Home / خبریں / لڑکیاں اسلامی شعائر کی پابندی کے ساتھ تعلیم اور عملی میدان میں ترقی کریں

لڑکیاں اسلامی شعائر کی پابندی کے ساتھ تعلیم اور عملی میدان میں ترقی کریں

عالمی یوم خواتین کے موقع پرگری راج کالج نظام آباد میں آگرہ سے سعدیہ سلیم کا آن لائن لیکچر

l3

نظام آباد7مارچ( اسٹاف رپورٹر) عورت اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی تخلیق کردہ حسین مخلوق ہے جس کے بارے میں اقبال نے کہا کہ ۔ وجود زن سے ہے کائنات میں رنگ۔ اکیسویں صدی کے موجودہ مادہ پرست اور اخلاقیات سے گرے انتشار کے دور میں ضروری ہے کہ لڑکیاں اسلامی شعائر کی پابندی ‘حجاب کی پابندی کے ساتھ اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔ اپنے آپ کو صحابیات کی زندگی کا عملی نمونہ بنائیں اور اپنا اپنے والدین اساتذہ اور ملک و قوم کا نام روشن کریں۔ موجودہ زمانے میں لڑکیوں کے سامنے کئی مسائل ہیں۔ انہیں اعلیٰ تعلیم سے روکا جاتا ہے اور انہیں سماج میں کچھ خدمت کا موقع نہیں دیا جاتا۔ ایسے میں لڑکیوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے والدین اور سماج کو ہم خیال بنائیں۔ دستیاب وسائل سے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں اور تدریس طب اور دیگر شعبوں میں اپنی خدمات پیش کریں۔ ان خیالات کا اظہار محترمہ سعدیہ سلیم صاحبہ اسسٹنٹ پروفیسر اردو سینٹ جارج کالج آگرہ نے گری راج کالج نظام آباد میں شعبہ اردو کی جانب سے عالمی یوم خواتین کے ضمن میں منعقدہ خصوصی آن لائن لیکچر بہ عنوان’’ لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم مسائل اور امکانات‘‘ سے خطاب کے دوران کیا۔ اس لیکچر کا اہتمام ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی صدر شعبہ اردو گری راج کالج نے کیا اور انہوں نے ای کلاس روم میں ذریعے فون اس خطاب کو یقینی بنایا۔ ابتدا میں ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی نے سعدیہ سلیم صاحبہ کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ وہ نئی نسل کی خواتین میں مثالی خاتون استاد ہیں جو پردے کی پابندی کرتے ہوئے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے اور لیکچرر کے عہدے پر فائز ہیں سوشیل میڈیا کو محتاط طریقے سے استعمال کرتے ہوئے حصول علم میں لگی ہوئی ہیں۔ شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔ محترمہ سعدیہ سلیم نے اپنی زندگی کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ شادی کے بعد بھی وہ اپنے شوہر اور افراد خاندان کی مرضی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور اردو میں پی ایچ ڈی کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے لڑکیوں سے کہا کہ وہ اوقات کی پابندی کریں۔ مطالعے کی عادت ڈالیں ۔روزانہ لکھنے کی کوشش کریں۔ادبی مقابلوں میں حصہ لیتی رہیں۔ لڑکیوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ پکوان اور سلائی کا فن بھی آنا چاہئے اپنے ذوق کے اعتبار سے کچھ فن سیکھیں۔ اپنے سماج میں دوسروں کو پڑھنا لکھنا سکھائیں اپنے اساتذہ کی قدر کریں۔سوشیل میڈیا کا احتیاط سے استعمال کریں۔جہیز ‘ اسراف اور دیگر سماجی لعنتوں کے خلاف اجتماعی جدوجہد کی ضرورت ہے سماج میں بہ حیثیت مسلمان لڑکی وہ مثال پیش کریں اور سماج کی بے انتشاری کو اپنے بہتر عمل سے دور کرنے کی کوشش کریں۔ اس موقع پر ترنم میں سعدیہ سلیم نے اپنے اشعار پڑھ کر سنائے اور بی اے بی کام اردو میڈیم کی لڑکیوں سے سوال جواب بھی کئے۔ اس خصوصی لیکچر کے موقع پر کالج کی لیکچرر ادیبہ ناز نے شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر لیکچرر تاریخ مبین الدین اور دیگر موجود تھے۔ کالج کے طلبا ـ‘اساتذہ اور پرنسپل نے ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی کو مبارک باد پیش کی کہ وہ تعلیم کے فروغ میں ٹیکنالوجی کو استعمال کر رہے ہیں۔ آگرہ سے آن لائن لیکچر کا اہتمام دیگر لیکچررز کے لئے بھی مثا ل ہے کہ وہ بھی کالج میں بغیر کسی خرچ کے اپنے تعلقات کی بنیاد پر ماہرین کے لیکچرر منعقد کرواسکتے ہیں۔

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On Facebook