Home / خبریں / لاہورگریژن یونیورسٹی میں بین الاقوامی اقبال کانفرنس

لاہورگریژن یونیورسٹی میں بین الاقوامی اقبال کانفرنس

16298784_609903745863409_1698138936528199603_n
٭ڈاکٹراصغرعلی بلوچ
پروفیسر،جی۔سی۔ یونیورسٹی، فیصل آباد، پاکستان

اپنے مشاہیر کو یاد کرنے اور ان کے فکر و فلسفہ پر با مقصد مکالمے کے لیے تقاریب کا انعقاد نہایت مستحسن عمل ہے لیکن اس سے مستحسن تر ان کے فکر و کردارکو اپنانا ہے جو نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے ۔ ایک ایسی ہی پر وقار تقریب لاہور گریژن یونیورسٹی میں منعقد ہوئی جس میں حضرت اقبال کو یاد کیا گیا ۔ اندورن اور بیرون ملک سے ماہرینِ اقبالیات کو مدعو کیا گیا ۔ پورے دو دن مسلسل تقاریر ہوتی رہیں جن میں افکارِ اقبال کے مختلف پہلوؤں پر عالمانہ ‘ مدرسانہ اور آزادانہ اظہارِ خیال کیا گیا ۔ افتتاحی نشست کے مہمان خصوصی وزیر ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ علی رضا گیلانی تھے جب کہ تہران یونیورسٹی ایران کے شعبہ اردو کے صدر نشین ڈاکٹرمحمد کیو مرثی کے علاوہ گریژن یونیورسٹی کے وائس چانسلر میجر جنرل (ر) عبید بن زکریا ‘ ڈاکٹر گلشن طارق ڈین آف لینگویجز اور ڈاکٹر محمد ارشد اویسی صدرِ شعبہ اردو اسٹیج پر رونق افروز تھے۔ اس نشست میں کلیدی خطبہ ڈاکٹر محمد آصف اعوان نے ارشاد فرمایا ۔ اس اجلاس کے فوری بعد اقبال کے نواسے میاں اقبال صلاح الدین ‘ ڈاکٹر محمد کامران ‘ ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی اور ایران سے ڈاکٹر علی بیات کے علاوہ ڈآکٹر طارق ہاشمی اور ڈاکٹر عمران ظفر نے خصوصی طور پر شرکت کی ۔ بعد ازاں ہونے والی مختلف نشستوں میں ترکی سے ڈاکٹر خلیل طوقار ‘ ڈاکٹر محمد فخر الحق نوری ‘ ڈاکٹر راشد حمید ‘ ڈاکٹر طاہر حمید تنولی ‘ ڈاکٹر نذر عابد ‘ ڈاکٹر سعادت سعید ‘ ڈاکٹر ضیاءالحسن ‘ ڈاکٹر ایوب ندیم ‘ ڈاکٹر عظمت رباب ‘ ڈاکٹر ثمینہ ندیم ‘ ڈاکٹر محمد نعیم بزمی ‘ خانہٴ فرہنگ ایران کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سادات کیائی ‘ ڈاکٹر ہارون قادر ‘ ڈاکٹر محمد سعید ‘ ڈاکٹر بصیرہ عنبرین ‘ ڈاکٹر ہارون عثمانی ‘ ڈاکٹر منور عثمانی ‘ ڈاکٹر اشفاق ورک ‘ ڈاکٹر غفور شاہ قاسم ‘ ڈاکٹر محمد اشرف کمال ‘ ڈاکٹر غلام اکبر ‘ ڈاکٹر نجیب جمال ‘ ڈاکٹر عابد سیال ‘ محمد عباس چغتائی ‘ زاہد شمسی ‘ ڈاکٹر سعید احمد ‘ ڈاکٹر عنبرین منیر ‘ ڈآکٹر فضیلت بانو رخسانہ بلوچ ‘ ڈاکٹر الطاف یوسفزئی ‘ ماجد مشتاق ‘ ڈاکٹر امجد طفیل اور بہت سے دیگر محققین نے اپنے اپنے انداز میں فکر و ذکرِ اقبال میں اپنا حصہ ڈالا ۔ اس موقع پر یونورسٹی کے تحقیقی مجلے اوراقِ تحقیق کا کم و بیش پانچ سو صفحات پر مشتمل اقبال نمبر بھی شائع کیا گیا ۔ اس تمام تر نصابی و ہم نصابی کامیابی کا سہرا بلاشبہ ڈاکٹر محمد ارشد اویسی کے سر جاتا ہے جو اہلِ توفيق بھی ہیں اور اہلِ تحقیق بھی ۔ ان کے ساتھ ڈاکٹر عالم خان اور شعبہ اردو کے دیگر تمام فیکلٹی ممبرز اور طلبہ و طالبات مبارک کے مستحق ہیں جنھوں نے اقبال انٹرنیشنل کانفرنس کے انعقاد کو یقینی بنایا ۔ یقیناً ایسی کانفرنسیں اور علمی تقاریب سے ہماری قومی زندگی میں تحرک اور ترقی کے امکانات روشن تر ہو جاتے ہیں ۔ اس دو روزہ کانفرس میں پیغام اقبال کو سمجھنے اور سمجھانے کی بھر پور سعی کا حاصل فکرِ اقبال کے وہ چند غیر روایتی پہلوؤں پر میاں اقبال صلاح الدین ‘ ڈاکٹر طارق ہاشمی ‘ ڈاکٹر محمد فخر الحق نوری ‘ ڈاکٹر عابد سیال ‘ ڈاکٹر نجیب جمال اور چند دیگر ماہرین اقبالیات کے خیالات کو قرار دیا جا سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ گریژن یونیورسٹی لاہور کے طلبہ و طالبات کا انہماک اور دلچسپی بھی لائقِ تحسین ہے بے شک اس میں اساتذہ کی خوشنودی اور شفقت بھری سرزنش کا عنصر غالب تھا ۔ اس شاندار کانفرنس کی کامیابی انھی نوجوان سامعین اور منتظمین کی مرہونِ منت ہے جنھوں نے عشاق اقبال کو ایک جگہ اکٹھے ہونے کا موقع فراہم کیا۔ امید ہے کہ اگر اسی تواتر سے علمی و ادبی مکالمات کا اہتمام ہوتا رہا تو ایک نہ ایک دن ان پر عمل کرنے کی باری بھی ضرور آئے گی ۔ اس کانفرنس سے یہ احساس مزید شدت اختیار کر گیا ہے کہ موجودہ عہد میں فکرِ اقبال کی روایتی تعبیر کے بجائے تشکیل و تعبیر جدید کی ضرورت ہے ۔ ان کی شاعری کے ساتھ ساتھ ان کے خطبات ‘ مکاتیب اور دیگر تحریروں کی از سر ۔ نو تفہیم ہونا چاہیے تاکہ تناظرات حاضر میں ان سے عملی طور پر مستفید ہوا جا سکے ۔

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook