Home / خبریں / فروغ اردو کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال اورڈاکٹرمحمداسلم فاروقی کی خدمات

فروغ اردو کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال اورڈاکٹرمحمداسلم فاروقی کی خدمات


ڈاکٹر عزیز سہیل،حیدرآباد
drazeezsohail@gmail.com

ڈاکٹرمحمداسلم فاروقی میرے شفیق دوست‘رہبر ‘رہنما اورعصرحاضر میں اردوزبان کوزمانے کے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور اردو کو ٹیکنالوجی سے جوڑنے کی سعی کرنے والے اردو کے ایک سنجیدہ سپاہی ہیں۔ ہم نے اپنے اطراف کئی اردو والوں کودیکھا جویا تو اردوذریعہ تعلیم سے مایوسی کااظہارکرتے ہیں کہ اردو سے پڑھ کر کیا ملے گا۔ مستقبل کا کیا ہوگا۔ اور اردو کی روٹی کھانے والے کئی پروفیسر اوراساتذہ ملیں گے جو اردو کے نام پرجی تو رہے ہیں لیکن اپنے ہی ہاتھوں سے اردوکا مستقبل تاریک کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ لیکن اس کے برخلاف ڈاکٹرمحمداسلم فاروقی ارد ووالوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ دینی مدرسے سے فراغت کے بعدانہوں نے اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھا اور عزم وحوصلے کے ساتھ تعلیمی سفر کوجاری رکھتے ہوئے یونیورسٹی آف حیدرآباد سے پی ایچ ڈی کی۔ پبلک سرویس کمیشن کا امتحان کامیاب کیا اور لیکچرر اور صدر شعبہ اردوکے عہدے پرفائز ہوئے۔اب وہ این ٹی آر گورنمنٹ ڈگری کالج محبوب نگر میں اپنی خدمات انجام دئے رہے ہیں۔
ڈاکٹرمحمد اسلم فاروقی اردو کے دیگراساتذہ کے برخلاف اردومیڈیم طلبہ وریسرچ اسکالرس کی رہبری ورہنمائی کرتے ہیں‘انہیں بروقت معلوما ت فراہم کرتے ہیں اور موضوع سے متعلق اہم تفصیلات فراہم کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ اردوکے بہت کم لیکچررس ایسے ہو ںگے جو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سے استفادہ کرتے ہوئے اردو کو فروغ دے رہے ہیں۔ان میں ایک نمایاں نام ڈاکٹر اسلم فاروقی کا بھی ہے۔ اب سے تقریباََ 10سال پہلے میری ان کی شناسائی اخبارات کے ذریعے ہوئی ۔ جب کہ ظہیرآباد میں ملازمت کے دوران ان کے تقریباً روزانہ کے حساب سے ان کے تحریر کردہ ادبی و معلوماتی مضامین نظام آباد کے اخبار آج کاتلنگانہ میں شائع ہوتے رہے۔ چھ سے آٹھ مہینے تک روز ایک نیا مضمون اوروہ بھی انتہائی معلوماتی اور دلچسپ ۔میری ان سے ملاقات کی خواہش بڑھتی گئی۔ فون پران سے رابطہ تھا۔ ایک عزیز کی شادی میں وہ کچھ گھنٹوں کے لیے نظام آباد تشریف لائے تو میری ان کی پہلی ملاقات ہوئی اورپہلی ملاقات میں ہی انہوں نے اپنی علمی لیاقت اور طالب علموں سے ہمدردی کا اظہار کردیا۔ میرے ریسرچ کے موضوع سے متعلق مفید معلومات فراہم کیں۔ اور جب میں بھی ان کے نقش قدم پر چل کرانٹرنیٹ کے فیس بک سے وابستہ ہوا توان کی سرگرمیوں کا اندازہ ہونے لگا۔ اور آہستہ آہستہ ان کی کارگذاریوں کا سلسلہ بڑھتا ہی گیا۔ جب ان کا ظہیر آباد ڈگری کالج سے گورنمنٹ گری راج ڈگری کالج نظام آبادتبادلہ ہوا توجمیل نظام آبادی ،ڈاکٹرناظم علی اورمیرے ساتھ مل کرانہوں نے اردو اسکالرس اسوسی ایشن کی بنیاد ڈالی۔ اوریہاں اردو کی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔
ڈاکٹرمحمداسلم فاروقی سوشیل میڈیا فیس بک پر بہت مقبول ہیں۔ ساری دنیا سے ان کے تین ہزار سے زیادہ دوست احباب ہیں۔انہوں نے گری راج گورنمنٹ ڈگری کالج نظام آباد کے طلبہ کی سہولت کے لیے’’ شمع فروزاں‘‘ نام کا فیس بک گروپ شروع کیا ہے جس پر کالج کے طلبہ کوروزگار اوردیگرضروری معلومات فراہم کی جاتی ہیں اور دنیابھر کے ماہرین سے رابطہ کا موقع فراہم کیاجاتا ہے۔ انہوں نے ایک اور گروپ ’’اردو ای نامہ ‘‘کے نام سے شروع کیا ہے جس میں انٹرنیٹ پرموجود اردوکتابوں اورمضامین کے ذخائر تک رہبری کی جاتی ہے۔ اس گروپ میں کلیات اقبال‘ شرح دیوان غالب‘ کلیات پروین شاکر کے علاوہ اہم شعراء کے آڈیو ویڈیو کلام اوردیگرمعلوماتی مضامین پیش کیے جاتے ہیں۔ یوجی سی نیٹ اردو امتحان کی تیاری کے لیے انہوں نے ایک گروپ بنایا جس میں طلباء کو اردو معروضی کتابیں پی ڈی ایف کی شکل میں مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ ۔ ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی کے تعلیمی ویڈیو پیج پر مانو اور دیگر جامعات کے اردو ویڈیوز ناظرین کے لیے پیش کئے جاتے ہیں۔ فیس بک ،واٹس اپ کے علاوہ ڈاکٹرمحمداسلم فاروقی ای میل کے ذریعے بھی دنیابھر سے رابطے میں رہتے ہیں۔ احباب کے مضامین کی اصلاح ہو یا کو ئی اورمعاملہ ای میل سے فوری جواب دیتے ہیں۔ ای میل کی بدولت انہوں نے اپنے کالج سمینار کے لیے ڈاکٹرتقی عابدی سے رابطہ قائم کیا اور ذریعے اسکائپ ویڈیو کالنگ کناڈا سے گری راج گورنمنٹ ڈگری کالج نظام آباد راست ویڈیو لیکچر کا اہتمام کیا۔ اس کامیاب تجربے کے بعد کئی اساتذہ نے اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے آن لائن ویڈیو لیکچرز کا اہتمام شروع کیا۔ اس طرح ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی نے دستیاب ٹیکنالوجی کو تعلیم اور فروغ اردو زبان کے لیے استعمال کرنے کا سلسلہ شروع کیا جسے بہت پسند کیا گیا۔ کمپیوٹر پر اردو کامطلب لوگ ان پیچ سمجھتے تھے جس کے ذریعے اخبار شائع ہوتے ہیں اورکتابیں چھپتی ہیں۔ لیکن ان پیچ محدود سافٹ ویئر ہے جو ایم ایس آفس میں کام نہیں کرتا۔ اس کے لیے اردو یونیکوڈ لینگویج ہے ۔ جس کی بدولت ایم ایس آفس ہو یا فیس بک،واٹس اپ کہیں بھی اردومیں لکھاجاسکتا ہے۔
ڈاکٹرمحمداسلم فاروقی کے ساتھ ہم نے اردواسکالر اسوسی ایشن کی جانب سے 2013ء میںنظام آباد میں پہلی مرتبہ اردو یونیکوڈکے استعمال سے متعلق شعوار کو بیدار کرنے کے لئے خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا تھا جس کے لئے یونی کوڈ ماہر مکرم نیاز انجینئر (ریاض )کو مدعو کیا تھا۔اس پروگرام کے کامیاب انعقاد میں بھی ڈاکٹر صاحب کاکافی اہم رول رہا۔ اس سہولت کی بنا اردو گوگل میں ہم سرچ کرتے ہوئے اپنی پسند کاکوئی بھی مواود ڈھونڈ سکتے ہیں۔ اردو فائلوں کو پی ڈی ایف اور کورل ڈرا کے ذریعہ خوش نما اردو لکھناڈاکٹرمحمداسلم فاروقی نے نظام آبادکے کئی احباب کوسکھایا۔ اپنی کمپیوٹر صلاحیتوں کو دینی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے ڈاکٹرمحمداسلم فاروقی نے دوسال قبل عازمین حج کی رہبری ورہنمائی کے لیے اردومیں پہلی ویب سائیٹ’’حج کا سفر‘‘تیار کی جو گوگل سرچ میںhajkasafar.blogspot.comپردیکھی جاسکتی ہے۔ اس ویب سائیٹ پرعازمین حج کے لیے مقامات مقدسہ کے ویڈیو‘تصاویر‘ حج کے طریقہ کی کتابیں‘ بیانات اورنقشہ جات شامل ہیں ۔ اس ویب سائیٹ کا دنیا بھر سے اب تک دس ہزار سے زائد لوگوں نے مشاہدہ کیا ہے۔ڈاکٹر محمداسلم فاروقی نے نظام آباد میں عالمی یوم مادری زبان کے موقع پر اپنے کالج کے طلباء کے ساتھ ایک اختراعی پروگرام’’فون میں اردو گھر گھر میں اردو‘‘ شروع کیا۔ طلباء کے ساتھ انہوں نے خود تعلیمی اداروں‘بازاروں اور اردو داں طبقے سے ملاقات کرتے ہوئے اسمارٹ فون میں اردو کیسے لکھیں سافٹ ویر کی شمولیت کے ساتھ لوگوں کو اردو میں پیغام رسانی کی ترغیب دی۔ اس پروگرام کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی اور لوگوں نے اپنے فون میں اردو کی بورڈ استعمال کرتے ہوئے ارد و میں پیغام رسانی کو عام کیا جس سے اردو رسم الخط کے تحفظ اور فروغ میں پیشرفت ہوئی۔
تدریس میں ٹیکنالوجی کے ضمن میں ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی نے اپنے یوٹیوب چینل پر ۲۰۰ سے زائد معلوماتی ویڈیو اپ لوڈ کئے ہیں۔ ان کے چینل پر رسائی کے لیے یوٹیوب پرaslam faroquiٹائپ کرنا ہوگا۔ وہ جہاں کہیںکسی سمینار یا پروگرام میں خطاب کرتے ہیں اس ویڈیو کی فون میں ریکارڈنگ کرتے ہوئے یوٹیوب پر پیش کرتے ہیں۔ یوٹیوب پر ان کے چاہنے والوں کی تعدادتین ہزار کے قریب ہے۔ اسی یوٹیوب چینل پر ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی نے کالج کے طلباء کی مدد سے نصاب کی تفہیم پر مبنی ویڈیو پیش کئے جس میں سبق کا خلاصہ اسکرین پر دکھائی دیتا ہے اور پیچھے سے طلباء کی آواز میں اس کی بلند خوانی ہوتی ہے۔ ان ویڈیوز میں غزل کی تعریف اور نظم کی تعریف کا اب تک پچاس ہزار سے زائد ناظرین نے دنیا بھر سے مشاہدہ کیا ہے۔گوگل سرچ میں بھی اگر اردو یا انگریزی میں اسلم فاروقی ٹائپ کرنے پر ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی کی تخلیقات اور ان کی جانب سے پیش کردہ مواد تک رسائی ممکن ہے۔
ڈاکٹر محمداسلم فاروقی انفرادی طور پرجدید ٹکنالوجی کو اردوزبان سے جوڑنے کے لئے کافی سنجید نظر آتے ہیں انہوں نے ٹکنالوجی کے موضوع پر کئی مضامین لکھے ہیں ان کا یہ پسندیدہ موضوع رہاہے ۔ان کی کتاب’’ سائنس نامہ‘‘ میں انہوں سائنسی موضوعات پر قلم چلایا ہے وہیں ٹکنالوجی اور ذرائع ابلاغ پر کافی اہم مضامین لکھے ہیںجن میں انفارمیشن ٹکنالوجی کیا ہے،ذرائع ابلاغ اور اس کے اجزا،ہندوستان میں ٹیلی ویژن کی ترقی،ہندوستان میںریڈیوکی ترقی،ہندوستان میںاردو صحافت ،تعلیم میںجدید ٹکنالوجی کا استعمال،فیس بک سہولت یا لعنت،انفارمیشن ٹکنالوجی اور اردو،اردو ذریعہ تعلیم سے روزگار کے مواقع شامل ہیں عصری موضوعات پر مضامین لکھنا ان کی خصوصیت ہے ۔
ڈاکٹر محمداسلم فاروقی کی ایک اور تصنیف ’’کہکشاں‘‘ میںبھی عصری موضوعات پر مضامین شامل ہیں انہوں نے جدید رحجانات پر بھی قلم چلایا ہے اس کتاب میں کیش لس سوسائٹی پر کافی اہم معلومات اردو کے قارئین تک پہنچائی گئی ہے ۔جہاں ٹکنالوجی سے بہت سے فائدہ ہم کو حاصل ہورہا ہے وہیں اس کے نقصانات بھی آئے دن سامنے آرہے ہیں ڈاکٹر محمداسلم فاروقی نے اپنی تصنیف ’’کہکشاں‘‘ میں ڈبیٹ کارڈ دھوکہ دہی ،احتیاط کی ضرورت پر کافی اہم اور معلوماتی مضمون لکھا ہے ۔اسی کتاب میں’’بٹ کوائن کرنسی کتنی حقیقت کتنا فسانہ‘‘ کے موضوع پر ڈیجیٹل کرنسی پر معلومات فراہم کی ہے ۔انٹرنیٹ ٹکنالوجی سے متعلق انہوں نے لکھا ہے ’’انٹرنیٹ کے انقلاب سے دنیا ایک گلوبل ولیج میں بدل گئی ہے اور لوگ اپنی ضروریات کی تکمیل کے لئے ملکی بازار یا قوانین سے پرے ہوکر عالمی با زار کا حصہ بن گئے ہیں،انٹرنیٹ سے قبل ہمیں اپنی ضروریات کی تکمیل کے لئے مقامی وسائل پر انحصار کرنا پڑتا تھا جیسے خبریں پڑھنا یا سننا ہو تو اخبار ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی سہولت درکار تھی ۔تعلیم کے لئے اسکول کی ،خریداری کے لئے بازار کی ،صحت کے لئے ڈاکٹر یا دواخانے کی اسی طرح دولت کی تقسیم کے لئے بنکوںکی لیکن ان یہ ساری سہولتیں ہمیں اپنے گھر بیٹھے انٹرنیٹ کی بدولت اپنے کمپیوٹر یا فون اسکرین پر دستیاب ہیں۔‘‘(کہکشاں،ص۱۰)
اردو کو ٹیکنالوجی سے جوڑنے کی جانب ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے گوگل کی بلاگ سہولت کو استعمال کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی نے اپنے شخصی بلاگ draslamfaroquiurdublog.blogspot.comکے علاوہ گری راج کالج اور این ٹی آر ڈگری کالج کے بلاگ تیار کئے اور شعبہ اردو کی سرگرمیوں کو ان پر پیش کیا۔ ’’دریچے اور تبصرے‘‘ کے نام سے ان کے بلاگ ہیں جن پر وہ مضامین اور تبصرے پیش کرتے ہیں۔ اسی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی نے اپنی تصانیف کو اپنے بلاگ پر پیش کیا ہے۔ ان کی تصانیف عالمی شہرت یافتہ ویب سائٹ ریختہ پر دستیاب ہیں۔ ادب نامہ اور بزم اردو کی ویب سائٹ پر بھی ان کی کتابیں مطالعے اور ڈائون لوڈ کے لیے دستیاب ہیں۔
ڈاکٹر محمداسلم فاروقی نے چند ہم خیال احباب کے ساتھ ملکراردو اسکالرس اسوسی ایشن تلنگانہ کی جانب سے13اکٹوبر2019ء کو میڈیا پلس آدیٹوریم حیدرآباد میں ایک روزہ سمینار’’اردو کا عصری منظر نامہ اور ٹکنالوجی‘‘کا کامیاب انعقاد عمل میں لایا۔اس سمینار میں ٹکنالوجی کے فروغ سے متعلق مقالات پیش کئے گئے ، اردو زبان و ادب کوٹکنالوجی سے جوڑنے اور اردوکے بیش قیمت سرمایہ جو کتابوں کی شکل میں محفوظ ہے اسے یونی کوڈ کی مدد سے سائبر دنیا میں محفوظ کرنے سے متعلق مشورے دئے گئے، اس سمینار میں ڈاکٹرمحمد اسلم فاروقی نے’’ تدریس میں جدید ٹکنالوجی کا استعمال‘‘ کے موضوع پر مقالہ پڑھا۔
ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی نے گری راج گورنمنٹ ڈگری کالج نظام آباد سے عصری ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے ذریعے لیاپ ٹاپ اسکائپ انٹرنیٹ کالنگ کے ذریعے نظام آباد سے ایم وی ایس گورنمنٹ ڈگری اینڈ پی جی کالج محبوب نگر پرآن لائن لیکچر دیا۔ اس لیکچر کا اہتمام شعبہ نظم ونسق عامہ ایم وی ایس گورنمنٹ ڈگر ی کالج محبوب نگر نے ’’ٹائم مینجمنٹ اور روزگار کے مواقع’’کے عنوان پر کیاتھا۔ کالج کے ای کلاس روم میں موجود اردو میڈیم طلبا و طالبات اور لیکچررس سے نظام آباد سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی نے طلبا ء کوکہا کہ وقت کی تنظیم انسانی زندگی کے لئے بے حد اہم ہے۔ آج کے نوجوانوں کے سامنے اسمارٹ فون’انٹرنیٹ‘ٹیلی ویژن ،سوشیل میڈیااور دوست احباب وقت کو ضائع کرنے والے آلے ہیں ان کا درست استعمال سیکھنا چاہئے۔
ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی نے اردو کے ادیبوں اور شعرا کو بلاگ کی سہولت سے استفادہ کا مشورہ دیتے رہتے ہیں ۔انہوں نے حالیہ عرصہ میں مرزا غالب اکیڈیمی حیدرآباد اور نامور ادیبہ نفیسہ خان کے بلاگ تیار کئے ہیں۔جس سے لوگ بہتر طور پر استفادہ کررہے ہیں ۔ ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی کا اپنا بلاگ ہے جس پر ان کی شائع شدہ تمام تصانیف پی ڈی ایف کی شکل میں موجود ہے۔ انہوں نے اپنے کالج کی ویب سائٹ ntrgdcwmbnr.com کو بھی ترقی دینے میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ جس کے سبب این ٹی آر کالج محبوب نگر کی شناخت قومی سطح پر ہوئی ہے۔ آج کل کرونا وبا کے سبب جس طرح لوگ گھروں میں محصور ہیں اور طلباء کا نقصان ہورہا ہے اس موقع پر ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی اپنے کالج کے طلبہ کو واٹس آپ کے ذریعے مواد کی فراہمی اور نصاب کی تفہیم کے لئے آڈیواور ویڈیو کالنگ کے ذریعے لیکچر دے رہے ہیں ۔ڈاکٹر محمداسلم فاروقی نے زوم ZOOMاپ کے ذریعے سے آن لائن کلاسس کا آغاز کیا ہے ۔اور اردو والوں کو مشورہ دئے رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں آن لائن ٹیچنگ کے استعمال میں کافی اضافہ ہونے والا ایسے میں اہل ِاردو ،خاص کر جامعات کے طلبہ اور اساتذہ کو زوم اپ کے استعمال سے واقف ہوتے ہوئے اس متعلق رہنمائی کرنا چاہئے ۔
فاصلاتی تعلیم کے تحت ان دنوں متعداد ویب سائٹس پر طلباء کو گھر بیٹھے تعلیم کے مواقع فراہم کئے جارہے ہیں۔moocsآن لائن لرننگ گھر بیٹھے تعلیم فراہم کرنے کا ایک عصری ذریعہ ہے۔ ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی نے انگلش اینڈ فارن لینگویج یونیورسٹی efluکے پلیٹ فارم سے آن لائن کورسز کے لیے ویڈیو لیکچرز ریکارڈ کروائے۔ جو یوٹیوب پر دستیاب ہیں۔ ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی نے امبیڈکر یونیورسٹی کے فون ان تعلیمی پروگرام میں حصہ لیا۔ نظام آباد میں روشنی ٹی وی پر انہوں نے طلباء کی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے کئی فون ان پروگراموں میں براہ راست حصہ لیا۔ امبیڈکر یونیورسٹی کی ایک کتاب اردو اور جدید مواصلات کے وہ مدیر رہے ہیں ۔ اس کتاب میں اردو کے ٹیکنالوجی سے جڑنے کی تاریخ اور اردو کے عصری استعمالات کو پیش کیا گیا ہے۔ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی نے اپنی کوشش اور اختراع سے ایک اور نیا سلسلہ شروع کیا ہے۔ کاغذ کے بغیر تعلیم کے ضمن میں انہوں نے کالج کے طلباء کے لیے مفوضہ کام اسائنمنٹ کو آن لائن کردیا ہے۔ دئے گئے موضوعات پر طلباء اردو میں لکھ کر مفوضہ کام ای میل سے بھیجتے ہیں۔طلباء کے لیے شرط ہوتی ہے کہ وہ خود سے اردو میں لکھیں کاپی پیسٹ نہ کریں۔ طلباء کے مفوضہ کام کو ایک فائل میں جمع کرکے آن لائن محفوظ کردیا جاتا ہے۔کالج کے شعبہ اردو کے بلاگ پر طلباء کی تخلیقات کو پیش کیا جاتا ہے۔ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی نے تعلیمی اداروں کو 24X7طلباء سے رابطے میں رہنے اور انہیں مسلسل آن لائن تعلیم فراہم کرنے کا نظریہ پیش کیا ہے۔ ہر جماعت کے واٹس اپ گروپ تیار کئے جاتے ہیں جن میں طلباء اور متعلقہ اساتذہ شامل ہوتے ہیں۔ طلباء چھٹی اور گھر پر رہنے کے اوقات میں ان گروپوں میں پیش کردہ تعلیمی مواد پی ڈی ایف‘ آڈیو اور ویڈو کی شکل میں استفادہ کرتے ہیں۔ اس طرح طلباء مسلسل تعلیمی ماحول میں رہتے ہیں۔
ڈاکٹرمحمداسلم فاروقی ایک اچھے صحافی بھی ہیں۔ادبی جلسہ ہویا سمینار ہو پہلے وہ اپنے فون کے فیس بک لائیو سے پروگرام کو دنیا بھر میں براہ راست پیش کرتے ہیں اور پھر وہ اس کی رپورٹنگ مبسوط اورجامع انداز میںکرتے ہیں اور اسے ای میل کے ذریعے مقامی اوردنیا بھر کے اخبارات اور ویب سائیٹ کوبھیجتے ہیں۔انہوں نے بلاگ رائٹنگ بھی شروع کی ہے۔ انٹرنیٹ پران کی اردوخدمات اردو کی نئی نسل کے لیے مشعل راہ ہے۔ مجھے خود اعتراف ہے کہ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے اورڈاکٹرمحمداسلم فاروقی کی یہ اچھی عادت ہے کہ وہ اپنے ساتھ دوسروںکوبھی ترقی کا موقع دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اردو کی ایک نئی نسل تیار ہورہی ہے جس کے میرکارواں ڈاکٹرمحمداسلم فاروقی ہیں ۔

٭٭٭٭

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook