۔ غالب نے امین الدین پٹیالوی کے خلاف 6؍ڈسمبر1867ء کوعدالت میں ازالہ حیثیت عرفی کامقدمہ دائرکردیا۔ مقدمہ سنگین اور مضبوط تھا اور امکان تھاکہ امین الدین کو سزا ہوجائے گی۔ انہیں سزاسے بچانے کے لئے غالب کے ملاقاتی اور دوست گواہانِ صفائی بن گئے۔جب مرزا نے دیکھاکہ مقدمہ کمزور ہورہاہے توانہوںنے 23؍مارچ1868ء کو فریقین کے درمیان راضی نامہ دینے کے بعد مقدمہ واپس لے لیا۔ اس مقدمہ کے سلسلہ میں غالب کی تین اردو تحریریں ہیں۔ پہلی تحریرغالب کی درخواست ہے جو انہوں نے کمشنر دہلی مسٹر اوبرائن کو2؍دسمبر1867ء کو لکھی تھی۔ اس کے بعد غالب کا لکھا ہوا ایک مختار نامہ ہے جو انہوںنے عزیزالدین وکیل کے لئے لکھا۔ تیسری تحریر ایک درخواست ہے جو1868ء میں ڈپٹی کمشنر کی عدالت میں دی گئی تھی۔ خلیل الرحمن دائودی نے اپنی کتاب’’مجموعہ نثرغالب اردو‘‘میں اس مقدمہ کی ساری تفصیل پیش کی اور مقدمہ کے دوران غالب کی لکھی گئی ان تین اردو تحریروں کو شامل کیا ۔مقدمہ کی درخواست میں غالب لکھتے ہیں
’’ایک شخص امین الدین نام دلی کا رہنے والا کہ اب وہ پٹیالہ میں راجاکے مدرسہ کامدرس ہے ۔ اس نے ایک کتاب لکھی اگرچہ بناء کتاب کی بحث ِعلمی پر ہے ۔لیکن اس نے اس بحث ِعلمی میں میرے واسطے وہ الفاظ ناشائستہ اور ایسی گالیاں دی ہیں کہ کوئی شخص کسی کولی چمار کو بھی یہ الفاظ نہ لکھے اور ایسی گالیاں نہ دے۔ناچار میں نے منشی عزیز الدین صاحب کو اس مقدمے میں اپنا وکیل کیاہے۔امیدوارہوں کہ بعدتصدیق وکالت نامہ سہ رشتہ فوجداری میں یہ مقدمہ پیش ہو اور خاص آپ کی تجویز سے اول سے آخر تک یہ مقدمہ فیصل ہو اور کسی محکمہ ماتحت میں یہ مقدمہ سپرد نہ ہو۔‘‘ ۲۵؎
غالب بحیثیت شاعر جس طرح اپنے عہد میں مشہور تھے۔ نثرنگاری میں بھی انہوںنے اپناسکہ جمادیاتھاجس طرح خطوط نگاری کا نیا انداز شروع کرتے ہوئے وہ بہت مقبول ہوگئے تھے۔اسی طرح انہوںنے سرکاری و خانگی امور میں بھی اردو میں اعلیٰ پایہ کی زبان دانی کا ثبوت دیا اور ان کے مخالف امین الدین پٹیالوی نے اُن سے جوناشائستہ رویہ رکھا اسے سنجیدگی کے ساتھ عدالت کی درخواست میں پیش کیااورآخر میں فاضل عدالت پر اپنی زبان دانی کی صلاحیت کے ساتھ پُراثر انداز میں بات پیش کی۔ اسی مقدمہ کے سلسلہ میں غالب نے ایک مختار نامہ بھی لکھا۔جس میں انہوںنے اپنی طرف سے عزیز الدین کووکیل بنایاتھا۔ غالب کی یہ تمام تحریریں اپنے فن میں یکتا نظر آتی ہیں۔اس مختار نامہ میں غالب لکھتے ہیں۔
’’میں اپنی طرف سے عزیزالدین وکیل سررشتہ کو واسطہ گذراننے عرضی اور پیروی کرنے مقدمہ کے وکیل کیا۔ وکیل مذکور جو کچھ سوال وجواب پیروی مقدمہ ہذا میں کریں جملہ ساختہ پرداختہ اس کا مثل ذات خاص اپنی کہ قبول ومنظور ہے اس واسطے یہ مختار نامہ لکھ دیا۔‘‘ ۲۶؎
اس مقدمہ کے سلسلہ میں غالب کی تیسری تحریر ایک درخواست ہے جو انہوںنے مقدمہ کی سماعت کی منتخبی کے لئے ڈپٹی کمشنر دہلی کو پیش کی تھی اس ضمن میں غالب لکھتے ہیں۔
’’التماس یہ ہے کہ تخمیناً تیسرا مہینہ ہے کہ میںنے یہ وکالت منشی عزیزالدین صاحب کے عدالت فوجداری میں ازالہ ٔحیثیت پیش کی۔ وکالت نامہ تصدیق ہوگیا اور میراخط معہ وکیل کے حضور میں گذرا اور آپ نے وہ مقدمہ تجویز کے واسطے صاحب والا قدراسٹاکڈن صاحب بہادر کے سپرد کیا۔میری خوشی تو اس میں تھی کہ وہ مقدمہ آپ تجویز کرتے اب بصدگونہ عجزوزاری استدعا کرتاہوں کاغذاتِ مقدمہ وہاں سے منگائے جائیںاورحضور کے سامنے پیش کئے جائیں تاکہ امین الدین مدعا عالیہ کی طلبی کا حکم پٹیالہ کو جائے اور بعد اس کے حاضر ہونے کے بمواجہ اس کے اور میرے وکیل کے مقدمہ تجویز ہوکر میری دادرسی ہو اورمدعاعلیہ کوسزائے سخت ملے تاکہ پھر کوئی چھوٹا آدمی بڑے آدمی کو ایسے فحش وناسزانہ لکھے مجھے یقین ہے کہ آپ اس اپنے تابعدارقدیم کی عرضی قبول کرلیں گے اور بذاتِ خود میری دادرسی فرمائیں گے ۔
راقم ۔اسداللہ خاں غالب ‘‘ ۲۷؎
غالب کی ان درخواستوں کے مطالعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ انہیں دفتری خط وکتابت کا بھرپوراندازہ تھا اور اس کا اظہارانہوںنے اپنی تحریروں میں کیا اردو زبان وادب پر غالب کی گرفت کی وجہ سے ایک طرف غالب کے پرستاروں اور مداحوں کا ملک بھر میں بڑا حلقہ تیار ہوگیاتھاتودوسری طرف غالب کے حاسدین بھی پیدا ہوگئے تھے۔جس کی نوک جھونک چلتی رہی۔
۲۲۔دوفارسی شعروں کے مطالب:۔
غالب کی اردوتحریروں کے متفرق سرمایہ میں ایک حصہ وہ بھی ہے جس میں انہوںنے فارسی کے دواشعار کامفہوم اردو میں تحریر کیاتھا۔ خلیل الرحمن دائودی اس کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پٹنہ کے خدابخش کتب خانے میں کلیاتِ نظم غالب کاایک نسخہ ہے جس کے صفحہ نمبر71اور76پرغالب کی یہ تحریر موجود ہے فارسی کا پہلا شعر جس کی اردو تشریح غالب نے لکھی وہ اس طرح ہے ۔
شباہت ِاست مراآں راکہ برنیا مدح است
وگرنہ موئے یہ باریکی میان تو نیست
اس فارسی شعر کی تشریح کرتے ہوئے غالب لکھتے ہیں
’’سب کمر کو بال باندھتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ استغفراللہ۔بال کوکیا نسبت ہے کمرسے کہ نظر آتی ہی نہیں اور بال نظر آتا ہے ہاں وہ جوابھی نہیں اُگا اور نہیں نکلا۔اس کو کچھ مشابہت ہے کمر کے ساتھ ۔‘‘ ۲۸؎
غالب نے فارسی کے جس دوسرے شعر کی تشریح اس نسخے میں کی ہے وہ شعر اس طرح ہے
در صفحہ بنودم ہمہ آں چہ دردِ دل است
درد بزم کمتر است گل و در چمن مجمع است
اس فارسی شعر کی تشریح کرتے ہوئے غالب لکھتے ہیں کہ
’’پھول باغ سے آیا کرتے ہیں۔ باغ میں ہزاروں پھول کھلتے ہیں مجلسوں میں دس دس پانچ پانچ ہوتے ہوں گے ۔ شاعر کہتا ہے کہ میرے مضامین پھول ہوتے ہیں اور میرا دل چمن ہے اور صفحۂ انجمن۔چمن میں پھول اور دل میں معنی بہت ہیں۔‘‘ ۲۹؎
غالب ذہین اور فطین شاعر تھے انہوںنے اپنی شاعری میں ایسے ایسے نکتے بیان کئے جن کی تشریحات آج بھی الگ الگ انداز میں ہورہی ہیں۔ جب فارسی اشعار کی تشریح کا موقع آیا تو انہوںنے اپنی ذہانت اور فطانت استعمال کرتے ہوئے فارسی اشعار کاسلیس انداز میں ایساترجمہ کیاکہ مضمون واضح ہوگیا۔
۲۳۔مثنوی ’’لواء الحمد‘‘پرغالبؔ کی اصلاح کے الفاظ:۔
خلیل الرحمن دائودی لکھتے ہیں کہ غالب نے صوفی منیری کی تصنیف مثنوی’’لواء الحمد‘‘ پر اپنی کچھ اصلاحات دی تھیں صوفی منیری کا پورا نام ابومحمدجلیل الدین حسین ہے ۔ یہ منیر شریف پٹنہ کے سجادہ تھے۔فارسی اور عربی میں مہارت رکھتے تھے۔تاریخ گوئی میں نام پیدا کیاتھا۔ مثنوی ’’لواء الحمد‘‘ کا مسودہ ان کے پوتے سید شاہ محمدعثمان کے پاس تھا جو انہوںنے الہ آباد کے مولوی مہیش پرشاد کو دیاتھاجنہوںنے1935ء میں اس مسودے کی نقل چھاپی۔جس میں غالب کی اصلاحات بھی شامل تھیں۔ غالب نے اس مثنوی میں اشعار پرجواصلاح دی تھی اس کی ایک دومثالیں اس طرح ہیں۔ مثنوی میں ایک شعر ہے ۔
پائوں کی جا سرِ تعظیم سے یاں
سر کے بل چلتے ہیں شاہانِ جہاں
غالب نے اس شعر پر اصلاح دیتے ہوئے لکھا کہ
’’غالب نے پائوں کو پانوں بنادیا اور یہ عبادت لکھ دی پانوقافیہ چھانواورگانو کا ہے آگے اس کے نون لکھنا غلط ہے مگر ہاں بہ صیغہ جمع یوں لکھنا چاہئے ۔پانووں۔‘‘ ۳۰؎
۲۴۔’’موہبت ِعظمیٰ‘‘پرتنقیدی حواشی:۔
غالب کے دور میں ایک صاحب سراج الدین علی خاں آرزوؔ تھے جن کی فارسی دانی بہت مشہور تھی۔علم معانی پران کی ایک کتاب’’موہبتِ عظمیٰ‘‘ ہے یہ کتاب 1852ء میں شائع ہوئی اس کتاب کا ایک نسخہ غالب کے پاس پہنچا۔ جس پر انہوںنے اردو میں تنقیدی حواشی لکھی۔ غالب کے تحریرکردہ تنقیدی حواشی والا نسخہ رضالائبریری رامپور میں موجود ہے۔غالب کے محقق مولانا امتیاز علی خاں عرشی نے غالب کے حواشی سے متعلق ایک مضمون لکھا۔جورسالہ ’’شاعر‘‘‘بمبئی کے خاص نمبر1959ء میں شائع ہوا اور خلیق انجم نے ’’غالب کی نادر تحریریں‘‘ میں اس مضمون کوشامل کیا۔ خلیل الرحمن دائودی نے ’’مجموعہ نثر ِغالب اردو‘‘میں’’موہبتِ عظمیٰ‘‘پرغالب کی تنقیدی تحریریں پیش کی ہیں۔ موہبتِ عظمیٰ کے صفحہ 68پرخان آرزو کی عبارت یہ ہے ۔
’’گاہے معنی امررامکرر آرئدودرواقع زاید باشد،
ونظر بمقام لطف پیدا کنند، چناں کہ گوید
یک دو رطل گراں بہ حافظ دہ
گرعذاب است درثواب، پیار
زیراچہ لفظ پیار من حیث المعنی زائداست۔وچوں مستاں را،
پیار، پیار، می باشد، نظر برآںآوردہ،وخیلے لطف بہ ہم رسائدہ،
وفی فہمیدایںرامگر کسے کہ کمال ماہر سخن باشد۔‘‘
اس عبارت پر تنقید کرتے ہوئے مرزا غالب لکھتے ہیں کہ
’’یہاں بھی بیان خاں آرزو کا سچ ہے ،بلکہ میںکچھ اور بڑھ کر کہتاہوں، یعنی مصرع ثانی میں دفع دخل مقدر ہے ۔ مبادا مخاطب کو یہ خیال آجائے کہ شراب لانی گناہ ہے ،پس یہ غل مچاتا ہے کہ عذاب ثواب جوہو، بلا سے ، توشراب لا۔ مع ہذا ’پیار‘ میں استعجال ہے غالب۔‘‘ ۳۱؎
غالب کی یہ تنقیدی حواشی اردو نثر میں غالب کی متفرق تحریروں کی مثالیںہیں جس سے اندازہ ہوتاہے کہ فارسی دانی کے باوجود غالب نے اخیر عمر میں اردو میں بھی لکھناپسند کیاتھا کیونکہ غالب کو اندازہ ہوگیاتھا کہ اس وقت ترسیل ِخیالات کی زبان فارسی کے مقابلے میں اردو بہترہے۔
۲۵۔دونقلیں اور ایک لطیفہ:۔
خلیل الرحمن دائودی غالب کی متفرق اردو نثری تحریریں پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ غالب نے کمشنر پنجاب کی فرمائش پر مکاتیب غالب کے عنوان سے ایک مجموعہ ترتیب دیاتھا جس میں 11خطوط کے علاوہ دو دیباچے دونقلیں اور ایک لطیفہ موجود ہے ۔غالب کا ایک لطیفہ جواس مجموعے میں شامل تھا اسے خلیل الرحمن دائودی نے لکھا ہے ۔غالب کہتے ہیں
’’1857ء میں جو میرٹھ سے باغی ترک سوار اور تلگے دلی میں آئے اور انہوںنے شہراور قلعہ پر اپنا قبضہ کرلیا تو وہ مئی مہینے کی 11تاریخ تھی اور دوشنبہ کا دن تھا۔ قضارا جس دن ستمبر1857ء میں دلی فتح ہوئی اور سرکشی لوگ بھاگ گئے وہ بھی دوشنبہ کا دن تھا۔ دوایک دوستوںنے کہاکہ دیکھو کیا اتفاق ہے دوشنبہ کودلی کاجانا اور پھر دوشنبہ کو ہاتھ آنا۔ میں نے کہا کہ یہ ایک رَمز ہے اس کو یوں تصور کروکہ جس دن شکست کھائی اسی دن فتح پائی۔ یعنی دیرنہ لگی ایک دن میںتدارک ہوگیا۔‘‘ ۳۲؎
غالب کی طبیعت اور مزاج کے بارے میں یہ بات مشہور ہوئی کہ وہ پُرمزاح گفتگوکرتے تھے اور ان کی تحریر میں بھی شگفتگی پائی جاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جابجاانہوںنے لطیفے اور شگفتہ تحریریںچھوڑی ہیں جس کی ایک مثال یہ لطیفہ ہے ۔
۲۶۔ایک تشریح(’’قاطع برہان ‘‘کے قضیے کے دوران):۔
غالب نے ’’برہان قاطع‘‘کے اغلاط پرمشتمل جو کتاب ’’قاطع برہان‘‘ لکھی تھی اس پر مخالفین نے زبردست ہنگامہ ٔآرائی کی تھی۔ جس کا غالب نے ڈٹ کر مقابلہ کیاتھا۔اسی زمانے میں فارسی کے ایک عالم احمدحسن فرقانی تھے۔کفایت علی تنہا کے بیٹے تھے۔ کمشنر دہلی کے میر منشی تھے۔ غالب نے اسی زمانے میں ان کی مخالفت میں نازیبا الفاظ استعمال کرنے والے امین الدین پٹیالوی کے خلاف ’’ازالہ حیثیت عرفی کامقدمہ‘‘دائر کردیاتھا۔ غالب نے’’قاطع برہان‘‘ میں ایک خاص محاورے کے استعمال پر اعتراض کیاتھا اور اس کے جواب میںسندکے طورپرایرانی استاد کے دوشعرشہادت میں پیش کئے تھے۔ فرقانی نے غالب سے درخواست کی تھی کہ اس کی مزید وضاحت کریں۔ غالب نے اپنے قلم سے اس کی وضاحت کی اس وضاحت کو غالب کی نثر کے ایک نمونے کے طورپر خلیل الرحمن دائودی نے پیش کیا۔غالب وضاحت پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں
’’خاقانی کے ہاںکاہش حاصل بالمصدرکامتن کااور نگاہش ضمیر کے سیشن کے ساتھ قافیہ کیاہے، نہ ایک جگہ بلکہ سوجگہ، نہ ایک خاقانی نے بلکہ بہت اساتذہ نے ۔بھلا میں تم سے پوچھتاہوں’آپ کجا شراب کجا‘کے ساتھ ’نہ یہ کجا‘کاقافیہ جائز رکھوگے۔؟ یقین ہے کہ نہ رکھوگے ۔اب ہم نے حافظ پراعتراض کریں گے ، نہ اس امرخاص میں تتیع کرسکتے ہیں۔قصہ مختصر میں نے مانا’قاطع القاطع‘نے دوسوفاقوں میں ایک اعتراض دفع کیا، آگے کیا کرے گا؟اوردفع اعتراض اس طرح سوائے ایک شخص کے دوسرے کلام سند نہ ملے۔ دادا کا طالب، غالب ‘‘ ۳۳؎
غالب کی نثری تحریر کی ایک مثال ہے جس میں غالب نے ’’قاطع برہان‘‘کے ضمن میں اٹھائے گئے ایک سوال کا جواب دیا۔
غالب نے انتقال سے کچھ عرصہ قبل اپنے دوست احباب سے کہہ دیاتھاکہ ضعیفی کے سبب وہ احباب کے کلام کی اصلاح نہیں کرسکٰں گے اور نہ ہی کسی کی کوئی فرمائش پوری کرسکیں گے۔ اس ضمن میں غالب نے جو تحریر لکھی تھی ۔اس ضمن میں غالب نے جو تحریر لکھی تھی وہ ان کی آخری تحریر ثابت ہوئی۔ اس تحریر کا ذکر کرتے ہوئے خلیل الرحمن دائودی لکھتے ہیں ۔
’’مرزا غالب کی یہ تحریر’’انجمن ترقی اردو‘‘اورنگ آؓاد دکن کے سہ ماہی مجلہ ’’اردو‘‘ کی اشاعت اپریل 1929ء میں بعنوان ’’مرزا نوشہ کا آخری خط‘‘شائع ہوئی …اس تحریر کے ایک ایک لفظ سے ظاہر ہے کہ یہ کسی مخصوص شخص کیلئے نہیں لکھی گئی ہے بلکہ ایک اعلانِ عام ہے اس تحریر سے مرزا غالب کا مقصد اپنی کیفیت اورزبوں حالی لوگوں تک پہنچانی تھی اور یہ واضح کرنا تھا کہ وہ نہ اب اصلاح دینے کے قابل رہے ہیں اور نہ جوابات ہی لکھ سکتے ہیں، اس لئے لوگ اس سلسلہ میں ان کے شاکی نہ رہیں۔’’اشرف الاخبار‘‘اور’’اکمال الاخبار‘‘کے حوالے سے انہوںنے جو کچھ کہا ہے اس سے ظاہر ہے کہ مرزا صاحب اپنی خرابی ٔحالت کو اخبارات کے کالموں میں چھپوانا چاہتے ہیں۔‘‘ ۳۴؎
غالب اپنی اس تحریر میں لکھتے ہیں کہ
’’ہجوم غم سے فراغ نہیں، عبارت آرائی کا دماغ نہیں اگرچہ گوشہ نشیں وخاکماںخراب ہوں لیکن بہ حسب رابطہ ٔ ازلی کثیرالاحباب ہوں۔ اطراف وجوانب سے خطوط آتے ہیں۔ادھر سے بھی ان کے جواب لکھے جاتے ہیں۔جواشعارواسطے اصلاح کے آتے ہیں۔بعداصلاح بھیج دیئے جاتے ہیں۔‘‘
ان صاحبوں میں سے اکثر ایسے ہیںکہ نہ میں نے انہیں،نہ انہوںنے مجھے دیکھاہے ۔ محبت دلی ونسبت روحانی سہی، لیکن صاحبان بلاد دور دست کیا جانیں، میراحال کیاہے۔ہفتہ دو ایک سالہ عمر کی کتاب میں سے فصل آخر کی حقیقت یہ ہے کہ دس پندرہ برس سے ضعف سامعہ اور قلت اشتہاء میں مبتلا ہوا اور یہ دونوں علتیں روزافزوںرہیں۔ حسن حافظہ کا بطلان علاوہ ۔جوں جوں عمر بڑھتی گئی یہ امراض بھی بڑھتے گئے ۔قصہ مختصر اب سامعہ کاحال یہ ہے کہ ایک تختہ کاغذ کامع دوات قلم سامنے دھرارہتاہے۔ جو دوست آتے ہیں پرسش مزاج کے سوا اورکچھ کہناہوتاہے وہ لکھ دیتے ہیں۔ میں ان کی تحریر کاجواب زبانی دیتاہوں۔ غذا کی حقیقت یہ ہے کہ صبح کو آٹھ دس بادام کا شیرہ، دوپہر کوسیربھرگوشت کا پانی، دوگھڑی دن رہے دویاتین تلے ہوئے کباب۔ نسیان حد سے گذر گیا۔رعشہ،دوران وضعف بصر، یہ باران نوآمدہ سے ہیں…اس نگارش کی شہرت سے مقصود یہ ہے کہ میرے احباب میرے حال سے اطلاع پائیں۔ اگرخط کاجواب یااصلاحی غزل دیر میں پہنچے توتقاضااوراگر نہ پہنچے توشکایت نہ فرمائیں۔ میںدوستوں کی خدمت گذار میں کبھی قاصر نہیں رہااورخوشی خوشنودی سے کام کرتارہا۔ جب بالکل نکما ہوگیا، نہ حواس باقی، نہ طاقت، پھر اب کیاکہوں۔بہ قول خواجہ وزیر : ع
’’میں وفا کرتاہوں لیکن دل وفاکرتانہیں
اگر کسی صاحب کو میری طرف سے کچھ رنج و ملال ہوتوخالصتاً لللّٰہ معاف فرمائیں گے ۔ اگر جوان ہوتاتواحباب سے دعائے صحت کاطلب گار ہوتا،اب جوبوڑھاہوں تو دعائے مغفرت کا خواہاں ہوں۔‘‘ غالب ۳۵؎
غالب کے ان خیالات سے اندازہ ہوتاہے کہ اخیر عمر تک وہ ان کے چاہنے والوں سے ہمدردی رکھتے تھے۔ لیکن خرابی صحت کی بناء پر انہوںنے لوگوں سے خط وکتابت ترک کرنے کی بات کی تھی۔ بہرحال غالب کی اردو نثر میں دستیاب تحریروں میں یہ اُن کی آخری تحریرتھی جو دستیاب ہوئی اور شائع ہوکر محفوظ ہوگئی۔
غالب کی متفرق اردو نثری تحریروںکااجمالی جائزہ:۔
غالب کے اس متفرق نثری سرمایہ کااجمالی جائزہ لیں تواندازہ ہوتاہے کہ اردوکتابوں کے دیباچوں اور تقاریظ پر غالب نے انتہائی عالمانہ تبصرے کئے۔جہاں ضرورت پڑی انہوںنے صاحب کتاب اور اس کے فن کی تعریف کی اور جہاں ضرورت پڑی انہوںنے تنقید اور نکتہ چینی سے بھی کام لیا۔ ان دیباچوں میں غالب کا اسلوب عالمانہ ہے اور فارسی آمیز بھاری بھرکم الفاظ استعمال کرتے ہوئے غالب نے بات میں اثر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ کہیں کہیں اسلوب میں سجاوٹ اور پُرکاری بھی دکھائی دیتی ہے لیکن فورٹ ولیم کالج کی اردو نثر کوسادگی عطاکرنے کی جو تحریک 1800ء؁ کے بعد شروع ہوئی تھی اس کا اثر غالب کی نثر میں بھی ملتاہے۔غالب نے جہاں کہیں بادشاہ ِ وقت اور انگریزی حکام کے بارے میں لکھا ہے وہاں انہوںنے حکام کی بڑھ چڑھ کر تعریف بھی کی ہے ۔ یہ غالب کی مجبوری تھی کہ وہ معاشی طورپر بدحال تھے اور صلہ کی امیدرکھتے تھے ۔غالب کے متفرق نثری سرمایے میں وہ تحریریں بھی شامل ہیں۔ جوانہوںنے ’’قاطع برہان‘‘کے خلاف لکھی تھیں اور ’’ازالہ حیثیت عرفی‘‘ مقدمہ کی درخواست میں بھی غالب نے سخت الفاظ میں بات کہی تھی۔مجموعی طورپر غالب کی متفرق نثرکا یہ سرمایہ غالب کی حیات اور ان کے دور کے مختلف حالات اور واقعات سے پردہ اٹھاتا ہے اور غالب کی شاعری اور ان کی مکتوب نگاری کے بعد ان کی متفرق اردو نثرکایہ سرمایہ بھی انہیں ضرور شہرت دلائے گا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو محققین غالب کے اس متفرق اردو نثری سرمایے پر مزید تحقیق کریں اور اس کے پوشیدہ گوشوں کو منظر ِعام پر لائیں۔
حواشی

۱۔خلیل الرحمن دا ئودی۔مجموعہ نثرِ غالب اردو۔مجلس ترقی ادب لاہور۔ص…1967 60ء
۲۔مرزا غالب۔رسالہ لطائف غیبی۔بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…64
۳ ۔مرزا غالب۔رسالہ سوالات عبدالکریم۔بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…129
۴ ۔مرزا غالب۔رسالہ نامہ ء غالب۔بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…151
۵ ۔مرزا غالب۔رسالہ تیغ تیز۔بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…213
۶۔مرزا غالب۔دیباجہ سراج المعرفت۔بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…228
۷۔مرزا غالب۔دیباچہ حدائق انظار۔بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…235
۸ ۔مرزا غالب۔دیباچہ رسالہ تذکیر وتانیث۔بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…243
۹۔مرزا غالب۔تقریظ برکتاب بہادر شاہ ثانی۔بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…250
۱۰۔مرزا غالب۔تقریظ برگلزارسرور۔بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…257-258
۱۱ ۔مرزا غالب ۔دیباچہ انتخاب غالب ۔بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…261
۱۲۔مرزا غالب۔خاتمہ انتخاب غالب۔بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…269
۱۳۔خلیل الرحمن دائودی۔بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…273-274
۱۴۔مرزا غالب۔پیش لفظ خاش وخماش۔بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…275-276
۱۵۔مرزا غالب۔دیباچہ دیوان سخن۔بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…281
۱۶۔مرزا غالب۔دیباچہ قصائد مرزا کلب حسین خاں۔بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…287-288
۱۷۔مرزا غالب۔خاتمہ شعاعِ مہر۔بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…294
۱۸۔مرزا غالب۔اردوئے معلی کاحق تصنیف۔بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردوص…299-300
۱۹۔مرزا غالب۔شہادت(مولوی حیدر علی کے مباہلے سے متعلق)بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…317
۲۰۔مرزا غالب۔دہلی سوسائٹی کے جلسے میں مرزا غالب کا مضمون۔بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…340-341
۲۱۔مرزا غالب۔پیارے لال آشوب سے متعلق ایک تاثر۔بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…347
۲۲۔مرزا غالب۔مرزا غالب کے خودنوشت حالاتِ زندگی۔بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…355
۲۳۔مرزا غالب۔مرزا غالب کے خود نوشت حالاتِ زندگی۔بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…355
۲۴۔مرزا غالب۔مرزا غالب کے خود نوشت حالاتِ زندگی۔بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…356-357
۲۵۔مرزا غالب۔عرضی دعویٰ۔(ازالہ حیثیت عرفی کی نالش میں غالب کی تحریریں)بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…366
۲۶۔مرزا غالب۔مختار نامہ۔(ازالہ حیثیت عرفی کی نالش میں غالب کی تحریریں)بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…367
۲۷۔مرزا غالب۔درخواست بنام ڈپٹی کمشنر دہلی(ازالہ حیثیت عرفی کی نالش میں غالب کی تحریریں)بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردوص…367-368
۲۸۔مرزا غالب۔دوفارسی شعروں کے مطالب۔بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…373
۲۹۔مرزا غالب۔دوفارسی شعروں کے مطالب۔بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…373
۳۰۔مرزا غالب۔مثنوی’’لواء￿ الحمد‘‘پرغالب کی اصلاح کے الفاظ۔بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…379
۳۱۔مرزا غالب۔’’موہبتِ عظمی‘‘ پر تنقیدی حواشی۔بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…393
۳۲۔مرزا غالب۔دونقلیں اور ایک لطیفہ۔بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…400
۳۳۔مرزا غالب۔ایک تشریح(قاطع برہان کے قضیے کے دوران)بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…413-414
۳۴۔مرزا غالب۔مرزا غالب کی آخری تحریر برائے اخبارات۔بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…418-419
۳۵۔مرزا غالب۔مرزا غالب کی آخری تحریر برائے اخبارات۔بحوالہ مجموعہ نثر غالب اردو۔ص…419-420-421
ghalib-story_647_122716053530

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook