Home / خبریں / فارسی میں علم بلاغت کا ارتقا

فارسی میں علم بلاغت کا ارتقا

03
٭ڈاکٹر محمد حسین

صدر شعبۂ اردو گورنمنٹ ڈونگر کالج، بیکانیر، راجستھان، انڈیا
Mob.09413481379
Email:husainbkn@gmail.com
فارسی میں بلاغت کے مباحث عربی بلاغت پر مبنی ہیں۔عربی میں بلاغت کے سلسلے میں چھٹی صدی ہجری تک بنیادی اور اہم کارنامے انجام دیے جا چکے تھے۔عربی کے زیر اثر فارسی میں بھی علوم بلاغت کی تصنیف و تالیف کا سلسلہ شروع ہوا۔فارسی شاعری میںابتداً شعرا سادہ گوئی کی طرف مائل رہے لیکن رفتہ رفتہ صنعتوں کے استعمال کا رجحان زور پکڑنے لگا۔رودکی ؔاور اس کے معاصرین کے کلام میںصنائع شعری کافراوانی سے استعمال ہوا ہے۔مثلاً رود کیؔکے مندرجہ ذیل شعر میں :
آفرین و مدح سود آید ہمی
گربہ بہ گنج اندر زیان آمد ہمی
نظامی عروضی نے اس شعر میں سات صنعتوں؛مطابق،متضاد،مساوات،عذوبت،فصاحت اور جزالت کی طرف اشارہ کیا ہے۔فارسی بلاغت نویسوں نے اپنی تصانیف میںصنائع شعری کی وضاحت میں زیادہ تر مثالیں چوتھی اور پانچویں صدی ہجری کے شعرا کے کلام ہی سے دی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک شعرا صنائع شعری کا خوب استعمال کرنے لگے تھے، اس کے باوجود پانچویں صدی ہجری کے نصف ثانی تک فارسی زبان میں بلاغت سے متعلق کوئی کتاب نہیں لکھی گئی اور نہ صنائع شعری کے لیے فارسی زبان میں الگ سے اصطلاحات وضع کی گئیں؛دیگر علوم کی طرح شعر وادب میں بھیِ عربوں کی تقلید کی گئی۔چنانچہ بلاغت کے سلسلے میں عربی کتب سے استفادہ کیا گیا ۔۱؎
پانچویں صدی ہجری میں فارسی بلاغت سے متعلق اولین کو ششیں شروع ہوئیں۔غزنوی عہد کے اوائل میں فارسی عروض سے متعلق کچھ رسائل لکھے گئے لیکن وہ محفوظ نہ رہ سکے۔ علم بلاغت سے متعلق کوئی تصنیف اس صدی کے آخر تک نظر نہیں آتی۔ شاعروں کے کلام میںصنائع شعری کا جواستعمال ہوا ہے وہ غالباً عربی کتبِ بلاغت کا رہین منت ہے۔کیقائوس بن سکندر کی کتاب ’اندرز نامہ‘ سے پہلے کسی فارسی کتاب میں صنائع شعری کا ذکر نہیںملتا۔کیقائوس نے اس کتاب میں ان شعری صنعتوں کی ایک فہرست مرتب کی ہے جو شعرا کو اپنے کلام میں استعمال کرنے چاہیے۔اس کا خیال ہے کہ قصائد میں استعارے کا خوب استعمال کرنا چاہیے۔۲؎
فارسی میں بلاغت سے متعلق لکھی گئی اولین دستیاب تصنیف محمد بن عمر رادویانی کی’ ترجمان البلاغہ‘ ہے ، جو ۴۸۱ھ/ ۱۰۸۸ اور ۵۰۷/ ۱۱۱۴ء کے درمیان لکھی گئی۔ ایک عرصے تک اسے فرخیؔ سے منسوب کیا جاتا رہا ،مگر استاد احمد آتش نے ۱۳۲۶ھ/۱۹۴۹ء میں اسے مرتب کرکے شائع کیاا ور ثابت کیا کہ اس کے مصنف فرخی ؔنہیں محمد بن عمر رادویانی ہیں۔اس کتاب کی دستیابی سے پہلے’ حدائق السحر‘ کو فارسی بلاغت کی اولین تصنیف تصورکیا جا تا تھا۔
ترجمان البلاغہ ‘ ، ابو الحسن نشر مرغنانی کی تصنیف،’ محاسن فی النظم و النثر‘ کو سامنے رکھ کر لکھی گئی۔دونوں مصنفین کے بارے میں معلومات بہت کم حاصل ہیں’ بروجن ‘کا خیال ہے کہ یہ دونوں ماورا ء ا لنہر کے علاقے میں بو دو باش کرتے ہوں گے۔یہ دونوں تصانیف بلاغت سے متعلق عام درسی کتابیں ہیں ،مگر رادویانی نے اپنی کتاب میں ابوالحسن کے مقابلے قابلِ لحاظ اضافے کیے ہیں۔اس نے نہ صرف صنائع کی تعریف زیادہ جامع انداز میںبیان کی بلکہ صنعتوں کی تعدا د میں دوگنے سے زیادہ اضافہ کیا۔اس نے صنائع کی مثالیں فارسی اشعار سے پیش کی ہیں۔گواس میں صنائع کے نام عربی زبان میں دیے گئے ہیں مگر ان کے فارسی متبادلات پیش کیے گئے ہیں۔رادوانی کے یہاں علومِ بلاغت کی واضح تقسیم نظر نہیں آتی جس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک عربی بلاغت سے متعلق کتابوں میں بھی یہ تقسیم واضح نہ ہو سکی تھی۔اگرچہ رادویانی اپنی کتاب میں علمِ بدیع سے متعلق صنائع کو زیادہ جگہ دی ہے تاہم اس نے تشبیہ استعارے اورکنایہ کو بھی اس کتاب میں شامل کیا ہے؛یہ صنائع علمِ بیان سے متعلق ہیں۔وہ اپنی اس کتاب میں عنصری کے شعری اسلوب کو معیاری اسلو ب قرار دیتا ہے۔ رشید وطواط نے اس سے استفادہ کیا لیکن اس کا حوالہ دینا مناسب نہیں سمجھا، اس پر مزید یہ کہ وہ اس کتاب پر اعتراض بھی کرتا ہے ۔احمد آتش’ ترجمان البلاغہ ‘کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’بدیں وسیلہ ( ترجمان البلاغہ) وومیںماخذ کتابِ’ حدائق اسحر ‘ رشید الدین وطواط نیز متعین شد: چنانچہ از مقابلہئٔ چند صفحہ ٔ این کتاب پیدا است ، کلیۂ امثلۂ عربی کہ رشید الدین وطواط ذکر کردہ است۔البتہ غیر از اشعار خود ، ماخوز از یں کتاب است۔‘‘۳؎
ترجمان البلاغت کے بعد فارسی بلاغت سے متعلق دوسری کتاب ’ حدائق السحرفی دقائق الشعر‘ ہے،اس کا مصنف امیر رشید الدین محمدی معروف بہ رشید وطواط (م ۵۷۸ھ/ ۸۳۔۱۱۸۲ء) ہے۔یہ کتاب فارسی بلاغت کی تاریخ میںمعیاری نصابی کتاب قرار پائی۔اگرچہ وطواط نے’ ترجمان البلاغہ‘ سے استفادہ کیا ہے تا ہم اس کتاب کی اپنی امتیازی خصوصیات بھی ہیں ،جن کے سبب اس کی اہمیت مسلّم ہے۔’ترجمان البلاغہ ‘میں سامانی ا ور غزنوی عہد کے اولین زمانے سے متعلق شعرا کے کلام سے مثالیں پیش کی گئی تھیں ،وطواط نے ان کی جگہ ہم عصر شعرا کے کلام سے مثالیںپیش کی ہیں۔اگرچہ وطواط نے بیشتر وہی صنعتیںاپنی کتاب میں شامل کی ہیں جوماقبل کتب میںموجود تھیں، لیکن اس نے ان صنعتوں کی تعریف زیادہ جامع انداز میں پیش کی ہے۴؎، اور ماقبل مصنفین سے اختلاف بھی کیا ہے ۔یہکتاب اس لیے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ اس میں اس عہد کے شعرا کا ایسا کلام محفوظ ہو گیا جو کسی اور کتاب میں نہیں ملتا۔ علاو ہ ازیںاس میںمعاصر شعرا کے کلام پر جا بجا تنقیدی رائے کا اظہار بھی کیا گیاہے؛ ایک معاصر نقاد کی رائے اس عہد کے شعرا کی تعین قدر میں یقیناً بڑی اہمیت رکھتی ہے،اس لیے عملی تنقید کے نقطۂ نظر سے بھی یہ کتاب قابلِ قدر ہے۔ اس کے باوجود اس کی ترتیب و تدوین میں کچھ خامیاں بھی راہ پاگئیںہیں، جن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صاحبِ ’معانی و بیان‘ نے لکھا ہے کہ:
’’متاسفانہ،درین کتاب نظمِ منطقی وجود ندارد۔یعنی مصنف صنائع مربوط بہ شعر،صنائع مربوط بہ نثر و یا صنائع مشترک میان ِ نظم و نثر جداگانہ بحث نہ کردہ است؛البتہ تمام صنائع را تعریف کردہ و در آغازنامِ صنعت را بہ عربی و سپس ترجمۂ فارسی آن را گفتہ و پس ازان ،مثال آورردہ است۔‘‘۵؎
حدائق السحر کی مقبولیت نے دیگر مصنفین کو علمِ بلاغت پر تصنیف و تالیف کی ترغیب دی۔چنانچہ فارسی بلاغت سے متعلق متعدد کتابیں سامنے آئیں ،ان میں شرف الدین حسن رامی ( ۸ ویںصدی کے نصف آخر) کی حدائق الحقائق،علی بن محمد تاج حلاوی ( ۸ ویںصدی کے نصف آخر) کی ’دقائق ا لشعر‘ ،میر سید برہان الدین عطااللہ (م ۹۱۹ھ/۱۵۱۳ء) کی ’بدا ء الصنائع‘ ‘ اور ’تکمیل الصنائعِ‘اہم ہیں۔
شرف الدین حسن رامی کی کتاب شائع ہو چکی ہے ۔یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے۔پہلے حصے میں پچاس ابوا ب ہیں ،جو وطواط کی کتاب پر مبنی ہیں۔دوسرا باب اصطلاحات ِ عروضی سرایندگانِ متاخر کے عنوان سے ہے۔
بلاغت کی صنائع کو پیش کرنے کے لیے قصائد بھی لکھے گئے۔جن میں’بدائع الاشعار فی صنائع الاشعارالعجم‘از فخر الدین قوامی معترزی گنجوی،( چھٹی صدی کے اواخر میں) اہم ہے۔اس قصیدہ میں اس دور میں مستعمل صنعتوں کو شامل کیا گیا ہے۔ E G Brown نے بلاغت کی روشنی میں اس قصیدے کی تشریح اور اس عہد کے ایک انگریزی تصنیف سے اس کا تقا بل کیا ہے۔اسی طرح کے قصائد؛ بدر جاجرمی (م ۶۸۷ھ/ ۱۲۸۸ء)،سلامن ساوجی(م ۷۷۸/ ۱۳۷۶ء)، اہلی شیرازی(م ۹۴۲/ ۳۶۔۱۵۳۵ء اور دیگر کئی شعرا نے یادگار چھوڑے ہیں۔
حدائق السحر کے بعد ایک اہم کتاب ’المعجم فی معیارِ اشعار العجم‘ سامنے آئی ۔یہ کتاب۰ ۶۳/ ۳۳۔۱۲۲۳ کے آس پاس لکھی گئی۔ اس کے مصنف شمس الدین محمد بن قیس رازی یا شمس قیس ہیں۔ بروجن کا خیال ہے کہ اگرچہ یہ حدائق السحر کی طرح وسیع پیمانے پر نہیں پڑھی گئی مگر موضوع کے تنوع اور معیارکے نقطہٗ نظر سے حدائق سے کہیں آگے ہے۔دکتر محمد علوی مقدم ،دکتر رضااشرف زادہ اپنی کتاب ’ معانی و بیان ‘ نے اس خیال کا ظہار کیا ہے کہ معیار میں حدائق سے توارد کی حد تک استفادہ کیا ہے۔ انھوں نے اپنے دعوے کے ثبوت میں دونوں کتابوں کا تقابل بھی کیا ہے۔ ۶؎ بہر حال یہ ایک اہم کتا ب ہے جویہ تین حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ عروض،دوسرا قافیہ و نقد الشعر،اور تتمہ کے طور پر تخلیق ِ شعر ، اور سرقے سے متعلق ہے۔دوسرے حصے میں صنائع شعری کو جگہ دی گئی ہے جنھیں مصنف تنقیدِ شعر کے وسائل تصورکرتا ہے۔رازی نے اس میں بہت سے ایسی اصطلاحات شامل کی ہیں جو ما قبل فارسی کتابوں میں نہیں پائی جاتیں ۔اس نے یہ کتاب پہلے عربی میں لکھی بعدازاں خود ہی فارسی کے قالب میں ڈھالا۔ ظاہر ہے اس نے اس کتاب کی تدوین میں عربی کتابوں سے استفادہ کیا ہو گا۔اس کے ہم عصر السکاکی بلاغت کے تینوں علوم؛علمِ معانی،علمِ بیان اور علمِ بدیع کی باقاعدہ تقسیم کرچکے تھے،مگر رازی اس سے نا واقف معلوم ہوتا ہے اس لیے اس کے یہاں ان علوم کی واضح تقسیم نہیں پائی جاتی۔رازی نے بیشتر مثالیں فارسی سے دی ہیں۔ سب سے زیادہ مثالیں انوری کے کلام سے دی ہیں۔اس کے بارے میں جے ٹی پی ڈی بروجن لکھتے ہیں:
”In his description of the types of poetry (ajnas-e She’r wa anwae-e nazm) he pays some attention to the forms which are specifically Persian, but his approach remains inadequate because of its subservience to the categories of Arabic poetics. Yet, Shams-e Qays went further into the direction of an unbiased examination of the phenomena of Persian poetry than any other rhetorician of the traditional school.”7

فارسی میں بلاغت ست متعلق کتب کی تصنیف کا سلسلہ آگے بھی جاری رہا۔اور صنائع شعری میں اضافے بھی ہوتے رہے۔ کچھ کتابوں کی ایک فہرست پیش کی جااتی ہے۔
۱۔ انوار البلاغہ :صفوی عہد میں محمد ہادی مازندرانی معروف بہ آقا ہادی ابنِ ملا محمد مازندرانی نے کے نام سے کتاب لکھی۔اس کتاب کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ یہ غالباً تفتا زانی کی مطول فارسی ترجمہ ہے۔ اس کی اہمیت یہ ہے کہ یہ فارسی داں طبقے کے لیے ایک مبسوط اور جامع کتاب ہے۔مرزا ابو طالب نے ۱۰۹۹ھ/ ۱۶۸۷ء میں رسائل بیان ِ بدیع کے نام سے کتاب لکھی۔اس کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ یہ بھی مطول کا ترجمہ ہے۔
۲۔بدائع الاشعا:ر در قصیدہ ٔ صنائع الاشعار ، فضل اللہ بدائع نگار ( اسٹوری ۔۲۰۸)
۳۔دقائق الشعر:تاج الحلاوی نے آٹھویں صدی ہجر / چودھویں صدی عیسوی ، یہ کتاب اس نے حدائق السحر کے منسوخ ہو جانے کے باعث لکھی ہے۔یہ تین ابواب پر مشتمل ہے۔
۴۔رسالہ معانی و البیان و البدیع :السید االشریف الجرجانی (م ۸۱۶/ ۱۴۱۳ء) ۔ ۱۔ علم معانی،۲علمِ بیان ۳۔علمِ بدیع ؛تینوں علوم پر مشتمل ہے۔
۵۔مفتا ح البدائع:وحید الدین تبریزی اس میں علمِ بیان، علم ِمعانی اور علم ِبدیع پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔
۶۔سالہ صنعتِ تجنیس :کمال الدین نے ۱۱۷۴/۱۷۶۰ میں لکھا۔
۷۔مصابیح الظلام فی اراعۃ اکلام:میر علی حزیں جیلانی( م ۱۱۸۰ھ/ ۱۷۶۶ء)
۸۔ قوانینِ دستگیری:غلام دستگیر نے ۱۲۷۱ھ/ ۵۵۔۱۸۵۴ء میں لکھی۔
۹۔ فانوس خیال :ابوالفخر ارشد اشرف خیال نے ۱۱۸۷ھ/ ۷۴۔۱۷۷۳ء میں کے دوران لکھی۔جو پانچ تمثال اور ایک خاتمے پر مبنی ہے۔
۱۰۔گلزارِ معانی : گل محمد نے شاہ عالم کے زمانے) 1173-1221/ (1759-1806میں لکھی۔ جسے تیرہ شمردہوں پرمنقسم کیا گیا۔
۱۱۔ تلخیص ا لافوائد:خادم علی ظہیر بن کرم علی سندیلوی ، یہ ۱۸۴۶ء میں شائع ہوئی۔
۱۲۔باغیچۂ دانش:۔ حسینی، یہ حدائق السحر پر مبنی ہے۔
۱۳۔اساس الفضل: (حمادا ے حمد زجیل) محاسنِ سخن پر مشتمل کتا ب ہے جس میں صنائع بلاغت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اسی کے ساتھ معائبِ سخن کو بھی موضوع بحث بنایا گیا ہے۔
۱۴۔اصل المقاصد: اسحاق بن عطا ء اللہ
۱۵۔ اعظم الصناح:ز محمد حسین قادری سیفی سفوی ( ۱۲۶۰ھ / ۱۸۴۴ء)
۱۶۔ضوحۃ الصنائع: امام الدین امامیؔ بن شیخ ابو المکارم نعمانی بدوی
۱۷۔مطالع البیان :طاہر بن علی،
۱۸۔رسالہ صغیرہ: عبدالرحما ن جامی کی صنائع شعری اور علمِ عروض کے بارے میں ایک مختصر سی کتاب ہے ۔اس کتاب میں علم عروض و قوافی پر زیادہ بحث ہے تاہم علم بالغت سے متعلق مواد بھی مو جود ہے۔
۹ا۔بدائع الفکار فی صنائع الاشعار: حسین کاشفی بیہقی کی تصنیف ہے۔یہ کتاب شجاع الدولہ امیر سید حسن بن ارد شیر کے واسطے قلم بند کی گئی تھی۔جس میں شمس قیس رازی کی کتاب المعجم فی معائرِ اشعار العجم چربہ اتارا گیا ہے۔
ہندوستان میں فارسی علمِ بلاغت سے پہلی کتاب امیر خسرو نے اعجازِ خسروی کے نا م سے ایک اکتاب لکھی جو تین جلدوں پر مشتمل ہے۔یہ ۷۱۹ھ میں لکھی گئی۔اس میں علمِ بدیع کی صنعتوں کو خاص جگہ دی گئی ۔سینکڑوں صنعتیں جمع کرنے کے ساتھ اپنی طرف سے بھی کئی صنعتیں ایجاد کی ہیں۔ اس کتاب کے بارے میں ایم جی زبید احمد لکھتے ہیں:
”This book is in Persian, but has given Arabic examples,all his own,of all the rhetorical devices and figures of speach that he has mentioned in this work. Amir Khusraw invented many a literary beauty، one or two examples of which may be given here to show that an Indian mind , whether intrested in Arabic or Persian literature,has never failed to respond wherever there is any call for artificial contrivances, for farfetched conventions and for an exessive use of fancy and imagination.”8
ترجمہ:
’اعجازِ خسروی ‘ فارسی میں ہے،لیکن صنایع بدائع کی مثالیں عربی زبان سے دی گئی ہیں جو خسرو کی خود ساختہ ہیں۔یہاں ان صنائع ادبی میں سے کچھ کی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں جو امیر خسرو نے ایجاد کیں،جن سے پتہ چلتا ہے کہ ایک ہندوستانی ذہن نے جب عربی یا فارسی میں اپنی دلچسپی کا مظاہرہ کیا تو وہ صناعتی تدابیر اور حیرت انگیز طرز اظہار اور پر تزئین اسلو ب اور تخیل کی بلند پرواز ی کے مظاہرے میں کبھی ناکام نہیں رہا‘‘
زبید احمد نے دوصنعتیں ؛ترجمۃ الفظ اور ذو رویتین مثال کے طور پر پیش کی ہیں۔
جامع الصنائع والوزن:
اس کے مصنف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا نام عاشقِ صادق ہے۔ لیکن مجاہد غلامی کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے مصنف کا نام سیفی جام الحروائی ہے۔اس نے یہ کتاب فیروز شاہ تغلق(AH 750-790\A.D 1351-1388) کے شہزادے فتح خان کی فرمایش پر لکھی۔ Mojahed Gholami نے سیفی جام الحروائی کا بیان نقل کرتے ہوئے اس کا نگریزی ترجمہ پیش کیا ہے:
“Since I had good sense in treasures of poetry and good judgment in secrets of Alankar, I saw it incumbent on me to create a comprehensive collection in this subject as an instructional book for the study of the laity and professionals…abundant explanations make it unnecessary for pupils to consult teachers and ample explications make referring to any other books unnecessary. And whatever there is in Arabic rhetorical devices congruent with the rhetoric of Talkhis and Meftah is provided here with full explications and all the details invented by rhetoricians in this country are included in this collection and I have named it Jame-ul Sanye’ Wal-Oazan (Nushahi, 2001, p. 42).”9
جلوس شاہجہاں کے ۲۴و یں سال میں نظام الدین احمد ابنِ محمد صالح صدیقی نے’مجمع الصنائع‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ۔ یہ کتاب چار فصلوں پر مشتمل ہے۔۱۔ تقسیم الکلام۲۔بدائع لفظی۳۔ بدائع معنوی ۴۔سرقۃ الشعر اور اصطلاحات پر مشتمل ایک ضمیمہ ۔ اس مصنف کا خیال ہے کہ بلاغت کا علم عربوں کی دین ہے اور غیر عرب ان کے مقلدِ ہیں۔ اس کتاب کی تصنیف کے پیچھے اس کا مقصد بلاغت کے صنایع کی تفہیم کے لیے فارسی مثالیں جمع کرنا ہے۔نظام الدین احمد بن محمد صالح کی اس کتاب کی بنیا د پر francis Gladwinنے Dissertation of Rhetoric ,prosody and Rhym of the. Persian(Culcutta1801) لکھی۔Mojahed Gholami نے مصنفِ کتاب کا بیان یوں مندرج کیا ہے۔
”The author of Majma-ul Sanaye’, a book written during the reign of Shah Jahan, also describes his book’s relation with Arabic rhetoric thus:It is obvious for the masters of rhetoric that the art of rhetoric is specific to Arabs and non-Arab orators of this art are mere followers; however, since it was decided to translate examples of Persian poetry in this work, diverting way from the Arab territory to non-Arab was inevitable and since passing quickly by it could bring blemishes on the book, several comprehensible poems by rhetoricians were added and some verses from the Holy Koran and some Hadiths by the Prophet were inserted only for the blessing of the book (Seddighi, p. 9).”10
اس کے علاوہ اس نے بحر الصنائع ( یہ ایک عروضی کام ہے)کے نام سے بھی ایک تصنیف یادگار چھوڑی ہے۔مرزا خان ابنِ فخر مرزا فخرالدین احمد نے (AH 1069-118\A.D 1658-1706) عہدِ اورنگ زیب میں تحفۃ الہند کے نام سے بلاغت سے متعلق تصنیف پیش کی۔ اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا تیسرا حصہ النکار شاستر کے لیے مخصوص ہے۔یعنی یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں سنسکرت علمِ بلاغت کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔Mojahed Gholami نے اس کے مالہ وما علیہ پر تبصرہ کرتے ہو لکھا ہے کہ:
”The background of the theory of Rasa in Indian rhetoric goes back to seven centuries before the composition of Tohfat-ul Hind. The theory of Rasa or the flavor of poem and the theory of Dhvani or echo were both introduced by Abhinavagupta who lived during the tenth and eleventh centuries A.D and had a great role in the theoretical system of Indian rhetoric. This subject is almost similar to the subject of gpoetical motivesh in Iranian rhetorical books. Another valuable discussion in the books is the analysis of the six opmans (similes) in Indian rhetoric. This topic is particularly important because it provides a ground for a comparative analysis of simile in the two Arabic and Indian rhetorical systems. Some similes have identical structure in Indian and Arabic rhetoric and some are different; for instance, the greverse simileh has this structure in Arabic rhetoric: A=B ¨ B=A and it is different with the structure of reverse similes in Indian rhetoric:A=B ¨ B=C ¨ C=D”11
میر غلام علی بلگرامی نے ۱۱۷۸ھ/ ۱۷۶۴ء میں غزالان الہند کے نام سے کتاب لکھی یہ دو مقالوں پر مشتمل ہے۔یہ مصنف کی اپنی عربی کتاب سبحۃ المرجان کے کے تیسرے اور چوتھے باب کا ترجمہ یا اس کی ترجمانی ہے۔یہ دو مقالے مندرجہ ذیل ہیں۔
۱۔دربیانِ صنائع
۲۔در بیانِ نائکا بھید
اس میں انھوں نے عربی و فارسی صنائع شعری کے ساتھ سنسکرت صنائع شعری سے بھی بحث کی ہے اور ان کاتقابلی مطالعہ پیش کیا ہے۔اس تقابلی مطالعے سے یہ بات ابھر کار سامے آتی ہے کہ :
۱۔کچھ صنائع دونوں زبانوں ( عربی اور سنسکرت) میں مشترک ہیں۔ جیسے ایہام، مطابقتِ معنوی، حسن تعلیل،استعارہ تشبیہ مقفیٰ نثر وغیرہ۔
۲۔ کچھ صنعتیں عربی سے مخصوص ہیں ۔جیسے ضغمہ اور حسنِ تخلص۔
۳۔کچھ صنعتیں سنسکرت کے ساتھ مخصوص ہیں۔
اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے Mojahed Gholami لکھتے ہیں:
The first article of Ghezalan-ul Hind is on the definition and description of the third type, namely Indian rhetorical devices. Some of these devices have existed in Indian rhetoric from the past and some are innovations by Azad Belgerami. Some noted devices in Indian rhetoric and some of Azad Belgrami’s innovations are different variations of simile all of which are new to those accustomed to Arabic rhetoric. Though existing in Persian poetry before the tenth and eleventh centuries after Hegira in Persian poetry, these similes are not considered special types of simile and have had no distinctive term. In fact, Iranian and Arab rhetoricians do not perceive similes as Indian rhetoricians do. In Indian rhetoric, similes are structurally analyzed.12
ا ن کتابوں کے علاوہ ہندوستان میں علم بلاغت پر مندرجہ ذیل کتابیں لکھی گئیں جو بیشتر روایتی قسم کی ہیں۔ان میں وہ بات نہیں جو جامع الصنائع والوزن اور غزالان الہند میں ہے۔تاہم ان کی اپنی اہمیت یہ ہے کہ یہ کتابیں فارسی اور اردو شعرا کے لیے مشعلِ راہ کا کام کرتی رہیں اور انھیں کی روشنی میں اردو کا علمِ بلاغت مدون ہوا۔:
۱۔صنائع الحسن : ناصرالدین الحراوی۔مصنف نے اس کا انتساب اپنے مربی شاہ حسن سندھ کے نام کیاہے۔
۲۔اندر جیت حقیر نے ۱۱۳۰ھ/ ۱۷۱۸ء میں عروض وبلاغت پر مبنی مختصر رسالہ ’طراز الانشا ‘ کے نام سے لکھا،جو ایک مقدمے بعنوان درخصوصیات علم البیان والعلومِ غیر عین،اور مندرجہ ذیل پانچ ابواب پر مشتمل ہے۔
۱۔در استعارہ ۲۔در متضاد المتاسل ۳۔ در مراعات انظیر ۴۔در سیاقۃ الاعداد ۵۔در صفات الوان
ان کے علاوہ ایک خاتمہ بھی ہے جو بحور کے ناموں اورصنائع شعری پر مشتمل ہے
۳۔موہبتِ عظمیٰ :سراج الدین علی خان آرزو (م ۱۱۶۹ھ/ ۱۷۵۶ء)نے علم بلاغت سے متعلق اہم کارنامے انجا دیے۔ یوں تو انھوں نے فارسی زبان و ادب سے متعلق کئی اہم تصانیف یادگار چھوڑی ہیں جن میں تذکرۂ شعرا اور چراغ ہدایت بہت مشہور ہیں۔ دیگر کتابوں سے قطع نظربلاغت سے متعلق ان کی دو کتابوں کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ان میںپہلی مو ہبت عظمیٰ اوردوسری عطیۂ کبریٰ ہے۔ موہبتِ عظمیٰ علمِ معانی پر مشتمل ہے اس میں کل آٹھ ابواب ہیں اور آخر میں خاتمہ بھی ہے، جس میں مصنف نے بجا طور پر دعویٰ کیا ہے کہ اس سے پہلے فارسی زبان میںعلمِ معانی پرکسی نے نہیں لکھا۔
۴۔عطیۂ کبری: :سراج الدین علی خان آرزو (م ۱۱۶۹ھ/ ۱۷۵۶ء)- کی دوسری تصنیف ہے ۔مصنف کے مطابق فارسی میں تشبیہ و استعارہ ، کنایہ وغیرہ کے بارے میں ،اس کتاب میں جدا گانہ انداز میں بحث کی گئی ہے اور فارسی ادب کی تاریخ میں یہ اپنی طرح کی پہلی بحث ہے۔اسے مندرجہ ذیل بحثوں میں منقسم کیا گیا ہے۔
۱۔بحث بیان ۲۔بحث تشبیہ ۳۔حقیقتِ مجاز ۴۔امثال ۵۔کنایہ ۶۔اطراد
یہ کتاب ۱۸۳۲ء میں کلکتہ سے شائع ہو چکی ہے۔
۵۔مفتاح الصفا :راجہ رام نراین موزوں-
۶۔حدائق البلاغہ :میرشمس الدین فقیر عباسی ( ۱۱۱۵ھ/ ۱۷۰۳ء تا ۱۱۸۳ھ/ ۷۰۔۱۷۶۹ء) کی تصنیف حدائق البلاغہ بہت زیاد ہ مقبول و مشہور ہوئی۔ اس کا اردو ترجمہ امام بخش صہبائی نے کیا بعد ازاں کچھ اور بھی ترجمے ہوئے اور تلخیصیں لکھی گئیں۔ اردو میں عروض و بلاغت پر لکھی جانے والی کتابوں میں بیشتر اسی کتاب سے استفادہ کیا گیا ہے۔
۷۔ خلاصۃ البدیع :میرشمس الدین فقیر عباسی ( ۱۱۱۵ھ/ ۱۷۰۳ء تا ۱۱۸۳ھ/ ۷۰۔۱۷۶۹ء)
۸۔تذکرہ بہارستانِ سخن :شاہ نواز خان اورنگ آبادی ۔یہ بارہ ابواب پر مشتمل ہے۔تذکرہ کے تقریباً آدھاحصہ عروض و بلاغت سے متعلق ہے۔ایک لحاظ سے یہ بھی ان موضوعات پر ایک مستقل تصنیف کا درجہ رکھتا ہے۔
۹۔ ریاض الصنائع: مہاراجہ کالی کشن ( کالی کرشنا دیوا)۔اس میں صنائع شعری کابیان اور ممتاز قدیم اور ہم عصر شعرا کے کلام سے مثالیں پیش کی گئی ہیں۔
۱۰۔ تحفۃ الشعرا غلام حسین خان جو ہر ( اٹھارہویں انیسویں صدی)
۱۱۔ التنویح بالتشبیہ :محمد سعداللہ مرا آبادی( ۱۲۱۹ھ/ ۱۸۰۴ء تا ۱۲۹۴ھ/ ۱۸۷۷ء)
۱۲۔ انجمنِ نگارستان : یہ محمد عبد الاحد طیب ( رئیس آف نمرو) کے ان خطوط پر مشتمل ہے جن میں صنائع شعری کے بارے میں اظہارِ خیال کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ۱۸۷۷ ء میں لکھنئو سے شائع ہوئی۔
۱۳۔مرأۃ الصنائع شاہ محمد عزیزاللہ صفی پوری : آگرہ
۱۴۔ہفت قلزم :ایک سو صنائع لفظی و معنی کی فہرست میں پیش کی گئی جسے قبول احمد نے ۱۸۲۲ ء ( لکھنئو)میں مرتب کیا ۔ جسے Fr.
Ruckert نے ترجمہ کیا۔
۱۵۔ رسالہ نادرہ:امام بخش صہبائی ۔
۱۶۔مناقشاتِ سخن: امام بخش صہبائی ۔
۱۷۔مفتاح الصنائع( فارسی) : مفتی نظام الدین سرہند ی ۱۱۷۴ھ
۱۸۔رسالہ در فنِ بدیع: ( فارسی) مولانا مغیث الدین ہانسوی
۱۹۔منظوم رسالہ در فنِ بلاغت: مولوی عبد الکریم حنفی ٹونکی
۲۰۔رشحات الاعجاز فی تحقیق الحقیقہ والمجاز (فارسی): شیخ محمد غوث بن ناصرالدین شافعی مدراسی
۲۱۔خلاصۃ البدیع رسالہ بزبانِ فارسی: شیخ شمس الدین عباسی
۲۲۔نہر الفصاحت : اور شجرۃ لامانی( فارسی) مرزا محمد حسن قتیل لکھنوی
۲۳۔رسالہ در فنِ بلاغت : شیخ واسع ہانسوی
۲۴۔رسالہ در بحث و استعارہ: مفتی سعد اللہ مراد آبادی
۲۵۔معیار البلاغہ : مولوی سکندر علی خاں خالص پوری( غالباً فارسی میں لکھی گئی)
۲۶۔فنِ بدیع پر کتاب: شیخ حبیب ا للہ اکبر آبادی( غالباً فارسی میں لکھی گئی)
۲۷۔تحفۃ الفقیر( فنِ بدیع )مصنفہ قاضی رضی الدین مرتضیٰ ،بیجاپوری بعہد ابراہیم عادل شاہ سلطان بیجاپوری
( غالباً فارسی میں لکھی گئی)
۲۸۔ حدائق البیان : شیخ منو بن عبد المجید لاہوری
۲۹۔رسالہ کائناتِ کریم : بھونت رائے ( فارسی)
۳۰۔نکات البدائع و مرأ ۃ الصنائع: درویش محمد حیدرآبادی( فارسی بلاغت)
۳۱۔دستورِ شگرف: بھونت رائے (بلاغت فارسی)
۳۲۔جامع الفوائد : نوازش علی خاں شیدؔ ( فارسی)
۳۳۔قواعدِ معما : درویش محمد حیدر آبادی( فارسی )۱۳؎
فارسی میں بلاغت کے اس مطالعے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ۔فارسی میں علم بلاغت عربی بلاغت کے انداز ہی پر مدون ہوا۔اس میں بھی وہی تما م مباحث شامل ہیں جو عربی کتابوں میں پہلے سے موجود ہیں۔تاہم صنائع بدائع کی تفہیم میں عربی کے بجائے فارسی سے مثالیں پیش کرنے کا رجحان عام رہا۔اسی کے ساتھ فارسی شعرا کی صنعت پسندی کے پیشِ نظر علمِ بدیع میں صنعتوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔لیکن معانی و بیان کے سلسلے میں کوئی اضافہ نہ ہو سکا۔تا ہم فارسی میں بھی کچھ اہم کتابیں لکھی گئیں اور ان سے اہلِ ایران وہند نے استفادہ کیا۔ایران کے علاوہ ہندستان میں بھی فارسی میں علمِ بلاغت سے متعلق کتابیں لکھی گئیں اور ان میں شاعری کومرکزیت حاصل رہی۔چنانچہ اردو شعرا نے زیادہ تر فارسی میں لکھی گئی کتابوں کو اپنے پیشِ نظر رکھا اور ان سے حسبِ استعداد استفاد ہ کیا۔ان کتابوں میں عبد الواسع ہانسوی ،سراج الدین علی خان آرزو، شمس الدین فقیر ،اور مرزا محمد قتیل کی تصنیفات اس لیے اہمیت کی حامل ہیں کہ ان کے مصنفین کا تعلق فارسی کے ساتھ کسی نہ کسی طرح اردو زبان و ادب سے بھی تھا اور ان کی فارسی تصانیف شعرائے اردو کے لیے بھی مشعلِ راہ بن گئیں۔جب اہلِ اردو نے بلاغت پر کتابیں لکھیں تو بلاغت کی بنیادی کتب کے ساتھ ہندوستان میں لکھی گئی کتابیں بھی ان کے پیشِ نظر رہیں۔

حواشی:
۱؎معنی و بیان۔ دکتر محمد علوی مقدم ،دکتر رضااشرف زادہ، تہران ۱۳۸۷ھ ( طبع ہشتم)سازمانِ مطالعہ و تدوینِ کتب علومِ انسانی ،دانشگاھہا(سمت)،ص ۱۴
۲؎Badi’-Encyclopeadia Iranica-
http://www.iranicaonline.org/articles/badi-1-rhetorical-embellishment
J. T. P. de Bruijn,Originally Published: December 15, 1988,Last Updated: August 19, 2011,This article is available in print.Vol. III, Fasc. 4, pp. 372-376
۳؎۔در مقدمۂ ترکی ص ۴۱ ،حاشیہ ۔۱، براے نمونہ چند مثال ذکر کردہ است) ( ترجمان البلاغہ‘،محمد بن عمر الراد ویانی، لکلۃ الادب بالجامعۃ الاستانبولیہ، مرتبہ احمد آتژ، ۱۹۴۹ء ص ،ی۔ا،ی۔ب
۴؎Badi’-Encyclopeadia Iranica-
http://www.iranicaonline.org/articles/badi-1-rhetorical-embellishment
J. T. P. de Bruijn,Originally Published: December 15, 1988,Last Updated: August 19, 2011,This article is available in print.Vol. III, Fasc. 4, pp. 372-376
۵؎۔معنی و بیان۔ دکتر محمد علوی مقدم ،دکتر رضااشرف زادہ، تہران ۱۳۸۷ھ ( طبع ہشتم)سازمانِ مطالعہ و تدوینِ کتب علومِ انسانی ،دانشگاہ(سمت) ص،۱۹
۶؎۔معنی و بیان۔ دکتر محمد علوی مقدمہ،دکتر رضااشرف زادہ، تہران ۱۳۸۷ھ ( طبع ہشتم)سازمانِ مطالعہ و تدوینِ کتب علومِ انسانی ،دانشگاھہا(سمت) ص۱۹
۷؎ ۔Badi’-Encyclopeadia-Iranica
http://www.iranicaonline.org/articles/badi-1-rhetorical-embellishment
J. T. P. de Bruijn,Originally Published: December 15, 1988,Last Updated: August 19, 2011,This article is available in print.Vol. III, Fasc. 4, pp. 372-376
۸؎۔The Contribution of Indo- pakistan to Arabic Literature- M G Zubaid Ahmed, II Edition 1965Ashrafi press Lahore , Page Number 208-209
۹؎۔International AcademicJournal of Social Sciences Vol. 3, No. 12, 2016, pp. -15.
ISSN 2454-3918
۱۰؎۔International AcademicJournal of Social Sciences Vol. 3, No. 12, 2016, pp. -15.
ISSN 2454-3918
۱۱؎۔International AcademicJournal of Social Sciences Vol. 3, No. 12, 2016, pp. -15.
ISSN 2454-3918
۱۲؎۔International AcademicJournal of Social Sciences Vol. 3, No. 12, 2016, pp. -15.
ISSN 2454-3918
۱۳؎۔ نمبر شمار ۱۷ تا ۲۸-مولانا حکیم سید عبد الحی،ترجمہ مولانا ابوالعرفان ندوی،دارالمصنفین اعظم گڑھ،۱۹۷۰ء ص ۵۹ تا۶۲ اور
۲۹ تا ۳۳بحوالہ Andhra Pradesh Govt. Oriental Manuscripts Library and Research Institute, Hyderabad, Accession Register Book No.1,Persian ,Urdu Arabic Books

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook