Home / خبریں / فکراقبال اورعصرحاضرکےتعلیمی تقاضے

فکراقبال اورعصرحاضرکےتعلیمی تقاضے

شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؔ کی یوم ولادت پر خصوصی پیش کش

12509884_1667932993464702_715724005693032523_n
٭ڈاکٹر انجم طاہرہ

لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی ،لاہور۔

iqbal_day_1

Abstract
Theme of Iqbal,s thought and poetry is to maintain selfconciosness and individuality of Islamic World. He criticised cotinuously the non Islamic thought and Western Culture to guide the Muslim Youth. He clearly lays speciall emphasis onTeachers, Scholars, Students and Curriculum for betterment of Muslim Identity and self realization. Iqbal discovered a number of weaknesses in Educational Institutions and education system of Hindustan keping in view the philosophy and machanisim of East and West he emphasis on the need to put forward a curriculum which will create a modern theology and integrity. Iqbal combines the best of materialism and spiritualism in his educational philosophy. But despite his ideological strategy our education system is still facing the problems of narrow mindedness and undue freedom, Old treditions and modernity beyond religion .Allama Iqbal has tried to reconnect the broken links of educational treditions of Islam.
This write up focuses on implimentation and renewal of curriculum on our basic concepts of a Muslim regarding God , Prophet Hazrat Muhammad (peace be upon Him),
Quaran and Mysticism. The education must not deliver the innate love of God and Prophet into another ideal.
Key Words: Iqbal,Educational philosophy, God, Prophet SAW, Quran, Science

خلاصہ:
حضرت اقبالؒ کے افکار کا نچوڑ یہ تھا کہ ملّت اسلامیہ کا انفرادی تشخص برقرار رہے جس کے لئے انہوں مغربی تہذیب کے غیر اسلامی افکار کی یلغار کو روکنے کے لئے ان پر زبردست تنقید کی اور عالم اسلام کے نوجوانوں کی رہنمائی کے لئے شاعری کی صورت میں نمایاں اصول چھوڑے۔ انہوں نے ایک نبّاض کی طرح انتشار کے خطرے سے دوچار وحدت اسلامی کو درکار تقاضوں کی طرف بھی نشان دہی کردی جن میں واضح طور پر ان کا مخاطب مکتب، مدرسہ، استاد، نصاب تعلیم اور خانـقاہی نظام رہا ۔فکری کج روی سے بچانے میں یہ سب عوامل بنیادی کردار ادا کرتے ہیں ۔
تعلیم سے مراد وہ مخصوص شعبہ لیا جاتا ہے جس میں خاص عمر تک طالب علموں ( بچوں اور نوجوانوں۔۔۔) کی ذہنی تخلیقی،روحانی قوتوں کی ترتیب و تہذیب کی جاتی ہے اس نشوونما میں نمایاں محرّک اساتذہ اور نصاب ہے ۔
نظام تعلیم پر علامہ اقبال کی نـقادانہ نظر تھی اور انہوں نے مغرب اورمشرق کے فلسفۂ تعلیم اور نظام کار کو سامنے رکھ کر ایسا نصاب تعلیم بنانے کی ضرورت پر زور دیا جس کا مقصود تشکیل جدید الٰہیہ اور ملت بیضا کی سا لمیت اور وقار بحال کرنا ہو۔
لیکن ان کے اس فکری لائحہ عمل کے باوجود آج بھی ہمارا نظام تعلیم تنگ نظری،بے جا آزادی،فرسودہ روایات اور مذہب سے بیگانہ جدیدیت،قدیم دینی مدارس اور جدید انگریزی تعلیم کے نظام کے درمیان ایک عجیب کشمکش کا شکار ہے ۔ اور یوں لگتا ہے کہ شاید اس فرسودہ نصاب تعلیم کی وجہ سے ہمارا آئین ،عدلیہ حتی سیاست ایک مخصوص جاگیردارانہ نظام کے تحت تعطّل کا شکار ہے ۔
اس مقالے میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ فکر اقبال کے تناظر میں عصرحاضر میں رائج نظام تعلیم میں بنیادی طور پر کون سی تبدیلیاں درکار ہیں جن کی بنا پران کی آرزووں کا محور نوجوانان عالم ان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر سکیں۔ہمار ے نوجوانوں کے ذہن میں خدا ،قرآن ،پیامبر اکرم اور صوفیا کرام اور خاص طور پر خانقاہی نظام کا ایک مخصوص تصوّر چلتا آرہا ہے اور فکر اقبال کی روشنی میں اس کی تجدید نو کی اشد ضرورت ہے اس کے علاوہ چند بنیادی نکات جیسے سائنس اور قرآنی علوم کا باہمی استنباط ۔۔۔وغیرہ بھی غور طلب ہیں ۔
کلیدی الفاظ: افکار اقبال،تصورخدا ، قرآن،حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،تصوف اور صوفی،خانقاہیت

اللہ تعا لیٰ نے چند اسماء کی تعلیم دے کر فرشتوں کے سامنے حضرت آدم ؑ کی برتری ثابت کی تو وہ مسجود ملائک ہوئے اور حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلی وحی کے الفاظ میں ہی علم سیکھنے کی تلقین کردی گئی تو پھر یہ مدینۃ العلم (صلعم) ہر وقت ’’ ربِّ زدنی علما‘‘ کی دعا کرتے رہے اور اشیاء کی حقیقت کا علم جاننے کی طلب میں رہے جس کا ماخذ قرآن اور اس کی تعلیمات ہے ۔ اس علم کا ابلاغ مسلم مفکرین کو مختلف ذرائع سے ہوتا رہا جس کے نتیجے میں مسلمان علوم و فنون میں ترقی کرکے علم حساب ،جبر و مقابلہ ،مساحت،علم ھندسہ،علم ہیئت،علم کواکب،علم کیمیا،فن فلاحت کے بانی بنے اور’’یورپ میں اول اول جو رصد گاہ قائم ہوئی وہ مسلمانوں ہی کی بنائی ہوئی تھی۔‘‘ (۱)
علم کا ایک محدود مطلب تعلیم بھی ہے تعلیم سے مراد وہ مخصوص شعبہ لیا جاتا ہے جس میں خاص عمر تک بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی، تخلیقی اور روحانی قوتوں کی ترتیب و تہذیب اورنشوونماکی جاتی ہے اور اس نشوونما میں نمایاں محرّک اساتذہ اور نصاب ہے جو زندگی کے اعلیٰ مقصد اور منزل تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں ۔
اس عمل کو طلبا و طالبات ایک مخصوص عمارت یا ادارہ میں، جس کا نام مکتب،مدرسہ،کالج یا یونیورسٹی ہے، مکمل کرتے ہیں۔ یہ عمارت محض اینٹ اور گارے مٹی کا مجموعہ نہیں بلکہ اس کی تعمیر استاد ،شاگرد ، نصاب تعلیم اور نظام تعلیم سے مل کر ہوئی ہے اور یہ ادارہ معماران قوم کے لئے ہدایت کا سرچشمہ اور فکری لائحہ عمل کا پہلا مرکز ہے ۔
اس عمارت کا اصل حسن استاد ہے جو پیر کامل کی طرح بے لگام امت کی باگ تھامے اسے منزل مقصود کا راستہ بتائے اور اس کی تربیت پر قوم اپنی منزل کو خود کھوجنے کی صلاحیت پا سکے یہ استاد ایسے شاگرد پیداکرے جو انسانیت کے ارتقا کی آخری منزل ہو امام وقت ہو اور بند جہات سے آزاد ہو :
درویش خدا مست نہ شرقی ہے نہ غربی
اور اس عمارت کی تعمیر میں استعمال ہونے والا مواد یعنی نصاب ایسا ضابطہ ہمارے سامنے پیش کرے جو آئین الٰہی کے مطابق فلسفۂ حیات اور ارتقائے حیات کا درس دے۔ خرد کو وجدان الٰہی سے روشناس کرائے اور دینی و دنیاوی علوم میں ہم آہنگی پیدا کرے اور قوموں کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کا کام دے۔
عصر حاضر کا تعلیمی تقاضا اورعلامہ اقبال کی آرزووں کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ ادارہ ایسا ہو جہاں ان کے تخیّل اور سوچ کی بنیادیں عزت نفس ، خودداری،کلمۂ توحید اور ختم نبوت کے درس سے مل کر بنیں جو عملی زندگی میں نہ صرف ان روح کی تطہیر ، مسلم تشخص اور انفرادیت برقرار رکھنے میں معاون ہو سکے بلکہ وہ اپنی گمشدہ میراث اور شاندار ماضی کو بھی دوبارہ حاصل کر سکیں ۔ یہاں سے فارغ التحصیل طلبا حضرت عمر ؓسے فاروق ،اور حضرت ابوبکر ؓ سے صدیق،اور حضرت عثمان ؓ سے غنی اور مولا علی ؑ سے صاحب علم ،امام حسین ؑ جیسے سالارحق اور محمد علی جناح ؒ جیسے قائد اعظم اور خواتین علم و حلم میں سیدہ فاطمہؑ کا پیکر بن سکیں اور ہر نئے محاذ زندگی کے لئے تیا ر رہیں اور آج پھر :
گرمی ھنگامۂ بدر و حنین
پیدا ہو اور ہمارے طلبا صحیح معنوں میں:
حیدر ؑ و صدیق ؓ و فاروقؓ و حسینؑ
کے علمبردار ہوں۔

علامہ اقبالؒ بطور ماہر تعلیم:
اگرچہ ڈاکٹر سید عبداللہ کے بقول علامہ اقبال باقاعدہ ماہر تعلیم نہ تھے مگربلاشبہ ان کی اپنے دور کے تعلیمی نظام اور نصاب پر گہری ناقدانہ نظر تھی۔ عملی طور پر جب ہم ان کی ذاتی زندگی پر نگاہ ڈالتے ہیں تو نصاب سازی میں بطور معلم،ممتحن ،ادیب اور مصنف ان کا اہم کردار نظر آتا ہے ۔بحیثیت استاد عربی،فارسی،فلسفہ،انگریزی،تاریخ،سیاست مدن کی تعلیم اوریئنٹل کالج لاہور( پنجاب یونیورسٹی)، گورنمنٹ کالج لاہور اور اسلامیہ کالج لاہورمیں دیتے رہے اور لندن کے کامرس کالج میں بھی درس و تدریس کے فرائض انجام دیئے ۔ انہوں نے چھوٹے بچوں سے لے کر نوجوانوں تک کے لئے چھٹی ، ساتویں اور آٹھویں کلاس کے کورس کے علاوہ تاریخ ہند،آئینہ عجم اور نکات بیدل جیسی کتابیں بطور نصاب بھی لکھیں اور اس سلسلہ میں مختلف موثر عملی تجاویز بھی دیں اس کے علاوہ وہ پنجاب یونیورسٹی اور سول سروس کے امتحانات میں ممتحن اور صدر ممتحن بھی رہے اور مڈل ،ایف اے، بی اے ،ایم اے کے فارسی،فلسفہ،تاریخ اسلامی،فلاسفی آف ریلیجن،ایل ایل،بی اور ایم او ایل کے پرچہ جات بھی مرتب کرتے رہے اور جانچتے بھی رہے۔(۲) اور۱۹۳۳ء میں ماہر نصاب تعلیم کی حیثیت سے سید سلیمان ندوی اور سر راس مسعود کے ساتھ شاہ افغانستان کی دعوت پر کابل کا سفر بھی کیا اور اسی سال وائسرائے ہند کی منعقد کردہ تعلیمی کانفرنس میں بھی حصہ لیا ۔ اس کے علاوہ اپنی نثر،شاعری اور مکتوبات کے ذریعے بھی نصاب سازی میں مثبت نکات پیش کرتے رہے ان کو اعلی درجے کی درسگاہوں میں تدریس کا ذاتی تجربہ بھی رہا اور انہوں نے عصر حاضر کی تعلیم کے سحر کو اپنے حکیمانہ نظریات سے توڑدیا:
طلسم علم حاضر را شکستم ربودم دانہ و دامش گسستم
خدا داند کہ مانند براہیم بہ نار او چہ بی پروا نشستم(۳)
اور اپنی خداداد حکیمانہ صلاحیتوں کی بنا پر طالب علموں کی تربیت میں درپیش خطروں کو بھانپ لیا تھا ۔ ان کی شاعری کا مرکزی محور فکر فرد ا و امروز ہے جس میں ان کی امیدوں کا مرکز نوجوانان عالم اسلام ہیں جن کو راہ عمل پر وہ پختہ و استوار دیکھنا چاہتے ہیں ۔
وہ ایک ایسی عظیم اسلامی درسگاہ کا خواب دیکھ رہے تھے جہاں نصاب تعلیم اور نظام تعلیم کی تجدید نو اس طرح سے ہو کہ نوجوانوں کو درپیش مسائل کی تشخیص اور ان کا حل کامیابی سے مل سکے ۔ ان پر تخیل کے نئے در وا ہوں اور معاشرے کی مسلم اقدار کی حفاظت ہو سکے ۔ نوجوانوں کو اتحاد و یگانگت کا درس ملے تاکہ مغربی اور استعماری قوتوں کا مقابلہ ہو سکے۔
علامہ مصطفی المراغی شیخ جامعہ الازہر کے نام ایک خط میں اسلامی درسگاہ بنانے کا ارادہ ظاہر کیا :
’’ ہم نے ارادہ کیا ہے کہ پنجاب کے ایک گاؤں میں ایک ایسا ادارہ قائم کریں جس کی نظیر
آج تک یہاں وقوع میں نہیں آئی ۔ہماری خواہش ہے کہ اس ادارے کو وہ شان حاصل ہو
جو دوسرے دینی اور اسلامی اداروں کی شان سے بہت بڑھ چڑھ کر ہو ۔ہم نے ارادہ کیا ہے
کہ علوم جدیدہ کے فارغ التحصیل حضرات اور چند علوم دینیہ کے ماہرین کویہاں جمع کریں ۔۔۔
۔ان کے لئے ایک لائبریری قائم کرنا چاہتے ہیں جس میں ہر قسم کی نئی اور پرانی کتابیں موجود ہوں
اور ان کی رہنمائی کے لئے ایک ایسا معلم جو کامل اور صالح ہو اور قرآن حکیم میں بصیرت تامہ رکھتا
ہو ،نیز دور حاضر کے انـقلاب سے بھی واقف ہو،مقرر کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔‘‘(۴)
اس کے علاوہ فرمایا :
’’ یہ امر قطعی ضروری ہے کہ ایک نیا مثالی دارالعلوم قائم کیا جائے جس کی مسند نشین اسلامی تہذیب ہو
جس میں قدیم اور جدید کی آمیزش عجب دلکش انداز مین ہوئی ہو ۔اس قسم کی مثالی تصویر کھینچنا
آسان کام نہیں اس کے لئے اعلیٰ تحقیق ،زمانے کے رجحانات کا لطیف احساس اور مسلمانوں کی
تاریخ اور مذہب کے مفہوم کی صحیح تعبیر لازمی ہے ،‘‘ (۵)
لیکن ان کے دور میں رائج مشرقی اور مغربی نظام تعلیم پر ان کی تنـقید ملاحظہ کرنے کے لائق ہے انہوں نے مکتب،استاد ،طالبعلم اور نصاب تعلیم حتیٰ ملا و فقیہ شہر کو بھی نہ چھوڑا ۔وہ اس سارے نظام تعلیم کو مسلم تشخص اور خودی کی تربیت کی راہ میں حائل سم قاتل سمجھتے تھے ۔ایک مرید اور شاگرد کی طرح استاد رومی کے سامنے علم و تعلیم کے مسائل پیش کر رہے ہیں :
چشم بینا سے ہے جاری جوئے خوں علم حاضر سے ہے دیں زار و زبوں
پڑھ لئے میں نے علوم شرق و غرب روح میں باقی ہے اب تک درد و کرب
مغربی نظام تعلیم پر تنقید کرتے ہوئے وہ طالب علم سے مخاطب ہیں :
تعلیم کے تیزاب میں ڈال اپنی خودی کو
ہوجائے ملائم تو جدھر چاہے ادھر پھیر
اور:
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ
ضرب کلیم(افرنگ زدہ):خطاب بہ جوانان میں فرماتے ہیں :
ترا وجود سراپا تجلی افرنگ
کہ تو وہاں کے عمارت گروں کی ہے تعمیر
مگر یہ پیکر خاکی خودی سے ہے خالی
فقط نیام ہے تو زرنگار و بے شمشیر
سوز دروں سے تہی فارغ التحصیل نوجوانوں کی سوچ کا مرکز فکر معاش ہوتا ہے:
عصر حاضر ملک الموت ہے تیرا جس نے
قبض کی روح تری دے کے تجھے فکر معاش
اس جنوں سے تجھے تعلیم نے بیگانہ کیا
جو یہ کہتا تھا خرد سے کہ بہانے نہ تراش
اور :
نوجوانان تشنہ لب خالی ایاغ شستہ رو ،تاریک جان، روشن دماغ

استاد تعلیم کے ساتھ ساتھ اصلاح باطن اور کردار کی تشکیل میں’’ عمارت گر ‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے مگر اس کو خود تربیت کی ضرورت ہے:
مقصد ہو اگر تربیت لعل بدخشاں
بے سود ہے بھٹکے ہوئے خورشید کا پرتو
کرسکتے تھے جو اپنے جو اپنے زمانے کی امامت
وہ کہنہ دماغ اپنے زمانہ کے ہیں پیرو
اور یہ کہ :
شیخ مکتب کے طریقوں سے کشاد دل کہاں
کس طرح کبریت سے روشن ہو بجلی کا چراغ
اسی لئے استاد کو نصیحت کرتے ہیں کہ تجھے صاحب دل مبلغ ہونا چاہئے :
پس بگیر از بادۂ من یک دو جام تا درخشی مثل تیغ بی نیام
’’ معلم حقیقت میں قوم کے محافظ ہیں ۔۔۔ ضروری ہے کہ وہ اپنے پیشے کے تقدس اور بزرگی کے لحاظ سے اپنے
طریق تعلیم کو اعلٰی درجے کے علمی اصولوں پر قائم کریں ۔‘‘ ( مقالات اقبال،مرتبہ: عبدالواحد معینی،ص ۹)
مدرسہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ و ہ اپنا فرض بخوبی ادا نہیں کررہا ۔ تنگ نظری ،مسلک پرستی اور تعصب اس نطام تعلیم کی نمایاں خصوصیات ہیں :
مدرسہ نے تیری آنکھوں سے چھپایا جن کو خلوت کوہِ بیابان میں وہ اسرار ہیں فاش
ع۔۔۔۔مکتبوں میں کہیں رعنائی افکار بھی ہے؟
اور :
اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غمناک نہ زندگی، نہ محبت ، نہ معرفت ، نہ نگاہ
ان ساری باتوں سے جو نقطہ واضح ہوتا ہے وہ ہے علامہ اقبال کی موجودہ بے حس نظام تعلیم کی بجائے نوجوان کو سوچنے ،فکر کرنے اور نشاط عمل کی دعوت ۔۔۔کیونکہ ابلیس جس بات سے خوفزدہ ہے وہ ملّت اسلامیہ کی بیداری ہے:
ہر نفس ڈرتا ہوں اس امّت کی بیداری سے میں
ہے حقیقت جس کے دیں کی احتساب کائنات
کیونکہ مسلمان نوجوان کے بارے میں وہ یہ گمان رکھتے ہیں :
عصر حاضر زادۂ ایام تست مستی او از می گلفام تست
شارح اسرار او تو بودہ ئی اولین معمار او تو بودہ ئی
(پس چہ باید کرد ۔۔۔ ص ۷۱۲)
حضرت اقبال نے جس ذہنی کشمکش کا ذکر اپنے خطبات میں کیا تھا ہم آج بھی کم و بیش اسی سے دوچار ہیں ۔انہوں نے فرمایا تھا :
’’عصر حاضر کی ذہنی سرگرمیوں سے جو نتائج مرتّب ہوئے ان کے زیر اثر انسان کی روح مردہ
ہو چکی ہے یعنی وہ اپنے ضمیر اور باطن سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے خیالات اور تصورات کی جہت سے دیکھئے
تو اس کا وجود خود اپنی ذات سے متصادم ہے ،سیاسی اعتبار سے نظر ڈالئے تو افراد افراد سے
دست و گریبان ہیں اس میں اتنی سکت ہی نہیں کہ اپنی بے رحم انانیت اور ناقابل تسکین جوع زر پر قابو
پا سکے یہ باتیں ہیں جن کے زیر اثر زندگی کے اعلی مراتب کے لئے اس کی جدوجہد بتدریج ختم ہو رہی
ہے‘‘ (۶)
اگر آج ہم کہیں کہ ہمارا نظام تعلیم سدھر گیا ہے تو گویا یہ کہنا ہے :
’’خری ر ا اسب تازی گو ‘ ‘ نگویم
لیکن ان کی اس تنـقید میں بھی دراصل انسان کامل کی جستجو میں متلاشی ایک دردمند دل دکھائی دیتا ہے جو یہ کہتا دکھائی دیتا ہے :
’’ اس کی آنکھ ذوق نگاہ سے بیگانہ نہیں ہے مگر والہانہ انداز سے یقیناً محروم
ہے ،اس لئے راستے سے خائف ہو کر اندھے کی طرح راہ ٹٹولتی ہے اور چیونٹی کے
مانند
آہستہ آہستہ گزرتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جب تک فرو
رنگ و بو میں الجھے رہتی ہے دوست کی راہ
اس کے قدم بھی سست رفتار رہت ہیں ! ۔۔۔۔(۷)
عصر حاضر میں عالم اسلام کو مغربی استعمار کی سازشوں کا مسلسل سامنا کرنا پڑ رہاہے اور مسلمان قوم مغرب کی ثقافتی یلٖغار میں بری طرح پھنس چکی ہے۔ آزادی کے باوجود آج بھی یورپ کی برتری کا رعب اور سحر ہمارے ذہنوں میں سرایت کر چکا ہے تو اس امر کی سخت ضرورت ہے کہ اقبال کے افکار کی روشنی میں قومی کردار کی تشکیل کے لئے ان مسائل کا حل ایسا ڈھونڈھا جائے کہ مغرب کی مرعوبیت ختم ہو ۔
ادبیات حضرت اقبالؒ کم و بیش سارے کا سارا انہی افکار کا مجموعہ ہے جس کے لئے انہوں مغربی تہذیب کے غیر اسلامی افکار کی یلغار کو روکنے کے لئے ان پر زبردست تنقید کی اور عالم اسلام کے نوجوانوں کی رہنمائی کے لئے شاعری اور نثر میں نمایاں اصول چھوڑے۔ انہوں نے ایک نباض کی طرح انتشار کے خطرے سے دوچار وحدت اسلامی کو درکار تقاضوں کی طرف بھی نشان دہی کردی جن میں واضح طور پر ان کا مخاطب مکتب، مدرسہ، استاد، نصاب تعلیم اور خانـقاہی نظام رہا ۔فکری کج روی سے بچانے میں یہ سب عوامل بنیادی کردار ادا کرتے ہیں ۔
فکر اقبال کے نمایاں نکات نوجوانوں کے ذہن میں عملی طور سمونے میں کہیں کوئی کوتاہی رہ گئی ہے مثال کے طور پر نظریہ خودی ہی کو لیجئے جس کا مکمل شعور نوجوان ابھی تک نہیں پا سکے وہ اس کو ابھی تک انا اور’’ میں پن ‘‘ ہی کے مفہوم میں ادا کر رہے ہیں یہ نہیں سمجھتے کہ خالق کائنات کی لامحدود صلاحیتیوں،بے پایاں طاقتوں اور پر اسرار کیفیات کو باہم ایک دوسرے کے ساتھ پیوستہ اور متحرک کرنے والی قوت کا نام خودی ہے اور ان صلاحیتوں کو فعال کرنے کے لئے عزت نفس، حریت و حرمت کردار اور خودداری لازمی جز ہے ۔
آج بھی آزادی حاصل کرنے کے باوجود ہم آزاد فضا میں سانس نہیں لے رہے ۔ آئین سازی ،سیاسی امور کے حل کے لئے ہم دیگر ترقی یافتہ یورپی اقوام کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں ۔ہم قدیم اور جدید ،مہنگے اور سستے ،سرکاری اور نیم سرکاری دوطرح کے نظام تعلیم میں پروان چڑھ رہے ہیں جس کا نتیجہ احساس برتری اور کمتری کی صورت میں نکل رہا ہے ۔میرا مقصد تہذیب جدید پر کاری ضرب لگانا نہیں لیکن اس نصاب کی ہلاکت آفرینی سے خوفزدہ ہوں جو طالب علم کو آب و گل کی فکر میں لگا کر اس میں حضور حق سے زندہ دلی طلب نہ کرنے دے ۔(۸)
پھر کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ نوجوان:
نان جو می خواھد از دست فرنگ
فکر اقبال کی روشنی میں طلبا کی کردار سازی کے لئے ہمیں نصاب تعلیم میں نمایاں تبدیلیاں لانا لازم ہے جس میں سب سے بنیادی نکتہ یہ ہونا چاہیے کہ نوجوانوں کی زندگی کا محور و منبع اسلام ۔جو ایک مکمل ضابطہ حیات اور نظام زندگی ہے ۔کے عین مطابق ہونا چاہیے ۔ علامہ اقبال کے افکار اسی ضابطہ حیات کا پتہ دیتے ہیں جن پر ملت اسلامیہ کی عمارت قائم ہے اور جس کا رخ اب کجی کی طرف ہوتا جا رہا ہے ۔ تو پھر لازم ہے کہ نوجوانوں کے انتہائی ابتدائی اور بنیادی تصوّرات کو مکمل طور پر اسلام کے اصل نقطۂ نظر سے پیش کرنا ہوگا جو اللہ تعالی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،قرآن کریم ،تصوّف اور صوفیہ اور بالخصوص خانـقاہی نظام کے متعلق ہیں ۔ میری ناقص رائے میں ان سارے تصورات کا فرسودہ اور جمود کا شکار معیار بدلنا ہوگا کیونکہ ہمیں اپنے نوجوانوں کو خودرو پودوں کی طرح اس نظام کا حصہ نہیں بناناجس میں پرورش پا کر وہ شاہین کی بجائے بطخ کی سی خو پالیں کیونکہ ہماری رگوں میں تو حریت پسند خون کی بجائے گروی شدہ زہر سرایت کر چکا ہے ۔
ایک بات کا خاص طور پر خیال رکھنا ہوگا کہ ان عقاید و تصوّرات کی درستی کے لئے ہمیں مستشرقین کی رائے پر اتقا نہیں کرنا ہوگا بلکہ مسلم ثقافت کی اصل روح کے حامل مفکّرین اور ماہرین تعلیم سے رجوع کرنا ہوگا تاکہ ایسا معاشرہ قائم ہو سکے جو اسلامی قومیت کی بقا ،نشونما اور ترقی کے لئے کوشاں ہو۔

٭ قرآن کریم اور نصاب تعلیم:
قرآن کریم محض ثواب کی خاطر تلاوت کرنے اور روح کی بالیدگی کا باعث نہیں ہے بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ اس میں تمام تر دنیوی مسائل کا حل موجود ہے ایسا کون سا موضوع ہے جس پر قرآن کریم کے دلائل موجود نہیں ۔اس لئے ہر شعبہ کی تعلیم دیتے وقت قرآن کریم سے استناد لازمی ہونا چاہیے اور طالب علم کائنات میں غور وتفکر کی تمام آیات کی تفسیر ہونا چاہیے ۔ نصاب سازی کرتے وقت قرآن کریم کو اپنا ماخذ بنانا چاہیے کیونکہ اس کا غائر مطالعہ ہمیں گرد و پیش کی دنیا اور مشاہدۂ فطرت ، مظاہر فطرت اور اشیا کی حقیقت جاننے کا جوش دلاتا ہے ۔ اور ان سب کے پیچھے جو قدرت پوشیدہ ہے وہ اللہ ہی کی ہے اور خلاصہ افکار اقبال یہ کہ آئین الٰہی ہی دنیا میں سربلندی کا ذریعہ ہے اور قرآن کریم کو محض مقدّس کتاب سمجھ کر اس کی پرستش نہیں کرنی چاہئے بلکہ عالم اسلام کو موجودہ خطرناک صورتحال سے نپٹنے کا حل اسی سے ڈھونڈ نا چاہیے :
از غلامی لذت ایمان مجو گرچہ باشد حافظ قرآن ، مجو
( پس چہ باید کرد۔۔۔ص ۷۰۹)
اقبال کو نوجوانوں سے یہی شکوہ ہے کہ ان کے دل تلاوت قرآن کی پرسوز حرارت اورسکون سے محروم ہو چکے ہیں اور وہ اس کی عملی تفسیر پیش کرنے سے قاصر ہیں :
سینہ ھا از گرمیٔ قرآن تہی از چنین مردان چہ امید بہی
اور:
در نفس سوز جگر باقی نماند لطف قرآن سحر باقی نماند
٭ تصوّر خدا اورنصاب تعلیم:
کوتاہ بین ملاؤں اور کم اندیش استادوں نے خدا کا تصوّر خوف ، ڈر اور شک و شبہ کے ساتھ عجیب و غریب بنا کر پیش کیا ہے:
بٹھا کے عرش پہ رکھا ہے تو نے اے واعظ خدا وہ کیا ہے جو بندوں سے احتراز کرے
دین خدا سے مہجوری کا نام نہیں ہے بلکہ اس کے جمال سے آشنائی اور اور اس کی ذات کی بے کراں حقیقت کے وصل کی خواہش اور طلب کا نام ہے:
ما غلامان از جلالش بیخبر از جمال لازوالش بیخبر
(پس چہ باید کرد ، ص۷۰۹)
اقبال کے نزدیک علم کا حقیقی سرچشمہ رب السّموات والارض کی ذات با برکات ہے اور طلبا کے ذہن و روح میں یہ تاثر ایمان کی طرح راسخ کرنا لازم ہے کہ ہر مظہر قدرت اور اشیا کی حقیقت اسی کے وجود کی مرہون منت ہے :
ہر چہ می بینی ز انوار حق است حکمت اشیا ز اسرار حق است
(پس چہ باید کرد ،صص۷۱۴)
طالب علم کے دل پر اللہ کے ساتھ وابستگی ایسی ہو کہ وہ اس تعلق کواپنی تعلیم کے ساتھ بھی ہم آھنگ کرے ۔
نہ با ملا نہ با صوفی نشینم تو می دانی کہ من آنم،نہ اینم
نویس ’’اللہ‘‘ بر لوح دل من کہ ھم خود را ھم او را فاش بینم
(ارمغان۔۔۔ص ۷۹۸)
عشق ر ا از شغل ’’لا‘‘ آگاہ کن آشنای رمز لا الہ کن
(اسرار و رموز،ص۹۰)
جس دل میں میں اللہ بستا ہو وہ ہر خوف و خطر سے بے گانہ ہوتا ہے:
در رہ دین سخت چون الماس زی دل بہ حق بند و بی وسواس زی
اس یقین کے ہمراہ ہی منزل مقصود مسلمان کے سامنے ہو گی اور عالم اسلام میں ہر طرف توحید کے نغمے الاپے جائیں گے ۔۱۹۱۲ء میں انجمن حمایت اسلام کے اجلاس سے خطاب کرتے علامہ نے فرمایا:
شب گریزاں ہو گی آخر جلوۂ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے
( شمع اور شاعر ،ص۲۰۶ )
قرآن کریم کی تعلیم ،اس کے مفہوم سے مکمل اور درست آگاہی اس طرح سے ہو کہ طالبعلموں میں یہ نظریہ راسخ ہوجائے کہ کائنات کے ہر مظہر اور ایجاد کے پیچھے ایک عظیم ذات کارفرما ہے اور جب ان کا مطالعہ ’’ تفکر فی الخلق ‘‘ ہو تو وہ خدا کی تسبیح کرتے ہوئے سجدے میں جا گریں:
بنور تو بر افروزم نگہ را کہ بینم اندرون مہر و مہ را ( ارمغان حجاز ۸۰۴)

٭ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور نصاب تعلیم :
مقام خویش اگر خواہی درین دیر
بحق دل بند و راہ مصطفٰی رو
اقبال نوجوان کو ادب مصطفٰی کے دائرے میں دیکھنا چاہتے ہیں اور عشق کا آغاز ادب ہے جو بے ادب ہے اس کے سینہ میں عشق رسول کی آگ روشن نہیں ہوسکتی:
عصر ما ما را از ما بیگانہ کرد از جمال مصطفیٰ بیگانہ کرد
رسول کریم صلعم کی ہستی مبارک انسانی ہدایت کے لئے استاد کامل کاعملی نمونہ ہے پھر کیا ضرورت ہے کہ اصلاح نفس و معاشرہ کے لئے دوسرے نمونے ڈھونڈھے جائیں بلکہ سب کا تمرکز آپ کی ذات ہونا چاہئے ۔
پہلی وحی مبارک کے الفاظ ’’ اقرا ‘‘ اور سورۃ ’’ الم نشرح لک صدرک ‘‘ کی مخاطب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہی دراصل علم کا اصل مرکز و محورہے اس کے علاوہ آپ کی تمام تر حیات طیبہ اللہ کی اتباع و پیروی کا بہترین اور کامل ترین نمونہ ہے اقبا ل فرماتے ہیں :
’’ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے ،ہم کہ سکتے ہیں کہ اس کی عقلی اساسات کی جستجو کا آغاز
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک ہی سے ہو گیا تھا ۔آپ ہمیشہ دعا فرماتے :
اے اللہ !مجھ کو اشیاء کی اصل حقیقت سے آگاہ کر :اللھم ارنی حقائق الاشیاء کما ھی۔‘‘(۹)
ابلیس کی مجلس شوریٰ میں جب شیطان نے کہا کہ مجھے پتہ ہے کہ یہ امت اپنے پیغمبر کی سیرت و سنت اور اصولوں پر کاربند نہیں لیکن اس کے باوجود اس نے اپنے چیلوں کو آئین پیغمبر سے ہوشیار رہنے کی تلقین کی کہ اس میں اتنی طاقت ہے کہ امت کو آمریت کے مقابل لا کھڑا کرے گی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حیات طیبہ کے ہر پہلو کومتعلقہ شعبۂ تعلیم میں بطور سند سمو دیا جائے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا کوئی ایسا گوشہ نہیں ہے جو عصر حاضر میں ان شعبوں کے تعلیمی تقاضوں کو پورا نہ کرتا ہو بلکہ کارزار زندگی کا ہر میدان اپنی ترقی کے لئے ان کی حیات طئبہ کے مطالعے کا مرہون منت ہے ۔ ضرورت فقط تحقیق و تلاش و جستجو کی ہے جس کے بعد ایسا نصاب تشکیل پائے جو علم انفس ، علم آفاق اور سائنس کے کرشموں سے آگاہی ُآپ ؐ کی محبت کی ہمراہی میں حاصل کرے:
مقام خویش اگر خواہی درین دیر بحق دل بند و راہ مصطفی رو

٭ صوفیاء کرام ، خانـقاہی نظام اور نصاب تعلیم :
صوفی کا عمومی تاثر ہمارے ہاں ایک نہایت متحمل مزاج،دنیاوی سیاست سے غرض نہ رکھنے والا صلح جو ،ظلم کے سامنے صبرو تحمل کرنے والا شخص لیا جاتا ہے جبکہ اصل عارف تو وہ ہے جس کا مقصد حیات مخلوق کی خدمت اور اجتماعی سوچ کو بدلنا ہو اور یہ سب نڈر اور بہادر ہوئے بغیر ممکن نہیں۔
اس کا بہترین حل یہ ہے کہ ہم ان عظیم ہستیوں کے مکتوبات ،ملفوظات یا تالیفات یا خدمات کو تعلیم کا حصہ بھی بنائیں ۔اس خزانے کا بیشتر حصہ ابھی تک خطی نسخوں کی صورت زیادہ تر فارسی زبان میں لائبریریوں میں محفوظ ہے اور یا تو مرتب نہیں ہوا یا مرتبہ نسخے رائج زبانوں میں ترجمہ ہوکر عوام الناس تک نہیں پہنچے اور نہ ہی طالب علم ان بزرگان دین کی تعلیمات سے کما حقہ استفادہ کرسکے ہیں ۔
لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ آج کرگسوں اور گدھوں کو شاہینوں کے مزار پر مجاور بنا کر پہرہ دینے پر لگا دیا ہے نہ صرف پہرہ بلکہ اپنے ان شاہینوں کے نام کو سجادہ نشین یا گدی نشین بن کر نذرانے ، چڑھاوے اور ہدیے وصول کرنے کا ایک ذریعہ بنا دیا ہے ۔صاحب مزار کے علمی و عملی کارنامے اتنے شاندار اور مخدوم کو ان کی خبر تک نہیں :
میراث میں آئی ہے انہیں مسند ارشاد زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن
سالک تو وہاں عرفان کی دولت پانے جاتا ہے مگر جیب خالی کروا کر آجاتا ہے ۔ یہ نام نھاد فقیر شاہین کے اصل پیغام کو نہیں پہنچا رہے ،فقر یا قلندری کا اصل تقاضابھول کر ضعیف الاعتقادی اور جہالت کادرس دے رہے ہیں جبکہ اصل فقیری کی ابتدا علم ہے اور اس کی انتہا خدمت :
رہا نہ حلقۂ صوفی میں سوزِ مشتاقی فسانہ ہائے کرامات رہ گئے باقی
اور تو اور سادہ لوح ارادتمندں سے اپنی مرضی کا ووٹ کاسٹ کروانے کے لئے سیاسی طور ان کا استحصال کیا جارہا ہے ور مذہبی عقیدت کی بنا پر اس کی کوئی روک تھام نہیں ہے۔ علامہ اقبال ؒ خود مزارات پر جاتے تھے مگر وہ صاحب مزار کی عملی خوبیوں کو گنواتے تھے جیسا کہ حضرت ہجویری کے بارے میں فرمایا:
در زمین ہند تخم سجدہ ریخت ( اسرارو رموز)
لازم ہے کہ طلبا کی ذہنی تربیت اس لحاظ سے کی جائے کہ وہ صوفیائے کرام کی علمی اور عملی خدمات کو اپنی زندگی کا جزو لازم بنائیں ۔
خانـقاہ سے عموماً یہ تاثر لیا جاتا ہے وہ عبادت گاہ جو آبادی سے باہر بنائی جائے یا وہ جگہ جہاں کاروبار حیات یا عمل کی بات کرنا گناہ ہوتا ہے جس کا معاشرہ کی ترقی سے براہ راست کوئی واسطہ نہ ہو بلکہ خانقاہیں صرف اذان و نماز اور ذکر الٰہی کی ظاہری صورت سے آباد ہوتی ہوں۔ سوچنے کا مقام یہ ہے کہ جب اذان کے الفاظ ہی معنوی فلاح و عمل کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے بلکہ اذان مقصد کی طرف خبردار کرتی ہے مدہوش و مست و بیگانہ نہیں کرتی۔ اقبال ترک دنیا کو ذلت اور پستی سمجھتا ہے جبکہ حقیقی فقر دین کے راز منکشف کرتا ہے :
حکمت دین د لنوازی ھای فقر قوت دین بی نیازی ھای فقر
’’ اقبال کے ہاں تصوف اور روحانیت روح اور مادے کا تناقص نہیں بلکہ دونوں کی ہم آہنگی سے
عبارت ہے اوریہی اسلام کی وجہ ہے ‘‘(۱۰)
اور وہ امت جس کا مزاج خانـقاہی ہو جائے اس کے لئے فرمایا:
نکل کر خانـقاہوں سے ادا کر رسم شبیری
کہ فقر خانـقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری
(ارمغان حجاز ،ص۴۹)

اے پیر حرم ! رسم و رہ خانـقاہی چھوڑ مقصود سمجھ میری نوائے سحری کا
اللہ رکھے تیرے جوانوں کو سلامت! دے ان کو سبق خود شکنی ،خود نگری کا
(ضرب کلیم :اے پیر حرم ،ص ۷۱)
اور ظاہر ہے کہ رسم شبیری خانـقاہ میں نہیں عمل کے مقتل میں ادا ہوتی ہے اور صوفی اور مرد فقیر وہ نہین جو صرف مصلّے پر بیٹھ کر عمل سے بیگانہ ،کھوکھلی تبلیغ کرتا ہو بلکہ
با سلاطین در فتد مرد فقیر از شکوِہ بوریا لرزد سریر
(پس چہ باید کرد ای اقوامشرق ،ص ۶۹۳)
فقرِ کافر خلوتِ دشت و در است فقرِ مومن لرزۂ بحر و بر است
( پس چہ باید کرد ، ص ۶۹۴)
سینۂ این مردمی جوشد چو دیگ پیشِ او کوہِ گران یک تودۂ ریگ
(پس چہ باید ۔۔۔، ص ۶۹۹)
اصل میں علامہ کے نزدیک فقیری ہر لمحہ آرزو اور تڑپ کا نام ہے :
فقر سوز و درد و داغ و آرزو ست فقر را در خون تپیدن آرزو ست
( مسافر ، ص۷۲۷)
مناسب ہے کہ نصاب تعلیم میں صوفیا ء کرام کی اصل تعلیمات صحیح عملی تصور کے ساتھ پیش کی جائیں تاکہ علم کی وہ شمع جو برعظیم میں اولیائے کرام نے روشن کی اس کو آج کے طالب علم مزید تاباں کریں ۔
فکر اقبال اور تعلیمی مسائل کا حل :
۱۔ ہمارے نصاب میں وحدت موجود ہونی چاہئے تب ہی اسلامی کردار متحد ہو سکتے ہیں ۔ قدیم اسلامی علوم یکسر یونانی فلسفہ سے پاک اور جدید علوم سیکولر نظام سے دور کا ایک حسین اور خوبصورت امتزاج ہونا چاہیے
۲۔ استاد کو اسلامی تعلیمات کا پیکر ہونا چاہیے ۔
۳ علامہ اقبال کا نقطہ نظر یہ یہ ہے کہ مذہب ( اسلام)فلسفہ ،نظام تعلیم ، تصوّف و روحانیت اور سائنسی علوم میں ہم آھنگی پیدا کی جائے ۔عمل سے دور تصوف کا تصور ختم ہونا چاہئے ۔عارف اور صوفی وہ ہے جو مخلوق کی بہتری اور بھلائی میں کوشاں ہے اور اپنے مریدوں کو بھی مقاومت اور مقابلے کا مثبت درس دے کیونکہ درویشی کی ابتدا علم اور اس کی انتہا خلق خدا کی خدمت اور قوم کے اجتماعی شعور کو بدلنا ہے ۔
جدید علوم خواہ مغربی نظام تعلیم کے تحت ہوں اس صورت میں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے جب علم و فن کے ذریعے حاصل کردہ قوت و حشمت میں لاالہ کا جوہر نمایاں ہو کیونکہ الحاد ی علم ایمان کی روشنی چھین لیتا ہے :
جوہر میں ہو لاالہ تو کیا خوف تعلیم ہو گر فرنگیانہ
علامہ نے فرمایا :
’’ وہ دن دور نہیں کہ مذہب ( یعنی اسلام) اور سائنس میں ایسی ہم آہنگیوں کا
انکشاف ہوگا ۔جو سر دست ہماری نگاہوں سے پوشیدہ ہیں ۔‘‘(۱۱)

یہ غلط تصور ہے کہ اقبال جدید سائنسی تعلیم کے خلاف تھے لیکن وہ سیکولر نظام تعلیم کے سخت خلاف تھے اوراس بات کے حامی تھے کہ تعلیم کتاب و سنت کی روشنی میں دی جائے تاکہ جدید اور سائنسی علوم سے حاصل شدہ فکر و نظر اور استعداد کجروی اور گمراہی کا باعث نہ ہو ۔مراد یہ ہے کہ اگر ہر مظہر کائنات کا مشاہدہ اس کے خواص ،انواع ، تجزیہ و تحلیل وغیرہ تو پڑھ لیا جائے مگر اس بات کو تسلیم کرنے سے گریز کیا جائے کہ اس سارے عمل میں مذہب کا کوئی کردار ہے اور اگر ان سارے علوم اور سائنس میں ہم اہنگی پیدا نہ کی گئی تو ایک روز ہمارے ہاں سیکولر ذہن کے تیار کردہ طالب علم ملحدانہ تجربے کرنے لگ جائیں گے اور ان کے ذہن کی تعمیر اس انداز میں ہوگی کہ وہ ہر ایجاد کا محرّک اپنے عقل و شعور کی بنا پر خود کو سمجھے گا اور اس کو قدرت کی عطا نہیں مانے گا اور پھر یہ کہ سائنس سے حاصل شدہ اشیاء کو تخریب کاری کے لئے استعمال نہیں کرے گا ورنہ:
علم ر ا بر تن زنی ماری بود
وہ تمام مضامین جن کا تعلق سماجی ،معاشی،معاشرتی سیاسی اور قانونی زندگی کے ساتھ ہے ان کی سیکولر تعلیم دینا گویا ایک بیمار معاشرے کو جنم دے گا اور اسلام کا مجموعی تاثر کمزور پڑ ے گا بلکہ چاہئے تو یہ کہ ان علوم کو پڑھاتے وقت اسلامی افکار و تصوّرات ،اصول و نظریات کو بھی ساتھ ساتھ لازماً پڑھایا جائے :

’’ اب اگر فرض کیجئے کہ وہ اناٹمی Anotomy))یا فزیالوجی ) Phisiolog ( کا طالب علم
ہے تو انسانی جسم کے مختلف اعضا ،ان کی ساخت و بناوٹ ،ان کے آپس کے جوڑ اور میل ، ان کی
حرکات و سکنات ،ان کے اعمال و وظائف (functions (ان سب امور کے متعلق اس کا مطالعہ
جتنا گہرا اور تحقیقی ہوتا جائے گا ،اس کے ذہن کاایک ایک گوشہ پکار اٹھے گا فتبارک اللہ احسن الخالقین ! !
پھر جب وہ اس مرحلے سے بھی آگے بڑھ کر علم کے کسی خاص شعبہ میںخصوصی مہارت حاصل کر نے
کی غرض سے تحقیقی میدان میں قدم رکھے گا تو اس کے ذہن پر ثبت شدہ یہ ابتدائی نـقش ،اس کے قدم کو
لڑکھڑانے سے باز رکھے گا ۔اس خصوصی شعبے میں وہ جوں جوں آگے بڑھتا جائے گا،بجائے اس کے
کہ وہ اپنی قابلیت و مہارت پر اترانے لگے وہ اپنی جبین نیاز کو عجز و انکسار کے ساتھ اس حقیقت کلّی کے
آگے جھکا دے گا ،جس کے پیدا کردہ ایک معمولی سے ذرہ ،جوہر ،میں اتنی بے حساب توانائی بھری پڑی
ہے ،جو پوری نسل آدم کو تباہ و برباد کرسکتی ہے ! اسی لئے اقبال نے مشہور ماہر تعلیم خواجہ غلام السیدین کے
نام اپنے ایک خط میں لکھا :
’’ علم سے میری مراد وہ علم ہے ، جس کا دارومدار حواس پر ہے ۔عام طور پر میں نے
علم کا لفظ انھیں معنوں میں استعمال کیا ہے ۔ اس علم سے ایک طبعی قوت ہاتھ
آتی ہے ، جس کو دین کے ماتحت رہنا چاہیے ۔اگر دین کے ماتحت نہ رہے تو محض
شیطنیت ہے ۔ یہ علم، علم حق کی ابتدا ہے ‘‘(۱۲ )
۴۔ طریق تعلیم و تحقیق تجربہ اور مشاہدہ کی بنا پر ہونا چاہئے علم اشیا کی فضیلت کا پرچار ہونا چاہئے :
علم اشیا علم الاسما ء ا ستی ہم عصا و ہم ید بیضا ستی
۵۔ علم کی نئی دنیائیں تسخیر کرنے کی طرف رجحان ہو ۔ایسے طریقے جن سے طلباء کو نئے مسائل سے دوچار ہونا پڑے اور مقاصد کے حصول کی طرف قدم بڑھائیں بلکہ اپنے تخیل سے نئے معرکے انجام دیں اور لامحدود امکانات پر ان کا یقین پختہ ہونا چاہئے۔
۶۔ مدرسہ ایسے مواقع فراہم کرے جن سے طالب علم کے اندر اخلاقی اقدار راسخ ہو سکیں۔
۷ تعلیمی ادارہ طالب علم کو زندگی کے مسائل سے عہدہ برآ ہونے کی مکمل صلاحیت پیدا کرے تا کہ وہ باہر نکل کر خود کو عملی طور پر معاشرے کا فعال رکن بنا سکے۔
۸ ایسا نصاب تشکیل دیا جائے جو طالب علموں میں رسم شبیری ادا کرنے یعنی میدان عمل میں اپنی صلاحیتوں اور فعالیتوں کو ٓزمانے کا جذبہ پیدا کرے کیونکہ اصل درس تو یہی ہے۔
۹ خدا کے سوا ہر غیر کی غلامی کا احساس ختم ہو جائے تاکہ نوجوان کی خودی کی تربیت ہو گویا نصاب تعلیم خودی کے تین مراحل :اطاعت ، ضبط نفس اور نیابت الٰہی کے عملی پیکر نوجوان طالب علموں کی صورت میں پیدا کرنے کی اہلیت رکھتا ہو جو غلامی سے شدید نفرت رکھتا ہو:
تا غلامم در غلامی زادہ ام ز آستان کعبہ دور افتادہ ام
عشق می گوید کہ ای محکوم غیر سینۂ تو از بتان مانند دیر
۱۰۔ ملت اسلامیہ کی ترقی اور استحکام تہذیبی روایات کے تسلسل اور اور مقصد حیات پرمل کر ڈٹے رہنے سے ہے خودی کے علمبردار اس نوجوان کوجماعت کا حصہ بننے اور اپنی خودی کو ملت کی خودی کے تابع کرنے کی تربیت کی اشد ضرورت ہے:
ربط و ضبط ملت بیضا سے مشرق کی نجات
ایشیا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بے خبر
اور نصاب تعلیم ایسا ہو جو اجتماعی خودی اور اتفاق و یگانگت کا درس دے تاکہ مسلمان متحد ہوکر اقوام کی تقدیر بدل سکیں ۔علامہ اقبال کے نزدیک ملت ایسی نگاہ ہے جو ہزاروں آنکھوں سے مل کر بنتی ہے:
چیست ملت ای کہ گوی لاالہ با ہزاران چشم بودن یک نگہ اہل حق را حجت و دعویٰ یکیست خیمہ ھای ما جدا، دلھا یکیست
ذرہ ھا از یک نگہی ّفتاب یک نگہ شو تا شود حق بے حجاب
۱۰۔ اسلامک ریسرچ سنٹرز کا قیام عمل میں لایا جائے اور فلسفہ تاریخ اسلام کے گہرے مطالعے کے بعد طلبا کو بتایا جائے کہ دین اسلام در اصل کن کن اصولوں کا پیکر ہے اور وہ اصول ہر شعبہ تعلیم میں کس طرح کارگر و کارفرما ہیں اور اس سلسلہ میں مستشرقین کے تجزیہ سے استفادہ نہ کیا جائے ۔
۱۱۔ جدید علوم کے تمام ذرائع کا ماخذ قرآنی تعلیمات ہیں اور زمانہ ماضی میں سائنس کے تمام علوم کا سہرا مسلمانوں کے سر ہے ۔( ۱۳)مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنی گم شدہ میراث کو واپس لائیں ۔
اقبال جس کے دہن کا ہر ترانہ بانگ درا ،شعر کا ہر پر پرواز بال جبریل، دل کی ہر فریاد پیام مشرق ،سوچ کا ہر زاویہ ارمغان حجاز اور فکر کا ہر کارنامہ جاوید نامہ ہے (’’ مہک‘‘ اقبال نمبر ، ص:ک) جو پریشانی میں بھی ’’ پس چہ باید کرد ای اقوام شرق‘‘ کہہ کر امید کے در وا کرتا ہے جو’’مسافر ‘‘ کی صورت میں اہل افغانستان کے لئے محبت کا پیغام دیتا ہے۔ ان کی سب سے بڑی آرزو تھی کہ نوجوان ایسی تعلیم پائیں جو ان کو دوسروں کے در کی دریوزہ گری نہ کرنا پڑے اور خود اپنے سرچشمۂ حیات یعنی قرآن حکیم اور سنت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کریں اور یہ نصاب تعلیم ان کے دماغوں کو سوز دروںسے معطر کرے اور وہ اپنی قوت تخلیق سے نشاۃ ثانیہ کا باعث ہوں ۔

حواشی:
۱۔اقبال اور مسئلہ تعلیم،ص۴۲
(۲۔ دائرہ معارف اقبال مقالہ:تعلیم از ڈاکٹر وحید قریشی، ص،۶۰۰،جلد اول، شعبہ اقبالیات،پنجاب یونیورسٹی، اوریئنٹل کالج ،لاہور،؛ اقبال بطور ممتحن ،محمد حنیف شاہد،’’نـقوش‘‘ اقبال نمبر، ستمبر۱۹۷۷ء ،صص ۴۵۴۔ ۴۷۷)
۳۔ ارمغان ۔۔ص۸۰۰؍۴۸
۴۔ اقبال کا نظریہ تعلیم،ص۱۲
۵۔ مقالات اقبال،مرتبہ: عبدالواحد معینی،ص ۱۳۵
۶۔ تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ،صص ۲۹۰۔۔۲۹۳
۷۔جیلانی کامران،فکر اقبال کے چند سوالات،ص۱۰
۸۔پس چہ باید کرد ۔۔۔ص۲۹
۹۔تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ ،ص۴
۱۰۔ دائرۃ المعارف اقبال،ج ۱،ص۳۰۴
۱۱۔تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ،ص ۲۱
۱۲۔ اقبال اور مسئلہ تعلیم، محمد احمد خاں، صص ۱۶۸۔۔ ۱۶۹
۱۳۔اقبال اور مسئلہ تعلیم ، محمد احمد خاں ،ص ۳۳،۳۴،۳۵)
منابع و مراجع:
٭ اقبال ۔کچھ مضامین( مجموعہ مقالات)،انجمن ترقی اردو ،ھند،نئی دہلی،۱۹۷۹ء
٭ بختیار حسین صدیقی، اقبال بحیثیت مفکر تعلیم، اقبال اکیڈیمی، لاہور، ۱۹۸۳ء
٭ جیلانی کامران،فکر اقبال کے چند سوالات ،گورنمنٹ کالج باغبانپورہ،لاہور،۱۹۷۷ء
٭ چراغ حسن حسرت،اقبالنامہ،۔۔۔
٭ حبیب الدین احمد،محمد، علامہ اقبال کا نظریہ تعلیم،القمر انٹر پرائزز ،لاہور،
٭ حسن اختر،ملک،اقبال اور نئی نسل،نذیر سنز پبلشرز ،لاہور،۱۹۸۸ء
٭ خالد علوی، اقبال اور احیائے دین ،المکتبۃ العلمیہ،لاہور،۱۹۷۱ء
٭ علامہ اقبال،تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ ،مترجم: سید نذیر نیازی،بزم اقبال ،لاہور،۱۹۵۸ء
٭ علامہ اقبال، کلیات اقبال فارسی،اقبال اکادمی پاکستان،لاہور،۱۹۹۴
٭ علامہ اقبال، کلیات اقبال اردو،اقبال اکادمی پاکستان،لاہور، بزم اقبال، لاہور،۱۹۹۴
٭ علامہ اقبال،مقالات اقبال،مرتبہ: عبدالواحد معینی، شیخ محمد اشرف ،لاہور ،۱۹۶۳ء
٭ محمد احمد خاں،اقبال اور مسئلہ تعلیم،اقبال اکادمی پاکستان،لاہور،۱۹۷۸ء
٭ وحید قریشی،ڈاکٹر ،منتخب مقالات اقبال ریویو، مقالہ: سید عبداللہ،اقبال کا مدرسۂ تعلیم،اقبال کادمی پاکستان،لاہور،۱۹۸۳ء
٭ دائرہ معارف اقبال ،جلد اول،اسلامی فکر کی تشکیل نو ،از وحید اختر،علی گڑھ،
مجلے:
٭ پیغام ٓشنا، شمارہ ۱۱۔۱۲، علامہ اقبال خصوصی نمبر، [مقالات: پیروں اور مخدوموں کی تکریم و ذمہ داری فکر اقبال کے تناظر میں : ڈاکٹر انوار احمد؛علامہ اقبال کا نظریہ تعلیم ،ڈاکٹر محمد وسیم اکبر شیخ ]مرچ ۲۰۰۳،ثقافتی قونصلیٹ اسلامی جمہوریہ ایران ، اسلام آباد
٭ نـقوش‘‘ اقبال نمبر، ستمبر۱۹۷۷ء،ادارہ فروغ اردو، لاہور، مقالہ: اقبال بطور ممتحن ،محمد حنیف شاہد
٭ نقوش ،اقباال نمبر۲،،شمارہ ۱۱۳،دسمبر ۱۹۷۷ء ،ادارہ فروغ اردو، لاہور،مقالہ : محمد احمد خاں ،اقبال کی نظر میں علوم جدیدہ،
٭ ’’لب جو‘‘ علامہ اقبال نمبر،گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج سانگلہ ہل ،علامہ اقبال کا نظریہ تعلیم،ثمینہ خورشید، بخاری، ۲۰۰۲ء شمارہ ۱۲(صص ۱۵۹۔۔۱۶۹)
٭ ’’مہک‘‘ علامہ اقبال نمبر ( بسلسلہ جشن صد سالہ )،۷۴۔۱۹۷۵ء ،گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ،سرپرست: حافظ منظور الحق عثمانی

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook